Baaghi TV

Category: لاہور

  • باغی ٹی وی کی طرف سے لکھاریوں کے لیے75 سالہ جشن آزادی کی خوشی میں تحریری مقابلہ

    باغی ٹی وی کی طرف سے لکھاریوں کے لیے75 سالہ جشن آزادی کی خوشی میں تحریری مقابلہ

    لاہور:باغی ٹی وی کی طرف سے لکھاریوں کے لیے75 سالہ جشن آزادی کی خوشی میں تحریری مقابلہ،اطلاعات کےمطابق پاکستان میں سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کے ایک بڑے نام جس کو دنیا باغی ٹی وی کےنام سے جانتی ہے، کی طرف سے اس سال پاکستان کے قیام کی 75 ویں جشن ازادی کے موقع پر اپنے وطن عزیز کے قیام سے لیکر اب تک کے سفر کوبہترین انداز میں مرتب کرنے کے حوالے سے ایک تحریری مقابلے کا اعلان کیا ہے

    اس تحریری مقابلے کا "موضوع”
    ” 1947ء سے 2022ء تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں۔۔۔”

    تحریری مقابلے میں شرکت کی شرائط:
    1- تحریر مختصر مگر جامع اسلوب میں لکھی ہو (کم سے کم ایک ہزار الفاظ اور زیادہ سے زیادہ پندرہ سو الفاط پر مبنی ہو)۔
    2- ذاتی تحقیق اور تخلیق پر مبنی تحریر ہو (سرقہ بازی والی تحاریر رد قرار پائیں گی)۔
    3-موضوع پر مکمل گرفت پر مبنی تحریر ہو (غیر مصدقہ و افواہوں پر مبنی نہ ہو)۔
    تحریر جمع کروانے کی آخری تاریخ، 8 اگست مقرر کی گئی ہے
    نتائج کا اعلان 13 اگست کو کیا جائے گا

    مقابلہ میں شریک تمام لکھاریوں کی تحریریں باغی ٹی وی پر شائع کی جائیں گی،پوزیشن ہولڈر کو انعام،سرٹفکیٹ دیا جائے گا

    تو انتظار کس بات کا۔ ۔ ۔ اٹھاؤ قلم اور ہو جاؤ شروع!!!

    تحریر اپنی شناختی کارڈ کی کاپی کے ساتھ ای میل کریں

    blog@baaghitv.com

  • پاکستان کی بھارت میں شطرنج اولمپیاڈ کو سیاسی رنگ دینے کی بھارتی کوششوں کی مذمت

    پاکستان کی بھارت میں شطرنج اولمپیاڈ کو سیاسی رنگ دینے کی بھارتی کوششوں کی مذمت

    لاہور:بھارت میں منعقد ہونے والے 44ویں شطرنج اولمپیاڈ کا بائیکاٹ کرنے والی پاکستانی ٹیم واہگہ کے راستے وطن واپس پہنچ گئی ، دوسری طرف پاکستان نے بھارت کے شہر چنائی میں منعقد ہونے والے 44 ویں شطرنج اولمپیاڈ کو سیاسی رنگ دینے کی بھارتی کوششوں کی شدید مذمت کی ہے۔

    اطلاعات کےمطابق پاکستانی ٹیم انٹرنیشنل چیس فیڈریشن کی دعوت پر چنائی میں منعقد ہونے والے ان مقابلوں میں شرکت کے لیے پہنچی تھی، تاہم یونٹ کی مشعل کو بھارت کے غیرقانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے علاقوں سے گزارنے پر احتجاجا پاکستان نے ایونٹ کا بائیکاٹ کر دیا

    دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت نے ٹورنامنٹ کی مشعل کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ خطے مقبوضہ جموں و کشمیر سے گزار کر اس ایونٹ کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی ہے جو افسوسناک ہے، واضح رہے کہ مشعل کو21 جولائی 2022 کو سری نگر سے گزارا گیا تھا۔

     

     

    بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کھیلوں کو سیاسی رنگ دینے اور انہیں مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی بھارتی کوشش کی مذمت کرتا ہے، پاکستان نے بھارتی اقدام کے خلاف بطور احتجاج 44 ویں شطرنج عالمی ٹورنامنٹ میں شرکت نہ کرنے اور اس معاملے کو بین الاقوامی شطرنج فیڈریشن کے ساتھ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    پاکستان کو انٹرنیشنل چیس فیڈریشن نے 28 جولائی سے 10 اگست 2022 تک بھارتی شہر چنائی میں منعقد ہونے والے 44 ویں شطرنج اولمپیاڈ میں شرکت کے لیے مدعو کیا تھا۔

