Baaghi TV

Category: کراچی

  • 6 ارب کے پو دے کہاں گئے ،اس سے بڑا فراڈ کیا ہو سکتا ہے :نصراللہ ملک

    6 ارب کے پو دے کہاں گئے ،اس سے بڑا فراڈ کیا ہو سکتا ہے :نصراللہ ملک

    لاہور:6 ارب کے پو دے کہاں گئے ،اس سے بڑا فراڈ کیا ہو سکتا ہے،ان خیالات کا اظہارکرتے ہوئے سینیئرصحافی نصراللہ ملک نے ایک ٹی وی پروگرام میں کیا ،ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم کی طرف سے پیش کیئے گئے حقائق درست نہیں تھے

    ذرائع کےمطابق پاکستان میں شجرکاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کھرا سچ کے میزبان مبشرلقمان کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے نصراللہ ملک نے کہا کہ خان صاحب بار بار یہ کہتے رہے کہ انہوں نے پانچ ارب درخت لگائے ہیں ، جبکہ حکومت کے پی کہہ رہی ہے کہ ایک ارب اسی کروڑ درخت لگائے گئے ہیں

     

     

    ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جس شخص نے کرپشن کی اس کہانی کی معلومات اکھٹی کی ہیں وہ باقاعدہ تصدیق شدہ ہیں اورایک سسٹم کے تحت یہ سب کچھ کیا،ان کا کہنا تھا کہ اتنی زیادہ تعداد میں درخت لگانا بہت ہی مشکل بات ہیں لیکن حیرانی اس بات کی ہے کہ ان درختوں کو لگانے والے مزدوروں کو چھ ارب دے دیئے گئے،

    ایک موقع پر مبشرلقمان نے کہا کہ عمران خان کو شاید یہ بھی پتہ نہیں کہ ارب میں کتنے صفر ہوتےہیں اور وہ بات کرتے ہیں کہ دس ارب درخت لگائیں گے جبکہ ایسا نہیں ہوسکا

    نصراللہ ملک نے کہا کہ اس دعوے کے خلاف آوازاٹھتی رہی لیکن عمران خان نے جس طرح نیب کو استعمال کیا تو کیسے ممکن تھا کہ کوئی یہ جرات کرسکے کہ اتنی بڑی کرپشن کا حساب دیں‌،

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ بہرکیف عمران خان نے جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں کرسکے ، بلکہ الٹا کرپشن کی ایک داستان کی بنیاد رکھ دی جس کا حساب بہت جلد ان کو دینا پڑے گا

  • ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات سست روی کا شکار ہیں : خواجہ اظہار الحسن

    ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات سست روی کا شکار ہیں : خواجہ اظہار الحسن

    کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے سندھ کے بجٹ کو روایتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نمبر گیم کے حساب سے یہ بجٹ دلفریب ہے ۔ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان مذاکرات سست روی کا شکار ہیں ۔
    منگل کو سندھ اسمبلی میڈیا کارنر میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں صرف رقم مختص کردینا کافی نہیں ہے ۔
    ترقیاتی بجٹ اسکیموں کہ لئے مختص کئے جاتے ہیں ۔وفاقی حکومت نے صرف6 ارب رکھے ۔13 ارب ٹرانسپورٹ کے لئے نا کافی ہیں ۔
    پانی کا جو پروچیکٹ 25 ارب کا تھا اب 150 ارب پر پہنچ گیا ہے ۔وزیر اعلی اور وزیر اعظم کا ساڑھے تین سال جھگڑا چلتا رہا جس سے عوام کا بیڑا غرق ہواہے ۔انہوںنے کہا کہ سندھ پپلک سروس کمیشن کے ممبر مشاورت سے لگائے جائیںگے ۔اب نوکری کے لئے ڈومیسائل کی تصدیق ہوگی۔کرپشن کا ریٹ کم کرنا ہوگا ۔تیس فیصد اگر کرپشن ہے تو اس میں ایک سو بیس ارب چلے جائیںگے ۔ٹھیکوں کی بندر بانٹ کو بند کیا جائے۔انہوںنے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات سست روی کا شکار ہیں ۔سندھ میں روایتی ٹیکس فری بجٹ پیش کیا گیا ہے ۔نمبر گیم کے حساب سے تو بجٹ دلفریب ہے ۔

