Baaghi TV

Category: کراچی

  • شہرقائد میں چور 40 فٹ لمبی 8 ویلر کنٹینر بردار ٹرالی لے اڑے

    شہرقائد میں چور 40 فٹ لمبی 8 ویلر کنٹینر بردار ٹرالی لے اڑے

    کراچی: چور 40 فٹ لمبی 8 ویلر کنٹینر بردار ٹرالی لے اڑے، ٹرالی لے جانے کی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق شہر میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی چوری کے بعد نامعلوم ملزم کیماڑی نے 40 فٹ لمبی 8 ویلر ٹرالی جس پر کنٹینر رکھا جاتا ہے چوری کرلی، چوری کی اس انوکھی واردات کی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی-

    جیکسن پولیس نے چوری کا مقدمہ درج کرلیا تاہم مسروقہ ٹرالی تاحال برآمد نہیں کرائی جا سکی اس حوالے سے مدعی مقدمہ امجد علی نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ وہ ڈیفنس ویو فیز ٹو کا رہائشی اور ٹرانسپورٹ کا کاروبار کرتا ہے، ڈرائیوراشفاق نے مورخہ 6 نومبر کو دن پانچ بجے کے قریب میرے ٹرالر نمبر ٹی ایل اے 580 کی 8 وہیلر 40 فٹ لمبی ٹرالی شاہین یارڈ روڈ نزد کسٹم بونڈ گودام کیماڑی کی پارکنگ میں چوکیدار کی زیر نگرانی پارک کر کے فشری گودام گیراج چلا گیا۔

    مدعی نے بتایا کہ مورخہ 19 نومبر کو میری دوسری گاڑی کے ڈرائیور بخت زادہ نے مجھے بتایا کہ ٹرالی اپنی جگہ پر موجود نہیں ہے جس پر میں نے وہاں جا کر چوکیدار مبارک سے معلومات کی تو اس نے بتایا کہ وہ سمجھا کہ آپ لوگ خود لے کر گئے ہیں۔

    جیکسن پولیس نے 20 نومبر کو امجد علی کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 339 سال 2021 بجرم دفعہ 379 تعزات پاکستان کے تحت درج کر کے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا۔

  • عمران خان نے خواب دکھا کر چکنا چور کر دیئے : عفت عمر

    عمران خان نے خواب دکھا کر چکنا چور کر دیئے : عفت عمر

    کراچی : معروف پاکستانی اداکارہ عفت عمر نے حکومت سے شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے عوام کو خواب دکھا کر چکنا چور کردیئے۔

    عفت عمر نے نجی ٹی وی کے ایک شو میں سیاست کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں ضیاء الحق کے دور میں پلی بڑھی اور پھر پرویز مشرف کا دور بھی دیکھا لیکن اتنے برے حلات نہیں تھے جتنے اب ہوگئے ہیں‘۔

    انہوں نے کہا کہ ’وہ دونوں دور عمران خان کے دور کے مقابلے میں بہت بہتر تھے، اس وقت معاشی صورتحال اتنی خراب نہیں تھی جتنی اب ہوگئی ہے‘۔عفت عمر نے کہا کہ عمران خان نے جھوٹ بولا، انہوں نے عوام کو خواب دکھائے اور پھر سب چکنا چور کردیئے‘۔انہوں نے کہا کہ وہ کبھی بھی سیاست دان نہیں بنیں گی، چاہے انہیں اس حوالے سے پیشکش بھی کی جائے کیونکہ سیاست دان کوبہت زیادہ جھوٹ بولنے پڑتے ہیں اور وہ ایسا نہیں کر سکتیں ۔

  • خدشہ ہے کہ آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں پیٹرول 170 روپے لیٹر نہ ہوجائے : سعید غنی کا الزام

    خدشہ ہے کہ آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں پیٹرول 170 روپے لیٹر نہ ہوجائے : سعید غنی کا الزام

    کراچی : خدشہ ہے کہ آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں پیٹرول 170 روپے لیٹر نہ ہوجائے ۔ پیپلزپارٹی کے صوبائی وزیر سعید غنی کا الزام

    تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں پٹرول پمپس کی بندش کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران پر پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سندھ کے وزیر سعید غنی کی جانب سے ردعمل دیا گیا ہے۔ جمعرات کے روز میڈیا سے گفتگو کے دوران سعید غنی نے کہا کہ خدشہ ہے کہ آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں پیٹرول 170 روپے لیٹر نہ ہوجائے۔
    صوبائی وزیر نے الزام عائد کیا کہ موجودہ پیٹرول بحران اسی سلسلے کی کڑی نظر آرہا ہے جو کچھ ماہ قبل پٹرول کی راتوں رات اوگرا کی منظوری کے بغیر 25 روپے لیٹر قیمت بڑھا کر کیا گیا تھا، جس میں ان نالائق اور نااہل حکومت کے اے ٹی ایمز نے راتوں رات اس ملک کے عوام کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگایا تھا۔
    سعید غنی نے کہا کہ کاش صوبوں کو پیٹرول سمیت دیگر کی قیمتوں کے تعین کا اختیار ہوتا تو شاید صوبے اس مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتے۔

    یہاں واضح رہے کہ جمعرات کے روز پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کے باعث کئی علاقوں میں پٹرول بلیک میں فروخت ہونے کا انکشاف ہوا۔ پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال تاحال جاری ہے جس کے باعث ملک بھر میں اکثریتی پٹرول پمپس بند ہیں۔ اس صورتحال میں شہریوں کو ایک ہی بجائے 2 پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک جانب شہریوں کو پٹرولیم مصنوعات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے، تو دوسری جانب پٹرول پمپس کی بندش کے دوران ناجائز منافع خور بھی سرگرم ہو گئے ہیں۔
    نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق پٹرول پمپس کی بندش کی صورتحال کا ناجائز منافع خور بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں، پٹرول بلیک میں 300 روپے فی لیٹر کی قیمت میں فروخت ہونے لگا ہے۔ واضح رہے کہ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کردیا، سیکریٹری اطلاعات ایسوسی ایشن نعمان علی بٹ کا کہنا ہے کہ حکومت نے تاحال مذاکرات کیلئے کوئی رابطہ نہیں کیا، حکومت کی زبانی یقین دہانیوں پر مزید بھروسہ مذاق ہوگا، پیٹرول پمپس کی بندش مارجن میں اضافے تک جاری رہے گی۔
    نجی ٹی وی ہم نیوز کے مطابق انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن ملک بھر میں ہڑتال جاری رکھے گی۔ حکومت کی جانب سے تاحال مذاکرات کیلئے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، حکومت کی زبانی یقین دہانیوں پر مزید بھروسہ مذاق ہوگا۔ سیکریٹری اطلاعات ایسوسی ایشن نے کہا کہ ملک بھر میں پیٹرول پمپس کی بندش مارجن میں اضافے تک جاری رہے گی، حکومت کی جانب سے سمری ارسال کرنے کا وعدہ 3 نومبر کو کیا گیا تھا۔
    نعمان علی بٹ نے کہا کہ حکومت پیٹرول پمپس پر تیل کی فراہمی جاری رکھنے کا جھوٹا دعویٰ کر رہی ہے، ایسوسی ایشن میں شامل تمام پیٹرول پمپس پر تیل کی فراہمی بند ہے۔دوسری جانب پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے ملگ گیر ہڑتال کے اعلان کے باعث پیٹرول پمپس پر طلب میں اضافے کے باعث پیٹرول اور ڈیزل ختم ہوگیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، عوام پیٹرول کی تلاش میں رل گئے۔
    پبلک ٹرانسپورٹرز نے بھی من مانے کرائے وصول کئے۔ واضح رہے ملک بھر میں تقریبا 9 ہزار 500 پیٹرول پمپس ہیں۔ پی ایس او آئل بزنس کا 70 فیصد ہے۔ پی ایس او کے کم و بیش تمام پمپس کھلے ہیں۔ گوکے 1000، شیل، ٹوٹل اور حسکول کے بھی پیٹرول پمپس کھلے ہیں۔ پاکستان آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کی فیول سپلائی بھی جاری ہے۔ پیٹرول پمپس پر گاڑیوں کا رش برقرار ہے۔ منافع کی شرح بڑھوانے کیلئے پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن ہڑتال پر قائم ہے۔

