Baaghi TV

Category: لاہور

  • جن کی تقدیر بدلی ان کا جواب نہیں دیتے کہ وہ کون تھی اور کون تھا؟  رانا ثناء اللہ

    جن کی تقدیر بدلی ان کا جواب نہیں دیتے کہ وہ کون تھی اور کون تھا؟ رانا ثناء اللہ

    جن کی تقدیر بدلی ان کا جواب نہیں دیتے کہ وہ کون تھی اور کون تھا؟ رانا ثناء اللہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ملک میں امن و سلامتی شہدا کی مرہون منت ہے

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ امن کیلئے جان قربان کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں،ایک ارب ڈالر کے لیے آئی ایم ایف سے بحث پر پڑے ہوئے ہیں آئی ایم ایف ہمیں تگنی کا ناچ نچا رہا ہے، ہم نے بھرپور کوشش کی کہ تیل کی قیمتیں نہ بڑھانا پڑے،ہماری حکومت پیٹرول کی قیمت بڑھانا نہیں چاہتی تھی،ہم نے سوچا اس کے بجائے الیکشن میں چلا جایا جائے،الیکشن کی طرف جاتے تو معاملے نگراں حکومت کے پاس جاتی اور ملک ڈیفالٹ کی طرف جاتا،کہا گیا ہر قیمت پر آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنا ہے ملک کودیوالیہ ہونے سے بچانا ہے یہ وہ لمحہ تھا جس کے لیے یہ کرنا پڑا، ملک کی معیشت اور لا اینڈ آرڈر کی صورتحال سیاسی ہم آہنگی کے بغیر ممکن نہیں جب تک سیاسی جماعتیں مل کر نہیں بیٹھیں گی مسئلہ حل نہیں ہوگا، کہتا ہے فلاں کو نہیں چھوڑوں گا، فلاں کو نہیں چھوڑوں گا،ایسے بیانات قوموں کے لیے تباہی کا باعث ہوتا ہے،

    صرف ایک شخص کہتا ہے لانگ مارچ کروں گا یہ کروں گا وہ کروں گا،4 سال میں ملک کی تقدیر نہ بدلی، جن کی تقدیر بدلی ان کا تو جواب نہیں دیتے کہ وہ کون تھی اور کون تھا ؟ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ فرح گوگی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلا ف اربوں روپے کی کرپشن کے ایسے ثبوت موجود ہیں کہ یہ لوگ انکار ہی نہیں کرسکتے صرف ایک کیس میں ہی انہوں نے 57 ارب روپے کا گھپلہ کروایا اور اسکے نتیجے میں دس ارب روپے بیگز میں وصول کیے ادارے انکوائری کررہے ہیں، ایف آئی آر بھی ہوگی ، ریفرنس بھی ہوگا اور ان کے خلاف عدالت بھی جائیں گے ,ضروری ہے کہ ہم سب مل کر کام کریں،صرف سیاسی جماعتوں کا نہیں بلکہ ہرفرد کا کام ہے،حق رائے دہی استعمال کرنا چاہیے، قوم اس وقت بہتر فیصلہ کرے گی، قوم ان کا ساتھ دے گی جو ملک کو بہتر انداز میں آگے بڑھانا چاہتے ہیں،

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

  • سپریم کورٹ نے اچھا فیصلہ دیا،ہماری مانی گئی،پرویزالہی

    سپریم کورٹ نے اچھا فیصلہ دیا،ہماری مانی گئی،پرویزالہی

    سپیکر پیجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے کہا ہے کہ آج سپریم کورٹ کا بڑا اچھا فیصلہ ہے
    جو چیز یں ہم چاہتے تھے وہ مانی گئی ہیں، میدیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس رولز کے مطابق ہو گا کوئی پسند ،ناپسند نہیں ہوگی ۔

    چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے بھی کہا ہے کہ کوئی سیاسی مداخلت اور پولیس استعمال نہیں کی جائے گی ، انہوں نے کہا کہ 22جولائی تک ہاوس مکمل ہو جائے گا جس کے بعد وزیراعلی کا الیکشن ہو گا.

    سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ22جولائی کو اجلاس پنجاب اسمبلی کی بلڈنگ میں ہوگا اور کہیں نہیں ہوگا ، جو ماحول عدالت کے اندر بنا وہ عدالت کے باہر بھی رہنا چاہئیے، یہی جمہوریت ہے.

    پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈرمیاں محمود الرشید نے کہا کہ عدلیہ نے صاف اور شفاف الیکشن کی راہ ہموار کر دی ہے ،امید کرتے ہیں کہ الیکشن شفاف ہونگے ۔

    قبل ازیں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا دوبارہ انتخاب 22 جولائی کو ہوگا، تین ماہ کا بحران ہم نے 3 سیشنز میں حل کردیا ہے،حکومتی بنچز کو اپوزیشن کا احترام کرنا ہوگا۔ تحریکِ انصاف کی اپیل پر سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال خان مندوخیل بھی اس بینچ میں شامل تھے۔

    لاہور سے پی ٹی آئی کے وکیل امتیاز صدیقی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیاستدان یا اپنے مسائل خود حل کریں یا ہمارے پاس آکر ہماری بات مانیں۔

