Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی: 7سالہ بچے کا اغوا کے بعد قتل

    کراچی: 7سالہ بچے کا اغوا کے بعد قتل

    لانڈھی کے علاقے سے اغوا کرکے قتل کیے جانے والے کمسن بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کے شواہد مل گئے۔

    تفصیلات کے مطابق لانڈھی تھانے کے علاقے 36 بی لعل مزار سے اغوا کر کے قتل کیے جانے والے سات سالہ کمسن بچے سعد علی کا پوسٹ مارٹم مکمل کر کے لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی،پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ طارق کے مطابق پوسٹ مارٹم کے دوران مقتول کمسن بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کے شواہد ملے ہیں، بچے کی موت سر پر وزنی چیز سے چوٹ لگنے کے باعث ہوئی ہے، پوسٹ مارٹم کے دوران مقتول بچے کے مختلف اعضا کے سیمپل لے کر کیمیکل ایگزامن کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں، مقتول مغوی بچے کی نماز جنازہ اور تدفین ظہر میں ادا کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ مقتول کمسن بچہ سعد علی 18 ستمبر کی شام گھر کے باہر سے لاپتا ہوا تھا جس کے اغواء کا مقدمہ لانڈھی تھانے میں درج کیا گیا اور پانچ روز بعد پیر کی شب گھر کے قریب کچرا کنڈی سے چند روز پرانی لاش ملی تھی۔

  • کراچی:ملزم شبیر تنولی کا 5 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف

    کراچی:ملزم شبیر تنولی کا 5 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف

    بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم شبیر تنولی نے 5 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف کر لیاکہاکہ، ایک ایک بچی کو کئی کئی مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا-

    ملزم نے کوڈیشل مجسٹریٹ کراچی کی عدالت میں اعترافی بیان دیتے ہوئے بتایا کہ وہ بچوں کو پیسوں کا لالچ دے کر اپنے کمرے اور ویران جھاڑیوں میں لے جاتا تھا جہاں ان سے غیر اخلاقی حرکات کرتا تھا،بیان ریکارڈ کرانے سے قبل عدالت نے ملزم کو 2 گھنٹے کا وقت دیا تاکہ وہ اپنے فیصلے پر غور کر سکے۔

    عدالت نے ملزم سے سوال کیاکہ،پولیس کی جانب سے تمہیں تشدد کا نشانہ تو نہیں بنایا گیا؟ مارا تو نہیں گیا؟ جس پر ملزم نے کہا کہ نہیں مجھے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا،عدالت نے ملزم کو واضح کیا کہ آپ بیان دیں یا نہ دیں، آپ کو جیل کسٹڈی میں رکھا جائے گا، آپ کا بیان آپ کے خلاف جا سکتا ہے، کیا آپ کسی دباؤ میں بیان نہیں دے رہے؟ملزم نے کہا کہ میں کسی کے دباؤ میں بیان نہیں دے رہا۔

    تحصیل آفس میں مبینہ بدعنوانیاں ،سائل پریشان،نوٹس کی اپیل

    عدالت کے سوال پر کہ آیا اس کے ساتھ کوئی شریک جرم ہے، ملزم نے انکار کرتے ہوئے کہاکہ،نہیں، میرے ساتھ کوئی شریک جرم نہیں ہے،میں 8 دن قبل گرفتار ہوا، میرے ساتھ کوئی اور موجود نہیں تھا میں 2011 میں کراچی آیا تھا، میں نے 2022 میں ایک بچے سے دوستی کی، اسے اپنے کمرے میں لے جا کر کئی بار غلط کام کیا کئی بار ویران جھاڑیوں میں بھی لے گیا ہوں، بچیوں کو بھی پیسوں کا لالچ دے کر اپنے کمرے میں لے جاتا تھا وہاں ان سے غلط کام کرتا تھا اور اس کی ویڈیوز بھی بناتا تھا میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں۔