    پاکستان نے بھارت کے شہر چنائی میں منعقد ہونے والے 44 ویں شطرنج اولمپیاڈ کو سیاسی رنگ دینے کی بھارتی کوششوں کی شدید مذمت کی ہے۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کو انٹرنیشنل چیس فیڈریشن نے 28 جولائی سے 10 اگست تک چنائی میں 44 ویں شطرنج اولمپیاڈ میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ پاکستانی دستہ پہلے ہی اس ایونٹ کے لیے تیاری کررہا تھا۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ بھارت نے اس باوقار بین الاقوامی کھیلوں کے ایونٹ کو سیاسی رنگ دینے کی کو شش کرکے اس ایونٹ کی مشعل بردار ریلی کو غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر سے گزارا گیا، اس طرح علاقے کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کو نظر انداز کرتے ہوئے بھارت نے دھوکہ دہی کا ارتکاب کیا ہے جسے بین الاقوامی برادری کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرسکتی۔

    پاکستان نے بھارت کی طرف سے سیاست کو کھیلوں سے ملانے کی مذموم کوشش کی مذمت کی ہے، پاکستان نے احتجاج کے طور پر پاکستان نے 44 ویں شطرنج اولمپیاڈ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس معاملے کو انٹرنیشنل چیس فیڈریشن کے ساتھ بھی اعلیٰ سطح پر اٹھائیں گے۔

    پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیاں بند کرانے کے ساتھ ساتھ 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ بھارتی اقدامات کو منسوخ اور حقیقی کشمیری رہنماوں سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔

  • ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف عدم اعتماد کامیاب

    ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف عدم اعتماد کامیاب

    لاہور:پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی۔اطلاعات کے مطابق ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حق میں 186 ووٹ پڑے۔

    تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل خالی بیلٹ باکس ایوان میں دکھائے گئے۔ اس کے بعد تحریک پرووٹنگ کا آغاز ہوا تھا۔

    ذرائع کے مطابق ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد حکومتی رکن راجہ بشارت نے پیش کی۔نومنتخب اسپیکرسبطین خان نے ایوان کے سامنے تحریک عدم اعتماد کی وجوہات بیان کیں۔ سیکرٹری اسمبلی عنایت اللہ لک نے ووٹنگ کے طریقہ کارکا اعلان کیا۔

    اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف اور ق لیگ کے مشترکہ امیدوار سبطین خان 185 ووٹ لے کر اسپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہوگئے، ان کے مخالف اپوزیشن اتحاد کے سیف الملوک کھوکھر نے 175 ووٹ حاصل کئے جبکہ 4 ووٹ مسترد ہوگئے۔پینل آف چیئرمین ویسم خان بادوزئی نے سبطین خان سے بطوراسپیکر پنجاب اسمبلی حلف لے لیا ہے۔

    نومنتخب سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان حلف کے بعد سپیکر کی چئیر پر بیٹھ گئے اور کہا کہ اپنی جماعت اور سب دوستوں کا مشکور ہوں، اپوزیشن کے دوستوں نے اچھا رول پلے کیا، مجھے آپ لوگوں نے عزت دی، ہاؤس کی عزت اور وقار کا خیال رکھنا ہے، کچھ عرصہ پہلے ایوان میں پولیس آئی، ایوان کی بے توقیری کی گئی، کوشش کروں گا کہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے نو منتخب سپیکر پنجاب اسمبلی محمد سبطین خان کو کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ محمد سبطین خان کے سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہونے پر اللہ تعالٰی کا شکر بجا لاتے ہیں، ایوان نے سبطین خان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے، امید ہے کہ وہ پنجاب اسمبلی کو احسن انداز سے چلائیں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کو پہلے کی طرح آج ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑا، اپوزیشن کو اس طرح کے سرپرائز آئندہ بھی ملتے رہیں گے، اپوزیشن وہی کاٹ رہی ہے جو اس نے بویا، انشاءاللہ ہم سب صوبے کے عوام کی خدمت کے لیے دن رات محنت کریں گے۔

    پنجاب اسمبلی میں اسپیکر کے انتخاب کے لیے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سبطین خان اورمسلم لیگ (ن) کی جانب سے سیف الملوک کھوکھرکونامزد کیا گیا تھا۔

  • قوم سیلاب میں بہہ رہی اور سیاستدان اقتدار کی جنگ لڑ رہے:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    قوم سیلاب میں بہہ رہی اور سیاستدان اقتدار کی جنگ لڑ رہے:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    بلوچستان، صوبہ سندھ، پنجاب، سیلاب میں بہتے ہوئے غریب لوگوں کے گھروں، سیلاب میں بہتے ہوئے غریب لوگوں کی لاشیں، شہروں میں ان سیلابی ریلوں کی تباہی دیکھ کر الفاظ ساتھ چھوڑ گئے ہیں اور یہ دل ہلا دینے والے واقعات پہلی بار منظر عام پر نہیں آئے سالوں سے غریب عوام کے ساتھ ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور ہو رہا ہے۔ نکاسی آب کے محکموں اور حکومتوں کی نااہلی کا نتیجہ ہے نالوں کی صفائی کرنے والے کہاں ہوتے ہیں؟ ہم بحیثیت قوم ماہرین اقتصادیات کے مطابق عملاً دیوالیہ ہو چکے ہیں قرضوں پر چل رہے ہیں قوم سیلاب میں بہہ رہی ہے سیاستدان ایک دوسرے کو چور ڈاکو اور اقتدار حاصل کرنے اور اقتدار کو طول دینے کی جنگ لڑ رہے ہیں ہر سمت پھیلی ہوئی اخلاقی تباہی نظر آرہی ہے منافق اور دوغلےلوگوں نے اس ملک کا حلیہ بگاڑ دیا ہے