    لاہور ہائی کورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ حمزہ کےلیے قائم مقام وزیر اعلیٰ کا لفظ استعمال نہیں کریں گے، ایسے الفاظ استعمال کریں گے جو دونوں فریقین کو قابل قبول ہوں گے، ، کیس کا تحریری حکمنامہ بعد میں جاری کریں گے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت پر باتیں کرنا بہت آسان ہے، ججز جواب نہیں دے سکتے، حکومتی بنچز کو اپوزیشن کا احترام کرنا ہوگا، قومی اسمبلی میں اپوزیشن نہ ہونے سے بہت نقصان ہوا ہے۔ اس سے قبل عدالت نے کیس کی سماعت آدھے گھنٹے کے لیے ملتوی کی تھی اور پرویز الہٰی کو حکم دیا تھا کہ وہ عمران خان سے رابطہ کرکے آدھے گھنٹے میں عدالت کو آگاہ کریں، جس کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی تو پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے عدالت کو عمران خان کی ہدایت سے متعلق آگاہ کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے حمزہ کو قائم مقام وزیراعلیٰ کے طور پر 17 جولائی تک قبول کیا ہے، عمران خان کا کہنا ہے کہ آئی جی پولیس، پنجاب الیکشن کمشنر اور چیف سیکریٹری قانون پر عمل کریں۔ بابر اعوان نے بتایا کہ عمران خان کا کہنا ہے جن حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں وہاں پبلک فنڈز استعمال نہیں ہوں گے۔

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ تو الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کا حصہ ہے، الیکشن کمیشن کو ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کروانے کا کہہ دیتے ہیں۔بابر اعوان نے کہا کہ شفاف ضمنی انتخابات اور مخصوص نشستوں کے نوٹیفکیشن تک حمزہ بطور وزیراعلیٰ قبول ہیں، الیکشن کمیشن سے متعلق تحفظات موجود ہیں۔

    چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا کہ حمزہ شہباز صاحب آپ کا ارادہ ہے دھاندلی کرنے کا؟ جس پر جواب دیتے ہوئے حمزہ شہباز نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ کوئی دھاندلی نہیں ہو گی۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ عدالت مجموعی حکم جاری کرے گی چھوٹی چھوٹی باتوں میں نہیں پڑے گی۔چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیس کو خاندانی تنازع نہ بنائیں تو بہتر ہے۔

    حمزہ شہباز کو نگراں وزیر اعلیٰ بنانے پر پرویز الہٰی اور پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان کے درمیان اختلاف ہوگئے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پرویزالہٰی نے جو شرائط رکھیں وہ آپ کے اطمینان کے لیے حمزہ پر عائد کی جاسکتی ہیں، عدم اعتماد والے کیس میں عدالت ایسی شرائط عائد کر چکی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ فریقین میں اتفاق نہیں ہوسکا، صرف دیکھنا چاہ رہے تھے کہ سینئر سیاستدان مسئلہ کس طرح حل کرتے ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر میاں محمود الرشید روسٹرم پر آئے، اور انہوں نے کہا کہ آپس میں طے کیا ہے کہ ہاؤس مکمل ہونے دیا جائے، انتخاب کے لیے17 جولائی کے بعد کا وقت دے دیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے محمود الرشید کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ درخواست گزار نہیں اس لیے آپ کو نہیں سن سکتے۔پی ٹی آئی وکیل بابر اعوان نے کہا کہ اپنے پارٹی لیڈر سے مشاورت کر کے15 منٹ میں عدالت کو آگاہ کروں گا، محمود الرشید کے بیان کے بعد پارٹی سربراہ سے ہدایات لینا ضروری ہوگیا ہے۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ایک قانونی پوزیشن لیں اور ہمیں بتائیں، جو حکم جاری کریں گے وہ کسی ایک کے فائدے میں نہیں ہوگا۔چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ بابر اعوان صاحب! آپ کس کی طرف سے پیش ہو رہے ہیں؟بابر اعوان نے بتایا کہ درخواست گزار سبطین خان کا وکیل ہوں، 16 اپریل کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا الیکشن ہوا جس میں ایوان میں لڑائی ہوئی، لڑائی جھگڑے کے بعد پولیس کو ایوان میں طلب کیا گیا۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج نے کچھ نکات پر اختلاف کیا ہے، ایک جج نے کہا ہے کہ انہوں نے 197 ووٹس حاصل کیے، اگر 25 ووٹ نکال لیں تو 172 ووٹ بچیں گے، اس طرح پہلے پول میں حاصل اکثریت چلی گئی تو یہ انتخاب متنازع ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے کہا ہے کہ اگر دوبارہ گنتی سے 186 ووٹ نہیں بنتے تو ری پول ہو گا، اتفاق نہیں کرتا کہ کوئی ممبر موجود نہیں تو انتظار کر کے ووٹنگ کرائی جائے، ممبران جو موجود ہوتے ہیں اسمبلی ہال میں ہوں یا چیمبرز میں، ان کے ووٹ شمار ہوتے ہیں، آپ صرف بتائیں کہ ووٹنگ کے لیے کم وقت دینے کی درخواست پر کیا دلیل ہے؟

