Baaghi TV

Category: کراچی

  • پیپلزپارٹی صوبوں کو دیے گئے اختیارات کبھی واپس نہیں لے سکتی، شازیہ مری

    پیپلزپارٹی صوبوں کو دیے گئے اختیارات کبھی واپس نہیں لے سکتی، شازیہ مری

    پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی سیکرٹری اطلاعات شازیہ مری کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی صوبوں کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے، ایسے کسی پروپوزل کی حمایت نہیں کرسکتے جس سے صوبوں کے اختیارات واپس لیے جائیں۔

    شازیہ مری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی صوبوں کو دیے گئے اختیارات کبھی واپس نہیں لے سکتی، ایسے کسی پروپوزل کی حمایت نہیں کرسکتے جس سے صوبوں کے اختیارات واپس لیےجائیں، اگر آئینی ترمیم میں ایسی کوئی چیز ہےجس سے نظام میں بہتری آسکتی ہے تو سپورٹ کریں گے،اگر ترمیم میں ایسی کوئی چیز ہے جس سے لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے میں بہتری آسکتی ہے توسپورٹ کریں گے لیکن ایسے کسی پروپوزل کی حمایت نہیں کرسکتے جس سے صوبوں کے اختیارات واپس لیے جائیں، اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی حصے پر ہمارا مؤقف واضح ہے ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، 18 ویں ترمیم کا رول بیک تو ممکن ہی نہیں، اگر پیپلزپارٹی کی سپورٹ چاہتے ہیں تو اس طرح کی کسی بات میں پیپلزپارٹی شراکت داری نہیں کرسکتی۔

  • کوشش ہے دسمبر تک ای وی ٹیکسی سروس شروع کر دی جائے،شرجیل میمن

    کوشش ہے دسمبر تک ای وی ٹیکسی سروس شروع کر دی جائے،شرجیل میمن

    سندھ حکومت کی جانب سے شہری سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک اہم ترین فیصلہ کیا گیا ہے

    سندھ حکومت کی جانب سے پیپلز بس سروس اور ای وی ٹیکسی سروس کے ان ڈور اور آئؤٹ ڈور کیمراؤں کو سیف سٹی نیٹ ورک سے منسلک کرنے کا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے، سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ پیپلز بس سروس اور ای وی ٹیکسی سروس میں نصب انٹیلی جنٹ ٹرانسپورٹ سسٹم (ITS) کو سیف سٹی پروجیکٹ سے جوڑا جائے گا،فیصلے کا مقصد عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام کو محفوظ بنانا ، شہری علاقوں میں سکیورٹی کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے، کیمروں کے انضمام کے بعد کراچی سمیت دیگر بڑے شہروں میں ٹریفک مینجمنٹ، سیکیورٹی مانیٹرنگ، اور عوامی تحفظ کے اقدامات میں نمایاں بہتری آئے گی، حکومت سندھ دسمبر میں جدید ای وی ٹیکسی سروس کے آغاز کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے،کراچی سمیت سندھ کے شہریوں کو سستی، محفوظ اور ماحول دوست سفری سہولت حاصل ہوگی،

    کراچی میں سرمایہ کاروں کے ایک وفد کی سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن سے ملاقات ہوئی،ملاقات میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی منیجنگ ڈائریکٹر کنول نظام بھٹو سمیت دیگر حکام بھی شریک تھے،نجی سرمایہ کاروں نے ای وی ٹیکسی منصوبے کے ڈھانچے، چارجنگ اسٹیشنز کے قیام اور آپریٹنگ ماڈلز سے متعلق تجاویز پیش کیں،شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ، خصوصاً کراچی جیسے بڑے شہر میں جدید سفری نظام کی اشد ضرورت ہے، حکومت سندھ چاہتی ہے کہ دسمبر تک ای وی ٹیکسی سروس شروع کر دی جائے تاکہ شہریوں کو روایتی ٹرانسپورٹ کے مقابلے میں ایک بہتر اور جدید متبادل فراہم کیا جا سکے،ای وی ٹیکسی سروس سے شہریوں کو کم کرایوں میں آرام دہ سفر میسر آئے گا ،ای وی ٹیکسی سروس سرمایہ کاروں کے لیے یہ منصوبہ ایک پرکشش موقع ثابت ہوگا،ابتدائی مرحلے میں یہ سروس کراچی میں شروع کی جائے گی، بعد ازاں دیگر بڑے شہروں تک اس کا دائرہ بڑھایا جائے گا، حکومت خواتین کے لیے پنک ای وی ٹیکسی سروس بھی متعارف کروا رہی ہے، جس سے خواتین مسافروں کو محفوظ اور آرام دہ سفری سہولت فراہم کی جائے گی، سروس کی کارکردگی، شفافیت اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے ای وی ٹیکسی سروس میں انٹیلی جنٹ (ITS) سمیت جدید ٹیکنالوجی اور مانیٹرنگ سسٹم شامل ہوں گے،سندھ حکومت پائیدار ٹرانسپورٹ کے فروغ اور ماحولیاتی بہتری کے لیے نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کو اہم سمجھتی ہے، ای وی ٹیکسی سروس کا منصوبہ نہ صرف عوامی سہولت بلکہ صوبے کی معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا،

