پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد میں لانگ مارچ کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔
یہ درخواست پی ٹی آئی کے سیکسیکرٹری جنرل اسد عمر کی جانب سے علی ظفر ایڈووکیٹ نے جمع کرائی۔جس میں وزارت داخلہ، آئی جی اسلام آباد اور ہوم سیکرٹریز کو فریق بنایا گیا۔
درخواست میں عدالت سے یہ استدعا کی گئی کہ وفاقی پنجاب حکومت کو احتجاج کے لیے اجازت دے دی جاۓ۔ اور مزید درخواست کی گئی کہ احتجاج کے دوران کسی قسم کا بھی تشدد اور روکاوٹیں نہ ڈالی جایئں۔اس مقصد کے لیے وفاقی اور پنجاب حکومت کو تشدد کرنے اور طاقت کو استعمال کرنے کی ہر گز اجازت نہ دی جائیں۔
درخواست میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا ہے احتجاج ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے۔ اور پاکستان کا آئین بھی پر امن احتجاج کی اجازت دیتا ہے۔
پی ٹی آئی نے درخواست میں استدلال کیا آئین کا آرٹیکل 15،16،17، اور 19 پر امن طریقے سے نقل و حرکت، جمع ہونے بولنے کا حق دیتا ہے۔
درخواست میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران گرفتاریاں ہونے پر بھی روشنی ڈالی گئی۔کارکنان کی ریڈزون میں داخلے کے بعد فوج کو بھی طلب کیا گیا تھا۔ یہ سب صرف احتجاج کو روکنے کے لیے کیا گیا تھا۔پر امن احتجاج ہمارا حق ہے۔اسلام آباد میں ایک بار پھر سے لانگ مارچ کی دوبارہ کال دینے پر پی ٹی آئی کے 1000 سے زائد کارکنان کی بغیر کسی جرم کے گرفتاری کی فہرستیں تیار کر لی گئی ہیں۔
Category: لاہور
-

پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کی اجازت کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی
-

یہ وقت ملک کے لیے فیصلہ کن وقت ہے،عمران خان
چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کا سوشل میڈیا کانفرنس سے خطاب
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے میڈیا کو لانگ مارچ کی مکمل کوریج دینے پرخراج تحسین پیش کی ۔عمران خان نے کہا کہ آپ نے ایک چیز سمجنی ہے جس دور سے آپ گزر رہے ہیں ملک کی زندگی میں برا کم ایسا وقت آتا ہے۔ یہ وقت ملک کے لیے فیصلہ کن وقت ہے۔ایک تباہی کا راستہ ہے اور دوسرا ایک طرف عظمت کا راستہ ہے۔ جب اس طرح کے دو راستے آجاتے ہیں تب اللہ کسی کو نیوٹرل رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔
عمران خان نے مزید کہا ایک طرف سارے پاکستان کے 30 سال پرانے مجرم جو جرم کرتے رہے وہ اوپر آ کر بیٹھ گے ہیں۔تو آپ جب ان کو دیکھتے ہیں تو آپ کو چاہیے قرآن پاک کے حکم یعنی سچائی کے ساتھ کھڑے ہوں۔
عمران خان کا کہنا ہے کہ میں کئی چیزیں دیکھ رہا تھا جو کنٹینر سے کوئی نہیں دیکھ رہا تھا۔ جس ظلم سے شیلنگ کی گئی اپنے لوگوں پر یہ جرنل ڈایر جو ایک غلام قوم پر گولیاں چلا سکتا تھا لیکن لاء انفورسمنٹ ایجنسی اپنے لوگوں پر ایسا ظلم نہیں کر سکتی ایسا صرف مجرم ہی کرتے ہیں ان سب کو بہت پہلے جیلوں میں چلے جانا چاہئے تھا۔
عمران خان نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ رانا ثناء اللہ اور شہباز شریف نے ماڈل ٹاؤن میں جب ظلم کیا تھاجس وقت ماڈل ٹاؤن میں 14 قتل کیے گئے تھے۔ ان کو تو تب ہی جیلوں میں چلے جانا چاہئے تھا۔عمران خان نے افسوس کے ساتھ کہا کہ لیکن ہمارے ملک میں انصاف نہیں ہے۔ یہ آپ کو جدوجہد کر کے ہی لینا پڑے گا۔
عمران خان نے مزید کہا کہ ہمارے دین میں انصاف پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔اللّه نے انسان کو صرف دنیا میں ایک وجہ سے بھیجا ہے کہ انصاف قائم کرو۔ اس حوالے سے عمران خان نے ایک حدیث مبارک کا ترجمہ بھی کیا۔حدیث مبارک ہے کے تمہارے سے پہلے بری قومیں تباہ ہو گئی جو طاقت ور کو قانون کے نیچے نہیں لا سکی۔
عمران خان نے کہا کہ یہ انصاف کی جنگ ہے۔ لوگوں کو نہیں ڈڑایا جا سکتا۔ یہ لوگوں کو پھر سے ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لانگ مارچ کے دوران عورتوں اوربچوں پر وہ شیل استعمال ہوۓ جو دہشت گردوں پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ آخر میں عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آتے ہی ہم پھر لانگ مارچ کے لئے نکلے گے بہتر پلاننگ کے ساتھ نکلے گے اس دفع قوم تیاری کر لے۔ -

اداروں پر تنقید کا کیس۔ایمان مزاری کی ضمانت پر اسلام آباد بار کا اعلامیہ
اداروں پر تنقید کا کیس۔ایمان مزاری کی ضمانت پر اسلام آباد بار کا اعلامیہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی کابینہ کا اجلاس ہوا۔جس میں اس بات کو سراہا گیا کہ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے ہمیشہ قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالا دستی کی تارجمان و دعویدار رہی ہے۔اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے ہمیشہ قانون کی حکمرانی کی بات کی اور اس پر عمل پیرا لوگوں کے ساتھ کھڑی رہی۔ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے کبھی بھی اور کسی بھی ادارے کی بے عزتی کی نہ اجازت اور نہ ہی کبھی حمایت کی اور وطن عزیز کے قابل احترام اداروں کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کی مزمت کرتی رہی ہے۔ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کسی بھی شہری کی جانب سے پاکستان کے اہم اداروں پر الزام تراشی کی مذمت کرتی ہے۔ پچلھے کچھ عرصے سے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ اشرفیہ کا ایک مخصوص طبقہ پاکستان کے دفاعی اداروں کو سوچی سمجھی سازش کے تحت نشانہ بنا رہا ہے۔ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن ایمان زینب مزاری ایڈووکیٹ کی جانب سے پاک فوج پر اور ان کے افسران پر بلا کسی ثبوت کے الزام تراشی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہےاور سربراہ پاک فوج کے بارے میں غیر اخلاقی گفتگو کی قطقطعاً حمایت نہیں کرتی۔
اسلام آباد بار ایسوسی ایشن اسلام کا نظام عدل، آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی کے فلسفے کے عین مطابق عدل کے لیے طبقاتی تقسیم پر ہر گز یقین نہیں رکھتی اور عدل کی طبقاتی تقسیم کی شدید مذمت کرتی ہےاور اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ انصاف کی رسائی پاکستان کے ہر شہری کو يكساں طور پر میسر ہونی چاہیے اور عدالت کو چاہیے کہ وہ انصاف عورت و مرد، امیروغریب،حاکم و محکوم، بادشاہ اور رعایا اور کسی بھی ادارے اور عام شہری کے فرق سے بالا تر ہو کر کرے۔کیونکہ طبقاتی تقسیم عدل کے اصولوں منصف کے مقام کے خلاف ہے۔اسلام آباد بار ایسوسی ایشن،عدالت عالیہ کا سیشن عدالت کے بجاۓ براۓ راست ایمان مزاری ایڈووکیٹ کے درخواست ضمانت کے فیصلے سے قانون کا راستہ اپنانے والے اداروں کو غلط پیغام کیا لہذا اسلام آباد بار ایسوسی ایشن ایسے تمام اقدامات کی پرزور مزمت کرتی ہے۔ انصاف ہمیشہ ایک ہی طرز اور ایک ہے اصول پر ہونا چاہئے چند عرصہ قبل قانون سے وابستہ خواتین مرد حضرات کے لیے نہ صرف اسلام آباد بلکہ پورے وطن عزیز میں ایسے ریلیف کو بین کروا دیا گیا تھا۔جبکہ اب انتہائی ارزاں نرخوں کے مچلکے پر سہولیات دی جانے کی وجہ وکلاء کمیونٹی سے تعلق ہونا ہر گز نہ ہے۔اسلام آباد بار ایسوسی ایشن امید کرتی ہے کے تمام ادارے ساری عوام کو قانون کی ایک ہی نظر سے دیکھیں گے۔ -

سابق حکومت کے اقدامات سے دوست ممالک ناراض ہیں، مریم نواز
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کہتی ہیں کہ سابق حکومت کے اقدامات سے دوست ممالک ناراض ہیں۔پیر کو مریم نواز نے مسلم لیگ ن کی سوشل میڈیا ٹیم کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ اس وقت پاکستان کی معیشت آئی سی یو میں ہے۔انہوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے بارے میں کہا کہ وہ ملک کا خزانہ خالی کر کے گے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ میں اس نمبر کو ڈھونڈ رہا ہے جو بند ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان بس فساد چاہتا ہے۔مریم نواز نے سابقہ حکومت کو بے حس بھی کہا ور مزید کہ یہ حکومت 4 سال سے انتقام کے علاوہ کچھ نہیں کر رہی تھی۔اگر عمران خان کو دوبارہ حکومت مل بھی گئی تو یہ سب ہی کریں گے جو پچھلے 4 سال میں کیا ہے۔
مریم نواز نے مزید کہا کہ عمران خان نے خود کو بچانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کو بھی آوازیں دیں۔اور عدم اعتماد سے پہلے سابق صدر آصف علی زرداری سے بھی رابطہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں عدلیہ سے درخواست کرتی ہو کہ یہ جو انتشاری سیاست کر رہا ہے اس کا حصہ نہ بنے۔اور سابق حکومت سے تو دوست ممالک بھی خوش نہیں ہیں وہ بھی ناراض ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ امریکا کو للکارنے والا لیڈر خیبر پختون خواہ میں چھپ کر بیٹھا ہوا ہے اور وہاں کے وسائل استعمال کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انقلاب کے لیے جو ہیلی کاپٹر استعمال کیا وہ خیبر پختو نخوا کا تھا فرح گوگی کا نہیں تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کل وزیر اعظم سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے btiya کے چینی کاروباری گروپس عمران خان سے نہ خوش تھے۔اور ان گروپس نے ہماری حکومت آنے پر شکر کیا۔ -

حکومت تماشبینوں کے حوالے کر دی گئی ہے، فواد چوہدری
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فواد چوہدری اور حماد اظہر کی پریس کانفرنس
فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے حکومت تماشبینوں کے حوالے کر دی گئی ہے۔فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت سرکاری پیسے کو ایسے استعمال کر رہی ہے جیسے کے ان کے باپ کا مال ہو۔فواد چوہدری نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوۓ کہا کہ ایک طرف ایک وزیر کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس تو زہر خانے تک کے پیسے نہیں ہیں۔اور دوسری طرف آج وزیر اعظم اپنے 40 روز اقتدار میں اپنے چٹھے دورے کے اوپر روانہ ہو گے ہیں۔
مزید یہ کہ تقریباً 17 دورے افیشل لیول کے اوپر پیپلز پارٹی کے وزرا اور ن لیگ کے وزرا کر چکے ہیں۔اور یہ کہ ان کے دوروں پر کروڑوں روپے خرچ ہوۓ ہیں۔فواد چوہدری نے بلاول بھٹو کے حوالے سے بھی مزید بات کی ان کا کہنا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کے پتا نہیں کیوں بلاول بھٹو UAE تشریف لے گے اور پھر وہاں سے واشنگٹن بھی چلے گئے۔
فواد چوہدری نے صحت کے منسٹر پر تنقید کرتے ہوۓ کہا کے وہ تو بہت پڑھے لکھے ہیں اور WHO ان کے مشورے پر ہی چل رہا ہے۔انہوں نے کہا ہم دیکھ رہے ہیں یہ سب دورے کرتے جا رہے ہیں شیری بیبی بھی 2 سے 3 دورے کر چکی ہیں.انہوں نے مزید کہا کے ابھی ابھی یہ حکومت میں آۓ ہیں ابھی تو انہوں نے سہی طرح سے سانس بھی نہیں لیا وزارت میں آۓ ہوۓ اور وہ باہر پہنچ رہی ہیں۔
فواد چوہدری نے حج آپریشن کے حوالے سے بھی بات کی کہ مولانا صاحب نے جاتے ساتھ ہی پیسے بھرا دیے حلانکے حج آپریشن تو مکمل ہو چکا تھا پی ٹی آئی کے دور میں اس کے باوجود مولانا دورے پر گے اور لوگوں کو مجبور کیا کہ آپ جو کراۓ کی بلڈنگ ہایر کی جاتی ہیں اور جو انتظامات کیے جاتے ہیں ان میں اضافہ کیا جاۓ ۔
آخر میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کے ایک طرف ہمارے پٹرولیم کے چھوٹے وزیر کے زہر خانے کو پیسے نہیں ہیں۔دوسری طرف آپ یہ سب دورے کر رہے ہیں۔اور تیسری طرف شہباز شریف نے آتے ہی اپنے 5 گھروں کو اپنا کیمپ آفس ڈی کلیئر کر دیا اور شہباز شریف کے تمام اخراجات حکومت پر شفٹ ہو گے ہیں
فواد چوہدری نے کہا کہ ہم پرائم منسٹر ہاؤس میں ساڑھے تین سال رہے ہیں ہمیں پتا تک نہیں چلا سوئمنگ پول اور دیگر آساشیں ہیں ہم تو کبھی اس سائیڈ پر گے ہی نہیں اور اب حکومت نے آتے ساتھ ہی ان سب چیزوں کو استعمال میں لانے کے لیے ان پر پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے۔ -

ریاست کے خلاف لانگ مارچ ہوا تو سختی سے پیش آیا جاۓ گا، رانا ثناء اللہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوۓ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوۓ کہا کہ عمران خان کا لانگ مارچ کسی طرح سے پر امن نہیں تھا۔عمران خان اور ان کے ساتھ لوگ 100 فیصد نہیں بلکے 200 فیصد گولی چلانے کے ارادے سے آۓ تھے۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے خود اس بات کو تسلیم کر لیا کے ان کی لانگ مارچ میں موجود کارکنان کے پاس اصلح موجود تھا۔رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کے لانگ مارچ میں موجود کارکنان گولی چلانے کے ارادے سے ہی آۓ تھے۔پی ٹی آئی والوں کا مقصد ڈی چوک میں دھرنا دینا نہیں تھا بلکے انتشار پھیلانا تھا۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ انتشار پھیلانے کی مکمل پلاننگ کی گئی اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ لاجز اور کے پی کے ہاؤس میں مسلح افراد کو ٹہرایا گیا۔مزید کہنا تھا کہ جنہوں نے پولیس اہلكاروں کو یر غمال بنایا اور جب ان کو روکا گیا تو انہوں نے فائرنگ شروع کر دی ۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مجھے سب پتا ہے یہ لوگ کہاں سے آۓ تھے ہم نے سب کو مارک کر لیا ہے۔کابینہ میں تجویز بھی رکھی گئی ہے کے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جاۓ۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ فتنہ اور فساد مارچ تھا ۔وزیر داخلہ کے بقول پاکستان پینل کوڈ کے تحت جرم ہوا جو قابل سزا ہے ۔
رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ ریاست مخالف لانگ مارچ ہوا تو سختی سے نمٹا جائے گا۔ -

سابقہ دور حکومت کی کرپشن سامنے لائی جائے گی، پنجاب حکومت کا فیصلہ
وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے صوبائی کابینہ کی تشکیل کے ساتھ ہی بڑا فیصلہ کرلیا۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے منصوبوں کی چھان بین کے لیے بھرپور ایکشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ایک اور اہم خبر یہ ہے کہ عثمان بزدار کے دور میں جنوبی پنجاب کے منصوبوں میں مبینہ کرپشن پر تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ اینٹی کرپشن نے ملتان، ڈی جی خان اور بہاولپور کے منصوبوں کا ریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے۔ دوسری جانب، موجودہ حکومت نے سابقہ صوبائی حکومت کی کرپشن کے منصوبوں پرکارروایاں بھی تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کا اس حوالے سے مزید کہنا ہے کہ عثمان بزدار اور متعلقہ احکام کے خلاف بھی سخت فیصلے کیے جائیں گے۔ -

عوامی مسا ئل فو ری حل کر نے کیلئے کھلی کچہریاں شر وع کیں،وفاقی محتسب
وفاقی محتسب اعجاز احمد قر یشی نے کہا ہے کہ انہوں نے عوام النا س کے مسا ئل فو ری حل کر نے کے لئے کھلی کچہر یوں کا سلسلہ شر وع کیا ہے، اس مقصد کے لئے میں نے سب سے پہلے ما نسہر ہ میں کھلی کچہر ی لگا نے کا فیصلہ اس لئے کیا ہے کہ اس علا قہ کی اپنی ایک اہمیت ہے، یہا ں کے غر یب لوگ دور دراز کا سفر کر کے اسلا م آباد نہیں جاسکتے۔
انہوں نے کہا کہ عام لو گوں کے مسا ئل حل کر نے کے لئے اس طر ح کی کھلی کچہر یاں ملک کے دیگر علا قوں میں بھی لگا ئی جا ئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پا کستان کے چاروں صو با ئی ہیڈ کوا رٹر ز کے ساتھ ساتھ پا کستان کے بڑ ے شہر وں میں وفاقی محتسب کے پند رہ علا قا ئی دفا تر کام کر رہے ہیں جہاں چوبیس گھنٹے دن رات وفاقی اداروں کے خلاف شکا یات داخل کی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوات اور فا ٹا میں بہت جلد وفاقی محتسب کے علا قا ئی دفا تر قا ئم کئے جا رہے ہیں تاکہ لوگوں کو ان کے گھر کے قر یب انصاف فرا ہم کیا جا سکے۔ وفاقی محتسب اعجاز احمد قر یشی نے ان خیا لا ت کا اظہار ما نسہر ہ میں اپنی پہلی کھلی کچہر ی کے دوران اپنے خطاب میں کیا۔کھلی کچہر ی میں عام شہر یوں کے علا وہ وفاقی حکو مت کے اداروں جیسے پیسکو، سو ئی گیس، نا درا وغیر ہ کے علا قا ئی سر برا ہان، وفاقی محتسب ایبٹ آبادعلا قا ئی دفتر کے اعلیٰ افسران اور ضلعی انتظا میہ کے افسران نے بڑ ی تعداد میں شر کت کی۔
وفاقی محتسب نے کہا کہ ہزا رہ میں وفاقی محتسب کے علا قا ئی دفتر میں چار ایڈ وائزر اور انو سٹی گیشن افسران مستعد ی کے ساتھ عام لوگوں کو انصا ف فرا ہم کر رہے ہیں۔ وفاقی محتسب نے کہا کہ انہوں نے قا نون کے مطا بق روایتی طر یق کار کے ساتھ ساتھ کھلی کچہر یوں اور وفاقی حکو مت کے اداروں کے اچا نک معا ئنے بھی شر وع کئے ہیں جہاں ہما رے افسران مو قع پر جا کر ان اداروں کے خلا ف جن کے با رے میں شکا یات کی تعداد زیا دہ ہے، وہاں عام لوگوں کی شکا یات کا ازالہ کر نے کے ساتھ ساتھ ان کے نظام کے طر یق کار میں خرا بیوں کو دور کر نے کے لئے تجا ویز بھی پیش کر تے ہیں اور یہ رپو رٹیں متعلقہ اداروں کے سر برا ہوں کو بھیجی جا تی ہیں تا کہ ان کو تا ہیوں کا مستقل تدراک کیا جا سکے۔
وفاقی محتسب نے بتا یا کہ ہما را قا نون ہمیں اس بات کی اجا زت دیتا ہے کہ لو گوں کے با ہمی تنا زعات غیر رسمی طور پر حل کرا نے میں کر دار ادا کر یں چنا نچہ ہم نے عام لوگوں کے ایسے باہمی تنا زعات حل کر نے کے لئے جو ہما رے دائر ہ کار میں نہیں آ تے ”تنا زعات کے غیر رسمی حل“Informal Resolution of Disputes (IRD) کے نام سے ایک پائلٹ پرا جیکٹ شر وع کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ہما رے ایڈ وائزر فر یقین کی رضا مند ی سے ان کے تنا زعات مصا لحا تی انداز میں مفت حل کر نے کی کو شش کریں گے، جس کے لئے نہ وکیل کی ضرورت ہے اور نہ ہی کو ئی فیس ہے۔یہ سہو لت وفاقی محتسب کے تمام علا قا ئی دفا تر میں بھی میسر ہو گی۔
وفاقی محتسب نے بتا یا کہ ان کے ادارے نے 2021 ء کے دوران ایک لاکھ چھ ہزار سے زائد شکا یات کے فیصلے کئے جب کہ 2022 ء میں آ نے والی شکا یات میں تیس فیصد اضا فہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی محتسب میں ہر شکا یت کا فیصلہ ساٹھ دن کے اندر کر دیا جا تا ہے۔
-

عوام عمران خان کے خلاف رد الفساد لانچ کریں گے، مریم نواز
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ پچھلی حکومت نے سیاسی انتقام کے سوا کچھ نہیں کیا۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے مری میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرا وطن بہت مشکل میں ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک آج ہم سب کو آواز دے رہا ہے، اس ملک کو کئی کاری ضربیں لگیں، جب ہم حکومت سے باہر تھے تو ہم دیکھ رہے تھے کہ غریب کے پاس روٹی نہیں ہے، قسم کھاکر کہتی ہوں پاکستان کی معیشت وینٹی لیٹر پر ہے اور بات میں کوئی شک نہیں، عمراان خان کی حکومت میں اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے پااس گروی رکھ دیا اور یہ قانون بنا گیا کہ اسٹیٹ بینک جو کچھ کرے گا کوئی حکومت اسکو کچھ نہیں کہہ سکتی۔
رہنما ن لیگ کا کہنا تھاکہ وہ ممالک جو پاکستان کے دوستوں کی صف میں ہوتے تھے آج وہ ہمارے دشمنوں کی صف میں ہیں اور وہ پاکستان سے ناراض تھے، یہ پاکستان کیلئے بارودی سرنگیں بچھاکر گیا ہے۔ چینی وفد نے شکایت کی کہ ہم عمران خان کی حکومت سے بہت مایوس تھے، شہباز شریف ترکی اس لیے جارہے ہیں جو ترکی نے ہمرے دور میں سرمایہ کاری کی تھی پاکستان میں اسکو بری طرح کچلا گیا، حالانکہ وہ پاکستان کی مدد کررہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ کل شہباز شریف سے میٹنگ ہوئی تو پتہ چلا کہ اس وقت ملک کے اصل میں کیا حالات ہیں۔ ن لیگی نائب صدر نے مزید کہا کہ عمران خان نے اپنی بے وقوفی سے تمام دوست ملکوں سے تعلقات خراب کئے، سب کو ناراض کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے دور حکومت میں ترکی نے جو منصوبے شروع کیے، انہیں پی ٹی آئی کی حکومت نے بری طرح کرش کیا گیا۔
مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ ترکی کے سارے منصوبے تعطل کا شکار ہیں، وزیر اعظم صاحب ترکی اس لیے گئے ہیں کہ جو منصوبے ان کی نااہلی کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں انہیں دوبارہ چلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ جہاد نہیں فساد کر رہے ہیں اور اس فساد کو روکنا عین جہاد ہے، عمران خان نے اپنے انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ ان کے پاس اسلحہ تھا۔
ن لیگی نائب صدر نے کہا کہ لانگ مارچ سے پہلے رانا ثناء اللّٰہ بھی یہی کہہ رہے تھے کہ یہ لوگ مسلح ہیں، ان کے پاس کوئی جواز نہیں رہ گیا کہ یہ لوگ کہیں کہ ہمارا احتجاج پر امن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اتنے جلسے کیے، کہیں کوئی اسلحہ نظر آیا؟ ہمارا مقصد فتنہ، شر اور فساد پھیلانا نہیں ہے، ان کی تحریک پر تشدد تحریک میں بدل چکی ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے غیور عوام نے عمران خان کے مکروہ عزائم کو ناکام بنایا، پوچھتی ہوں ایک شخص نے اپنی کرسی کی خاطر صوبے کے معصوم بچوں کو کیوں مروایا؟ انہوں نے کہا کہ اس اپنے بچے جہاد کی فرنٹ لائن میں کیوں نہیں کھڑے ہوتے؟ یہ گھناؤنی سازش کر رہا ہے ہے کہ اگر میرا اقتدار نہیں رہا تو ہر جگہ آگ لگا دوں گا۔
ن لیگی نائب صدر نے کہا کہ کیا فرق رہ گیا عمران خان اور دہشت گرد میں؟ پوچھتی ہوں کیا ایسے دہشت گرد کو کھلے عام چھٹی ملنے چاہیے؟ پاکستان کے عوام آپ کے خلاف رد الفساد لانچ کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ مسلح تحریک کا گینگ لیڈر عمران خان ہے، جس نے اپنے چہرے پر سیاسی نقاب چڑھایا ہوا ہے، اگر تہمیں یہی دہشت گردی کرنی تو اپنے چہرے سے سیاسی نقاب ہٹاؤ پھر ریاست پاکستان تمہارا مقابلہ کرے گی۔
-

منشیات برآمدگی کیس، عدالت نے رانا ثناء اللہ کو طلب کرلیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کو منشیات برآمدگی کیس میں فرد جرم کے لئے طلب کر لیا ہے. عدالت نے رانا ثناء اللّه پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 25 جون کی تاریخ کا اعلان کر دیا ہے.عدالت نے رانا ثناء اللہ کے عدالت میں پیش ہونے کے حوالے سے تمام احکامات بھی جاری کر دئیے ہیں. اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے ایک اور بڑا فیصلہ کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کی تمام پراپرٹی اور بینک اکاؤنٹس کھولنے پر انسداد منشیات فورس (اے این ایف) کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے. رانا ثناء اللہ کی مشکل حاضری تلافی کی درخواست سماعت کے لیے بھی مقرر ہے جس پر وکلاء آئندہ سماعت پر دلائل دیں گے. مزید یہ کہ رانا ثناء اللہ سمیت تمام ملزمان کو عدالت میں طلب کر لیا گیا ہے.
رانا ثناء الله پر الزمات کس قسم کے ہیں ؟
رانا ثناء اللہ کو یکم جولائی 2019 کو اے این ایف نے فیصل آباد لاہور موٹروے پر سکھیکی کے قریب سے گرفتار کیا تھا تلاشی پر گاڑی سے نیلے رنگ کا سوٹ کیس برآمد ہوا ایف آئ ار کے مطابق اس سوٹ کیس سے 15 کلو ہیروئن برآمد ہوئی جس کا خود رانا ثناء الله نے بھی اعتراف کیا تھا.