    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے پی ٹی آئی کے وکیل سے استفسار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ بظاہر آپ کے حق میں ہوا ہے، آپ بتائیں کہ آپ کے حق میں فیصلہ ہوا یا نہیں؟ آپ اپنی درخواست کی بنیاد بتائیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ درخواست تو یہ ہے کہ کچھ اراکین حج پر، کچھ شادی بیاہ پر گئے، ان کو آنے دیں، سپریم کورٹ اس معاملے میں مداخلت کیوں کرے؟ کیا پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ مزید وقت دیا جائے؟ کس اصول کے تحت ہم لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کریں؟ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں اختلافی نوٹ میں ووٹنگ کی تاریخ کل کی ہے، کیا آپ کل ووٹنگ پر تیار ہیں؟

    اس پر پی ٹی آئی نے پنجاب میں دوبارہ انتخابی عمل کے لیے عدالتِ عظمیٰ سے 7 دن کا وقت مانگ لیا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ملک کے اندر موجود ارکان ایک دن میں پہنچ سکتے ہیں، آپ کے منحرف اراکین کے ووٹ پہلے ہی نکل چکے ہیں، پی ٹی آئی کے اراکین کو لاہور پہنچنے میں کتنا وقت لگے گا؟پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہماری جماعت کا مسلم لیگ ق سے اتحاد ہے، ہم تجویز پر رضا مند نہیں ہیں۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے سوال کیا کہ پرویز الہٰی امیدوارہیں انہیں اعتراض نہیں تو پی ٹی آئی کو کیا مسئلہ ہے؟چوہدری پرویز الہٰی نے عدالت میں کہا کہ محمود الرشید کے مشورے پر ہی آمادہ ہوا ہوں۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ معاشرے میں بہت تقسیم ہوگئی، سیاست میں بہت تقسیم بھی ہوگئی، آپ نے تو صرف 7 دن مانگے تھے اس طرح آپ کو زیادہ وقت مل رہا ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنی درخواست پڑھیں آپ نے استدعا کیا کی ہے؟

    بابر اعوان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو ہٹانے کی استدعا بھی کر رکھی ہے،حمزہ شہباز کو کسی صورت قبول نہیں کرسکتے۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ ہم نے آئینی خلا نہیں بنانا۔پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ الیکشن کمیشن روز کہتا ہےعدالتی حکم ملتے ہی مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن کریں گے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان سے سوال کیا کہ آپ کے امیدوار کی مرضی کچھ اور ہے، دوسری سائیڈ سے ان کا اتفاق رائے ہے، آپ کی اب مرضی کیا ہے؟ آپ کی آپس میں بات نہیں بن رہی تو عدالت کیا کرے؟بابر اعوان نے کہا کہ عدالت جو مناسب وقت دے گی وہ ہمیں قبول ہوگا۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ یہ آئینی صورت حال ہے، اسے حل کریں، مزید خراب نہ کریں۔بابر اعوان نے کہا کہ پی ٹی آئی اور ق لیگ اتحادی ہیں لیکن یہ الگ جماعتیں ہیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ دو دن میں دوبارہ انتخاب یا حمزہ شہباز17 جولائی تک وزیر اعلیٰ، یہی 2 آپشن ہیں۔

    بابر اعوان نے کہا کہ سیاسی پوزیشن سے عدالت کو آگاہ کر دیا ہے، جس کے جواب میں چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی پوزیشن ایوان میں لیں، عدالت میں قانونی بات کریں۔

  • سیزن 23-2022 کے لیے ویمنز سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان

    سیزن 23-2022 کے لیے ویمنز سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان

    لاہور:پاکستان کرکٹ بورڈ نے سیزن 23-2022 کے لیے ویمنز سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کردیا ہے۔ اعلان کردہ کنٹریکٹ میں مجموعی طور پر 20 خواتین کرکٹرزکو شامل کیا گیا ہے۔ کنٹریکٹ میں 8 کھلاڑیوں کو ترقی جبکہ 3 ، طوبہٰ حسن، گل فیروزہ اور صدف شمس کو پہلی مرتبہ سینٹرل کنٹریکٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

    سیزن 22-2021 میں عمدہ کارکردگی کی بدولت سدرہ امین، غلام فاطمہ اور ارم جاوید کو دوبارہ سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل کرلیا گیا ہے۔

    مئی میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ویمن پلیئر آف دی مینتھ کا ایوارڈ جیتنے والی 21 سالہ طوبہٰ حسن کو سینٹرل کنٹریکٹ کی ڈی کٹیگری کا حصہ بنایا گیا ہے۔

    طوبہٰ حسن کا کہنا ہے کہ وہ پہلی مرتبہ سینٹرل کنٹریکٹ ملنے پر بہت خوش ہیں۔ بالآخر انہیں اپنی سخت محنت کا صلہ ملنا شروع ہوگیا ہے ۔ ان کی تمام تر توجہ میدان میں عمدہ کارکردگی پیش کرنے پر مرکوز ہے، وہ اب اپنی محنت دوگنی کردیں گی۔

    طوبہٰ حسن نے کہاکہ وہ اس سفر میں بھرپور ساتھ دینے پر اپنی تمام سینئر کھلاڑیوں ، دوستوں، اہل خانہ اور اسپورٹ اسٹاف کی مشکور ہیں۔ ان کا واحد مقصد پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہے۔انہیں یقین ہے کہ وہ خود سے جڑی تمام توقعات پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کریں گی۔

    سینٹرل کنٹریکٹ میں ترقی پانے والی کھلاڑیوں میں ندا ڈار اور عالیہ ریاض کو کپتان بسمہ معروف کے ہمراہ اے کٹیگری کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اسی طرح انعم امین، فاطمہ ثناء، نشرہ سندھو اور عمیمہ سہیل کو بی کٹیگری میں شامل کر لیا گیا ہے۔ منیبہ علی اور عائشہ نسیم کو کٹیگری سی کا حصہ بنایا گیا ہے۔

