Baaghi TV

Category: لاہور

  • پنجاب،سیلاب متاثرہ علاقوں میں‌تعلیمی ادارے مزید ایک ہفتہ بند کرنے پر غور

    پنجاب،سیلاب متاثرہ علاقوں میں‌تعلیمی ادارے مزید ایک ہفتہ بند کرنے پر غور

    پنجاب حکومت سیلاب متاثرہ علاقوں میں تعلیمی ادارے ایک ہفتے کیلئے بند رکھنے پر غورکررہی ہے۔

    چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی زیرصدارت پی ڈی ایم اے کا اجلاس ہوا جس میں ریلیف کمشنر پنجاب اور ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا شریک ہوئے جب کہ صوبائی وزرا خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی،اجلاس میں کلینک آن وہیلز کو سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں فوری روانہ کرنے کے احکامات دیے گئے جب کہ متاثرہ علاقوں میں تعلیمی اداروں کو ایک ہفتے کے لیے بند رکھنے پرغور بھی کیا گیا، پی ڈی ایم اے اجلاس میں ننکانہ، شیخوپورہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ کے دریائی بیلٹ کے علاقوں کو فوری خالی کرانے کی ہدایات کی گئی جب کہ جھنگ اور چنیوٹ کو بچانے کے لیے رواز پل پر شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    اجلاس میں چیف سیکرٹری نےسیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ٹینٹ ولیج قائم کرنے، تمام اضلاع کے میڈیکل کیمپس میں ضروری ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

  • پارک ویو سٹی لاہور کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا، پانی گھروں میں داخل

    پارک ویو سٹی لاہور کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا، پانی گھروں میں داخل

    لاہور کی مشہور رہائشی اسکیم پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی میں سیلابی صورتحال نے خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ دریائے راوی میں پانی کے بڑھتے دباؤ کے باعث سوسائٹی کی انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور شہریوں کو فوری طور پر اپنے مکانات خالی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    پارک ویو سوسائٹی کے پلاٹینم اور ٹیولپ بلاکس مکمل طور پر زیرِ آب آ چکے ہیں، جب کہ سیلابی پانی تیزی سے دیگر بلاکس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ڈائمنڈ، اوورسیز اور منڈی پوائنٹ بلاکس میں بھی پانی کی تیز رفتار آمد دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے مقامی رہائشی شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ریسکیو 1122،پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار اور دیگر ایمرجنسی ادارے موقع پر پہنچ چکے ہیں اور متاثرہ علاقوں سے لوگوں کے انخلاء کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ کشتیاں، ایمبولینسیں اور دیگر ساز و سامان تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔پولیس علاقہ خالی کرنے کے اعلانات کر رہی ہے.

    عینی شاہدین کے مطابق کرسٹل بلاک میں پانی اچانک داخل ہونے کے بعد صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے۔ بہت سے رہائشی اپنا سامان چھوڑ کر نکلنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد خاندان اب بھی اپنے گھروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ سوسائٹی کی انتظامیہ اور مقامی رضا کاروں نے لوگوں سے بار بار اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر گھروں کو خالی کریں تاکہ کسی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

    دریائے راوی کے کنارے واقع شاہدرہ کے علاقے میں بھی سیلابی صورتحال سنگین ہو چکی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق، نچلے درجے کے درجنوں علاقے زیرِ آب آ چکے ہیں، جبکہ دو سے تین مکانات مکمل طور پر منہدم ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب راوی دریا کے سیلاب کا پانی شاہدرہ کی نشیبی آبادیوں سے پہلے لاہور کے نواح میں بنائی گئی نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں مین چلا گیا۔ کئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں تین فٹ تک پانی جمع ہو گیا۔ انتظامیہ ہاؤسنگ سوسائتیوں کو کل رات سے ہنگامی بنیادوں پر خالی کروا رہی ہے۔پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے آج بتایا کہ لاہور کے نواح میں واقع کچھ سوسائٹیزمیں مسائل تھے، یہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں خالی کروالی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ سوسائٹیز میں تین سے چار فٹ پانی آیا۔چوہنگ کے قریب نجی سوسائٹی تھیم پارک سیلابی پانی میں گھر گئی۔ تھیم پارک سوسائٹی موہلنوال 80فٹ روڈ پر بھی پانی جمع ہے۔ پیرا فورس، پاک فوج سمیت دیگر ادارےانخلاء میں شہریوں کی مدد کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔تھیم پارک سوسائٹی اور قریب آبادیوں سے شہریوں کے انخلاء کا سلسلہ جاری ہے۔ سائرن اوراعلانات کےذریعےلوگوں کوگھروں سےنکالنےکی کوشش کی جا رہی ہے۔

  • سیلاب کے باعث گندم 5 ہزار روپے من تک پہنچنے کا خدشہ

    سیلاب کے باعث گندم 5 ہزار روپے من تک پہنچنے کا خدشہ

    چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ نے انتباہ دیا ہے کہ حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد گندم کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے اور فی من قیمت 4 سے 5 ہزار روپے تک جا سکتی ہے۔

    خالد حسین باٹھ نے بتایا کہ سیلاب نے زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، کپاس کی پیداوار 50 فیصد تک کم ہو گئی ہے جبکہ بہاولنگر کے 100 کلومیٹر رقبے پر کاٹن کی فصل مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق سیلاب سے پہلے گندم 3200 روپے من فروخت ہو رہی تھی لیکن اب قیمت عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائے گی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں اس طرح کی آفات سے بچنے کے لیے صوبوں کو اعتماد میں لے کر فوری طور پر ڈیم تعمیر کیے جائیں۔

    چیئرمین کسان اتحاد کے مطابق صرف چشتیاں سے 6 سے 7 افراد لاپتہ ہیں، مال مویشی بہہ گئے ہیں اور جانی نقصان بھی بہت زیادہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار کی تباہی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔

    بھارت اور کینیڈا کے تعلقات میں بہتری، نئے ہائی کمشنرز کی تقرری کا اعلان

    الیکشن کمیشن کی نئی فہرست، پی ٹی آئی سمیت 4 جماعتیں بغیر سربراہ کے شامل

    الیکشن کمیشن کی نئی فہرست، پی ٹی آئی سمیت 4 جماعتیں بغیر سربراہ کے شامل

    پی ٹی آئی چیئرمین سمیت 18 اراکین کے قائمہ کمیٹیوں سے استعفے

  • دہشتگردوں کے ساتھ کیسے مذاکرات ہوں؟ سعد رفیق

    دہشتگردوں کے ساتھ کیسے مذاکرات ہوں؟ سعد رفیق

    سابق صوبائی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے حامی ہیں مگر اسکولوں اور مساجد پر حملے کرنے والوں کے ساتھ کیسے مذاکرات کیے جا سکتے ہیں۔

    خواجہ سعد رفیق نے سیلاب سے متاثرہ باجوڑ کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے اسلام کے نام پر اسلحہ اٹھایا، ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں پہلے بھی آپریشن ہو چکا ہے، لیکن ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی نوبت ہی نہ آتی۔ ماضی میں صوبائی اور مرکزی حکومت کے درمیان تعاون کی کمی رہی، دونوں حکومتوں کو دہشت گردی کے خلاف مل کر کام کرنا ہوگا۔

    خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قبائلی مشران کو بھی متحد ہونا چاہیے۔ ریاست نے انہیں موقع دیا اور انہوں نے دہشت گردوں سے بات بھی کی۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاست سے پیچھے نہیں ہٹا بلکہ انتخابی سیاست سے خود کو الگ کیا ہے۔ باجوڑ کے دورے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ ذاتی حیثیت میں آئے ہیں، یہاں لوگ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے باعث بے گھر ہوئے اور اب سیلاب نے بھی انہیں متاثر کیا ہے، یہ دوہری آفت ہے۔

    سابق صوبائی وزیر نے کہا کہ خواجہ فاؤنڈیشن کے ذریعے متاثرہ افراد کی مدد کی جائے گی، حکومت کے اعلان کردہ پیکج پر بھی عمل ہونا چاہیے تاکہ متاثرین خود کو تنہا نہ سمجھیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے سول انتظامیہ کو مزید مضبوط کیا جانا ضروری ہے۔

    بھارتی آبی جارحیت،پنجاب میں سیلاب سے تباہی،درجنوں دیہات زیر آب،20 اموات

  • پنجاب میں تھرمل ڈرونز کی مدد سے 800 افراد ریسکیو

    پنجاب میں تھرمل ڈرونز کی مدد سے 800 افراد ریسکیو

    پنجاب کے مختلف اضلاع میں بارشوں اور سیلاب کے دوران جدید تھرمل امیجنگ ڈرونز کے ذریعے 800 متاثرین کی بروقت نشاندہی کر کے انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

    سیف سٹی اتھارٹی کے مطابق سیالکوٹ، سرگودھا، گجرات اور جھنگ سمیت کئی متاثرہ علاقوں میں تھرمل ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کی گئی جس سے شہریوں اور مویشیوں کی حرارت کی بنیاد پر ان کی لوکیشن کا پتا لگا کر ریسکیو آپریشن مکمل کیا گیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا کہ سیف سٹی اتھارٹی کی ٹیموں نے سی سی ٹی وی اور تھرمل ڈرونز کی مدد سے 800 سے زائد کیسز کو کامیابی سے کوآرڈینیٹ کیا اور ریسکیو سروسز نے فوری طور پر متاثرین کو محفوظ مقامات پر پہنچایا۔

    بھارتی آبی جارحیت،پنجاب میں سیلاب سے تباہی،درجنوں دیہات زیر آب،20 اموات

  • "میرا دل یوں یوں کر رہا ہے” خاتون صحافی کی کشتی میں رپورٹنگ کی ویڈیو وائرل

    "میرا دل یوں یوں کر رہا ہے” خاتون صحافی کی کشتی میں رپورٹنگ کی ویڈیو وائرل

    صوبہ پنجاب میں دریاوں ستلج، راوی اور چناب میں سیلابی صورتحال نے تباہی مچا دی ہے، جس کے باعث متعدد اضلاع میں شدید سیلابی حالات پیدا ہوگئے ہیں۔

    حکومت کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 27 اور 28 اگست کو سیلاب کی تباہ کاریوں میں کم از کم 15 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 6 لاکھ سے زائد لوگ اپنے گھروں سے محروم ہو کر عارضی پناہ گزین بن گئے ہیں۔ پاک فوج، حکومت اور پاکستان مرکزی مسلم لیگ، الخدمت فاؤنڈیشن سمیت دیگر کی جانب سے ریسیکیو و ریلیف آپریشن بھی جاری ہے،سیلاب کی وجہ سے درجنوں چھوٹے شہروں اور دیہات میں گھروں اور زرعی زمینوں کو نقصان پہنچا ہے۔سیالکوٹ، نارووال، اور لاہور کے نواحی علاقوں میں بھی پانی کی سطح میں زبردست اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔حافظ آباد کے علاقے کوٹ اسحاق میں گزشتہ پانچ گھنٹوں سے سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے افراد کو شعبہ خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ فیصل آباد کی ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ریسکیو کر لیا۔ متاثرین کے مطابق انہوں نے متعدد بار ریسکیو اداروں اور مقامی انتظامیہ کو اطلاع دی، مگر کوئی مدد نہ پہنچا۔ اطلاع ملنے پر مرکزی مسلم لیگ کی ریسکیو ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور پانچ سے چھ افراد کو اس وقت ریسکیو کیا گیا جب پانی گردنوں تک پہنچ چکا تھا، بعدازاں انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔اس موقع پر محمد احسن تارڑ سیکرٹری جنرل پاکستان مرکزی مسلم لیگ فیصل آباد اور ناصر بٹ بھی ریسکیو ٹیم کے ہمراہ موجود تھے، جو متاثرین کو فوری امداد اور سہولیات فراہم کرنے میں پیش پیش ہیں۔