  • میری بیٹی ایک گینگ کے قبضے میں ہے،دعا زہرہ کے والد کا انٹرویو پر بڑا ردعمل

    میری بیٹی ایک گینگ کے قبضے میں ہے،دعا زہرہ کے والد کا انٹرویو پر بڑا ردعمل

    میری بیٹی ایک گینگ کے قبضے میں ہے،دعا زہرہ کے والد کا انٹرویو پر بڑا ردعمل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے شہر قائد کراچی سے گھر سے بھاگ کر پنجاب میں آ کر شادی کرنے والی دعا زہرہ کا انٹرویو سامنے آنے کے بعد دعا کے والد مہدی کاظمی کا رد عمل سامنے آیا ہے،

    دعا کے والد کا کہنا ہے کہ وہ انٹرویو کرنے والی خاتون اینکر کے خلاف عدالت جائیں گے اور قانونی کاروائی کریں گے، دعا کے والد نے اپنی بیٹی کے انٹرویو پر رد عمل میں کہا کہ مجھے اس کا اندازہ تھا کہ اس قسم کی ویڈیو سامنے آئیں گی اور ہو سکتا ہے کچھ دنوں میں مزید ویڈیوز سامنے آ جائیں بچی ان کے قبضے میں ہے وہ جو چاہے اس سے بلوائیں جو خاتون انٹرویو کررہی ہیں وہ دعویٰ کررہی ہیں کہ ظہیر اور دعا سے ان کا رابطہ شروع سے تھا میں انہیں قانونی نوٹس بھیجنے کے لیے اس وقت سپریم کورٹ میں ہوں ابھی دیکھے گا یہ سب دوبارہ غائب ہوجائیں گے۔

    دعا زہرہ کے والد کا مزید کہنا تھا کہ اس ویڈیو میں جو باتیں تھیں سب جھوٹ کا پلندا تھا میری بیٹی ایک گینگ کے قبضے میں ہے اور ذہنی دباو کا شکار ہے

    دوسری جانب دعا زہرہ کیس میں دعا کے والد نے جبران ناصر کو اپنا وکیل مقرر کر دیا ہے، جبران ناصر اب اس کیس میں عدالت میں پیش ہوں گے، جبران ناصر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے اور کہا کہ میں اب اس کیس مین عدالت میں پیش ہوں گا الطاف کھوسو نے اچھے سے کیس کو لڑا ہے لیکن اب یہ کیس ہائے پروفائیل کیس ہے ٹرائل کورٹ میں ہونے والی سماعت پر میں اپنا وکالت نامہ جمع کرائوں گا بچی کے حوالے سے سب حقائق دیکھ کر بات کروں گا

    دعا زہرہ کیس اور کڑوا سچ، مافیا اور گینگ قانون سے کھیلنے لگا

    دعا زہرا کے نکاح نامے پر لکھے پتے پر کون مقیم ؟دعا گھر سے کیسے نکلی تھی

    نکاح نامے پر غلط پتہ،پولیس پھر دعا زہرہ تک کیسے پہنچی؟

    کراچی سے بھاگ کر شادی کرنیوالی دعا زہرا کو عدالت نے بھی بڑا حکم دے دیا

    کل کہیں گے افغانستان سے سگنل آرہے ہیں تو ہم کیا کرینگے؟ دعازہرہ کیس میں عدالت کے ریمارکس

    والدین سے نہیں ملنا چاہتی،دعا زہرہ کا عدالت میں والد کے سامنے بیان

    دعا کیجیے گا ہماری دعا ظالموں کے چنگل سے آزاد ہو،دعا زہرہ کے والدین کی اپیل

  • سندھ کا بجٹ پیش ، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ،پولیس کانسٹیبل کا گریڈ بڑھا دیا گیا

    سندھ کا بجٹ پیش ، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ،پولیس کانسٹیبل کا گریڈ بڑھا دیا گیا

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک ہزار 713 ارب کا سال 23-2022 کے لیے ٹیکس فری خسارے کا بجٹ پیش کردیا۔ سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے صوبائی حکومت کی مجموعی وصولیوں ایک ہزار 679 ارب 73 کروڑ 48 لاکھ جبکہ اخراجات ایک ہزار 713 ارب 58 کروڑ 31 لاکھ روپے ہوں گے جو 33 ارب کے خسارے کو ظاہر کرتا ہے۔

    مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ مجموعی طور پر محصولات کی وصولیاں 1,679,734.8 ملین ہوں گی جس میں 1.055 ارب روپے وفاقی منتقلی، 374.5 ارب روپے کی صوبائی وصولیاں (167.5 ارب صوبائی ٹیکس وصولیاں جن میں سروسز پر جی ایس ٹی، 180 ارب سروسز پر صوبائی سیلز ٹیکس اور 27,000 ملین صوبائی نان ٹیکس وصولی)، 51,132.8 ملین روپے موجودہ کیپٹل وصولی، 51,132.8 ملین روپے کی کرنٹ کیپیٹل وصولی، 105,567.5 ملین روپے دیگر ٹرانسفرز جیسے کہ غیر ملکی پراجیکٹ امداد، وفاقی گرانٹس اور غیر ملکی گرانٹس اور 20,000 ملین روپے کیش بیلنس اور صوبے کے پبلک اکاؤنٹس شامل ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی ٹیکس جمع کرنے والے ادارے سندھ بورڈ آف ریونیو 180 ارب روپے، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ 1.20 ارب روپے اور بورڈ آف ریونیو 30 ارب روپے وصولی کے اہداف حاصل کریں گے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے موجودہ ریونیو اخراجات 1,199,445.4 ملین روپے ہوں گے جس میں موجودہ سرمائے کے اخراجات 54.48 ارب روپے، ترقیاتی پورٹ فولیو 459.65 ارب روپے ہوں گے جس میں 332.165 ارب روپے صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی)، 30 ارب روپے ضلع اے ڈی پی، اور 91.467 ارب فارن اسسٹنس پروجیکٹ (FAP) اور 6.02 ارب دیگر وفاقی گرانٹس شامل ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق صوبائی حکومت نے دوران مالی سال کے 11 ماہ (جولائی تا مئی) میں 732 ارب روپے کے نتیجے میں 716 ارب روپے وصول کیے ہیں جو 16 ارب روپے کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

    مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ ان کی حکومت نے مذکورہ مدت کے دوران 19.7 ارب روپے کے نتیجے میں 45 ارب روپے براہ راست منتقلی اور OZT میں 18.9 ارب روپے وصول کیے۔

    صوبائی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام 23-2022 کے لیے 332.165 ارب روپے مختص کیے ہیں جبکہ یہ رواں سال کے دوران 222.5 ارب روپے ہے۔ ضلعی اے ڈی پی کا حجم 30 ارب روپے رکھا گیا ہے جیسا کہ رواں مالی سال کے دوران کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ 4158 اسکیمیں جن میں 2506 جاری اور 1652 نئی اسکیمیں شامل ہیں، کے لیے 332.165 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جاری 2506 اسکیموں کے لیے 76 فیصد فنڈز یعنی 253.146 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور 1652 نئی اسکیموں کے لیے 24 فیصد فنڈز یعنی 79.019 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ مالی سال 23-2022 میں 1510 اسکیمیں مکمل کی جائیں گی.وزیراعلیٰ سندھ نے 26.850 ارب روپے کے غریبوں کے حامی، سماجی تحفظ اور معاشی استحکام کے پیکیج کا اعلان کیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ ایڈہاک ریلیف الاؤنسز 2016، 2017، 2018، 2019 اور 2021 کو وفاقی حکومت کے ملازمین کے لیے قابل قبول شرح پر ضم کیا جا رہا ہے اور بنیادی تنخواہ اسکیل 2022 پر نظر ثانی کی جا رہی ہے جبکہ سندھ حکومت کے سرکاری ملازمین کے لیے وفاقی حکومت کی طرز پر بنائے گئے پیٹرن کو ہی متعارف کروایا جا رہا ہے۔انہوں نے یکم جولائی 2022 سے سرکاری ملازمین کے بنیادی تنخواہوں میں 15 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس کا بھی اعلان کیا۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ گریڈ 1 سے 16 کے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 33 فیصد اور گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے سرکاری ملازمین کے لیے 30 فیصد ایڈہاک ادا کیا جائے گا جبکہ ریلیف الاؤنسز 2013، 2015، 2016، 2017، 2018، 2019، 2020 اور 2021 یکم جولائی 2022 سے ختم کیا جا رہا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت کے پنشنرز کو پہلے ہی فروری 2022 تک وفاقی حکومت کے پنشنرز کے نتیجے میں 22.5 فیصد اضافہ مل رہا ہے اس لیے سندھ حکومت یکم جولائی 2022 سے پنشنرز کو خالص پنشن سے 5 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔

    مراد علی شاہ کے مطابق مارچ 2022 میں وفاقی حکومت کی جانب سے خالص پنشن میں 10 فیصد اضافے اور یکم جولائی 2022 سے 15 فیصد اضافے کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت کے پنشنرز کے نتیجے میں خالص پنشن پر حکومت سندھ کے پنشنرز کو اب بھی 12.5 فیصد زیادہ ملیں گے۔وزیراعلیٰ سندھ نے پولیس کانسٹیبل کو گریڈ 5 سے اپ گریڈ کر کے گریڈ 7 میں کرنے کا اعلان کیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے ٹول مینوفیکچرنگ سروسز کو ایس ایس ٹی سے مستثنیٰ کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ریکروٹنگ ایجنٹس‘ کے لیے 5 فیصد کم کردہ SST کی شرح اگلے دو سال یعنی 30 جون، 2024 تک جاری رہے گی۔ یہ ریلیف بیرون ملک کام کرنے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے تجویز کیا گیا ہے
    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کیبل ٹی وی آپریٹرز کی طرف سے فراہم کردہ خدمات پر 10 فیصد کی کمی کی شرح سے ٹیکس عائد کیا گیا تھا، موجودہ ریلیف کو 30 جون 2024 کو ختم ہونے والی دو سال کی مزید مدت کے لیے بڑھانے کی تجویز ہے۔

    کیبل ٹی وی آپریٹرز کو استثنیٰ دینے کی تجویز ہے، بشمول دیہی علاقوں کے کیبل ٹی وی آپریٹرز کو پیمرا لائسنس کے تحت ’R‘ زمرہ کے ایس ایس ٹی سے 30 جون 2023 تک مستثنیٰ رکھا جائے گا۔ ہوم شیفز سے فوڈ ڈیلیوری چینلز (جیسے فوڈ پانڈا، چیتے لاجسٹکس وغیرہ) کے ذریعے موصول ہونے والے کمیشن چارجز پر ایس ایس ٹی کی شرح 30 جون 2024 کو ختم ہونے والے دو سالوں کے لیے 13 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔

    دیگر تمام معاملات میں کمیشن ایجنٹس کے ذریعہ فراہم کردہ یا فراہم کی جانے والی خدمات SST کے لیے 13 فیصد لاگو رہیں گی۔ ہیلتھ انشورنس خدمات پر موجودہ چھوٹ 30 جون 2023 تک ایک سال کی مدت کے لیے مزید جاری رہے گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ان کی حکومت نے تعلیم کے شعبے کو اپنی اولین ترجیح پر رکھا ہے، اس کے لیے 326.80 ارب مختص کیے گئے ہیں جو بجٹ کے کل اخراجات کا 25 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔

    سندھ حکومت نے کم از کم سات اضلاع کورنگی، کراچی غربی، کیماڑی، ملیر، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار اور سجاول میں ایک ایک مکمل یونیورسٹی یا ایک تسلیم شدہ پبلک یونیورسٹی کا کیمپس قائم کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔

    کورنگی میں ٹیکنالوجی اینڈ اسکل، ووکیشنل/ انڈسٹریل ڈویلپمنٹ یونیورسٹی ہوگی، جبکہ کراچی ویسٹ اور کیماڑی میں اس یونیورسٹی کے ذیلی کیمپسز ہوں گے۔

    آئندہ مالی سال 23-2022 کے لیے محکمہ داخلہ بشمول سندھ پولیس اور جیلوں کے لیے کل مختص رقم کو رواں مالی سال کے دوران 119.98 ارب سے 124.873 ارب روپے تک بڑھا دیا گیا ہے۔

    آئندہ مالی سال 23-2022 کے لیے آبپاشی کے بجٹ کو 21.231 ارب روپے سے بڑھا کر 24.091 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ اے ڈی پی 23-2022 میں محکمہ زراعت اور آبپاشی کے لیے مختص رقم 36.2 ارب روپے ہے۔

    واٹر اینڈ سیوریج سیکٹر کو مالی سال 23-2022 میں 224.675 ارب دیے گئے ہیں، شہر کی دو بڑی اسکیموں کو آنے والے مالی سال کے دوران عمل میں لایا جائے گا۔

    ان میں 9.423 ارب روپے سے گجر، محمود آباد اور اورنگی نالہ کے متاثرین کی دوبارہ آباد کاری اور 511.724 ارب روپے کی لاگت سے گریٹر کراچی بلک واٹر اسکیم K-IV اضافے کا کام شامل ہیں۔

    سندھ حکومت نے اس شعبے کے بجٹ کو اگلے مالی سال 23-2022 کے لیے 8 ارب سے بڑھا کر 12 ارب کردیا ہے۔

    حکومت سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے آپریشنز کو اگلے مالی سال میں دیگر اضلاع تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے جن میں حیدرآباد، قاسم آباد، کوٹری، سکھر سٹی اور روہڑی شامل ہیں۔

    خریداری کا عمل پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے اور اس سال کے آخر میں آپریشن شروع ہو جائے گا۔ SSWMB کی توسیعی کارروائیوں کے پیشِ نظر کام کیا جائے گا۔

    آئندہ مالی سال 23-2022 کے بجٹ میں محکمہ سماجی تحفظ کے لیے 15.435 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔بزرگ شہریوں، یتیموں اور غریبوں کی بہبود اور اسے بہتر بنانے کے لیے اگلے مالی سال 23-2022 سے کئی سماجی پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں اور انہیں مالی اعانت فراہم کی جا رہی ہے۔

    قبل ازیں سندھ کی کابینہ نے 23-2022ء کے لیے 1 اعشاریہ 71 ٹریلین روپے کا ٹیکس فری بجٹ منظور کر لیا۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں تمام صوبائی وزراء، مشیر، معاونینِ خصوصی، چیف سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ غریبوں کا بجٹ ہے، جس میں سماجی تحفظ اور معاشی استحکام کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔

    ا

  • کراچی میں روٹی کی تمام اقسام میں 2 سے 15 روپے کا اضافہ

    کراچی میں روٹی کی تمام اقسام میں 2 سے 15 روپے کا اضافہ

    کراچی : کراچی میں روٹی کی تمام اقسام کی قیمتوں میں 2 سے 15 روپے کا اضافہ ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد تندور مالکان نے چپاتی، نان، شیرمال، کلچہ اور تافتان سمیت تمام اقسام کی روٹیوں کی قیمتوں میں پیداواری لاگت بڑھنے کے سبب 2 سے 15 روپے تک اضافہ کردیاگیا ہے۔
    مارکیٹ سروے سے یہ بات سامنے آئی کہ 10 روپے میں چپاتی فروخت کرنے والے تندور مالکان اب اسے 12 روپے میں فروخت کر رہے ہیں جبکہ جن کے پاس تندور نہیں ہیں وہ اب وہی چپاتی وزن اور ذائقہ کے لحاظ سے معیار میں بہتری کے دعوے کے ساتھ 12 روپے کے بجائے 15 روپے میں فروخت کر رہے ہیں۔کم معیار اور کم وزن کی چپاتی اب 8 روپے کے بجائے 10 روپے میں دستیاب ہے، 15 روپے میں نان بیچنے والے تندور مالکان اب 18 روپے فی روٹی کا مطالبہ کرتے نظر آرہے ہیں جبکہ کچھ بڑے تاجروں نے نان کا ریٹ 20 روپے مقرر کیا ہے جو کہ ماضی قریب میں 18 روپے تھا، دودھ کے ذائقے والے نان کی نئی قیمت 30 روپے کے بجائے 35 روپے کر دی گئی ہے۔

    شیرمال اور تافتان کے نئے نرخ 45 سے 50 روپے سے بڑھ کر 60 روپے کردئیے گئے ہیں جبکہ بہتر معیار اور زیادہ وزن والے شیرمال اور تافتان 60 روپے کے بجائے 70 روپے میں فروخت ہو رہے ہیں، بہتر معیار کے کلچے کی قیمت ماضی قریب میں 45 سے 50 روپے سے بڑھ کر اب 50 سے 60 روپے کے درمیان ہے۔تندور مالکان کے مطابق تندور مالکان آٹا، گھی، پیکیجنگ میٹریل، گیس اور بجلی کے ٹیرف اور چینی کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ برداشت نہیں کر سکتے اس لیے وہ صارفین پر بوجھ منتقل کرنے پر مجبور ہیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ 2021 کے آخری 3 ماہ میں 3 ہزار 700 روپے کے عوض ملنے والا 50 کلو آٹے کا تھیلا اب 4 ہزار 100 روپے میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ 5 ہزار 250 روپے کے عوض ملنے والا 16 کلو گھی کا کنستر اب 9 ہزار 400 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔25 کلو گرام فل کریم دودھ (بالائی سے بھرپور دودھ) کا تھیلا ساڑھے 13 ہزار روپے سے بڑھ کر اب 20 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