    سیزن 22-2021 میں قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرنے پر جویریہ خان کو سی کٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔

    اسماویہ اقبال، چیئرآف ویمنز سلیکشن کمیٹی:

    چیئرآف ویمنز سلیکشن کمیٹی اسماویہ اقبال کا کہنا ہے کہ 8 کھلاڑیوں کا ترقی اور 3 کا پہلی مرتبہ سینٹرل کنٹریکٹ پانا درحقیقت پاکستان خواتین کرکٹ کے درست سمت میں آگے بڑھنے کی نشاندہی کرتا ہے تاہم انہیں اب بھی بہت محنت کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہاکہ سیزن 23-2022 میں جتنی زیادہ کرکٹ کھیلنے کو مل رہی ہے، وہ پرامید ہیں کہ اس سیزن کے اختتام پر پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم ایک مزید بہتر سائیڈ بن کر سامنے آئے گی۔

    انہوں نے کہاکہ سینٹرل کنٹریکٹ نہ صرف کھلاڑیوں کی گزشتہ سیزن میں عمدہ کارکردگی کا صلہ ہوتا ہے بلکہ یہ انہیں آئندہ سیزن میں بھی مزید بہتر کھیل پیش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

    اسماویہ اقبال نے کہا کہ وہ گزشتہ سیزن میں بھرپور عزم اور لگن کا مظاہرہ کرنے پر تمام کھلاڑیوں کی مشکور ہیں، وہ امید کرتی ہیں کہ یہ تمام کرکٹرز آئندہ سیزن کے دوران کامن ویلتھ گیمز، آئی سی سی ویمنز چیمپئن شپ اور آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی بہترین کارکردگی کامظاہرہ کریں گی۔

    ویمنز سینٹرل کنٹریکٹ برائے 23-2022ء:
    کٹیگری اے : بسمہ معروف، ندا ڈار اور عالیہ ریاض
    کٹیگری بی: انعم امین، ڈیانا بیگ، فاطمہ ثناء، نشرہ سندھو اور عمیمہ سہیل
    کٹیگری سی: عائشہ نسیم، منیبہ علی، جویریہ خان، سدرہ امین اور سدرہ نواز
    کٹیگری ڈی: غلام فاطمہ، گل فیروزہ، ارم جاوید، کائنات امتیاز، سعدیہ اقبال، صدف شمس اور طوبہٰ حسن

  • پاکستان جونیئرلیگ کے تمام میچز پی ٹی وی اسپورٹس پر نشر ہوں گے

    پاکستان جونیئرلیگ کے تمام میچز پی ٹی وی اسپورٹس پر نشر ہوں گے

    لاہور:پاکستان کرکٹ بورڈ اور پی ٹی وی اسپورٹس کے اعلیٰ حکام نے رواں ہفتے اسلام آباد میں منعقدہ ایک اجلاس میں پی جے ایل کے تمام میچز پی ٹی وی اسپورٹس پر براہ راست نشر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔اکتوبر میں کھیلی جانے والی فرنچائز لیگ کے تمام میچز لاہور میں منعقد ہوں گے۔

    فیصل حسنین، چیف ایگزیکٹو پی سی بی:

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو فیصل حسنین کا کہنا ہے کہ کرکٹ اس قوم کو متحد کرتی ہے۔ خوشی ہے کہ نیشنل براڈکاسٹر، پی ٹی وی اسپورٹس نے پاکستان جونیئر لیگ کے تمام میچز براہ راست نشر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی اسپورٹس کی جانب سے ایونٹ کی نمایاں کوریج پی جے ایل کی پروفائل میں اضافہ کرے گی۔ خطے میں کرکٹ کے فروغ اور پذیرائی کے لیے پی سی بی کو پی ٹی وی اسپورٹس جیسے شراکت داروں کی ضرورت ہے۔

    فیصل حسنین نے کہا کہ ملک بھر میں موجود پی ٹی وی اسپورٹس کے ناظرین تک پہنچنے والے پاکستان جونیئر لیگ کے براہ راست مناظر باصلاحیت نوجوانوں کو اس لیگ کی جانب راغب کریں گے۔

    انہوں نے مزید کہاکہ جب سے کرکٹ میں براڈکاسٹ کوریج متعارف ہوئی ہے پی سی بی اور پی ٹی وی اس وقت سے ہی شراکت داروں کی حیثیت سے مل کر کام کررہے ہیں اور گزشتہ چند برسوں میں یہ رشتہ اور بھی مضبوط ہوا ہے۔

    مبشر توقیر شاہ، منیجنگ ڈائریکٹر پی ٹی وی :

    ایم ڈی پی ٹی وی مبشر توقیر شاہ کا کہنا ہے کہ پی ٹی وی اسپورٹس اپنی کوریج کے ذریعے کرکٹ سمیت تمام کھیلوں کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتا ہے جو معاشرے پر مثبت اثرات مرتب کررہا ہے۔ پاکستان جونیئر لیگ ایک دلچسپ پراجیکٹ ہے اور وہ حکومت کی نوجوانوں کی حوصلہ افزائی سے متعلق پالیسی کے تحت پی سی بی کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اپنے پلیٹ فارمز کے ذریعے پی جے ایل کی بھرپورکوریج کو یقینی بنائیں گے۔

