Baaghi TV

Category: لاہور

  • یہ الٹے بھی ہوجائیں تو یہ کام نہیں کر سکتے، شہباز شریف کا عدالت میں بیان،جج بھی مسکرا پڑے

    یہ الٹے بھی ہوجائیں تو یہ کام نہیں کر سکتے، شہباز شریف کا عدالت میں بیان،جج بھی مسکرا پڑے

    یہ الٹے بھی ہوجائیں تو یہ کام نہیں کر سکتے، شہباز شریف کا عدالت میں بیان،جج بھی مسکرا پڑے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت لاہو رمیں منی لانڈرنگ ریفرنس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف اور حمزہ شہباز احتساب عدالت میں پیش ہوئے،شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز طبیعت ناسازی کے باعث پیش نہ ہوئے

    جج جواد الحسن نے شہبازشریف سے استفسار کیا کہ آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟ جس پر شہباز شریف نے کہا کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ میں جو کچھ کہا اس پر کسی نے اعتراض نہیں کیا ،نیب کو کرپشن نہیں ہر منصوبے میں بچت ملے گی ،یہ منی لانڈرنگ کیس میں قیامت تک میرے خلاف دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں کرسکتے

    شہباز شریف نے عدالت میں کہا کہ ابھی تک میرا میڈیکل بورڈ نہیں بن سکا،جیل والوں نے بتایا رپورٹس عدالت میں پیش کردیں، جس پر عدالت نے کہا کہ اس درخواست پر آج آرڈر کردوں گا،

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میرے خلاف کرپشن ثابت نہیں ہوئی، ڈیلی میل میں خبر شائع کر کے پاکستان کو بدنام کیا گیا، نیب کو کرپشن نہیں، ہر منصوبے میں پیسے کی بچت ملے گی،خبر شائع ہوئی تو برطانوی حکومت نے اتوار کو آفس کھول کر تحقیقات کیں، برطانیہ میں اتوار کی چھٹی اہم ہوتی ہے، برطانیہ میں اتوار کو دفاتر کھول کر تحقیقات کی گئیں،یہ الٹے بھی ہوجائیں تو بھی کرپشن ثابت نہیں کر سکتے،

    کن گراونڈز پر گرفتاری درکار ہے بتایا جائے؟ شہباز شریف کے وکیل کی عدالت سے استدعا

    عدالت میں شہباز شریف کے وارنٹ گرفتاری پیش،شہباز شریف کے وکیل نے کی سیاسی گفتگو

    شہباز شریف کی ممکنہ گرفتاری، سی سی پی او لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے، اہم حکم دے دیا

    شہبازشریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس،تحریری حکم نامہ جاری

    شہباز شریف کو بکتر بند گاڑی میں عدالت پیش کرنے پر تحریری حکم جاری

    یہ کم ظرف لوگ ہیں،میں نے لفظ "کمینا” استعمال نہیں کیا،شہباز شریف

    جج صاحب، جیل میں کون میرے پاس آیا اور میری ڈیمانڈ کیا تھی؟ شہباز شریف عدالت میں روپڑے

    کورونا کا خطرہ،عدالت بندوں سے بھر دی جاتی ہے، شہباز شریف کی پیشی پر عدالت کا اظہار برہمی

    الٹا چو کوتوال کو ڈانٹے،نیب نے میرے سوالات کے جواب نہیں دیئے،شہباز شریف،عدالت نے کیا کہا؟

    شہباز شریف نے عدالت کے منع کرنیکے باوجود پریس کانفرنس کر ڈالی،لگائے سنگین الزام

    واضح رہے کہ شہباز شریف کو نیب نے ضمانت کی درخواست مسترد ہونے پر گرفتار کیا تھا، عدالت نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا تھا ، شہباز شریف کو عدالت میں بکتر بند گاڑی میں پیش کیا جاتا ہے جس پر ن لیگ نے احتجاج کیا تھا،

    حمزہ شہباز نے بکتر بند گاڑی میں عدالت پیش ہونے پر انکار کیا تھا جس پر عدالت نے گزشتہ سماعت پر ریمارکس دیئے تھے کہ لگتا ہے ریاست کی رٹ ختم ہو چکی ہے

    مریم نواز کی عدالت میں شہباز شریف سے ملاقات، پولیس کی بھاری نفری اچانک طلب کر لی گئی

  • چوہدری برادران کے لیے نیب سے اچھی خبر

    چوہدری برادران کے لیے نیب سے اچھی خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چوہدری برادران کے لیے نیب سے اچھی خبر،لاہورہائیکورٹ میں چودھری برادران کی چیئرمین نیب کے اختیارات کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے نیب کے انکوائری بند کرنے پر درخواست نمٹا دی ،نیب وکیل نے عدالت میں کہا کہ چوہدری برادران کی پوری فیملی کیخلاف انکوائری بندکردی ہے عدالتی حکم پر ڈی جی نیب نے رپورٹ پیش کردی

    جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ چودھری پرویز الہی اور چودھری شجاعت حسین کی درخواستوں پر سماعت کی ،سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہی اور چودھری شجاعت حسین کی طرف دسے امجد پرویز ایڈووکیٹ کے پیش ہوئے ،درخواست گزار نے کہا کہ نیب سیاسی انجینئرنگ کرنیوالے ادارہ ہے، نیب کے کردار اور تحقیقات کے غلط انداز پر عدالتیں فیصلے بهی دے چکی ہیں،چیئرمین نیب نے 20 سال پرانے معاملے کی دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا ہے، نیب نے 20 سال قبل آمدن سے زائد اثاثہ جات کی مکمل تحقیقات کیں مگر ناکام ہوا،

    نیب نے سنائی چودھری برادران کو 20 برس بعد بڑی خوشخبری

    چودھری برادران کے خلاف نیب انکوائریوں کی تفصیلات طلب

    ڈی جی نیب لاہورپر عدالت برہم،چودھری برادران کی نیب اختیارات سے متعلق کیس میں بڑا حکم دے دیا

    درخواست گزار نے کہا کہ چیئرمین نیب کو 20 سال پرانی اور بند کی جانیوالی انکوائری دوبارہ کھولنے کا اختیار نہیں،ہمارا سیاسی خاندان ہے، سیاسی طور انتقام کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، چودھری پرویز الہی کے خلاف بطور وزیر بلدیات کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے مگر کوئی ٹھوس شواہد نہ ملے، کسی بھی مالی ادارے کی جانب سے نیب کو کرپشن کے شواہد نہ ملے، درخواست گزار بے داغ سیاسی کیریئر کے حامل ہیں، کبھی کرپشن نہیں کی، چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الہی کے خلاف انکوائری قکو انویسٹی گیشن میں اپ گریڈ کرنا غیر قانونی ہے،

    درخواست گزار نے کہا کہ چودھری برادران کے خلاف نیب تفتیش نامعلوم افراد کی درخواست پر شروع کی گئی،شواہد کے حصول کے لئے درخواست گزاروں کے گھروں کی بھی تلاشی لی گئی مگر کچھ بھی نہیں ملا، نیب کا20 برس پرانے آمدن سے زائد اثاثہ جات کی انکوائری دوبارہ کھولنے کا اقدام غیرقانونی قرار دیا جائے،

    چودھری برادران کو چیئرمین نیب کے اختیارات کیخلاف درخواست مہنگی پڑ گئی، عدالت کا بڑا حکم

  • پی یو ایف جے کا حکومت اور میڈیا مالکان کے خلاف بڑا اعلان

    پی یو ایف جے کا حکومت اور میڈیا مالکان کے خلاف بڑا اعلان

    لاہور/ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یوجے) نے صحافیوں کی جبری برطرفیوں،تنخواہوں میں کٹوتیوں اور دیگر مسائل حل نہ ہونے پر حکومت اور میڈیا مالکان کے خلاف اپریل 2021ء کے پہلے ہفتے کے دوران کوئٹہ سے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد تک لانگ مارچ کا اعلان کردیا ہے۔لاہور پریس کلب میں یونین کی وفاقی ایگزیکٹو کونسل کے 3 روزہ اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری

    صدر پی ایف یو شہزاد ذوالفقار نے کہا کہ حکومت اور میڈیا مالکان کے صحافی کارکنوں کے خلاف اتحاد نے ملک بھر کے صحافیوں کو اپنے حقوق کے لئے جدوجہد پر مجبور کردیا ہے۔ اجلاس میں اسلام آباد۔راولپنڈی،لاہور،کراچی،پشاور،کوئٹہ، حیدر آباد،سکھر،رحیم یار خان،بہاولپور،ملتان۔فیصل آباد،گوجرانوالہ اور ایبٹ آباد یونٹوں سے منتخب کونسل ارکان ،پی ایف یوجے کے سیکرٹری جنرل ناصر زیدی ،خزانچی
    ;ذوالفقارعلی مہتو کے علاوہ لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری اورنیشنل پریس کلب اسلام آباد کے صدر شکیل انجم نے خصوصی شرکت کی۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت سے اتحاد کے باعث میڈیا مالکان نے اپنی آزادی سرنڈر کردی ہے اور جواب میں حکومت نے میڈیا مالکان کوگزشتہ 2 برسوں کے دوران ہزاروں صحافی کارکنوں کو جبری برطرف کرنے،تنخواہوں میں کٹوتیاں اور کئی کئی ماہ بغیر تنخواہ کام پر مجبور کرکے لیبر قوانین کی دھجیاں بکھیرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور اس ورکرز دشمن اتحاد کے جبرنے پی ایف یو جے کو بیک وقت حکومت اور میڈیا مالکان کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے سواکوئی راستہ نہیں چھوڑا۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ لانگ مارچ کا مقصد الیکٹرانک میڈیا کے صحافی کارکنوں کے لئے اخباری کارکنوں کی طرز پر سروس سٹرکچر کے قیام کے لئے قانون سازی کرانا بھی ہے کیونکہ نجی ٹی وی چینلز بیگار کیمپ بن گئے ہیں اور وہاں پر ماسٹر ڈگری ہولڈرصحافیوں کو کنٹریکٹ پر شرمناک حد تک کم تنخواہ پر بھرتی کرکے استحصال کی بدترین مثالیں قائم کی جارہی ہیں۔اعلامیے میں سیاسی جماعتوں پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ الیکٹرانک میڈیا کے صحافی کارکنوں کے لئے سروس سٹرکچر کی تشکیل کے لئے قانونی بل پیش ہونے پر اس کی مکمل حمائت کا اعلان کریں۔

    پی ایف یو جے نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ صحافی کارکنوں کے معاشی حقوق کا تحفظ کرے لیکن حالات یہ ہیں کہ اخباری مالکان 8 ویں ویج بورڈ ایوارڈ کی دستاویز پر دستخط کرکے اس پر عمل درآمد سے مکر گئے ہیں جو ویج ایوارڈ کمیشن کے قوانین کے تحت سنگین جرم ہے۔اعلامیے کے مطابق پریس کونسل آف پاکستان ، الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی اینڈ پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی اپنےاختیارات سے تجاوز کرکے میڈیا اداروں کی آزادی چھیننے کے قابل تشویش اقدامات کررہی ہیں اور ان اداروں کے قوانین میں تبدیلی کرکے ایسے سول اور فوجی ریٹائرڈ بیوروکریٹس کی بطورچئیرمین تقرری کی راہ ہموار کی جارہی ہے جن کا میڈیا معاملات سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے اور وہ صرف میڈیا کی آزادی دبانے کے لئے لگائے جائیں گے۔

    اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ لانگ مارچ کا آغازکوئٹہ سے ہوگا جبکہ اس کے شرکاء وہاں سے کراچی جائیں گے اور پھر یہ قافلہ اسلام آباد کی طر ف روانہ ہوجائے گا جبکہ راستے میں تما بڑے شہروں کے صحافی کارکن اس میں شامل ہوتے جائیں گے۔لانگ مارچ کء شرکاء اسلام آباد پہنچ کر مطالبات کی منظوری تک پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں گے۔ پی ایف یو جے کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ لانگ مارچ سے قبل صحافی پاکستان براڈکاسٹنگ ایسوسی ایشن اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے صدر دفاتر کا گھیراؤ بھی کریں گے اور تمام بڑے شہروں میں بھوک ہڑتالی کیمپ لگا کر عوام اپنے مسائل اورمطالبات کے لئے آگاہی مہم چلا ئی جائےگی۔

  • تھپڑ حریم شاہ نے مارا،  معافی مفتی عبدالقوی نے مانگ لی

    تھپڑ حریم شاہ نے مارا، معافی مفتی عبدالقوی نے مانگ لی

    تھپڑ حریم شاہ نے مارا، معافی مفتی عبدالقوی نے مانگ لی
    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ، مفتی عبد القوی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے . اللہ سے معافی مانگتا ہوں . حریم شاہ سے معذرت کرتا ہوں .
    مفتی عبد القوی ایک بار پھر سے خبروں میں ہیں اب ان کا حریم شاہ کے ساتھ نیا سکینڈل بہت معروف ہے جس میں ایک کمرے میں حریم شاہ نے مفتی عبد القوی کو تھپر دے مارا تھا . جس کے بعد مفتی عبدالقوی نے کہا ہے کہ اللہ سے معافی مانگتا ہوں‌اور حریم شاہ سے معذرت کرتا ہے .

