Baaghi TV

Category: لاہور

  • حق مہر میں لکھی گئی ہر چیز شوہر بیوی کو دینے کا پابند ہے،لاہور ہائیکورٹ

    حق مہر میں لکھی گئی ہر چیز شوہر بیوی کو دینے کا پابند ہے،لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ نے قانونی نکتہ طے کردیا کہ حق مہر میں لکھی گئی ہر چیز شوہر بیوی کو دینے کا پابند ہے

    جسٹس انوار حسین نے تاریخی فیصلہ سنا دیا کہ حق مہر میں لکھی گئی کسی بھی چیز سے شوہر کر استثنیٰ نہیں دیا جاسکتا۔ ہائی کورٹ نے حق مہر میں لکھا گیا پانچ مرلے کا گھر بیوی کو دینے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کیلئے شوہر کی اپیل مسترد کردی۔

    مظفر گڑھ کے رہائشی محمد قیوم نے ریحانہ شمس سے شادی کی اور نکاح نامے میں حق مہر کے خانے میں تین تولہ طلائی زیور اور پانچ مرلے کا گھر لکھا گیا لیکن بعد میں دینے سے انکار کردیا، بیوی نے گھر اپنے نام کرانے کے لیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کیا، ٹرائل کورٹ نے بیوی کی استدعا منظور کرتے ہوئے فیصلہ اسکے حق میں دیا، شوہر نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی۔

    لاہور ہائی کورٹ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی اور فیصلہ سنایا کہ نکاح نامے میں حق مہر کے خانے میں درج چیزیں بیوی کو دینے کا اگر وقت متعین نہیں تو شوہر بیوی کی ڈیمانڈ پر اسے دینے کا پابند ہے، مسلم شادی کی روح کے مطابق حق مہر دینا قرآن اور حدیث کی روشنی میں فرض ہے، حق مہر کی رقم شادی کے موقع پر ادا کی جاتی ہے تاہم فریقین کی رضامندی سے اس میں تاخیر بھی ہوسکتی ہے، آرڈینس کے تحت شادی سول معاہدہ ہے اور سیکشن 5 کے تحت اسے رجسٹرڈ کرنا ضروری ہے، موجودہ کیس میں نکاح نامے کے کالم سولہ میں مکان کے حوالے کی بات کی گئی۔

    پولیس کی زیادتی، خواجہ سراؤں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی

    پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تو خواجہ سراؤں نے ایسا کام کیا کہ شہری داد دینے پر مجبور

    پنجاب کے صوبائی دارلحکومت لاہور میں خواجہ سرا بھی محفوظ نہ رہے

    بااثر افراد کا خواجہ سراؤں پر تشدد، کپڑے اتارنے پر کیا مجبور، ویڈیو وائرل،عزت کا سودا نہیں کریںگے،خواجہ سرا

    خواجہ سرا کے گھر گھس کر گھناؤنا کام کرنے والے 2 ملزمان گرفتار

    خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے قانون سازی، خواجہ سرا کمیونٹی نے اجلاس بلا کر اہم فیصلے کر لئے

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ یہ بات درست ہے کہ مکان کے انتقال کے حوالے سے کچھ لکھا نہں گیا جو متنازع ہے، سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں نکاح نامے کے کالم انڈرٹیکنگ (حلف نامہ) ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں شوہر اس بات کا پابند ہے کہ نکاح نامے کے کالم 13سے 16 میں درج چیزیں بیوی کو دے، اس موقع پر ٹرائل کورٹ کی فائنڈنگ میں مداخلت نہیں کی جاسکتی۔

    درخواست گزار شوہر کا کہنا تھا کہ نکاح نامے میں پانچ مرلے کا گھر بیوی کو دینے کا لکھا لیکن ٹرانفسر کے حوالے سے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی ، دونوں پارٹیز کے درمیاں شادی ابھی بھی قائم ہے، عدالت ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کا حکم دے۔ دوسری جانب خاتون کے وکیل نے مسلم فیملی لا آرڈینس کے سیکشن 10 کا حوالہ دیا اور ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھنے کی استدعا کی تھی۔

  • وزیراعلیٰ ہاؤس پنجاب سے اہم شخصیت کو نیب طلبی کا نوٹس جاری

    وزیراعلیٰ ہاؤس پنجاب سے اہم شخصیت کو نیب طلبی کا نوٹس جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیب لاہور نے آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں وزیر اعلی پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری طاہر خورشید کو طلب کر لیا