    انہوں نے کہاکہ سیزن 23-2022 کے دوران پاکستان کرکٹ کےمداحوں کو بہت سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔ اس دوران پی سی بی کو پاکستان جونیئر لیگ کے انعقاد کے علاوہ انگلینڈ ، نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کی میزبانی بھی کرنی ہے۔ فروری 2023 میں ایچ بی ایل پاکستان سپرلیگ کے مقابلے بھی شائقین کرکٹ کو ٹی وی اسکرینز سے جوڑے رکھیں گےجبکہ اسی سیزن میں قومی کرکٹ ٹیم نے اے سی سی ایشیا کپ اور آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2022 میں میں بھی شرکت کرنی ہے۔

  • پشاورزلمی یو کےٹیلنٹ کا دوسرے مرحلےکا گلاسکومیں انعقاد

    پشاورزلمی یو کےٹیلنٹ کا دوسرے مرحلےکا گلاسکومیں انعقاد

    پشاور:پشاور زلمی یو کے ٹیلنٹ کا دوسرے مرحلے کا گلاسکومیں انعقاد،اطلاعات کے مطابق زلمی یو کے ٹیلنٹ کا دوسرا مرحلہ گلاسگو میں منعقد ہوا،پشاور زلمی کے صدر اور سابق کپتان انضمام الحق اور ڈائریکٹر کرکٹ محمد اکرم نے ٹرائلز لیے

    اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سابق ٹیسٹ کرکٹر نوشاد علی اور گلاسگو میں پاکستان کے قونصل جنرل سید زاہد رضا ٹرائلز کے موقع پر موجود تھے

    برطانیہ میں جاری پشاور زلمی یو کے ٹیلنٹ کا دوسرا مرحلہ گلاسگو میں منعقد ہوا۔پشاور زلمی کے صدر اور سابق کپتان انضمام الحق اور ڈائریکٹر کرکٹ محمد اکرم نے ٹرائلز لیے ،سابق ٹیسٹ کرکٹر نوشاد علی بھی اس موقع پر موجود تھے

    گلاسگو میں پاکستان کے قونصل جنرل سید زاہد رضا ٹرائلز کے موقع پر موجود تھے ،نوشاد علی نے کہا کہ پشاور زلمی کرکٹ کے فروغ کے لئے بہترین کام کر رہی ہے اور ان ٹرائلز سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا

    گلاسگو میں پاکستان کے قونصل جنرل سید زاہد رضا نے کہا کہ پشاور زلمی مقبول فرنچائز ہیں اور کرکٹ کے فروغ کے لئے ان کی خدمات قابل تعریف ہیں ، ٹرائلز کا تیسرا مرحلہ برمنگھم میں منعقد ہوگا برمنگھم کے بعد لٹن ، برسٹل لندن اور بریڈ فورڈ میں بھی ٹرائلز ہوں گے

     

  • 22جولائی کوجو بھی رزلٹ آیا، قبول کروں گا،حمزہ شہباز

    22جولائی کوجو بھی رزلٹ آیا، قبول کروں گا،حمزہ شہباز

    وزیر اعلی حمزہ شہباز نے کہا کہ صوبہ پنجاب کئی ماہ سے آئینی بحران کا شکار ہے،کبھی الیکشن ملتوی تو کبھی حلف کا معاملہ التوا ، کبھی گورنر آ رہا تو کبھی وہ سمری کو مسترد کررہے ہیں، پنجاب میں جتنے آئینی بحران تین ماہ میں آئے تو گینز ورک آف ریکارڈ میں آ جائیں.

    پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شپہباز نے کہا کہ کابینہ نہ ہونے کے باوجود گندم کسانوں سے بائیس سو روپے من خریدی جو ساڑھے پانچ من بین الاقوامی سطح پر ہے، دس کلو آٹے پر دو سو ارب روپے کی سبسڈی دی،پہلے جولائی ہے پنجاب کے تمام اضلاع ٹی ایچ کیو اور چودہ ہسپتال میں مفت ادویات ملنے جارہی ہیں.

    وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ تین ماہ دے دو، دودھ کی نہریں بہا دوں گا.انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں پرویز الہی اور پی ٹی آئی کا موقف الگ تھا، جمہوری انسان ہوں ستائیس سال جدوجہد کی، عدالت عظمی کو بتایا کہ اگر میرے پاس نمبر نہ ہوتے تو سامنے پیش نہ ہوتا ،گھر چلا جاتا.

    حمزہ شہباز نے کہا کہ ابھی الیکشن کروائیں جو ایوان فیصلہ کرے گا دل سے قبول کروں گا،ضمنی الیکشن کے بعد بائیس کو دوبارہ الیکشن کروائیں ،تو بھی قابل قبول ہوگا ،،سترہ کوبھی عوام کا فیصلہ قبول کروں گا، آئینی بحران کےباوجود عوامی منصوبوں سے کوئی نہ روک سکے گا۔ پہلے عدالت عالیہ کا فیصلہ آیا آج چیف جسٹس خود بیٹھے رہے،ان کے اپنے وکلاء، پارلیمانی لیڈر نے جو موقف دیا بائیس جولائی کو انتخاب ہوگا جو بھی رزلٹ آئے گا قبول کریں گے.

