پاکستان ٹیلی ویژن(پی ٹی وی) پر 80 کی دہائی میں نشر ہونے والی ڈراما سیریز ففٹی ففٹی سے شہرت پانے والے اداکار ماجد جہانگیر ان دنوں مالی مشکلات کا شکار ہیں اور کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک انٹرویومیں ماجد جہانگیر نے کہا کہ تنگ دستی کی وجہ سے وہ فالج اور دیگر امراض کے علاج کے لیے ادویات تک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس 14 اگست سے قبل گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے انہیں فون کر کے بتایا تھا کہ انہیں یوم آزادی پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے تمغہ امتیاز سے نوازا جا رہا ہے جس پر ماجد جہانگیر نے گورنرسندھ سے کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے اگر ان کی 50 سالہ فنکارانہ خدمات کا اعتراف کیا جارہا ہے تو مہربانی ہے مگر انہیں علاج کی ضرورت ہے اور وہ اس حوالے سے مدد کی اپیل کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گورنر سندھ نے ان کی اپیل کے جواب میں کہا تھا کہ کچھ کرتے ہیں تاہم ڈیڑھ سال کا عرصہ بیت جانے کے باوجود ان کی جانب سے کچھ نہیں کیا گیا۔ماجد جہانگیر نے بتایا کہ انہیں ماہانہ دواؤں کے لیے 30 ہزارر وپے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ فزیو تھراپی اور ڈاکٹرکے معائنے کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں، درخواست ہے کہ حکومت میری مدد کرے.
Category: کراچی
-

ففٹی ففٹی کے اداکار ماجد جہانگیر کسمپرسی کا شکار
-

آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں کراچی پہلے نمبر پر
دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں ہفتہ کوکراچی پہلے نمبر پرجبکہ کولکتہ دوسرے اور ڈھاکہ تیسرے نمبر پررہا ۔
ایئرکوالٹی انڈیکس کے مطابق کراچی کی فضا میں آلودہ ذرات کی مقدار 176 پرٹیکیولیٹ میٹرز ریکارڈ کی گئی۔دنیا کے آلودہ شہروں کی فہرست میں کولکتہ دوسرے اورممبئی تیسرے نمبر پر رہا۔درجہ بندی کے مطابق 151 سے 200 درجے تک آلودگی مضر صحت ہے اور201 سے 300 درجے تک آلودگی انتہائی مضر صحت ہے جبکہ301 سے زائد درجہ خطرناک آلودگی کو ظاہر کرتا ہے۔
-