    مفتی قوی کو تھپڑ مارنے کی وجہ بتاتے ہوئے ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ کا کہنا تھا کہ مفتی قوی کل سے بہت غلط حرکتيں کررہے تھے،مفتی قوی نے ہمارے ساتھ انتہائی نازيبا گفتگو کی۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارے صبر کا پيمانہ لبریز ہوگيا تھا تو ميں نے اپنی دوست کے ساتھ مل کر مفتی قوی کو مارا۔

    حریم شاہ کا مزید کہنا تھا کہ مفتی قوی کو مارنے کا کوئی افسوس نہيں ہے ان کی باتيں سن کر عوام خود فيصلہ کريں گے کہ مارنا چاہيے تھا يا نہيں۔

    دوسری جانب مفتی قوی کا کہنا تھا کہ ميں تو چائے پی رہا تھا ايک بھی نےتھپرماردیا . بچیاں ايک سے2 منٹ کيلئے آئيں، تھپڑ مار کر چلی گئيں۔

  • پیزا بوائے ، منشیات فروش ، اسلحہ کی نمائش کرنے والے پولیس نے پکڑ لیے

    پیزا بوائے ، منشیات فروش ، اسلحہ کی نمائش کرنے والے پولیس نے پکڑ لیے

    ایس پی ماڈل ٹاؤن دوست محمد کی ہدایت پر جرائم پیشہ عناصر کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ، کاہنہ پولیس کی کارروائی،04 ملزمان گرفتار،،بدنام زمانہ منشیات فروش نور احمد سے01 کلو 220 گرام چرس برآمد کر لی گئی ، سر عام اسلحہ کی نمائش کرنے والے اکرم نامی ملزم گرفتار،آٹومیٹک رائفل برآمد کر لی گئی نوید اور وسیم نامی پتنگ باز گرفتار،پتنگیں برآمد کر لیں

    ایس ایچ او کاہنہ انسپکٹر حماد اختر نے اپنے بیان میں کہا کہ ملزمان کیخلاف مقدمات درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں ، ایس پی ماڈل ٹاؤن دوست محمد کی ہدایت پر جرائم پیشہ عناصر کے گرد گھیرا تنگ کر دیا

    دوسری جانب کراچی میں پیزا بوائے کا روپ دھار کر اسٹریٹ کریمنلز نے شہری کو کنگال کر دیا ، شہر قائد کے علاقے گلستان جوہر بلاک 16 A غازی فوڈ کے قریب اسٹریٹ کرائم کا انوکھا واقعہ سامنے آگیا ، موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے آن لائن ڈلیوری بواۓ کی ترح پیچھے بیگ بھی لٹکا رکھا تھا ، واقعہ تھانہ شارع فیصل کی حدود میں پیش آیا مصلح افراد شہری سے موبائل فون نقدی و دیگر ضروری دستاویزات لے کر فرار ہوگئے

  • اٹلی کے سفیر نے پاکستانیوں کیلیے بڑی خوشخبری دیدی

    اٹلی کے سفیر نے پاکستانیوں کیلیے بڑی خوشخبری دیدی

    لاہور، پاکستان میں اٹلی کے سفیر اینڈریاس فراررز نے کہا ہے کہ اٹلی اور پاکستان کے درمیان باہمی تجارت پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کی گنجائش موجود ہے جس کے لیے مشترکہ اقدامات اٹھانا ہونگے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر کے صدر میاں طارق مصباح اور سینئر نائب صدر ناصر حمید خان سے لاہور چیمبر میں ملاقات کے موقع پر کیا۔

    لاہور چیمبر کے ایگزیکٹو کمیٹی اراکین چودھری خادم حسین اور شاہد نذیر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ سفیر نے کہا کہ اٹلی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، اس کی معیشت مضبوط اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں جن سے پاکستانی سرمایہ کاروں کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعمیرات اور زراعت کے شعبوں میں مشترکہ منصوبہ سازی کی وسیع گنجائش ہے جس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی تاجروں کو تین سے پانچ سال کے لیے ویزے جاری کیے جائیں گے جس سے دونوں ممالک کے تاجروں کے درمیان تعلقات مضبوط ہونگے اور باہمی تجارت بڑھانے میں مدد ملے گی۔

    لاہور چیمبر کے صدر میاں طارق مصباح نے کہا کہ اٹلی یورپ میں پاکستان کا اہم تجارتی حصے دار ہے ، دوطرفہ تجارت میں اصافہ خوش آئند ہے مگر تجارت میں اضافے کی وافر گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2019میں پاکستان کی اٹلی کو برآمدات کا حجم 810ملین ڈالر جبکہ درآمدات کا حجم 937ملین ڈالر رہا۔

    میاں طارق مصباح نے کہا کہ پاکستان کی اٹلی کو نمایاں برآمدات میں ٹیکسٹائلز، لیدر اور چاول شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تعمیرات، زرعی ٹیکنالوجی ، پلاسٹک، فوڈ، ڈیری ، لائیوسٹاک، فارماسیوٹیکل وغیرہ کے شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ کی کافی گنجائش ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے تاجروں کے درمیان باہمی روابط مضبوط کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

  • شہباز شریف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    شہباز شریف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    شہباز شریف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہباز شریف کو جیل میں میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا

    احتساب عدالت لاہورمیں فریقین کے وکلا نے درخواست پر بحث مکمل کرلی ،نیب پراسیکیوٹر عاصم ممتاز احتساب عدالت میں پیش ہوئے ،جج جواد الحسن نے چیمبر میں شہباز شریف کی درخواست پر سماعت کی

    یب نے احتساب عدالت لاہور میں اپنی رپورٹ جمع کرا دی،نیب نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم عدالت قانون کے مطابق صادر فرمائیں ،شہباز شریف اور حمزہ شہباز منی لانڈرنگ ریفرنس میں ملوث ہیں

    گزشتہ روزاحتساب عدالت میں سماعت ہوئی تھی تو شہباز شریف کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا، شہباز شریف نے عدالت میں کہا کہ میڈیکل بورڈ نے جیل کا وزٹ کیا ہے میڈیکل بورڈ میں میرے 3 کنسلٹنٹ ہونے چاہیے ،جس پر عدالت نے کہا کہ وہ علیحدہ معاملہ ہے، عدالت علیحدہ سنے گی

    ن لیگ والےمجھے ٹرول کرنے کی زحمت نہ کریں، ماروی میمن نے ایسا کیوں کہا؟

    چودھری نثار نے درباری پن کے مقابلے میں عزت کو ترجیح دی، ماروی میمن

    چاہتا تو آج بھی گاڑی پر وزارت کا جھنڈا لہرا سکتا تھا، جانیے چوہدری نثار نے ایسا کیوں‌ کہا؟

    شہباز شریف کو بکتر بند گاڑی میں عدالت پیش کرنے پر تحریری حکم جاری

    عدالت میں شہباز شریف کے وارنٹ گرفتاری پیش،شہباز شریف کے وکیل نے کی سیاسی گفتگو

    شہباز شریف عدالت پہنچ گئے،نیب کی شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا

    کن گراونڈز پر گرفتاری درکار ہے بتایا جائے؟ شہباز شریف کے وکیل کی عدالت سے استدعا

    عدالت میں شہباز شریف کے وارنٹ گرفتاری پیش،شہباز شریف کے وکیل نے کی سیاسی گفتگو

    شہباز شریف کی ممکنہ گرفتاری، سی سی پی او لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے، اہم حکم دے دیا

    شہبازشریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس،تحریری حکم نامہ جاری

    شہباز شریف کو بکتر بند گاڑی میں عدالت پیش کرنے پر تحریری حکم جاری

    یہ کم ظرف لوگ ہیں،میں نے لفظ "کمینا” استعمال نہیں کیا،شہباز شریف

    جج صاحب، جیل میں کون میرے پاس آیا اور میری ڈیمانڈ کیا تھی؟ شہباز شریف عدالت میں روپڑے

    کورونا کا خطرہ،عدالت بندوں سے بھر دی جاتی ہے، شہباز شریف کی پیشی پر عدالت کا اظہار برہمی

    واضح رہے کہ شہباز شریف کو نیب نے ضمانت کی درخواست مسترد ہونے پر گرفتار کیا تھا، عدالت نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا تھا ، شہباز شریف کو عدالت میں بکتر بند گاڑی میں پیش کیا جاتا ہے جس پر ن لیگ نے احتجاج کیا تھا،

    حمزہ شہباز نے بکتر بند گاڑی میں عدالت پیش ہونے پر انکار کیا تھا جس پر عدالت نے گزشتہ سماعت پر ریمارکس دیئے تھے کہ لگتا ہے ریاست کی رٹ ختم ہو چکی ہے

  • تعلیمی ادارے کیوں کھولے؟ عدالت کے حکم پر حکومت نے کیا جواب دیا؟

    تعلیمی ادارے کیوں کھولے؟ عدالت کے حکم پر حکومت نے کیا جواب دیا؟

    تعلیمی ادارے کیوں کھولے؟ عدالت کے حکم پر حکومت نے کیا جواب دیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تعلیمی ادارے 18 جنوری سے کھولنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    سیکریٹری سکول کی جانب سے جواب جمع کروا دیا گیا ،جواب میں کہا گیا کہ 18 جنوری سے سکول کھولنا حکومتی پالیسی ہے ، لاہور ہائیکورٹ کو اس درخواست پر سماعت کا اختیار نہیں ،

    جسٹس علی باقر نجفی کچھ دیر تک کیس پر سماعت کریں گے ،لاہور ہائیکورٹ نے این سی او سی کے فیصلوں کی تفصیلات طلب کر رکھی ہیں

    واضح رہے کہ گزشتہ روز تعلیمی ادارے کھولے گئے ہیں , کرونا کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کا دوسرا دور بھی ختم ہو گیا ،پاکستان بھر میں نویں کلاس سے 12 ویں کلاس کے طلبہ کے لئے تعلیمی ادارے  کھل گئے

    طلبا و طالبات نے ماسک لگا رکھے ہیں اور ہاتھوں کو سینی ٹائرز کیا جا رہا ہے، کلاس رومز میں بچوں کو سماجی فاصلہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کورونا وائرس کے باعث پاکستان بھر میں تعلیمی اداروں کو دوسری دفعہ بند کردیا گیا تھا تا ہم تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں، طلبا تعلیمی اداروں میں پہنچے ہیں، تعلیمی اداروں میں کرونا ایس او پیز کا خیال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے

    کرونا پھیلاؤ روکنے کے لئے این سی او سی کا عوام سے مدد لینے کا فیصلہ

    کرونا وائرس ، معاون خصوصی برائے صحت نے ہسپتال سربراہان کو دیں اہم ہدایات

    کرونا وائرس لاہور میں پھیلنے کا خدشہ، انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھا لیا

    تعلیمی ادارے بند، امتحانات کب ہوں گے؟ وفاقی وزیر تعلیم نے بتا دیا

    تعلیمی ادارے کب سے کھلیں گے؟ وفاقی وزیر تعلیم کا بڑا اعلان سامنے آ گیا

    واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان میں کرونا وائرس کی دوسری لہر اور بڑھنے کیسز پر گزشتہ سال 26 نومبر سے ملک بھر میں تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ قبل ازیں گزشتہ سال 23 مارچ کی پہلی بندش کے بعد تعلیمی اداروں کو گزشتہ سال 15 دسمبر سے مرحلہ وار کھولا گیا تھا۔

  • ٹیکس فراڈ کیس،عدالت نے ملزم کی ضمانت منظور کرلی

    ٹیکس فراڈ کیس،عدالت نے ملزم کی ضمانت منظور کرلی

    ٹیکس فراڈ کیس،عدالت نے ملزم کی ضمانت منظور کرلی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹیکس فراڈ کیس ساڑھے پانچ سال سے قید ملزم آصف علی فیض کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی

    عدالت نے ملزم آصف علی فیض کی ضمانت منظور کرلی ،عدالت نے کہا کہ ملزم پانچ سال چھ ماہ سے قید میں ہے ، قانون کے مطابق دی گئی سزا سے زیادہ سزاء کاٹ چکا ہے, کسٹم قوانین کے تحت سزاء پانچ سال ہے,

    نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ ہم نے اپیل فائل کی ہے, جس پر عدالت نے کہا کہ وہ اپیل مسترد بھی تو ہوسکتی ہے ہم سزاء سے زیادہ قید پر ضمانت کی سماعت کررہے ہیں, عدالت نے استفسار کیا کہ کسٹم کورٹ میں کیا کیس چل رہا چالان جمع ہواہے, جس پر کسٹم وکیل نے کہا کہ کیس میں نامزد دو ملزمان بھی ضمانت لے چکے ہیں،چالان جمع ہوچکاہے,

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ قانون سے زیادہ سزا ہوچکی تاحال گرفتاری غیرقانونی ہے, کسٹم وکیل نے کہا کہ 1 کروڑ کی ریکوری ہوئی تاحال 11 کروڑ کی ریکوری رہتی ہے,

    جسٹس صداقت علی خان نے آصف علی فیض کی درخواست ضمانت پر سماعت کی ،عدالتی حکم پر ڈی جی نیب کو ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے،درخواست گزار نے کہا کہ آصف علی عرصہ ساڑے پانچ سال سے کسٹم کی حراست میں ہے, کسٹم قوانین کے تحت سیکشن(2) 37 میں گرفتار ملزم کوپانچ سال قید کی سزاء دی جاسکتی ہے,کسٹم قوانین کے تحت دی گئی سزاء مکمل ہوچکی درخواست ضمانت منظور کی جاے,

  • سانحہ ماڈل ٹاون کا مبینہ ملزم ہوں،جان کو خطرہ،بلٹ پروف گاڑی واپس کی جائے، سابق آئی جی پنجاب عدالت پہنچ گیا

    سانحہ ماڈل ٹاون کا مبینہ ملزم ہوں،جان کو خطرہ،بلٹ پروف گاڑی واپس کی جائے، سابق آئی جی پنجاب عدالت پہنچ گیا

    سانحہ ماڈل ٹاون کا مبینہ ملزم ہوں،جان کو خطرہ،بلٹ پروف گاڑی واپس کی جائے، سابق آئی جی پنجاب عدالت پہنچ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں سابق آئی جی پنجاب پولیس کی پولیس سیکورٹی اور بلٹ پروف گاڑی واپس لینے کا معاملہ پر درخواست کی سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ،عدالت نے درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ۔عدالت نے تاحکم ثانی درخواستگزار کی پولیس سیکورٹی اور بلٹ پروف گاڑی واپس لینے کے نوٹیفیکیشن پر عمل درآمد معطل کر دیا ۔

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ مجھے سنے اور دفاع کا موقع دیے بغیر پولیس سیکورٹی اور بلٹ پروف گاڑی واپس لے لی گئی ہے ۔آیا کیا جانا بدنیتی پر مبینی اور غیر قانونی ہے۔پولیس چیف کے ساتھ میری کارکردگی احسن رہی ہے

    چیف جسٹس قاسم خان نے مشتاق احمد سکھیرا کی درخواست پر سماعت کی ،درخواستگزار کی طرف سے قانون دان ڈاکٹر خالد رانجھا ایڈووکیٹ پیش ہوئے ،درخواست میں آئی جی پنجاب پولیس ۔ایڈشنل سیکرٹری ہوم ۔سیکرٹری سروسز پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے ۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ وہ سابق آئی جی پنجاب پولیس ہے۔ سابق پولیس چیف ہونے کے ناطے وہ ہر قسم کے الاونسز اور مراعات کا حق دار ہے وہ سانحہ ماڈل ٹاون کا مبینہ ملزم ہے اور کیس کا ٹرائل انسداد دہشت گردی عدالت میں زیر سماعت ہے

    وکیل درخواستگزار نے کہا کہ اسکو سابق پولیس چیف ہونے کے ناطے بلٹ پروف گاڑی اور پولیس سیکورٹی دی گئی ۔سیاسی بنیادوں پر اسکو دی گئی پولیس سیکورٹی اور بلٹ پروف گاڑی واپس لے لی گئی ہے ایسا کیا جانا اسکی جان کے لیے سیکیورٹی رسک ہے

    وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت 13 نومبر کے بلٹ پروف گاڑی اور پولیس سیکورٹی واپس لینے کا حکم کالعدم قرار دے اسکو بلٹ پروف گاڑی اور پولیس سیکورٹی دینے کا حکم دے