Baaghi TV

Category: لاہور

  • پنجاب سیلاب متاثرین کے لیے مفت کالنگ سہولت میں توسیع

    پنجاب سیلاب متاثرین کے لیے مفت کالنگ سہولت میں توسیع

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پنجاب کے سیلاب متاثرین کے لیے مفت وائس منٹس کی سہولت میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔

    پی ٹی اے کے مطابق موبائل آپریٹرز کے تعاون سے متاثرہ اضلاع میں صارفین کو اکاؤنٹ بیلنس صفر ہونے کے باوجود مفت کالنگ کی سہولت فراہم کی گئی ہے تاکہ سیلاب زدہ عوام اپنے اہل خانہ اور ایمرجنسی اداروں سے رابطے میں رہ سکیں۔ترجمان پی ٹی اے نے مزید بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی خدمات کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور روابط میں کسی قسم کا تعطل نہیں آنے دیا جائے گا۔

    اتھارٹی کے مطابق یہ اقدام سیلاب متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنے اور ان کی مشکلات کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

    ملتان میں موسلادھار بارش، نشیبی علاقے زیر آب، واسا کی رین ایمرجنسی نافذ

    ٹرمپ کا ٹک ٹاک پابندی کی ڈیڈ لائن میں چوتھی بار توسیع کا عندیہ

    ڈیرہ غازی خان: سیلاب متاثرین کشتیاں کرائے پر لینے پر مجبور

    ٹرمپ انتظامیہ نے یوکرین کو دفاعی نظام کی فروخت کی منظوری

  • بجاش نیازی حماد اظہر کے خلاف میدان میں آگئے

    بجاش نیازی حماد اظہر کے خلاف میدان میں آگئے

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما بجاش خان نیازی اپنی ہی جماعت کے سینئر رہنما حماد اظہر کے مقابلے میں سامنے آگئے ہیں۔

    بجاش خان نیازی کا کہنا ہے کہ حماد اظہر نے 2013ء میں این اے 129 سے الیکشن لڑا اور 2018ء میں کامیابی کے بعد حلقے سے غائب ہو گئے، جبکہ 9 مئی 2023ء کے بعد بھی وہ دوبارہ سامنے نہیں آئے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حماد اظہر اس حلقے میں خاندانی سیاست کر رہے ہیں، انہوں نے اپنے اور اپنے کزن کے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ کیا پی ٹی آئی کے پاس میاں اظہر خاندان کے علاوہ کوئی امیدوار نہیں؟

    بجاش خان نیازی نے کہا کہ حماد اظہر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے انہیں ٹکٹ دیا ہے، لیکن بانیٔ پی ٹی آئی کی تو اڈیالہ جیل میں کسی سے ملاقات نہیں ہو رہی۔ انہوں نے خود کو این اے 129 سے پی ٹی آئی کا حقیقی امیدوار قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ میں کارکنوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مجھے ووٹ دیں، کیونکہ حماد اظہر کارکنوں کی حق تلفی کر کے یہ نشست ن لیگ کو تحفے میں دے رہے ہیں۔

    اسرائیلی فضائی حملے میں حوثی وزیراعظم شہید، تصدیق ہو گئی

    متاثرین کو اسکولوں میں منتقل ، ریلیف آپریشن میں کمی نہ آئے: مریم نواز

    پشاورمیں موسلادھار بارش، اربن فلڈنگ سے متعدد علاقے زیرآب

    پشاورمیں موسلادھار بارش، اربن فلڈنگ سے متعدد علاقے زیرآب

  • متاثرین کو اسکولوں میں منتقل ، ریلیف آپریشن میں کمی نہ آئے:  مریم نواز

    متاثرین کو اسکولوں میں منتقل ، ریلیف آپریشن میں کمی نہ آئے: مریم نواز

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کو فوری طور پر اسکولوں میں منتقل کیا جائے اور ریلیف آپریشن میں کسی قسم کی کمی نہیں آنی چاہیے۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ تمام ادارے سیلاب متاثرین کی مدد میں پیش پیش ہیں اور کئی دہائیوں بعد ایسی شدید صورتحال کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے ڈیمز کے اسپل ویز کھولنے کے بعد سیلابی کیفیت پیدا ہوئی تاہم ادارے دن رات متاثرین کے لیے کام کر رہے ہیں اور ان کی کارکردگی لائقِ تحسین ہے۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں سے 6 لاکھ افراد اور 4 لاکھ سے زائد مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ بروقت انخلا کے باعث قیمتی جانیں بچائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز نے بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا جبکہ صوبائی وزرا متاثرہ علاقوں میں دن رات کام کر رہے ہیں۔