    وقت ہے، جمہوریت بچا لیں،تجزیہ ” شہزاد قریشی

    صوبہ سندھ، کراچی روشنیوں کا شہر، بلوچستان، پنجاب میں سیلاب کی وجہ سے قیامت برپا ہے اور ملکی سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ سیلاب زدگان کی آہ و بکا نے دلوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے دیہات اور شہروں کے شہر اجڑ رہے ہیں۔ بھلا ہو پاک فوج کے جوانوں کا جو اس مشکل ترین وقت میں غریب عوام کو بچانے کے لئے اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں ورنہ ان صوبوں کی انتظامیہ صرف عالیشان بنگلوں میں بیٹھ کر تماشا ہی دیکھ رہی ہے۔

    مستقل معاشی بحران جمہوریت کیلئے خطرہ :۔ تجزیہ:شہزاد قریشی

    مون سون سیزن کے شروع ہوتے ہی جس طرح محکمہ موسمیات کا ادارہ مختلف علاقوں اور دریائوں میں پانی کے بہائو کی صورتحال اور ممکنہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے پہلے آگاہ کر دیتا ہے مگر ہمارے فوری امداد اور بحالی کے اداروں کے درمیان روابط اور تعاون کی کمی کی وجہ سے وارننگ سسٹم کے باوجود بہت بہت زیادہ نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں۔ اگر ہم ان اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ دیں تو ان دل ہلا دینے والے واقعات سے بچا جا سکتا ہے۔ صوبائی حکومتیں اور مرکزی حکومت سیلاب کی زد میں آنے والے غریب لوگوں کی بحالی کے لئے خصوصی اور ہنگامی اقدامات کرے جس کرسی کے لئے سیاستدان جنگ لڑ رہے ہیں اس کرسی پر انہی عوام نے آ پکو بٹھانا ہے اپنا رخ عوام کی طرف موڑ دیں ورنہ اگر عوام نے رخ موڑ دیا تو پھر عوامی سمندر سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے۔

    قومی سلامتی کے اداروں پر ذمّہ داری بڑھ گئی: تجزیہ:-شہزاد قریشی

  • ٹویوٹا نے اپنی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

    ٹویوٹا نے اپنی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

    لاہور:لٹویوٹا نے اپنے تمام ماڈل کی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے ڈیلرز کو آگاہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے نئی قیمتوں کا اطلاق 28 جولائی سے ہوگا۔

    پاکستان میں ٹویوٹا کے بعد سوزوکی نے بھی پلانٹس بند کرنے کا ارادہ ظاہر کردیا

    واضح رہے کہ ٹویوٹا سمیت بیشتر کمپنیوں کی جانب سے گاڑیوں کی نئی بکنگ بند ہے، لیکن جن کسٹمرز نے پہلے سے بکنگ کرا رکھی ہے وہ نئی قیمتوں کے مطابق فرق کی بھی ادائیگی کے پابند ہوں گے، اس سے قبل کمپنی کسٹمرز کو بکنگ کینسل کرنے پر مکمل رقم بمعہ انٹرسٹ دینے کی آفر کرچکی ہے۔

    ٹویوٹاانڈس نےپاکستان میں پیداواربندکرنےکا فیصلہ کرلیا

    ٹویوٹا کمپنی کی جانب سے گاڑیوں کی قیمتوں میں جو تبدیلی کی گئی ہے اس کے مطابق کرولا ایکس 1.6 ایم ٹی کی قیمت میں 9 لاکھ 90 ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس سے اس ماڈل کی گاڑی کی قیمت 48 لاکھ 99 ہزار روپے تک پہنچ گئی جو پہلے 39 لاکھ 9 ہزار روپے تھی۔

    اسی طرح کرولا ایکس 1.6 اے ٹی کی قیمت 10 لاکھ 40 ہزار روپے کے اضافے سے 51 لاکھ 39 ہزار روپے، کرولا ایکس 1.6 اے ٹی ایس ای کی قیمت 11 لاکھ 30 ہزار روپے کے اضافے سے 56 لاکھ 39 ہزار روپے اور کرولا ایک 1.8 سی وی ٹی کی قیمت 11 لاکھ 80 ہزار روپے اضافے سے 56 لاکھ 79 ہزار روپے ہوگئی۔

    ٹویوٹا اور ہنڈئی نے گاڑیوں کی پروڈکشن روک دی…. جانیے کس ملک میں

    آلٹس گرانڈ ایکس 1.8 سی وی ٹی کی قیمت 12 لاکھ 90 ہزار روپے کے اضافے سے 61 لاکھ 49 ہزار روپے اور آلٹس گرانڈ ایکس 1.8 سی وی ٹی کی قیمت میں 12 لاکھ 90 ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کے نرخ 61 لاکھ 49 ہزار روپے ہوگئے۔

     

    کمپنی نے ٹویوٹا یارس کی قیمت میں 7 لاکھ 60 ہزار روپے سے لے کر 9 لاکھ 10 ہزار روپے تک کا اضافہ کیا ہے، جس سے یارس 1.3 ایم ٹی کی قیمت 37 لاکھ 99 ہزار روپے اور یارس 1.5 سی وی کی قیمت 45 لاکھ 69 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔

    ٹویوٹا فورچونر، ریو اور ہیلکس کے مختلف ماڈلز کی قیمت بھی 25 لاکھ 30 ہزار روپے سے لے کر 31 لاکھ 60 ہزار روپے تک بڑھ گئی ہے، جس سے فورچونر 2.7 جی کی قیمت ایک کروڑ 24 لاکھ 89 ہزار روپے اور فورچونر لیجنڈر ڈیزل کی قیمت ایک کروڑ 58 لاکھ 39 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔

    آٹو ڈیلر صابر شیخ کے مطابق ٹویوٹا کی طرح دیگر کمپنیوں میں بھی بعض نے قیمتیں بڑھا دی ہیں اور بعض بڑھانے والے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسٹمرز کو گاڑیوں کی ڈیلیوری میں مسلسل تاخیر کی وجہ سے ایسے کسٹمرز بھی ہیں جن کے 7، 8 ماہ ہوگئے ہیں اور ان کو گاڑیاں ڈیلیور نہیں کی جارہیں جبکہ قیمتوں میں بھی بار بار اضافہ کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بکنگ کرنے والوں کو اضافی قیمت دینی پڑتی ہے۔

  • پی ٹی آئی کے سبطین خان سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب

    پی ٹی آئی کے سبطین خان سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سبطین خان پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار سیف الملوک کھوکھر کو شکست دیکر پنجاب اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوگئے۔

    خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی میں نئے سپیکر کے انتخاب کیلئے قرارداد منظور کی گئی تھی، ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے بھی قرارداد منظور کی گئی ہے۔

    میانوالی سے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی سبطین خان کو پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) پر مشتمل حکمران اتحاد نے اسپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کیا تھا جو سابق سپیکر پرویز الٰہی کے بطور وزیراعلیٰ انتخاب کے باعث خالی ہوا تھا۔

    اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے سیف الملوک کھوکھر کو اپنا مشترکہ امیدوار بنایا تھا۔

    خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی میں نئے سپیکر کے انتخاب کیلئے قرارداد منظور کی گئی تھی، ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے بھی قرارداد منظور کی گئی ہے۔

    قرارداد پی ٹی آئی کے رکن پنجاب اسمبلی راجہ بشارت نے پیش کی تھی، پی ٹی آئی اور ن لیگ کی جانب سے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی بھی جمع کرا دئیے گئے ہیں۔

    میانوالی سے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی سبطین خان کو پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) پر مشتمل حکمران اتحاد نے اسپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کیا تھا جو سابق سپیکر پرویز الٰہی کے بطور وزیراعلیٰ انتخاب کے باعث خالی ہوا تھا۔

    اجلاس میں رانا مشہود کی پنجاب اسمبلی کے سٹاف کے ساتھ تلخی ہوگئی، لیگی ایم پی اے نے اسمبلی سٹاف سے بیلٹ کی کاپی چھین لی، پینل آف چیئر کی جانب سے برہمی کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ لیگی ایم پی اے سے بیلٹ کی کاپی لی جائے، پر امن پولنگ کو خراب نہ کیا جائے۔

    پینل آف چیئر نے کہا کہ لیگی ایم پی اے چار بیلٹ پیپر پھاڑ کر لے گئے، ایم پی اے رخسانہ چار بیلٹ پیپر لے گئی ہیں۔

    سیف الملوک کھوکھر نے پرچی جاری کرنے والے ایجنٹ کا رجسٹر چھین کر پھینک دیا، پینل آف چیئرمین نے سکیورٹی ایوان کے اندر بلالی۔مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی رانا مشہود اور رخسانہ کوکب نے پریزائیڈنگ آفیسر پر دھاوا بول دیا، رانا مشہود نے بیلٹ پیپر والی کاپی کھینچ لی۔

