Baaghi TV

Category: لاہور

  • ایف آئی اے نے  پی سی بی کو آڈٹ رپورٹ کا خط لکھ دیا

    ایف آئی اے نے پی سی بی کو آڈٹ رپورٹ کا خط لکھ دیا

    ایف آئی اے نے پی سی بی کو آڈٹ رپورٹ کا خط لکھ دیا

    باغی ٹی وی ایف آئی اے نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور پی سی بی کو کرکٹ بورڈ اور پی ایس ایل کی آڈٹ رپورٹ مانگنے کے لئے خط لکھ دیا ہے مُدعی پی ٹی آئی رہنما جاوید بدر کے کیس میں اس سے پہلے پی سی بی نے جتنا بھی ریکارڈ ایف آئی اے میں جمع کروایا ہے اُس سارے ریکارڈ کو ایف آئی اے نے بُوگس قرار دے کر قبول کرنے سے انکار کردیا ہے.

    واضح رہے کہ جاوید بدر کرکٹ بورڈ میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی سامنے لائے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ احتساب کے نام پر قوم سے ہم لوگوں نے جھوٹا وعدہ کیا .ہم صرف سیاسی انتقام لے رہیں ہیں احتساب کے نام پر جب کے بڑے چور ہمارے اندر ہیں .وزیراعظم خود کرکٹر ہوکر کرکٹ بورڈ میں اربوں کی کرپشن پر ایکشن نہیں لے رہا.مجھے پی ٹی آئی اور کرکٹ بورڈ کے اعلی عُہدیدار نے کیس واپس لینے کے لیے بولا ہے

    جاوید بدر کرکٹ بورڈ میں کرپشن کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات سامنے لے آئے
    جاوید بدر نے دعویٰ کیا کہ میں قوم کے پیسے کے لیے اکیلا لڑ رہا ہوں پارٹی و حکومت میرے خلاف ہے .وزیراعظم صاحب آپ کو نواز زرداری بار بار یاد آتا ہے پر آپ کو کرکٹ بورڈ کے چور نظر نہیں آتے .عنقریب سب چوروں کے نام قوم کے سامنے لاؤں گا

  • نواز شریف کا لندن کے مہنگے ترین ہوٹل میں "علاج”

    نواز شریف کا لندن کے مہنگے ترین ہوٹل میں "علاج”

    نواز شریف کا لندن کے مہنگے ترین ہوٹل میں "علاج”

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق طبی بنیادوں پر ضمانت کے بعد علاج کے لئے لندن جانے والے سابق وزیراعظم نواز شریف کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں نواز شریف لندن کے ہوٹل میں ناشتہ کر رہے ہیں.

    نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق نواز شریف کی فیملی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کی ہدایت پر نوازشریف چہل قدمی کیلئے اہلخانہ کے ہمراہ باہر گئے تھے۔ نواز شریف کی سوشل میڈیا پر جو تصویر وائرل ہوئی اس میں نوازشریف کے صاحبزادوں حسن ،حسین نواز سمیت اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار مہنگے ترین ریستوران میں ناشتہ کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    خیال رہے سابق وزیراعظم نوازشریف کے علاج کے سلسلہ میں 20 نومبر سے لندن میں موجود ہیں، اسپتال ذرائع کے مطابق نوازشریف کے دل کوخون پہنچانے والی شریان سکڑ گئی ہے ، خون کی روانی کو برقراررکھنےکیلئے’’کورنری انٹروینشن‘‘ کی ضرورت ہے اور اگر علاج کامیاب نہ ہوا تو مسلم لیگ ن کے تاحیات صدر کا بائی پاس کیا جائے گا۔

    حریم شاہ کی دبئی میں کر رہے ہیں بھارتی پشت پناہی، مبشر لقمان نے کئے اہم انکشاف

    حریم شاہ کو کریں گے بے نقاب، کھرا سچ کی ٹیم کا بندہ لڑکی کے گھر پہنچا تو اسکے والد نے کیا کہا؟

    مبشر صاحب ،گند میں نہ پڑیں، ایس ایچ او نے حریم شاہ کے خلاف مقدمہ کی درخواست پر ایسا کیوں کہا؟

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    سابق وزیراعظم نواز شریف کا لندن میں علاج جاری ہے ان کی طبیعت بدستور خراب ہے البتہ ترجمان مسلم لیگ ن نے پلیٹ لیٹس کے اتار چڑھاؤ بتانا بند کر دیا ہے، سابق وزیراعظم نواز شریف کا لندن کے مقامی کلینگ میں طبی معائنہ کیا گیا نواز شریف کی پی ای ٹی سکین رپورٹ کا نتیجہ رواں ہفتے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

    سابق وزیراعظم نواز شریف طبی معائنے کے لئے اپنی رہائش گاہ سے روانہ ہوئے تو ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان، صاحبزادے حسین نواز، لیگی عہدیدار ناصر بٹ اور دیگر معاونین بھی ہمراہ تھے۔

    اس موقع پر نواز شریف کے بیٹے حسین نوازکا کہنا تھا کہ کہ نواز شریف کی طبعیت بدستور ناساز ہے اور ان کی رپورٹس میں بہتری کے آثار نظر نہیں آ رہے

    حریم شاہ باز نہ آئی، وفاقی وزیر کی ویڈیو لیک کرکے شرمناک الزامات عائد کر دیئے

    شیخ رشید کی ویڈیو لیک، حریم شاہ پھر میدان میں آ گئی؟ کیا کہا؟

    عمران خان کی ویڈیو لیک کر دوں گی، حریم شاہ کی نئی ٹویٹ کے بعد کھلبلی مچ گئی

    میرا پیچھا چھوڑ دیں، حریم شاہ کس کی منتیں کرنے لگ گئی؟ سب حیران رہ گئے

    دوسروں کی ویڈیو لیک کرنیوالی حریم شاہ کی ایسی "حقیقت” سامنے آئی کہ سب حیران رہ گئے

    شیخ رشید نے نکاح متعہ کیا ہے، حریم شاہ کے انکشاف پر سب حیران

    حریم شاہ کے الزامات، شیخ رشید نے کونسا قدم اٹھا لیا؟ سب حیران رہ گئے

    شیخ رشید نے خاموشی توڑ دی،حریم شاہ کو کال کر کے کیا کہا؟ ریکارڈنگ منظر عام پر

    حریم شاہ کی "لیکس” کا سلسلہ جاری، فیاض الحسن چوہان کی کال ریکارڈنگ شیئر کر دی

    شیخ رشید کی کردار کشی، حریم شاہ کو کس نے دیا ٹاسک؟ باغی ٹی وی سب سامنے لے آیا

    حریم شاہ نے کس ملک کی شہریت کے لئے اپلائی کر دیا؟ سن کر فیاض الحسن چوہان پریشان

    ننگے ہونے کے لئے تیار ہو جاؤ، حریم شاہ نے کس کو شرمناک دھمکی دی؟

    سراج الحق بھی……حریم شاہ نے کیا تہلکہ خیر انکشاف

    حریم شاہ کی کسی شخص کے گھٹنے پر بیٹھنے کی تصویر وائرل، وہ شخص کون؟ حریم نے خود بتا دیا

    حریم شاہ کی "لیکس” زرتاج گل بھی میدان میں آ گئیں، کیا کہا؟ جان کر ہوں حیران

    سابق وزیراعظم نوازشریف کےبیرون ملک قیام کی مدت میں اضافےکے معاملے پر پنجاب حکومت نے 4رکنی کمیٹی تشکیل دے دی،پنجاب حکومت کی کمیٹی میں صوبائی وزیر قانون اور سیکریٹری قانون شامل ہیں، 4 رکنی کمیٹی میں چیف سیکریٹری پنجاب اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بھی شامل ہیں، کمیٹی نواز شریف کے بیرون ملک قیام میں اضافے کے حوالہ سے سفارشات تیار کرے گی.