    پرنسپل سیکرٹری طاہر خورشید کو 8 جولائی کو نیب پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے، باخبر ذرائع کے مطابق طاہر خورشید کو متعلقہ ریکارڈ ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی ہے، نیب لاہور وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری طاہر خورشید کے خلاف غیر قانونی اثاثوں بنانے کے تحقیقات جاری ہیں ،طاہر خورشید نے بطور سیکریڑی مواصلات کرڑوں روپے کے غیر قانونی ٹھیکے دیے ہیں، نیب طاہر خورشید سے غیر قانونی اثاثوں بارے تحقیقات کرے گا

    واضح رہے کہ طاہر خورشید کو وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا فرنٹ مین کہا جاتا ہے، ن لیگ اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ طاہر خورشید پنجاب بھر میں ہونے والے تبادلوں کو دیکھتے ہیں اور غیر قانونی تبادلے کرتے ہیں،جبکہ بیورو کریٹس سے پیسے لے کر بھی تقرریاں کرتے ہیں

    ایک صارف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف. شہبازشریف. آصف علی زرداری ٹیکنیکل چور تھے وہ پکڑے گئے ہیں. جو ڈسپنسر اور دو چار فرنٹ مین کے نام پر کرپشن کر رہے ہیں. وہ کیا سمجھتے ہیں وہ گرفتار نہیں ہونگے. بچے بچے کو پتہ ہے طاہر خورشید وزیر اعلیٰ ہاوس میں کیا گل کھلا رہا ہے. کون ڈیرہ غازی خان میں کیا کچھ کر رہا ہے

    نیب سے کون خوفزدہ تھا؟ ترمیمی آرڈیننس کیوں لائے؟ وزیراعظم نے بتا دیا

    میں ملنے گئی تو زرداری وہیل چیئر سے اٹھے، پولیس نے کہا دفعہ ہو جاؤ، آصفہ بھٹو

    چیئرمین نیب پر دفتر میں خاتون کو جنسی حراساں کرنے کے الزام کی تحقیقات کیوں نہیں ہوئیں؟ رانا ثناء اللہ

    نیب کیسز کے بعد ویسے بھی بندہ غریب ہوجاتا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی

    سب کام نیب نے کرنا ہے تو کیا دیگر ادارے بند کردیں؟ سلیم مانڈوی والا

    مریم نواز کے وکلاء نے ہی مریم نواز کی الیکشن کمیشن میں مخالفت کر دی، اہم خبر

    صرف اللہ کوجوابدہ ،کوئی کچھ بھی رائے رکھےانصاف کے مطابق فیصلہ دیں گے، عدالت کےحمزہ کیس میں ریمارکس

    حمزہ شہباز کو جیل میں کیوں رکھا ہوا ہے؟ مریم اورنگزیب نے کیا بڑا انکشاف

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

  • پولیس افسر کو لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری شوکارز نوٹس سپریم کورٹ نے کیا معطل

    پولیس افسر کو لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری شوکارز نوٹس سپریم کورٹ نے کیا معطل

    پولیس افسر کو لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری شوکارز نوٹس سپریم کورٹ نے کیا معطل
    سپریم کورٹ میں ایس پی صدر حفیظ الرحمان کی جانب سے دائر درخواست پر جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس منصور علی شاہ نے سماعت کی ،

    سپریم کورٹ نے ایس پی کی درخواست منظور کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس معطل کر دیا ۔ حفیظ الرحمان نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ کو غلط حقائق بتا کر گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہائیکورٹ نے شوکاز نوٹس جاری کر رکھا ہے جوکہ خلاف قانون ہے

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں پنجاب حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے سپریم کورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے ہائیکورٹ کو کارروائی سے روک دیا ہے عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کو ایس پی صدر حفیظ الرحمان کے خلاف شوکاز نوٹس معطل کر دیا ہے

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مدعی کا کہنا تھا کہ پولیس نے میرے پلاٹ پر قبضہ کرکے چوکی بنادی ہے، ایس پی صدر حفیظ الرحمان پلاٹ کا قبضہ واپس نہیں کر رہا،

    گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ میں بھی کیس کی سماعت پوئی تھی، سماعت کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ کیا ایس پی آج چھٹی پر ہیں ، میں تو انہیں معاف کرنے والا تھا، ہر بندے کی اپنی قسمت ہے ۔سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کیس سپریم کورٹ میں ہے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے حکم امتناع جاری کر دیا ہے تو آرڈر دکھائیں ۔

    سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکم امتناع نہیں ، کیس کل کیلئے مقرر ہے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے حکم امتناع نہیں دیا صرف ریکارڈ طلب کیا ہے، آج پھر معافی کی درخواست ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آج ایس پی ہوتے تو شاید معافی مل جاتی ،اب ایس پی کو معافی سپریم کورٹ سے ہی مل سکتی ہے ۔میری کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے ۔

    بڑے گھر رکھنے پر مالکان کو ٹیکس کے نوٹسز،لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    مزارات پر جانے والوں کو لاہور ہائیکورٹ نے سنائی خوشخبری

    مزارات پر اکٹھا ہونے والا چندہ کہاں خرچ ہوتا ہے؟ چیف جسٹس

    26 کروڑ کا نقصان برداشت کر لیا،مزید نہیں، پنجاب میں مزارات کھولنے کا فیصلہ

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایس پی نے عدالت میں جھوٹ بولا ، میں جھوٹ برداشت نہیں کروں گا، سپریم کورٹ کے ججز کے احترام کیلئے یہ کیس کل کیلئے رکھ رہا ہوں ، ہم تو جا رہے ہیں ، عدالتوں نے جھوٹ سننا ہے تو سنتی رہیں، سپریم کورٹ میں کل کیس فکس ہے ، ہم کیس کو کل تک ملتوی کر رہے ہیں، سپریم کورٹ کے کل کے فیصلے کے بعد ہم اس کیس کو دیکھیں گے ۔کل میرا آخری ورکنگ ڈے ہے ، کل دیکھیں گے کہ جھوٹ پروان چڑھے گا یا نہیں ۔

  • سستی سبزی فروخت کرنے پر مقدمہ، درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    سستی سبزی فروخت کرنے پر مقدمہ، درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    سستی سبزی فروخت کرنے پر مقدمہ، درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں سستی سبزی فروخت کرنے کے الزام میں درج مقدمہ میں ضمانت کروا لی ہے

    سستی سبزی فروخت کرنیوالے ملزم محمد وقاص نے لاہور کی سیشن کورٹ سے ضمانت کروائی ہے، سیشن کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج نے ملزم محمد وقاص کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی محمد وقاص کی جانب سے درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ سستی سبزی فروخت کرنے پر اسسٹنٹ کمشنر نے مقدمہ درج کرایا شہریوں کی سہولت کے لئے سستی سبزی فروخت کرتا ہوں۔

    ایڈیشنل سیشن جج نے ملز م کو 7 جولا ئی تک گرفتار کرنے سے روکنے کا حکم جاری کیا۔ عدالت نے ملزم کی درخواست ضمانت منظور کر لی

    دوسری جانب سبزی فروش کے خلاف غلط استغاثہ بھرنے پر ڈی سی لاہور نے مجسٹریٹ سے اختیارات واپس لے لیے ہیں ڈی سی لاہور مدثر ریاض ملک نے کاشف بشیر سے اختیارات واپس لینے کا لیٹر خود دستخط کر کے جاری کیا

    واضح رہے کہ ستی سبزی فروخت کرنے پر دکاندار کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، درج ایف آئی آ رمیں لکھا گیا تھا کہ درج مقدمے کے متن میں کہا گیا تھا کہ سبزی فروش سرکاری ریٹ لسٹ سے کم قیمت پر سبزی فروخت کر رہا تھا۔ اس پر پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کی مدعیت میں اس کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا

  • صحافیوں اور بیوروکریٹس کو نکیل ڈالنے کا بل منظور

    صحافیوں اور بیوروکریٹس کو نکیل ڈالنے کا بل منظور

    پنجاب اسمبلی کا صحافیوں اور بیوروکریٹس کے خلاف خوفناک اقدام پنجاب اسمبلی نے صحافیوں اور بیوروکریٹس کو نکیل ڈالنے کا بل منظور کر لیا

