Baaghi TV

Category: کراچی

  • غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم

    غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم

    سندھ ہائیکورٹ نے غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا

    عدالت نے حکم دیا کہ جو لوگ غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کررہے ہیں انکے خلاف فوری کارروائی کریں پورے شہر میں جگہ جگہ غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کرنے والے موجود ہوتے ہیں، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارکنگ فیس وصول کرنے والوں نے بدمعاش بیٹھائے ہوتے ہیں، اگر کسی کے پاس کے 20 روپے نہیں ہوتے تو یہ شہری کو بے عزت کرتے ہیں،لوگ اپنی فیملیز کے ساتھ جاتے ہیں تو یہ لوگ 20 روپے کیلئے تنگ کرتے ہیں ان کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کرتا؟

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس والے کہتے ہیں ہمارا مسئلہ نہیں ،ٹریفک پولیس والے کہتے ہیں ہمارا نہیں، پارکنگ فیس وصول کرنے کا کیا طریقہ کار ہے؟اگر کسی کے گھر باہر گاڑی گھڑی ہوں تو اس سے بھی فیس وصول کی جاتی ہے، وکیل ڈی ایم سی کیماڑی نے کہا کہ اس قسم کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے، عدالت نے کہا کہ کس جگہ کسی گاڑی سے کتنی فیس وصول کرنی ہے اس کا نوٹیفکیشن دکھائے عدالت نے آئندہ سماعت پر فریقین کے وکلا کو تیاری کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دے دیا سندھ ہائیکورٹ نے درخواست کی مزید سماعت 31 جنوری تک ملتوی کردی

    قبل ازیں ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے شہر سے غیرقانونی پارکنگ کے فوری خاتمے کے لیے اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب کی زیر صدارت کیایم سی کے مختلف محکموں کے ساتھ اجلاس ہوا۔ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے ہدایت کی کہ کے ایم سی کی ریکوری کو مقررہ وقت میں پورا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی پارکنگ فوری ختم کی جائیں،گاڑیوں کی بہتر پارکنگ سے ٹریفک کی روانی میں مدد ملتی ہے۔مرتضی وہاب نے کہا کہ بے ترتیب پارکنگ سے ٹریفک کی صورتحال خراب ہوتی ہے اور لوگوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے،فٹ پاتھ پر پارکنگ کی وجہ سے پیدل چلنے والوں کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

    نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ 

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نورمقدم قتل ، نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، ملزمان کے نفسیاتی ٹیسٹ کی آئی رپورٹ

    نور مقدم قتل کیس،مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے ریمانڈ میں توسیع

    نور مقدم قتل کیس، ایک اور ملزم نے ضمانت کے لئے رجوع کر لیا

    نور مقدم کیس، سسٹم کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب،کیس الجھ گیا، مال کی چمک دمک شروع

  • جو جیسا کرے گا ویسا ردعمل دیا جائے گا، مصطفیٰ کمال کا دبنگ اعلان

    جو جیسا کرے گا ویسا ردعمل دیا جائے گا، مصطفیٰ کمال کا دبنگ اعلان

    جو جیسا کرے گا ویسا ردعمل دیا جائے گا، مصطفیٰ کمال کا دبنگ اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی 13سال سے ہے مگر کام نہیں کیے،

    سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ملکی صورتحال سب کے سامنے ہے،چاروں وزرائے اعلیٰ صوبے کے وسائل پر قابض ہیں،سندھ کو 10ہزار 242ارب روپے این ایف سی ایوارڈ کی مدمیں ملے پیپلز پارٹی سندھ کو اپنی جاگیر اور ریاست سمجھتی ہے،پی ٹی آئی نے وفاق میں اپنی حکومت چلانے کے لیے سندھ کو گروی رکھا ہے،18ویں ترمیم کے نام پروفاق سے سارے اختیارات لے لیے گئے ،پاکستان کوآئی ایم ایف کےہاتھوں گروی رکھ دیا گیا سندھ حکومت پاکستان کی سالمیت کیخلاف کام کررہی ہے، پاکستان میں مہنگائی کا تناسب 12فیصد سے زیادہ ہے،سندھ میں نوکریاں رشوت لے کردی جارہی ہیں،سندھ میں 11 ہزار اسکول گھوسٹ ہیں،

    سید مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ شہر کا کوئی پرسان حال نہیں، پاکستان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، سندھ کو پیپلز پارٹی سے بچا لو، اس نے نیا طریقہ اپنا لیا ہے کہ لوگوں کی سانسیں روک لو، ہم خاموش نہیں رہیں گے، کراچی کے لوگ بولنے والے ہیں، ہم نے پانچ چھ مظاہرے کر لئے، 30 جنوری کو تین بجے تبت سنٹر میں بھر پور احتجاج کریں گے ،ہم نے ظلم کے خلاف آواز اٹھانی ہے، ہم نے وزیراعلیٰ کو بتانا ہے کہ ہم انکے قانون مسترد کرتے ہیں، تمام اداروں کو لوکل گورنمنٹ کے حوالے کیا جائے پھر مذاکرات کئے جائیں،جو جیسا کرے گا ویسا ردعمل دیا جائے گا ، کوئی کنفیوژن نہیں ہونی چاہئے، تم طاقت کا استعمال کرو گے تو عوام سے بڑھ کر کوئی طاقت نہیں، اپنی زبان، مسلک، پارٹی سے بالا تر ہو کر عوام گھروں سے نکلیں،

    سید مصطفی کمال نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے عددی اکثریت کی بنیاد پر نئے بلدیاتی ترمیمی قانون کے زریعے اپنا الیکشن کمیشن بنا رکھا ہے جو کہ آرٹیکل 140(2)A کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس سے قبل 2013 کے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے لفظ پاکستان ہٹا دیا تھا اور آج پیپلز پارٹی نے 2021 کے ترمیمی ایکٹ سے پورا الیکشن کمیشن کا لفظ ہی نکال دیا ہے جبکہ نئے سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی قانون کو پیپلز پارٹی اسمبلی میں پیش کیے بغیر محض ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے لوکل گورنمنٹ قانون میں مزید تبدیلی کرسکے گی جو اس آئین پاکستان کیساتھ بھونڈا مذاق ہے جو خود پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے دیا تھا۔

    سید مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی صوبائی وزارتوں کے ساتھ ساتھ اب شہری حکومت کے اوپر بھی قبضہ کر رہی ہے۔2001 میں بلدیاتی حکومت کے اختیار میں 47 محکمے تھے لیکن اب صرف 21 رہ گئے ہیں۔ ایک ایک کرکے سارے محکمے سندھ حکومت قبضہ کر چکی اور ان تمام محکموں کو کرپشن کا گڑھ بنا دیا ہے۔ سندھ میں 70 لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں جو کئی ممالک کی کل آبادی سے زیادہ ہیں، پیپلز پارٹی نے صرف تعلیم کی مد میں 2300 ارب روپے خرچ کیے، آج سندھ میں ہزاروں گھوسٹ اسکولز اور لاکھوں گھوسٹ ٹیچرز ہیں جسے تمام بین الاقوامی ایجنسیوں نے رپورٹ کیا۔ نئے تعلیمی ادارے کھلنے کے بجائے سرکاری اسکولوں کو بند کیا جارہا، سندھ میں سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کو فلاحی اداروں کو ٹھیکے پر دیا جارہا ہے۔ سندھ میں ایک نئی لائن پینے کے پانی کی نہیں ڈالی گئی، کراچی کے شہری سے لیکر تھر پارکر کے دیہی علاقوں تک لوگ بوند بوند پانی کو ترس رہے، سندھ حکومت کے خلاف کوئی آواز اٹھائے تو سرے عام گولیاں چلاکر قتل عام کیا جاتا ہیں ۔آج بھی ام رباب اور ناظم جوکھیو کے لواحقین عدالتوں سے انصاف مانگتے پھر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے سندھ کو اپنی زاتی ریاست بنالیا ہے، وہ سندھ میں جمہوری حکومت نہیں بلکہ اپنی ریاست چلا رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے اپنی حکومت چلانے کے لئے زرادی صاحب کو سندھ میں کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ نئی حلقہ بندیاں ہوں، نئے ڈسٹرک کا قیام ہو، نئے ٹاؤن بنانے کی بات ہو تو سندھ حکومت لسانی تعصب کے تحت تمام کام سر انجام دیتی ہے، سندھ کا وزیر اعلیٰ انتہائی متعصب سیاست کے حامی ہیں۔ وہ تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھ کر تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ اگر سندھ حکومت شہری حکومت کے معاملے میں مداخلت کر سکتی ہے تو پھر سندھ پاکستان کا صوبہ ہے، وفاقی حکومت مداخلت کرئے اور شہریوں کو بچائے۔

    سید مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ ریاستی اداروں کو مطلع کرتا ہوں اہلیان کراچی کے ساتھ بہت ظلم اور زیادتی ہوچکی اب مزید برداشت نہیں ہوگا۔ سندھ حکومت کو لگام دینے کا وقت آگیا۔ جمہوریت کا مطلب یہ نہیں ہے آپ نہ آئین پاسداری کریں، نہ اداروں کی پاسداری کریں اور اپنی مرضی اور فائدے کے قانون بناتے چلے جائیں، پاک سر زمین پارٹی پاکستان کو بچانے کی خاطر جہاد کررہی ہے اور اپنے خون کا آخری قطرہ تک گرائے گی۔ انہوں نے میں اہلیان کراچی سے کہتا ہوں آؤں میرا ساتھ اور اس لسانی حکومت کے خلاف کھڑے ہوں تاکہ ہم اپنے سندھی بھائیوں کو بھی اس ظلم سے نجات دلائیں بس اب اس شہر کا ہر آدمی باہر نکلے چاہے وہ پنجابی، پختون، بلوچ، سندھی، مہاجر ہوں سب کو نکلنا ہوگا، میں پاکستان کی ہر سیاسی پارٹی کے کارکنان سے کہتا ہوں اپنی قیادت سے سوال کریں کہ آپکے علاقے میں بہتری کیلئے وسائل نیچے منتقل کیوں نہیں کرتے۔ ہم 30 جنوری کو بتا دیں گے کہ جب باکردار اور قابل قیادت سامنے کھڑی ہوجائے تو ظالم کا وقت ختم ہو جاتا ہے اور پیپلز پارٹی کے ظلم کا وقت اب ختم ہوتا ہے

    قبل ازیں چیئرمین پاک سرزمین پارٹی سید مصطفی کمال اور صدر پی ایس پی انیس قائم خانی سے فیڈرل بی ایریا یوسی 33 پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے کارکنان و ذمہ داران نے ملاقات اور پی ایس پی میں شمولیت کا اعلان کیا،

    @MumtaazAwan

    خاموشی سے نسلوں کی نسل کشی ہوتے نہیں دیکھ سکتے، مصطفیٰ کمال پھٹ پڑے

    صوبائی خود مختاری کے نام پر صرف ایک شخص کو اختیار دیا گیا،مصطفیٰ کمال

    این ایف سی کے سارے پیسے وزیراعلیٰ لے کر بیٹھ جاتے ہیں،مصطفیٰ کمال

    کراچی اور سندھ کی تباہی کے ذمے داروں کا کل یوم احتساب ہوگا، مصطفیٰ کمال

    حکومت 5 سال پورے کریگی؟ خالد مقبول صدیقی بھارت کے ایجنٹ، مصطفیٰ کمال کے اہم انکشافات

    پراسیکیوشن کا کمال. مصطفیٰ کمال کے خلاف کرونا پازیٹو مریض بطور گواہ عدالت میں پیش کردیا

    نواز شریف یہ نہیں کہتے کہ میرے کونسلرز کو کیوں نکالا؟ مصطفیٰ کمال

    مصطفی کمال کو نااہل قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سندھ کے شہری علاقوں میں مایوسی پھیل رہی ہے ،مصطفیٰ کمال

    مصطفیٰ کمال کی نااہلی کی درخواست پر عدالت نے سنایا فیصلہ

    پیپلزپارٹی کو ہنی مون کا زیادہ وقت نہیں ملے گا، مصطفیٰ کمال

    مینڈیٹ کا سودا کر کے ہم وزارتیں نہیں مانگیں گے، مصطفیٰ کمال کی ایم کیو ایم پر تنقید

    دس منٹ میں حکومت کون گرا سکتا ہے؟ مصطفیٰ کمال کا انکشاف

    مذاکرات ہوں یا عدالت جانا پڑے،سارے راستے اپنائیں گے، مصطفیٰ کمال کا بڑا اعلان

    جے یو آئی اور پاک سرزمین پارٹی کا ایک ہو کر چلنے کا فیصلہ

    مصطفیٰ کمال اہم ہوگئے، اہم شخصیات کے رابطے

    مصطفیٰ کمال کا اہم شخصیت سے رابطہ،ملاقات بھی متوقع

  • آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہوں تو مہنگائی زیادہ لگتی ہی : فواد چوہدری

    آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہوں تو مہنگائی زیادہ لگتی ہی : فواد چوہدری

    کراچی : وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ آمدن کم اوراخراجات زیادہ ہوں تو مہنگائی زیادہ لگتی ہے۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ سے ہیلتھ کے مسائل حل ہوں گے، جس پر ہر خاندان 10 لاکھ روپے تک علاج کروا سکے گا، نجی اسپتال جائیں تو علاج کا خرچہ حکومت اٹھائے گی، حادثے میں زخمی شخص کا بھی صحت کارڈ کے تحت فوری علاج ہو سکے گا، صحت کارڈ کا سب سے زیادہ فائدہ سفید پوش اور مڈل کلاس طبقے کو ہوگا، امیر لوگ تو بیرون ملک جاکر اپنا علاج کرواتے ہیں، مساوات قائم ہوگی وہی علاج غریب کا ہوگا جو امیر کا ہوتا ہے، جب تک پرائیویٹ سیکٹر آگے نہیں آئے گا کبھی بھی مسئلے حل نہیں ہوسکتے،اچھے اسپتال بنیں گے تو یہ عوام کیلئے فائدہ ہے، یہ پروگرام انتہائی اہمیت کا حامل ہے، سندھ حکومت صحت انصاف کارڈ میں اپنا حصہ ڈالیں، تمام پریس کلبوں کے ممبران کو صحت کارڈ دینے جارہے ہیں۔

    وزیراطلاعات نے کہا کہ سب سے زیادہ مشکل میں تنخواہ دار طبقہ ہے جن کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جاتیں، آمدن کم اور اخراجات زیادہ ہوں تو مہنگائی زیادہ لگتی ہے، نوازشریف کا مسئلہ مہنگائی سے جڑا ہوا ہے، 1947 سے 2008 تک 6 ہزار ٹریلین کا قرضہ لیا گیا، جب کہ 2008 سے 2018 تک 23 ٹریلین قرضہ لیا گیا، پی ٹی آئی کی حکومت 32 ارب ڈالر قرضہ واپس کرچکی ہے، نوازشریف لندن کی سب سے مہنگی پراپرٹی میں بیٹھے ہوئے ہیں، لندن میں آصف زرداری ہوٹل کا مہنگا ترین اپارٹمنٹ لے کر رہتے ہیں۔
    فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے، ان کے مارچ کا شور پہلے دن سے سنتے آرہے ہیں، آئندہ عام انتخابات 1100 سیٹوں پر ہوں گے، اور پی ٹی آئی کے علاوہ ان سیٹوں پر کوئی جماعت امیدوار کھڑے نہیں کر سکتی، الیکشن آنے دیں میدان بھی ہوگا گھوڑا بھی ہوگا اور ہم بتائیں گے الیکشن کیسے لڑے جاتے ہیں، آئندہ 5 سال بھی تحریک انصاف کے ہی ہوں گے۔

  • ایف بی آر کی شہری سے ناانصافی، صدر پاکستان عارف علوی  نے معافی مانگ لی:سُن کرہرکوئی خوش

    ایف بی آر کی شہری سے ناانصافی، صدر پاکستان عارف علوی نے معافی مانگ لی:سُن کرہرکوئی خوش

    اسلام آباد:ایف بی آر کی شہری سے ناانصافی، صدر پاکستان عارف علوی نے معافی مانگ لی:سُن کرہرکوئی خوش ،اطلاعات کے مطابق صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے انتظامی نا انصافی پر شہری سے معذرت کرلی ۔

    صدر عارف علوی نے 82 سالہ ٹیکس دہندہ کے ساتھ نارواسلوک پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین ایف بی آرغیر ذمہ داری اوربدعنوانی کاجائزہ لیں۔ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ معاملے میں ملوث تمام افراد کیخلاف کارروائی ہوگی۔

    ادھر ذرائع کے مطابق جس شہری سے صدرپاکستان ڈاکٹر عارف الرحمن علوی نے معافی مانگی ہے وہ بہت ہی زیادہ متاثر ہوا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا جو ہوگیا ، اس شہری کا کہنا ہے کہ اسے اس بات کی بہت زیادہ خوشی ہوئی ہےکہ ایک بڑے عہدے پربیٹھا شخص کس طرح بڑا دل کرکے ایک عام شہری سے کسی دوسرے کی غلطی پرمعافی مانگ رہا ہے

    اس شخص کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اس کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اچھے رویے کی دنیا میں‌ کسی بھی بادشاہت میں‌ اعلیٰ ظرفی کی مثال نہیں ملتی

    ادھر سوشل میڈیا پر عوام الناس کا کہنا ہےکہ وہ اپنے سربراہ مملکت کے رویے سے بہت ہی زیادہ متاثر ہوئے ہیں کہ کیسے گناہ ایف بی آ کاہےاورمعذرت صدرمملکت کررہے ہیں ، اکثروبیشتر کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے کو ایسے رویوں کی ضرورت تھی جس کا آغاز صدرمملکت نے کرکے ایک مثال قائم کردی ہے اور اب ہمیں بھی ایسے رویوں سے ایک دوسرے سے پیش آنا چاہیے

  • جماعت اسلامی کا بلدیاتی ترمیمی ایکٹ کے خلاف آج  شاہراہ فیصل پر تاریخی مارچ کا اعلان

    جماعت اسلامی کا بلدیاتی ترمیمی ایکٹ کے خلاف آج شاہراہ فیصل پر تاریخی مارچ کا اعلان

    کراچی: جماعت اسلامی نے سندھ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ کے خلاف مارچ 17ویں روز میں داخل ،حافظ نعیم الرحمان کا آج اتوار کو شاہراہ فیصل پر تاریخی مارچ کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کے سولہویں روز شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی قانون کے خلاف کل کراچی کے تمام اضلاع میں ریلیاں جبکہ شاہراہ فیصل پر زبردست اور تاریخی مارچ کیا جائے گا جماعت اسلامی مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار ہے، ہم نے پیپلزپارٹی کو اپنی سفارشات پیش کردی ہیں اور اب گیند حکومت کے کوٹ میں ہے۔

    کرپٹو کرنسی اسکینڈل: فراڈ میں ملوث ایک کمپنی کو نوٹس جاری

    حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ انہوں نے واضح کیا کہ مطالبات کی منظوری تک جماعت اسلامی کا دھرنا جاری رہے گا ساڑھے تین کروڑ آبادی والے شہر کو ماس ٹرا نزٹ پروجیکٹ کی ضرور ت ہے، صوبائی حکومت کے پاس تعلیم کا بجٹ 233ارب روپے ہیں لیکن یہ رقم سرکاری اسکولوں میں کے بجائے کرپشن کی نظر ہو جاتی ہے-

    پاکستان میں گندم کا بدترین بحران آنے والا ہے،لیگی رہنما

    امیر جماعت اسلامی کراچی نے وزیراعلیٰ سندھ سے سوال کیا کہ وہ بتائیں دنیا میں کس شہر کے میئر سے بلدیاتی اختیارات واپس لیے گئے ہیں انہوں نے سندھ حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی کراچی کے شہریوں کے ساتھ زیادتی نہ کرے اور اس متعصبانہ قانون کو فوری واپس لے۔

    دوسری جانب ٹریفک پولیس نے سیاسی جماعت کی احتجاجی ریلی کے پیش نظر اور شہریوں کی آسانی کے لیے متبادل روٹ پلان تشکیل دیا ہے ڈی آئی جی ٹریفک احمد یار چوہان نے تمام زونل ایس پیز ٹریفک ، ڈی ایس پیز اور سیکشن افسران کو ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کی ہدایات جاری کردی ہیں ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی زحمت یا پریشانی سے بچنے کے لیے ٹریفک پولیس کی ہیلپ لائن 1915 پر کال کر کریں اور سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرسکتے ہیں۔

    چیئرمین ریڈ کریسنٹ ابرارالحق اپنی این جی او "سہارا” کےلیےفنڈریزنگ کرنے لگے

    ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق جیسے ہی ریلی کے شرکا کے شاہراہ فیصل پہنچتے ہی ایئر پورٹ جانے والی گاڑیوں کو کار ساز سے اسٹیڈیم کی جانب موڑ دیا جائے گا ریلی کے عوامی مرکز سے بلوچ کالونی پہنچتے ہی کار ساز سے آنے والے ٹریفک کو بلوچ کا لونی برج سے شہید ملت کی جانب موڑا جا ئے گا اور ٹریفک کو شاہراہ قائدین فلائی اوور ، ایف ٹی سی سے کالا پل اور ریجنٹ پلازہ سے جناح اسپتال کی جانب موڑا جائے گا۔

    ندیم افضل چن نے ایک اور”چن چڑھا دیا”کیا کہتے ہیں سُننا نہ بھولیئے

  • 3 سال سے تسلسل کے ساتھ سندھ کی گیس پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے

    3 سال سے تسلسل کے ساتھ سندھ کی گیس پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے

    محکمہ توانائی سندھ نے وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر کو خط لکھتے ہوئے کہا ہے کہ 3 سال سے تسلسل کے ساتھ سندھ کی گیس پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، وفاق کے پاس صلاحیت نہیں تو سوئی سدرن گیس کمپنی ہمارے حوالے کر دیں۔

    تفصیلات کے مطابق محکمہ توانائی سندھ نے وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر کو خط لکھ دیا، خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وفاق کے پاس صلاحیت نہیں تو سوئی سدرن گیس کمپنی ہمارے حوالے کر دیں۔

    خط میں کہا گیا کہ ہم گیس کی پیداوار اور درست تقسیم کر کے دکھا سکتے ہیں، صوبے کو گیس پیدا کرنے کے باوجود اس کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔

    خط کے مطابق گزشتہ 3 سال سے تسلسل کے ساتھ سندھ کی گیس پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، گیس کی بندش اور لو پریشر کے نتیجے میں کراچی کے مکین مشکلات کا شکار ہیں، شہری ملازمتوں اور بچے بھوکے اسکول جانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

    وفاق کو لکھے خط میں کہا گیا ہے کہ شہری لکڑی، کوئلے اور سلنڈر استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

    صوبائی وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ سندھ کی گیس کی ضرورت 750 اور فراہمی 560 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، آئین گیس پیدا کرنے والے صوبے کو استعمال کا ترجیحی حق دیتا ہے۔

  • ایس بی سی اے کو غیر قانونی تعمیرات کیخلاف عملی کارروائی کا حکم

    ایس بی سی اے کو غیر قانونی تعمیرات کیخلاف عملی کارروائی کا حکم

    سندھ ہائی کورٹ نے ایم پی آر کالونی میں غیر قانونی تعمیرات کیخلاف سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو عملی کارروائی کاحکم دیدیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں ایم پی آرکالونی بلوچ گوٹھ میں غیرقانونی تعمیرات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے ایس بی سی اے حکام کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور ایس بی سی اے کو غیر قانونی تعمیرات کیخلاف عملی کارروائی کا حکم دیتے ہوئے چھ ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی۔

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے ایس بی سی اے حکام سے استفسار کیا کہ اب تک غیر قانونی عمارت کو مسمار کیوں نہیں کیا گیا؟، جس پر وکیل ایس بی سی اے نے عدالت کو بتایا کہ عمارت کٹی پہاڑی کے اس طرف ہے، کارروائی میں صورتحال خراب ہوسکتی ہے، جسٹس حسن اظہررضوی نے کہا کہ کیاکٹی پہاڑی کراچی میں نہیں ہے؟، کارروائی مکمل کرکےرپورٹ پیش کریں۔

    عدالت نےسب رجسٹرار کو عمارت کی کسی بھی قسم کی رجسٹریشن سےروک دیا جبکہ کے الیکٹرک، ایس ایس جی سی اور واٹربورڈ کو بھی عمارت میں کسی بھی کنکشن کی فراہمی سے روک دیا، عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ جب تک ایس بی سی اے کمپلیشن سرٹیفکیٹ جاری نہ کرے، رجسٹریشن نہ کی جائے۔

    واضح رہے کہ ایس بی سی اے نے 5منزلہ غیرقانونی عمارت کی تعمیر سے متعلق رپورٹ جمع کرائی تھی، رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایم پی آرکالونی میں تعمیر عمارت کی کوئی منظوری نہیں لی گئی ، ایم پی آر کالونی کا علاقہ گوٹھ آباد اسکیم میں آتاہےجہاں ایسی تعمیرات کی اجازت نہیں ہے۔

    یاد رہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے ایس بی سی اے کو ایم پی آرکالونی میں غیرقانونی عمارت گرانے اور بلڈرکیخلاف کارروائی کا حکم دے رکھا ہے۔

  • وفاقی وزیر کے رشتےدار سے بھتہ خوری، دو ملزمان گرفتار

    وفاقی وزیر کے رشتےدار سے بھتہ خوری، دو ملزمان گرفتار

    درخشاں پولیس نےکلفٹن میں وفاقی وزیر کے رشتےدار کے گھر سے بھتہ طلب کرنے والے دو ملزمان کو گرفتار کرلیا، مذکورہ ملزمان سیکیورٹی گارڈ تھے۔

    اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شکایت ملنے پر ساؤتھ زون پولیس نے دو بھتہ خوروں کو گرفتار کیا ہےبھتے طلب کرنے میں ملوث سابق سیکیورٹی گارڈ سمیت 2 ملزمان گرفتار کیے گئے ہیں۔

    اے ایس پی درخشاں زبیر شیخ کے مطابق ملزمان کی جانب سے30 لاکھ روپے بھتہ طلب کیا گیا تھا، ملزمان نے اہل خانہ کوگل نامی ملازم کے ذریعے بھتہ بھجوانے کا کہا۔

    اے ایس پی رانا محمد دلاور کا کہنا ہے کہ سابق سیکیورٹی گارڈ ایاز نے ملزم گل کو واقعے کے اگلے روز کال کرکے معاملہ پوچھا، کالز پر ایاز مشکوک معلوم ہوا تو تفتیش شروع کی۔

    پولیس افسر کے مطابق ایاز کو کچھ ماہ قبل نوکری سے نکالا گیا تھا، ساتھی سیکیورٹی گارڈ رانا سجاد سے مل کر ایاز نے بھتے کا منصوبہ بنایا۔

    اے ایس پی نے مزید بتایا کہ گرفتار ملزمان نشے کےعادی ہیں پیسے نہ ہونے پر بھتہ طلب کیا، ملزمان نے بھتہ نہ دینے پر اہل خانہ کو جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی تھی۔

  • زیادہ غیرت مند تو پرویز خٹک نکلے، سعید غنی

    زیادہ غیرت مند تو پرویز خٹک نکلے، سعید غنی

    زیادہ غیرت مند تو پرویز خٹک نکلے، سعید غنی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی کے لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں گزشتہ 3ماہ سےحکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھارہی ہے

    سعید غنی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم والوں سے زیادہ غیرت مند تو پرویز خٹک نکلے جو اپنا صوبہ میں گیس نا ہونے پر بول پڑے، ان کراچی کے نام نہاد ٹھیکیداروں ایم کیوایم کو شرم نا آئی کے کراچی میں گیس نا ہونے پر بولتے، چینی،پیٹرول بحران اس حکومت نے پیدا کیے ،پرویزخٹک نے اجلاس میں ہمت توکی کہ ان کے علاقے میں گیس نہیں آرہی نیپرا نے جنوری کی بجلی بلوں میں اضافہ کیا،تیل سے بجلی بنائی جارہی جو مہنگی ثابت ہوتی ہے آپ کی فصلیں تباہ ہورہی ہیں اور گندم کی فصل متاثر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آٹے کا بحران ایک مرتبہ پھر پیدا ہوگا ایل این جی میں کرپشن ہوئی ،گیس بحران سب کے سامنے ہے، ایل این جی بروقت نہ منگوانے کی سزاعوام کوکیوں دی جارہی ہے؟ حکومتی نالائقی اورنااہلی کی سزاعوام کو دی جارہی ہے ،ادویات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے ،ملک میں گیس کابحران ہے،صنعتوں کوگیس نہیں مل رہی،

    سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ جب نیپرا نے اضافے کی منظوری دی تو دو ممبر نے اختلاف کیا، تیل سے بجلی مہنگی بنائی جا رہی جو مہنگی ہوتی اس میں میرا اور آپکا قصور کیا ہے، سزا پاکستان کے عوام کو کیوں دی جا رہی ہے، نالائقی، نااہلی وفاقی حکومت کی اور سزا پاکستان کے عوام کو دی جا رہی، پورے ملک میں کسانون‌کو کھاد نہیں مل رہی، فصلیں تباہ ہو رہی ہیں، نتیجہ نکلے گا کہ گندم کی فصل تباہ ہو گی اور پھر آٹے کا بحران پیدا ہو گا، چینی کا بحران پیدا ہوا، پٹرول کا بحران ہوا، یہ وہ ایشور ہیں جو عوام کے ایشو ہیں اور ہر آدمی اسکا سامنا کر رہا ہے، عوام کے حقوق کی بات کرنے والی جماعتیں خاموش ہیں، بجلی، گیس، یوریا، چینی، گندم بحران پر ایک لفظ بھی انکے منہ سے نہیں نکلا،

    سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ علی زیدی پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات کے انکشافات پر صفائی دیں پی ٹی آئی سیکریٹری اطلاعات نے کہا علی زیدی وزیر بننے کے بعد اربوں کا مالک بن گیا، علی زیدی فارن فنڈنگ کیس کی رپورٹ کا جواب دیں کھاد کی قلت اور دوائیں مہنگی کرنے والی نااہل اور نالائق حکومت کا چل چلاؤ ہے، عوام دشمن منی بجٹ منظور کرنے والی جماعتیں کس منہ عوام کی بات کررہی ہیں

    اسد عمر بتائیں کہ پاک پتن میں کس کی پرچی چلتی ہے؟ سعید غنی

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    اشتہاری ملزم کی درخواستیں کس قانون کے تحت سن سکتے ہیں،نواز شریف کے وکیل سے دلائل طلب

    نواز شریف کی جیل میں طبیعت کیوں خراب ہوئی تھی؟ نئی میڈیکل رپورٹ میں اہم انکشاف

    اشتہاری مجرم کی ضمانت منسوخی کی ضرورت ہے؟ نواز شریف کیس میں عدالت کے ریمارکس

    نواز شریف کو مفرور بھی ڈکلیئر کر دیں تو تب بھی اپیل تو سنی جائے گی،عدالت

    گرفتاری پہلے، مقدمہ بعد میں، مہذب ممالک میں کبھی ایسا دیکھا ہے؟ مریم نواز

    مریم نواز کا وکیل بھاگ گیا

    جاوید لطیف نوازشریف کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہیں،مریم نواز

    قائمہ کمیٹی اجلاس،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، رانا شمیم کے نہ آنے پرجاوید لطیف کا بڑا اعلان

    مشکل حالات، قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے، اپوزیشن کی حکومت کو پیشکش

    گو نیازی گو، شوکت ترین قوم کا غدار، قومی اسمبلی میں نعرے

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کا حشر خیبرپختونخوا سے بھی برا ہوگا،سعید غنی

    کراچی کا بچہ بچہ جانتا ہے ایم کیو ایم والے کتنے شریف ہیں،سعید غنی

  • گودام میں اسلحہ 5 فٹ گہرائی میں مدفون تھا، پولیس کا مؤقف

    گودام میں اسلحہ 5 فٹ گہرائی میں مدفون تھا، پولیس کا مؤقف

    کراچی پولیس نے لی مارکیٹ میں رہائشی عمارت کے بیسمنٹ میں واقع گودام سے مدفون جنگی ہتھیار برآمد کرنے کے بعد گودام سیل کردیا۔

    ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس نے خفیہ اطلاع پر ایس ایس پی سینٹرل ملک مرتضیٰ کے ہمراہ آپریشن کیا اور اولڈ سٹی ایریا لی مارکیٹ کے قریب رہائشی عمارت کے گودام میں 9 گھنٹے کھدائی کے بعد کئی سالوں پُرانے زنگ لگے ہتھیار برآمد کرلیے۔

    پولیس نے بیمسمنٹ میں واقع گودام سیل کردیا جب کہ گودام کے داخلی راستے پر پولیس اہلکار تعینات کردئیے گئے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ گودام کی پانچ فٹ تک کھدائی کی گئی، جس کے بعد اینٹی ائیر کرافٹ گن، ایل ایم جی، رائفلز اور دیگر اسلحہ برآمد ہوئیں، یہ اسلحہ جنگوں میں استعمال ہتھیاروں کی نوعیت کا ہے، ان ہتھیاروں سے جہاز ہیلی کاپٹر ٹینک یا عمارتوں کو اڑایا جاسکتا تھا۔

    ایس ایس پی سینٹرل کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والے جنگی ہتھیار زنگ آلود ہیں، اسلحے کی فرانزک کرائی جائے گی۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اسلحہ کہاں سے لایا گیا اور کب یہاں رکھا گیا تعین ہونا باقی ہے لیکن اس سے ملتا جلتا اسلحہ چند برس قبل عزیز آباد سے بھی برآمد ہوا تھا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ جس جگہ سے اسلحہ ملا اس علاقے میں گینگ وار اور سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز سرگرم تھے، ممکنہ طور پر 2013 کے بعد کراچی میں جاری آپریشن کے دوران اسلحہ یہاں چھپایا گیا تھا۔