  • ہمیں علم ہونا چاہیے کہ بچے کہاں جارہے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    ہمیں علم ہونا چاہیے کہ بچے کہاں جارہے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    سندھ حکومت کا انقلابی تعلیمی اقدام، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ اسکول ایجوکیشن کے SELECT پروجیکٹ کا افتتاح کر دیا

    افتتاحی تقریب کراچی کے مقامی ہوٹل میں منعقد کی گئی ،پروگرام میں وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ، ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر Bolormaa Amgaabazar s, سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی و دیگر شریک ہوئے،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سلیکٹ (SELECT) سندھ میں طلبہ کی حاضری کو مانیٹر کرنے کا پہلا ڈیجیٹل نظام متعارف ہو گیا ،پروجیکٹ کا مقصد پرائمری طلبہ کی ریڈنگ اسکلز میں اضافہ کرنا ہے ، ہمیں علم ہونا چاہیے کہ بچے کہاں جارہے ہیں، بچوں کی مانیٹرنگ کا نظام ہر اسکول میں ہونا چاہیے،ضروری تھا کہ ہم بچوں کو ٹریک کرسکیں تاکہ درست معلومات مل سکیں،اس حاضری سسٹم کے منصوبے کو اسکول کے بعد کالجز و جامعات میں نافذ کریں گے۔

    پروجیکٹ کا نفاذ 12 اضلاع کے 600 اسکولوں میں پائلٹ پروجیک کے تحت شروع ہو گیا،سید سردار شاہ کا کہنا تھا کہ ابتدائی جماعتوں میں تدریسی معیار میں بہتری اور اساتذہ کی تربیت ہوگی، پرائمری سے مڈل سطح تک تعلیمی ماحول کی اپ گریڈیشن ممکن ہوگی، اسکول مینجمنٹ اور لیڈرشپ میں ڈیجیٹل نظام کا نفاذ ہوگا،ریفارم سپورٹ یونٹ کی نگرانی میں مکمل مانیٹرنگ اور شفاف نظام رائج ہوگا، سیمرز نظام کے تحت طلبہ و اساتذہ کی حاضری، رجسٹریشن اور گریڈ پروموشن کو ڈیجیٹلائزیشن کیا گیا ہے،غیر حاضر طلبہ کی وجوہات کی نشاندہی اور بروقت اصلاحی کارروائی ہوگی، 600 اسکولز میں نفاذ مکمل جن میں 120 پرائمری، 480 مڈل، 79 ہائی اسکول شامل ہیں،کل 1 لاکھ 37 ہزار طلبہ کا اندراج جن میں79730 بچیاں اور 57501 بچے شامل ہیں،72 فیصد اسکولز کو ایجوکیشن لڑکے اور لڑکیاں دونوں (Mixed) ہونگےاپریل سے مئی 2025 تک حاضری میں 16 فیصد بہتری ریکارڈ ہوئی،ہائی رسک طلبہ کی شرح 32.5 فیصد سے کم ہو کر 23 فیصد رکارڈ ہوئی

  • کراچی، شہری کو ایک ہی دن میں 5 چالان موصول

    کراچی، شہری کو ایک ہی دن میں 5 چالان موصول

    شہر قائد میں ای چالان کا نظام ایک مرتبہ پھر سوالات کی زد میں آگیا ہے، جب ایک ہی شہری کو محض چند منٹوں کے اندر 5 مختلف ای چالان موصول ہوگئے۔ سسٹم کی اس خرابی نے شہریوں میں شدید غصے اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

    کراچی کے رہائشی حکیم اللہ کو 30 اکتوبر کو ایک ہی دن میں پانچ ای چالان موصول ہوئے۔ شہری کے مطابق، ان میں سے تین چالان ماڑی پور کے مقام پر 12 بج کر 03 منٹ پر کیے گئے، جب کہ چوتھا اور پانچواں چالان حسن اسکوائر کے مقام پر 12 بج کر 13 منٹ پر درج ہوا۔ حیران کن طور پر تمام چالان ایک ہی نوعیت کے تھے ، یعنی سیٹ بیلٹ نہ پہننے پر جرمانے عائد کیے گئے،حکیم اللہ نے بتایا کہ تمام چالانوں پر تاریخ اور وقت واضح درج ہیں، شہری نے بتایا کہ اسے مجموعی طور پر 50 ہزار روپے کے چالان موصول ہوئے جس پر وہ حیران و پریشان ہوگیا۔

    اس حوالے سے کراچی ٹریفک پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ متعلقہ شہری سے رابطہ کر لیا گیا ہے اور اسے سہولت سینٹر آنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ای چالان سسٹم میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے تاکہ بے گناہ افراد کو غیر ضروری جرمانوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

  • مکران کوسٹل ہائی وے پر المناک حادثہ،  7 افراد جھلس کر جاں بحق

    مکران کوسٹل ہائی وے پر المناک حادثہ، 7 افراد جھلس کر جاں بحق

    مکران کوسٹل ہائی وے پر آج صبح ایک ہولناک حادثہ پیش آیا جس میں مسافر کوچ اور ایل پی جی گیس سے بھرے ٹرک کے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق حادثہ قومی شاہراہ N-10 پر کنڈ ملیر کے قریب نلی اترائی کے مقام پر پیش آیا، جہاں تیز رفتار کوچ سامنے سے آنے والے ایل پی جی ٹرک سے ٹکرا گئی۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے دونوں گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ابتدائی معلومات کے مطابق کوچ میں 5 افراد جبکہ ٹرک میں 2 افراد سوار تھے، جو آگ لگنے کے باعث موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ آگ اتنی شدید تھی کہ کوچ اور ٹرک دونوں مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگئے۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں، فائر بریگیڈ اور پولیس موقع پر پہنچ گئیں اور کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا گیا۔ لاشوں کو ایدھی ایمبولینس کے ذریعے کراچی کے سہراب گوٹھ ایدھی سردخانے منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حادثہ یا تو اوور اسپیڈنگ یا بریک فیل ہونے کے باعث پیش آیا۔مقامی افراد کے مطابق، مکران کوسٹل ہائی وے پر آئے دن تیز رفتاری کے باعث حادثات رونما ہو رہے ہیں، تاہم مؤثر حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے سبب قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔پولیس حکام نے بتایا کہ حادثے کے بعد شاہراہ کو عارضی طور پر ٹریفک کے لیے بند کیا گیا تھا، تاہم اب ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔

  • پاکستان نے سرحدی خودکش ڈرونز کا توڑ تیار کر لیا

    پاکستان نے سرحدی خودکش ڈرونز کا توڑ تیار کر لیا

    نیشنل الیکٹرونکس کمپلیکس نے سرحد پار سے آنے والے خودکش ڈرونز کو ناکارہ بنانے کے قابل ’’سفرا ڈرون جیمنگ گن‘‘ تیار کر لی ہے۔ اس جیمنگ گن نے "کامی کازی” ڈرونز کو مؤثر طریقے سے ہدف بنا کر ناکارہ کرنا شروع کر دیا ہے اور ایک اعشاریہ پانچ کلومیٹر (ڈیڑھ کلومیٹر) تک فاصلے سے ڈرون اور اس کے ریموٹ کنٹرول سگنلز کو بند کر سکتی ہے۔

    کراچی کے ایکسپو سینٹر میں منعقدہ پاک بحریہ کی پائمیک نمائش میں اس اینٹی ڈرون جیمر گن کا آئندہ استعمال دکھایا گیا، جسے ڈیڑھ کلومیٹر تک رینج میں آنے والے تجارتی نوعیت کے ڈرونز کو غیر فعال کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔جیمر گن بنانے والی کمپنی کے منیجر حمزہ خالد نے کہا کہ یہ نظام سرحدی تنصیبات پر نصب کیا جا سکتا ہے اور بڑے شہروں میں ہونے والے عوامی یا سرکاری ایونٹس کے دوران بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ ان کے مطابق گن تیس درجے کے اینگل پر ایک اعشاریہ پنج کلومیٹر رینج میں مؤثر ہے مگر ضرورت کے مطابق اس کے زاویے تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔

    حمزہ خالد نے مزید بتایا کہ اس رینج میں آنے والے ڈرونز کا کنٹرول یا تو حاصل کر لیا جاتا ہے یا انہیں ناکارہ کرکے محفوظ انداز میں لینڈ کروایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد دشمنی ڈرونز کی صورت میں بھی یہ گن انہیں غیر فعال کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے

    بیرسٹر گوہر کا 27ویں آئینی ترمیم پر اعتراض، وفاق کو خطرہ قرار

  • ای چالان، جماعت اسلامی بھی عدالت پہنچ گئی

    ای چالان، جماعت اسلامی بھی عدالت پہنچ گئی

    امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر اور دیگر نے ای چالان کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے

    درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق نے درخواست میں مؤقف اپنایا ہے کہ کیمروں اور مصنوعی ذہانت سے خودکار نظام کے تحت خلاف ورزی پر ای چالان بھیجے جارہے ہیں، خودکار نظام کے تحت گاڑی کے مالک کو چالان بھیجے جارہے ہیں قطع نظر کہ گاڑی کون چلا رہا تھا،وکیل عثمان فاروق نے کہا کہ سڑکوں کے انفرا اسٹرکچر، گاڑیوں کی ملکیت اور روڈ سائن کی تنصیب کے بغیر ہی ای چالان کا نظام نافذ کردیا گیا، چالان کی رقم میں ہزار گنا تک اضافہ، لائسنس کی معطلی یا شناختی کارڈ بلاک کرنا غیرقانونی ہے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں بہت سی گاڑیاں اوپن لیٹر پر چل رہی ہیں، ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے ریکارڈ میں گاڑی کے پرانے مالکان کا ریکارڈ ہے، محکمہ ایکسائز میں کرپشن کے باعث گاڑیوں کی ملکیت کی منتقلی بروقت نہیں کی جاتی،درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہر کی سڑکوں پر نہ زیبرا کراسنگ ہے اور نہ ہی اسپیڈ لمٹ کے سائن بورڈز، شہر کی خراب سڑکیں شہریوں کو متبادل یا غلط راستے اپنانے پر مجبور کرتی ہیں، بعض مقامات پر ترقیاتی منصوبوں کے باعث ٹریفک پولیس رانگ وے ٹریفک چلاتی ہے،وکیل عثمان فاروق نے کہا کہ کریم آباد انڈر پاس کئی برس سے ایسے ہی کھدا پڑا ہے۔ جہانگیر روڈ، نیو کراچی روڈ و دیگر انتہائی مخدوش حالت میں ہیں، ایسی صورتِ حال میں ای چالان اور بھاری جرمانے امتیازی سلوک ہے

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ انفرا اسٹرکچر کے بغیر مصنوعی ذہانت کے چالان کے نظام کو غیرقانونی قرار دیا جائے، بھاری جرمانوں کو شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیا جائے۔

  • سرسبز سندھ، سرسبز پاکستان ہماری اجتماعی ذمے داری ہے، جام اکرام اللہ دھاریجو

    سرسبز سندھ، سرسبز پاکستان ہماری اجتماعی ذمے داری ہے، جام اکرام اللہ دھاریجو

    سائٹ انڈسٹریل ایریا کراچی میں “شجرکاری مہم و معرکۂ حق پروگرام” کے حوالے سے منعقد ہونے والی متوقع تقریب کے سلسلے میں قومی نغموں کے لکھاری وقار حیدر نے صوبائی وزیرِ صنعت و تجارت جام اکرام اللہ دھاریجو صاحب سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران صوبائی وزیر صنعت و تجارت جام اکرام اللہ دھاریجو کو "ایوارڈ برائے حسنِ تعاون و رہنمائی” پیش کیا گیا۔یہ ایوارڈ ماحولیاتی تحفظ، سرسبز سندھ کے قیام اور “شجرکاری مہم و معرکۂ حق پروگرام” کے لیے صوبائی وزیر صنعت و تجارت جام اکرام اللہ دھاریجوکی قیمتی سرپرستی، رہنمائی اور تعاون کے اعتراف میں پیش کیا گیا۔
    جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا کہ “سرسبز سندھ، سرسبز پاکستان ہماری اجتماعی ذمے داری ہے اور ایسے اقدامات ملک کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہیں۔”

