Baaghi TV

Category: قصور

  • بچوں کے 12 ہزار وظیفے پہ 15 سو کٹوتی

    بچوں کے 12 ہزار وظیفے پہ 15 سو کٹوتی

    قصور
    بچوں کے سرکاری ملنے والے وظیفے پہ دکانداروں نے ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیئے،12 ہزار وظیفہ پہ 15 سو کٹوتی جبکہ سرکاری فیس 0,اے سی قصور،ایچ بی ایل کونیکٹ کے ایریا مینجر سے کاروائی کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی قصبے راؤ خانوالہ میں کراچی موبائل شاپ مین بازار راؤ خانوالہ نے منافع خوری کی حد کر دی ہے
    Hbl Konnect
    کی سہولت والی موبائل شاپ کراچی موبائل والوں نے
    غریب بچوں کے وظیفے پہ ڈاکہ مارنا شروع کر دیا ہے
    بچوں کے آئے وظیفہ پہ کوئی چارجز نہیں تاہم دکاندار حضرات جو کہ ایچ بی ایل کونیکٹ ہولڈر ہیں وہ 2 سو سے 3 سو روپیہ کٹوتی لیتے ہیں جو کہ قابل برداشت ہے حالانکہ گورنمنٹ و کمپنی کی طرف سے کوئی کٹوتی نہیں ہے
    مگر کراچی موبائل شاپ والوں نے وظیفہ لینے جانے والے لوگوں سے 12 ہزار روپیہ وظیفہ پہ 15 سو روپیہ کاٹنے شروع کئے ہیں جس کے باعث غریب محنت کش والدین شدید پریشان ہو گئے ہیں کیونکہ قریبی دیہات میں ایچ بی ایل کونیکٹ کی سہولت صرف کراچی موبائل شاپ راؤ خانوالہ میں ہی ہے یاں پھر قصور شہر میں، اسی بات کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے لوگوں کو لوٹنا شروع کیا ہے
    لوگوں نے اے سی قصور، ڈپٹی کمشنر قصور و ایچ بی ایل کونیکٹ کمپنی کے ایریا مینیجر سے ازخود نوٹس لے کر کاروائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے لوگوں سے ایچ بی ایل کونیکٹ کی اتھارٹی،برانچ لے کر کسی اور کو دی جائے تاکہ لوگ ایسے ظالموں سے لٹنے سے بچ سکیں

  • ہڑتال کی کال کے باوجود حکومت غیر سنجیدہ

    ہڑتال کی کال کے باوجود حکومت غیر سنجیدہ

    قصور
    گورنمنٹ نے پنجاب رورل ہیلتھ ایمپلائز ایسوسی کی ہڑتال کی کال کے باوجود کوئی مذاکرات نہ کئے،10 اکتوبر کو پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاج کیا جائے گا

    تفصیلات کے مطابق پی ایچ ایف ایم سی ہیلتھ ملازمین سابقہ پی آر ایس پی کے ملازمین کو 18 سال سے ریگولر نہیں کیا گیا ہے جب ماضی میں بھی بارہا مطالبہ کیا گیا مگر گورنمنٹ کی طرف سے کوئی شنوائی نا ہوئے
    پی ایچ ایف ایم سی کے صوبائی صدر محمد جاوید انور نے کہا ہے کہ گورنمنٹ ان ملازمین کا عرصہ 18 سال سے معاشی قتل کر رہی ہے اگر اب بھی گورنمنٹ نے ملازمین کو ریگولر نا کیا تو تمام ایکٹیویٹی بند کر دی جائے گی اور 10اکتوبر کو لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے پر امن دھرنا دیا جائے گا اور یہ دھرنا تب تک جاری رہے گا جب تک ھمارے مطالبات پورے نہیں ہونگے
    ان کا کہنا ہے کہ اتنے دنوں سے مطالبات کرنے اور ہڑتال کی کال کے باوجود گورنمنٹ نے ابھی تک کوئی مذاکرات نہیں کئے جس سے حکومت کی لاپرواہی نظر آ رہی ہے تاہم اس بار ہمارا دھرنا نتیجہ خیز ہو گا

  • آئی جی پنجاب کا دورہ،یاد گار شہداء پہ حاضری

    آئی جی پنجاب کا دورہ،یاد گار شہداء پہ حاضری

    قصور
    آئی جی پنجاب فیصل شاہکار کا دورہ قصور،تحصیل چونیاں میں یادگارِ شہدا پر حاضری،شہدا کی فیملیز سے ملاقاتیں کیں