    سبطین خان نے پینل آف چیئر کو تحریری شکایت درج کرادی اور کہا کہ چار بیلٹ پیپر اسمبلی سٹاف سے لیگی ایم پی اے نے چھین لئے ریکور کروائے جائیں جس پر پینل آف چیئر نے ریکوری کی رولنگ دے دی۔

    ایک موقع پر پنجاب اسمبلی میں اس وقت پولنگ رک گئی جب اسپیکر کے لیے ہونے والی پولنگ میں اس وقت بد نظمی دیکھنے میں آئی جب دوست مزاری ووٹ ڈالنے کےلیے اٹھے،

    پنجاب اسمبلی سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری جب ووٹ ڈالنے کے لیے اٹھے تو حکومتی بینچوں سے لوٹا لوٹا کے نعرے لگنے لگے ، جس پراسمبلی ہال کےاندر بدنظمی پیدا ہوگئی تو پینل آف چیئرمین وسیم خان بادوزئی نے عارضی طور پر پولنگ روکنے کا حکم دے دیا

    پنجاب اسمبلی آج نیا اسپیکرمنتخب کرے گی جبکہ ڈپٹی اسپیکردوست محمد مزاری کیخلاف تحریک عدم اعتماد پربھی ووٹنگ ہوگی اسپیکر پنجاب اسمبلی کیلئے ووٹنگ کا عمل شروع ہوگیا ہے، اور پہلا ووٹ پی پی 254 سےافتخار گیلانی نے کاسٹ کیا۔

    پولنگ بوتھ نمبرایک میں 1سے185تک اراکین اسمبلی ووٹ ڈالےجائیں گے، جب کہ پولنگ بوتھ نمبر 2 میں 186 سے 371 تک ووٹ ڈالے جائیں گے۔پی ٹی آئی کے سبطین خان اور ن لیگ کے سیف الملوک کھوکھرآمنے سامنے ہیں اور دونوں امیدواروں نے اپنی اپنی جیت کا دعویٰ کررکھا ہے۔

    پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کے لیے ن لیگ نے سیف الملوک کھوکھر کو اپنا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ سیف الملوک کھوکھر کو پی ڈی ایم میں شامل تمام اتحادی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

    آج پنجاب اسمبلی کا اجلاس حسب معمول دو گھنٹے کی تاخیر سے پینل آف چیئرمین وسیم خان بادوزئی کی زیر صدارت شروع ہوا۔راجہ بشارت نے اسپیکر کے انتخاب اور ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد جمع کروا دی ہے۔

    پنجاب اسمبلی نے کثرت رائے سے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک اعتماد کی قرارداد منظور کرلی ہے اور اب کل 4 بجے ہی ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ بھی ہوگی۔ انتخاب خفیہ رائے شماری سے کیا جائے گا۔

     

     

    پنجاب اسمبلی کے نئے اسپیکر کا انتخاب آج ہورہا ہے، تاہم اسمبلی کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن نے الیکشن کرانے کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔

    اس حوالے سے چیف وہپ خلیل طاہر سندھو نے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور پینل آف چیئرمین کو خط لکھ دیا ہے اور کہا ہے کہ انتخابات کے عملے کے حوالے خدشات اور تحفظات ہیں۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ آج کا انتخاب آئین اور الیکشن رولز کے تحت کرایا جائے، عملے کی غیر جانبداری کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔خط کے متن میں ہے کہ کسی بھی غلط کام کے نتیجے میں صرف جمہوریت کمزور ہوگی۔ قانون کے مطابق سختی سے عمل نہ کیا گیا تو دیگر فورم سے رجوع کیا جائے گا۔

  • سپیکرانتخاب ،حمزہ شہباز بھی پہنچ گئے، کہا یہ عدالتی وزیراعلیٰ اصل وزیر اعلیٰ تو ہم ہیں

    سپیکرانتخاب ،حمزہ شہباز بھی پہنچ گئے، کہا یہ عدالتی وزیراعلیٰ اصل وزیر اعلیٰ تو ہم ہیں

    مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے ارکان پنجاب اسمبلی پہنچنا شروع ہو گئے
    سابق وزیراعلیٰ حمزہ شہباز گورنر ہاوس سے پنجاب اسمبلی پہنچ گئے، حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ آج وہی ہو گا جو اللہ کو منظور ہو گا ہمارے ارکان اتنے ہی ہیں جتنے پہلے تھے یہ عدالتی وزیر اعلیٰ ہیں اسمبلی کے وزیر اعلیٰ تو ہم ہیں،

    ن لیگی رہنما طاہر خلیل سندھو کا کہنا تھا کہ سیف الملوک کھوکھر کامیاب ہوں گے ہمارے ارکان کی تعداد پوری ہے خفیہ شماری سے ووٹنگ ہونی ہے پی ٹی آئی ارکان بھی ووٹ دینگے،