    ایسے مشکل حالات میں کئی مقامی رپورٹرز، یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا کے کانٹینٹ کریئیٹرز نے پانی میں گھس کر اپنی رپورٹنگ شروع کر دی ہے۔ ان کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جن میں وہ خود کو خطرے میں ڈال کر سیلاب کی شدت اور متاثرین کی حالت زار دکھا رہے ہیں۔مقامی لوگوں کی مشکلات کو اجاگر کرنے والے یہ رپورٹرز اور یوٹیوبرز سیلاب زدگان کے لیے امداد کی اپیل بھی کر رہے ہیں تاکہ حکومت اور امدادی ادارے فوری کارروائی کر سکیں۔ ان کی کوششوں سے عام لوگوں تک صورتحال کی درست معلومات پہنچ رہی ہیں، جس سے امدادی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔

    لاہور کی خاتون صحافی مہرالنساء کی ایک ویڈیو حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس میں وہ سیلاب زدہ علاقے سے رپورٹنگ کرتے ہوئے نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں بلکہ اپنی گھبراہٹ اور خوف کا بھی کھل کر اظہار کرتی ہیں۔ ان کی یہ ویڈیو دیکھنے والوں کو فوراً ہی مشہور "چاند نواب” ویڈیو کی یاد دلا گئی، جو کئی سالوں سے انٹرنیٹ پر مزاحیہ وائرلز میں شامل رہی ہے۔

    ویڈیو میں مہرالنساء کو ایک کشتی پر بیٹھے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں وہ شدید پانی کے بہاؤ اور خطرناک حالات میں رپورٹنگ کر رہی ہیں۔ اسی دوران وہ گھبراہٹ میں بول اٹھتی ہیں:
    "میرا دل یوں یوں کر رہا ہے!”
    اسی لمحے ان کا چہرہ خوف سے تھر تھراتا ہوا نظر آتا ہے اور وہ کہتی ہیں:”میرے دل کی دھڑکن نیچے جا رہی ہے… پلیز دعا کریں، مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے!”

    مہرالنسا کو اپنے ساتھیوں سمیت کشتی پر سیلابی پانی میں دیکھا گیا اور وہ لوگوں کو سیلاب کی شدت بتاتی دکھائی دیں،
    ویڈیو میں مہرالنسا اپنے مخصوص انداز میں بتاتی نظر آتی ہیں کہ وہ بہت زیادہ سیلابی پانی کی وجہ سے ڈر بھی رہی ہیں اور وہ لوگوں کو بھی ہدایت کرتی ہیں کہ وہ سیلابی پانی میں نہ آئیں۔

    یہ ویڈیو نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ملک بھی خوب وائرل ہو رہی ہے، اور متعدد صارفین اسے "نیا چاند نواب لمحہ” قرار دے رہے ہیں۔

    یہ ویڈیو اصل میں متعلقہ نیوز چینل نے خود یوٹیوب پر اپلوڈ کی، جس کے بعد یہ مختلف پلیٹ فارمز جیسے کہ ٹوئٹر، انسٹاگرام اور فیس بک پر بڑے پیمانے پر شیئر کی جانے لگی۔ ویڈیو کو لاکھوں افراد دیکھ چکے ہیں اور سینکڑوں تبصرے اس کے نیچے موجود ہیں، جن میں کچھ افراد صحافی کے جذباتی ردعمل کو سراہ رہے ہیں جبکہ کچھ اسے ایک نیا "میم” قرار دے رہے ہیں۔

    خاتون صحافی مہرالنساء کی رپورٹنگ،سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحافی کس حد تک خطرات مول لے کر عوام تک خبریں پہنچاتے ہیں۔ جہاں ایک طرف عوامی ردِعمل ویڈیو کو مزاحیہ انداز میں لے رہا ہے، وہیں دوسری طرف یہ لمحہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ رپورٹرز کس مشکل اور خطرناک ماحول میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں "وائرل رپورٹنگ” کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے، جہاں رپورٹرز کے غیر متوقع یا جذباتی ردعمل عام عوام کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ ایسے لمحات اکثر ناظرین کو خبروں سے جُڑے رکھنے کا نیا طریقہ بن گئے ہیں۔

  • سیلاب،غیرقانونی تعمیرات کے گرنے پر معاوضہ نہیں مل سکتا،عطا تارڑ

    سیلاب،غیرقانونی تعمیرات کے گرنے پر معاوضہ نہیں مل سکتا،عطا تارڑ

    وفاقی حکومت نے سیلاب سے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے لیے 20، 20 لاکھ روپے امداد کا اعلان کردیا۔

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ساتھ ہی خبردار کردیا کہ غیرقانونی تعمیرات کے گرنے پر معاوضہ نہیں مل سکتا، کہا کہ جو لوگ آبی گزرگاہوں میں رہتے ہیں انہیں نقصانات کا معاوضہ ادا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔وزیرآباد میں صحافیوں سے گفتگو میں وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے طے کیا ہے کہ آئندہ سے آبی گزرگاہوں میں کسی قسم کی تعمیرات کی اجازت نہیں ہوگی۔ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے گھروں، فصلوں اور مال مویشی کے نقصانات کا سروے کیا جارہا ہے۔ پہلی بار بارش کے 3، 4 سسٹم ساتھ ساتھ آئے ہیں، 3 دریاؤں کی طغیانی میں 2 لاکھ سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا، پاک فوج اور انتظامیہ نے بروقت رسپانس دے کر کئی افراد کو بچایا۔

  • سیلاب متاثرین کے لیے الخدمت کی خیمہ بستی میں امدادی سرگرمیاں جاری

    سیلاب متاثرین کے لیے الخدمت کی خیمہ بستی میں امدادی سرگرمیاں جاری

    سرپرست الخدمت فاؤنڈیشن و امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے دربار عدالت شاہ روڈ، چوہنگ” کے مقام پر دریائے راوی کے سیلاب متاثرین کے لیے قائم الخدمت کی خیمہ بستی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے متاثرہ خاندانوں کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اور الخدمت رضاکاروں کی امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کی۔دورے کے دوران ضیاء الدین انصاری کو ایگزیکٹو ڈائریکٹر الخدمت مغیث شاہد قریشی نے خیمہ بستی کے اقدامات پر بریفنگ دی۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خیمہ بستی میں روزانہ 700 سے 800 خاندانوں کو تازہ، صاف اور معیاری کھانا فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ طبی امداد، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنائی گئی ہے۔اس موقع پرامیر جماعت اسلامی غربی لاہور علی ارتضی حسینی، صدر الخدمت فاؤنڈیشن ضلع لاہور غربی طارق علی چٹھہ، صدر جے آئی یوتھ فرحان اسلم سلیمی،سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی لاہور عبدالعزیز عابد، انچارچ خیمہ بستی غلام حسین بلوچ اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ رات الخدمت فاؤنڈیشن لاہور کے رضاکاروں نے دریائے راوی کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سے 100 خاندانوں کو کامیابی سے ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ انہوں نے کہا کہ راوی کا بند ٹوٹنے کی وجہ سے آس پاس کے تمام علاقے زیر آب آ گئے، جہاں کے لوگ بے یار و مددگار تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار دن رات متاثرین کی مدد میں مصروف عمل ہیں۔ کھانے، خیمے، طبی امداد اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ ملتان روڈ اور راوی کنارے پر ریسکیو کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جہاں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ضیاء الدین انصاری نے بتایا کہ الخدمت فاؤنڈیشن لاہور کی ٹیمیں نہ صرف شہر میں بلکہ سیالکوٹ، نارووال، وزیرآباد، قصور اور دیگر نشیبی علاقوں میں بھی الرٹ ہیں اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں۔آخر میں انہوں نے اہل خیر افراد، اداروں اور تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھیں اور الخدمت فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر سیلاب متاثرین کی بھرپور مدد کریں۔

  • پنجاب سیلاب،مرکزی مسلم لیگ کی متعدد شہروں میں فری بوٹ سروس

    پنجاب سیلاب،مرکزی مسلم لیگ کی متعدد شہروں میں فری بوٹ سروس

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی پنجاب کے سیلاب متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے ہزاروں رضاکار شہریوں کو محفوظ‌مقامات پر منتقل کر رہے ہیں، گھریلو سامان، جانوروں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے، دریائے راوی لاہور،قصور،سیالکوٹ سمیت متعدد شہروں میں مرکزی مسلم لیگ نے فری بوٹ سروس کا آغاز کر دیا،ہزاروں افراد میں پکی پکائی خوراک کی تقسیم کا عمل بھی جاری ہے،شاہدرہ لاہور میں مرکزی امدادی کیمپ کا پنجاب کے صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے دورہ کیا،

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر پنجاب،خیبر پختونخوا اور گلگت کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو و ریلیف آپریشن جاری ہے،مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار شہریوں کو سیلابی پانی سے محفوظ‌مقامات پر منتقلی کے علاوہ کھانے کی تقسیم، علاج معالجہ کا کام بھی کر رہے ہیں،لاہور،قصور،سیالکوٹ ،اوکاڑہ،بہاولپورسمیت متعدد شہروں میں مرکزی مسلم لیگ نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقلی کے لئے فری بوٹ سروس شروع کر دی ہے، سیلاب کے پیش نظر پاکستان مرکزی مسلم لیگ لاہور کی جانب سے دریائے راوی پر ایمرجنسی فلڈ ریلیف کیمپ قائم کردیا گیا ہے ،لاہور میں ہی شہریوں‌کو محفوظ مقامات پر منتقلی کے لئے فری بوٹ سروس کا آغاز کر دیا گیا ہے،مرکزی مسلم لیگ لاہور کے سیکرٹری جنرل مزمل اقبال ہاشمی نے فری بوٹ سروس کا آغاز کیا، پنجاب کے صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے دریائے راوی پر لگائے گئے ایمرجنسی فلڈ ریلیف کیمپ کا دورہ کیا اور مرکزی مسلم لیگ کے ریسکیو و ریلیف کے کاموں کو سراہا.علی پور شرقی گجرات گاؤں میں مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل انجنیئر حارث ڈار نے سیلاب سے متاثرہ جگہوں کا دورہ کیا،امدادی کاموں کا جائزہ لیااور کہا کہ مرکزی مسلم لیگ متاثرین کی بحالی تک امدادی سرگرمیاں جاری رکھے گی.10 گاؤں یہاں متاثر ہوئے ہیں، متاثرین میں پکی پکائی خوراک تقسیم کی جا رہی ہے.

    مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے سیالکوٹ کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،سیالکوٹ میں فری بوٹ سروس شروع کی گئی ہے، 2 کشتیوں کے ذریعے 150 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، 500 سے زائد افراد کو ٹریکٹر ٹرالیوں کے ذریعے مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے سیلابی پانی سے محفوظ مقام پر منتقل کیا، مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں کی جانب سے جانوروں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے، سیالکوٹ کے مختلف علاقوں سے 15 جانوروں کو بھی ریسکیو کیا گیا،2500 متاثرین میں پکی پکائی خوراک بھی تقسیم کی گئی. قصور میں بھی مرکزی مسلم لیگ کا ریسکیو آپریشن جاری ہے،نارووال میں بھی مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے فری بوٹ سروس کے ذریعے متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کیا،رات 11 بجے مرکزی مسلم لیگ کنگن پور کی خدمت خلق کی ٹیم نے دریا ئے ستلج قلعی شاہو پتن سے ایک خاندان اور جانوروں کو ریسکیو کیا ،دریائے ستلج ،کنگن پور کے علاقہ سے مرکزی مسلم لیگ رضاکاروں نے مجموعی طور پر100 سے زائد خاندانوں کو سیلابی پانی سےنکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا، اس موقع پر متاثرہ افراد میں کھانا بھی تقسیم کیا گیا،گنڈا سنگھ کے علاقے میں مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے 300 افراد میں خوراک تقسیم کی گئی،حافظ آباد کے علاقے کوٹ اسحاق میں شعبہ خدمت خلق فیصل آباد کی ٹیمیں سیلاب میں پھنسے ہوئے افراد کو ریسکیو کرکے محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔ اس موقع پر محمد احسن تارڑ سیکرٹری جنرل مرکزی مسلم لیگ فیصل آباد اور ناصر بٹ بھی ریسکیو ٹیم کے ساتھ موجود ہیں ،سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے افراد کو شعبہ خدمت خلق فیصل آباد کی ٹیم نے بروقت ریسکیو کر لیا۔ متاثرین کے مطابق انہوں نے متعدد بار ریسکیو اداروں اور مقامی انتظامیہ کو اطلاع دی مگر کوئی مدد نہ پہنچ سکی۔ اطلاع ملنے پر مرکزی مسلم لیگ کی ریسکیو ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور پانچ سے چھ افراد کو اس وقت بچایا گیا جب پانی گردنوں تک پہنچ چکا تھا۔منڈی احمد آباد اوکاڑہ میں مرکزی مسلم لیگ نے فری بوٹ سروس شروع کر دی ہے،انجینئر محمد عمران سیکرٹری جنرل پاکستان مرکزی مسلم لیگ ضلع اوکاڑہ نے رضاکاروں کے ہمراہ دریائے ستلج کا دورہ کیا اور امدادی سرگرمیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کی،تحصیل ڈسکہ میں بھی مرکزی مسلم لیگ کا ریسیکیو آپریشن جاری ہے، چھٹی کھیوا چنیوٹ میں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار ریسکیو میں مصروف ہیں، سیلابی علاقے سے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہاہے،پاکپتن میں عارف والا اور چک الوکی کے مقام پہ دریائے ستلج میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ شہریوں کے لیے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی طرف سے ریلیف آپریشن شروع کر دیا گیا ہے. پاک پتن میں 500 افراد کو پکا پکایا کھانا دیا گیا جبکہ 100 سے زائد مریضوں کا علاج معالجہ کیا گیا،شہریوں کے سیلابی پانی سے انخلاء کے لیے بوٹ سروس بھی شروع کر دی گئی ہے.

    مرکزی مسلم لیگ ملتان کے سیکرٹری جنرل حافظ ابوالحسن نے اپنی ٹیم کے ہمراہ دریائے چناب محمد پور گھوٹہ قاسم بیلہ کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مرکزی مسلم لیگ کی ریسکیو ٹیمیں اور رضاکار اپنے بھائیوں کے جان و مال کے تحفظ کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں ،مرکزی مسلم لیگ بہاولپورکے سیکرٹری جنرل رانا سیف اللہ نے مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں کے ہمراہ بہاولپور دریائے ستلج کے قریب بستیوں میں سیلابی صورتحال کاجائزہ لیا،شعبہ خدمت خلق پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی ریسکیو ٹیمیں ڈسٹرکٹ راجن پور میں بھی متحرک کر دی گئی ہیں.

    مرکزی مسلم لیگ پشاور کے رضاکار ضلعی سیکرٹری جنرل انعام اللہ کی قیادت میں ریسکیو و ریلیف آپریشن کے لئے سیالکوٹ پہنچ چکے ہیں،مرکزی مسلم لیگ سندھ کے صدر فیصل ندیم کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر مرکزی مسلم لیگ سندھ کے تمام ذمہ داران و کارکنان الرٹ رہیں۔ علاوہ ازیں خیبر پختونخوا ،گلگت کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بھی مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

  • 38 سال بعد ایسا سیلاب آیا ہے،یہ  کوئی معمولی سیلاب نہیں ہے،مریم نواز

    38 سال بعد ایسا سیلاب آیا ہے،یہ کوئی معمولی سیلاب نہیں ہے،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کشتی میں سوار کر دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا۔

    مریم نواز کشتی میں سوار ہو کر دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے پہنچیں، مریم نواز نے کشتی میں سوار ہو کر سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا جبکہ حکام کی جانب سے انہیں دریائے راوی میں سیلاب کی تازہ ترین صورتحال پر بریف کیا گیا۔

    https://x.com/PTVNewsOfficial/status/1960974633647092209

    مریم نواز نے کہا کہ شدید ترین بارشوں اور بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد سیلابی صورتحال ہے، یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے، بھارت نے اپنے ڈیم بھر جانے سے پانی چھوڑا تمام ادارے مکمل الرٹ تھے، انتظامیہ نے بہترین دن رات کام کیا ہے، ریسکیو، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے اچھا کام کیا،نارووال، گجرات، سیالکوٹ میں صورتحال بہت خراب ہے، تمام متعلقہ اداروں سے آئندہ سال کے لیے سیلاب سے بچاؤ اور نقصانات سے بچنے کے لیے منصوبہ طلب کرلیا ہے۔

    سندھ میں سیلابی صورتحال، حکومت مکمل طور پر الرٹ ہے،شرجیل میمن

    مریم نواز نے کہا کہ وزیر اعظم نارووال گئے ہیں، کمشنرز، ڈی سی نے دن رات کام کیا اگر تیاری نا ہوتی تو نقصان بہت زیادہ ہوتا، 38 سال بعد ایسا سیلاب آیا ہے ہمارے لیے ہر جان قیمتی ہے، لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا یہ سیلاب کوئی معمولی سیلاب نہیں ہے، لوگوں کے مال مویشیوں کو منتقل کیا، اللہ نے بڑے نقصان سے بچایا ہے جو بھی نقصان ہوا ہے ، مجھے اس پر افسوس ہے۔

    مریم نواز نے کہا کہ بھارت میں بارشوں کے بعد ڈیموں میں پانی کا لیول بھر گیا تو انہوں نے اپنے ڈیمز کے اسپل ویز کھولے، جس سے ہمارے دریاؤں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی، پنجاب کے 3 دریاؤں میں سیلابی صورتحال ہے، پنجاب میں بارشیں بھی بہت زیادہ ہوئی ہیں،ہم اپنے متاثرہ عوام کے ہر قسم کے نقصان کا ازالہ کریں گے، میں نے راوی میں کبھی اتنا پانی نہیں دیکھا، پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے انفرااسٹرکچر بنانا بہت ضروری ہے،اس چیز پر کام کر رہے ہیں کہ سیلابی پانی کو کس طرح ذخیرہ کیا جاسکتا ہے، اب پانی کا بہاؤ کم ہونا شروع ہو رہا ہے، ہمیں سیاست سے بالاتر ہوکر عوام کی بہتری کے لیے فیصلے کرنے چاہئیں۔

    قبل ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ سیلاب سے متاثرہ مختلف علاقوں کا فضائی جائزہ لیا تھا۔ اس موقع پر وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو سیلابی صورتحال اور ریسکیو آپریشن سے متعلق بریف کیا گیا۔

    کل سے پنجاب میں مون سون کا 9 ویں اسپیل کی پیشگوئی

    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں اور ندی نالوں میں شدید سیلاب کی صورتحال برقرار ہے، دریائے راوی میں سیلابی پانی کی سطح بلند ہونے کے ساتھ ساتھ پانی کی رفتار بھی تیز ہوگئی، آج دوپہر تک دریائے راوی سے 2 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان ہے-