    تفصیلات کے مطابق آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے گزشتہ دن ڈسٹرکٹ قصور کا دورہ کیا
    اپنے دورے کے دوران انہوں نے تحصیل چونیاں میں یادگارِ شہدا پر حاضری دی اور شہداء کی فیملیز سے ملاقاتیں کیں اور پولیس دربار میں پولیس اہلکاروں کے مسائل سنے
    سنے مسائل پر موقع پہ ہی ان
    سائل کو حل کرنے کے احکامات جاری کئے
    نیز آئی جی پنجاب نے تھانہ سٹی چونیاں و تھامہ صدر چونیاں کی نئی عمارتوں کا افتتاح بھی کیا

  • 10 اکتوبر کو ہڑتال کی کال دے دی گئی

    10 اکتوبر کو ہڑتال کی کال دے دی گئی

    قصور
    پی ایچ ایف ایم سی ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کو عرصہ 18 سال سے ریگولر نہیں کیا گیا،ملازمین نے ہڑتال کی کال دے دی،ملازمین کو جلد ریگولر کیا جائے محمد جاوید انور صوبائی صدر پی ایچ ایف ایم سی پاکستان

    تفصیلات کے مطابق پی ایچ ایف ایم سی ہیلتھ ملازمین کو عرصہ 18 سال سے ریگولر نہیں کیا جا رہا
    ماضی میں بھی بارہا مطالبہ پہ یقین دہانی کروا کر وعدہ خلافی کی جاتی رہی ہے جس کے باعث ملازمین سخت رنجیدہ ہیں
    پی ایچ ایف ایم سی پاکستان کے صوبائی صدر محمد جاوید انور نے اس ناروا سلوک پہ
    تمام ایکٹیویٹی بند کرنے کی کال دی ہے اور کہا ہے کہ 10 اکتوبر کو لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے پر امن دھرنا دیا جائے گا اور جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہونگے دھرنا ختم نا ہو گا
    گورنمنٹ اگر سنجیدہ ہے تو تمام ملازمیں کو ریگولر کرے تاکہ ہمارا معاشی قتل نا ہو

  • چونیاں: سیوریج کا پانی سرکاری سکول میں داخل ، تعفن سے اساتذہ اور بچے بیماری ہونے لگے

    چونیاں: سیوریج کا پانی سرکاری سکول میں داخل ، تعفن سے اساتذہ اور بچے بیماری ہونے لگے

    باغی ٹی وی : چونیاں(نامہ نگار) سیوریج کا پانی سرکاری سکول میں داخل، میونسپل کمیٹی چونیاں نے کام چھوڑ دیا، اساتذہ اور بچے بیماری میں مبتلا، سکول میں بچوں کی حاضری اور داخلہ متاثر، کمشنر لاہور، ڈی سی قصور، اسسٹنٹ کمشنر چونیاں فوری نوٹس لیں اور سیوریج کا پانی نکالنے کیلئے موثر اقدامات کروائیں اساتذہ اور علاقہ مکینوں کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق چونیاں گورنمنٹ پرائمری سکول محلہ اقبال ٹاؤن چونیاں میں علاقے کے سیوریج کے پانی نے اساتذہ، بچوں اور بچیوں کی زندگی اجیرن کر دی، سکول کو دونوں اطراف سے تو سیوریج کے گندے و گٹروں کے پانی نے گھیر ہی رکھا تھا اب سکول کی دیواروں میں سوراخ ہونے کی وجہ سے سیوریج کا پانی سکول میں بھی داخل ہو چکا ہے، بچے اور اساتذہ ایٹیں رکھ کر کلاسوں میں داخل ہوتے ہیں مگر اس گندے و بدبو دار پانی سے اٹھنے والی گندی بو اور تعفن سے بچوں و اساتذہ کو سانس لینا بھی دشوار ہے۔ سکول اساتذہ ظہیر عباس، رانا شکیل، قمر موبین و علاقہ مکینوں رفیق، ناصر، سفیان، شعبان نے میڈیا کو بتایا کہ سیوریج کا پانی کھڑا ہونے کے باعث مچھروں کی افزائش نسل تیزی سے بڑھ رہی ہے، بچے اور اساتذہ سانس کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں، والدین سکول اور باہر گھڑے گندے پانی اور بیماریوں کو دیکھ کر بچوں کو دوسرے سکولوں میں منتقل کر رہے ہیں جو بچے زیر تعلیم ہیں وہ بھی بیماری میں مبتلا ہونے کے خوف سے سکول کم آتے ہیں مزید داخلے بھی بند ہیں اساتذہ اکرام اور علاقہ مکینوں نے کمشنر لاہور، ڈی سی قصور فیاض موہل اور اسسٹنٹ کمشنر خرم حمید سے مطالبہ کیا کہ فوری طور مستقل بنیادوں پر سیوریج کا پانی نکالنے کے احکامات کئے جائیں تاکہ بچے اور بچیاں اچھے ماحول میں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو سکیں۔