  • شہر قائد میں پیٹرول نایاب ہو گیا شہری پریشان

    شہر قائد میں پیٹرول نایاب ہو گیا شہری پریشان

    کراچی : شہر قائد میں پیٹرول نایاب ہوگیا شہری پریشان

    تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں پیٹرول پمپ مافیاز نے مکمل طور پر پیٹرول پمپ بند کردیئے ۔ جس کی وجہ سے لوگ شاہراہوں پر پیدل چلنے پر مجبور نظر آ رہے ہیں ۔

    ایک اور اہم خبر پیٹرول پمپ مافیاز کا بلیک میں پیٹرول فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے ۔ پمپ مافیاز پیٹرول کا اسٹاک ہوتے ہوئے شہریوں کو پریشان کر رہے ہیں ۔

    شہر قائد سے رپوٹ کر تے ہوئے نجی چینل کے کے سینئر صحافی ارشاد عباسی نے کہا کہ کراچی کی عوام کے ساتھ کب تک ظلم ہوتا رہے گا ۔ عوام نے تبدیلی سرکار سمیت سندھ گورنمنٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ عوام کا کہنا تھا مہنگائی کی ماری عوام کے ساتھ ظلم کی انتہاء ہوچکی ہے ۔ ہر چیز عوام کی پہنچ سے دور کردی گئی ہے ۔ مہنگائی کے طوفان نے عام شہری کی کمر توڑ رکھی ہے ۔ اب پیٹرول پمپ مافیاز نے آفس جانے کے لیئے پیٹرول کو نایاب کردیا ۔

    عوام کا کہنا تھا پیٹرول پمپ مافیاز کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے اور پیٹرول پمپ کے اوپر سیکورٹی کھڑی کرکے عوام کو آسانی فراہم کی جائے اور جو پیٹرول پمپ عوام کو بلیک میں پیٹرول فروخت کررہی ہے انکے پمپ کو سیل کیا جائے ۔