    عدالت نے 6 مقدمات میں ملزم کا الگ الگ اقبالی بیان ریکارڈ کیا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد ملزم کو پڑھ کر سنایا گیا، جس پر ملزم نے اپنا جرم قبول کیا، عدالت نے ملزم کا دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ پر رکھ لیا۔

    چین اور امریکا کے دفاعی مذاکرات کا آغاز، فوجی روابط بہتر بنانے پر زور

    11 ستمبر کو کراچی کے علاقے قیوم آباد میں 100 سے زائد کمسن بچوں اور بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد ان کی ویڈیوز بنانے والے ملزم کو گرفتار کیا گیا تھا، جس نے دوران تفتیش اعتراف کیا تھا کہ بچوں کو پیسے دیکر اپنے کمرے میں لاتا تھا اور انہیں ریپ کرتے ہوئے ویڈیوز بھی بناتا تھا،پولیس کے مطابق، ایبٹ آباد کے رہائشی گرفتار ملزم شبیر نے زیادتی کا نشانہ بننے والے 5 سے 12 سال کے بچوں اور بچیوں کے ناموں کی فہرست بنا رکھی تھی تفتیش کے مطابق ملزم 2011 میں کراچی آیا اور قیوم آباد میں پرچون کی دکان کھولی جہاں وہ اسٹیشنری کا سامان رکھتا تھا چھوٹی بچیاں دکان پر آتیں جنہیں وہ رقم کے لالچ میں گھر لے جاتا۔

    2016 میں ملزم قیوم آباد منتقل ہو گیا اور شربت کا ٹھیلا لگا لیا، جہاں وہ 5 سے 12 سال کے بچوں کو انعام کے لالچ میں بدفعلی کا نشانہ بناتا رہا، ملزم نے ایک ڈائری میں بچوں کی تفصیلات لکھ رکھی تھیں، ملزم کے موبائل اور یوایس بی ڈرائیوز سے 200 سے زیادہ ویڈیوز برآمد ہوئیں، ایک بچی کے ملزم کی یوایس بی موبائل شاپ پر لے جانے کے بعد ملزم کا بھانڈا پھوٹ گیا۔

    ایچ-1 بی ویزا فیس میں ڈاکٹرز کو استثنیٰ دینے پر غور

    ڈی آئی جی ساؤتھ کا کہنا تھا کہ ڈیفنس پولیس نے قیوم آباد کے سی-ایریا میں 28 سالہ پھل فروش شبیر احمد کو نابالغ لڑکیوں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں لوگوں کی مدد سے پکڑا تھا،پولیس کے مطابق ملزم نے گزشتہ 10 سالوں کے دوران نابالغ لڑکیوں اور لڑکوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے اور اپنے موبائل فون سے ان کی ویڈیوز بنانے کا اعتراف کیا تھا۔

  • ٹیکس نادہندگان کی مخبری پر انعامی رقم 15 کروڑ کرنے کی سفارش

    ٹیکس نادہندگان کی مخبری پر انعامی رقم 15 کروڑ کرنے کی سفارش

    چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو عائشہ فاروق نے ٹیکس نادہندگان کی معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے انعامی رقم 15 لاکھ سے بڑھا کر 15 کروڑ روپے کرنے کی سفارش کر دی۔ انہوں نے یہ سفارش ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشن کو خط لکھ کر کی۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس نادہندگان یا کم ٹیکس دینے کی معلومات فراہم کرنے والوں کی رازداری کو یقینی بنایا جائے اور انہیں قانونی تحفظ دیا جائے۔چیف کمشنر نے نشاندہی کی کہ امیر افراد محل نما گھروں میں رہتے، قیمتی گاڑیاں چلاتے، برانڈڈ کپڑے پہنتے اور پرتعیش طرزِ زندگی گزارتے ہیں لیکن ان کے انکم ٹیکس گوشوارے ان کے معیارِ زندگی سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان خود کار تشخیص کی سہولت کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

    خط میں مزید کہا گیا کہ امیروں کے رشتے دار، پڑوسی، دفتر کے ساتھی، منشی، ملازمین، گھریلو معاونین اور ڈرائیورز مالکان کے طرزِ زندگی سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ ان افراد کو رازداری کی یقین دہانی اور بہتر انعام کی پیشکش انہیں معلومات فراہم کرنے پر آمادہ کر سکتی ہے۔عائشہ فاروق کے مطابق 15 لاکھ روپے کی موجودہ انعامی رقم ناکافی ہے، اس کے بجائے اسے بڑھا کر 15 کروڑ روپے کیا جانا چاہیے تاکہ زیادہ مؤثر نتائج حاصل ہو سکیں۔

    لاکھوں قانونی مہاجرین کو واپس بھیج کر £230 بلین بچائیں گے، نائجل فراج

    محض الفاظ نہیں، عملی اقدامات سے خواتین کو بااختیار بنانا ہوگا،اسحاق ڈار

    پاکستان نے کامن ویلتھ بیچ ہینڈ بال چیمپئن شپ جیت لی

    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا 80واں اجلاس شروع، وزیراعظم خطاب کریں گے

    چار بیویاں اور 100 سے زائد بچے،اماراتی محقق کے خطاب پر حاضرین حیران

  • کراچی میں قتل ہونیوالے3 خواجہ سرا مرد نکلے،پوسٹ مارٹم رپورٹ

    کراچی میں قتل ہونیوالے3 خواجہ سرا مرد نکلے،پوسٹ مارٹم رپورٹ

    کراچی میں سپر ہائی وے میمن گوٹھ میں،قتل ہونیوالے3 خواجہ سرا مرد نکلے-

    کراچی میں سپر ہائی وے میمن گوٹھ ناگوری سوسائٹی کے قریب تین خواجہ سراؤں کے اندوہناک قتل کی تحقیقات جاری ہیں گزشتہ روز ملنے والی لاشوں کا رات گئے پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ تینوں مقتول خواجہ سرا بائیولوجیکل مرد تھے پولیس نے قتل کا مقدمہ مقتولین کے ساتھی محمد ظفر کی مدعیت میں درج کر لیا ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق مقتولین کی شناخت مختلف ناموں سے کی گئی ہے پولیس رپورٹ کے مطابق ان میں سے دو کی اصل شناخت محمد جینل اور الیکس ریاست کے نام سے ہوئی جبکہ تیسرے مقتول کی اصل شناخت تاحال سامنے نہیں آ سکی تاہم، انہیں عینی، اسما اور ثمینہ کے ناموں سے جانا جاتا تھا۔

    ناتجربہ کاری کی وجہ سے پنجاب میں سیلاب سے تباہی کا دائرہ وسیع ہوا، شرجیل میمن

    ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ مقتولین 20 ستمبر کی شام ساڑھے سات بجے گھروں سے نکلے تھے اور رات دو بجے تک واپس نہ آئے ان کے ساتھی نے بار بار کالز کیں لیکن جواب نہیں ملا بعد ازاں واٹس ایپ گروپ کے ذریعے اطلاع ملی کہ ان کی لاشیں میمن گوٹھ سے ملی ہیں پولیس کے مطابق تینوں کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا، دو کو سینے پر اور ایک کو سر پر گولی ماری گئی۔ جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کے دو خول اور کچھ ذاتی سامان بھی برآمد ہوا ہے۔

    بلدیاتی ضمنی انتخابات : سندھ کے 14 اضلاع میں بدھ کو عام تعطیل کا اعلان

    واقعے پر وزیراعلیٰ سندھ نے بھی نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس کو فوری طور پر قاتلوں کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے ہیں وزیراعلیٰ نے کہا کہ قاتلوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور پولیس جلد از جلد رپورٹ پیش کرے انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کسی معصوم شہری کے قتل کو برداشت نہیں کرے گی۔

    کراچی: 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ گرو کی مدعیت میں درج

  • ناتجربہ کاری کی وجہ سے پنجاب میں سیلاب سے تباہی کا دائرہ وسیع ہوا،  شرجیل میمن

    ناتجربہ کاری کی وجہ سے پنجاب میں سیلاب سے تباہی کا دائرہ وسیع ہوا، شرجیل میمن

    سندھ کےسینیئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پنجاب میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کا دائرہ محدود کیا جاسکتا تھا مگر ناتجربہ کاری کی وجہ سے زیادہ تباہی ہوئی۔

    سینیئر صوبائی وزیر سندھ شرجیل میمن نے حکومت پنجاب کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب میں سیلاب پر کوئی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بنے تو پتا چل جائے گا کہ پنجاب میں تباہی اس سے کم ہوسکتی تھی، ناتجربہ کاری کی وجہ سے پنجاب میں سیلاب سے تباہی کا دائرہ وسیع ہوا، اگر اچھی منصوبہ بندی کی جاتی تو اتنی تباہی سے بچا جاسکتا تھا۔

    https://x.com/sindhinfodepart/status/1970038275361665026

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ میں محکمہ آبپاشی نے اچھی منصوبہ بندی کی، وزیراعلیٰ صاحب خود ہر چیز کو مانیٹر کررہے تھے، مانیٹرنگ سیلز بنائے گئے، ( ہر محکمے سے ) ایک ایک نمائندہ وہاں موجود ہے، اور آج بھی مانیٹرنگ سیلز قائم ہیں،میں یہ نہیں کہوں گاکہ سو فیصد ( تباہی سے ) بچ گئے، میں بھی کوئی غلط بات نہیں کروں گا، پنجاب میں پانی زیادہ آیا تھا، تاہم اگر بہتر منصوبہ کی جاتی اور محکمہ آبپاشی کی رہنمائی کی جاتی تو تباہی کو محدود کیا جاسکتا تھا۔

    کراچی میں قتل ہونیوالے3 خواجہ سرا مرد نکلے،پوسٹ مارٹم رپورٹ

    اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس بلند ترین سطح پر

    کراچی: 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ گرو کی مدعیت میں درج

  • بلدیاتی ضمنی انتخابات : سندھ کے 14 اضلاع میں بدھ کو عام تعطیل کا اعلان

    بلدیاتی ضمنی انتخابات : سندھ کے 14 اضلاع میں بدھ کو عام تعطیل کا اعلان

    سندھ حکومت نے بلدیاتی ضمنی انتخابات کے موقع پر 24 ستمبر بدھ کو صوبے کے 14 اضلاع میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔

    بلدیاتی ضمنی انتخابات کے موقع پر 14 اضلاع میں تمام سرکاری دفاتر اور ادارے بند رہیں گے ، جن اضلاع میں تعطیل ہو گی ان میں گھوٹکی، سکھر، خیرپور، میرپورخاص، عمرکوٹ اور مٹیاری شامل ہیں،اس کے علاوہ حیدر آباد، جامشورو، دادو، بدین ، ٹھٹھہ ، کراچی ویسٹ، کراچی ایسٹ اور کیماڑی اضلاع میں بھی عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے14 اضلاع میں بلدیاتی ضمنی انتخابات کے لئے ووٹرز کو سہولت فراہم کرنے کے لیے چھٹی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    سندھ کے مختلف اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کے لیے رینجرزکی خدمات طلب کر لی گئی ہیں، الیکشن کمیشن نے کراچی ڈویژن کے 3 اضلاع اور ضلع عمر کوٹ میں نہایت حساس پولنگ اسٹیشنزپر رینجرز کی تعیناتی کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کو خط لکھ دیا ہے، الیکشن کمیشن نے خط میں درخواست کی ہے کہ کراچی میں ضلع شرقی، غربی، کیماڑی اور عمرکوٹ کے تمام نہایت حساس پولنگ اسٹیشنز پر سندھ رینجرز کو تعینات کیا جائے۔

    جعلی ڈگری کیس:جمشید دستی کو 7 سال قید کی سزا

    سونا مہنگا، قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    توشہ خانہ ٹو کیس : آخری 2 گواہان کے بیانات ریکارڈ

  • سونا مہنگا، قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    سونا مہنگا، قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں 3400 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد فی تولہ سونا تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پیر کو ملک میں سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا، 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 3 ہزار 400 روپے بڑھ کر 3 لاکھ 93 ہزار 700 روپے ہو گئی جو اتوار کو 3 لاکھ 90 ہزار 300 روپے تھی۔

    اسی طرح 24 قیراط کے 10 گرام سونے کی قیمت 2 ہزار 915 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 37 ہزار 534 روپے تک پہنچ گئی، جو ایک روز قبل 3 لاکھ 34 ہزار 619 روپے تھی، 22 قیراط کے 10 گرام سونے کی قیمت بھی 2 ہزار 672 روپے بڑھ کر 3 لاکھ 9 ہزار 417 روپے ہو گئی جو گزشتہ روز 3 لاکھ 6 ہزار 745 روپے تھی،بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونا مہنگا ہوا، جہاں قیمت 34 ڈالر کے اضافے سے فی اونس 3 ہزار 719 ڈالر ہو گئی، جو ایک روز قبل 3 ہزار 685 ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔

    چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا، ملک میں فی تولہ چاندی 63 روپے مہنگی ہو کر 4 ہزار 595 روپے ہو گئی جو گزشتہ روز 4 ہزار 532 روپے تھی، جبکہ 10 گرام چاندی 54 روپے بڑھ کر 3 ہزار 939 روپے ہو گئی جو پہلے 3 ہزار 885 روپے تھی،عالمی مارکیٹ میں بھی چاندی کی قیمت میں اضافہ ہوا اور فی اونس 0.63 ڈالر بڑھ کر 43.68 ڈالر ہو گئی جو ایک روز قبل 43.05 ڈالر تھی۔

  • اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس بلند ترین سطح پر

    اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس بلند ترین سطح پر

    اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس بلند ترین سطح پرپہنچ،گیا-

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس 700 پوائنٹس بڑھ گیابینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 158,726.21 پوائنٹس پر تھا، جو 688.84 پوائنٹس یعنی 0.44 فیصد زیادہ رہا-

    کاروبار کے دوران آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیز، او ایم سیز، پاور جنریشن اور ریفائنری سیکٹرز میں خریداری کا رجحان غالب رہا،بڑی کمپنیوں جیسے حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی او ایل، ایم سی بی اور این بی پی کے شیئرز مثبت زون میں رہے۔

    گزشتہ ہفتے بھی پی ایس ایکس میں تیزی کا رجحان برقرار رہا، جب کے ایس ای 100 انڈیکس 3,597.68 پوائنٹس یعنی 2.3 فیصد بڑھ کر 158,037.37 پوائنٹس پر بند ہوا، جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ سطح 154,439.69 پوائنٹس تھی،انڈیکس نے ہفتے کے دوران 159,337 پوائنٹس کی بلند ترین سطح بھی چھوئی، جو رواں سال کی نمایاں ریلیز میں سے ایک رہی۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں یہ اضافہ ملکی اور بیرونی عوامل کے امتزاج سے ہوا۔

  • کراچی: 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ گرو کی مدعیت میں درج

    کراچی: 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ گرو کی مدعیت میں درج

    کراچی کے میمن گوٹھ تھانے میں 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا، گزشتہ روز 3 خواجہ سراؤں کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا جن کی لاشیں میمن گوٹھ میں سپرہائی وے سے ملی تھیں۔