    پنجاب اسمبلی میں صحافیوں پر پابندی اور اپنوں پر نظر کرم پنجاب اسمبلی پریس گیلری میں صحافیوں کوموبائل فون ساتھ کے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی، قاف اور تحریک انصاف کے سینکٹروں غیر متعلقہ افراد اور مہمان پنجاب اسمبلی کے اندر ہیں سیکورٹی حکام خفیہ لسسٹوں اور پیغامات سے مہمانوں کواندربھجوانے میں سرگرم ہیں

    قبل ازیں پنجاب اسمبلی میں نئے اسپیکر کے الیکشن اور ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالہ سے ن لیگ نے الیکشن کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اس ضمن میں خلیل طاہر سندھو نے سپیکر، ڈپٹی سپکر کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسمبلی سیکریٹریٹ کے عملے کی جانب سے انتخابات کے عملے کے حوالے خدشات اور تحفظات ہیں ن لیگ مطالبہ کرتی ہے کہ آج کا الیکشن آئین اور الیکشن رولز کے تحت کروایا جائے عملے کی غیر جانبداری کو ہر صورت برقرار رکھا جائے کیونکہ کسی بھی غلط کام کے نتیجے میں نہ صرف جمہوریت کمزور ہوگی بلکہ اسمبلی کا نام بھی داغدار ہوگا قانون کے مطابق سختی سے عمل نہ کیا گیا تو دیگر فورم سے رجوع کیا جائے گا

    سپیکر پنجاب اسمبلی کے عہدے کے لیئے مسلم لیگ ن کے سیف الملوک کھوکھر اور تحریک انصاف کے سبطین خان کے درمیان مقآبلہ آج ہوگا اور بظاہر اس مقابلے کا نتیجہ ہی آئندہ پنجاب کی سیاست کا تعین کرے گا، اگر ن لیگی امیدوار جیت گیا تو پرویز الہیٰ کے خلاف پھر جلد ہی تحریک عدم اعتماد آنے کا امکان ہے

    اپوزیشن اتحاد کے اسپیکر کے امیدوار ملک سیف الملوک کھوکھر پنجاب اسمبلی پہنچ گئے

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام

  • برطانیہ میں دولت مشترکہ کھیلوں کا آغاز،پاکستان 12 کھیلوں میں قسمت آزمائی کرےگا

    برطانیہ میں دولت مشترکہ کھیلوں کا آغاز،پاکستان 12 کھیلوں میں قسمت آزمائی کرےگا

    لندن:برطانیہ کے شہر برمنگھم میں رنگا رنگ تقریب کے ساتھ دولت مشترکہ کھیلوں کا آغآز ہوگیا ہے۔برمنگھم میں دولت مشترکہ کھیلوں کے افتتاح کےموقع پررنگا رنگ افتتاحی تقریب میں فن کاروں نےسماں باندھ دیا۔

    تقریب میں شہزادہ چارلس نے بطورمہمان خصوصی شرکت کی۔تقریب میں قومی دستے کی قیادت کرکٹر بسمہ معروف اور ریسلر انعام بٹ نے کی۔دولت مشترکہ کھیلوں میں پاکستان کا 103 رکنی دستہ شریک ہے۔ قومی کھلاڑی 12 مختلف کھیلوں میں حصہ لیں گے۔

    پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم اپنا پہلا میچ آج بارباڈوس کےخلاف کھیلےگی جبکہ قومی ایتھلیٹس اوربیڈمنٹن ٹیم بھی اپنےمیچزآج کھیلیں گی۔ان کےعلاوہ جہاں آراء 200 میٹر اسٹائل اور بسمہ خان 100 میٹر بٹرفلائی کے مقابلوں میں حصہ لیں گی۔باکسنگ میں تیرسٹھ اعشاریہ پانچ کیٹیگری میں پاکستان کے سلمان بلوچ بھارت کے تھاپا شاوا کے مدمقابل ہوں گے۔

    پاکستان کی شاندانہ گلزار بھارت کی مخالفت کے باجود دولت مشترکہ خواتین پارلیمنٹیرینز

    دولت مشترکہ کی تنظیم کیا ہے اور پاکستان کا اس سے کیا تعلق ہے؟

    اقوام کی دولت مشترکہ ان ملکوں کی تنظیم ہے جو برطانیہ کی نو آبادیاتی رہے ہیں۔ یہ تنظیم 1926ء میں اس وقت قائم ہوئی جب سلطنت برطانیہ کا زوال شروع ہوا۔ اس تنظیم کے 53 رکن ممالک ہیں جن میں پاکستان ، بھارت اور دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر دولت مشترکہ بھی موجود ہیں جن میں آسٹریلیا کی دولت مشترکہ اور آزاد ممالک کی دولت مشترکہ شامل ہیں لیکن اقوام کی دولت مشترکہ ایک الگ تنظیم ہے۔

    بھارت کو ایک اور رسوائی کا سامنا،دولت مشترکہ کی خواتین پارلیمنٹیرینزتنظیم

    اقوام کی دولت مشترکہ کی اصطلاح 1884ء میں لارڈ روزبیری کے دورۂ آسٹریلیا کے موقع پر وجود میں آئی۔ دولت مشترکہ سیاسی تنظیم نہیں۔ ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوم دولت مشترکہ کی سربراہ ہیں جبکہ تنظیمی معاملات معتمد عام (سیکرٹری جنرل) دیکھتا ہے تاہم یہ واضح رہے کہ ملکہ برطانیہ یا معتمد عام کا کسی رکن ملک یا اس کی حکومت پر کوئی اختیار نہیں اور تمام 53 رکن ممالک آزاد ہیں۔ تنظیم کے قائم کرنے کا مقصد رکن ممالک میں اقتصادی تعاون کو فروغ دیناجمہوریت کو فروغ دینااور حقوق انسانی کی پاسداری ہے۔

    دولت مشترکہ کی پارلیمانی ایسوسی ایشن کی کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے، اسد قیصر

    دولت مشترکہ کے تمام ممالک کی کل آبادی 1.975 ارب ہے جو دنیا کی کل آبادی کا 31 فیصد بنتا ہے۔دولت مشترکہ کے 4 بڑے ممالک بھارت (1،100 ملین)، پاکستان (200ملین)، بنگلہ دیش (141 ملین) اور نائیجیریا (137 ملین) ہیں۔ٹووالو بلحاظ آبادی سب سے چھوٹا رکن ہے جس کی آبادی صرف 11 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔تمام 53 رکن ممالک کا کل رقبہ 12.1 ملین مربع میل ہے جو زمین کے کل رقبے کا 21 فیصد بنتا ہے۔رقبے کے لحاظ سے دولت مشترکہ کے تین بڑے ممالک کینیڈا (3.8 ملین مربع میل)، آسٹریلیا (3 ملین مربع میل) اور بھارت (714 ہزار مربع میل) ہیں۔

    تمام رکن ممالک کی معیشت عالمی اقتصادیات کا 16 فیصد بنتی ہے۔

    اس وقت دولت مشترکہ کے معتمد عام ڈون میک کینون ہیں جو 1999ء سے اس عہدے پر فائز ہیں جبکہ رینزفورڈ اسمتھ نائب سیکرٹری معتمد عام ہیں۔ تنظیم کا صدر دفتر برطانیہ کے دار الحکومت لندن میں واقع ہے۔

    ارکان میں سے 16 ممالک ملکہ برطانیہ کو سربراہ مملکت تسلیم کرتے ہیں جبکہ اکثر رکن ممالک کے اپنے سربراہان مملکت ہیں۔ہر 4 سال بعد اولمپک کھیلوں کی طرز پر دولت مشترکہ کھیل بھی منعقد ہوتے ہیں۔

     

    پاکستان نے 1972ء میں دولت مشترکہ کی جانب سے بنگلہ دیش کو تسلیم کیے جانے پر احتجاجا دولت مشترکہ کی رکنیت چھوڑ دی تھی تاہم 1989ء میں ایک مرتبہ پھر تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی۔ 1999ء میں جمہوری حکومت کے خاتمے کے بعد دولت مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت معطل کردی تھی تاہم 2004ء میں اسے بحال کر دیا گیا۔

    کرکٹ اور رگبی کے کھیل، سڑک اور پٹری کے بائیں جانب ڈرائیونگ کا نظام اور امریکی کی بجائے برطانوی انگریزی کا استعمال دولت مشترکہ کے رکن ممالک کی پہچان ہیں۔

  • ایڈیشنل آئی جی غلام محمود ڈوگر سی سی پی او لاہور تعینات

    ایڈیشنل آئی جی غلام محمود ڈوگر سی سی پی او لاہور تعینات

    ایڈیشنل آئی جی غلام محمود ڈوگر کو سی سی پی او لاہور تعینات کر دیا گیا،نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا

    ترجمان لاہور پولیس کے مطابق ایڈیشنل آئی جی غلام محمود ڈوگر کا تعلق پولیس سروسز کے 21ویں کامن سے ہے غلام محمود ڈوگر اس سے قبل بھی سی سی پی او لاہور کے اہم عہدے پر فائز رہ چکے ہیں،

    غلام محمود ڈوگر1963میں پنجاب کے ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔انہوں نے بی ایس سی سول انجینئرنگ اور ایم ایس سی کی ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں۔ غلام محمود ڈوگر نے 1993میں بطوراے ایس پی پولیس سروس پاکستان جوائن کی اور انکا تعلق اکیسویں کامن سے ہے۔۔