  • افسوس ہوا جن کے لئے عامر بھائی نے بہت کچھ کیا وہ ان کے جنازے میں نہیں آئے : فیصل قریشی

    افسوس ہوا جن کے لئے عامر بھائی نے بہت کچھ کیا وہ ان کے جنازے میں نہیں آئے : فیصل قریشی

    کراچی : اداکار فیصل قریشی نے عامر لیاقت حسین کے جنازے میں شرکت نہ کرنے والے فنکاروں پر غصے اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔فیصل قریشی نے انسٹاگرام پر اسٹوری شیئر کی اور لکھا کہ یہ دنیا صرف سوشل میڈیا کی حد تک رہ گئی ہے، کوئی مرے یا زندہ رہے، بس اسٹیٹس لگا دو ۔

    اداکار نے اسٹیٹس لگانے والوں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘کسی کے جنازے یا دٴْکھ درد میں شرکت نہیں کرتے لیکن خبروں میں آنے کے لیے سوشل میڈیا پر لکھ دیتے ہیں تاکہ کہیں نہ کہیں چھپ جائی-فیصل قریشی نے کہا کہ ’یہ دیکھ کر بیحد افسوس ہوا جن کے لیے عامر لیاقت نے بہت کچھ کیا، وہ اٴْن کے نمازِ جنازہ میں موجود نہیں تھے‘۔

    انہوں نے لکھا کہ ’جو لوگ شہر میں نہیں تھے، اٴْن کا سمجھ آتا ہے لیکن جو کراچی میں ہوتے ہوئے بھی عامر لیاقت حسین کے نمازِ جنازہ میں نہیں آئے، اٴْن کے لیے بس یہی ہے کہ یہ دٴْنیا مطلبی ہے۔

  • کراچی میں نجی ٹی وی چینل کے صحافی اغوا ہو گئے

    کراچی میں نجی ٹی وی چینل کے صحافی اغوا ہو گئے

    کراچی : شہر قائد میں ناظم آباد سے نجی ٹی وی چینل کے صحافی اغوا ہو گئے-

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق سینئر اسائمنٹ ایڈیٹر نفیس نعیم کو نامعلوم سادہ لباس افراد اغوا کر کے اپنے ہمراہ لے گئے جب وہ اپنی رہائشی گاہ قریب خریداری کر رہے تھے جن کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا کہ انھیں کن افراد نے اغوا کیا ہے۔

    ای سی سی کی یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی 300 روپے فی کلو فراہم کرنے کی منظوری

    نفیس نعیم کو پولیس موبائل میں ڈال کر لیجانے کی اطلاع موقع پر موجود افراد نے اہلخانہ کو دی نفیس نعیم کے اغوا پر صحافی تنظیموں کی جانب سے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر انھیں بازیاب کرایا جائے-

    وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے نفیس نعیم کے اغوا ہونے کا نوٹس لے لیا ہے اور پولیس اور متعلقہ اداروں کو صحافی کی جلد بازیابی کی ہدایت ہے وزیرداخلہ رانا ثناءللہ نے آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور انہیں ہدایت دی کہ نفیس نعیم کی بازیابی کے لیے تمام تروسائل کو بروئے لائے جائیں۔

    بجٹ ایوان میں پیش نہ ہو سکا، پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر 1 بجے تک ملتوی


    ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ نجی ٹی وی چینل کے نامہ نگار نفیس نعیم کو ناظم آباد میں سادہ لباس والوں کے ہاتھوں جبری گمشدگی کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں صحافیوں کو ان کے فرائض کی انجام دہی کے لیے دھمکیاں یا نقصان نہیں پہنچایا جانا چاہیے، اور قصورواروں کو جوابدہ ہونا چاہیے۔

    اگر پیٹرول کی قیمتیں نہ بڑھیں تو آئی ایم ایف بھی معاہدہ نہیں کرے گا،مفتاح اسماعیل

  • سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ای کچہری،مسائل میرٹ پر حل کئے جائیں گے، جمال ارشد

    سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ای کچہری،مسائل میرٹ پر حل کئے جائیں گے، جمال ارشد

    پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے عوام کی شکایات کے ازالے کے لیے 23ویں ای کچہری کا انعقاد کیا۔

    ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سی اے اے، اے وی ایم جمال ارشد نے ای کچہری کی صدارت کی اور ملک میں پی سی اے اے ہوائی اڈوں سے متعلق سوالات کے جواب دیے۔ ایڈیشنل ڈی جی کی معاونت کے لئے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (ریگولیٹری)، ڈائریکٹر ایئر ٹرانسپورٹ اینڈ اکنامک ریگولیشنز، ڈائریکٹر ایچ آر، ڈائریکٹر کمرشل اینڈ اسٹیٹ، ڈائریکٹر پرسنل لائسنسنگ اور سینئر ایڈل ایڈیشنل ڈائریکٹر ائیر پورٹ سروسز نے کی۔

    آن لائن ای کچہری کے دوران تقریباً 120 سوالات/مسائل موصول ہوئے جن میں امیگریشن اور دیگر حکام کی جانب سے ملائیشیا اور تھائی لینڈ جانے والے مسافروں کو آف لوڈ کرنے سے متعلق سوالات، اسلام آباد میں اے ٹی پی ایل (پائلٹس)/ ایف او او اور لائسنسنگ امتحانات کی بحالی، ملکی ائرپورٹس پر ای گیٹس سسٹم کا نفاذ، پرفیوم، چاکلیٹ وغیرہ پر کسٹم پابندیوں کے بارے میں سوالات کئے گئے.

    کچہری کے دوران مختلف ممالک سے پاکستان آنے والوں کے سفر کے دوران مسائل، برٹش ایئرویز کی اسلام آباد ایئرپورٹ پر پروازوں کی معطلی، ملکی بین الاقوامی ایئرپورٹس پر مشترکہ سرچ کاؤنٹرز پر مسافروں کو ہراساں کرنے سے متعلق شکایات بھی کی گئیں

    علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پرائیویٹ پورٹرز کے مسائل، غیر ویکسین شدہ مسافروں کا اندرون ملک سفر، ملک سے باہر اور واپس آنے والے مسافروں کے لیے پی سی آر ٹیسٹ، سعودی ایئر لائن کے حوالے سے گمشدہ سامان کی شکایات اور داعوں سے متعلق سوالات، باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پشاور پر پارکنگ کے مسائل ، ڈی آئی خان ایئرپورٹ پر ریفیولنگ کی سہولت میں توسیع، آن لائن فلائٹ انکوائری کے مسائل، ملتان اور کوئٹہ بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر رینٹ اے کار کی خدمات کے لیے رعایتی ریٹینڈرنگ کے مسائل سے متعلق سوالاے بھی کئے گئے.

    کچہری کے دوران مختلف ہوائی اڈوں پر بیت الخلاء اور دیگر علاقوں کی صفائی کے مسائل، مختلف PCAA کنٹریکٹرز کے لیے کام کرنے والے ملازمین سے متعلق کم از کم اجرت کے مسائل، CAA ملازمین اور بھرتی سے متعلق سوالات شامل تھے۔

    ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پی سی اے اے نے موقع پر ہی زیادہ تر سوالات کے جوابات دیئے اور متعلقہ حلقوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے متعلقہ شعبہ سے متعلق مسائل کو میرٹ کی بنیاد پر جلد از جلد حل کریں۔

    عوام نے ای کچہری کے ذریعے اپنی شکایات دور کرنے کے لیے PCAA کے اقدام کو سراہا جسے PCAA کے آفیشل فیس بک پیج پر لائیو نشر کیا گیا۔

  • ٹرین زیادتی کیس، عدالت کا ویڈیو برآمد کرنے کا حکم

    ٹرین زیادتی کیس، عدالت کا ویڈیو برآمد کرنے کا حکم

    ٹرین زیادتی کیس، عدالت کا ویڈیو برآمد کرنے کا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹرین میں خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کیس کی کراچی سٹی کورٹ میں سماعت ہوئی

    عدالت نے کیس کے تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر چالان اور متاثرہ خاتون کی ویڈیو برآمد کر کے رپورٹ پیش کرنے حکم دے دیا، اجتماعی زیادتی کیس میں گرفتار ملزمان میں محمد زاہد، عاقب منیر ، ذوہیب ،عبدالحفیظ اور عامر رضا شامل ہیں، ملزمان کے خلاف تھانہ سٹی ریلوے میں مقدمہ درج ہے، ملزمان نے 28 مئی کو دوران سفر ٹرین میں خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی تھی، متاثرہ خاتون ملزمان کی عدالت میں شناخت بھی کر چکی ہے ،عدالت نے آج ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھجوا دیا اور تفتیشی افسر کو چالان پیش کرنے کا حکم بھی دیا