    مریم نواز نے ہدایت کی کہ متاثرین کو صاف پانی، کھانا اور ادویات فراہم کی جائیں، جبکہ مویشیوں کے لیے بھی چارے اور پانی کا بندوبست کیا جائے۔ ملتان، اوکاڑہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ساہیوال سمیت دیگر اضلاع میں بھی انخلا یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم سب عوام کے جوابدہ ہیں اور کسی بھی متاثرہ شخص کو یہ محسوس نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اکیلا ہے۔ ہر ضرورت مند تک مدد پہنچنی چاہیے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس موقع پر پاک فوج کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ فوج کے جوانوں نے کئی علاقوں سے متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    پشاورمیں موسلادھار بارش، اربن فلڈنگ سے متعدد علاقے زیرآب

    مودی باز نہیں آیا، لیک دستاویزات سے سازش بےنقاب،را کا منصوبہ

    پی ٹی اے نے آئی ایم ای آئی ریکارڈ ہٹادیا، نئی پالیسی کا اعلان

    گلگت بلتستان کے ضلع رندو میں ٹریفک حادثہ، 4 غیر ملکی سیاح زخمی

  • لاہور بارش، جناح ہسپتال ایمرجنسی کی چھت سے پانی ٹپکنے لگا

    لاہور بارش، جناح ہسپتال ایمرجنسی کی چھت سے پانی ٹپکنے لگا

    لاہور اور گردونواح کے علاقے موسلادھار بارشوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے سڑکیں، گلیاں اور دفاتر زیر آب آگئے ہیں۔ جناح اسپتال کی ایمرجنسی کی چھت سے پانی ٹپکنے لگا، جبکہ بارش کا پانی او پی ڈی سمیت مختلف وارڈز اور راہداری میں بھی داخل ہوگیا، جس سے اسپتال میں آنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    لاہور، شیخوپورہ، پھولنگر، ننکانہ صاحب، اوکاڑہ اور کوٹ رادھا کشن میں بھی موسلادھار بارشوں کی وجہ سے سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ بارش کے پانی نے سڑکوں اور گلیوں کو تالاب کا منظر پیش کر دیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ کئی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا ہے، جس سے مکینوں کی زندگی مزید مشکل ہو گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور کے علاقے نشتر ٹاؤن میں سب سے زیادہ 145 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ دیگر علاقوں میں بھی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ محکمہ موسمیات نے مون سون کے اس اسپیل کو 2 ستمبر تک جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے، جس کے نتیجے میں مزید بارشوں کی توقع ہے۔شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور سیلابی پانی سے بچاؤ کے لیے حکومت کی جانب سے امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ انتظامیہ نے ندی نالوں اور نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر افراد کو نقل مکانی کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔

    موسم کے اس بحران میں شہریوں کو سڑکوں پر بے احتیاطی سے چلنے، پانی میں گاڑیاں چلانے اور کھلے مقامات پر جانے سے گریز کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، اس بات پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ شہری اپنے گھروں کی چھتوں، دیواروں اور کھڑکیوں کی دیکھ بھال کریں تاکہ بارش کا پانی اندر نہ آ سکے۔

  • بھارتی دہشت گرد کو عدالت نے سزا سنا دی

    بھارتی دہشت گرد کو عدالت نے سزا سنا دی

    لاہور: لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے بھارتی دہشت گرد عثمان عرف عبدالرحمٰن کو مجموعی طور پر 20 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے اس سزا کا فیصلہ مجرم کی دہشت گردی میں ملوث ہونے اور پاکستان میں دہشت گردی کے مقاصد کے لیے غیر قانونی بارودی مواد رکھنے کی بنیاد پر کیا۔

    مجرم عثمان عرف عبدالرحمٰن سابق بھارتی شہری اور جاسوس کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ پراسیکیوٹر کی جانب سے دورانِ سماعت یہ دلائل دیے گئے کہ مجرم اس وقت افغانستان کی شہریت رکھتا ہے اور پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں کے لیے داخل ہوا تھا۔ پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ عثمان چمن کے راستے پاکستان میں داخل ہوا اور اس کے قبضے سے دھماکا خیز مواد برآمد ہوا جو دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے والا تھا۔مجرم عثمان کے خلاف 2024ء میں سی ٹی ڈی لاہور نے مقدمہ درج کیا تھا اور تحقیقات کے دوران مجرم کی دہشت گردی میں ملوث ہونے کی مزید تفصیلات سامنے آئیں۔ سی ٹی ڈی نے اس کی گرفتاری کے بعد اس سے مزید بارودی مواد اور حساس معلومات بھی حاصل کیں، جس سے یہ بات واضح ہوئی کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کے منصوبے پر عمل پیرا تھا۔

    عدالت نے مجرم عثمان کو مجموعی طور پر 20 سال قید کی سزا سناتے ہوئے اسے دہشت گردی کے تمام الزامات میں مجرم قرار دیا۔ اس فیصلے کو پاکستان کی عدالتوں کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کی ایک اور مثال قرار دی جا رہا ہے۔

  • دریائے چناب سے 1 ہزار 169، راوی سے 462 اور ستلج میں  391 موضع جات متاثر

    دریائے چناب سے 1 ہزار 169، راوی سے 462 اور ستلج میں 391 موضع جات متاثر

    لاہور:پنجاب میں سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہوگئی،جبکہ،سیلاب سے 15 لاکھ 16 ہزار 603 لوگ متاثر ہوئے ہیں-

    سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق سیلاب سے 15 لاکھ 16 ہزار 603 لوگ متاثر ہوئے ہیں، متاثرہ علاقوں سے 4 لاکھ 81 ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، تین دریاؤں کے سیلابی پانی سے دو ہزار 38 موضع جات متاثر ہوئے، دریائے چناب سے 1 ہزار 169، راوی سے 462 اور ستلج میں سیلاب سے 391 موضع جات متاثر ہوئے۔

    سینئیر صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ 511 ریلیف اور 351 میڈیکل کیمپس متاثرین کی چوبیس گھنٹے مدد اور دیکھ بھال کر رہے ہیں، 6 ہزار 373 متاثرین ریلیف کیمپس میں ہیں، 4 لاکھ 5 ہزار سے زائد مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، مویشیوں کے علاج کے لئے 321 ویٹرنری کیمپ بھی کام کر رہے ہیں، 808 کشتیاں ریکسیو مشن میں شریک ہیں، چھتیس گھنٹوں میں 68 ہزار 477 لوگوں کو ریسکیو کیا گیا۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے ساتھ ہیں، عوام کی خدمت اور مدد کا تاریخی ریلیف آپریشن وزیراعلیٰ پنجاب کی براہ راست نگرانی میں تیزی سے جاری ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے پیشگی حفاظتی انتظامات اور تجاوزات کے خلاف آپریشن کی وجہ سے تاریخ کے اتنے بڑے سیلاب میں بڑے جانی نقصان سے پنجاب بچ گیا۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی تباہی میں بدل چکی ہے، پیشگی خبردار کرنے والے جدید ترین نظام پنجاب میں لائیں گے، سیلاب سے بحالی کے بعد تجاوزات کے خاتمے کا آپریشن ہوگا، حالیہ سیلاب میں ہونے والے تجربات کی روشنی میں جامع حکمت عملی تیار کریں گے،ریسکیو اور ریلیف میں دن رات کام کرنے والے ہمارے ہیروز ہیں، متاثرین کی بحالی اور نقصانات کا ازالہ اولین ترجیح ہے۔

  • وزیر آباد، مریم نواز کے دورے کے بعد فلڈ ریلیف کیمپ ختم، متاثرین پریشان

    وزیر آباد، مریم نواز کے دورے کے بعد فلڈ ریلیف کیمپ ختم، متاثرین پریشان

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے وزیر آباد میں سیلاب متاثرین کے فلڈ ریلیف کیمپ کے دورے کے بعد متاثرین نے کیمپ میں فراہم کیا گیا کھانا کھا کر واپس جانا شروع کر دیا، اور کیمپ کو تالے لگا دیے گئے۔

    مریم نواز کے دورے سے قبل سوہدرہ کے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول میں سیلاب زدگان کے لیے فلڈ ریلیف کیمپ قائم کیا گیا تھا، جہاں خیمے، کرسیاں، گدے، دوائیاں اور کھانے کے انتظامات کیے گئے تھے تاکہ متاثرین کو تمام ممکن سہولیات فراہم کی جا سکیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اسکول میں قائم کیمپ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سیلاب متاثرین سے ملاقات کی اور سیلاب میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مریم نواز نے متاثرہ بچوں کے ساتھ کھانا بھی کھایا اور ان سے ہمدردی کا مظاہرہ کیا۔مریم نواز نے متاثرین کو یقین دہانی کروائی کہ حکومت پنجاب ان کی مدد کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور انہیں تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

    تاہم، مریم نواز کے دورے کے بعد کیمپ کو بند کر کے سامان واپس بھجوا دیا گیا۔ متاثرین نے کھانا کھانے کے بعد کیمپ چھوڑ دیا اور کیمپ کے دروازے تالے لگا دیے گئے۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا ہے کہ متاثرین کھانا کھانے کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ گئے ہیں، اور کل صبح دوبارہ ڈاکٹروں اور عملے کے ہمراہ کیمپ فعال کیا جائے گا۔

    پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بھی وضاحت کی کہ سیلاب متاثرین دن کے اوقات میں کیمپ آتے ہیں تاکہ کھانا اور طبی سہولت حاصل کر سکیں، مگر وہ طویل قیام کے لیے اپنے رشتہ داروں کے گھروں کو ترجیح دیتے ہیں۔

  • دریائے راوی میں سیلاب کا الرٹ جاری

    دریائے راوی میں سیلاب کا الرٹ جاری

    این ڈی ایم اے نے مزید بارشوں کی صورت میں دریائے راوی میں سیلابی صورتحال کی شدت کا الرٹ جاری کردیا۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق 30 اگست تا 3 ستمبر دریائے راوی کے بالائی ملحقہ علاقوں میں بارشیں اور تھین ڈیم سے پانی کا اخراج متوقع ہے اور سیلابی ریلوں کی آمد کے باعث دریائے راوی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہوجائے گادریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر اس وقت تقریباً 1لاکھ47 ہزار کیوسک کا بہاؤ موجود ہے، 2 سے 3 ستمبر کے دوران یہ سیلابی ریلا سدھنائی پہنچے گا جہاں 1لاکھ 25 ہزار سے1لاکھ 50ہزار کیوسک تک بہاؤ متوقع ہے، سدھنائی کے مقام پر یہ سیلابی ریلا شدید سیلابی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔

    دریائے راوی میں سیلابی صورتحال کے باعث لاہور کے ممکنہ متاثرہ علاقوں میں لاہور سٹی اور رائیونڈ شامل ہیں، قصور، پتوکی، اوکاڑہ، رینالہ خورد، ڈیپالپور، گوگرا، تانڈیانوالہ، کمالیہ، پیر محل، اڈا حکیم اور سدھنائی کے علاقے بھی متاثر ہو سکتے ہیں،دریائے چناب میں اس وقت چنیوٹ پل پر 8لاکھ 55ہزار کیوسک کے بہاؤ کے ساتھ شدید سیلابی صورتحال ہے، وزیراعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے تمام ریسکیو و ریلیف سرگرمیاں کی نگرانی کر رہا ہے، نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر 24 گھنٹے کے لئے مکمل فعال ہے این ڈی ایم اے سول و عسکری اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

    پاکستانی عدلیہ پر حکومت کا کوئی اختیار نہیں ،اسحاق ڈار

    این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ دریاؤں کے کناروں اور واٹر ویز پر رہائش پذیر افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں، مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر فوری عمل کریں اور ہنگامی حالات میں امدادی ٹیموں سے رابطہ کریں، سیلاب زدہ علاقوں میں غیر ضروری سفر سے مکمل گریز کریں، ہنگامی کٹ (پانی، خوراک، ادویات) تیار رکھیں اور اہم دستاویزات محفوظ کریں، مزید رہنمائی کے لیے این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ استعمال کریں۔

    لندن میں منعقدہ اسلحہ نمائش میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی

  • راوی میں 40 سال پانی نہیں آیا، لوگ دریا کی زمین پر کاشت کرتے، ڈی جی پی ڈی ایم اے

    راوی میں 40 سال پانی نہیں آیا، لوگ دریا کی زمین پر کاشت کرتے، ڈی جی پی ڈی ایم اے

    پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے پانی کی گزر گاہوں کو خالی کرنا پڑے گا ورنہ جو ہو رہا وہی ہوتا رہے گا۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایات ہیں کہ سیلاب سے متاثرہ عوام کے مویشیوں کو بھی بچایا جائے، اب تک 3 لاکھ 174 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا جبکہ مویشیوں کے لیے چارے کا بھی بندوبست کیا جا رہا ہے،اب تک سیلاب کے باعث 20 افراد کا انتقال ہو چکا ہے اور سب سے زیادہ اموات گوجرانوالہ میں رپورٹ ہوئیں، حکومت پنجاب کی جانب سے سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے کی امدادی رقم دی جائےگی۔

    انہوں نے کہا کہ آج بھی فیصل آباد، سرگودھا ڈویژن، راجن پور اور ڈی جی خان میں بارش کی پیشگوئی ہے، 2 ستمبر تک اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے، انتظامیہ الرٹ ہے اور اربن فلڈنگ کی صورت میں پیشگی اقدامات کی ہدایات کر دی ہیں، سیلاب سے لوگوں کی فصلوں کو بہت نقصان پہنچا ہے، ہم مربوط طریقے سے فصلوں کے نقصانات کے سروے کی طرف جا رہے ہیں، جن لوگوں کا نقصان ہوا ان کا ازالہ کیا جائے گا، موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے، موسمیاتی تبدیلی کو مدنظر رکھے بغیر کوئی بھی ترقیاتی کام کریں گے تو اس میں نقصان اٹھائیں گے، پانی کی گزر گاہوں کو خالی کرنا پڑے گا ورنہ وہی ہوگا جو رہا ہے، وزیراعلیٰ کے واضح احکامات ہیں کہ پانی کی گزر گاہوں کو فوری خالی کرایا جائے، راوی میں 40 سال پانی نہیں آیا، لوگ دریا کی زمین پر کاشت کرتے ہیں، دریائے راوی اور ستلج کی گزرگاہوں پر کاشت فصلیں متاثر ہو چکی ہیں، راوی میں لاہور سے 1988 کے بعد سے سب سے بڑا پانی کا ریلا گزرا ہے۔

  • دریائے راوی، امدادی کاموں کے دوران لائف بوٹ میں سانپ گھس گیا

    دریائے راوی، امدادی کاموں کے دوران لائف بوٹ میں سانپ گھس گیا

    دریائے راوی میں شدید سیلاب کی صورت حال کے پیش نظر جاری امدادی کارروائیوں کے دوران ایک دلچسپ اور سنسنی خیز واقعہ پیش آیا، جب ریسکیو اہلکاروں کی لائف بوٹ میں اچانک ایک زہریلا سانپ گھس گیا۔ اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہوگئی ہے، جس میں اہلکار لکڑی کی مدد سے سانپ کو لائف بوٹ سے نکالتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دریائے راوی میں مختلف متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی جان و مال کی حفاظت اور بچاؤ کے لیے کام کرنے والے ریسکیو اہلکار نہایت ہمت اور دلیری سے کام کر رہے تھے کہ اچانک ان کی لائف بوٹ میں سانپ داخل ہوگیا۔ اہلکاروں نے جلد از جلد لکڑی کا استعمال کرتے ہوئے اس خطرناک جانور کو لائف بوٹ سے نکالا، جس پر دریا کے کنارے کھڑے افراد نے ان کی بہادری کو داد دی اور شاباشی دی۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شاہدرہ کے مقام پر دریائے راوی میں سیلاب کا پانی انتہائی بلند سطح پر پہنچ چکا ہے، جس کی وجہ سے قریبی رہائشی علاقے جیسے فرخ آباد، عزیز کالونی، امین پارک، افغان کالونی، شفیق آباد اور مریدوالا شدید متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور بچاؤ کے کام جاری ہیں۔علاقائی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں دن رات محنت کر رہی ہیں تاکہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو فوری مدد پہنچائی جا سکے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ محفوظ جگہوں پر رہیں اور امدادی ٹیموں کے کام میں تعاون کریں تاکہ نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔دریائے راوی میں اس سیلابی صورتحال نے لوگوں کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، مگر ریسکیو اہلکاروں کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت نے عوام کے دل جیت لیے ہیں، خاص طور پر اس واقعے نے امدادی ٹیموں کی جانفشانی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