    کیرئیر کے آغاز میں غلام محمود ڈوگر نے بطور اے ایس نواب شاہ سندھ، اے ایس پی پنوں عاقل اوراے ایس پی خیر پورکے عہدوں پر فرائض سر انجام دئیے جس کے بعد وہ ڈیڑھ برس کیلئے یو این مشن پر بیرون ملک روانہ ہوگئے۔ وطن واپسی پر انہوں نے اے ایس پی جمشید کوارٹر کے عہدے پر اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔

    بطور ایس پی پروموشن کے بعد غلام محمود ڈوگر نے ایس پی گلشن اقبال کراچی، ایس پی سنٹرل ڈسٹرکٹ کراچی، ایس پی ہیڈ کوارٹرز۔ گارڈن کراچی، ایس ایس پی سیکیورٹی کراچی،ڈی پی او نصیر آباداور ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ کے عہدوں پر فرائض ادا کئے۔ غلام محمود ڈوگر نے ایڈیشنل ایس پی صدر، ایس پی لیگل /ڈی اینڈ آئی لاہورسی ٹی او لاہور کے عہدے پر بھی تعینات رہے۔

    غلام محمود ڈوگر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اور سی ٹی او لاہور کے عہدوں پر بھی فرائض انجام دے چکے ہیں، غلام محمود ڈوگرمختلف اضلاع میں آر پی او،سی پی او اور ڈی پی او سمیت کلیدی عہدوں پر بھی تعینات رہ چکے ہیں، غلام محمود ڈوگرآر پی او ساہیوال،آر پی او فیصل اباد تعینات رہ چکے ہیں،ترجمان لاہور پولیس کے مطابق غلام محمود ڈوگر ڈی آئی جی انفارمیشن ٹیکنالوجی،ڈی آئی جی ٹیکنیکل پروکیورمنٹ بھی تعینات رہے،غلام محمود ڈوگر سی سی پی او لاہور تعیناتی سے قبل ایڈیشنل آئی جی لاجسٹک اینڈ پروکیورمنٹ کے عہدے پر فائز تھے،

    سی سی پی او لاہور کا تبادلہ کیوں ہوا؟ باغی ٹی وی حقیقت سامنے لے آیا

    8 ماہ سے لاپتہ شہری کے بازیاب نہ ہونے پرعدالت کا سی سی پی او پر برہمی کا اظہار

    انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی کیس میں عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد بازیابی کیس: ہائی کورٹ نےغفلت برتنے پر 4 ڈی ایس پیز معطل کردیئے

    طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

    لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار

    سی سی پی او لاہور عمر شیخ اور کیپٹن صفدر کے درمیان کال پر تلخ کلامی

  • فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ فوری سنانے کے مطالبے کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ فوری سنانے کے مطالبے کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ فوری سنانے کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروائی گئی ہے

    قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن حنا پرویز بٹ اور سعدیہ تیمور کی جانب سے جمع کرائی گئی ،قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ریکارڈ کے مطابق تحریک انصاف نے 350غیر ملکیوں سے فنڈنگ لی تحریک انصاف نے بھارت اور اسرائیل سے بھی فنڈنگ وصول کی گزشتہ 8 سال تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کیس التواء کا شکار ہے جبکہ عمران خان نے 60 بار مختلف موقعوں پر عدالتوں سے التواء لیا چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تحریک انصاف کی فارن فنڈ نگ کا محفوظ فیصلہ حقائق کے مطابق سنایا جائے

    ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ایک ماہ میں فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے تا ہم پی ٹی آئی دوبارہ عدالت پہنچی گئی اور اس فیصلے کو چیلنج کر دیا جس پر عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا، اور پی ٹی آئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف ملا، الیکشن کمیشن نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے، تا ہم ابھی تک فیصلہ سنایا نہیں گیا، اتحادی جماعتیں بار بار مطالبہ کر رہی ہیں کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    فارن فنڈنگ کیس،اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ میں معلومات قابل تصدیق نہیں ،وکیل

    فارن فنڈنگ کیس تحریک انصاف پر کسی اور نے نہیں بلکہ بانی رکن اکبر ایس بابر نے کیا،بقول اکبر ایس بابر انہوں نے ممنوعہ فنڈنگ بارے عمران خان کو آگاہ بھی کیا تھا ایسے فنڈز لئے گئے جنکی پاکستان کا قانون اجازت نہیں دیتا، عمران خان نے کوئی ایکشن نہ لیا جس کی بنا پر وہ الیکشن کمیشن گئے

    حالیہ ضمنی الیکشن میں شفاف ترین الیکشن کے باوجود اب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے مسلسل چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، اسکی اصل وجہ الیکشن میں دھاندلی نہیں بلکہ فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کو مزید تاخیر کا شکار کروانا ہے