  • پیپلزپارٹی فلاحی پروگرام کے حوالے سے اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    پیپلزپارٹی فلاحی پروگرام کے حوالے سے اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی : وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی فلاحی پروگرام کے حوالے سے اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے۔حاملہ خواتین کی خوراک، فوڈ سپلیمنٹ کو ممکن بنایا جائیگا۔تین سال تک ہم حاملہ خواتین کی کیئر کرینگے۔بچے کی گروتھ کو پراپر بنایا جائیگا۔ڈاکٹرز کی کمی کو دور کیا جائیگا۔
    یہ بات انہوں نے بدھ کو وزیراعلی ہاؤس میں سی ایم سیکریریٹ کی جانب سے شروع کئے گئے "سوشل پروٹیکشن اسٹریٹیجی یونٹ” کے تحت منعقدہ مدر اینڈ چائلڈ سپورٹ پروگرام کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ پروگرام میں وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی اور مختلف محکموں کے اعلی افسران نے شرکت کی۔
    انہوں نے کہا کہ آج کا یہ ایونٹ بہت اہم ہے۔
    سوشل پروٹیکشن یونٹ کے حوالے سے ہمارے کیا مقاصد ہیں اس بارے میں بتایا جا چکا ہے۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ آج چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اس پروگرام کا باضابطہ افتتاح کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی فلاحی پروگرام کے حوالے سے اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے۔بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام سے لیکر دیگر پروگرام اسکی مثالیں ہیں اوریہ ہمارے الیکشن منشور کا حصہ تھا۔
    انہوں نے کہا کہ صوبے کے لوگوں نے جب دوبارہ ہمیں منتخب کیا تو ہم نے اپنے منشور پر کام شروع کیا اور کرنا بھی تھا۔2019 اور 2020 کے دوران صوبے میں فلڈ اور کورونا کی صورتحال سے مسائل پیدا ہوئے ۔کہیں زلزلہ اور سیلاب آتا ہے تو ہمارے پاس پراپر ڈیٹا موجود نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس پر کام شروع کیا اور سوشل رجسٹری کی۔ مردوں کو تو رجسٹرڈ کرلیا جاتا تھا مگر خواتین سے متعلق یہ مشکل ٹاسک ہوتا تھا ہم نے اسکو ممکن بنایا۔
    انہوں نے کہا کہ حمل سے لیکر بچے کی پیدائش تک ہمیں اس کو لیکر چلنا ہے کہ بچے کو کس قسم کی خوراک اور ادویات کی ضرورت ہوگی۔حاملہ خواتین کی خوراک، فوڈ سپلیمنٹ کو ممکن بنایا جائیگا۔تین سال تک ہم حاملہ خواتین کی کیئر کرینگے۔بچے کی گروتھ کو پراپر بنایا جائیگا۔ڈاکٹرز کی کمی کو دور کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کو ابتدائی طور پر دو اضلاع اور اگلے دو سال تک پورے صوبے میں پھیلایا جائیگا۔
    اس کے علاوہ دیگر پروگرامز بھی ہیں جن پر ہم کام کررہے ہیں۔انشااللہ اس پروگرام کو ملک کے دیگر حصوں تک لے جانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فوڈ سیکورٹی، بے زمین ہاری، سمیت کئی پروگرامز پر کام جاری ہے۔ہمارا الیکشن منشور پورے ملک کیلئے تھا۔بدقسمتی سے ہم پورے ملک میں نہیں آسکے۔انہوں نے کہا کہ وفاق اپنی ہر خامی کا الزام ہم ڈال دیتے ہیں۔
    مہنگائی پورے ملک میں ہے اور انہوں نے صوبہ سندھ کو ٹارگٹ بنارکھا ہے ۔یہ آٹے چینی، دال گھی چار اشیا پر سبسڈی کی بات کرتے ہیں مگر عوام کی حالت ابتر ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کے پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پروگرام میں رجسٹر ہونے کے لئے اسمارٹ فون ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔مجھے سمجھ نہیں آئی کہ پہلے غریب آدمی اسمارٹ فون کہاں سے لائیگا لگتا ہے پہلے یہ اسمارٹ فون کی فروخت بڑھانا چاہتے ہیں۔
    وہ کہتے ہیں آٹے پر 20روپے مثال کے طور پر سبسڈی دینگے۔اس پر ایشوز آئینگے پھر وہ کیسے اس پروگرام کو مینج کرینگے۔اس پروگرام میں بدعنوانی کا عنصر ہوسکتا ہے۔ہم نے انہیں کیش پروگرام شروع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔رجسٹرڈ افراد اپنی مرضی سے خریداری کرسکیں گے یا اپنے بچوں کی فیس دے سکیں گے۔بے نظیر پروگرام اسکی بہترین مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ نام بدل بھی لیں مگر پھر بھی لوگوں کی دلوں سے بے نظیر بھٹو کی محبت کو مٹا نہیں سکتے۔
    کل الزام دید یا کہ سندھ سے 16لاکھ میٹرک ٹن گندم چوری ہوگئی۔انھوں نے کہا کہ اتنی تو ہم نے ذخیرہ بھی نہیں کی تھی ۔16 لاکھ تو کیا سولہ کلو بھی چوری نہیں ہوئی۔پرائیویٹ ملاقاتوں میں انکے لوگ کیا کہتے ہیں وہ میں کوٹ نہیں کرونگا۔انہوں نے کہا کہ یہ اسلام آباد میں غلط طریقے سے سلیکٹ ہوکر بیٹھا ہے۔وفاق میں جو لوگ جس طرح بھی آئے وہ عوام کا سوچیں تو بہتر ہے۔
    وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت وہ واحد حکومت ہے جس نے حالات کو دیکھ کرملازمین کی کم از کم تنخواہ پچیس ہزار کی۔ہمیں علم نہیں تھا کہ یہ ملک کی یہ حالت کردینگے۔ہمیں اپنی قیادت کی طرف سے ہدایت ہے کہ غریب کا خیال رکھیں۔انہوں نے کہا کہ کم از کم اجرت 25 ہزار نہیں رہے گی بلکہ یہ بڑھے گی۔وفاقی حکومت بھی اس طرف دھیان دے ۔وزیراعلی سندھ نے تقریب میں پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے تشکر کا اظہار کیا۔
    وزیراعلی سندھ نے کہا کہ یہ پائلٹ پروجیکٹ پہلے مرحلے میں تھرپارکر اور عمرکوٹ اضلاع میں شروع کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کو دیگر اضلاع میں بھی شروع کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ پروجیکٹ عالمی ادرہ صحت کے عین اصولوں کے تحت شروع کیا جارہا ہے۔ یہ سہولیات ماں اور بچے کیلئے ہونگی۔انہوں نے کہا کہ دوران حمل ماں کا مفت چیک اپ کے ساتھ 1000 روپیہ وظیفہ بھی دیا جائیگا۔
    یہ پروگرام بچوں کی نشو نما اور ماں کی صحت کیلئے شروع کیا گیا ہے۔ پاکستان میں "Stunting” بچوں کا قد نہ بڑھنے کی شرح 38 فیصد ہے۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ایک لاکھ ماں میں سے دوران زچگی 189 مائیں انتقال کرجاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان مسائل کو حل کرنے کیلئے ماں اور بچوں کیلئے سپورٹ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔ زچگی کے شروع کے دنوں سے لیکر بچوں کی نشونما تک مکمل سہولیات دی جائینگی۔
    ماں کے ہر چیک اپ پر ان کو 1000 روپیہ وظیفہ دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام بچے کی پیدائش سے پہلے کا چیک اپ، پیدائش، بچے کی نشونما اوربچے کی ویکسی نیشن تک جاری رہے گا۔ یہ پروگرام بچے کی نشو نما سے لیکر 2 سال کی عمر تک جاری رہے گا۔ حاملہ خواتین کو فوری طور پر اپنے صحت کے مراکز پر جانا ہوگا۔ ماں کی رجسٹریشن کیلئے ایم آئی ایس سسٹم کی اپلیکیشن متعارف کرائی گئی ہے۔ اس ایپلی کیشن کے ذریعہ حاملہ خاتوں کا مکمل طور پر کمپیوٹرائیز ریکارڈ بنتا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس ایپلی کیشن کے ذریعے حاملہ خاتوں کو جاز کیش کے ذریعہ 1000 روپیہ ہر وزٹ پر فراہم کیا جائے گا ۔