  • کراچی میں ای چالانوں کی بھرمار، شہری پریشان؛ حکام سے جواب طلب

    کراچی میں ای چالانوں کی بھرمار، شہری پریشان؛ حکام سے جواب طلب

    کراچی میں ای چالان کے بڑھتے ہوئے واقعات نے شہریوں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔

    سندھ پولیس نے حکیم اللہ نامی شخص کو ایک ہی دن میں چار مختلف مقامات پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے چالان بھیج دیے، تمام چالان ایک ہی تاریخ پر درج کیے گئے۔حکیم اللہ کا کہنا ہے کہ وہ ماہانہ چالیس ہزار روپے کماتے ہیں، اور ایک ہی دن میں اتنی ہی رقم کے چالان آنا ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔کراچی ٹریفک پولیس کے مطابق شہر بھر میں ای چالان مہم پوری شدت سے جاری ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 3 ہزار 485 الیکٹرانک چالان کیے گئے، جن میں 2 ہزار 433 سیٹ بیلٹ نہ پہننے، 511 ہلمیٹ نہ پہننے اور 223 سگنل توڑنے کے تھے۔

    ادھر ای چالان کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ عدالت نے چیف سیکریٹری، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی ٹریفک، ڈی جی ایکسائز اور نادرا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 نومبر تک جواب طلب کر لیا ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کراچی میں ٹریفک جرمانے غیر منصفانہ اور عام شہری کی پہنچ سے باہر ہیں۔ درخواست کے مطابق لاہور میں سیٹ بیلٹ نہ پہننے پر 200 روپے جرمانہ ہے جبکہ کراچی میں یہی خلاف ورزی 5 ہزار روپے میں پڑتی ہے۔

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ کم از کم تنخواہ 40 ہزار روپے مقرر ہونے کے باوجود مہنگائی کے باعث شہری پہلے ہی مالی دباؤ میں ہیں، اس لیے عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ چالان کے نظام کو منصفانہ بنایا جائے اور بھاری جرمانے عارضی طور پر معطل کیے جائیں

    دوحہ میں سماجی ترقی پر عالمی سربراہی اجلاس، ’دوحہ سیاسی اعلامیہ‘ کی منظوری

    500 کے وی اے سے زائد بجلی استعمال کرنے والوں پر ڈیوٹی عائد

    سگریٹ برانڈز کی ٹیکس چوری، 81 فیصد مصنوعات پر ٹیکس اسٹیمپ غائب

  • 27ویں آئینی ترمیم میں غلط شق کی حمایت نہیں کی جائے گی، ناصر  شاہ

    27ویں آئینی ترمیم میں غلط شق کی حمایت نہیں کی جائے گی، ناصر شاہ

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سندھ کے رہنما اور صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم میں ملک یا صوبے کے خلاف کسی بھی شق کی حمایت نہیں کی جائے گی۔

    روہڑی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ترمیم سے متعلق حتمی فیصلہ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں کیا جائے گا۔
    ان کا کہنا تھا کہ ملک اور صوبے کے مفادات کے خلاف کسی بھی بات کو قبول نہیں کیا جائے گا۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے مسائل انتشار کی سیاست کا نتیجہ ہیں، اگر پی ٹی آئی پُرامن جماعت بن جائے تو مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے صوبے کے عوام کو محفوظ بنائیں

    برطانیہ ،عوامی عہدیداروں کے گھروں کے باہر احتجاج کو جرم قرار دینے کا قانون پیش

    قومی اسمبلی اجلاس کا 19 نکاتی ایجنڈا جاری، وزرا سوالات کے جوابات دیں گے

    پاکستان کی سنسنی خیز مقابلے میں جنوبی افریقہ کو 2 وکٹوں سے شکست