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ اللہ سے ڈر کر کہتاہوں پنجاب کی عوام نوازشریف اور شہبازشریف پر اعتماد کااظہار کریں گے،پیٹرول کی قیمتیں عمران خان کی وجہ سے بڑھیں، عمران خان ایک طرف آئی ایم ایف سے وعدے کررہا تھا،اور دوسری طرف کہہ رہا تھا کہ عوام کو سستا پیٹرول دوں گا، ہم نے دل پر پتھر رکھ کر حکومت بچانے کےلئے نہیں پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کےلیے سخت فیصلے کئے.

    وزیر اعلی پنجاب کا مذید کہنا تھا کہ سیاسی بوجھ سے جو مسلم لیگ ن نے اٹھایا ہے عوام کو معلوم ہے جب بجلی کے اندھیرے آئے تو ایٹمی قوت کے بعد بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کی،انہون نے کہا کہ پنجاب اسمبلی سے میڈیا پر پابندیاں اٹھائیں گے،گرانٹ اس ماہ صحافیوں کو دیں گے ،عسکری ادارے کے سربراہ کے خلاف زہر اگلا گیا ،نیازی کی سازش کاپول کھل گیا ہے،فرح گوگی، توشہ خانہ ،چوریاں چھپانے کا پروگرام تھا.

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ سترہ جولائی کا دن دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگا ،ن لیگ سترہ جولائی کو جیتے گئ، مشکل وقت ہے دل پر پتھر کر فیصلے کررہۓ سخت فیصلے کے بعد عوام کےلئے آسانیاں آئیں گی.عدالت عظمی میں کہا آپ کا وقت قیمتی ہے جس طرح ڈپٹی سپیکر پر جان لیوا حملہ کیاگیا کون شاباشی کے اشارے کرتا رہا،کس منہ سے حراساں کا ہم انتقام نہیں لیں گے قانون اپنا راستہ ضرور لےگا.

    قبل ازیں وزیرِ اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس گنتی پوری ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے طلب کیے جانے پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے لاہور رجسٹری پہنچنے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے یہ بات کہی۔

     

     

    عدالت نے تحریک انصاف کو سات دن کی مہلت دینے سے انکار کردیا

     

     

    قبل ازیں وزیرِ اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور اسپیکر پرویز الہٰی سپریم کورٹ لاہور رجسٹری پہنچے تھے.حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ میں جہاں سے آ رہا ہوں وہاں گنتی پوری کر کے آ رہا ہوں، معاملہ ابھی کورٹ میں ہے، دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست کی سماعت کے دوران وزیرِ اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کو طلب کر رکھا تھا.

    قبل ازیں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال خان مندوخیل بینچ میں شامل ہیں پی ٹی آئی کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان روسٹرم پر آگئے ویڈیو لنک پر لاہور سے وکیل امتیاز صدیقی پیش ہوئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ 5درخواستیں ہیں کس کی طرف سے کون سا وکیل پیش ہورہا ہے ؟ بابر اعوان نے کہا کہ میں درخواست گزار سبطین خان کی طرف سے پیش ہورہا ہوں 16 اپریل کو حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کا انتخاب ہوا، وزیراعلیٰ کے انتخاب کے روز فلور پر پرتشدد ہنگامہ ہوا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس جج نے اختلافی نوٹ دیا ہے وہ ایک نکتے پر متفق بھی ہوئے ،فیصلے میں کہا ہے کہ جنہوں نے 197 ووٹ لیے ان میں سے25 نکال دیئے ہیں،جب وہ 25 ووٹ نکال دیتے ہیں تودوبارہ گنتی کرائیں، 4 ججز نے یہ کہا ہے کہ پہلے گنتی کرائیں اگر 174 کا نمبر پورا نہیں تو پھر انتخاب کرائیں،آپ یہ کہنا چاہتے ہیں آپ کے کچھ ممبران چھٹیوں اور حج پر گئے ہیں،جتنے بھی ممبرا یوان میں موجود ہوں گے اس پر ووٹنگ ہوگی،جو کامیاب ہوگا وہ کامیاب قرار پائے گا،آپ کی درخواست ہے کہ وقت کم دیا گیا ہے،

