Baaghi TV

Category: کراچی

  • سندھ حکومت پر وزیر اعظم کے الزامات دراصل ا ن کی اپنی نالائقی اور نااہلی کو چھپانے کی کوشش ہے،صوبائی وزراء

    سندھ حکومت پر وزیر اعظم کے الزامات دراصل ا ن کی اپنی نالائقی اور نااہلی کو چھپانے کی کوشش ہے،صوبائی وزراء

    کراچی : سندھ حکومت پر وزیر اعظم کے الزامات دراصل ا ن کی اپنی نالائقی اور نااہلی کو چھپانے کی کوشش ہے ۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور وزیرِ اعلی سندھ کے مشیرِ برائے زراعت منظور حسین وسان نے وزیر توانائی امتیاز احمد شیخ اور وزیر برائے ایکسائز و ٹیکسیشن مکیش کمار چاولہ کے ہمراہ ہفتے کو سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کی۔اس موقع پر وزیر اعلی سندھ کے مشیرِ زراعت منظور حسین وسان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت پر وزیر اعظم کے الزامات دراصل ا ن کی اپنی نالائقی اور نااہلی کو چھپانے کی کوشش ہے۔
    انہوں نے کہا کہ سندھ میں گندم ،کھاد، چینی وغیرہ کی قلت کا جھوٹا الزام درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے علاوہ باقی تین صوبوں میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور وہاں ان اشیاء کی شدید قلت کو چھپانے اور لوگوں کی تکالیف سے پہلو تہی کرنے کے لئے سندھ حکومت پر بے بنیاد الزامات لگائے جاتے ہیں۔

    منظور حسین وسان نے کہا کہ پنجاب کے مقابلے میں سندھ میں یوریا اور جراثیم کش ادویات کم قیمت پر مل رہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے صوبے میں کھاد اور جراثیم کش ادویات کے تمام ڈیلرز کو مناسب قیمت پر فراہمی کی ہدایات دی ہوئی ہیں جو بھی ڈیلر خلاف ورزی کا مرتکب پایا جائے گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور جو کوئی گرانفروشی کا مرتکب پایا جائے گا اس پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے مقابلے میں سندھ میں یوریا کھاد سستی مل رہی ہے۔
    منظور وسان نے کہا کہ پاکستان کے عوام یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم اپنی حکومت کی نااہلی چھپانے کے لئے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا منشور کسانوں اور محنت کشوں کے استحکام کا منشور ہے لہذا ہم اچھی فصل کا فائدہ اپنے کسان کو منتقل کرتے ہیں۔منظور حسین وسان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان رٹے رٹائے جملے یعنی کرپشن ، کسی کو نہیں چھوڑوں گا اور مدینہ ریاست کے الفاظ سے عوام کو نہیں بہلا سکتے۔
    انہوں نے شوگر اسکینڈل پر کچھ بھی کارروائی نہیں کی یہ مارتے بھی ہیں اور روتے بھی ہیں میں ان کا نام عمران خان کے بجائے الطاف خان رکھتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ریلیف دینا ان کے بس کی بات نہیں کیونکہ ریلیف دینے کی نہ ان کی نیت ہے نہ ریلیف دینے کی ان کو سمجھ ہے۔انہوں نے کہا کہ اکتوبر تک ان کا جانا ٹھہر گیا ہے۔اس موقع پر صوبائی وزیر برائے ایکسائز و ٹیکسیشن مکیش کمار چاولہ نے کہا کہ وفاقی حکومت یوریا پرائس فکس کرتی ہے لیکن تین ماہ سے یوریا فیکٹریوں نے بکنگ بند کی ہوئی تھی اور کل سے بکنگ شروع کی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ سندھ کی گیس سے یوریا بنتی ہے لیکن سندھ کو یوریا کی فراہمی میں مشکلات ہیں انہوں نے واضح کیا کہ اگر سندھ کو اس کے حصے کی یوریا نہیں ملی تو سندھ حکومت شدید احتجاج کرے گی۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو ملک یوریا برآمد کرتا تھا وہ اب یوریا درآمد کرنے پر مجبور ہے یہی حال گندم اور چینی کا بھی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بڑے بڑے مگرمچھوں اور بڑے بڑے چوہوں کو بے نقاب کرے اور پکڑے۔مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ نے کہا کہ اس وقت پاکستان بھر میں گیس کی قلت شدید ترین مسئلہ ہے۔ سندھ تقریبا 65 فیصد گیس پیدا کرتا ہے لیکن ہمیں ہمارے حصے کی گیس نہیں دی جارہی ہماری صنعتیں بند اور گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں لیکن وفاقی حکومت کو کوئی احساس نہیں انہوں نے کہا کہ ‘لگتا ہے کہ شدید سردیوں میں وفاقی حکومت احساسِ سردی پروگرام شروع کرے گی اور ان کی طرف سے جلانے کے لئے لکڑیاں بانٹی جائیں گی’ ۔
    انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں کے سبب ملک میں گیس کی قلت ہے، فصلوں کو پانی نہیں مل رہا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ سب سے زیادہ گیس ، کوئلہ اور پیٹرول پیدا کرتا ہے لیکن اپنے جائز حصے سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نا اہل لوگ وقت پر فیصلے نہیں کرسکے لہذا اب سزا پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پیٹرول کی قیمتیں کم ہورہی ہیں لیکن ہمارے وفاقی حکومت اس کی قیمت آسمان تک لے جارہی ہے لوگوں کو ریلیف دینے کے بجائے تنگ کیا جارہا ہے۔امتیاز احمد شیخ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی جب آپ سے نہیں چلتی تو اسے سندھ حکومت کے حوالے کریں ہم اسے بہترین انداز میں چلانے کی صلاحیت کے حامل ہیں .