  • آر پی او کے حکم کے باوجود ملزم گرفتار نا ہوا

    آر پی او کے حکم کے باوجود ملزم گرفتار نا ہوا

    قصور
    تھانہ صدر قصور نے آر پی او شیخوپورہ کے آرڈرز کے باوجود دفعہ 324 کے مقدمہکے ملزمان گرفتار نا کئے،مدعی سخت پریشان

    تفصیلات کے مطابق نصرت ولد عبد العزیز کوٹ غلام محمد نے بتایا کہ اس نے کچھ عرصہ قبل مجرم جمشید عالم سکنہ باہمنی والا وغیرہ کے خلاف مقدمہ نمبر 120/22 بجرم 234 تھانہ صدر میں درج کروایا ہوا ہے مگر ایس ایچ او نے ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جن کی بیل 18 اگست کو قصور سے اور 19 ستمبر کو لاہور سے خارج ہو چکی ہے
    ملزمان کو گرفتار کروانے کیلئے 4 مرتبہ اے ایس پی سٹی قصور کے پاس گئے اور آخرکار بات نا بننے پہ آر پی او شیخوپورہ کے پاس گئے جنہوں نے خود کال کرکے ایس ایچ او تھانہ صدر قصور کو ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا مگر اس کے باوجود بھی ابھی تک پولیس کی جانب سے ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جا رہا جس پہ سخت تشویش ہے
    مدعی کا کہنا ہے کہ ملزمان کو گرفتار نا کرنا معنی خیز ہے جس پہ سخت تحفظات ہیں
    آئی جی پنجاب نوٹس لے کر میری داد رسی کریں

  • برقع پہن کر گھروں میں ڈکیتیاں کرنے والے ملزمان گرفتار

    برقع پہن کر گھروں میں ڈکیتیاں کرنے والے ملزمان گرفتار

    قصور: پولیس نے برقع پہن کر گھروں میں ڈکیتیاں کرنے والے ملزمان گرفتار کر لئے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق تھانہ بی ڈویژن پولیس نے برقع پہن کر ڈکیتیاں کرنے والے 5 ملزمان کو گرفتار کرکے 60 لاکھ مالیت کے زیورات اور موبائل فونز برآمد کرلیے۔

    سارہ انعام قتل کیس، ملزم کونسا نشہ کرتا ہے؟ تفتیش میں اہم انکشاف

    قصور پولیس کے ترجمان کےمطابق وحید نامی گینگ برقع پہن کر شہریوں کے گھروں میں داخل ہوتا تھا اور اہلخانہ کو یرغمال بنا کر لوٹ لیتا-

    پولیس کےمطابق 5 ملزمان ڈیڑھ ماہ پہلے عارف نامی شہری کے گھر داخل ہوئےاور 60 لاکھ روپے مالیت کا سونا اور موبائل فونز لوٹ کر فرار ہو گئے جبکہ اسی گروہ نے خواتین کے بھیس میں کئی اور گھروں سے بھی 40 تولے سونا اور نقدی بھی لوٹی-

    دوسری جانب کراچی میں نیشنل ہائی وے، لنک روڈ سے خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرکے بھتہ لینے والے 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔

    کوئٹہ، تین بھائیوں کا قتل، گرفتار ملزم 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    ایس ایس پی ملیر عرفان بہاد کے مطابق ملزمان نیشنل ہائی وے لنک روڈ پر ٹینکرز اور ٹرالرز سے بھتہ وصول کرتے تھے، ملزمان اصلی پولیس اہلکار کی سربراہی میں جعلی پولیس پارٹی بنا کر میں کام کر رہے تھے۔

    ایس ایس پی ملیر کے مطابق کارروائی انٹیلی جنس اطلاع پر اس وقت کی گئی جب ملزمان ایرانی ڈیزل سے بھرے ٹرک سے بھتہ وصولی کر رہے تھے، گرفتار ملزمان میں پولیس اہلکار میر افضل، برہان، نزاکت اور سلیم شامل ہیں۔