کراچی بندرگاہوں کو سنگین خطرہ لاحق ،سندھ ہائی کورٹ نے ڈی ایچ اے کو مزید زمین حاصل کرنے سے روک دیا
کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کوسمندرکی زمین حاصل کرنے سے 16 نومبر تک روک دیا۔
باغی ٹی وی : نجی ٹی وی چینل ڈان کے مطابق جسٹس ذوالفقار احمد خان پر مشتمل بینچ نے ڈی ایچ اے کے زیر استعمال زمین کا معائنہ کرنے اور کراچی اربن لیب یا نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشنو گرافی پاکستان کی مدد سے زمین کی تصاویر اور نقشوں کے ساتھ ایک رپورٹ پیش کرنے کے لیے ایک سرکاری تفویض کار مقرر کیا۔
رپورٹ کے مطابق عدالت نے سرکاری تفویض کار کو ہدایت کی کہ وہ 22 نجی اداروں کی تجارتی جگہوں کی ان کے ٹائٹل، قبضے اور زمین کے استعمال کے بارے میں 15 دن کے اندر تفصیلات بھی فراہم کرے جنہیں مقدمے میں بطور جواب دہندہ بھی نامزد کیا گیا ہے۔
ٹی ایل پی لانگ مارچ: ڈپلومیٹک انکلیو کے سیکیورٹی پوائنٹس پر انتظامات سخت
عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت کے لیے مدعا علیہان کو نوٹس دہرائے جائیں کیونکہ بیلف رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان پر پیش کیے گئے نوٹس واپس کردیے گئے ہیں عدالت نے یہ ہدایات 6 مدعیوں کی طرف سے دائر کردہ ایک مقدمے پر جاری کیں جن میں زیادہ تر ڈی ایچ اے کے باشندے تھے۔
سیکریٹری دفاع، ڈی ایچ اے، کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن، کراچی کنٹونمنٹ بورڈ، کنٹونمنٹ بورڈ فیصل، سول ایوی ایشن اتھارٹی، کراچی پورٹ ٹرسٹ اور کئی دیگر سرکاری اتھارٹیز اور نجی اداروں کو بطور مدعا علیہان نامزد کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ دوبارہ حاصل کی گئی زمین کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ جو زمین کینٹونمنٹ مقاصد کے لیے تھی اسے بھی تجارتی اور فائدہ مند مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
درخواست گزار کے کے وکلا نے دلیل دی کہ حال ہی میں 22 نجی مدعا علیہان نے سرکاری مدعا علیہان کی ملی بھگت سے غیر قانونی طور پر دوبارہ حاصل کی گئی زمین اور دفاعی مقاصد کے لیے زمین کھلی نیلامی کے بغیر حاصل کی تھی اور وہاں شادی ہال، سپر اسٹور، ہاؤسنگ سوسائٹی، کمرشل و رہائشی تعمیرات کی تھیں جو سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دفاعی مقاصد کے لیے زمین کو عام شہریوں کو فروخت نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی منافع بخش مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے پی اے ایف میوزیم اور ڈیفنس اتھارٹی کریک کلب کو شادی و تقریبات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور عسکری 4 کے قریب مین راشد منہاس روڈ پر سینما اور شادی ہال چل رہے ہیں جبکہ ڈالمیا روڈ اور ایئرپورٹ کے قریب شادی ہال بھی قائم کیے گئے ہیں ڈی ایچ اے کو 9 ہزار 611 ایکڑ پر قبضے کا حق ہے لیکن اس نے علاقے کے مختلف حصوں میں غیر قانونی طور پر 3 ہزار 600 ایکڑ پر قبضہ کر لیا ہے۔
گلشن معمار میں 3 سال کے بچے کے سامنے والد کاقتل
انہوں نے الزام لگایا کہ ڈی ایچ اے نے فیز 8 میں 117 ایکڑ پر بھی قبضہ کر لیا تھا جبکہ اس کے پاس زمین پر قبضہ، ملکیت کے حقوق اور وفاقی حکومت کی اجازت نہیں تھی اور یہ آئین کے آرٹیکل 172 (2) کی خلاف ورزی تھی۔
جس پر بینچ نے کہا کہ وکیل نے استدلال کیا کہ زمین کی غیرضروری بحالی اور ماحولیاتی اثرات کا کوئی تجزیہ نہیں کیا گیا اور اس تنازع کی تصدیق سندھ کے ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے ایک افسر نے عدالت میں کی۔
عدالت نے کہا کہ وکیل کے مطابق اس طرح کے بڑے پیمانے پر زمین کے دعوے کی وجہ سے کراچی بندرگاہوں کو سنگین خطرہ لاحق ہے کیونکہ زیر زمین ریت بندرگاہ کی طرف بڑھ رہی ہے اور پانی کی گہرائی کو کم کر رہی ہے جس سے مسلسل ڈریجنگ کی ضرورت پڑ رہی ہے وکیل کی طرف سے اٹھائے گئے تنازع پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے کیونکہ بغیر کسی سمندری مطالعے یا دیگر مطالعات کے زمین کی بحالی سے پیدا ہونے والا خطرہ بالکل ناقابل واپسی ہے۔
غلط فہمی پر کراچی سے گرفتار ٹیکسی ڈرائیور 17 سال بعد گوانتاناموبے سے رہا
ان کا کہنا تھا کہ ’ملک میں گلوبل وارمنگ کے اثرات پہلے ہی واضح ہیں اور جب دنیا نیٹ زیرو دور کی جانب بڑھ رہی ہے تو بے ترتیب اور غیر ضروری زمین کی بحالی جیسی سرگرمیوں پر سوال اٹھے گا-
سندھ ہائی کورٹ نے ڈی ایچ اے اور دیگر سرکاری مدعا علیہان کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پہلے ان کو عوامی مقامات کے طور پر منظور شدہ زمین کو کیس کی اگلی سماعت تک کسی تجارتی اور فائدہ مند مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
میری قوم کو بچالیں:پیمرا نے وزیراعظم کے حکم پرغیراخلاقی مواد،مناظردکھانے پرپابندی…
-