    بابر اعوان نے کہا کہ استدعا ہے زیادہ سے زیادہ ممبران کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست میں یہ بات نہیں ہم درخواست کو پڑھ کر آئے ہیں،بنیادی طور پر آپ یہ مانتے نہیں کہ فیصلہ آپ کے حق میں ہوا ہے،بابر اعوان نے کہا کہ اصولی طور پر اس فیصلے کو مانتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ 4ججز نے آج کی اور ایک جج نے کل کی تاریخ دی ہے،کیا آپ کل کی تاریخ پر راضی ہیں ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو ممبران کہیں گئے ہوئے ہیں وہ 24سے48 گھنٹوں میں پہنچ سکتے ہیں؟ بابر اعوان نے عدالت سے استدعا کی کہ ہم الیکشن لڑنا چاہتے ہیں ، لیول پلینگ فیلڈ کیلئے وقت دیا جائے،ہمیں سات دن کا وقت دیا جائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سات دن کا وقت مناسب نہیں ہے۔ بابر اعوان نے کہا کہ
    ہم تو دس دن چاہتے تھے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ بتائیں جو مناسب وقت آپ کو چاہیئے، بابر اعوان نے کہا کہ ہماری پانچ مخصوص نشستوں پر خواتین کا نوٹیفیکیشن ہونا ہے اس کو سامنے رکھا جائے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سات دن صوبہ وزیر اعلی کے بغیر رہے گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں کیا ہے لکھا ہے کہ اگر وزیر اعلی موجود نہ ہوتو صوبہ کون چلائے گا۔ بابر اعوان نے کہا کہ اس صورت میں گورنر اس وزیر اعلی کو نئے وزیر اعلی آنے تک کام جاری رکھنے کی ہدایت کرتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ صوبہ دو دن بغیر وزیر اعلی کہ رہ سکتا ہے، بابر اعوان نے کہا کہ ایسی صورت میں عبوری حکومت آئے گی اگر وزیر اعلی بیمار ہو تو سینیئر وزیر انتظامات سنبھالے گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب ہم سمجھے ہیں کہ ہائیکورٹ کے 5 رکنی ججز نے ایسا فیصلہ کیوں دیا،وہ چاہتےہیں کہ صوبے میں حکومت قائم رہے۔ موجودہ وزیراعلی ٰنہیں تو پھر سابق وزیر اعلی ٰکا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا،سابق وزیر اعلی کی اکثریت میں سے 25 میمبران تو نکل گئے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر25 ووٹرز نکال لیں تو پھر موجودہ وزیر اعلی ٰبھی برقرارنہیں رہتا ،وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ اگر ہمارے 25ممبران نکل بھی جائیں تو 169 ہمارے پاس ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعلی کے پاس 186 ووٹ نہیں ہیں تو انکا فی الحال وزیراعلی برقرار رہنا مشکل ہے،بابر اعوان نے کہا کہ پنجاب میں ایک قائم مقام کابینہ تشکیل دی جا سکتی ہے،

  • دوست محمد مزاری جانبدار ہیں، نیوٹرل نہیں،فیاض الحسن چوہان

    دوست محمد مزاری جانبدار ہیں، نیوٹرل نہیں،فیاض الحسن چوہان

    پی ٹی آئی رہنما اور سابق صوبائی وزیرفیاض الحسن چوہان نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر ہمارے کچھ تحفظات ہیں، ہمارے 6 ارکان حج کیلئے گئے ہوئے ہیں، 17 جولائی کے ضمنی انتخابات کے بعد یہ الیکشن کروایا جا سکتا ہے۔ پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دوست محمد مزاری جانبدار ہیں، نیوٹرل نہیں، ان کی وجہ سے اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ہوئی، ہم چاہتے تھے کہ پینل آف چیئرمین اجلاس کی صدارت کریں۔ فیاض چوہان نے کہا کہ لاہور کے ایک ہوٹل میں 6 دن پہلے 106 کمرے بک کروائے گئے تھے، انہیں کون سی وحی ہوئی کہ 106 کمرے بک کروائے گئے، سوال یہ ہے کہ 6 دن پہلے 106 کمرے کیوں بک کروائے گئے۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ کئی دیگر ارکان ذاتی مصروفیت میں ہو سکتے ہیں، 17جولائی کے ضمنی انتخابات کے بعد یہ الیکشن کروایا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس وقت تک سینکڑوں پولیس اہلکار اسمبلی کے اندر پہنچ چکے ہیں، عدالت کو اسمبلی میں پولیس کی موجودگی کا نوٹس لینا چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سینکڑوں پولیس اہلکاروں کو اندر بلانے کی کیا ضرورت تھی۔

  • مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن بارے عدالت کا تحریری فیصلہ جاری

    مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن بارے عدالت کا تحریری فیصلہ جاری

    لاہور:مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن بارے عدالت کا تحریری فیصلہ جاری ہوچکا ہے ،جس میں لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کی درخواست خارج کرنے کا اقدام کالعدم کر دیا تھا

    تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ نے منحرف ارکان کے ڈی سیٹ ہونے پر 5 مخصوص نشستوں پر تحریک انصاف کے ارکان کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا تحریری حکم جاری کردیا۔

    عدالتی حکم میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن تحریک انصاف کی فہرست پر خالی نشستوں پر ممبران پنجاب اسمبلی کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔

    لاہور ہائی کورٹ نے تحریری حکم میں کہا کہ ایڈیشنل رجسٹرارجوڈیشل عدالت کے حکم سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کرے۔عدالت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کی درخواست خارج کرنے کا اقدام کالعدم کرکرتے ہوئے تحریک انصاف کی پنجاب اسمبلی میں خواتین اور اقلیتی ارکان کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی درخواست منظورکرلی۔

    لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ نون کی جانب سے مخصوص نشستوں پر ارکان کی نااہلی کے بعد کوٹہ دوبارہ نکالنے کی درخواست خارج کردی۔

    ادھرلاہور ہائیکورٹ کے کل کے فیصلے کیخلاف تحریک انصاف کی اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال خان مندوخیل بینچ میں شامل ہیں پی ٹی آئی کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان روسٹرم پر آگئے ویڈیو لنک پر لاہور سے وکیل امتیاز صدیقی پیش ہوئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ 5درخواستیں ہیں کس کی طرف سے کون سا وکیل پیش ہورہا ہے ؟