    قبل ازیں سابق وزیراعظم نواز شریف اور اہلخانہ نے ضمانت کی مدت میں توسیع کیلئے محکمہ داخلہ پنجاب کو درخواست دے دی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں محکمہ داخلہ پنجاب سے رابطہ کیا گیا۔ عدالت نے میاں نواز شریف کو انڈر سیکشن 401 (2) کوڈ آف کریمنل پروسیجر 1898 کے تحت مزید ریلیف کے لئے حکومت پنجاب کو درخواست دینے کی ہدایت کی تھی۔عدالت عالیہ اسلام آباد کی جانب سے قرار دیا گیا تھا کہ جب تک حکومت پنجاب درخواست پر فیصلہ نہیں کرے گی، نواز شریف ضمانت پر ہی تصور کئے جائیں گے۔

    نوازشریف کی ضمانت میں توسیع کیلئے محکمہ داخلہ پنجاب درخواست کے ساتھ نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس بھی درخواست کے ساتھ لگائی گئی ہیں،درخواست نوازشریف کے اہلخانہ اور وکلاء کی جانب سے دائر کی گئی، درخواست میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف کا بیرون ملک علاج جاری ہے، نوازشریف بیماری کے باعث وطن واپس نہیں آسکتے،

    العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف  8 ہفتوں کے لیے دی گئی ضمانت ختم ہو چکی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے 8ہفتوں کیلئے نوازشریف کی ضمانت منظور کی تھی،عدالت نے ضمانت میں توسیع کیلئے پنجاب حکومت سےرجوع کرنےکاحکم دیاتھا

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیاد پر ضمانت منظورکی تھی اور العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا 8 ہفتے کیلئے معطل کردی تھی،،عدالت نے 20لاکھ روپے مچلکے جمع کرانے کاحکم دیا تھا،عدالت نے کہا تھا کہ آٹھ ہفتے پورے ہونے پر مزید ضمانت چاہئے ہو تو پنجاب حکومت سے رجوع کریں،

    خیال رہے کہ طبی بنیادوں پر ضمانت پر رہائی کے بعد نواز شریف کو علاج کے لیے لندن منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے، تاہم ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا تھا کہ انھیں زیادہ بہتر علاج کے لیے امریکا منتقل کیا جائے گا۔

    سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے معاملے پر حکومت نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وفاقی کابینہ اجلاس میں نواز شریف کی صحت سے متعلق تذکرہ ہوا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی یقینی بنانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے وزیر قانون فروغ نسیم اور معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کو سپریم کورٹ جانے کی ہدایت کر دی ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ضمانت کی مدت ختم ہونے پر نواز شریف کو وطن واپسی یقینی بنانے کی درخواست دائر کی جائے۔

    العزیزیہ ریفرنس کیس،نواز شریف کے وکیل اور نیب کو ملیں بیان حلفی کی مصدقہ نقول

    العزیزیہ ریفرنس،نوازشریف کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کے لئے مقرر

    واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر دو کے جج محمد ارشد ملک نے دونوں ریفرنسز پر فیصلے سنائے تھے اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کو سات سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں عدم شواہد کی بناء پر بری کر دیا تھا۔

    نوازشریف و زرداری کو چھوڑنے کا اعلان، پاکستانی سیاست میں ہلچل مچ گئی

    تم کون ہوتے ہو میری ویڈیو بنانے والے؟ مریم نواز برہم

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    نوازشریف کا طبی وجوہات پر بیرون ملک قیام بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، برطانوی ڈاکٹرزنے نوازشریف کا تفصیلی طبی معائنہ تجویز کیا ہے ،نوازشریف کے ٹیسٹ اورطبی معائنہ مکمل ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں،

    دنیا میں ہماری عزت نہیں، نواز شریف کا لندن کی فٹ پاتھ پر اعتراف

    شہبازشریف نے وکلا کومیڈیکل رپورٹس کی بنیاد پرکیس تیار کرنے کی ہدایت کر دی،میڈیکل رپورٹس پاکستانی حکام کو فراہم کی جائیں گی،میڈیکل رپورٹس کی کاپیزہائی کورٹ میں بھی جمع کرائی جائیں گی،نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کوبھی فراہم کی جائیں گی،نوازشریف کے مزید علاج کیلیےامریکہ لے جانے کی تجویز بھی زیرغور ہے،

    سابق وزیراعظم نواز شریف بیماری کے باعث لندن منتقل ہو چکے ہیں جہان ان کے ٹیسٹ ہوئے ہیں ، نواز شریف چوھدری شوگر ملز کیس میں نیب کے پاس جسمانی ریمانڈ پر تھے جب ان کی طبیعت خراب ہوئی انہیں علاج کے لئے سروسز ہسپتال، پھر گھر اور پھرلندن منتقل کر دیا گیا، نواز شریف کی لاہور ہائیکورٹ نے طبی بنیادوں پر ضمانت منظور کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی العزیزیہ ریفرنس کیس میں نواز شریف کی سزا آٹھ ہفتوں کے لئے معطل کر دی، نواز شریف کا نام ای سی ایل سے حکومت نے نہیں نکالا بلکہ ون ٹائم علاج کے لئے عدالتی حکم کے بعد اجازت دی.

    نواز شریف کی حالت نازک مگر بیماری کی رپورٹ سامنے کیوں نہیں آئی؟ اہم خبر

    نواز شریف کی صحت، ڈاکٹرز نے وارننگ دے دی، خطرے کی گھنٹی

  • لاہورہائیکورٹ نے دیا حمزہ شہباز کو بڑا دھچکا

    لاہورہائیکورٹ نے دیا حمزہ شہباز کو بڑا دھچکا

    لاہورہائیکورٹ نے دیا حمزہ شہباز کو بڑا دھچکا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق منی لانڈرنگ،رمضان شوگر ملز کیس میں حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر لاہور ہائیکورٹ کے دورکنی بینچ نے سماعت سے معذرت کر لی.

    حمزہ شہباز نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں ضمانت پر رہائی کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا،حمزہ شہباز نے امجد پرویز ایڈووکیٹ کی وساطت سے ضمانت کی درخواست دائر کی ،درخواست میں چیئرمین نیب، ڈی جی نیب اور تفتیشی افسر کو فریق بنایا گیا ہے

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ نیب نے بد نیتی کی بنیاد پر رمضان شوگر ملز میں تحقیقات کا آغاز کیا، نیب نے رمضان شوگر ملز کے معاملے پر متعدد بار انکوائری کی مگر کچھ بھی نہیں ملا،تحصیل بھوانہ میں نالہ عوامی مفاد میں بنایا گیا تھا، صوبائی کابینہ اور صوبائی اسمبلی نے سیوریج نالے کی تعمیر کی منظوری دی تھی،حمزہ شہباز کیخلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں،

    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ رمضان شوگر ملز میں شریک ملزم شہباز شریف کو پہلے ہی ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے، رمضان شوگر ملز ریفرنس میں فرد جرم عائد ہونے کے بعد حمزہ شہباز کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے،حمزہ شہباز صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہے اور گرفتاری سے ذمہ داریوں کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا ہے،حمزہ شہباز کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے،

    حمزہ شہباز کا فرنٹ مین بن گیا نیب میں وعدہ معاف گواہ،بیان ریکارڈ کروا دیا

    مریم نواز کے وکلاء نے ہی مریم نواز کی الیکشن کمیشن میں مخالفت کر دی، اہم خبر

    صرف اللہ کوجوابدہ ،کوئی کچھ بھی رائے رکھےانصاف کے مطابق فیصلہ دیں گے، عدالت کےحمزہ کیس میں ریمارکس

    نیب نے احتساب عدالت میں رپورٹ جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شہبازشریف فیملی نے اپنے مختلف ملازموں کے ناموں پرکمپنیاں بنا رکھی ہیں،منی لانڈرنگ کی رقوم بے نامی کمپنیوں میں منتقل کی جاتی رہیں ،اور ان بے نامی کمپنیوں سے شریف فیملی کے اکاؤنٹس میں رقم منتقل ہوتی رہی. نیب رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نیب کو 10 غیرملکی منی ایکس چینجرزکا ریکارڈمل چکاہے، شہبازشریف، حمزہ،سلمان کوبرطانیہ کی 4 منی ایکس چینج سے رقوم منتقل ہوئیں، دبئی کی 6 منی ایکس چینج سے بھی رقوم منتقل کی گئیں۔ نیب رپورٹ کے مطابق شہبازشریف فیملی کو 10 کمپنیوں سے 37 کروڑبھیجے گئے.

  • پرویز مشرف کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے کیا فیصلہ محفوظ

    پرویز مشرف کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے کیا فیصلہ محفوظ

    پرویز مشرف کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے کیا فیصلہ محفوظ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہورہائیکورٹ نےپرویزمشرف کی درخواستوں پرفیصلہ محفوظ کرلیا.لاہورہائیکورٹ کے فل بینچ نے کیس کی سماعت کی,لاہور ہائیکورٹ کافل بینچ کیس کا فیصلہ کچھ دیر میں سنائےگا

    لاہورہائیکورٹ میں پرویز مشرف کیس میں خصوصی عدالت کی تشکیل کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس مظاہرعلی اکبرنقوی کی سربراہی میں3رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،وفاقی حکومت نے خصوصی عدالت کی تشکیل سے متعلق سمری اورریکارڈ عدالت میں پیش کردیا۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ مشرف کیخلاف کیس بنانے کامعاملہ کبھی کابینہ ایجنڈے کے طور پر پیش نہیں ہوا ،مشرف کیخلاف کیس سننے والی عدالت کی تشکیل کابینہ کی منظوری کے بغیر ہوئی ،وکیل وفاق نے کہاکہ ایف آئی اے نے پرویز مشرف کے خلاف انکوائری مکمل کی

    جسٹس مظاہر علی نقوی نے کہا کہ ایف آئی اے کی کتنے رکنی ٹیم نے مشرف کیخلاف انکوائری کی،وکیل وفاق نے کہا کہ 20 سے 25افراد پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس نے انکوائری مکمل کی،عدالت نے استفسار کیا کہ ان میں سے کل کتنے لوگوںنے ٹرائل جوائن کیا ،وکیل وفاق نے کہاکہ ان میں سے صرف ایک شخص ٹرائل میں پیش ہوا،فل بنچ نے کہا کہ انکوائری کی کیا حیثیت جب انکوائری کرنےوالے ہی ٹرائل میں پیش نہیں ہوئے۔

    خصوصی عدالت کا فیصلہ، پرویز مشرف نے چپ کا روزہ توڑ دیا، بڑا اعلان کرتے ہوئے کیا کہا؟

    پرویزمشرف بارے عدالتی فیصلہ جلد بازی کا مظاہرہ، ایسا کس نے کہا؟

    وقت کا تقاضا ہے ملک پر رحم کریں، فواد چودھری نے ایسا کیوں کہا؟

    پرویزمشرف فیصلہ، پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ نے ردعمل دے دیا

    پرویزمشرف فیصلہ، سراج الحق بھی میدان میں آ گئے، بڑا مطالبہ کر دیا

    سابق صدر پرویزمشرف نے خصوصی عدالت کے قیام کوچیلنج کررکھا ہے.

    درخواست گزار نے کہا کہ پرویز مشرف کیخلاف غداری کے استغاثہ کی سماعت کرنیوالی خصوصی عدالت کی تشکیل غیر آئینی ہے،پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کے لئے وفاقی کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی،سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنی صوابدید پر خصوصی عدالت قائم کی، خصوصی عدالت کے پراسیکیوٹر کی تعیناتی سمیت کوئی عمل قانون کے مطابق نہیں کیا گیا،

    لاہور ہائی کورٹ میں  سابق صدر کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی ،‏درخواست میں حکومت،وزارت قانون،ایف آئی اے اور خصوصی  عدالت کے رجسٹرارکوفریق بنایا گیا ہے، درخواست گزار پرویز مشرف نے درخواست میں کہا کہ خصوصی عدالت  نے 19نومبرکوموقف سنے بغیرغداری کیس کافیصلہ محفوظ کیا،بیماری کی وجہ سےبیرون ملک مقیم ہوں،

    درخواست میں پرویز مشرف نے استدعا کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق کیس کودوبارہ سماعت کے لئےشروع کیا جائے ،

  • کیوں نہ اخباری رپورٹرز کو طلب کیا جائے جنہوں نے خبریں چلائیں، عدالت کے کیس میں ریمارکس

    کیوں نہ اخباری رپورٹرز کو طلب کیا جائے جنہوں نے خبریں چلائیں، عدالت کے کیس میں ریمارکس

    کیوں نہ اخباری رپورٹرز کو طلب کیا جائے جنہوں نے خبریں چلائیں، عدالت کے کیس میں ریمارکس
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں پولیس کی جانب سے شہر کے ٹاپ ٹین بدماشوں کی فہرست جاری کرنے کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی،عدالت نے درخواستوں پر معاملہ کی انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا ۔

    عدالت کے طلب کرنے پر چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب پولیس پیش نہیں ہوئے. عدالت میں سپشل سیکرٹری ہوم پیش ہوئے ،ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اور اے آئی جی لیگل جواد ڈوگر پیش ہو ئے ۔ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے کہا کہ ٹاپ ٹین کی تیار کردہ لسٹ سے پنجاب پولیس کا کوئی تعلق نہیں ۔

    عدالت نے حکم دیا کہ آئی جی پنجاب پولیس پندرہ روز میں انکوائری کرکے خود رپورٹ پیش کریں ۔عدالت نے ہوم سیکرٹری سے استفسار کیا کہ یہ لسٹ کیسے جاری ہو گئی ۔اگر لسٹ موجود نہیں تو کیسے ریڈ ہو رہے ہیں ۔ایسی باتیں نہ کریں ہمیں پولیس آرڈر کا مکمل علم ہے ۔قانون اندھا نہیں ہے ۔ایسے لوگوں کو شوکاز دیے جنہوں نے یہ لسٹ جاری کی ۔کیوں نہ ان اخباری رپورٹرز کو طلب کر لیا جائے جنہوں نے خبریں چلائیں ۔

    ڈی آئی جی لاہور نے کہا کہ ہم کسی کو غیر قانونی حراساں نہین کریں گے ،جس پر عدالت نے کہا کہ کیا ماسٹر مائنڈ کا مطلب یہ نہیں کہ اس شخص کی خاندان میں کیا عزت رہ گئی ۔اس معاملہ کی انکوائری کی جاہے اور ذمہ داران کے خلاف ایکشن لیا جائے ۔کیا بیان دے کر اپ لوگ جان چھڑوانا چاہتے ہیں ۔یہ شہریوں کی آزادی کا معاملہ ہے ۔پولیس کا ریڈ کرنا غیر قانونی ہے اس سے کتنے متاثر ہوں گے۔کسی کو علم نہیں .

    مسز جسٹس عالیہ نیلم نے خواجہ عقیل احمد عرف گو کی بٹ اور منشا بم کی درخواستوں پر سماعت کی،درخواست گزار کی جانب سے فرہاد شاہ ایڈووکیٹس پیش ہوئے،درخواست گزار نے کہا کہ کسی زمین کے قبضے میں ملوث نہیں نہ ہی بھتہ لینے کا کوئی مقدمہ درج ہے،پہلے سے موجود مقدمات میں بری ہو چکے ہیں ۔اس وقت کسی بھی عدالت میں میرے خلاف کوئی مقدمہ زیرسماعت نہیں پولیس کی جانب سے جاری کی گئی ٹاپ ٹین بدمعاشوں کی فہرست بدنیتی پر مشتمل ہے۔عدالت پولیس کی جانب سے ٹاپ ٹن بدمعاشوں کی فہرست کالعدم قرار دی جائے۔ عدالتی فیصلے تک پولیس کی ٹاپ ٹین کی جاری کردہ فہرست کو معطل کرے ۔

  • 2019ء لوٹ مار کے احتساب کا سال، تحریر:محمد حسن رضا

    2019ء لوٹ مار کے احتساب کا سال، تحریر:محمد حسن رضا

    2019ء لوٹ مار کے احتساب کا سال، تحریر:محمد حسن رضا

    ایک وقت تھا قومی احتساب بیورو (نیب)جسے تمام سیاستدان ،افسران ،کاروباری شخصیات سمیت ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے تھے اور نیب کسی بھی طاقتور شخص کے خلاف ایکشن لینے سے گھبراتا تھا، یہاں تک کہ یہ وہ ادارہ تھا کہ یہ جاگیرادار لوگوں کی گھر کی لونڈی بن چکی تھی ، اور ہر طاقتور شخص اس کو صرف اور صرف اپنے لئے استعمال کرتا تھا، لیکن پھر کیا تھا کہ اچانک تبدیلی آئی ،

    وہ بھی ایسی کہ ایک ریٹائرڈ جج کو چیئرمین نیب اور ایک ریٹائرڈ فوجی افسر میجر (ر)شہزاد سلیم کو لاہور میں اہم ذمہ داری سونپ دی گئی، ان کی تعیناتیوں کے وقت حکومت اور اپوزیشن تمام افراد متفق نظر آئے ۔ پھر آہستہ آہستہ ہر سیکٹر میں انکشافات ہونے لگے ،کہیں کسی کے پیچھے کارروباری شخصیت کا ہاتھ تو کسی کے پیچھے طاقتور بیوروکریٹ توکہیں سیاستدان یہاں تک کہ سابق وزراء اعظم اور وزراء اعلیٰ، اور پھر گورنر ، تو کہیں وزراء اور اسپیکر ، صدر تک بھی مبینہ کرپشن میں پیچھے نہ تھے۔ سرکاری خزانے کو لوٹنے اورقبضہ مافیا کی مدد کا بازار گرم تھا۔ پھر ایک دن یہ آیا کہ نیب کے نام سے سب خوف کھانے لگے ، کیونکہ جب ایکشن لیا جانے لگا ۔قانون اور رولز کی کتاب کو سامنے رکھا تو پھر ہر دوسرا طاقتور شخص قانون کی گرفت میں آنے لگا۔ نیب نے لوٹے گئے اربوں روپے ثبوتوں کی روشنی میںریکور کر کے سرکاری خزانے میں جمع کروائے ۔

    نیب اور حکومت کی کارکردگی کی بدولت پاکستان بدعنوانی کے تاثر کے حوالے سے اعشاریے سی پی آئی میں 175 سے 116 ویں نمبر پر آگیا ہے ۔پاکستان واحد ملک ہے جس کا سی پی آئی نیچے آنے کا رجحان ہے ۔ ہماری کارکردگی کو بھارت سمیت سارک ممالک کی جانب سے سراہا گیا ہے ، اسی لئے نیب سارک اینٹی کرپشن فورم کا متفقہ طور پر چیئرمین منتخب ہوا ہے ۔جو کہ پاکستان کے لئے ایک بڑی کامیابی ہے ۔ پاکستان کو 100 فیصد کرپشن فری بنانے کیلئے پرعزم ہے ۔ نیب نے نوجوانوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے ملک بھر میں کردار سازی کی 55 ہزار سے زائد انجمنیں قائم کی ہیں۔ نیب کی 2018ء سے 2019ء کے اس عرصہ کے مقابلہ میں شکایات انکوائریوں اور انوسٹی گیشن کی تعداد دوگنا ہے جو کہ نیب کی احتساب سب کیلئے بلاامتیاز پالیسی پر اعتماد کا اظہار ہے ۔

    نیب نے سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزرائے اعظم نوازشریف،شاہد خاقان عباسی،راجہ پرویز اشرف سابق وزرائے اعلی شہبازشریف ،چوہدری پرویز الٰہی، منظوروٹو، پرویز خٹک ، موجودہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ، جبکہ چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ ساتھ ان کے رشتہ دار ، بیٹوں کے خلاف بھی تحقیقات کر رہا ہے ، اسی طرح متعدد صوبائی اور وفاقی وزراء ہیں یہاں تک کے وزیراعظم عمران خان کے اردگرد رہنے والے افراد بھی شامل ہیں جن میں وفاقی وزیر خسروبختیار ، پرویز خٹک اور دیگر اس وقت اہم عہدوں پر تعینات زلفی بخاری سمیت متعدد شخصیات ہیں جن کے کیسز نیب میں سال 2019میں چلتے رہے اور متعدد وزراء کے خلاف کیسز کا آغاز کیا۔ اور متعدد کو کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثہ جات میں گرفتار بھی کیا گیا ۔

    پہلے نمبر پر نیب لاہور کی کارکردگی دیکھنے میں آئی۔ نیب لاہور میں کم و بیش 1 لاکھ افراد کوتحقیقاے کیلئے نیب لاہور طلب کیا گیا جس میں سے دوران تحقیقات 859ملزمان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوئے جن پر عملدرآمد کیا گیا۔ ہائوسنگ سیکٹر میں نیب لاہور کی ریکوری میں 700 فیصد اضافہ ہوا، مجموعی طور پر کرپشن کیسز میں ریکوری 500 گناہ بڑھ گئی،17 سالوں کے دوران نیب لاہور کی ہائوسنگ سیکٹر میں ریکوری 45 کروڑ رہی اور 2017 سے تاحال 3 سالوں کے دوران 3 ارب 61کروڑ کی ریکوری کی گئی، سب سے زیادہ ریکوری 2019میں دیکھنے میں آئی، نیب لاہور کے قیام سے 2016 تک بیورو کی جانب سے مجموعی ریکوری سالانہ اوسطا65 کروڑ رہی جبکہ 2017 سے تاحال سالانا اوسط ریکوری 3 ارب 89 کروڑ تک پہنچ گئی ۔ اسی طرح ہائوسنگ سیکٹر ریفرنسز میں ریفرنسز کی صورت میں 16 سالوں کے دوران مجموعی طور پر 76 ارب مالیت کے ریفرنس احتساب عدالتوں میں دائر کئے گئے تاہم ڈی جی نیب لاہور کی سربراہی میں 3 سالوں میں ہی 46 ارب مالیت پر مشتمل ریفرنس دائر کئے جا چکے ہیں، ہائوسنگ سیکٹر میں دائر ریفرنسز کی مالیت میں 265% اضافہ دیکھنے میں رہا، ہائوسنگ سیکٹر ان ڈائریکٹ ریکوری 1999 سے 2016 تک محض 251ملین کی ان ڈائریکٹ ریکوری شمار ہوئی اسکے برمقابل 2017 سے تاحال 53 ارب کی ان ڈائریکٹ ریکوری کی گئی ہے ، ان ڈائریکٹ۔ریکوری کی مد میں17 ہزار گنا اضافہ رہاہے ، ہائوسنگ سیکٹر پلی بارگین میں ملزمان سے پلی بارگین کی مد میں 17 سالوں کے دوران صرف 350 ملین کی وصولی رہی، 2017 سے ابتک نیب لاہور 6 ارب 42 کروڑ کی بلین بارگین کر چکا ہے جو کہ ریکارڈ اضافہ ہے ، ہائوسنگ کیسز میں ہونیوالی پلی بارگین میں گزشتہ 3 سالوں کا مجموعی اضافہ 10 ہزار گنا رہا ہے ، ہائوسنگ سیکٹر ریکوری میں نیب لاہور ماضی کے 17 سالوں کی ہائوسنگ سے متعلقہ ریکوری 76 ارب کے مقابلے میں صرف 3 سالوں کے دوران 108 ارب کی مزید ریکوری ممکن بنا رہا ہے ، اس دوران صرف ہائوسنگ سیکٹر میں 54 ہزار متاثرین کو مکانات و پلاٹوں کے مالکانہ حقوق واپس دلوانا بھی نیب لاہور کے افسران کی انتھک محنت کا ضامن ہے ، نیب نے ایک نہیں متعدد شخصیات کے خلاف ایکشن لیا، یہاں تک کے شریف خاندان کے خلاف جہاں ریفرنسز فائل کئے وہاں ٹھوس شواہد عوام کے سامنے بھی آئے ،کہاں ٹی ٹی کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی تو کہاں منصوبوں میں من پسند افراد کو نوازنے کے الزامات بھی سامنے آئے ۔

    سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف جاری تحقیقات میں نیب لاہور نے 50کروڑ روپے کی رقم ملزم کے بینک اکاؤنٹس سے برآمد کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے حوالے کی۔ گلبرگ میں کروڑوں روپے مالیت کا چار(4) کنال پر محیط گھر بھی حکومت پنجاب کے حوالے کیا جارہا ہے جسے فروخت کرکے وصول ہونے والی مکمل رقم قومی خزانے میں جمع کروائی جائیگی۔ پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کے سابق چیف فائنینشل آفیسر اکرام نوید سے نیب لاہور نے 1ارب مالیت کی جائیدادیں برآمد کروا کر حکومت پنجاب اور ایرا حکام کے حوالے کیں۔ نیب لاہور کی جانب سے ڈبل شاہ کیس میں ملزمان سے اربوں روپے کی تاریخی وصولی اور ہزاروں متاثرین میں برآمد کی گئی۔نیب لاہور نے ڈبل شاہ کیس کے متاثرین میں 19کروڑ35لاکھ روپے اور دوساری مرتبہ 36کروڑ روپے تقسیم کئے ۔ مجموعی طور پر نیب لاہور نے ڈبل شاہ کیس میں ہزاروں متاثرین کوایک ارب روپے کی خطیر رقم ملزمان سے برآمد کروا کر تقسیم کی جا چکی ہے ۔

    ہاؤسنگ سیکٹر کے مقدمات میں پیش رفت ہوئی گذشتہ دو سالوں کے دوران نیب لاہور نے ہاؤسنگ سیکٹر کے 54,000 متاثرین کو انکے حقوق واپس دلوائے غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے کیسز میں گذشتہ دو سالوں کے دوران نیب لاہور نے 26ارب مالیت پر مشتمل 14بدعنوانی کے ریفرنسز معزز احتساب عدالتوں میں دائر کئے ہیں جبکہ نیب لاہور نے مجموعی طور پر دو سالوں کے دوران 31ارب روپے کی خطیر رقم ملزمان سے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کروائی۔

    نیب میں میگا کرپشن کے مقدمات جن میں شریف خاندان سے متعلق جہاں ایکشن لئے گئے جن میں سابق وزیر ِ اعلی پنجاب شہباز شریف،حمزہ شہباز، سلمان شہباز و دیگر کیخلاف مبینہ منی لانڈرنگ و آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی تحقیقات، چوہدری شوگر ملز کیس میں میاں نواز شریف، مریم نواز شریف، یوسف عباس اور عبدالعزیز کیخلاف مبینہ منی لانڈرنگ کی انکوائری، پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کیس میں ملزم اکرام نوید کیخلاف مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی تحقیقات اور سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کے داماد عمران علی یوسف کیخلاف تحقیقات، سابق وزیرِ خزا نہ ملزم اسحاق ڈار کیخلاف مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے کیس کی تحقیقات، سابق وزیرِ اعلی پنجاب میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف کیخلاف رائیونڈ روڈ کی توسیع میں مبینہ طور پر اختیارات کے غیر قانونی استعمال کیخلاف جاری تحقیقات، میاں محمد نواز شریف کیخلاف ایل ڈی اے پلاٹوں کی مبینہ غیر قانونی تقسیم کے کیس کی انکوائری کے علاوہ دیگر میگا کرپشن کیسز پر ایکشن لئے گئے ہیں۔ شریف خاندان کے خلاف جو نیب کی رپورٹ سامنے آئی اس میں بتایا گیا کہ نوازشریف نے یوسف عباس اور مریم نواز کی شراکت داری سے 410ملین روپے کی منی لانڈرنگ کی،ملزمان نے جعلی گیارہ ملین کے شیئرز غیر ملکی شخص نصیر عبداللہ کو منتقل کرنے کا دعویٰ کیا، غیر ملکی کو ٹرانسفر کئے جانیوالے شیئرز درحقیقت نوازشریف کو 2014میں واپس کر دئیے گئے تھے ، نیب رپورٹ کے مطابق چوہدری شوگر ملز اور شمیم شوگر ملز میں1992سے لیکر 2016تک 2ہزار ملین کی انوسٹمنٹ کی گئی،سابق وزیراعظم نوازشریف نے 1کروڑ 55 لاکھ 20ہزار ڈالر کا قرض شوگر ملز میں ظاہر کیا گیا، نوازشریف نے قرضہ 1992میں آف شور کمپنی سے لیا گیا تھا، رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ نوازشریف نے جس کمپنی سے قرض لیا اس آف شور کمپنی کا اصل مالک ظاہر نہیں کیاگیا،چوہدری شوگر مل کے آغاز کے لئے شریف فیملی نے اپنی ہی 9کمپنیوں سے قرض لیا،شریف فیملی نے 20کروڑ 95لاکھ کا قرض 9کمپنیوں سے لیا، چوہدری شوگر مل کے قیام کے لئے ایک کروڑ 53لاکھ ڈالر کا قرض بھی حاصل کیا گیا،نوازشریف 1992میں 43ملین شیئر کے مالک تھے ، نوازشریف کے پاس اتنے شیئر 1992میں کہاں سے آئے یہ نہیں بتایا گیا، نوازشریف کے جب آثاثے بڑھے اس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ ، وزیر خزانہ بھی رہے ۔ مریم نواز سے 3 غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے بھوائے گئے شئیرز کے متعلق پوچھا گیا اور ٹرانسفر ڈیڈ مانگی گئی ۔مریم نے کہا انکے پاس ٹرانسفر ڈیڈ نہیں ہے ، مریم نواز نے موقف بدلتے ہوئے کہا شاید یہ ٹرانسفر ڈیڈ پرانے ریکارڈ میں موجود ہوں۔چودھری شوگر مل کا بینک اکاونٹس منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے ۔عبدالعزیز عباس کے اکاونٹ میں 3 دنوں کے دوران 10 کروڑ کی خطیر رقم ٹرانسفر کی گئی،25 اکتوبر 2013 کو 2 ٹرانزیکشن کے زریعے 5 کروڑ کی رقم منتقل کی گئی، 23 اکتوبر 2013 کو ایک ہی دن میں 5 ٹرانزیکشن کے زریعے 5 کروڑ کی رقوم منتقل ہوئیں، مریم نواز اس رقم سے متعلق تسلی بخش جواب نہیں دے سکیں،مریم نواز نے کہا کہ انکی فیملی کے دوبئی میں موجود بزنس مینوں سے کاروباری مراسم ہیں، دوبئی کی کاروباری شخصیات سے بزنس کے سلسلہ میں لین دین چلتا رہتا تھا،جبکہ رپورٹ کے مطابق یوسف عباس کے اکاونٹ میں 1 سال کے دوران 33 کروڑ کی رقم منتقل ہوئی، یوسف عباس کو یہ خطیر رقم 2010،11 میں 10 ٹرانزیکشن کے زریعے منتقل ہوئیں، یوسف عباس نے دوران تفتیش لاعملی کا اظہار کرتے ہوئے کمپنی سیکرٹری سے مشاورت کے لیے ملاقات کا کہا،اوریوسف عباس نے کہا کہ کمپنی سیکرٹری سے مل کر اس رقم سے متعلق بتا سکتا ہو،مریم نواز اور یوسف عباس سے سیل ڈیڈ سمیت دیگر پوائنٹس پر تفتیش بھی کی گئی ہے ۔