    گزشتہ سماعت پر تفتیشی افسر نے انکشاف کیا تھا کہ ملزمان نے دوران زیادتی ویڈیوز بھی بنائی ہیں، عدالت نے آج ویڈیو برآمد کرنے کا بھی حکم دیا

    واضح رہے کہ ٹرین میں زیادتی کے واقعہ کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے واقعہ کا نوٹس لیا تھا اور ملزم کی جلد گرفتاری کا حکم دیا تھا،

    درج ایف آئی آر کے مطابق خاتون کو شوہر نے ڈیڑھ ماہ قبل طلاق دی، خاتون بچوں سے ملنے کے لئے مظفر گڑھ آئی تھی، 26 مئی کو وہ مظفر گڑھ پہنچی اور 27 مئی کو مظفر گڑھ سے کراچی زکریا ایکسپریس کے ذریعے واپس روانہ ہوئی، خاتون کواسٹیشن سے سیٹ نہیں ملی تا ہم خاتون نے اکانومی کلاس کا ٹکٹ بنوا کر سفر کا آغٍاز کر دیا،ٹرین جب روہڑی پہنچی تو ٹکٹ چیک کرنے والے ٹرین کے ملازم زاہد نے خاتون سے کہا کہ وہ اس کو اے سی والی بوگی کی برتھ میں سفر کروا سکتا ہے، اس کے بعد زاہد نے عاقب سے ملوایا اور خاتون کو اے سی والی بوگی میں سفر کرنے کی اجازت دے دی گئی، کچھ لمحوں بعد زاہد آیا اور اس نے خاتون کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی، خاتون نے وہاں سے اکانومی کلاس میں جانے کی کوشش کی تو اسے مارنے کی دھمکی دی گئی، خاتون کو زاہد نے زیادتی کا نشانہ بنایا،بعد ازاں عاقب آیا اور اس نے بھی خاتون کے ساتھ زبردستی گھناؤنا کام کیا ، اسکے بعد ایک اور شخص آیا جس کی شناخت نہیں ہو سکی اس نے بھی خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا،خاتون جب کراچی پہنچی تو اس نے پولیس کو زیادتی کے بارے میں آگاہ کیا، تھانہ ریلوے پولیس کراچی سٹی نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے تا ہم ملزمان فرار ہو گئے تھے

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    سائبرکرائم کے ملزم پکڑنے کیلئے ہمارے پاس یہ چیز نہیں،ڈائریکٹر سائبر کرائمز نے ہاتھ کھڑے کر دیئے

    پاکستان میں سائبر کرائم میں مسلسل اضافہ،ہراسمنٹ کی کتنی شکایات ہوئیں درج؟

    لینڈ مافیا کے ساتھ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی ملی بھگت،عدالت کا بڑا حکم

    سات سالہ گھریلو ملازمہ کو استری سے جلانے پر ملزمان میاں بیوی گرفتار

  • سندھ حکومت کا تھانوں میں خواتین ہیڈ محرر تعینات کرنے کا فیصلہ

    سندھ حکومت کا تھانوں میں خواتین ہیڈ محرر تعینات کرنے کا فیصلہ

    کراچی: آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ خواتین پولیس اہل کاروں کو تھانوں میں بطور ہیڈ محرر تعینات کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق سندھ بھر میں خواتین پولیس ملازمین کو مزید مواقع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے،خواتین کو تھانوں میں ڈیوٹی افسر بھی تعینات کیا جائیگا،اس سے قبل مختلف تھانوں میں لیڈی ایس ایچ اوز بھی تعینات ہیں۔

    آئی جی سندھ کا کہنا ہے کہ نئی بکتر بند گاڑیاں لانے کی کوشش کریں گے، کچے کے علاقوں میں آپریشن مزید تیز کیا جائیگا ضرورت پڑنے پرایئر ایمبولینس کا استعمال بھی کریں گے۔
    غلام نبی میمن کا کہناہے کہ اچھے افسران کی حوصلہ افزائی کیلئے انہیں انعامات سے نوازا جائے گا اور ساتھ ہی بری شہرت رکھنے والے افسران و اہلکار کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی۔

    تھانوں کے لاک اپ اور کمروں میں سی سی کیمرے بھی لگائے جائیگے تاکہ ملزمان کی حرکت و سکنات پر نظر رکھی جائے اس کے علاوہ تھانوں کے باہر بھی کیمرے نصب کئے جائیں گے۔