  • کراچی والوں کو نئے سال کا تحفہ نہیں ملے گا

    کراچی والوں کو نئے سال کا تحفہ نہیں ملے گا

    کراچی والوں کو نئے سال کا تحفہ نہیں ملے گا، شہر قائد کا سب سے پہلا جدید ماس ٹرانزٹ منصوبہ گرین لائن مزید تاخیر کا شکار ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق 2 ہفتے قبل اعلان کیا گیا تھا کہ دنیا کے سب سے تباہ حال پبلک ٹرانسپورٹ نظام والے شہر کراچی کے پہلے اور جدید ماس ٹرانزٹ منصوبے کو آپریشنل کرنے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
    دعویٰ کیا گیا کہ وزیراعظم عمران خان رواں ماہ کراچی گرین لائن بس منصوبے کا افتتاح کر دیں گے، اس حوالے سے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے وزیراعظم کو خصوصی بریفنگ بھی دی۔ تاہم اب نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کے دوران گرین لائن منصوبے کے افتتاح کے امکانات نظر نہیں آ رہے۔ گرین لائن ٹریک پر تعمیر شدہ کئی اسٹیشنز کی حالت انتہائی خراب ہے، جہاں سے قیمتی الیکٹرانک اور دیگر سامان چوری کیا جا چکا۔

    وفاقی وزراء گرین لائن منصوبے کے افتتاح کی کئی تاریخیں دے چکے، تاہم تاحال منصوبہ آپریشنل نہیں ہو سکا۔ یاد رہے کہ کراچی گرین لائن بس منصوبے کیلئے 80 جدید بسیں کراچی پہنچ چکی ہیں۔ منصوبے کیلئے چین میں تیار کی جانے والی جدید بسیں 2 علیحدہ شپ منٹس کے ذریعے کراچی پہنچائی گئیں۔ حکام کے مطابق پہلے فیز میں گرین لائن بسیں سرجانی ٹائون سے نمائش چورنگی(گرومندر)تک چلائی جائیں گی، جہاں اب تک ٹریک مکمل ہوچکا ہے۔
    واضح رہے کہ یہ منصوبہ 2016 میں شروع ہوا تھا۔ کراچی گرین لائن منصوبے کے لیے بسیں فراہم کرنے والی کمپنی کے مطابق کراچی کی بسیں لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں چلنے والی بسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ جدید ہیں، یہ بسیں یورو تھری معیار کی اور ہائبرڈ ہیں ، ان میں ڈیزل کے ساتھ خودکار طریقے سے چارج ہونے والی بیٹری بھی استعمال ہوگی جس سے ایندھن کی بچت کے ساتھ ماحول کو بھی فائدہ ہوگا۔
    بسوں میں خصوصی سسٹم نصب ہے جو انجن میں آگ لگنے کی صورت میں خودکار طریقے سے آگ بجھائے گا۔18 میٹر لمبی بسوں میں 40 نشستیں ہیں۔ کھڑے ہوکر اور نشستوں پر بیک وقت 150 افراد سفر کرسکیں گے، زیادہ رش کی صورت میں 190 مسافروں کی گنجائش ہوگی۔ بسوں میں معذور افراد کے لیے جگہ خصوصی ہے اور خودکار ریمپ نصب ہے۔ ہر بس میں دو وہیل چیئرز کی جگہ مخصوص ہے۔ بسوں میں خواتین اور معذور افراد کیلئے مخصوص نشستیں ہوں گی۔ کراچی گرین لائن ٹرانسپورٹ منصوبے کے لیے بنائی گئیں ہائبرڈ بسیں چین میں تیار کی گئی ہیں۔کراچی کی روائتی لوکل بسوں کی نسبت یہ بسیں لمبی اور مکمل ایئرکنڈیشنڈ ہوں گی۔ ہر بس میں 200 سے 250 افراد کے سفر کرنے گنجائش موجود ہے۔

  • ملک بھر میں پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال ناکام ہونے کا خدشہ.

    ملک بھر میں پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال ناکام ہونے کا خدشہ.

    ‏کراچی : ملک بھر میں پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال ناکام ہونے کا خدشہ.

    ذرائع کے مطابق ملک بھر میں پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال ناکام بنانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔
    آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کردیا.
    آئل ٹینکرز کی لاتعلقی سے 80 فیصد پیٹرول پمپ کھلیں رہیں گے۔
    صدر آئل ٹینکرز میر شمس شہوانی نے کہا ہے کہ 26 ہزار آئل ٹینکرز ملک بھر میں سپلائی جاری رکھیں گے.

  • فاروق ستار سے ملاقات اتفاقیہ نہیں تھی کراچی ان سے ہی ملنے آئی تھی : حریم شاہ

    فاروق ستار سے ملاقات اتفاقیہ نہیں تھی کراچی ان سے ہی ملنے آئی تھی : حریم شاہ

    کراچی : ٹک ٹاکر حریم شاہ نے کہاہے کہ ایم کیو ایم بحالی کمیٹی کے سربراہ فاروق ستار سے ملنا حادثاتی نہیں تھا وہ ان ہی سے ملنے کراچی آئیں تھیں۔

    حریم شاہ کے انسٹاگرام اکائونٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں وہ یوٹیوب کے مشہور شو میں اس بات کا دعوی کر رہی ہیں کہ وہ کراچی فاروق ستار سے ہی ملنے آئی تھیں، تاہم اس سے پہلے فاروق ستار بھی اس شو میں مہمان بن چکے ہیں۔

    ان سے بھی میزبان نے یہی سوال کیا، جس پر انہوں نے کہاکہ ان کی حریم شاہ سے ملاقات اتفاقیہ طور پر ہوئی۔اس ویڈیو کی کیپشن فاروق ستار ورسز حریم شاہ دیا گیا ہے

    ۔نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے حریم شاہ نے کہا کہ وہ جس سے دوستی کرتی ہیں اسے نبھاتی ہیں، فاروق ستار نے غلط بیانی کی ہے ان کی سابق ایم کیو ایم رہنما سے ملاقات ہوٹل میں باقائدہ پلینڈ تھی۔انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد ہوٹل میں پہلی ملاقات میں فاروق ستار نے نمبر دیا ، دوسری ملاقات لاہور میں ہوئی اس کے بعد 6 ماہ تک وہ فاروق ستار سے رابطے میں رہیں اور پھر کراچی آئیں جس کی ویڈیوز بھی وائرل ہوئیں۔

  • پیپلز پارٹی کی حکومت ہمیشہ عام آدمی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے : بلاول بھٹو زرداری

    پیپلز پارٹی کی حکومت ہمیشہ عام آدمی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے : بلاول بھٹو زرداری

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومتِ سندھ کی جانب سے ماں و بچے کو دوران حمل، دوران زچگی اور پیدائش کے بعد علاج و معالجے کی مفت سہولیات اور وظیفے کے اجرا کے پروگرام کو صوبے میں صحتِ عامہ کے لیئے ایک تاریخی اقدام اور انقلابی منصوبہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہمیشہ عام آدمی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔
    سندھ حکومت کے سوشل پروٹیکشن اسٹریٹجی یونٹ کے تحت ماں اور بچے کو دوران حمل، دوران زچگی اور پیدائش کے بعد علاج و معالجے کی مفت سہولیات اور وظیفے کے اجرا کے حوالے سے امدادی پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ غریب عوام کی خدمت کرنا ہی پاکستان پیپلز پارٹی کا منشور ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ہم یہ وعدہ نہیں کرتے کہ اگر پی پی پی کی حکومت ہوگی تو ہمیشہ اچھا وقت ہوگا، لیکن ہم یہ وعدہ کرتے ہیں کہ اگر عوام تکلیف میں ہوگی، تو ہم دن رات کام کرکے اس تکلیف کا حل نکالیں گے۔

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی جماعت کی تاریخ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ عوام کی بہبود و ترقی کے لیئے کام کیا ہے۔ قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کا لینڈ ریفارم پروگرام ملک کا بہت بڑا معاشی انقلاب تھا۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے دور حکومت لیڈی ہیلتھ ورکز(ایل ایچ ڈبلیو)جیسے انقلابی پروگرام پر ملک کے اندر اور باہر سے بہت تنقید کی گئی۔
    لیکن اس پروگرام کے آغاز کے بعد بنگلادیش، بھارت اور دیگر ممالک نے بھی اس کی تقلید کی اور یہ منصوبہ ان کے لیئے بھی کامیاب ثابت ہوا۔ پی پی پی کی سابقہ حکومت کے دوران جب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام(بی آئی ایس پی)کا آغاز کیا جا رہا تھا، تو اس کی بھی مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ اس پروگرام کے ذریعے فقیر پیدا کیئے جارہے ہیں۔ لیکن سابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ایک عزم کے ساتھ، اِس پروگرام کو عوامی حکومت کے پہلے سال سے شروع کرنے کو یقینی بنایا۔
    انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کے ذریعے پاکستان کی غریب خواتین کو اس وقت مالی معاونت ملی، جب پوری دنیا میں معاشی بحران تھا۔ عالمی بحران کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے تھے، لیکن ہم نے عوام کو اکیلا نہیں چھوڑا۔ پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت غریب خواتین کی معاونت اس وسیع منصوبے کا ایک جز تھا۔
    وسیلہ روزگار، وسیلہ صحت، اور وسیلہ تعلیم بھی اس پروگرام کے دیگر اجزا میں شامل تھے۔ یہ درحقیقت شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا منشور تھا، جسے پی پی پی کی مخالفین حکومتیں چاہتے ہوئے بھی ختم نہیں کرسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں غربت کا پہلا سروے پی پی پی کے گذشتہ دورِ حکومت میں کیا گیا تھا اور اس وقت ملک میں جو واحد سوشل سکیورٹی کا پروگرام موجود ہے، وہ پی پی پی حکومت کا بنایا ہوا ہے۔
    بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ حکومتِ سندھ کا ایک اور مثالی منصوبہ پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام ہے، جس کے تحت غریب خواتین کو کاروبار کے آغاز کے لیئے بے سود قرضے فراہم کیئے جاتے ہیں۔ اس پروگرام سے تاحال 13 لاکھ خواتین مستفید ہوچکی ہیں، اور وہ اب اپنے خاندانوں کی معاشی استحکام کو یقینی بنا رہی ہیں۔ انہوں نے نشان دہی کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ پروگرام کی رکوری کا تناسب 99 فیصد ہے، اور اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ بلاسود قرضہ حاصل کرنے والی خواتین کا کاروبار کامیابی سے چل رہا ہے۔
    اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سندھ کی خواتین ایک چھوٹی سے مدد پر پوری معیشت میں انقلاب لاسکتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ چند سال قبل نولومود اور چھوٹے بچوں کی شرح اموات کے معاملے پر بہت تنقید کی جاتی تھی، لیکن یو ایس ایڈ اور اس طرح کے دیگر اداروں کے اعداد شمار اب سندھ میں ایک بہتر صورتحال پیش کر رہے ہیں۔ سال 2013 سے سال 2018 کے دوران پنجاب میں نومولود بچوں میں شرحِ اموات 19 فیصد تھی۔
    اسی عرصے کے دوران خیبر پختونخواہ میں 2 فیصد اضافہ، جبکہ سندھ میں 30 فیصد کمی ہوئی ہے۔ سال 2013ع سے 2018ع تک کے عرصے میں پنجاب میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں شرح اموات 17 فیصد کم ہوا، اور خیبر پختونخواہ میں 7 فیصد، جبکہ سندھ میں 19 فیصد کمی آئی ہے۔ ان اعداد و شمار سے واضح ہے کہ صوبہ سندھ میں پی پی پی حکومت نے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہتر کام کیا ہے، لیکن ہمارے لیئے یہ اب بھی کافی نہیں ہے۔
    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 2018ع کے بعد ملک میں معاشی بحران ہے، اور مہنگائی میں بھی بہت اضافہ ہوا ہے۔ غربت اور مہنگائی کا سب سے زیادہ نقصان دیہی میں ہوتا ہے۔ اس بحران کی وجہ سے ماں اور بچے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ حکومت سندھ کے نئے پروگرام پر بات کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ اس پروگرام کے تحت ماں اور بچہ کی صحت پر توجہ مرکوز کیا جائے گا۔
    یہ پروگرام بچے کے پہلے ایک ہزار دنوں پر فوکس کرے گا، اور پہلا دن ماں کے حاملہ ہونے سے شروع ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حاملہ ماں کو اسپتال میں معمول کے مطابق چیک اپ کرانے پر 1000 روپے، جبکہ صحت مرکز میں بچے کی پیدائش پر 4000 روپے مالی معاونت کے طور پر دیئے جائیں گے۔ اس طرح سے بچے اور ماں کی صحت کے لیئے تمام ضروری اقدام کو یقینی بنایا جائے گا۔
    انہوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام کے تحت ہر ماں اور بچہ پر 20000 ہزار روپے خرچ ہوں گے۔ یہ پروگرام پہلے مرحلے میں دو اضلاع تھرپارکر اور عمرکوٹ میں شروع کیا جائے گا، اور آئںدہ دو سال کے دوران اس منصوبے کو سندھ بھر میں توسیع دی جائے گی۔ اس منصوبے کے تحت 10 لاکھ خواتین مائیں مستفید ہوں گی۔ اس موقع پر وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، وزیرِصحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو اور دیگر وزرا، مشیران، ارکان اسمبلی اور پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔

  • سندھ میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس میں 9 لاکھ کی کمی

    سندھ میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس میں 9 لاکھ کی کمی

    کراچی: الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن میں بڑی پیشرفت، سندھ حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس میں بڑی کمی کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس 10 لاکھ 80 ہزار روپے سے کم کرکے 1 لاکھ 6 ہزار روپے کردی ہے۔ رجسٹریشن فیس میں ہونے والی بڑی کمی سے سندھ میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن میں اضافہ ہوگا۔

    سندھ کے وزیر ایکسائز مکیش کمار چاولہ کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس 10لاکھ 80 ہزار روپے تھی تاہم سندھ کابینہ کی منظوری کےبعد الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس میں ریکارڈ کمی کردی گئی ہے۔
    مکیش چاولہ کے مطابق سندھ میں تاحال 11 الیکٹرک گاڑیاں رجسٹرڈ ہوچکی ہیں جب کہ 1490 گاڑیوں کی رجسٹریشن کی درخواست صوبائی محکمہ ایکسائز کے پاس جمع ہوچکی ہے۔