    آصف علی زردار ی اور دیگر کے خلاف جعلی بینک اکاؤنٹس کیس سے متعلق مجموعی طور پر 26 انکوائریز اور انویسٹی گیشنز کی گئیں ہیں، نیب رپورٹ کے مطابق جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق انکوائریز سپریم کورٹ کے حکم پر شروع کی گئیں اور 5 انکوائریز اور 3 انویسٹی گیشنز میں آصف زرداری کا کردار سامنے آیا ہے ۔نیب رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری کے اب تک صرف ایک کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔ جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کا پسِ منظرکی طرف جائیں تو بہت انکشافات سامنے آتے ہیں یعنی منی لانڈنگ کیس 2015 میں پہلی دفعہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے اُس وقت اٹھایا گیا، جب مرکزی بینک کی جانب سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے ) کو مشکوک ترسیلات کی رپورٹ یعنی ایس ٹی آرز بھیجی گئیں۔ایف آئی اے نے ایک اکاؤنٹ سے مشکوک منتقلی کا مقدمہ درج کیا جس کے بعد کئی جعلی اکاؤنٹس سامنے آئے جن سے مشکوک منتقلیاں کی گئیں۔جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری اور اومنی گروپ کو جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے فوائد حاصل کرنے کا ذمہ دار قرار دیا اور ان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی تھی پھر انہیں نیب نے ایکشن لیتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا ، اس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے بھی تفتیش کی جارہی ہیں، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی تحریری طور پر جے آئی ٹی کو اپنا جواب بھیجا جب کہ اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید اور نجی بینک کے سربراہ حسین لوائی ایف آئی اے کی حراست میں ہیں۔نیب کو ملنے والی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ 29 مشکوک اکاؤنٹس کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ایک اکاؤنٹ جو اے ون انٹرنیشل کے نام سے موجود تھا جس کا مالک طارق سلطان نامی شخص کو ظاہر کیا گیا تھا، یہ اکاؤنٹ منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ 35 ارب کی مزید مشکوک منتقلی کی نشاندہی کی ہے ، جس سے مستفید ہونے والوں میں متحدہ عرب امارات کے نصیر عبداللہ لوطہ گروپ کے سربراہ، آصف علی زرداری اور ان کی بہن کا گروپ اور آصف زرداری کے قریبی دوست انور مجید شامل ہیں۔اور نصیر عبداللہ لوطہ چیئرمین سمٹ بینک کو دو ارب 49 کروڑ، انصاری شگر ملز جس کے مالک انور مجید اور علی کمال مجید ہیں کو سات کروڑ 37 لاکھ، اومنی پولیمرز پیکجز کے عبدالغنی مجید اور کمال مجید کو 50 لاکھ، پاک ایتھنول کے مصطفیٰ ذوالقرنین مجید اور عبدالغنی مجید کو ایک کروڑ 50 لاکھ، چمبڑ شگر ملز کے مالک انور مجید اور نمر مجید کو 20 کروڑ، ایگرو فارمز ٹھٹہ کے مالک انور مجید اور نازلی مجید کو 57 لاکھ، زرداری گروپ جس کے مالک آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور اور دیگر ہیں کو ایک کروڑ، پارتھی نون کے قابل خان نوری کو پانچ لاکھ، ایون انٹرنیشنل کو پانچ لاکھ 76 ہزار، لکی انٹرنیشنل کو دو کروڑ 72 لاکھ، لاجسٹک ٹریڈنگ کو 14 کروڑ 50 لاکھ، رائل انٹرنیشنل کو 28 کروڑ اور عمیر ایسوسی ایٹس کو 80 کروڑ کی منتقلی ہوئی۔ حسین لوائی پر 29 جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے میں معاونت کرنے کا الزام ہے ، جن کے ذریعے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری سمیت 13 کمپنیوں کو اربوں روپوں کی مشکوک منتقلی کی گئی ہے ۔ 29 مشکوک اکاؤنٹس کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ایک اکاؤنٹ جو اے ون انٹرنیشنل کے نام سے موجود تھا جس کا مالک طارق سلطان نامی شخص کو ظاہر کیا گیا تھا، یہ اکاؤنٹ منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا، اکاونٹ مالک طارق سلطان نے اس اکاونٹ سے لاتعلقی کا اظہار کیا، ان کے انکار کے بعد ہینڈ رائٹنگ اور دستخط کے حوالے سے موقف لیا گیا جس میں جعلی دستخط ثابت ہوئے ۔ایف آئی اے کے مطابق اے ون انٹرینشل کے مالک طارق سلطان نے انکشاف کیا کہ اس وقت کی آپریشنل مینیجر کرن امان نے جعلی اکاونٹ کی تصدیق کی لیکن اس وقت کی کارپوریٹ رلشن شپ افسر نورین سلطان اور دیگر افسران نے کوئی کارروائی نہیں کی باوجود اس کے اکاؤنٹس کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا تھا کہ اکاونٹ کا تعلق اومنی گروپ سے ہے ۔کرن امان نے انکشاف کیا کہ دستاویزات کارپوریٹ ڈیپارٹمنٹ کو بھیجے گئے جہاں طلحہ رضا، کارپوریٹ ہیڈ نے واپس بھیج دیے اور حسین لوائی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی ہدایت کے تحت اکاؤنٹ کھولا جائے ۔تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ 10 ماہ کے قلیل مدت میں ساڑھے چار ارب روپے اس اکاؤنٹ میں جمع ہوئے اور دیگر اکاؤنٹس میں ان کی منتقلی کی گئی۔یہ رقم جمع کرانے والوں میں سجاول ایگرو فارمز پرائیوٹ لمیٹیڈ (50 کروڑ 50 لاکھ)، ٹنڈو الہ یار شگرملز (23کروڑ 84 لاکھ )، اومنی پرائیوٹ لمیٹیڈ (5 کروڑ)، ایگرو فارمز ٹھٹہ (ایک کروڑ 70 لاکھ)، الفا ژولو کو پرائیوٹ لمیٹیڈ( 2 کروڑ 25 لاکھ)، حاجی مرید اکبر بینکر( 2 کروڑ)، شیر محمد مغیری اینڈ کو کانٹریکٹر (5 کروڑ)، سردار محمد اشرف ڈی بلوچ پرائیوٹ لمیٹیڈ کانٹریکٹر( 10 کروڑ)، ایون انٹرنیشنل (18 کروڑ 45 لاکھ)، لکی انٹرنیشنل (30 کروڑ 50 لاکھ)، لاجسٹک ٹریڈنگ (14 کروڑ 50 لاکھ)، اقبال میٹلز (15 کروڑ 63 لاکھ)، رائل انٹرنیشنل (18 کروڑ 50 لاکھ)، عمیر ایسو سی ایٹس (58 کروڑ 12 لاکھ) اور دیگر شامل تھے ۔ رپورٹ میں 4 ارب 14 کروڑ کی مزید مشکوک منتقلی کی نشاندھی کی ہے ، جس سے مستفید ہونے والوں میں متحدہ عرب امارات کے نصیر عبداللہ لوطہ گروپ کے سربراہ، آصف علی زرداری اور ان کی بہن کا گروپ اور آصف زرداری کے قریبی دوست انور مجید شامل ہیں۔یہ بھی الزام عائد ہوا کہ نصیر عبداللہ لوطہ چیئرمین سمٹ بینک کو دو ارب 49 کروڑ، انصاری شگر ملز جس کے مالک انور مجید اور علی کمال مجید ہیں کو 7 کروڑ 37 لاکھ، اومنی پولیمرز پیکجز کے عبدالغنی مجید اور کمال مجید کو 50 لاکھ، پاک اتھنول کے مصطفیٰ ذوالقرنین مجید اور عبدالغنی مجید کو ایک کروڑ 50 لاکھ، چمبڑ شگر ملز کے مالک انور مجید اور نمر مجید کو 20 کروڑ، ایگرو فارمز ٹھٹہ کے مالک انور مجید اور نازلی مجید کو 57 لاکھ، زرداری گروپ جس کے مالک آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور اور دیگر ہیں کو ایک کروڑ، پارتھی نون کے قابل خان نوری کو پانچ لاکھ، ایون انٹرنیشنل کو پانچ لاکھ 76 ہزار، لکی انٹرنیشنل کو دو کروڑ 72 لاکھ، لاجسٹک ٹریڈنگ کو 14 کروڑ 50 لاکھ، رائل انٹرنیشنل کو 28 کروڑ اور عمیر ایسو سی ایٹس کو 80 کروڑ کی منتقلی ہوئی۔ایک سرکاری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ جعلی اکاؤنٹس کھولنا اور غیر قانونی رقومات جمع کرانا اور مختلف اکاؤنٹس میں مشکوک انداز میں منتقلی، پاکستان اسٹیٹ بینک کی قوانین کے مطابق منی لانڈنگ کے زمرے میں آتی ہے ۔نصیر عبداللہ لوطہ چیئرمین سمٹ بینک جو پاکستان سے باہر ہیں، حسین لوائی جو اس وقت سمٹ بینک کے صدر اور موجودہ وقت وائس چیئرمین ہیں نے مرکزی کردار ادا کیا۔اورانور مجید، عبدالغنی مجید اور ان کے اومنی گروپس کی مختلف کمپنیوں نے جعلی اکاونٹس کھولے اور طحہ رضا اور حسین لوائی کے ذریعے اربوں رپوں کی ہیرا پھیری کی۔ تمام فریقین کو سمن جاری کر کے انفرادی اور کمپنیوں کو رقومات کی منتقلی اور وصولی کے حوالے سے موقف پیش کرنے کی ہدایت جاری کی لیکن کوئی بھی حاضر نہیں ہوا۔ملزم انور مجید ولد عبدالمجید، عبدلغنی مجید والد انور مجید، اسلم مسعود ولد مسعود اللہ ملک، محمد عارف خان، بینک افسران نورین سلطان، کرن امان، عدیل شاہ رشیدی، طلحہ ولد نقی رضا، حسین لوائی ولد حاجی موسیٰ اور نصیر عبداللہ چیئرمین سمٹ بینک پر منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا،اورانور مجید پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ہیں، ڈاکٹر عاصم حسین کے بعد تحقیقاتی اداروں نے ان کا گھیراؤ تنگ کیا تھا، جبکہ گزشتہ سال سندھ میں گنے کے کاشتکاروں اور شگر ملزمالکان میں کشیدگی کے وقت بھی انور مجید کا نام سامنے آیا تھا، سندھ میں شگر ملز کی اکثریت کے مالک انور مجید ہیں جبکہ آصف علی زرداری کا گروپ بھی بعض ملز کا مالک ہے ، کاشتکاروں کا الزام تھا کہ حکومت ملز مان کو فائدہ پہنچا رہی ہے ۔ حکومت سندھ نے جب بیمار صنعتوں کو مالی مرعات فراہم کی تو پچاس فیصد صنعتیں انور مجید کی تھیں۔تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع ہوتا گیا تو مزید 33 مشکوک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا ہے جن سے اربوں روپے بیرون ممالک منتقل کیے گئے ۔اب تک کی تحقیقات میں 335سے زائد ملوث افراد سامنے آئے ہیں اور تمام افراد ان اکاؤنٹس میں ترسیلات کرتے رہے ۔ان کے جعلی اکاؤنٹس کے ساتھ 210 کمپنیوں کے روابط رکھے گئے ہیں۔ جبکہ 47 ایسی کمپنیوں کا سراغ لگایا گیا ہے جن کا براہ راست تعلق اومنی گروپ سے ہے ۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے بتایا کہ یہ ساڑھے 4 ارب روپے کی ٹرانزیکشن کا معاملہ ہے ، اس حوالے سے تمام فہرست مہیا کر دی گئی ہے کہ کتنی رقم اکاؤنٹ میں آئی اور کتنی استعمال ہوئی۔ اے ون انٹرنیشنل اور عمیر ایسوسی ایٹس سے اربوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی، ان اکاؤنٹس کے ساتھ زرداری گروپ اور پارتھینون کمپنیوں کی ٹرانزیکشن ہوئی۔’نیب کے مطابق ایف آئی اے نے حسین لوائی اور ان کے ساتھی طلحہ رضا کو گذشتہ برس گرفتار کیا۔ ان پر 29 جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے میں معاونت کرنے کا الزام ہے ، جن کے ذریعے مبینہ طور پر آصف زرداری سمیت 13 کمپنیوں کو اربوں روپوں کی مشکوک منتقلی کی گئی۔ آئی پی پیزسے متعلقہ 300 ارب کی مبینہ کرپشن کیس میں 8 ارب مالیت کی مبینہ کرپشن کے الزام میں سابق ڈی جی نیپرا ملزم سید انصاف احمد گرفتار کیا گیا، ملزم سید انصاف احمد نے دانستہ بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے۔ نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ (IPP) سے ٹھیکہ جات میں بجلی نرخ انتہائی مہنگے داموں مقرر کئے جو حکومتی خزانے کو 8 ارب کے نقصان کا موجب بنا تھا، نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ کیجانب سے 2010میں 200 میگا واٹ پر مشتمل پاور پلانٹ کی تنصیب کی گئی تھی۔