    اب کوئی بھی بیوکریٹس یا صحافی اسمبلی میں تلخ کلامی کرئے گا تو سزا بھگتے گا۔ ممبرز تحفظ استحقاق بل گزشتہ روز پنجاب اسمبلی سے منظور کرایا گیا ممبرز تحفظ استحقاق بل ایجنڈا سے ہٹ کر ایوان میں لایا گیا ۔ ممبرز تحفظ استحقاق بل پیپلز پارٹی کے مخدوم عثمان نے پیش کیا بل سے پنجاب اسمبلی کو عدالتی اختیارات مل گئے ۔ بل اسمبلی سے بغیر بحث کرائے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ ممبرز تحفظ استحقاق بل پر اپوزیشن اور حکومت ایک پیج پر آ گیے

    بل کی دفعہ گیارہ اے کے تحت ممبرز کے استحقاق کی خلاف ورزی قابل سزا جرم ہو گی ۔ بل کے تحت جوڈیشل کمیٹی بنائی جائے گی جوڈیشل کمیٹی کے پاس چھ ماہ قید کی سزا اور دس ہزار جُرمانہ کرنے کے اختیارات ہوں گے اسمبلی کی جوڈیشل کمیٹی کے پاس فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے اختیارات ہونگے اس بل کے تحت کسی ممبر کے استحققاق کو مجروح کیا گیا تو سپیکر پنجاب اسمبلی گرفتاری کا حکم دے سکتے ہیں اس بل کے تحت اگر کوئی ایم پی اے ایوان کے اندر کی گئی تقریر میں رد بدل کے حوالے سے سپیکر کو شکایت کریگا تو وہ بھی قابل گرفت سمجھ جاے گا اس بل کے تحت سپیکر کے کنڈکٹ پر بھی کوئی بات نہیں کی جا سکے گی اس بل کے تحت سرکاری محکموں کے آفیسرز اگر اسمبلی بلانے پر نہ آے تو وہ قابل گرفت ہونگے اگر محکمے کی طرف سے غلط جواب اسمبلی کو بھیجا گیا تو اس کے خلاف کاروائی ہوگی اسمبلی کے ملازمین کی ڈیوٹی کے دوران مداخلت کرنے پر بھی متعلقہ شخص کے خلاف کاروائی ہوگی اس بل کے تحت سپیکر ایک نوٹفیکشن کے ذریعے کسی بھی شخص کی سزا کم یا بڑھا سکتا ہے بل کے تحت اسمبلی کی جوڈیشل کمیٹی کو ایک دن کے اندر سزا دینے کے اختیارات ہونگے بل کے تحت اگر کسی اسمبلی ممبر کا استحققاق مجروح ہوتا ہے تو سپیکر کے پاس اختیارات ہونگے کے وہ متعلقہ ڈسٹرکٹ آفیسر کو کہہ کر گرفتار کروانے کے بھی اختیارات ہونگے بل کے تحت سپیکر کو اختیارات ہوں گے کہ جوڈیشل کمیٹی میں کتنے ممبر رکھنے ہیں

    سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے رانا عظیم نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی سے صحافیوں کے خلاف بل کی منظوری سیاہ ترین دور سے بھی بدتر بات ہے .انہوں نے صحافی برادری کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک ہو جاو اور مل کر آواز بلند کرو .

    سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس لے لیا

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    پولیس جرائم کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرنے میں مصروف

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    رانا عظیم کا کہنا تھا کہ اسی میں ہم سب کی بقا ہے آزادی صحافت کی اس جنگ میں ہم سب نے مل کر یہ بتانا ہے کہ ہم ایک ہیں اور ایسے کسی قانون کو نہیں مانتے جو صحافی بھائیوں اور آزادی صحافت کے خلاف ہو اس ضمن میں ہم نے 2 جولائی کو 3 بجے گورنر ہاوس کے باہر احتجاجی دھرنا رکھا ہے تمام دوستوں سے درخواست ہے کہ وہ تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس دھرنا میں شرکت کریں اسی طرح 5 جولائی کو لاہور میں پنجاب اسمبلی کے باہر اور پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے کیئے جائیں گے صحافیوں کے خلاف بل کی واپسی تک احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہے گا آیئے اپنے حقوق کی جنگ کیلئے ایک ہو جائیں اور اس مظاہرے میں بھرپور شرکت کریں

  • سابقہ ادوار میں امریکہ کی ایک کال پر حکمرانوں کے ہاتھ، پاؤں پھول جاتے تھے، فیاض الحسن

    سابقہ ادوار میں امریکہ کی ایک کال پر حکمرانوں کے ہاتھ، پاؤں پھول جاتے تھے، فیاض الحسن

    وزیر جیل خانہ جات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے وزیراعظم عمران خان کے خطاب پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کا لب لباب "انصاف، انسانیت اور خود مختاری” تھا، قومی غیرت کے بغیر دنیا میں اپنا مقام بنانا ناممکن ہے، اسی قومی غیرت کی وجہ سے آج پاکستان اپنی سالمیت اور خود مختاری پر ڈٹا ہے، گزشتہ حکومتوں نے پرائی جنگ میں 70 ہزار شہادتیں، 150 ارب ڈالر کا نقصان کر لیا ہے، قائد اعظم محمد علی جناح غلام ہندوستان میں ایک آزاد اور خود دار لیڈر تھے، آج وزیراعظم عمران خان اسی نظریہ پاکستان اور قرار داد مقاصد کا مقدمہ لڑ رہے ہیں، امریکہ سے ایک فون کال پر ہمارے سابقہ حکمرانوں کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے تھے، آصف زرداری نے ایبٹ آباد آپریشن کے بعد امریکہ کا شکریہ ادا کر کے ملکی وقار مٹی میں ملا دیا تھا، آج کا پاکستان اپنی خود مختاری کے سوال پر دنیا کے سامنے سینہ سپر کھڑا ہے، آج پاکستان میں انصاف صرف کمزور کے لیے نہیں، بڑے مگر مچھ بھی شکنجے میں ہیں، وہ دن دور نہیں جب پاکستان کا نام عالمی سطح پر ایک کامیاب اورمثالی ملک کے طور پر لیا جائے گا.

  • پی ایف یو جے نے صحافیوں کے خلاف حکومتی بل پر دھرنے کا اعلان کردیا

    پی ایف یو جے نے صحافیوں کے خلاف حکومتی بل پر دھرنے کا اعلان کردیا

    پی ایف یو جے نے صحافیوں کے خلاف بل پر دھرنے کا اعلان کردیا
    باغی ٹی وی : پی ایف یو جے نے صحافیوں کے خلاف بل پر دھرنے کا اعلان کردیا
    سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے رانا عظیم نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی سے صحافیوں کے خلاف بل کی منظوری سیاہ ترین دور سے بھی بدتر بات ہے .انہوں نے صحافی برادری کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک ہو جاو اور مل کر آواز بلند کرو .

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”380335″ /]

    رانا عظیم کا کہنا تھا کہ اسی میں ہم سب کی بقا ہے آزادی صحافت کی اس جنگ میں ہم سب نے مل کر یہ بتانا ہے کہ ہم ایک ہیں اور ایسے کسی قانون کو نہیں مانتے جو صحافی بھائیوں اور آزادی صحافت کے خلاف ہو اس ضمن میں ہم نے 2 جولائی کو 3 بجے گورنر ہاوس کے باہر احتجاجی دھرنا رکھا ہے تمام دوستوں سے درخواست ہے کہ وہ تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس دھرنا میں شرکت کریں اسی طرح 5 جولائی کو لاہور میں پنجاب اسمبلی کے باہر اور پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے کیئے جائیں گے صحافیوں کے خلاف بل کی واپسی تک احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہے گا آیئے اپنے حقوق کی جنگ کیلئے ایک ہو جائیں اور اس مظاہرے میں بھرپور شرکت کریں

    سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے
    رانا محمد عظیم

  • صحافت پاکستان کا خطرناک شعبہ ہے، سی پی ڈی آئی

    صحافت پاکستان کا خطرناک شعبہ ہے، سی پی ڈی آئی

    سنٹرفارپیس اینڈ ڈیویلپمنٹ انیشیٹوز(سی پی ڈی آئی) کے زیراہتمام اوریورپی یونین کے مالی تعاون سے لاہورکےمقامی ہوٹل میں صحافیوں کے تحفظ، ڈیجٹیل سیکورٹی اور نفسیاتی وسماجی معاونت کے عنوان سےمنعقد شدہ تین روزہ ورکشاپ اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے، اس تربیتی ورکشاپ میں لاہورسمیت پنجاب کے مختلف علاقوں، بشمول جنوبی پنجاب کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے صحافی، جن میں خواتین بھی شامل تھیں نے بھرپور شرکت کی ہے، سیشنز کے دوران مختلف سرگرمیاں منعقد کی گئی ہیں، جن کا مقصد شرکاء کا استفادہ تھا، مزید براں دوران ڈیوٹی ان تدابیر کو بروئے کارلاتے ہوئے صحافی کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟ ورکشاپ میں بتایا گیا کہ 1992 سے لیکر اب تک دنیا بھر میں 1387صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے، جن میں پاکستانی صحافیوں کی تعداد61 ہے، اس فہرست میں ایڈیٹر پی پی آئی اسلام آباد ملک محمد اسماعیل خان، ولی خان بابر اور دیگر صحافی شامل ہیں، آئین ِپاکستان کا آرٹیکل 19 ہر شہری کو قانونی دائرے کے اندررہتے ہوئے اظہاررائے کی آزادی فراہم کرتا ہے، اسی طرح آئین پاکستان کے آرٹیکل 19-اے کے مطابق معلومات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اسی بنیاد پرمعلومات تک رسائی کے موثرقوانین وفاق اور چاروں صوبوں میں نافذ کیے جا چکےہیں، صحافی اس قانون کے ذریعے مطلوبہ معلومات تک بآسانی رسائی حاصل کر سکتے ہیں اورعوام کو بہتراورمعروضیت پرمبنی خبریں پہنچا سکتے ہیں، ٹریننگ کے دوران یہ تجزیہ بھی سامنے لایا گیا ہے کہ کرپشن، سیاسی بیٹ اورکرائم رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو دیگر صحافیوں کے مقابلے میں زیادہ خطرناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، دنیا میں صحافتی پیشے کے لئے خطرناک ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے، صحافت پاکستان کے خطرناک پیشوں میں سے ایک پیشہ ہے، دوسری جانب صحافیوں اور فری لانسرز کو میڈیا کے ادارے اور اخبارات محدود وسائل کی وجہ سے مناسب تحفظ، تربیت اورسیکیورٹی فراہم نہیں کرسکتے ہیں، مزید صحافیوں کے تحفظ اوران کے خلاف جرائم کرنے والے مجرموں میں سزا سے بے خوفی کا مسئلہ بھی بڑی حد تک حکومت کی فوری توجہ کا متقاضی ہے، صحافیوں کے تحفظ کے لئے فوری اور موثر قانون سازی وقت کی ضرورت اوراس پیشے کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لئے لازم ہے، انہی حالات کو مدنظررکھتے ہو ئے سی پی ڈی آئی نے یورپی یونین کے مالی معاونت سے جاری کردہ پراجیکٹ سول سوسائٹی فارانڈیپینڈنٹ میڈیا اینڈ ایکسپریشن (سائم) میں آئینی حدود کے اندررہتے ہوئے اظہاررائے کی آزادی کو یقینی بنانے کے لئے صحافیوں کی تربیت کواولین ترجیح دی گئی ہے، مذکورہ تربیتی نشست تین دن کے دورانیئے پرمبنی تھی، یہ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں مرحلہ وار منعقد کی جائے گی، تربیتی نشستوں کی پہلی ٹریننگ اسلام آباد میں منعقد کی گئی تھی، دوسری نشست لاہور میں تیسری نشست پشاورمیں جبکہ چوتھی نشست آج یکم جولائی کو لاہور میں شرکاء میں اسناد کی تقسیم کے بعد مکمل ہو ئی ہے، اسی نوعیت کی ٹریننگ کی مزید 6 نشستیں آنے والے مہینوں میں ملک کے مختلف شہروں میں منعقد کی جائےگی، شرکاء میں شامل کرن رباب خان، راجہ کامران، عزیر بن حسین، مصعب فاروق، ردا بتول، بشریٰ طارق اور دیگر نے کہا کہ اس قسم کی تربیتی نشستیں صحافیوں کی سیکیوریٹی، نیٹ ورکنگ اور تحفظ کے لئے بہتر قانون بنانے میں بھی معاون ثابت ہوں گی، نوجوان صحافیوں کے لئے ایسی تربیتی نشستوں میں شرکت کرنا پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ دوران ڈیوٹی غیر محفوظ اورشورش زدہ حالات کا سامنا کرنے اور اپنی حفاظت کو یقینی بنانے میں مددگاراورمعاون ثابت ہورہی ہیں، صحافیوں کے مختلف گروپوں نے اس نوعیت کی مزید تربیتی نشستیں منعقد کرنے پرسی پی ڈی آئی اور یورپی یونین کی کاوشوں کو سراہا ہے، صحافتی تنظیموں سے نوجوان صحافیوں کے لئے اسی نوعیت کی نشستیں منعقد کرنے کا مطالبہ بھی کردیا ہے.

  • آج بھی نہیں آئے، میں تومعاف کرنے والا تھا،اب سپریم کورٹ سے معافی ملے گی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    آج بھی نہیں آئے، میں تومعاف کرنے والا تھا،اب سپریم کورٹ سے معافی ملے گی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    آج بھی نہیں آئے، میں تو انہیں معاف کرنے والا تھا،اب سپریم کورٹ سے معافی ملے گی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس کی جانب سے شہری کی زمین پر مبینہ قبضے کے کیس میں ایس پی صدر حفیظ الرحمان بگٹی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی عدالت میں پیش نہ ہوئے ،

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ کیا ایس پی آج چھٹی پر ہیں ، میں تو انہیں معاف کرنے والا تھا، ہر بندے کی اپنی قسمت ہے ۔سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کیس سپریم کورٹ میں ہے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے حکم امتناع جاری کر دیا ہے تو آرڈر دکھائیں ۔

    سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکم امتناع نہیں ، کیس کل کیلئے مقرر ہے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے حکم امتناع نہیں دیا صرف ریکارڈ طلب کیا ہے، آج پھر معافی کی درخواست ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آج ایس پی ہوتے تو شاید معافی مل جاتی ،اب ایس پی کو معافی سپریم کورٹ سے ہی مل سکتی ہے ۔میری کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے ۔

    بڑے گھر رکھنے پر مالکان کو ٹیکس کے نوٹسز،لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    مزارات پر جانے والوں کو لاہور ہائیکورٹ نے سنائی خوشخبری

    مزارات پر اکٹھا ہونے والا چندہ کہاں خرچ ہوتا ہے؟ چیف جسٹس

    26 کروڑ کا نقصان برداشت کر لیا،مزید نہیں، پنجاب میں مزارات کھولنے کا فیصلہ

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایس پی نے عدالت میں جھوٹ بولا ، میں جھوٹ برداشت نہیں کروں گا، سپریم کورٹ کے ججز کے احترام کیلئے یہ کیس کل کیلئے رکھ رہا ہوں ، ہم تو جا رہے ہیں ، عدالتوں نے جھوٹ سننا ہے تو سنتی رہیں، سپریم کورٹ میں کل کیس فکس ہے ، ہم کیس کو کل تک ملتوی کر رہے ہیں، سپریم کورٹ کے کل کے فیصلے کے بعد ہم اس کیس کو دیکھیں گے ۔کل میرا آخری ورکنگ ڈے ہے ، کل دیکھیں گے کہ جھوٹ پروان چڑھے گا یا نہیں ۔

  • ٹک ٹاک  پر مشہوری کے چکر میں نوجوان گرفتار

    ٹک ٹاک پر مشہوری کے چکر میں نوجوان گرفتار

    ایس پی سٹی حسن جہانگیر نے کہا ہے کہ ٹک ٹاک پر ہوائی فائرنگ کر کے وڈیو بنا کردیکھانے والے کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے، بھاٹی گیٹ پولیس نے بروقت کاروائی کی ہے، ملزم کی ویڈیو وائرل ہونے پرفوری کاروائی عمل میں لائی گئی ہے، ملزم معید عابد سے ناجائز اسلحہ اور گولیاں برآمد کر لی گئی ہیں، ملزم پرمقدمہ درج کر لیا گیا ہے.
    ڈی آئی جی آپریشنز ساجد کیانی نوجوانون کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ہوا میں چھوڑی گئی گولی زمین پر چلنے والوں کو نقصان پہنچاتی ہے، والدین اپنے بچوں کو ہوائی فائرنگ اور ٹک ٹاک بنانے سے منع کریں، ٹک ٹاک میں اسلحہ کے استعمال سے کئی لوگ اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں.