Baaghi TV

Category: قصور

  • شہر میں تجاوزات کی بھرمار

    شہر میں تجاوزات کی بھرمار

    قصور
    بابا بھلے شاہ کی نگری میں پورا شہر ناجائز تجاوزات اور ٹریفک کی بندش کی زد میں۔ ٹی ایم اے اور مقامی انتظامیہ خواب خرگوش، ہر روز ٹریفک کیوجہ سے عوام،خواتین سمیت سکول جانے والے طلباء و طالبات کو گزرنے میں شدید مشکلات کا سامنا
    تفصیلات کے مطابق بابا بھلے شاہ کی نگری میں ناجائز تجاوزات کے وجہ سے ٹریفک جام رہنا معمول بن گیا ہے دوکانداروں نے تھڑے بنانے کے بعد فرنٹ کے کچھ حصوں کو ٹھیلے، ریڑھیاں کھڑی کروا کر ان سے جزوی کرایہ وصول کرتے ہیں جسکی وجہ سے بازاروں کی کشادگی ختم ہو گئی ہے جبکہ عوام،خواتین، طلباء، طالبات، بچوں،بوڑھوں کا گزرنا محال ہو چکا ہے اور ٹریفک کی روانی میں مشکلات کا سامنا بھی ہے جو مقامی انتظامیہ کے لیے چیلنج بن چکا ہے کسی حادثے کی صورت میں 1122 متاثرین کو ریسکیو کرنا مشکل ہو گیا ہے عملہ میونسپل کمیٹی ،مقامی دیگر انتظامیہ کاروائی سے گریزاں ہے جہاں شہریوں کو گزرنے میں مشکلات کا سامنا ہے وہاں ٹریفک کی روانی بھی بہت بڑا مسلہ بن چکا ہے محدود بازاروں اور مین سڑک کے دونوں جانب ٹریفک کھڑی نظر آتی ہے ہیں زیادہ تر متاثرین علاقوں میں ریلوے روڈ، فوڈ سٹریٹ روڈ، ضلع کچہری، چوک مسجد نور، چوک ڈرائیور ہوٹل، نیابازار، چاندنی چوک، مین بازار کوٹ مراد خاں، موری گیٹ، حاجی فرید روڈ، ریلوے پھاٹک شامل ہیں۔عوامی،سماجی، فلاحی تنظیموں کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے سینئر ووکلا نے مقامی انتظامیہ اور شہریوں نے اعلٰی حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

  • جعلی دودھ کی پیداوار اور سپلائی جاری

    جعلی دودھ کی پیداوار اور سپلائی جاری

    قصور
    مقامی انتظامیہ کی جعلی دودھ تلف کرنے کی کوشش کے باوجود مصنوعی جعلی زہریلے دودھ کی بدستور سرعام فروخت جاری جسکے استعمال سے بچوں اور بڑوں میں مہلک بیماریوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے خاموش زہر لاہور سمیت دیگر کئی شہروں میں بھی سرعام وافر سپلائی کیا جاتا ہے

    تفصیلات کے مطابق قصور اور مضافات میں مضر صحت مصنوعی زہریلا دودھ کا کاروبار عروج پر اس گھناونے کاروبار کو روکنے کے لئے مقامی انتظامیہ نے متعدد بار بھاری مقدار میں جعلی مصنوعی زہریلا دودھ تلف کیا اور موقع پر جرمانے بھی عائد کئے تاہم گوالوں کا مکرو دھندہ زور شور سے جاری ناجائز آمدن سے گوالے راتوں رات بے نامی جائیدادوں کے مالکان بن گئے ملزمان روپے کی خاطر مضر صحت جعلی مصنوعی زہریلا دودھ فروخت کر کے انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں اس زہریلے دودھ کے استعمال سے کئی مہلک بیماریاں پھیل رہی ہیں یہ خاموش قاتل زہریلا دودھ قصور شہر سمیت دوسرے کئی شہروں میں بھی سپلائی کیا جا رہا ہے اس دودھ نامی زہر کو ٹھنڈا کر نے کے نام پر ایک چلر بنایا جاتا ہے جو صرف باہر دکھاوے کے لئے ہوتا ہے مگر اندر مضر صحت مصنوعی جعلی زہریلا دودھ تیا ر کیا جاتا ہے جس میں سرف ، یوریا کھاد ، میٹھا سوڈا ، اور کوکنگ آئل کے علاوہ کارومولین استعمال کی جاتی ہے جس کو مردہ جسم محفوظ رکھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے وہ اس مصنوعی دودھ میں ڈال کر 5 کلو سے 40 کلو پیداوار میں اضافہ کیا جاتا ہے اس زہریلے دودھ کے استعمال سے بچوں کی صحت پر زیادہ اثر ہوتا ہے جس سے معدہ،ہیپاٹائٹس، دل،جگر،گردوں کی مختلف امراض جنم لیتی ہیں یہ مکرو دھندہ پورے ضلع میں پھیلا ہوا ہے مقامی شہریوں، فلاحی،اصلاحی تنظیموں کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے سینئرز وکلاء ایم یاسین فرخ ،یونس کیانی،چوہدری انور ہنجرا،ملک شفیق، ملک عمیر شوکت،حافظ رضوان، ملک بلال،میاں شہباز،ملک عبدالرشید، چوہدری سلیم ساجد ودیگر نے وزیر اعلی پنجاب، گورنر پنجاب، صوبائی وزیر صحت، ڈپٹی کمشنر، اے سی،ڈی پی او،محکمہ فوڈ اور متعلقہ انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس گھناونے کاروبار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جاے اور اسکی روک تھام کیلئے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو ضلع بھر میں مختلف مقامات پر چیک پوسٹوں پر خالص دودھ کی سپلائی اور فروخت کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کریں

  • صحافی کا کوریج کرنا جرم بن گیا ،مقدمہ درج

    صحافی کا کوریج کرنا جرم بن گیا ،مقدمہ درج

    قصور
    پتوکی میڈیا کوریج کرنا صحافی کا جرم بن گیا،مقدمہ درج ،صحافی برادری سراپا احتجاج
    تفصیلات کے مطابق پتوکی کے سینئر صحافی، رپورٹر 24 نیوز رضوان میو پر کار سرکار مداخلت پر دفع 186 کے تحت تھانہ سٹی پتوکی میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے
    صحافی رضوان میو کے مطابق میں پرانی منڈی پتوکی میں میڈیا کوریج کر رہا تھا کہ پولیس چوکی انچارج سٹی پتوکی بلال عاشق ورک نے میڈیا کوریج کرنے پر مجھے روک دیا اور سنگین نتائج کی دهمكیاں دیں تاہم میں کوئی غیر قانونی و غیر اخلاقی کام نا کر رہا تھا
    پتوکی ،قصور ،چھانگا مانگا ،بھائی پھیرو ،چونیاں کے صحافیوں کی رضوان میو رپورٹر 24 نیوز پر جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ صحافی پر ناجائز اور بے بنیاد پرچہ ختم کیا جائے

  • نااہل عملے کی بدولت لوگ قبرستانوں میں کوڑا پھینکنے لگے

    نااہل عملے کی بدولت لوگ قبرستانوں میں کوڑا پھینکنے لگے

    قصور شہر ڈمپنگ پوائنٹ نہ ہونے کیوجہ اور میونسپل کارپوریشن قصور کی عدم دلچسپی، لاپرواہی سے لوگ قبرستانوں میں کوڑا پھینکنے لگے پورا شہر گندگی کا گڑھ بن گیا تعفن پھیلنے لگا ، جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر بدبو سے عوام میں سانس اور معدے کی مختلف بیماریاں پیدا ہونے لگیں، مقامی اور میونسپل کارپوریشن انتظامیہ خاموش تماشائی عوام سراپا احتجاج
    تفصیلات کے مطابق ایشیا میں صفائی ستھرائی رکھنے والہ قصور شہر میونسپل کارپوریشن کی لاپروائی، عدم دلچسپی کیوجہ سے لوگ شہر خاموشاں قبرستانوں میں کوڑا پھینکنے لگے ہیں علاوہ ازیں ہر سٹی حلقہ میں جابجا غلاظت اور گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جس کے تعفن اور بدبو سے مختلف بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں جبکہ چوکوں اور شاہراہوں پر گندگی کے ڈھیر سر عام نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے لوگوں کو مجبوراً گندگی زدہ راستوں سے گزرنا پڑتا ہے
    گلی محلوں میں نمازیوں اور بوڑھے، چھوٹے بچوں کا گزرنا محال ہو گیا ہے
    لوگ گندگی کے ڈھیروں کی وجہ سے سانس اور معدے کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں اس کے علاوہ جہاں گندگی کے ڈھیر بدبو پیدا کر رہے ہیں وہی ڈینگی مچھروں کی افزائش کا بھی سبب بن رہے ہیں میونسپل کارپوریشن کے پاس کوئی ڈمپنگ پوائنٹ نہیں لاپرواہ عملہ کے کوڑا کرکٹ نہ اٹھانے کی وجہ سے سیوریج کی نالیاں بند پڑی ہیں اور غلاظت بھرا گندہ پانی جگہ جگہ کھڑا ہے اور پرانے اور کم اونچے گھروں میں داخل ہو رہا ہے
    جبکہ خاکروب صفائی کیلئے کبھی دیکھنے میں نہیں آتے
    خاکروب معقول رشوت لیئے بغیر صفائی کرنا گوارہ ہی نہیں سمجھتے سول سوسائٹی کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے وکلاء نے صوبائی وزیر صحت ، وزیر بلدیات ڈپٹی کمشنر قصور، ایڈشنل ڈپٹی کمشنر، اے سی، سی ای او میونسپل کارپوریشن سے مطالبہ کیا ہے کہ بلا امتیاز ہر سٹی یونین کی صفائی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں کرپٹ داروغوں اور خاکروبوں کے خلاف کاروائی کرکے ان کو نوکری سے برخاست کیا جا ئے اور کروڑوں کی مشینری کو روہی نالے کی صفائی کے لئے استعمال میں لایا جائے تاکہ شہر کے غلاظت بھرے پانی کی روانی ہو سکے

  • کچھ دو کچھ لو ورنہ گھر جاؤ،اراضی ریکارڈ سنٹر قصور

    کچھ دو کچھ لو ورنہ گھر جاؤ،اراضی ریکارڈ سنٹر قصور

    قصور
    اراضی ریکارڈ سنٹر قصور کرپشن کا گڑھ بن گیا رشوت دو کام لو ورنہ گھر جاؤ ملازمین بھی ٹائوٹ مافیا بن گئے فرد اور پاس شدہ رجسڑیوں کے انتقالات کا حصول ناممکن دور دراز سے آنیوالی متاثرہ عوام شدید سراپا احتجاج حکام بالا سے کاروائی کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق اراضی ریکارڈ سنٹر قصور کے ملازمین سائلین سے ایکسپریس فیس کے نام پر 2000 روپے وصول کئے جا رہے ہیں جبکہ سرکاری خزانے میں صرف 400 روپے جمع کرواتے ہیں
    شہریوں کے مطابق ہر ملازم نے آفس سے باہر اپنے اپنے ٹاؤٹ مقرر کر رکھے ہوئے ہیں جو مبینہ طور پرشہریوں سے مک مکا کرکے پیسے وصول کرتے ہیں اور ملازمین سے ملی بھگت کرکے جلدی فردیں لیکر دیتے ہیں  فردوں کے حصول کے لیے آنیوالے شہریوں کو ہیڈ آفس اندراج کے باوجود کئی کئی گھنٹے انتظار کروانے کے بعد یہ کہہ کر واپس بھیج دیا جاتا ہے کہ سسٹم میں خرابی ہے آپ کل آجانا جبکہ اراضی ریکارڈ سنٹر کے ملازمین اندر سے دروازہ لاک کرکے رشوت دینے والے افراد کے کام کرنے میں مصروف عمل ہوتے ہیں مزید حکومت کیطرف سے عائد کردہ قانون کے مطابق بوقت تصدیق رجسٹری انتقالات کی سرکاری فیس بذریعہ رجسٹری برانچ وصول کی جاتی ہے مگر  عرصہ سے پاس شدہ رجسٹریوں کے بیشتر  انتقالات پینڈنگ چلے آرہے ہیں اس سلسلہ میں جب اراضی ریکارڈ سنٹر قصور کے انچارج محمد صغیر احمد سے رابطہ کیا گیا تو انکا کہنا تھا کہ ہم ایس او پیز کے تحت افراد کو اندر آنے دیتے ہیں دروازہ لاک کرکے کام کرناہماری مجبوری ہے انہوں نے کہا کہ پیسے لینے والی بات میرے علم میں نہیں، متاثرہ عوام ، سول سوسائٹی کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے سینئر وکلاء نے پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی ، بورڈ آف ریونیو، گورنر پنجاب، وزیر اعلیٰ پنجاب ، چیف سیکرٹری سمیت ڈی سی،اے ڈی سی آر،اے اے سی، دیگر اعلیٰ حکام سے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • قصور میں بچوں کے اغواء کا سلسلہ جاری،پولیس کے لئے چیلنج