    چیئر مین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب نے کسی کا فیس نہیں بلکہ کیس دیکھ کر اپنی تحقیقات کا قانون اور شواہد کی بنیاد پر آغاز کرتا ہے ۔ جن کیسز میں شہادتیں موجود ہیں وہاں ٹھوس اورمضبوط کیس بنائیں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ نیب کے افسران ٹیم ورک کے تحت کام کریں یوں کہ نیب میں کیس کی تحقیقات کیلئے کمبائینڈ انوسیٹی گیشن ٹیم(CIT) کے نظام کو اسی لئے متعارف کروایا گیاہے۔ جسٹس (ر)جاوید اقبال نے نیب افسران سے کہا کہ وہ کسی بھی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر اپنے فرائض آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سر انجام دیں۔ انہوں نے تحقیقاتی افسران کو ہدایت کی کہ تمام مقدمات کو ٹھوس شواہد اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مکمل کیا جائے ہر شخص کی عزت ِ نفس کا خیال کیا جائے ۔ فرائض کی انجام دہی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ نیب نے 71ارب کی خطیر رقم قومی خزانے میں جمع کروائی ۔

    بشکریہ روزنامہ دنیا.

  • پیراگون ہاوسنگ سوسائٹی سکینڈل کیس، خواجہ سعد رفیق کی عدم پیشی، ریمانڈ میں ہوئی توسیع

    پیراگون ہاوسنگ سوسائٹی سکینڈل کیس، خواجہ سعد رفیق کی عدم پیشی، ریمانڈ میں ہوئی توسیع

    پیراگون ہاوسنگ سوسائٹی سکینڈل کیس، خواجہ سعد رفیق کی عدم پیشی، ریمانڈ میں ہوئی توسیع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیراگون ہاوسنگ سوسائٹی سکینڈل کیس کی سماعت لاہور کی احتساب عدالت میں ہوئی، جیل حکام نے خواجہ سلیمان کو احتساب عدالت میں پیش کردیا، خواجہ سعد رفیق اسلام آباد اسمبلی کے اجلاس میں مصروف ہونے کے باعث پیش نہ ہوئے۔

    احتساب عدالت نے پیراگون ہاوسنگ سوسائٹی سکینڈل میں ن لیگی رہنماوں خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کے جوڈیشل ریمانڈ میں 24 جنوری تک توسیع کر دی۔

    عدالت نے پیراگون سوسائٹی کے سابق ڈٓائریکٹر قیصر امین بٹ کے خواجہ برادران سے متعلق بیان کی کاپی فراہم کرنے کی ہدایت کی، اور وکلائے فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے خواجہ برادران کے جوڈیشل ریمانڈ میں 24 جنوری  تک توسیع کر دی۔

    آپ نے بحث مکمل کرنی ہے یا باہر جانا ہے؟ عدالت کے استفسار پر خواجہ سعد رفیق نے کیا کہا؟

    لاہور کی احتساب عدالت نے 4 ستمبر کو مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کے خلاف پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی میں بے ضابطگیوں پر دائر ریفرنس میں فرد جرم عائد کی تھی۔ خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق نے صحت جرم سے انکار کیا تھا۔

    میں ملنے گئی تو زرداری وہیل چیئر سے اٹھے، پولیس نے کہا دفعہ ہو جاؤ، آصفہ بھٹو

    آصف زرداری کا طبی معائنہ، کونسی بیماری اور ڈاکٹر نے کیا تجویز کیاِ؟

    واضح رہے کہ 11 دسمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کی عبوری ضمانت خارج کردی تھی، جس کے بعد نیب نے دونوں بھائیوں کو حراست میں لے لیا تھا۔ خواجہ برادران کو پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار کیا گیا

  • ملک بھر میں‌ بارش، بچے سکول نہ جا سکے، چھتیں گرنے کے واقعات، 3 افراد جاں  بحق

    ملک بھر میں‌ بارش، بچے سکول نہ جا سکے، چھتیں گرنے کے واقعات، 3 افراد جاں بحق

    ملک بھر میں‌ بارش، بچے سکول نہ جا سکے، چھتیں گرنے کے واقعات، 3 افراد جاں بحق
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر کے مختلف شہروں میں بارش سے سردی میں اضافہ ہو گیا، دوسری جانب برفباری سے بلوچستان میں 10 افراد جاں بحق، سکھر میں مکان کی چھت گرنے سے سے 7 افراد زخمی، جھنگ میں مکان کی چھت گرنے سے 3 افراد جاں بحق ہو گئے.

    پنجاب کے دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں بادل خوب گرجے برسے جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔ کہیں بوندا باندی تو کہیں تیز بارش، لاہور میں صبح کے وقت کالی بدلیاں چھائیں اور پھر چھما چھم برسات ہوئی۔ گڑھی شاہو، دھرم پورہ، ایئر پورٹ، گلبرگ، فیروز پور روڈ ، جوہر ٹاؤن سمیت شہر کے مختلف حصوں میں بھی تیز بارش ہوئی جس سے خنکی میں اضافہ ہو گیا۔

    بارش کے باعث سکولوں کی تعطیلات ختم ہونے کے باوجود سکولوں میں حاضری کم رہی، بارش کی وجہ سے بچے سکول نہ جا سکے،

    سندھ میں بھی بارش کی وجہ سے سردی میں اضافہ ہوگیا،کراچی ، جیکب آباد، سکھر سمیت سندھ میں بارش سے جاتی سردی پھر لوٹ آئی۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھی بارش کی جھڑی کل تک وقفے وقفے سے جاری رہے گی جبکہ پہاڑوں پر مزید برفباری کا بھی امکان ہے۔

    فیصل آباد، قصور، چکوال، ننکانہ صاحب، شکر گڑھ، سرگودھا، جھنگ، خانیوال، ہارون آباد، رحیم یار خان، خان پور، اوچ شریف سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں ابر کرم خوب برسا جس سے جاتی سردی پھر لوٹ آئی۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق پشین میں بارش اور برفباری کے باعث ایک گھر کی چھت گرنےسے 3 افراد جاں بحق اور ایک خاتون سمیت 3 بچے زخمی ہوئے، جن کو ریسکیو کرکے ڈی ایچ کیو منتقل کیا گیا جہاں زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ژوب کے کلی شہابزئی میں برفباری کے باعث مکان کی چھت گرنے ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 3 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں۔ لاشوں کو سول ہسپتال ژوب منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں بجلی کا کرنٹ لگنے سے ایک خاتون جاں بحق ہوئی ہے۔ پی ڈی ایم اے کا کہناہے کہ صوبے کے تمام اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز اور دیگر اداروں کو کسی بھی ہنگامی صورت سے نمٹنے کے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    پنجاب کے ضلع جھنگ میں مکان نکی چھت گرنے سے 3 افراد جاں بحق ہو گئے ، جاں بحق ہونے والوں میں بچہ بھی شامل ہے،

    بلوچستان کے علاقے قلعہ عبداللہ میں برفباری سے نظام زندگی متاثر ہے۔ شہر کا زمینی رابطہ دیگر علاقوں سے مکمل طور پر منقطع جبکہ بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہے۔ کئی فٹ برف پڑنے سے کوئٹہ چمن شاہراہ بھی بند پڑی ہے۔ بین الاقوامی شاہراہ بھی ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند ہے جس سے افغان ٹریڈ ٹرانزٹ سمیت تمام ٹرانسپورٹ معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ اس صورتحال کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کوئی انتظامات نہیں کئے گئے۔

    حکومت بلوچستان شدید ترین برفباری کے پیش نظر صوبے میں سنو ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس کا نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ ایمرجنسی زیارت، پشین، قلعہ عبداللہ، کچھی، کولپور اور ہرنائی سمیت دیگر متاثرہ علاقوں میں نافذ کی گئی ہے۔

    ادھر بولان، بھاگ ناڑی، ڈھاڈر، بالا ناڑی اور گردونواح میں صبح سے وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو چکا ہے۔ بارش کے باعث فیڈر ٹرپ کرنے سے کئی علاقوں کی بجلی غائب ہے۔ اس صورتحال میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    مچھ اور کولپور میں شدید برف باری سے راستے بند ہو چکے ہیں جنھیں انتظامیہ بحال کرنے میں مصروف ہے۔ راستے بند ہونے سے کئی گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔

    سبی اور گردونواح میں بارش کا نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔ انتظامیہ نے اس صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے صوبے میں شدید برفباری اور اس ہونے والے نقصان کا جائزہ لینے کیلئے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کا دورہ کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    ملک کے بالائی علاقوں کی بات کی جائے تو وہاں برفباری کے باعث نظام زندگی مفلوج ہے۔ ہنزہ کا شاہراہ قراقرم اور بالائی علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔ گلگت میں بھی رابطہ سڑکیں بند ہیں، جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سکردو میں بھی زندگی کا پہیہ جام ہے۔ شہری گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ ٹریفک بھی معطل ہے۔

    سندھ کے علاقے سکھر میں بوسیدہ مکان کی چھت گرنے سے بچی جاں بحق، خواتین اور بچوں سمیت 7 افراد زخمی ہو گئے، لاش اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ حادثہ نیو پنڈ کے علاقے میں پیش آیا، لاش اور زخمیوں کو ملبے سے نکال کر ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔

  • لاہور بارایسویسی ایشن کے نومتختب عہدیداروں کوبلاول بھٹوکی مبارکباد،ساتھ ایک خواہش کا اظہاربھی کردیا

    لاہور بارایسویسی ایشن کے نومتختب عہدیداروں کوبلاول بھٹوکی مبارکباد،ساتھ ایک خواہش کا اظہاربھی کردیا

    لاہور:لاہوربارایسوسی ایشن کے نومتختب عہدیداروں کوبلاول بھٹوکی طرف سے مبارکباد،اطلاعات کےمطابق پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے لاہور بار ایسوسئیشن کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباددی گئی ہے اوران سے حکومت کے خلاف جدوجہد میں تعاون کی خواہش کا اظہاربھی کیاگیا ہے

    باغی ٹی وی کےمطابق پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو نے نومنتخب صدر جی اے طارق خان سمیت تمام عہدیداران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وکلاء برادری ملک میں قانون و آئین کی بالادستی کے لیئے اٹھ کھڑی ہو

    بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ملک میں قانون کی حکمرانی اور پارلیمانی نظامِ جمہوریت کے لیئے جدوجہد کی ہے،پیپلز پارٹی اور وکلاء برادری کا اتحاد ملک میں غیرقانونی و غیر آئینی اقدام کے خلاف آہنی دہوار بن کر کھڑا ہوگا

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مجھے یقین ہے، ایشیا کی سب سے بڑی بار ایسوسئیشن ملک میں آئین پسندی اور جمہوریت کے لیئے اپنا کردار نبھائے گی

  • ارشد انصاری سے ہتک آمیزرویہ ناقابل برداشت عمل ھے۔پاکستان گروپ آف جرنلسٹس

    ارشد انصاری سے ہتک آمیزرویہ ناقابل برداشت عمل ھے۔پاکستان گروپ آف جرنلسٹس

    حافظ آباد۔ ٹریفک وارڈن کا سینئیر صحافی و صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری سے ہتک آمیزرویہ ناقابل برداشت عمل ھے۔صحافیوں کے ساتھ جو رویہ اختیارکیا جارہاہے وہ ملک و قوم کے لیے اچھا شگون نہیں ہے، ان خیالات کا اظہارسیدظہیر عباس شاہ ضلعی صدر پاکستان گروپ آف جرنلسٹس نے صدرپریس کلب لاہورارشد انصاری کے خلاف ٹریفک وارڈنز کی طرف سے بدتمیزی پرکیا ہے

    باغی ٹی وی کےمطابق سید ظہر عباس شاہ نے ارشد انصاری کے ساتھ ٹریفک وارڈنزکیطرف سے غیرمناسب رویے پرکہاکہ ٹریفک وارڈن کے رویہ کی آل پاکستان گروپ آف جرنلسٹس بھرپورمذمت کرتی ہے۔سید ظہیرعباس شاہ نے کہاکہ اس سے پہلے پاکستان کے معروف صحافی سنیئراینکرمبشرلقمان کے ساتھ فواد چوہدری کی طرف سے جوبدتمیزی اوربدمعاشی کی گی ابھی اس کے زخم تازہ ہیں‌

    باغی ٹی وی کےمطابق ضعلی صدرپاکستان گروپ آف جرنلسٹس نے کہا کہ ہےکہ غنڈہ گردی اور معززشہریوں سے بدتمیزی کرنے والے ٹریفک وارڈن معاشرے کا ناسورہیں۔۔صدرلاہور پریس کلب کی صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے خدمات ناقابل فراموش اور قابل تعریف ہیں،غنڈہ گردی کرنے والے وارڈنز کو سلاخوں کے پیچھے نہ دھکیللا گیا تو ملک بھر میں احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں.