باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت لاہورمیں جوہر ٹاوَن پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کیس کی سماعت ہوئی
سابق وزیراعظم نواز شریف کی تمام جائیدادیں قرق کر لی گئیں ،عدالت نے آئندہ سماعت پر شریک ملزم ہمایوں فیض رسول کو طلب کر لیا
احتساب عدالت کے جج اسد علی نے دوران سماعت استفسار کیا کہ نواز شریف کی جائیدادیں قرق کرنے کی رپورٹ طلب کی تھی،جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ عدالتی حکم کی تعمیل میں نواز شریف کی تمام جائیدادیں قرق کر لی گئی ہیں،
جج اسد علی نے غیر قانونی پلاٹ الاٹمنٹ ریفرنس کی سماعت کی
سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جائیداد قرقی کی رپورٹ جاری کر دی گئی،نیب نے نوازشریف کی ملکیت زرعی زمین ،مختلف کمپنیوں میں شیئرز اور گاڑیوں کو قرق کردیا،رپورٹ کے مطابق نوازشریف کے حدیبیہ پیپر سمیت 3مختلف کمپنیوں میں 8لاکھ 82ہزار سے زائد شئیرز ہیں نوازشریف کی لاہور مختلف موضع جات میں 1547کنال زرعی اراضی ہے،شیخوپورہ کے دو موضع جات میں نوازشریف کے 102کنال سے زائد زرعی اراضی ہے ،نواز شریف کی ملکیت میں 4 بیش قیمت گاڑیاں ہیں لینڈ کروزر،مرسیڈز،سمیت 2 ٹریکٹر بھی نوازشریف کے اثاثوں میں شامل ہیں ،نواشریف کی تمام جائیداد قرق کر کے رپورٹ عدالت جمع کرادی ہے،
انسداد دہشت گردی عدالت کا ایک اور فیصلہ، جماعۃ الدعوۃ کے رہنماؤں کو مزید سزائیں سنا دیں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت نے جماعۃ الدعوۃ کے رہنماؤں کو مزید دو مقدمات میں ساڑھے چودہ، چودہ سال قید کی سزائیں سنا دیں،
اے ٹی سی کورٹ نمبر 1 کے جج ارشد حسین بھٹہ کی عدالت میں سی ٹی ڈی کی طرف سے لاہور اور سرگودھا میں درج 23/19 اور 41/19 کی سماعت ہوئی جس میں گواہوں کے بیانات اور جرح مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا گیا ہے، انسداد دہشت گردی عدالت نمبر 1 کی طرف سے دونوں مقدمات میں جماعۃالدعوۃ کے مرکزی رہنما پروفیسر ظفر اقبال اور یحییٰ مجاہد کو ساڑھے چودہ ، چودہ سال جبکہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے،
گواہوں کے بیانات پر حافظ محمد سعید و دیگر رہنماﺅں کے وکیل نصیرالدین نیئر اور محمد عمران فضل گل ایڈووکیٹ کی طرف سے جرح کی گئی۔ اے ٹی سی کورٹ میں جماعةالدعوة کے رہنماﺅں کو پیش کئے جانے کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔
واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالتوں سے جماعۃ الدعوۃ کے رہنماؤں کو اس سے قبل بھی تین درجن سے زائد مقدمات میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں،
ایران میں قید پاکستانیوں کی رہائی کی درخواست پر عدالت نے کیا کہا؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایران میں قید پاکستانیوں کی قانونی امداد اور رہائی کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی
لاہور ہائیکورٹ نے وزارت خارجہ کو جواب داخل کرانے کیلئے مہلت دے دی ، جسٹس شاہد وحید نے درخواست پر سماعت کی
وزارت خارجہ کی جانب سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایران و ترکی صائمہ خان عدالت میں پیش ہوئیں ،وزارت خارجہ نے ایران میں قید پاکستانیوں کی فہرست عدالت میں جمع کروا دی ،عدالت نے وزارت خارجہ کو سزایافتہ پاکستانی قیدیوں کی واپسی کے لیے اقدامات پر مفصل رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا
وزارت خارجہ کی رپورٹ کے مطابق ایران میں 102 پاکستانی قید تھے
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ایران میں بڑی تعداد میں پاکستانی قید ہیں، جنہیں مختلف جرائم میں سزائیں ہو چکی ہیں، حکومت کی جانب سے اہل و عیال کو کوئی تفصیل فراہم نہیں کی جا رہی، ایران میں پاکستانی سفارتخانے کو تفصیل کیلئے مراسلہ بھجوایا مگر ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا،
عدالت وزارت خارجہ کو قید پاکستانیوں اور ان کی رہائی کیلئے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے ۔ عدالت نے استفسار کرتے ہوئے کہ ایران میں قید پاکستانیوں کی رہائی کیلئے کیا اقدامات کئے ؟وزارت خارجہ سے تفصیلی جواب طلب کرلیا
پی ڈی ایم کے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کیخلاف درخواست دائر
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ڈی ایم کے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کیخلاف درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی ہے
درخواست میں اپوزیشن کے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج پر اعتراض اٹھایا گیا ہے ،درخواست گزار نے کہا کہ اپوزیشن کا الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج اس پر دباو ڈالنے کیلئے ہے، ادارے قانون اور قاعدہ کے مطابق چلتے ہیں ان پر دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا،
درخواست گزار نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مزید کہا کہ اپوزیشن کا احتجاج الیکشن کمیشن کے کام میں مداخلت ہے،قانون اس طرح احتجاج کی اجازت نہیں دیتا، پی ڈی ایم کے کل ہونے احتجاج کو روکا جائے،
اسلام آباد کا قافلہ سرینگر ہائی وی سے ہوتا ہوا ابپارہ سے ریڈ زون میں داخل ہوگا،جےیوآئی راولپنڈی کا مولانا عبدالغفور حیدری کی قیادت میں 26 نمبر چونگی پہنچے گا، جےیوآئی راولپنڈی اور اسلام آباد کے مشترکہ قافلہ کی قیادت پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کریں گے،
پیپلز پارٹی کا مرکزی جلوس مل پور اسلام آباد سے دن ایک بجے الیکشن کمیشن روانہ ہو گا
مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ کل دوپہر ایک بجے الیکشن کمیشن اسلام آباد کے سامنے مریم نواز کی قیادت میں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے احتجاج کے لیے سب کارکنان پہنچیں .
پاکستان کے صف اول کے صحافی اور سینئیر اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا ہے یہ براڈ شیٹ کس بیماری اور کس وائرس کا نام ہے اس پر ہر شخص بات کر رہا ہے ہر کوئی تبصرہ کر رہا ہے لیکن یہ بات بہت کم لوگوں کو پتہ ہے کہ اصل میں یہ ہے کیا؟ انہوں نے اس حوالے سے ایڈم برنارڈ نام کی ایک بہت بڑی لاء فرم ہے اس کے روح رواں بیرسٹر راشد اسلم جوچند دن کے لئے یوکے ،لندن سے لاہور آئے ہیں ان سے براڈ شیٹ کے بارے میں پوچھا کہ یہ کیا مسئلہ ہے؟
باغی ٹی وی : بیرسٹر راشد اسلم نے اس حوالے سے بتایا کہ براڈ شیٹ ایک پرائیویٹ کمپنی تھی جو کچھ انفرادی لوگوں نے سن 2000 میں یہ کمپنی تشکیل دی اس سے پہلے جب جنرل مشرف برسراقتدار تھے اس وقت اس کمپنی کی ان سے بات چیت ہوئی کہ ہم پاکستان کے تمام سیاسی لیڈرز بشمول میاں نواز شریف خاندان یا زرداری خاندان کے اثاثہ جات آپ کو ڈھونڈ کر دیں گے اور وہ آپ پاکستان میں واپس لے کر جا سکتے ہیں اس میں جو بات چیت ہوئی اس کے نتیجے میں ایک معاہدہ طے پایا کہ اس میں جو بھی اثاثہ جات ڈھونڈے جائیں گے اس جا 20 فیصد براڈ شیٹ کو ملے گا براڈ شیٹ صرف پاکستان کے لئے تھی براڈ شیٹ نے کسی اور ملک کے لئے خدمات نہیں دیں-
عالمی شہرت یافتہ بیرسٹر راشد اسلم نے بتایا کہ اب اسی مقصد کے لئے براڈ شیٹ کے نام سے ایک کمپنی تشکیل دی گئی اس وقت اس کو بنانے والے جیری جیمز تھے جن کی بعد میں پراسرار موت واقعی ہو گئی اور کچھ لوگوں نے کہا کہ انہوں نے خود کشی کی اور کسی نے کہا انہیں قتل کیا گیا ہے-
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے سن 2000 میں یہ معاہدہ ہوا اور سن 2003 تک یہ معاہدہ قائم رہا اور 2003 میں اس معاہدے کو ختم کر دیا گیا اب براڈ شیٹ کا اس وقت یہ موقف تھا کہ ہم نے بہت سارے ایسے ڈاکیومنٹس بہت سارے ایسے اثاثی جات بینک اکاؤنٹس حکومت پاکستان کو دیئے تھے اور براڈ شیٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمارا ایک آفس پاکستان میں نیب کے آفس کی بلڈنگ میں ایک آفس بھی دیا گیا تھا جس کے ذریعے ہم نیب کے ساتھ سارے معاملات ساری دستاویزات دیکھ رہے تھے-
بیرسٹر راشد اسلم کے مطابق براڈ شیٹ کمپنی کا کہنا تھا کہ 2003 میں یہ معاہدہ ختم کیا گیا یا غلط ختم کیا گیا اس وقت تک ہم بہت سارے اثاثہ جات بہت سارے بینک اکاؤنٹس ڈھونڈ چکے تھے اور ہماری بہت ساری انویسٹمنٹ ہو چکی تھی تو پھر ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ اس موڑ پر آ کر آپ ہم سے معاہدہ ختم نہیں کر سکتے-
مبشر صاحب نے سوال کیا کہ ہمارے پاس اس سے باہر نکلنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا؟ اس پر بیرسٹر راشد اسلم نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ یہ بڑا پرابلم رہا ہے کہ پاکستان نے کبھی بھی انٹرنیشنل لاء پر زیادہ توجہ نہیں دی-اگر آپ ہمارے ہمسایہ ممالک میں دیکھیں انڈیا میں یا باقی ممالک میں وہاں پوری ٹیم بیٹھی ہوتی ہے وکیل حضرات کی جواس پر کام کر رہی ہوتی ہے کہ اگر کوئی کانٹریکٹ آتا ہے ہمارے پاس تو ہم نے اس میں سے اپنے اپ کو سیکیور کیسے کرنا ہے ایگزٹ کراس کیسے رکھنی ہے؟ اس میں سے نکلنا کیسے ہے –
انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ براڈ شیٹ میں کوئی مضبوط ایگزٹ کراس رکھی ہوئی تھی جس کی وجہ سے یہ فیصلہ ہوا جب 2003 میں یہ ہوا تو اس کے بعد کاروائی شروع کی گئی اس کے بعد 2005 میں یہ کپمنی بند ہو گئی اس کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں یا کوئی پیمنٹس نہ ہوئی ہوں یا انہوں نے خود بند کر دی ہو پارٹنرز کی نہ بنی ہو-
انہوں نے بتایا کہ جب یہ بند ہو گئی تو مقدمہ چل رہا تھا کاروائی ہو رہی تھی جو خط و کتابت ہو رہی تھی اس وقت پاکستان کی حکومت نے اس کمپنی کے نمائندے جیری جیمز کے ساتھ بات چیت کی انہوں نے 2008 میں ایک شیل کپمنی بنائی بالکل اسی نام سے انہوں نے پاکستان سے معاہدہ کیا کہ اگر آپ ہمیں 5 ملین پاؤنڈ دیتے ہیں کہ ہم یہ تنازعہ ختم کر دیتے ہیں اور سیٹلمنٹ کر لیتے ہیں-
مبشر لقمان نے کہا کہ لیکن یہ شیل کپمنی اصل کمپنی کی طرح کام نہیں کر رہی تھی ا س پر بیرسٹرراشد اسلم نے کہا کہ یہ موقف بھی سامنے آیا جو اس وقت کیس لڑ رہے ہیں اس سے پہلے یہ اکٹھے تھے جیری جیمز جو براڈ شیٹ کے بانی تھے نے پاکستان کو یہ تاثر دیا کہ میں ہی ڈیل کر رہا ہوں تو پاکستان کے وکیل ان کے اُس تاثر میں آگئے اور ہم نے رقم ادا کر کے سیٹلمنٹ کر لی اور جب یہ معاہدہ ہو گیا تو اس کے بعد 2009 میں دوبارہ ایک ایک سی کے سربراہ مسٹر کاوے موسوی نے وہ کمپنی ری اسٹیٹ کرائی اس کی درخواست دی کمپنی ری اسٹیٹ ہو گئی تو انہوں نے دوبارہ کام شروع کیا-
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے پاکستان کا یہ موقف تھا کہ ہم نے تو آپ کے نمائندہ سے سیٹلمنٹ کر لی ہے ہمیں نہیں پتہ کہ اس نے دوسری کمپنی شروع کر کے کی ہم نے تو چیک دیا رقم ادا کرلی ہوئی ہے رقم باضابطہ طور پر ہائی کمیشن کے ذریعے ادا کی گئی تو کورٹ نے اس موقف کو نہیں مانا کورٹ نے کہا کہ اب یہ کمپنی ری اسٹیٹ ہوئی ہے اس کا رجسٹریشن نمبر اس جیری جیمز کی کمپنی کے رجسٹریشن نمبر سے مختلف ہے تو کورٹ اس موقف کو نہیں مانتی تو 2016 میں ایک پارشل ایوارڈ براڈ شیٹ کے حق میں فیصلہ کر تے ہوئے پاکستان سے کہتی ہے کہ اتنی رقم آپ ادا کریں تو پارشل ایوارڈ کا مطلب یہ تھا کہ فل ایوارڈ نہیں بلکہ لمیٹیڈ ایوارڈ ہوا-
بیرسٹر راشد اسلم کے مطابق اس کے بعد پھر بات چیت چلتی رہی اس میں بہت سارے لوگ گئے ہمارے جس طرح مسٹر موسوی نے کہا کہ بہت ساری ملاقاتیں ہوئیں لیکن سیٹلمنٹ نہیں ہوپائی اس کے بعد جب یہ ایوارڈ ہوا تو پاکستان نے پھر اس کے اوپر اپیل کی تو پاکستان کی یہ اپیل بھی منظور نہیں ہوئی اس میں بہت سارے ایشوز تھے جب پارشل ایوارڈ کے بعد فائنل ایوارڈ ہوا اس پر بھی اپیل ہوئی لیکن بات یہ تھی کہ ہم جب آرمٹریشن میں گئے تھے تو ہم نے یہ مانا تھا کہ ان کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ فائنل ہو گا تو کورٹ کا موقف تھا کہ آپ نے پہلے یہ مانا ہوا ہے کہ فیصلہ فائنل ہو گا اس لئے ہم اس کو فیصلے کو رد نہیں کر سکتے ا س کی وجہ سے ہم پر یہ پیمنٹ پر ہمیں یہ رقم ادا کرنا پڑی –
بیرسٹر راشد اسلم نے کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ شروع سے آخر تک اگر آپ اس کا پورا بائیو ڈیٹا دیکھیں اس میں جو بھی حالات پیدا ہوئے اس میں بہت حد تک ہمارا لاء ڈیپارٹمنٹ بہت کمزور رہا ہم نے اس کو کبھی بھی پوری طرح معاملات خط و کتابت میں جیسے اٹارنی جنرل ایگریسیو نہیں دیکھا-
مبشر لقمان نے کہا کہ اس میں پی آئی اے کے ہوٹلز کہاں سے آ گئے وہ اس کو بھی لینے کے چکروں میں ہیں -اس پر بیرسٹر راشد اسلم نے کہا کہ در اصل جو چیز بھی پاکستان کے نام پر ہے اس کے اوپر انہوں نے یہ موقف لیا کہ اس کو ضبط کیا جائے جیسے ہائی کمیشن کا دفتر ، یو بی ایل کے بینکس میں حکومت پاکستان کے اکاؤنٹس تھے وغیرہ-حالانکہ پاکستان نے ڈپلومیٹک کمیونٹی اس پر کلیم تھی وہ بھی رفیوز کر دی گئی اور یہ بہت سخت فیصلہ ہے اور یہ معقول فیصلہ بھی نہیں ہے اس میں بہت ساری گراؤنڈز تھیں جس میں میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستان کے حق میں تھیں اور یہ جج کا فیصلہ تھا –
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ کیا کاؤنسل کمزور تھے ہمارے ؟ انہوں نے کہا میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن مجھے جج کے فیصلے سے اختلاف ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ جو فیصلہ تھا اس فیصلے کے حوالے سے بہت ساری چیزیں بہت ساری ایسی گراؤںڈز لی جا سکتی تھیں جن پر پوری طرح غور نہیں کیا گیا ججمنٹ میں-
مبشر لقمان نے پوچھا کہ اب پھر اپیل کی گنجائش ہے ؟ اس پر بیرسٹر راشد اسلم نے کہا کہ اب تو ہم بہت آگے اس سے چلے گئے ہیں اور رقم ادا کر دی ہے صرف یہی پیمنٹ نہیں ہے اس کے علاوہ لیگل چارجز بھی ہیں ابھی ہم نے اور پیمنٹس کرنی ہیں مسٹر موسوی کو- ایک اور اہم بات کہ جس طرح وہ آفر کر رہے ہیں کہ ابھی بھی ان کے پاس اکاؤنٹس کی تفصیل ابھی آفر کر رہے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ڈیل کریں کہ ہمارے ساتھ دوباری کانٹریکٹ کریں میں دوبارہ اکاؤنٹس دیکھتا ہوں انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں اس کانٹریکٹ میں جانا چاہیئے-
چنیوٹ (سلمان خان سے) اجازت نا ملنے کے باوجود خواجہ سراؤں کی جانب سے فنگشن کرنے پر پولیس کا ریڈ خواجہ سراٶں کی جانب سے پولیس پر دھاوا خواجہ سراوں کی پولیس اہلکاروں پر تشدد کی ویڈیو وائرل تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات اہل علاقہ کی جانب سے 15 پر کال موصول ہونے پر پولیس کےجوان شمع سینما پہنچے جہاں خواجہ سرا بغیراجازت فنگشن کر رہے تھے
پولیس اہلکاروں کی جانب سے روکنے پر خواجہ سراؤں نے پولیس پر دھاوا بول دیا خواجہ سراوں کی پولیس اہلکاروں پر تشدد کی ویڈیو بھی وائرل ہو گئی وردی میں ملبوس پولیس ملازم مجھے بچاو مجھے بچاو کے دہائیاں دیتا رہا مگر کسی نے ایک نہ سنی ویڈیو میں وردی میں ملبوس پولیس ملازمین پر تشدد اور اسے گھیستے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے تاہم بعد ازاں دیگر خواجہ سرإ ڈنڈے سوٹوں کےہمراہ شہر کے مرکزی ختم نبوت چوک پہنچ گٸے، پولیس چور پولیس چور کے نعرے بھی لگاتے رہے
ہنگامہ آرائی اور احتجاج کے باعث ٹریفک کا نظام بھی بری طرح متاثر ہو گیا یادرہے کہ چند روز قبل خواجہ سراٶں نے ڈی پی اوچنیوٹ کودرخواست دی مگرسیکورٹی خدشات اورکرونا ایس اؤ پیز کیوجہ سے فنگشن کی اجازت نہ دی گٸی، پولیس کےمطابق پابندی کےباوجود خواجہ سرا پارٹی نےپروگرام کیاجو قانون جرم ہے۔
پنجاب بھر میںدھند کا راج، کئی حادثات ، شہری رہیں محتاط
باغی ٹی وی :پنجاب کے میدانی علاقوں میں شدید دھند کے سبب حد نگاہ نہ ہونے کے برابر رہ گئی، موٹروے اور اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی، لاہور ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن بھی متاثر ہوا جس کے سبب 13 پروازیں منسوخ اور 13 ہی تاخیر کا شکار ہوئیں۔
ترجمان موٹر وے پولیس کے مطابق موٹروےایم تھری لاہور سے عبد الحکیم تک دھند کی وجہ سے بند کر دی گئی، ملتان سے خانیوال موٹروے بھی شدید دھند کے باعث بند ہے۔ ۔موٹر وے ایم فائیو ملتان سے سکھر ،موٹروے ایم فور پنڈی بھٹیاں سے شام کوٹ پر ٹریفک کو جانے سے روک دیا گیا۔ قومی شاہراہ پر لاہور ، چوہنگ موہلنوال، مانگا منڈی ، پھول نگر ,جمبر میں بھی شدید دھند چھائی ہے۔ پتوکی،حبیب آ باد ، رینالہ خورد ، اوکاڑہ میں شدید دھند کی اطلاعات ہیں۔ ساہیوال ، چیچہ وطنی، کسوال ، اقبال نگر کے علاوہ گیمبر ،ہڑپہ ، میاں چنوں، خانیوال اور ملتان کو بھی کہر نے لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ قومی شاہراہ پر ان علاقوں میں حد نگاہ 30میٹر ہے ۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ موٹروے پولیس کی جانب سے جاری ہدایات پر عمل کیا جائے۔ غیر ضروری سفر سے حتی الامکان گریز کیا جائے۔ روڈ یوزرز آگے اور پیچھےدھند والی لائٹس کا استعمال کر یں، تیز رفتاری سے پرہیز کر یں اور اگلی گاڑی سے مناسب فاصلہ رکھیں۔معلومات اور مدد کے لیے ہیلپ لائن 130 سے رابطہ کر یں۔ موٹروے پولیس کی ہمسفر ایپ سے بھی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔
لاہور ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن معطل ہے جبکہ قومی شاہراہ پر بھی دھند کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔ادھر دھند کے باعث ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریب کار اور ٹریلر میں ٹکر کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔
بابر اعظم سے کوئی تعلق نہیں، تنگ کرنے کے لیے الزامات لگائے ٹیم کے کپتان بابر اعظم پر جنسی زیادتی کے الزامات لگانے والی حامزہ مختار کا 2018 کا بیان حلفی اور ویڈیو بیان سامنے آ گیا ہے-
باغی ٹی وی : اپنے ویڈیو پیغام میں حامزہ مختار بلا خوف وخطریہ اقرارکررہی ہیں کہ میرے بابراعظم کے ساتھ نہ پہلے تعلقات تھے اورنہ اب ہیں ، میں نے بابراعظم کوتنگ کرنے کے لیے یہ ڈرامہ رچایا تھا ،
حامزہ مختار نے کہا کہ میں یہ بھی واضح کردوں کہ کوئی میرے سے منسوب بیان یا ویڈیو کلب دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے کہ میرے اوربابراعظم کے درمیان کوئی تعلقات تھے تو وہ جھوٹے ہوں گے ،میرا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے میں نے بابراعظم کو تنگ کرنے کی غرض سے جعلی ڈاکومنٹس بھی تیارکروائے تھے اورجعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بنواکرمعاملے اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تھی-
حامزہ مختار نے کہا کہ میں یہ سب اپنی مرضی سے اقرار کررہی ہوں کہ میں یہ کسی دباومیںآکر نہیں بلکہ سچ کررہ ہی کہ واقعی بابراعظم کے ساتھ میرا کوئی تعلق نہ تھا-
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وکیل خواجہ محسن عباس حامزہ مختار کو بیان حلفی کی عبارت پڑھ کر سنارہے ہیں جس میں حامزہ مختار نے اقرار کیا ہے کہ اس نے کسی کے بہکانے پر بابر اعظم کے خلاف درخواست دی، درخواست دینے کا مقصد بابر اعظم کو تنگ کرنا تھ
بیان حلفی کے متن کے مطابق کچھ دوستوں کے کہ بہکانے پر تھانہ میں درخواست دی ۔ ویڈیو پیغام میں حامزہ مختار نے مزید کہا کہ میرا بابر اعظم سے نہ پہلے تعلق تھا اور نہ اب ہے ، مجھے بہکانے والے بابر اعظم کی شہرت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ۔
میرا ضمیر مجھے یہ سب کام کرنے سے روک رہا ہے لہذا میں اپنی درخواست واپس لیتی ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری درخواست بد نیتی پر مبنی تھی میں بغیر کسی دباؤ کے درخواست واپس لیتی ہوں ۔
بیان حلفی کے ساتھ ہی حامزہ مختار نے کہا کہ اس کے بعد اگر میں کوئی درخواست دوں یا بابر اعظم کے خلاف کے کوئی بیاں دوں تو میرے خلاف کاروائی کی جائے ۔ یہ بیان حلفی محمد سہیل امجد نامی گواہ کی موجودگی میں دیا گیا تھا-
حامزہ مختار کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد جہاں بابر اعظم کے مداحوں نے غم و غصے کا اظہار کیا وہیں سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور ملٹی میڈیا جرنلسٹ جویریہ صدیق نے بھی برہمی کا اظہار کیا-
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جویریہ صدیق نے لکھا کہ اب اس جھوٹی عورت کو جیل ہونی چاہئے اور یہ پتہ کرنا چاہیے کہ کس کے ایما پر اس نے بابر اعظم کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش کی۔ ساتھ ہی انہوں نے علی ظفر اور بار اعظم کو بھی ٹیگ کیا-
یاد رہے کہ حامزہ مختار نے بابر اعظم کو تنگ کرنے کے لیے جھوٹی درخواست بھی تھانہ نصیر آباد دائر کی تھی جس کو اس نے بعد میں واپس لے لیا تھا
زیادتی کے ملزمان کو سر عام لٹکایا جائے، قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل پر عوام غم و غصہ میں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ضلع قصور میں نیا جنسی سیکنڈل سامنے آنے پر عوام میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین نے جذبات کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے، صارفین نے طالبات کے ساتھ زیادتی کرنیوالے ملزمان کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا کہ زیادتی کرنیوالوں کو پھانسی دی جائے.
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ٹویٹر پرٹویٹ کی جس میں کہا کہ "#HangRapistsFromATree” اگر آپ متفق ہیں تو دوبارہ ریٹویٹ کریں ”
ایک صارف نے کہا کہ قوم کا ریپ کرنے والوں کی سزا بھی تجویز کردیں جنھوں نے نااہل نالائق سلیکٹیڈ کٹ پُتلی حکومت قائم کی اور ملک پر ظلم کیا ساتھ ساتھ وہ صحافی اینکرز بھی اُس سزا کے مستحق ہیں جنھوں نے بعغض نواز میں ملک کا بیڑا غرق کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا
واضح رہے کہ ایک واقعہ زینب انسٹی ٹیوٹ نرسنگ کالج موضع بنگلہ کمبوہاں قصور شہر میں رونما ہوا ہے جس میں بتایا جارہا ہے کہ سو سے زائد بچیوں کا جنسی استحصال کیا گیا ہے اور ان کو پیپرز میں پاس کرنے کے نام پر زیادتی کی گئی ہے اور معصوم بچیوں کے مستقبل کو داﺅ پر لگایا گیا ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ جس بچی نے آواز بلند کرنے کی کوشش کی اسے عبرت کا نشان بنایا گیا ہے۔پنجاب پولیس نے تاحال صرف دو ایف آئی آر دو معصوم بچیوں کے ساتھ پیش آنیوالے واقعات کی درج کی ہیں جب کہ حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں 100 سے زائد بچیوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اب پنجاب حکومت پپو نلکا نامی اس جنسی درندے کیخلاف ایف آئی آر درج نہیں کررہی کیونکہ اس بہروپیے نے ایک جعلی صحافی کا بھی روپ دھار رکھا ہے۔
اہل علاقہ بنگلہ کمبوواں و متاثرین زینب انسٹی ٹیوٹ میڈیکل کالج قصور کا کہنا ہے کہ قصور کا میڈیا جس طرح زینب والے معاملے پر شروع سے خاموشی اختیار کئے ہوا تھا تاہم جب قومی میڈیا پر جب بات آئی تو عوام کو حقائق کا علم ہوا۔ایک بار پھر قصو ر کا مقامی میڈیا پپو نلکا جیسے بھیڑیا کو سپورٹ کررہا ہے جس میں پولیس بھی سرفہرست ہے۔
دو ایف آئی آر درج ہوئی ہیں جبکہ باقی درخواستوں پر کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی ۔پپو نلکا نرسنگ کی طالبات کو واٹس ایپ پرمیسیج کرکے اپنے کمرے میں بلاتا تھا اور اپنی جنسی ہوس پوری کرتا تھا لڑکیوں کی طرف سے منتیں اور واسطے دینے پر انہیں مغلظات بکتا ہے اور انکی بات نہ ماننے پرانہیں کالج سے نکالنے اور پیپر میں فیل کرنے کی دھمکی دیتا ہے۔
باغی ٹی وی کے پاس تمام تر واٹس ایپ پیغامات کی کاپی بھی ثبوت کے طور پر موجود ہے ۔ پپو نلکا نے جعلی نرسنگ سکول بھی قائم کررکھا ہے جس پر مقامی ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے افسران بھی کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔
اہل علاقہ بنگلہ کمبوواں و متاثرین زینب انسٹی ٹیوٹ میڈیکل کالج قصور نے وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ آپ سے گزارش ہے کہ اس بھیڑیے کیخلاف جلد از جلد سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ اس معاشرے کے اندر لوگوں کی عزتیں محفوظ ہوسکیں اور لوگ سکول،یونیورسٹی میں اپنی بچیوں کو بھیج سکیں۔