    میمن گوٹھ تھانے میں 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ قتل کی دفعہ 302 کے تحت ان کے گرو ظفر کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے،مدعی مقدمہ نے موقف اپنایا ہے کہ ہم سب خواجہ سرا ایک ہی علاقے میں مختلف کمروں میں رہائش پذیر تھے، ہمیں بذریعہ واٹس ایپ معلوم ہوا کہ ہمارے ساتھیوں کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا ہےمقتولین میں ایلکس، جیئل اور اسما شامل ہیں، تینوں خواجہ سراؤں کو نامعلوم افراد نے نامعلوم وجوہات پر قتل کیا ہے۔

    پولیس کے مطابق تینوں خواجہ سراؤں کی لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کردیا گیا ہے، شواہد کی مدد سے قاتلوں کی گرفتاری کی کوششیں کی جارہی ہیں،واجہ سراؤں کے قتل کو ہائی پروفائل کیس کے طور پر دیکھ رہے ہیں، قاتلوں کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم بھی تشکیل دے دی ہیں۔

    واضح رہے کہ 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں گزشتہ روز میمن گوٹھ کے علاقے میں ناگوری سوسائٹی کے قریب سپر ہائی وے سے ملی تھیں،دو خواجہ سراؤں کو سینے جبکہ ایک کو سر پر ایک ایک گولی ماری گئی تھی، جائے وقوع سے نائن ایم ایم کے دو خول ملے ہیں، کرائم سین پر کوئی کیمرا نہیں لگا ہوا، خواجہ سراؤں کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی،واقعے کے بعد لاشیں جناح ہسپتال منتقل کی گئی تھیں جہاں خواجہ سراؤں نے قاتلوں کی گرفتار کے لیے احتجاج بھی کیا تھا اور ملزمان کی عدم گرفتاری کی صورت میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کرنے کی دھمکی دی تھی۔

  • کشمور کے کچے میں آپریشن، مغوی کانسٹیبل بازیاب، 3 ڈاکو ہلاک، 9 زخمی

    کشمور کے کچے میں آپریشن، مغوی کانسٹیبل بازیاب، 3 ڈاکو ہلاک، 9 زخمی

    سندھ رینجرز اور پولیس نے کشمور کے کچے کے علاقے میں بدنام زمانہ بھیو گینگ کے خلاف کارروائی کرکے مغوی پولیس کانسٹیبل کو بازیاب کرالیا،جبکہ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 3 اغوا کار ڈاکو ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے۔

    ترجمان رینجرز نے بتایا کہ کشمور میں کچے کے علاقے میں مغوی پولیس اہلکار کو بازیاب کروانے کے لیے رینجرز اور پولیس نے آپریشن کیا، دوران کارروائی ڈکیت گروہ کے ٹھکانے کو بھی مسمار کر دیا گیاآپریشن کے دوران ڈاکوؤں نے نفری پر فائرنگ کر دی، بعد ازاں فائرنگ کے تبادلے میں 3 اغوا کار ڈاکو ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے۔

    ترجمان رینجرز کے مطابق اغوا برائے تاوان میں ملوث خادم بھیو ڈکیت گینگ نے دوران ڈیوٹی پولیس کانسٹیبل کو اغوا کیا تھا، ڈکیت گروہ نے پولیس کانسٹیبل کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل کی تھی،بدنام زمانہ خادم بھیو جس کے سر پر 10 لاکھ روپے انعام مقرر ہے، وہ بھی زخمی ہونے والے ڈاکوؤں میں شامل ہے، اس کے علاوہ واجد بھیو، مالک جاگیرانی سمیت 9 ملزمان زخمی ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ سندھ میں کچے کے علاقوں میں آئے روز شہریوں کو ہنی ٹریپ کرکے اغوا کرنے کی وارداتیں عام ہیں، ڈاکوؤں کے گینگ سادہ لوح شہریوں کو خواتین اور سستی گاڑیوں سمیت کاروباری لالچ دے کر بلاتے ہیں اور انہیں اغوا کرکے تاوان طلب کیا جاتا ہےڈاکوؤں کی جانب سے تاوان ادا کرنے کے لیے مغویوں کی ویڈیو بھی جاری کی جاتی ہے، اور تاوان نہ دینے پر قتل کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