    بابر اعوان نے کہا کہ میں درخواست گزار سبطین خان کی طرف سے پیش ہورہا ہوں 16 اپریل کو حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کا انتخاب ہوا، وزیراعلیٰ کے انتخاب کے روز فلور پر پرتشدد ہنگامہ ہوا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس جج نے اختلافی نوٹ دیا ہے وہ ایک نکتے پر متفق بھی ہوئے ،فیصلے میں کہا ہے کہ جنہوں نے 197 ووٹ لیے ان میں سے25 نکال دیئے ہیں،جب وہ 25 ووٹ نکال دیتے ہیں تودوبارہ گنتی کرائیں، 4 ججز نے یہ کہا ہے کہ پہلے گنتی کرائیں اگر 174 کا نمبر پورا نہیں تو پھر انتخاب کرائیں،آپ یہ کہنا چاہتے ہیں آپ کے کچھ ممبران چھٹیوں اور حج پر گئے ہیں،جتنے بھی ممبرا یوان میں موجود ہوں گے اس پر ووٹنگ ہوگی،جو کامیاب ہوگا وہ کامیاب قرار پائے گا، سماعت ابھی جاری ہے

  • ضمنی الیکشن والے حلقوں کو لوڈشیڈنگ سے مستثنی قرار دینے کیخلاف درخواست دائر

    ضمنی الیکشن والے حلقوں کو لوڈشیڈنگ سے مستثنی قرار دینے کیخلاف درخواست دائر

    ضمنی الیکشن والے حلقوں کو لوڈشیڈنگ سے مستثنی قرار دینے کیخلاف درخواست دائر

    ضمنی الیکشن ہونے والے حلقوں کو لوڈشیڈنگ سے مستثنی قرار دینے کیخلاف ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کی گئی ہے

    جوڈیشل ایکٹوازم پینل کیجانب سے دائر درخواست میں حکومت پاکستان,وزرات پانی و بجلی سمیت دیگر کو فریق. بنایا گیا ہے، درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں بدترین لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے,لوڈشیڈنگ کے باعث نظام زندگی مفلوج ہو چکا ہے, پنجاب حکومت کیجانب سے ضمنی انتخاب ہونے والے حلقوں میں لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے برابر ہے, پنجاب کے 20 حلقوں میں لوڈشیڈنگ نہ کر کہ الیکشن پر اثر انداز ہو رہی ہے, 20 حلوں میں لوڈشیڈنگ نہ کر کہ پنجاب حکومت دیگر شہروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے, شہری علاقوں میں 10 جبکہ دیہی علاقوں 14 گھنٹوں تک لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے, عدالت حکومت کو لوڈشیڈنگ ہر جگہ برابری کی سطح پر کرنے کو حکم دے عدالت غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا حکم دے,

    قائمہ کمیٹی اجلاس،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، رانا شمیم کے نہ آنے پرجاوید لطیف کا بڑا اعلان

    مشکل حالات، قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے، اپوزیشن کی حکومت کو پیشکش

    گو نیازی گو، شوکت ترین قوم کا غدار، قومی اسمبلی میں نعرے

    واضح رہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر دعویٰ کیا گیا تھا کہ لاہور کے جن حلقوں میں ضمنی الیکشن ہو رہے ہیں وہاں لوڈ شیڈنگ نہیں کی جا رہی، ایک صارف کا کہنا تھا کہ لاہور کے ضمنی الیکشن والے حلقوں میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی، ان حلقوں میں لوگ ملک کی موجودہ صورتحال سے واقف نہیں اور انہیں یہ بھی پتہ ہے کہ ضمنی الیکشن کے بعد ان کے حلقوں کا حال بھی باقی پاکستان جیسا ہونے والا ہے۔

  • امیدوارپی پی171 کی بلاجوازگرفتاری :پنجاب حکومت کی مذمت کرتے ہیں:ترجمان ٹی ایل پی

    امیدوارپی پی171 کی بلاجوازگرفتاری :پنجاب حکومت کی مذمت کرتے ہیں:ترجمان ٹی ایل پی

    لاہور: پی پی171 تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار حاجی محمد نواز کی بلاجواز گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں ، پنجاب حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پراترآئی ہے ، پنجاب حکومت کی طرف سے ٹی ایل پی کے حلقہ 171 کے امیدوار کی گرفتاری کے خلاف تحریک لبیک پاکستان کی طرف سے سخت مذمت کی گئی ہے

    اس سلسلے میں ترجمان ٹی ایل پی نے خبردارکرتے ہوئے کہا کہ پولیس گردی کو کسی صورت قبول نہیں کرینگے، ترجمان ٹی ایل کا کہنا تھا کہ حاجی نواز کو فل الفور رہا کیا جائے اور پرامن الیکشن مہم چلانے دی جائے، ترجمان ٹی ایل نے انکشاف کیا کہ پنجاب حکومت پولیس کے ذریعے ضمنی الیکشن میں اثر انداز ہونے کی کوشش کررہی ہے،

    ترجمان ٹی ایل پی نے خبردار کرتےہوئے کہاکہ اگر حاجی نواز کو فوری رہا نہ کیا گیا تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، پرامن جدوجہد پر کسی کو اثرانداز نہیں ہونے دیں گے ، ترجمان ٹی ایل کا کہنا تھا کہ الیکشن لڑنا اور کمپین چلانا ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے

    ترجمان ٹی ایل پی کی طرف سے پنجاب حکومت کے اس رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت کے ایسے اوچھے ہتھکنڈے یہ حق ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا