Baaghi TV

Category: قصور

  • منشیات فروش دیڑھ کلو چرس سمیت گرفتار،مقدمہ درج

    منشیات فروش دیڑھ کلو چرس سمیت گرفتار،مقدمہ درج

    قصور
    جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائیاں تیز،منشات فروش رنگے ہاتھوں گرفتار

    تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس قصور نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں جس کے
    منشیات فروشوں کو پکڑنے کی خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں
    تھانہ صدر پتوکی نے کاروائی کرتے ہوئے بدنام زمانہ منشیات فروش عاشق عرف بولا گڑھی گر فتار کو رنگے ہاتھوں منشیات فروخت کرتے کر لیا جس کے قبضہ سے ڈیڑھ کلوگرام کے قریب چرس برآمد ہوئی ہے
    پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے

  • درجنوں وارداتیں،شہری  مال سے محروم،خوف و ہراس

    درجنوں وارداتیں،شہری مال سے محروم،خوف و ہراس

    قصور
    گردونواح میں نامعلوم ڈاکو شہریوں کو بزور اسلحہ بندی بنا کر زبردستی لاکھوں روپے نقدی،موٹر سائیکل،موبائل فونز،ڈش رسیورز،میموری کارڈ و دیگر قیمتی سامان لوٹ کر موقع سے فرار۔ قاری شرافت نے پولیس تھانہ صدر قصور میں مقدمہ درج کروایا ہے کہ اٹھیل پور گاؤں میں میرے گھر میں دیوار پھلانگ کر نامعلوم آئے اور اسلحہ کے زور پر نقدی،4 عدد بیٹریاں ودیگر سامان لوٹ کر لے گئے ہیں۔رضا اشرف نے پولیس تھانہ صدر قصور میں اطلاع دی ہے کہ بائی پاس کے قریب تین کس افراد نے گن پوائینٹ پر مجھ سے ایک عدد ٹیب،20 ہزار روپے نقدی اور موبائل فون لوٹ لیے ہیں
    چک نمبر 1 روسہ ٹبہ کے رہائشی کرامت علی نے پولیس تھانہ صدر چونیاں میں مقدمہ درج کروایا ہے کہ روسہ ٹبہ میں میری موبائل شاپ کی چھت پھاڑ کر نامعلوم چور 20 موبائلز،میموری کارڈ،اسیسری،سامان،،30ڈش رسیور اور نقدی رقم چوری کرکے لے گئے ہیں
    ۔زیشان نے پولیس تھانہ صدر چونیاں میں اطلاع دی ہے کہ کھائی روڈ پر نامعلوم نے میری موٹر سائیکل چھین لی ہے۔اشفاق احمد نے پولیس تھانہ الہ آباد میں اطلاع دی ہے کہ تلونڈی کے قریب تین کس نے گن پوائینٹ پر مجھ سے 73 ہزار روپے نقدی اور موبائل فون چھین لیے ہیں۔چک 30 کے رہائشی محمد جاوید انور نے پولیس تھانہ صدر پتوکی میں درخواست دی ہے کہ مسجد قدس کا صدر ہوں گزشتہ روز مسجد کے امام صاحب نے بتایا ہے کہ نامعلوم چور مسجد سے تقریباً 430 قرآن مجید اور دیگر مذہبی کتابیں چوری کرکے لے گئے ہیں۔مقامی پولیس مصروف کاروائی ہے۔

  • 5 دن تک زندہ شحض برہنہ حالت میں گندگی میں پڑا رہا،کسی نے نا مدد کی

    5 دن تک زندہ شحض برہنہ حالت میں گندگی میں پڑا رہا،کسی نے نا مدد کی

    قصور
    بےحسی کی حد،5 دن سے گندگی کے ڈھیر میں ایک شحض بھوکا پیاسا پڑا رہا،کسی بھی علاقہ مکین نے نا تو نکالا نا ہی ہسپتال منتقل کیا

    تفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل پتوکی کے علاقے
    ملانوالا بس سٹاپ جی ٹی روڈ پتوکی میں گزشتہ دن گندگی کے ڈھیر پر
    5 دن سے ایک جیتا جاگتا شخص بھوکا پیاسا پڑا مر رہا تھا لیکن افسوس صد افسوس کہ کسی نے نا تو اسے گندگی سے اٹھایا اور نا ہی کسی نے اس کی مدد کی حتی کہ ریکسیو 1122 وہ کسی بھی فلاحی تنظیم کو مطلع نا کیا
    مطلوبہ شحض برہنہ حالت میں پڑا تھا جسے ایک رحمدل راہگیر نے دیکھا اور فوری ریسکیو 1122 کو کال کی
    ریسکیو 1122 نے مطلوبہ شحض کر بڑے پیار اور محبت سے گندگی کے ڈھیر سے نکالا اور ہسپتال منتقل کیا

  • ہنٹنگ سیزن 2023-2024 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا

    ہنٹنگ سیزن 2023-2024 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا

    قصور
    وائلڈ لائف اینڈ پارکس ڈیپارٹمنٹ نے ہنٹنگ سیزن 2023-2024 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

    تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر جنرل وائلڈ لائف اینڈ پارکس پنجاب نے پنجاب بھر میں تمام علاقائی ڈپٹی ڈائریکٹرز وائلڈ لائف کو نوٹیفکیشن جاری کر دیا
    جس میں آبی پرندوں و دیگر مخصوص پرندوں کے شکار کے ہنٹنگ سیزن 2023-24 کا نوٹیفکیشن جاری کرنے ہدایت کی گئی ہے

    محکمہ وائلڈ لائف اینڈ پارکس پنجاب اینڈ وائلڈ لائف ایکٹ، 1974 کے پہلے شیڈول میں شامل آبی و دیگر مخصوصہ پرندوں کے شکار کے سیزن کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے 1 اکتوبر 2023 سے 31 مارچ 2024 تک صرف ہفتہ،اتوار کے دن شکار کی اجازت دی ہے اور ضلع بھر کے آفیسرز کو حکم جاری کیا ہے کہ
    قوانین پر سختی سے عمل کروایا جائے اور صرف مستند اسلحہ اور مستند وائلڈ لائف شوٹنگ لائسنس کے حامل شکاریوں کو شکار کی اجازت دیتے ہوئے پرندوں کی شکار کی حد پہ پابندی کروائی جائے اور خلاف ورزی کی صورت میں مقدمات بنائے جائیں

  • پولیس ناکام،خود چور ڈاکو پکڑنے لگی عوام

    پولیس ناکام،خود چور ڈاکو پکڑنے لگی عوام

    قصور
    عوام اپنی مدد اپکے تحت چور ڈاکو پکڑنے پہ مجبور، حراست میں لئے گئے چور کی اطلاع
    ریسکیو 15 پہ دینے کے باوجود پولیس 3 گھنٹے بعد آئی

    تفصیلات کے مطابق قصور میں لوگ چوروں ڈاکوؤں کو اپنی مدد آپ کے تحت پکڑنے پہ مجبور ہیں
    محمد ریحان ولد قاری عبدالجبار سکنہ کوٹ اندرون موری گیٹ قصور نے تھانہ صدر قصور میں درخواست دی کہ قادر آباد سٹی قصور میں وہ ایک نیا مکان تعمیر کر رہا ہے جس میں چند دن قبل چوری کی واردات ہوئی اور جس کی پولیس کو تحریری درخواست دی گئی تاہم کوئی شنوائی نا ہوئی اسی دوران مورخہ 27/9/23 کو میں اپنے زیر تعمیر مکان سکنہ قادر آباد میں صبح کے وقت چکر لگانے گیا تو دو نامعلوم ملزمان سامان چوری کر رہے تھے جن میں سے ایک کو میں نے موقع پہ رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور پولیس کو بذریعہ ریسکیو 15 اطلاع کی کہ میں نے نامعلوم چور کو پکڑا ہے تاہم اطلاع کے تین گھنٹوں بعد پولیس آئی اور ملزم کو حراست میں لے کر چلی گئی
    مدعی نے ڈی پی او قصور سے درخواست کی ہے کہ میری پہلی درخواست پہ ابھی تک کوئی عمل درآمد نہیں ہوا اور میں نے خود چور کو پکڑ کر حوالہ پولیس کیا ہے لہذہ میری موجودہ درخواست پہ مقدمہ درج کرکے کاروائی کا آغاز کیا جائے اور مجھے میرا قیمتی سامان واپس دلوایا جائے

  • شہری سیوریج ملا گندہ پانی پینے پہ مجبور،نوٹس کی اپیل

    شہری سیوریج ملا گندہ پانی پینے پہ مجبور،نوٹس کی اپیل

    قصور
    بیرون کوٹ غلام محمد قصور کے رہائشی عرصہ دراز سے سیوریج ملا پانی پینے پہ مجبور،بار بار تحریری درخواستوں کے بھی شنوائی نا ہو سکی،انتظامیہ کے دعوے بے نقاب

    تفصیلات کے مطابق بیرون کوٹ غلام محمد کچہری روڈ قصور کے رہائشی عرصہ دراز سے واٹر سپلائی کے پانی میں سیوریج ملا پانی پینے پہ مجبور ہیں جس کی آگاہی ضلعی انتظامیہ،میونسیپل کارپوریشن کو بار بار تحریری طور پہ کی گئی ہے تاہم کوئی شنوائی نہیں ہوئی اور طفل تسلیاں دے کر واپس موڑ دیا جاتا ہے جس پہ شہری سراپا احتجاج ہیں
    سیوریج ملا گندہ پانی پینے سے شہری مختلف قسم کی خطرناک بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں تاہم انتظامیہ خواب خرگوش کے مزے لینے میں مصروف ہے
    ایک طرف تو ضلعی انتظامیہ و میونسپل کارپوریشن صفائی کے دعویدار ہیں تو دوسری جانب بلکل ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز آفسز و میونسپل کارپوریشن دفتر کی ناک کے تلے قریب ترین محلے میں لوگ گندا پانی پی کر بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں جو کہ محکموں کی کارکردگی پہ سوالیہ نشان ہے
    اہلیان علاقہ نے کمشنر لاہور سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

  • آشوب چشم کی وباء میں اضافہ،سکولوں میں حاضری کم ہو گئی

    آشوب چشم کی وباء میں اضافہ،سکولوں میں حاضری کم ہو گئی

    قصور
    آشوب چشم سے متاثرہ افراد میں اضافہ،سکولوں میں حاضری کم ہو گئی

    تفصیلات کے مطابق ضلع قصور میں دو ہفتے سے آشوب چشم کا وار جاری ہے جو تیز سے تیز تر ہوتا جا رہا ہے جس کے باعث ہزاروں بچے ،بوڑھے اور جوان آشوب چشم کا شکار ہو کر کام ،کاروبار سے محروم گھروں میں بیٹھے ہیں جبکہ اس بڑھتی ہوئی وبا کے پیش نظر
    محکمہ صحت پنجاب نے عوام الناس کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا کہا ہے اور تنبیہہ کی ہے کہ ہینڈ سینیٹائزرز کا استعمال لازمی شروع کیا جائے اور ہاتھ دھوئے بغیر آنکھوں کو ہاتھ مت لگائیں
    اور آنکھوں کے انفیکشن والے مریض کی چیزیں استعمال نہ کی جائیں مریض کا تکیہ، کپڑے، ادویات، عینک کو الگ رکھا جائے، مریض انفیکشن کے دوران چہرے کے استعمال کی چیزوں کو دوبارہ استعمال نہ کرے اور تازے پانی سے آنکھوں کو دھویا جائے

  • قصورکےایک غریب گھر میں پیدا ہونے والی ‘اللہ وسائی’ فن گائیکی کی بے تاج ملکہ  بنی

    قصورکےایک غریب گھر میں پیدا ہونے والی ‘اللہ وسائی’ فن گائیکی کی بے تاج ملکہ بنی

    گائے گی دنیا گیت میرے

    ملکہ ترنم نورجہاں

    شوبز کی تاریخ کی شاید واحد ہستی تھی کہ جو اپنے بچپن سےلےکر بڑھاپے تک سپرسٹار رہی 21 ستمبر 1926ء کو قصور کے ایک غریب گھر میں پیدا ہونے والی ‘اللہ وسائی’ ، صرف پانچ سال کی عمرمیں اپنے خاندان کے لئے دھن دولت کی دیوی بن گئی تھی نو سال کی عمر میں اپنی گائیکی سے لاہور سٹیج پر داد سمیٹ رہی تھی کولکتہ میں بننے والی اپنی پہلی پنجابی فلم شیلا عرف پنڈدی کڑی (1935) میں اداکاری کرتی اور گیت گاتی ہوئی نظر آئی۔

    اس کا فلمی نام ‘بے بی نورجہاں’ ، فلم پوسٹروں اور اشتہارات پر بڑے نمایاں انداز میں شائع ہوتا تھا سولہ سال کی عمر میں لاہور ساختہ اردو ہندی فلم خاندان (1942) میں ہیروئن بنی جس میں اس کے گیتوں نے پورے برصغیر میں دھوم مچا دی تھی چالیس کے عشرہ میں ممبئی کی فلموں میں صف اول کی اداکارہ اور گلوکارہ تھی پچاس کے عشرہ میں پاکستان کی عظیم گلوکارہ اور اداکارہ کے طور اپنے فن کی بلندیوں پرنظر آئی۔

    ساٹھ کے عشرہ سے پس پردہ گلوکاری شروع کی اور نوے کے عشرہ میں اپنی بیماری تک ، فن گائیکی کی بے تاج ملکہ تھی۔ سات عشروں تک بام عروج پر رہنے والی اس حسین و جمیل ہستی پر قدرت کے انعام و اکرام کی برسات دیکھئے کہ دولت و شہرت کی فراوانی رہی اور وہ زندگی بھر کبھی کسی کی محتاج نہیں ہوئی۔ 23 دسمبر 2000ء کو جب سفر آخرت پر روانہ ہوئی تو وہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اور شب القدر کی متبرک رات تھی۔۔!

    نور جہاں کا فنی کیریئر چار ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا دور تقسیم سے قبل کے گیت ہیں۔ دوسرا دور بطور اداکارہ اور گلوکارہ فلموں کا دور تھا۔ تیسرا دور ساٹھ اور ستر کے عشروں کے شاہکار گیت ہیں۔ چوتھا اور آخری دور ایکشن فلموں کا تھا جن میں اگر میڈم نورجہاں کے گیت نہیں ہوتے تھے تو ڈسٹری بیوٹرز فلم ہی نہیں اٹھاتے تھے۔ ، وہ فلم پھنے خان (1965) کے گیت "جیو ڈھولا۔۔” سے لے کر فلم ماں دا لال (1974) کے گیت "میں پل پل تینوں پیار کراں۔۔” تک کا دور ہے

    ملکہ ترنم نورجہاں کے اب تک ایک ہزار سے زائد فلموں میں دوہزار سے زائد گیتوں کا ریکارڈ دستیاب ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق انہوں نے کم از کم ساڑھے تین سے چار ہزار کے قریب فلمی گیت گائے تھے۔ میڈم کے گائے ہوئے فلمی دوگانوں کی سب سے بڑی تعداد مسعودرانا کے ساتھ تھی۔ اعدادوشمار سے کھیلتے ہوئے بڑی سخت حیرت ہوئی کہ ان دونوں عظیم گلوکاروں کی مشترکہ فلموں کی تعداد ساڑھے تین سو سے زائد تھی جو گلوکاروں کی کسی بھی جوڑی کے لئے ایک منفرد ریکارڈ ہے۔

    دوسرے نمبر پر اس فہرست میں سب سے زیادہ مشترکہ فلموں کا ریکارڈ مالا اور احمدرشدی کا ہے جن کی تعداد سوا دو سو ہےلیکن ان کے دوگانوں کی تعداد سو سے بھی زائد ہے جبکہ میڈم نورجہاں اور مسعودرانا کے دوگانوں کی تعداد صرف 57 ہے اس کی ایک بڑی وجہ اردو اور پنجابی فلموں کا ایک بنیادی فرق ہے ۔

    مسعودرانا اور ملکہ ترنم نورجہاں کی پہلی مشترکہ فلم بنجارن (1962) تھی لیکن پہلا دوگانا فلم میرے محبوب (1966) میں گایا گیا تھا ” کلی مسکرائی جو گھونگھٹ اٹھا کے ، خدا کی قسم تم بہت یاد آئے۔۔” حمایت علی شاعر کے لکھے ہوئے اس گیت کی دھن موسیقار خلیل احمد نے بنائی اور فلم میں یہ گیت درپن اور شمیم آرا پر فلمایا گیا تھا۔

    ان دونوں کا پہلا پنجابی دوگانا اگلے سال کی فلم نیلی بار (1967) میں تھا ” میرے دل دا وجے اک تارا ، سدا وسدا روے تیرا دوارا ، نی میرا دل کھون والئے۔۔” موسیقار کالے خان شبو کی دھن میں یہ گیت یوسف خان اور شیریں پر فلمایا گیا تھا۔ اب تک کی معلومات کے مطابق آخری دوگانا ، فلم نہلا دہلا (1994) میں تھا جو وجاہت عطرے کی دھن میں روبی نیازی اور عمرشریف پر فلمایا گیا تھا ” آجا ، آجا، پیار پیار پیار پیار کرئیے ، پر لا کے بدلاں چہ اڈ چلیے۔۔

    ملکہ ترنم نورجہاں کی فنی صلاحیتوں کی تعریف کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ ان سے زیادہ موسیقی کی سوجھ بوجھ کم ہی گلوکاروں کو حاصل تھی۔ لیکن یہ بھی ایک حقیت ہے کہ کوئی فن کبھی کسی خاص فنکار تک محدود نہیں رہتا۔ میڈم کے مقابلے میں جن گلوکاروں نے گایا اور نام کمایا ، وہ کوئی معمولی فنکار نہیں تھے۔ مسعودرانا ایسے ہی ایک گلوکار تھے جو فنی اصطلاح میں ایک عطائی تھے لیکن بڑے بڑے کسبیوں پر بھاری تھے۔

    قدرت نے انہیں جو آواز اور انداز دیا تھا ، اس نے انہیں مردانہ گائیکی میں بے مثل بنا دیا تھا، فلمی گلوکار اپنی مرضی سے نہیں گاتے تھے ، فلموں میں ان کی مانگ ، ان کے میعار اور مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہوتی تھی۔ مسعودرانا کو میڈم نورجہاں کی طرح سب سے زیادہ فلموں میں سب سے زیادہ گیت گانے کا اعزاز حاصل ہے اور ان دونوں کو پنجابی فلموں میں مکمل اجارہ داری حاصل ہوتی تھی۔

    مسعودرانا اور میڈم نورجہاں کے 13 گیت ایسے تھے جنہیں مقابلے کے گیت کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک ہی گیت کو دو الگ الگ گلوکار گاتے ہیں ، ریڈیو پر ایسے گیتوں کو ‘ایک گیت دو آوازیں’ کے نام سے پیش کیا جاتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے بیشتر گیتوں میں مسعودرانا کو میڈم نورجہاں پر برتری حاصل ہوتی تھی۔

    اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ایک نسوانی آواز چاہے جتنی بھی پاور فل ہو ، وہ ایک جاندار مردانہ آواز کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ پھر مسعودرانا جیسا کھلے گلے اور اونچی سروں میں گانے والا ایک بے مثل گلوکار ہو تو مقابلہ ناممکن ہوجاتا تھا۔ مسعودرانا ، اپنی اس خداداد خوبی کی وجہ سے دیگر گلوکاروں پر چھا جاتے تھے اور سننے والوں پر بڑا گہرا اثر ہوتا تھا۔ ان گیتوں کو سن کر میرے دل میں مسعودرانا کی قدرومنزلت میں اضافہ ہوا تھا –

    مسعودرانا اور میڈم نورجہاں نے مقابلے کا پہلا گیت فلم باؤجی (1968) میں گایا تھا "دل دیاں لگیاں جانے نہ۔۔” اس شوخ گیت کے موسیقار رشیدعطرے تھے اور بول حزیں قادری نے لکھے تھے۔

    دوسرا گیت فلم دلاں دے سودے (1969) میں نذیرعلی کی دھن میں خواجہ پرویز کے بول تھے "بھل جان اے سب غم دنیا دے۔۔” دھیمی سروں میں گائے ہوئے اس گیت میں بھی مسعودرانا نے ثابت کردیا تھا کہ کیوں انہیں پاکستان کا سب سے بہترین ہر فن مولا فلمی گلوکار کہا جاتا تھا۔ ویڈیو پرنٹ میں یہ گیت نہیں تھا لیکن فلم میں موجود تھا۔

    اسی سال کی فلم شیراں دی جوڑی (1969) میں بابا چشتی کی دھن میں ایک المیہ گیت "تیرے ہتھ کی بے دردے آیا ، پھلاں جیا دل توڑ کے۔۔” میں ایک بار پھر مسعودرانا نے اپنی عظمت کی دھاک بٹھا دی تھی۔ اس دور میں گیتوں کے مکھڑے گانے میں مسعودرانا کا کوئی ثانی نہیں ہوتا تھا۔ وہ پہلے بول سے ہی سننے والے کو اپنے قابو میں کر لیتے تھے۔

    فلم تیرے عشق نچایا (1969) کے اس گیت میں البتہ میڈم نورجہاں کو مسعودرانا پر واضح برتری حاصل تھی "تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا۔۔” میڈم کا گایا ہوا یہ سپرہٹ گیت فلم کا تھیم سانگ تھا جو فلم کے آخر میں مسعودرانا کے گائے ہوئے گیت میں مکس کیا گیا تھا اور بڑا گہرا اثر چھوڑتا تھا۔

    مسعودرانا کے یادگار گیتوں میں ایک اور گیت "یا اپنا کسے نوں کر لے ، یا آپ کسے دا ہو بیلیا۔۔” بھی تھا جو فلم دل دیاں لگیاں (1970) میں ماسٹرعنایت حسین کی دھن میں حزیں قادری نے لکھا تھا۔ میڈم نے اس گیت کو سنجیدہ انداز میں گایا تھا جبکہ مسعودرانا کا گیت شوخ انداز میں تھا ۔

    فلم آنسو (1971) میں پہلی بار مسوسیقار نذیرعلی نے خواجہ پرویز کا لکھا ہوا ایک اردو گیت "تیرے بنا یوں گھڑیاں بیتیں ، جیسے صدیاں بیت گئیں۔۔” ان دونوں سے گوایا تھا جو ان کا اکلوتا مقابلے کا اردو گیت تھا۔۔ مسعودرانا اس گیت کو جتنی آسانی اور قدرتی انداز میں گاتے ہیں ، میڈم اس پر پورا زور لگا کر گا رہی ہیں جو سمجھ سے بالاتر ہے۔

    اسی سال کی فلم جٹ دا قول (1971) میں موسیقار بخشی وزیر صاحبان نے یہ گیت تخلیق کیا تھا "جان والئے ، تینوں میں سنائی نئیوں گل دل والی نی۔۔” مسعودرانا نے یہ گیت انتہائی شوخ انداز میں گایا تھا اور آغاز میں بڑی لمبی تان لگائی تھی جو بے مثل تھی لیکن یہ گیت سنجیدہ انداز میں میڈم نورجہاں کی آواز میں زیادہ مقبول ہوا تھا جو ریڈیو پر اکثر بجتا تھا۔

    فلم دامن اور چنگاری (1973) میں موسیقار ایم اشرف نے تسلیم فاضلی کا ایک دوگانا ان دونوں سے ایک شوخ رومانٹک گیت گوایا تھا "یہ وعدہ کرو کہ محبت کریں گے۔۔” اسی گیت کو پھر مسعودرانا کی آواز میں سنجیدہ انداز میں گوایا تھا "یہ وعدہ کیا تھا ، محبت کریں گے۔۔” جو شباب کیرانوی کا لکھا ہوا تھا۔ دونوں گیت بڑے مقبول ہوئے تھے۔

    فلم نگری داتا دی (1974) میں تنویرنقوی کا لاہور شہر کا ایک خوبصورت روحانی تعارف نذیرعلی نے کمپوز کیا تھا "سجنوں ، اے نگری داتا دی ، ایتھے آندا کل زمانہ۔۔” بنیادی گیت مسعودرانا کا گایا ہوا انتہائی متاثرکن گیت تھا۔ اس گیت میں مکھڑا "گنج بخش فیض عالم مظہر نورخدا۔۔” جتنا خوبصورت مسعودرانا نے گایا تھا ، آج تک کوئی دوسرا گلوکار اس سے بہتر نہیں گا سکا۔ میڈم نورجہاں نے اس گیت کو ثانوی انداز میں گایا تھا جو کم ہی سننے میں آتا تھا۔

    فلم نوکرووہٹی دا (1974) میں ایک اور بھاری بھر کم گیت تھا "نی چپ کر دڑ وٹ جا ، نہ عشق دا کھول خلاصہ۔۔” خواجہ پرویز کے گائے ہوئے اس گیت کی دھن وجاہت عطرے نے بنائی تھی اور ان دونوں نے یہ گیت بڑے شوخ انداز میں گایا تھا ، مسعودرانا کو بلاشبہ اس گیت میں بھی برتری حاصل تھی جس کی ایک وجہ منورظریف پر فلمایا جانا بھی تھا۔

    فلم ظالم تے مظلوم (1974) میں وجاہت عطرے کی دھن میں یہ واحد گیت تھا جو مقبول نہیں ہوا تھا "میرے دل نوں آگئی ایں پسند کڑیئے۔۔” یہ بھی ایک شوخ گیت تھا۔

    فلم گاما بی اے (1976) میں وزیرافضل کی دھن میں یہ گیت بھی بڑا مقبول ہوا تھا "نیندراں نئیں آندیاں۔۔” اس گیت کو بھی زیادہ تر مسعودرانا ہی سے منسوب کیا جاتا ہے حالانکہ میڈم نے بھی بڑے اچھے انداز میں گایا تھا۔

    اب تک کی معلومات کے مطابق آخری گیت فلم نرگس (1992) میں تھا "جینا میں نئیں جینا ، بن یار دے۔۔” ایم اشرف کی دھن میں یہ گیت خواجہ پرویز نے لکھا تھا۔ یہ دور میڈم نورجہاں کا تھا جو فلمی گائیکی پر چھائی ہوئی تھیں جبکہ مسعودرانا کی آواز میں وہ جان نہیں رہی تھی ، جو ان کی پہچان ہوتی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • آشوب چشم کی وباء سے لوگ سخت پریشان

    قصور
    ضلع بھر میں آشوب چشم کی وباء سے لوگ متاثر،ادویات بھی مہنگی اور ڈاکٹروں کی فیسیں بھی لوگوں کی پہنچ سے دور

    تفصیلات کے مطابق ضلع قصور میں گزشتہ چند دنوں سے آشوب چشم نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں جس کے باعث لوگ سخت پریشان ہیں
    بچے،بوڑھے،جوان،مرد و عورت آنکھوں کی بیماری سے سخت پریشان ہیں
    آشوب چشم کے مریضوں کی آنکھوں سے پانی بہنا،درد،آنکھوں کی سرخی قابل تکلیف ہے
    مہنگائی کے اس دور میں ایک تو ادویات بہت مہنگی ہیں تو اوپر سے ڈاکٹروں کی فیسیں بھی بہت زیادہ ہیں جس سے مریض سخت پریشان ہیں نیز بیماری بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے
    شہریوں نے محکمہ صحت سے اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے

  • 18 سالہ لڑکے کے قاتل تاحال فرار،انصاف کی اپیل

    18 سالہ لڑکے کے قاتل تاحال فرار،انصاف کی اپیل

    18 سالہ بڈھا ڈوگر کے قاتل گرفتار نہ کرنے پر وارثان کا احتجاج وزیر اعلیٰ آئی جی پنجاب پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ مرحلہ وار تین قتل کرنے کے باوجود ملزمان کا آزاد دندناتے پھرنا لمحہ فکریہ ہے تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ملزمان ضیغم عرف باؤ ڈوگر ۔اصف ڈوگر اور جمال ڈوگر نے 18سالہ بڈھا ڈوگر نامی نوجوان کو اپنی اکلوتی بہن کے ساتھ راہ جاتے ہوئے سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا جسپر تھانہ گنڈا سنگھ والا مقدمہ نمبر399/23 تو درج ہوگیا تاہم مقامی پولیس اب تک ملزمان کو گرفتار نہ سکی مدعی مقدمہ محمد اکرم ڈوگر نے میڈیا کو بتایا کہ قبل ازیں ملزمان نے زمین ہتھیانے کے لئے مقتول کے والد یاسین نامی کو بھی قتل کر دیا تھا جو بعد ازاں ملزمان نے مقتول کی بیوہ کو اسکے بیٹے کو مار دینے کی دھمکیاں دیں تو بیوہ نے اپنے اکلوتے بیٹے کی جان بچانے کے لئے ملزمان سے صلح کرلی مدعی مقدمہ نے بتایا کہ ان کے خاندان کے تین لوگوں کو ناحق قتل کردیا گیا جبکہ ایک بھی ملزم گرفتار نہ ھے ملزمان مختلف طریقوں سے انہیں حراساں کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور مقامی سیاست دان بھی ان کی پشت پناہی میں مشغول ہیں متاثرین و اہلیان علاقہ معززین نے اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کی اپیل کی ھے ۔مقامی پولیس ایس ایچ او مہر عبدالرشید نے اپنے موقف میں بتایا کہ دو نامزد ملزمان عبوری ضمانت پر ہیں اور ایک ملزم کی گرفتاری کے لئے کوشش کر رہے ہیں جسے جلد گرفتار کر لیں گے ۔