  • جماعت اسلامی کے تحت آج سندھی ہوٹل نیو کراچی میں بلدیاتی مسائل اور صحت وصفائی کی بدترین صورتحال پر احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا

    جماعت اسلامی کے تحت آج سندھی ہوٹل نیو کراچی میں بلدیاتی مسائل اور صحت وصفائی کی بدترین صورتحال پر احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا

    کراچی : جماعت اسلامی کے تحت آج سندھی ہوٹل نیو کراچی میں بلدیاتی مسائل اور صحت وصفائی کی بدترین صورتحال پر احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا

    تفصیلات کے مطابق اسلامی نیوکراچی ضلع شمالی کے تحت آج اتوار 28نومبر دوپہر 4:00 بجے سندھی ہوٹل نیو کراچی میں بلدیاتی مسائل اور صحت و صفاء کی بدترین صورتحال کے بدترین صورتحال کے حوالے سے احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا جس سے اسامہ رضی نائب امیر جماعت اسلامی کراچی، محمد یوسف امیر جماعت اسلامی ضلع شمالی ،نجیب ایوبی جنرنل سیکریٹری پبلک ایڈ کراچی خصوصی خطاب کریں گے ۔
    ناظم علاقہ نیوکراچی ڈاکٹر محمد شکیل نیاہل علاقہ نیوکراچی سے بھرپور شرکت کی اپیل ہے۔

  • بلدیہ عظمی کراچی کے پارکس، گارڈن،عمارتیں اور سٹی کونسل ہال کو ادبی کانفرنسوں اور مشاعروں کے انعقاد کے لئے استعمال کیا جائے گا : مرتضیٰ وہاب

    بلدیہ عظمی کراچی کے پارکس، گارڈن،عمارتیں اور سٹی کونسل ہال کو ادبی کانفرنسوں اور مشاعروں کے انعقاد کے لئے استعمال کیا جائے گا : مرتضیٰ وہاب

    کراچی : بلدیہ عظمی کراچی کے پارکس، گارڈن،عمارتیں اور سٹی کونسل ہال کو ادبی کانفرنسوں اور مشاعروں کے انعقاد کے لئے استعمال کیا جائے گا ۔

    ایڈمنسٹریٹر کراچی، مشیر قانون اور ترجمان حکومت سندھ بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ بلدیہ عظمی کراچی کے پارکس، گارڈن،عمارتیں اور سٹی کونسل ہال کو ادبی کانفرنسوں اور مشاعروں کے انعقاد کے لئے استعمال کیا جائے گا، انگریزی زبان سیکھتے سیکھتے ہم نے اپنی قومی زبان اردو کو بھلا دیا ہے، ہم نے اپنے ماضی کو بھلا کر جو نئی چیزیں سیکھنی شروع کی ہیں اس کی وجہ سے آج اردو زبان کا یہ حال ہے، ایسی کانفرنسز منعقد ہونی چاہئیں تاکہ آنے والے بچوں کو ماضی کے ہیروز سے روشناس کرایا جاسکے، یہ بات انہوں نے انجمن ترقی اردو کے زیر اہتمام مولوی عبدالحق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر صدر انجمن ترقی واجد جمال، سابق صدر جامعہ کراچی شعبہ اردوڈاکٹر شاداب احسانی، اردوکے نامورادیب محقق وادب دوست شہری تقریب میں شریک تھے، ایڈمنسٹریٹر کراچی بریسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ لمحہ فکریہ ہے کہ کراچی سے زیادہ لاہور میں بہتر اردو سنی اور بولی جاتی ہے، بدقسمتی سے ہم لوگوں نے تہذیب وتمدن کو بھلا دیا ہے جس کی وجہ سے آج اردو کا یہ حال ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ ایسے اجتماعات اب بند کمروں میں نہیں ہونے بلکہ بڑی بڑی جگہوں پر کھلی فضاء میں ہونے چاہئیں، انہوں نے کہا کہ آج بھی بلدیہ عظمی کراچی کی کونسل کی قرار داد اردو میں لکھی جاتی ہے اور بلدیہ عظمی کراچی کے مرکزی بلڈنگ میں جو تختیاں آویزاں ہیں وہ بھی اردو زبان میں ہیں، سندھ حکومت فراخدلی کیساتھ انجمن ترقی اردو کو گرانٹ دیتی ہے جس کا مقصد اردو کی ترویج اور ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنا ہے، اردو زبان کی ترویج کیلئے سب کو مل کر کام کرناہوگا، انہوں نے کہا کہ مادری اور علاقائی زبانوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے لیکن اردو لوگوں کو جوڑنے کی زبان ہے آپ ملک میں کسی بھی شہر میں چلے جائیں جو زبان آپ کے کام آئے گی وہ اردو ہے، آپ کو اس علاقے کی زبان نہ بھی آتی ہو لیکن اردو وہاں آپ کا ساتھ دے گی، انہو ں نے کہا کہ انجمن ترقی اردو جدید فنون کو استعمال کرتے ہوئے زبان کی ترویج پر کام کررہی ہے اور جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں، اردو قومی زبان ہے اور اس کی ترویج وفروغ کیلئے سندھ حکومت ہر طرح تعاون کریگی، سابق صدر جامعہ کراچی شعبہ اردو ڈاکٹر شاداب احسانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم جہانگیر پارک کراچی میں ہر ماہ خطاب کرتے تھے، ہماری خواہش ہے کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب اس روایت کو زندہ کریں گے، میری ایڈمنسٹریٹر کراچی سے درخواست ہے کہ وہ مہینہ میں ایک بار شعراء ، ادیبوں، دانشوروں اور عمائدین کیساتھ مکالمہ رکھیں جس کا مقصد اردو زبان کا فروغ ہو۔

  • نسلہ ٹاور کے اطراف میں دفعہ 144 نافذ

    نسلہ ٹاور کے اطراف میں دفعہ 144 نافذ

    کراچی: نسلہ ٹاور کو مسمار کرنے کا کام جادی ، عمارت کے اطراف میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : کراچی میں سپریم کورٹ کی جانب سےغیر قانونی قرار دی گئی رہائشی عمارت نسلہ ٹاور کو گرانے کا کام جاری ہے کمشنر کراچی نے نسلہ ٹاور کے اطراف دفعہ 144 نافذ کردی،نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیمولیشن مکمل ہونے تک نسلہ ٹاور کے اطراف چار سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہوگی نسلہ ٹاور کے کام میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی ڈیمولیشن کے دوران کچھ افراد لا اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب کرسکتے ہیں۔

    ڈپٹی اور اسسٹنٹ کمشنر منڈی بہاءالدین کو جیل بھیجنے کا حکم

    ڈپٹی ڈائریکٹر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی(ایس بی سی اے ) نے کہا کہ عمارت گرانے کا پانچ سے دس فیصد کام مکمل ہوچکا، اسی رفتار سے کام ہوا تو 15 سے 20 دن لگیں گے۔

    دوسری جانب عمارت گرانے والے ٹھیکیدار نے بتایا ہے کہ 3 شفٹوں میں 24 گھنٹے مزدور کام کررہے ہیں۔ عمارت گرانے میں 25 سے 30 دن لگ جائیں گے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور ایک ہفتے میں گرا کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے اور حکم دیا کہ عمارت گرانے کے دوران نقصان سے بچنے کو یقینی بنایا جائے۔

    افغان حکومت نے پاکستان سے بڑی درخواست کردی

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدریکا کہنا تھا کہ نسلہ ٹاور کی تعمیر کے لیے غلط این او سی دیا ہے تو ذمےداروں کےخلاف کارروائی کرسکتے ہیں، اٹارنی جنرل سے پوچھوں گا کہ اس پر ان کا کیا موقف ہے؟ کراچی میں عمارت گرانے کا فیصلہ سپریم کورٹ کا ہے، ایک دفعہ جب این او سی ایشو ہوگیا اس کے بعد آپ کو اس کے پرائمری میں جانا بڑا مشکل ہوجاتا ہے۔

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب آپ نے این او سی دے دیا، لوگوں نے خریداری کی، وہاں چیزیں شروع ہوگئیں بڑا مشکل ہےمیری نظر میں خریدنے والوں کے خلاف کارروائی کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

    یاد رہے کہ جمعہ کو نسلہ ٹاور کے باہر بلڈر ایسوسی ایشن اور متاثرین کے احتجاج کے دوران سڑک میدان جنگ بن گئی تھی پولیس اور رینجرز نے مظاہرین پر شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا تھا، لاٹھی چارج کے باعث ڈپٹی چیئرمین آباد سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔

    اس احتجاج کے حوالے سے ترجمان کراچی پولیس کا موقف تھا کہ پولیس نے شارع فیصل کو بلاک کرنے سے مظاہرین کو روکا۔ مظاہرین نے سڑک بلاک کی اور سرکاری کام میں مداخلت کی تو لاٹھی چارج کیا گیا۔

    سابق فرانسیسی وزیر کو ریپ اور ہراسانی کے نئے مبینہ الزامات کا سامنا

  • ہم کوئی دہشت گرد تھے جو لاٹھی چارج کیا گیا  , کاروبار بند کررہے ہیں : محسن شیخانی

    ہم کوئی دہشت گرد تھے جو لاٹھی چارج کیا گیا , کاروبار بند کررہے ہیں : محسن شیخانی

    کراچی : چیئرمین آباد محسن شیخانی نے کہا ہے کہ نسلہ ٹاور کا مسئلہ کراچی کا مسئلہ ہے، آباد نے تعمیراتی شعبے کو ہڑتال کی کال دی تھی، ہم کوئی دہشت گرد تھی جو ہم پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ ظلم کی حد ہوتی ہے ۔اب برداشت سے باہر ہوچکا ہے ،کاروبار بند کررہے ہیں ۔آرمی چیف سے اپیل ہے کہ ہمیں بچالیں۔
    کراچی میں بغیر نقشے کے کئی عمارتیں بنائی جا رہی ہیں، کام نہیں کرنے دیا جا رہا، بیرونِ ملک سے سرمایہ کار کیسے آئیں گے، گورنر سندھ اور وزیرِ اعلی سندھ کو کسی کی فکر نہیں ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے ہفتے کو ایف پی سی سی آئی صدر ناصر حیات مگوں ، ایف پی سی سی آئی نائب صدر عارف جیوا ،پی ٹی آئی کے خرم شیر زمان ، ایم کیو ایم پاکستان رہنما عامر خان ، سابق مئیر کراچی وسیم اختر،سینیٹر فیصل سبزواری ،سیلانی ویلفیئر کے مولانا بشیر فاروقی ،ایف پی سی سی آئی ، اور دیگر ٹریڈ ایسوسی ایشن کے رہنما ؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
    چیئرمین آباد محسن شیخانی نے کہا کہ سندھ حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ریگولرائزیشن کریں گے، کل سندھ اسمبلی نے بل پاس کر دیا، مگر قرار داد پاس نہیں کرائی گئی۔انہوںنے کہا کہ شہر میں بغیر نقشوں کے عمارتیں بن رہی ہیں، ہم احتجاج بھی نہیں کر سکتے، آج بھی 700 عمارتیں بن رہی ہیں کوئی نہیں پوچھ رہا، کیا بلڈنگ ایک دن میں بنی، اداروں کی ذمے داری نہیں تھی، آباد کا مطالبہ ہے، عمارتوں کی اجازت دینے کے لیے ون ونڈو قائم کی جائے۔
    محسن شیخانی نے کہا کہ ایک ملک میں دو قانون نہیں ہوتے، بلڈنگ کی تعمیر کے 5 سال بعد آرڈر آتا ہے کہ عمارت توڑ دی جائے، اس صورتِ حال کے بعد لوگ کیسے سرمایہ کاری کریں گے، کمشنر اور پولیس اپنی نوکری بچا رہے ہیں، شہر کو ہم تباہ کر رہے ہیں، ایک عمارت کی تعمیر کے لیے 17 این او سی لینے پڑتے ہیں، عمارت گرانے پر توجہ زیادہ اور معاوضہ دینے پر پر کم ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ایسا ادارہ بنا دیں جس سے این او سی ملنے کے بعد اور کوئی تنگ نہ کرے، کراچی میں کئی برسوں سے 300 نقشے زیرِ التوا ہیں، وزیرِ اعظم، صدر، آرمی چیف اور بلاول بھٹو سے اپیل ہے کہ مسائل حل کرائیں، جہاں ڈاکیومنٹیشن کو نہیں مانا جا رہا وہاں کام بند کریں گے۔چیئرمین آباد محسن شیخانی نے کہا کہ کراچی میں بغیر نقشے کے کئی عمارتیں بنائی جا رہی ہیں، کام نہیں کرنے دیا جا رہا، بیرونِ ملک سے سرمایہ کار کیسے آئیں گے، گورنر سندھ اور وزیرِ اعلی سندھ کو کسی کی فکر نہیں ہے۔
    کراچی کا مسئلہ ہم سب کا مسئلہ ہے ۔یہ وہ کراچی ہے جو 62 فیصد ٹیکس دیتا ہے ۔اس ملک کی اکانومی چلانے والا شہر کراچی ہے ۔عرصہ دراز سے لے کر اس شہر کے ساتھ جوہوتا رہا وہ سب کے سامنے ہے ۔پہلے ٹارگٹ کلنگ کا معاملہ رہا ۔انہوںنے کہا کہ ہماری لی گئی این اوسی کو کوئی ادارہ ماننے کو تیار نہیں ۔ہمیں بلڈنگ بنانے کے لئے 17 جگہ سے این اوسی لینی پڑجاتی ہے ۔
    ادارے کیوں بری الذمہ ہوجاتے ہیں ۔کے ایم سی نے نسلہ ٹاور والی زمین الاٹ کی تھی ۔اب ایک آرڈر پر بلڈنگ توڑ دی جارہی ہے ۔ایک آرڈر ہوتا ہے تو بنی گالہ ریگولرائز ہوجاتا ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں کام نہیں کرنے دیا جائے گا ۔ہم نے کل احتجاج کیا اور یہ بتایا کہ اب کام نہیں کرسکتے ۔کوئی ایک ادارہ بنادیں نا جس کی این اوسی کافی ہو ۔لوگوں کا اعتماد ہم پر سے اٹھ جائے گا تو کیسے انڈسٹری چلے گی۔
    محسن شیخانی نے کہا کہ ہمارے لوگوں پر تشدد کیا گیا ۔معیشت چلانے والوں کے ہاتھ پاؤں توڑے جارہے ہیں ۔بزنس کمیونٹی کے ٹیکس سے ملک چلتا ہے اسی کو یہاں مارا جاتا ہے۔انہوںنے کہا کہ آپ کا ایس بی سی اے ناکارہ ہوچکا ہے تو اسے پرائیویٹائز کردیں ۔محسن شیخانی نے کہا کہ کراچی کے لوگوں کے ساتھ بہت ظلم ہورہا ہے ۔میں سب سے کہتا ہوں کہ خدارا کراچی کے لئے کھڑے ہوجائیں ۔
    اگر بزنس کمیونٹی نہیں بچے گی تو شہر کیسے چلے گا ۔این جی اوز کیسے چلیں گی ۔ہر سیاسی جماعت اپنا موقف پیش کرے ۔اگر گورنر اور وزیر اعلی نہیں آتے ہمارے پاس تو ہم چلے جاتے ہیں کیونکہ وہ بڑے لوگ ہیں ،کمشنر کراچی اپنی نوکری بچارہا ہے ۔آج کچھ نہ کچھ نتیجہ نکلنا چاہئیے۔انہوںنے کہا کہ بس اب بہت ہوگیا۔ ظلم کی حد ہوتی ہے ۔اب برداشت سے باہر ہوچکا ہے ۔
    اب کاروبار بند کررہے ہیں بیوروکریسی کو واضح پیغام ہے ۔آرمی چیف سے اپیل کردی ہے کہ ہمیں بچالیں ۔بلاول بھٹو آئیں ہمیں بچائیں۔صدر ایف پی سی سی آئی ناصر حیات مگوں نے کہا کہ جن اداروں نے این او سی دی ان کے خلاف ایکشن لیا جائے ۔ریگولیٹر اس وقت کہاں تھے یہ ان کی ذمہ داری ہے ۔بزنس کمیونٹی کے ساتھ کل جو ہوا ان کے خلاف ایکشن لیا جائے جن لوگوں نے غلط اجازت دی ان کے خلاف ایکشن کیا جائے ۔
    انہوںنے کہا کہ ایف پی سی سی آئی کی نئی بلڈنگ بنانے کی اجازت مانگی ہے وہ بھی اب تک نہیں ملی ہے ۔پورے ملک میں بلڈنگ بن رہی ہیں لیکن کراچی کو ہدف بنایا جارہاہے ۔فرسودہ نظام کو درست کیا جائے۔سیلانی ویلفیئر کے مولانا بشیر فاروقی نے کہا کہ ہم توہین عدالت نہیں کر رہے ہیں، ہم چیف جسٹس اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری فریاد کو سنا جائے، ثاقب نثار نے فیصلہ واپس لے لیا تھا، آپ بھی واپس لے لیں، ٹاور کی تعمیر کی جس نے اجازت دی تھی، اس کو عدالت بلایا جائے۔

  • لاوارث کراچی میں الیاس کوچ ڈرائیور کی خواتین سے بدتمیزی

    لاوارث کراچی میں الیاس کوچ ڈرائیور کی خواتین سے بدتمیزی

    کراچی : لاوارث کراچی میں الیاس کوچ ڈرائیور کی خواتین سے بدتمیزی*

    تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں الیاس کوچ کا ڈرائیور بہت تیز گاڑی چلا رہا تھا اور دوسری گاڑی سے ریس لگا رہا تھا جس پر خاتون کا صرف اتنا کہنا تھا کہ آپ ریس نا لگائیں قیمتی جانیں گاڑی میں موجود ہیں ۔ اس پر ڈرائیور نے خاتون سے بدتمیزی کی اور کہا کہ ہم ایسے ہی گاڑی چلاتے ہیں ہمیں ٹریفک پولیس بھی نہیں روکتی جیل مردوں کے لئے ہی بنی ہے ۔
    کراچی جیسے شہر میں یہ صرف الیاس کوچ کی کہانی نہیں لاوارث کراچی میں آئے دن حادثات ایسی ہی ریس لگاتی گاڑیوں کی کی وجہ سے رونماء ہوتے رہتے ہیں ۔
    ٹریفک پولیس کو ان کی بدمعاشی نظر نہیں آتی کیونکہ ماہانہ فی چوکی کے حساب سے بھتہ مل رہا ہے کیسے نظر آئے ان کی بدمعاشی ۔ گاڑی کا نمبر ہے 3933 روٹ الیاس کوچ ۔ کیا کوئی اس گاڑی کے ڈرائیور کو پابند کر سکتا ہے کہ وہ آئندہ ریس نہیں لگائے گا اور کسی خاتون سے کبھی بد تمیزی نہین کرے گا ۔

  • بلاول بھٹو نے سندھ کے نئے بلدیاتی نظام کی منظوری دے دی

    بلاول بھٹو نے سندھ کے نئے بلدیاتی نظام کی منظوری دے دی

    کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی نے سندھ میں ایک بار پھر نیا بلدیاتی نظام لانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی بلاول بھٹو زرداری نے بھی منظوری دے دی۔ ٹاؤن سسٹم پھر سے بحال ہو جائے گا ۔
    تفصیلات کے مطابق  پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ میں نئےبلدیاتی نظام کی منظوری دے دی، جس کے بعد کل نئے بلدیاتی نظام کا بل اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
    پاکستان پیپلزپارٹی بل کی منظوری کے حوالے سے پُرامید ہے اور بتایا جارہا ہے کہ منظوری کے بعد مجوزہ بلدیاتی نظام میں بڑی تبدیلیاں کی جائیں گی۔
    نئے بلدیاتی نظام کے تحت کراچی میں ضلع کونسل اور ڈی ایم سی کے نظام کو ختم کر کے صوبے کے ہر ڈویژن میں ٹاؤن سسٹم نافذ کیا جائے گا، کراچی میں ضلع کونسل اورڈی ایم سیزکی جگہ 25 ٹاؤنز تشکیل دیے جائیں گے، جو جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں 18 تھے۔
    نئےبلدیاتی نظام میں میئرکراچی کو مزیداختیارات دیے جائیں گے جبکہ یونین کونسل کے چیئرمینز بھی بااختیار ہوں گے۔  نئےنظام میں میونسپل سہولیات کو ایک پلیٹ فارم میں یکجاکیاجائےگا۔
    پاکستان پیپلزپارٹی نے نئےبلدیاتی نظام میں ایم کیوایم اورجماعت اسلامی کی تجاویزکو بھی شامل کیا ہے۔

  • ٹرانسپورٹ کے کرایو ں میں من مانا اضافہ،بسوں میں خود ساختہ جعلی کرایہ نامہ آویزاں

    ٹرانسپورٹ کے کرایو ں میں من مانا اضافہ،بسوں میں خود ساختہ جعلی کرایہ نامہ آویزاں

    کراچی : ٹرانسپورٹ کے کرایو ں میں من مانا اضافہ،بسوں میں خود ساختہ جعلی کرایہ نامہ آویزاں

    سماجی رہنما و ماہر تعلیم حنید لاکھانی نے پور ے ملک میں پبلک ٹرانسپورٹ کے من مانے اضافوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے من مانے اضافوں نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے، پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کے بعد ٹرانسپورٹرز نے بھی کرائے بڑھا دیئے ہیں جبکہ ٹرانسپورٹرز کو کوئی اختیار نہیں کہ از خود کرائے مقرر کر کہ لوٹ مار کا بازار گرم کر لیں ، حکومت نے گزشتہ دس سالوں سے پبلک ٹرانسپورٹ کی کرائے نامہ کی لسٹ بھی جاری نہیں کی گئی جس کے مطابق پر مسافر کو فی کلومیٹر کس حساب سے کرایہ لیاجاتا ہے اور نہ ہی پبلک ٹرانسپورٹ میں کوئی ٹکٹ دینے کا نظام ہے، ان خیالات کا اظہارا نہوں نے حنید لاکھانی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں کیا، حنیدلا کھانی نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ والوں کی جانب سے سو سے لیکر دو سوروپے تک اضافہ کردیا گیا ہے، ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پر کراچی کے ٹرانسپورٹرز نے من مانی کرتے ہوئے پہلے سے آخری اسٹاپ تک کرایوں میں بیس روپے تک اضافہ کردیا ہے، انہوں نے کہا کہ بیشتر پبلک ٹرانسپورٹ سی این جی پر چلتی ہے جبکہ کرایوں میں اضافہ پٹرول کی قیمت بڑھنے کی مد میں لیا جا رہا ہے جبکہ محکمہ ٹرانسپورٹ کا کام ہے کہ وہ حکومتی مقرر کردہ نرخوں پر عمل درا?مد کویقینی بنائے اور جو کرایہ حکومت نے فی کلومیٹر یا فی دس کلومیٹر تک مقرر کر رکھا ہے وہی عوام سے لیا جائے اور کرائے نامے کی لسٹ ہر پبلک ٹرانسپورٹ میں آویزاں ہونی چاہیے، انہوں نے کہا کہ کراچی کروڑوں کی آبادی کا شہر ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ یہاں کے لوگوں کے لیئے حکومتی سطح پر کوئی ایسی پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر نہیں ہے جس کو سستی اورآرام دہ سواری کہا جا سکے، پبلک ٹرانسپورٹ کے نام پر کراچی کے لوگ ٹوٹی پھوٹی اور کئی سال پرانی بسوں یا پھر چنچی رکشہ میں سفر کرنے پر مجبور ہیں اربوں روپے کا ٹیکس دینے والے شہر کی عوام ضلعی انتظامیہ کی نا اہلی کیوجہ سے مہنگے کرائے میں ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور پرانی بسوں پر سفر کررہے ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کی عوام کے ٹرانسپورٹ کے مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل ہونا چاہیے کیونکہ یہ عوام کا دیرینہ اور اہم ترین مسئلہ ہے .

  • نامعلوم ملزمان نومولود بچہ جھلسی ہوئی حالت میں پھینک کر فرار

    نامعلوم ملزمان نومولود بچہ جھلسی ہوئی حالت میں پھینک کر فرار

    کراچی : نامعلوم ملزمان نومولود بچہ جھلسی ہوئی حالت میں پھینک کر فرار ۔

    تفصیلات کے مطابق گلشن حدید میں نامعلوم ملزمان نومولود بچہ جھلسی ہوئی حالت میں پھینک کر فرار ہوگئے، پولیس نے زخمی بچے کو طبی امداد کے لئے جناح اسپتال منتقل کیا ۔

    بن قاسم تھانے کی حدود گلشن حدید میں واقع عائشہ اسپتال کے قریب سے نومولود بچے کے جھلسی ہوئی حالت میں موجودگی کی اطلاع ملنے پر مددگار 15 نے فوری موقع پر پہنچ کر بچے کو فوری طور پر طبی امداد کے لئے جناح اسپتال منتقل کیا، پولیس کے مطابق بچہ شدید زخمی حالت میں ملا ہے جو کہ آگ سے جھلسا ہوا تھا، بچے کو نامعلوم افراد پھینک کر فرار ہو ئے ہیں، تاہم اس ححوالے سے پولیس تفتیش کررہی ہے ۔

  • شوہر نے جھگڑے کے دوران بیوی کو پھندا لگا کر قتل کردیا

    شوہر نے جھگڑے کے دوران بیوی کو پھندا لگا کر قتل کردیا

    کراچی : سرجانی ٹاؤن میں شوہر نے جھگڑے کے دوران بیوی کو پھندا لگاکر قتل کردیا، پولیس نے ملزم شوہر کو گرفتار کرلیا .

    تفصیلات کے مطابق سرجانی ٹاؤن تھانے کی حدود سیکٹر ایل ون مکان نمبر ایک تین میں خاتون کی پھندا لگی لاش کی موجودگی کی اطلاع پاکر پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو تحویل میں لیکر کارروائی کے لئے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا ۔ پولیس کے مطابق اسپتال میں مقتولہ کی شناخت 26 سالہ لاریب زوجہ ذوالفقار کے نام سے ہوئی ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کو اس کے شوہر ذوالفقار نے پھندا لگاکر قتل کیا ہے تاہم پولیس نے ملزم شوہر کو گرفتار کرکے واقعہ کی مزید تفتیش شروع کردی ہے ۔