گلشن معمار میں 3 سال کے بچے کے سامنے والد کاقتل
کراچی کے علاقے گلشن معمار احسن آباد ميں دودھ خريدنے کیلئے جانیوالے شخص کو 3 سالہ بيٹے کے سامنے قتل کرديا گيا۔ پوليس نے واقعے کو ذاتی دشمنی کا شاخسانہ قرار دیديا، لواحقین کہتے ہیں ان کی کسی سے دشمنی نہیں تھی۔ عینی شاہدين کے مطابق واقعہ لوٹ مار کے دوران پيش آيا۔
پولیس کے مطابق گلشن معمار احسن آباد میں سلمان نامی شخص کو اس وقت قتل کردیا گیا جب وہ معصوم بچے کو گود میں اٹھائے دکان سے دودھ خرید رہا تھا۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں 2 موٹر سائیکل سوار ملزمان کو دیکھا جاسکتا ہے، ایک ملزم کا چہرہ واضح ہے جبکہ فائرنگ کرنیوالے ملزم نے ماسک پہنا ہوا ہے۔
پولیس نے ابتدائی تحقیقات میں واقعے کو ذاتی دشمنی قرار دیا تاہم مقتول سلمان کے والد کے مطابق ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں۔
عینی شاہدین اور دکاندار کے مطابق واقعہ لوٹ مار کے دوران پیش آیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول ڈيڑھ سال پہلے صوابی سے کراچی آيا تھا اور نجی کمپنی ميں کام کرتا تھا، سلمان 2 بچوں کا باپ اور 4 بہن بھائيوں ميں سب سے بڑا تھا۔
-

غلط فہمی پر کراچی سے گرفتار ٹیکسی ڈرائیور 17 سال بعد گوانتاناموبے سے رہا
19 سال قبل کراچی سے غلط فہمی کی بنیاد پر گرفتار ہونے والے احمد ربانی کو گوانتاناموبے میں 17 سال جیل کاٹنے کے بعد بالآخر رہائی کا پروانہ مل گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی این جی او ’’ری پریو‘‘ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی کوششوں سے بدنام زمانہ امریکی جیل گوانتاناموبے میں 17 سال سے قید بے گناہ شخص احمد ربانی کی رہائی کا حکم جاری کردیا گیا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ 2004 میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں احمد ربانی کو حسن گل ظاہر کر کے 5 ہزار ڈالر کے انعامی رقم کے عوض امریکی حکام کے حوالے کیا گیا تھا۔
انسانی حقوق کی این جی او ’’ری پریو‘‘ کے مطابق ٹیکسی ڈرائیور احمد ربانی کو 19 سال قبل امریکا کو انتہائی مطلوب ملزم حسن گل سمجھ کر کراچی سے گرفتار کرکے افغانستان میں امریکی حکام کے حوالے کردیا گیا تھا جہاں مختلف مراکز میں 545 دن تک جسمانی تشدد کیا گیا۔
برطانوی این جی او نے انکشاف کیا کہ کراچی میں گرفتاری کے محض دو دن بعد ہی معلوم چل گیا تھا کہ وہ مطلوب دہشت گرد حسن گل نہیں لیکن اس کے باوجود احمد ربانی کو افغانستان بھیج دیا گیا۔
افغانستان میں بھی امریکی حکام نے نامکمل تفتیش کے باوجود احمد ربانی کو گوانتاناموبے بھیج دیا جہاں 17 سال بغیر کوئی کیس چلائے انھیں قید رکھا گیا۔ احمد ربانی کے خلاف نہ ٹرائل شیٹ تیار کی گئی اور نہ ہی عدالت میں پیش کیا گیا۔
احمد ربانی نے اپیلیں مسلسل ناکام ہونے کے بعد جیل میں تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کر رکھی تھی۔ برطانوی ادارے ’ری پریو‘ نے احمد ربانی کیلئے قانونی جنگ لڑی جس پر امریکا کی 6 سیکیورٹی ایجنسیوں نے مشترکہ فیصلے میں احمد ربانی کی رہائی کا پروانہ جاری کیا۔
یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ حسن گل نامی شخص جس کے شک میں احمد ربانی کو گرفتار کیا تھا وہ بھی گرفتار ہوکر بگرام جیل میں احمد ربانی کے ساتھ ہی قید رہا لیکن 3 سال بعد رہا بھی ہوگیا۔
رہا ہونے کے بعد اصلی دہشت گرد حسن گل پھر سے شدت پسند تنظیموں سے جا ملا تھا اور 2012 میں وزیرستان میں ایک ڈرون حملے میں مارا گیا تھا جب کہ ادھر بے گناہ احمد ربانی گوانتاناموبے میں تشدد برداشت کرتا رہا۔
امریکی تفتیشی اداروں نے احمد ربانی پر جو الزامات لگائے تھے ان کے مطابق ملزم 1994 میں افغانستان میں رہا، 7 ماہ خوست اور 2 ماہ خالدان میں عسکری ٹریننگ لی اور 1995 سے 1996 کے درمیان پاکستان میں قید بھی رہا اور 1997 میں اسامہ بن لادن سے بھی ملا۔
علاوہ ازیں احمد ربانی نائن الیون کے مرکزی کردار خالد محمد شیخ کے ساتھ بھی کام کرتا رہا ہے اور القاعدہ کے عرب ارکان کو پاکستان میں سفری سہولیات فراہم کرتا تھا۔ احمد ربانی کا ایک اور بھائی عبدالرحیم ربانی بھی گوانتاناموبے میں قید رہا ہے۔
احمد ربانی سے جب این جی او پری ریو نے پہلی بار رابطہ کیا تھا تو اس نے بتایا کہ سعودی عرب میں پیدا ہونے کی وجہ سے مجھے عربی زبان پر عبور ہے اور اسی بنیاد پر ایئرپورٹ سے عربی مسافروں کو پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دیتا تھا تاہم مجھے معلوم نہیں کہ وہ مسافر کون تھے۔
-

کراچی کی ترقی میں تسلسل کے حوالے سے کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کروں گا، بلاول
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کراچی شہر کی ترقی میں تسلسل کے حوالے سے کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کروں گا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے کراچی کے ایڈمنسٹریٹر مرتضیٰ وہاب کی بلاول ہاؤس میں ملاقات ہوئی جس میں ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو شہر قائد میں جاری ترقیاتی کاموں کی تفصیل سے آگاہ کیا۔
ملاقات میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں جاری ترقیاتی کاموں کی جلد تکمیل کے حوالے سے بھی خصوصی ہدایات دیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کیماڑی سے سہراب گوٹھ تک کراچی کے ہر علاقے پر خصوصی توجہ دی جائے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے انتہائی قلیل مدت میں دیرپا مسائل کا فوری حل ایک اچھی ابتدا ہے، کراچی شہر کی ترقی میں تسلسل کے حوالے سے کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کروں گا۔
-

سندھ میں لڑکیوں کی تعلیم کے مسائل پر ریسرچ اسٹڈی لانچ
وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِصدارت سندھ میں لڑکیوں کی تعلیم کے مسائل پر ریسرچ اسٹڈی کی لانچنگ کی گئی ہے جبکہ یہ ریسرچ اسٹڈی صوبائی محتسب اعلی نے سندھ فانڈیشن سے کروائی ہے۔اس موقع پر سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ ریسرچ اسٹڈی حکومت کے لیے رہنمائی کا سبب بنے گی، اسٹڈی میں گرلز ایجوکیشن کے مسائل اور ان کا حل بھی بتایا گیا ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ٹریک ریکارڈ ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانے پر کام کیا ہے، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں فرسٹ ویمن بینک اہم قدم تھا۔انہوں نے کہا کہ ویمن پولیس اسٹیشن، خواتین کو زمین دینا، نوکریوں میں کوٹا مقرر کرنا بھی اہم اقدامات تھے، ہم اسٹڈی کی سفارشات کے مطابق گرلز ایجوکیشن کے لیے مزید وسائل کے انتظامات کریں گے۔
وزیراعلی سندھ نے یہ بھی کہا کہ ہماری تعلیم کی ترقی ہماری ترقی کا راستہ بنے گی، کوئی معاشرہ خواتین کی تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا، اگر ماں تعلیم یافتہ ہوگی تو خاندان بھی علم کی روشنی سے روشن ہوگا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں تعلیم مفت ہے، آپ اپنی بچیوں کو تعلیم سے آراستہ کریں، پرائمری اسکولوں کو اپ گریڈ کرکے ایلیمینٹری، سیکنڈری اسکول بنائیں گے جبکہ لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت پر آگاہی مہم چلائیں گے. -

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں معروف ناول نگار ،نقاد عامر حسین کی کتاب ”Restless“ پر مباحثے کا اہتمام
کراچی آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے معروف ناول نگار ، نقاد اور افسانہ نگار عامر حسین کے ساتھ ان کی تازہ کتاب ”Restless“ پر ایک سیشن منعقد کیا گیاجس میں ڈاکٹر فاطمہ حسن اور شمع عسکری نے بھی شرکت کی جبکہ نظامت کے فرائض فاطمہ اعجاز نے انجام دیئے، ”Restless“ اپنی کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے مصنف عامر حسین نے کہا کہ میری کتاب کا پہلا حصہ میری زندگی اور اخلاقی تسلسل پرہے یہ اس وقت کی بات ہے جب میں 20 سال کا تھا اور میں نے اردو پڑھنا شروع کی جسے میں بالکل نہیں جانتا تھا اور پھر میں 32 سے 60 سال کی عمر تک اپنی زندگی کا احاطہ کرتا ہوں ، عامر حسین نے کہا کہ میرا آدھا خاندان بھارت میں ہے اور آدھا پاکستان میں لیکن دو ممالک جن سے میں واقعی محبت کرتا ہوں اور وہ ہے اٹلی اور جاوامیں بہت سے ممالک میں گیا لیکن روحانی طور پر میں نے کسی جگہ سے جڑا ہوا محسوس نہیں کیا مگر اٹلی اور جاوا میری کہانی کا حصہ بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں ایک نقاد ہوں لیکن ایسا بالکل نہیں، مجھے پڑھنا پسند ہے مگر تنقیدی نظر نہیں ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے عامر حسین نے کہا کہ مختصر کہانی ناول سے مختلف ہے ، ایک مختصر کہانی ایک لمحے کو 10 صفحات میں سمو سکتی ہے اور یہ ایک صفحہ تقریباً 100، 100 سال کا ہو سکتا ہے -

فوادچوہدری کو تھپڑ مارنے کی بات اس لیے کی تھی کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ عامرلیاقت کا استعفیٰ تو روز آتا ہے، عامرلیاقت
رکن قومی اسمبلی ڈاکٹرعامرلیاقت نے کہاہے کہ فوادچوہدری کو تھپڑمارنے کی بات اس لیے کی تھی کیوں کہ انہوں نے کہا تھا کہ عامرلیاقت کا استعفیٰ تو روز آتا ہے۔خصوصی گفتگو کے دوران عامرلیاقت نے کہاکہ انہوں نے اس بات پر فوادچوہدری کو جواب دیا کہ وہ میرے معاملات سے دور رہیں ورنہ میرا تھپڑ ان کے تھپڑ سے بھاری ثابت ہوگا تاہم ان ہوں نے کہاکہ فوادچوہدری سے میری دوستی اور ایک گھریلو تعلق ہے اس لیے فوادچوہدری نے میرے بات کا جواب نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان صاحب مہنگے ہیں تو پاکستان میں پھر مہنگائی ہوگی لیکن اگر سستے ہوئے یعنی ہرکسی کو دستیاب ہیں تو اس کا مطلب ملک میں مہنگائی نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک میں اس قدر مہنگائی ہے کہ اپوزیشن کو تو بہت پہلے نکلنا چاہیے تھا مگر مولانا فضل الرحمان کا ملک میں مہنگائی کے خلاف نکلنا باعث حیرت ہے۔عامرلیاقت نے کہاکہ تحریک انصاف سے استعفیٰ دے چکا ہوں اور اب اس جماعت سے میرا کوئی تعلق نہیں اس لیے میرے نام کے ساتھ تحریک انصاف نہ لکھا جائے ۔
انہوں نے کہ علی امین گنڈاپور کا عوام کو کھانا کم کھانے کا مشورہ دینا قابل مذمت ہے لوگ ایسا کیوں کریں انہوں نے تو مہنگائی ختم کرنے کے لیے ووٹ دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی بالکل ہے اور اس کی ذمہ دار بھی حکومت ہے تاہم استعفیٰ دینا ہر مسئلے کا حل نہیں صرف وزارتوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔عامرلیاقت نے کہاکہ اپوزیشن کو مہنگائی کے خلاف بہت پہلے جاگنا چاہیے تھا اب اس وقت مہنگائی کے خلاف نکلنا باعث تعجب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا لانگ مارچ نظر نہیں آرہا۔
-

سردیوں میں عوام کو گیس کے حوالے سے تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا، گورنر سندھ
گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ سردیوں میں عوام کو گیس کے حوالے سے تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔
گورنر سندھ نے کہا کہ پاکستان میں گیس کے ذخائر ذخائر کم ہورہے ہیں، سردیوں میں عوام کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا، یہ وقتی تکلیف ہے کیونکہ گیس کے شپمنٹس آرہے ہیں اس لئے زیادہ مسئلہ نہیں ہوگا۔عمران اسماعیل نے کہا کہ کوشش ہے کہ غریب طبقے کو مہنگائی سے ریلیف دیا جائے، ریلیف پالیسی بنائی جارہی ہے، سندھ حکومت کی وجہ سے صحت کارڈ صوبے کے شہریوں کو نہیں ملا، ٹارگٹڈ سبسڈی کارڈ سندھ میں بھی تقسیم کئے جائیں گے۔