    ملزمان سے 33 لاکھ بھتے کی رقم، اسلحہ اور کار برآمد کی گئی ہے، ملزمان کے خلاف ایس ایچ او اسٹیل ٹاؤن گلبہار رند کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    ٹانک میں وزیراعظم شہبازشریف کے ہاوسنگ منصوبے سے تعلق رکھنے والا عملہ اغوا کرلیاگیا

  • ایس ڈی او نے بغیر سفارش پاس ہوا ٹرانسفارمر لگانے سے انکار کر دیا

    ایس ڈی او نے بغیر سفارش پاس ہوا ٹرانسفارمر لگانے سے انکار کر دیا

    قصور
    بلہے شاہ سب ڈویژن کا ایس ڈی او پاس ہوئی پرپوزل پہ آیا ٹرانسفارمر لگانے سے انکاری، سفارش کے بغیر نہیں لگایا جائے گا،واپڈا سٹور میں کئی ماہ پڑا رہنے کے بعد ٹرانسفارمر کسی اور علاقے میں لگا دیا گیا،اہلیان علاقہ سخت پریشان،ڈی سی قصور سے نوٹس کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق قصور لیسکو میں بغیر رشوت اور سفارش کے جائز کام کروانا ایک خواب بن چکا ہے
    جائز کام کیلئے بھی رشوت اور سفارش کام آتی ہیں بصورت دیگر کام نہیں ہوتا
    لیسکو بلہے شاہ سب ڈویژن قصور کے علاقہ بیرون کوٹ غلام محمد قبرستان عیسائیوں والا کے علاقے کے لوگ اوور لوڈنگ کے باعث سخت پریشان تھے کیونکہ ایک ٹرانسفارمر لوڈ برداشت نہیں کر پاتا اور مذید ایک اور نیا ٹرانسفارمر ان کی ضرورت پوری کرنے کے لئے لازم تھا
    اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اہلیان علاقہ اور خاص کر مقامی صحافی میاں خلیل صدیق نے پرپوزل نمبر 214 کے تحت کافی محنت سے نیا ٹرانسفارمر پاس کروایا جو کہ واپڈا سٹور میں لگ بھگ ایک سال پڑا رہا جس پہ اہلیان علاقہ نے ایس ڈی او بلہے شاہ سب ڈویژن قصور ابرار الرحمن شاہ سے مطالبہ کیا کہ نیا آنے والا ٹرانسفارمر جلد لگایا جائے تاکہ پرانے ٹرانسفارمر سے لوڈ کم ہو اور لوگ بجلی کی بار بار خرابی سے تنگ نا ہو مگر ایس ڈی او نے ٹرانسفارمر نا لگایا
    اہلیان علاقہ نے آصف خان ایس ای لیسکو سے رابطہ کیا جنہوں نے ایس ڈی او کہا کہ جلد سے جلد نیا آنے والا ٹرانسفارمر نصب کیا جائے تاہم ایس ڈی او نے انکار کر دیا اور کہا کہ جب تک مقامی ایم پی اے نہیں کہے گا میں ٹرانسفارمر نہیں لگواؤنگا
    ایس ڈی او نے نیا آنے والا ٹرانسفارمر کسی اور علاقے میں لگوا دیا
    اہلیان علاقہ ایک ہی ٹرانسفارمر ہونے کے باعث بار بار بجلی کی خرابی کا سامنا کرتے ہیں اور سخت پریشان ہیں
    اہلیان علاقہ نے ڈی سی قصور سے ازخود نوٹس لے کر نیا ٹرانسفارمر لگوانے اور ذمہ دار واپڈا اہلکاروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • بینک میں سفارشیوں کا رش،عام عوام ذلیل و خوار

    بینک میں سفارشیوں کا رش،عام عوام ذلیل و خوار

    قصور
    دی بنک آف پنجاب تحصیل روڈ برانچ میں سٹمپ ڈیوٹی، ایف بی آر ٹیکس جمع کروانے والی عوام رل گئی،گھنٹوں لائینوں میں کھڑے بغیر سفارشیوں لوگوں کو انکاری، اصرار پہ برانچ سے نکل جانے کا حکم دیا جاتا ہے

    تفصیلات کے مطابق دی بنک آف پنجاب تحصیل روڈ قصور برانچ میں سٹمپ ڈیوٹی اور ایف بی آر کی مد میں لاکھوں کروڑوں روپے جمع کروانے والی بغیر سفارش عوام کو گھنٹوں لائنوں میں کھڑا کرنے کے بعد طرح طرح کے بے بنیاد اعتراضات اور بہانے لگا کر ذلیل کیا جاتا ہے
    اگر کوئی زیادہ اصرار کرے تو اسے انکاری کا حکم دیکر برانچ سے جانے کا کہا جاتا ہے
    بینک میں جمع کروانے والے لوگ لاکھوں روپے لئے پھرتے ہیں اور خود کو غیر محفوظ ہوتے ہوئے مالی نقصان کے پیش نظر دھکے کھاتے نظر آتے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہ ہے
    جبکہ بااثر سفارشی حضرات کے کام اندر خانے ترجیحی بنیادوں پر کر دیئے جاتے ہیں
    برانچ منیجر اسد اور منیجر آپریشن حافظ اسلم سے بزریعہ فون کال رابطہ کی کوشش کی گئی مگر انہوں نے کالز وصول نہ کیں
    متاثرہ عوام، عوامی،فلاحی،سماجھی تنظیموں کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے معزز ممبران نے حکام بالا سے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • اب مارشل لا نہیں لگے گا، فوج پر تضحیک ناقابل برداشت ہے ، سید منظور علی گیلانی

    اب مارشل لا نہیں لگے گا، فوج پر تضحیک ناقابل برداشت ہے ، سید منظور علی گیلانی

    قصور
    ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور میں گزشتہ دن چیئرمین استقلال پارٹی پاکستان کے چئیرمین سید منظور علی گیلانی کی پریس کانفرنس،اب دوبارہ مارشل لا کبھی نہیں لگے گا،جرنیل نتائج بھگت چکے

    تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور میں گزشتہ دن خاکسار تحریک پاکستان،پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی پاکستان،جنت پارٹی پاکستان،پی پی این پاکستان کی مشترکہ پریس کانفرنس ہوئی جس میں سید منظور علی گیلانی،میجر حبیب الرحمن میئو،شوکت علی،اکرم علی،راحیل اکبر نے شرکت کی
    مہمان شرکاء کا استقبال بانی ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور سردار شریف سوہڈل،کونسل ممبر ڈاکٹر ظفر اقبال،کونسل ممبر غنی محمود قصوری ،کونسل ممبر عامر علی بھٹی،کونسل ممبر ندیم کمبو و دیگر نے کیا
    کانفرنس سے خطاب میں سید منظور علی گیلانی نے کہا کہ سیاست میں چھوٹی بڑی جماعت کا نظریہ غلط ہے کیونکہ تمام سیاسی جماعتیں ایک نظریہ لے کر آتی ہیں اور اپنا فلسفہ عوام تک پہنچاتی ہیں ان کا کہنا تھا کہ بظاہر تو پاکستان 1947 میں ازاد ہو گیا مگر ابھی تک ہم کچھ بیرونی طاقتوں کے غلام ہیں اور ہمارا مقصد عوام کو اس غلامی سے حقیقی آزادی دلوانا ہے
    انہوں نے کہا کہ سیاست میں آج دشمنیاں پھیلائی جاتی ہیں اور انتشار پھیلایا جاتا ہے جبکہ ایسے کاموں کی سیاست میں ممانعت ہے ان کا کہنا تھا کہ خود کو بڑے بڑے لیڈر کہلوانے والے جلسوں میں ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں جن سے ان کے سیاسی قد کاٹھ میں کمی دکھتی ہے

    سیلاب بارے ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی ذمہ داری ہے کہ فوری سیلاب متاثرین کی مدد کی جائے اور ان کی زندگیوں کو جلد سے جلد معمول پہ لایا جائے نیز ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ میں 55 سال سے سیاست سے وابستہ ہوں اور ہر دور میں اپوزیشن کا حصہ رہا ہوں میں نے سیاست و مملکت کے نشیب و فراز بڑے قریب سے دیکھے ہیں میری وزیراعظم شہباز شریف سے درخواست ہے کہ ماضی کی طرح آپ بھی ایک مشترکہ سیاسی اتحاد بنائیں جس میں تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پہ اکھٹے ہو کر پاکستان کی بقاء و سلامتی کے لئے کام کریں ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تمام مارشل لا کی مخالفت کی ہے تاہم فوج پر تضحیک ناقابل برداشت ہے انہوں نے مذید کہا کہ میرا مشاہدہ ہے کہ اب آئندہ مارشل لا نہیں لگے کی کیونکہ جرنیل پچھلے مارشلاؤں کے نتائج بھگتے چکے ہیں