    قصور میں بچوں کے اغواء کا سلسلہ جاری،پولیس کے لئے چیلنج

    قصور بچوں کے اغواء کا سلسلہ نا رک سکا ایک اور بچہ اغواء لوگوں میں خوف و ہراس
    تفصیلات کے مطابق چونیاں کے علاقے الہ آباد میں دو روز میں نومولود بچی اور بچہ اغواء علاقہ ہو گیا جس سے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا ہے تاہم پولیس تین روز بعد بھی ملزمان کا سراغ لگا کر بچوں کو بازیاب کروانے میں ناکام رہی ہے
    ڈی پی او قصور کی سربراہی میں دو ڈی ایس پی اور آٹھ انسپکٹرز پر مشتمل تین کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں جو ملزمان کی گرفتاری کے لیئے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے مغوی بچوں کو بازیاب کروائیں گی

  • ریسکیو قصور کی کاوش نوجوان کی جان بچا لی

    ریسکیو قصور کی کاوش نوجوان کی جان بچا لی

    قصور
    چونیاں کے نواحی قصبے شام کوٹ نو میں نوجوان گہرے کنویں میں گر گیا،ریسکیو 1122 نے بڑی جدوجہد سے باہر نکالا
    تفصیلات کے مطابق شام کوٹ نو نزد چونیاں میں 40 سالہ نوجوان محمد طفیل ولد محمد بشیر ڈیرہ سردار جہانگیر پر 40 فٹ نیچے ٹیوب ویل کے کنویں میں گر گیا جس کی اطلاع لوگوں نے ریسکیو 1122 کو دی جنہوں نے بروقت پہنچ کر نوجوان کو کافی جدوجہد سے باہر نکالا اور ہسپتال منتقل کیا جہاں اس کی حالت بہتر ہے
    لوگوں نے نوجوان کی جان بچانے پر ریسکیو قصور کا شکریہ ادا کیا

  • ظلم کی انتہاہ،رشوت نا دینا مہنگا پڑ گیا

    ظلم کی انتہاہ،رشوت نا دینا مہنگا پڑ گیا

    قصور
    پتوکی میں ظلم کی انتہا بلدیہ پتوکی میونسپل کمیٹی میں ملازم نے ریڑھی بان کے سیب گرا دیئے وجہ رشوت نا دینا
    تفصیلات کے مطابق بلدیہ پتوکی کے راشی اہلکار نے رشوت نا دینے پر غریب ریڑھی بان کے سیب سڑک پر پھینک دیئے بجائے اسکے اسے ریڑھی غلط جگہ لگانے پر بھگا دیتا قانون شکنی کرتے ہوئے ریڑھی بان کو ڈرایا دھمکایا اور سیب سڑک پر پھینک دیئے جو لوگوں کی سواریوں اور پاؤں کے نیچے آکر خراب ہو گئے
    اس راشی آدمی کو اتنی شرم نہیں آئی کہ وہ غریب بھی اپنی روزی روٹی کیلئے آیا ہے اسکی ریڑھی کو ایسے پھینکا جیسے ریڑھی والے کا حرام کا مال ہو ویسے بھی کوئی عجیب بات نہیں ان بلدیہ ملازموں افسروں کے گھروں میں سبزی فروٹ گوشت کریانہ یہ سب فری میں جاتا ہے حرام کھانا انکو راس آگیا ہے جو نہیں دیتا اسکو جرمانہ کرتے ہیں سبزی منڈی میں ریٹ تو کنٹرول ہوتے نہیں ان سے
    یہ اپنا غصہ غریب ریڑھی بانوں پر غصہ نکالتے ہیں
    اس پر لوگوں کا کہنا ہے کہ ڈی سی قصور کو فوری نوٹس لیکر اس درجہ چہارم ملازم کو معطل کرکے اسکے خلاف سخت کاروائی کرنی چاہیئے

  • وارداتوں کا سلسلہ جاری صحافی بھی لٹ گیا

    وارداتوں کا سلسلہ جاری صحافی بھی لٹ گیا

    قصور
    وارداتوں کا سلسلہ جاری تھانہ مصطفی آباد کے علاقے میں صحافی کے ساتھ ڈکیتی کی واردات
    تفصیلات کے مطابق تھانہ مصطفی آباد کے علاقہ لکھنیکی میں سینئیر صحافی تحصیل رپورٹر قصور روز نامہ سماء محمد عطاء الرحمن بھلر کیساتھ ڈکیتی کی واردات ہو گئی ڈاکو صحافی سے 17 ہزار اے زائد نقدی اور موبائل فونز چھین کر فرار ہو گئے ایس ایچ او تھانہ مصطفی آباد اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ گئے
    قصور میں چند دنوں سے وارداتیں بڑھ گئی ہیں جس سے ہر کوئی پریشان ہے