Baaghi TV

Category: لاہور

  • میڈیا ملازمین کی تنخواہیں اشتہارات سے مشروط ، غریب ورکروں کوان کا حق لے کردیں‌گے ، فیاض الحسن چوہان کا دبنگ اعلان

    میڈیا ملازمین کی تنخواہیں اشتہارات سے مشروط ، غریب ورکروں کوان کا حق لے کردیں‌گے ، فیاض الحسن چوہان کا دبنگ اعلان

    لاہور: میڈیا ملازمین کی تنخواہیں اشتہارات سے مشروط کر نیکا فیصلہ کرلیا ہے ، غریب ورکروں کوان کا حق لے کردیں‌گے ، اطلاعات کےمطابق وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ حکومت نے پرنٹ و الیکٹرانک اداروں کے اشتہارات کو تنخواہوں کی ادائیگی سے مشروط کرنیکا فیصلہ کر لیا اور جلد اس پر عملدرآمد شروع ہو جائیگا ۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پریس کلب لاہور کے عہدیداروں ںسینئر نائب صدر رائے حسنین طاہر ،ممبران گورننگ باڈی امجد فاروق کلو ، حسنین چوہدری ، محی الدین کے علاوہ چیئرمین رائیٹرز گروپ زاہد شفیق طیب،چیئرمین ورکرز گروپ احسن ضیائ،ترجمان شیر افضل بٹ ، سابق پی یوجے صدر وسیم فاروق شاہد، رانا شہزاد ، محبوب چوہدری ،مرزا اعجاز ،بابر شاہ،طارق شاہد ستی ،ظہیر شیخ ،قیصر مغل،سعید احمد ورک و دیگرسے ملاقات کی ،

    ذرائع کےمطابق پریس کلب کے عہدیداروں کے ساتھ ملاقات میں فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت صحافی برادری کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور ا ن کے حل کےلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔

    اس موقع پر سینئر نائب صدر لاہور پریس کلب رائے حسنین طاہر نے بی بلاک کے ممبران کو متبادل پلاٹوں کی فراہمی،فیز ٹو کیلئے جگہ کی نشاندہی ، ایف بلاک کے پلاٹس کی قسط 18ہزار سے کم کر کے5ہزار روپے او رفوت شدگان صحافیوں کی اقساط معاف کرنے کے علاوہ ترقیاتی کام 2020ءمیں ہی مکمل کرنے کے حوالے سے مطالبات پیش کئے جن کے حل کےلئے وزیر اطلاعات پنجاب نے یقین دہانی بھی کروائی

  • بچوں سے زیادتی کے مجرموں کوسرعام سزائے موت ،علامہ ساجد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ سب حیران

    بچوں سے زیادتی کے مجرموں کوسرعام سزائے موت ،علامہ ساجد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ سب حیران

    بچوں سے زیادتی کے مجرموں کوسرعام سزائے موت ،علامہ ساجد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ سب حیران
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ ساجد میر نے کہا ہے کہ سرعام پھانسی کی سزا عین اسلامی ہے،لبرل اور لا دین طبقات کی طرف سے مخالفت افسوس ناک ہے،

    مرکز راوی روڈ میں علماء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر ساجد میر کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے سونامی نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں،غریب آدمی کا چولہا بجھ گیا،ملک میں مہنگائی کی شرح 14.6 فیصد تک پہنچ گئی،چینی اور آٹا مہنگا کر کے اربوں روپے کمانے والے حکومتی صفوں میں بیٹھے ہیں لیکن اِنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں،اشرافیہ کے ٹیکس نہ دینے کا غصہ عام آدمی پرنکالاجارہا ہے،

    ساجد میر کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن کی تقسیم کا فائدہ حکومت کوہے،عوام پس رہی ہے،عام آدمی کی نمائندگی کون کرے گا؟ مولانا فضل الرحمن کے اپوزیشن جماعتوں سے گلے شکوے درست ہیں، حکومت کے لیے ایک موثر تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت ہوا، اسمبلی اجلاس میں بچوں سے زیادتی کرنے والے مجرموں کو پھانسی دینے کی قرار داد منظور کر لی گئی.

    قومی اسمبلی میں وزیر مملکت علی محمد خان کی جانب سے بچوں سے زیادتی کے حوالے سے قرارداد پیش کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو پھانسی دی جائے۔ ایوان نے قرار داد منظور کر لی تا ہم اپوزیشن کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی نے مخالفت کی.

    قرارداد کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے علی محمد خان کا کہنا تھا کہ آج اس قرارداد کو پیش کرنے میں اللہ تعالیٰ نے مدد کی ہے،اللہ تعالیٰ چاہتا کہ ہے کہ ہم اس ملک کو قرآن اور سنت کے مطابق چلائیں، زینب الرٹ بل پیش ہوا تو قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے سزائے موت کی مخالفت کی، اس کمیٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو ہیں ۔حکومت اب بھی بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو سزائے موت کا قانون بنانا چاہتی ہے۔

    علی محمد خان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان بھی بچوں سے زیادتی کے مجرموں کی سزائے موت چاہتے ہیں۔

    قرارداد کی مخالفت پیپلز پارٹی کی جانب سے سامنے آئی۔ اس حوالے سے تاثرات کااظہار کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کر چکا ہے ۔ دنیا اس فیصلے کو قبول نہیں کرے گی

    زینب الرٹ بل، کم عمر بچوں سے زیادتی اور قتل کے جرم پر سزائے موت ختم کر دی گئی،بل میں 18سال سے کم عمربچوں سے زیادتی اور قتل کے مجرم کے لیے 10سے 14 سال قید تجویز کی گئی ہے.اس سے قبل پیش ہونے والے بل میں بچوں سے زیادتی اور قتل پر سزائے موت تجویز کی گئی تھی،بل میں مجرم پر ایک سے 2 کروڑ روپے جرمانہ کی سزا بھی تجویز کی گئی.

    احسن اقبال کو نیب نے کیوں گرفتار کیا؟ ایسی وجہ سامنے آئی کہ ن لیگ حیران رہ گئی

    احسن اقبال کی گرفتاری، مریم اورنگزیب چیئرمین نیب پر برس پڑیں کہا جو "کرنا” ہے کر لو

    نیب نے مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کو گرفتار کر لیا، اس حوالہ سے نیب نے اعلامیہ جاری کر دیا ہے،

    نواز شریف کے قریبی دوست میاں منشا کی کمپنی کو نوازنے پر نیب کی تحقیقات کا آغاز

    نواز شریف سے جیل میں نیب نے کتنے گھنٹے تحقیقات کی؟

    تحریک انصاف کا یوٹرن، نواز شریف کے قریبی ساتھی جو نیب ریڈار پر ہے بڑا عہدہ دے دیا

    قائمہ کمیٹی انسانی حقوق نے قتل اورزیادتی کے مجرموں کے لیے 10سے14سال قید کی سزا تجویز کی،قائمہ کمیٹی کی رپورٹ میں جرمانہ کی سزا بھی ختم کردی گئی.

    بلاول بھٹو کی سربراہی میں قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے زینب الرٹ بل کو کافی عرصے تک طول دیا ,قائمہ کمیٹی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے 9 اکتوبر 2019 کو ’زینب الرٹ بل‘ کی منظوری دے دی تھی۔ کمیٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ یہ بل صرف اسلام آباد میں لاگو ہوگا۔ اسے ملک بھر میں نافذ کرنے کیلئے چاروں صوبائی اسمبلیوں کو بھی ’زینب الرٹ بل‘ پاس کرنا چاہیے تاکہ بچوں کو محفوظ بنایا جا سکے،

    سر عام پھانسی کی قرارداد، پاکستان بار کونسل نے کیا بڑا اعلان

  • کاشانہ کیس، اہم گواہ اقرا کی موت کے بعد کس کو تحفظ دیا جائے؟ افشاں لطیف نے کیا بڑا مطالبہ

    کاشانہ کیس، اہم گواہ اقرا کی موت کے بعد کس کو تحفظ دیا جائے؟ افشاں لطیف نے کیا بڑا مطالبہ

    کاشانہ کیس، اہم گواہ اقرا کی موت کے بعد کس کو تحفظ دیا جائے؟ افشاں لطیف نے کیا بڑا مطالبہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کاشانہ کی سابقہ سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے کہا ہے کہ کاشانہ کیس کی اہم گواہ کی ہلاکت ہو چکی اب دیگر اہم ترین گواہوں کو سیکورٹی فراہم کی جائے

    سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں افشاں لطیف کا کہنا تھا کہ میں بالکل خیریت سے ہوں اور سوشل میڈیا پر میرے قتل کی خبریں درست نہیں ہیں،اقراء کائنات کی ایدھی سنٹر میں پراسرار ہلاکت اس کی نیک نامی پر سوالیہ نشان بن چکی ہے، اقراء کائنات کاشانہ میں بچیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی اہم گواہ تھی اس لئے اس پر اسرار ہلاکت کی تحقیقات کی جانی چاہئیں

    افشاں لطیف کا مزید کہنا تھا کہ ایدھی سنٹر کی انچارج معصومہ کی جانب سے اقرا ء کائنات کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا او ر اسے لا وارث قرار دے کر اس کی تدفین کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں۔ اگر میں یہ معاملہ سوشل میڈیا، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں نہ لاتی تو اب تک اقراء کائنات کو گمنامی کی حالت میں دفن کر دیا گیا ہوتا۔ اقراء کائنات کی پوسٹمارٹم رپورٹ آنا ابھی باقی ہے،

    افشاں لطیف کا مزید کہنا تھا کہ میری ایدھی سنٹر کی انتظامیہ سے اپیل ہے کہ انچارج معصومہ کو تحفظ دیا جائے کیونکہ وہ تمام واقعات کی گوا ہ ہے کہ اس نے کس کے کہنے پر اقراء کائنات کو ایدھی سنٹر میں لاوارث کے طور پر رکھا، کس کے کہنے پر ڈیتھ سر ٹیفکیٹ جاری کیا گیا اور کس کے کہنے پر اسے لاوارث قرار دے کر تدفین کرنے کی تیاریاں مکمل کی گئیں۔ میری ریاستی اداروں سے بھی اپیل ہے کہ کاشانہ سکینڈل کے تمام گواہوں کو تحفظ دیا جائے۔

    کاشانہ معاملہ، افشاں لطیف کا حکومت کے خلاف انتہائی اقدام

    کاشانہ کیس، ن لیگ بھی میدان میں آ گئی، عظمیٰ بخاری نے بڑا مطالبہ کر دیا

    کاشانہ کیس،اخلاقی کرپشن، عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ سامنے آ گیا

    یتیم بچوں کے لئے قائم ادارے کاشانہ کی سابقہ رہائشی اقرا کائنات کی پراسرار موت کا معاملہ، خاتون کی لاش کا پوسٹ مارٹم کروا لیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اقرا کے معدے کے نمونوں کو فرنزک لیب بھیجوایا جائے گا۔

    پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق اقرا کائنات کا شوہر اور سسرالیوں سے جھگڑا چل رہا تھا۔ اقرا شوہر عابد سے جھگڑا کر کے اپنی سہیلی کے پاس گئی تھی۔

    واضح رہے کاشانہ کی سابق سپرینٹنڈنٹ افشاں لطیف کا کہنا ہے کہ کائنات وہ بچی ہے جو بچپپن ہی سے فلاحی اداروں میں رہی اور اس سے غیر اخلاقی اور غیر مناسب کام بھی کروائے جاتے رہے تھے۔

    افشاں لطیف کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2 ماہ قبل خدشہ ظاہر کیا تھا کہ کائنات کو مار دیا جائے گا اور ایسا ہی ہوا۔

    نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق اقرا کا انتقال 5 فروری کو ہسپتال میں ہوا جس سے قبل اس کو تشویشناک حالت میں ایدھی سنٹر لایا گیا تھا۔پہلے ایدھی سینٹر کی جانب سے یہ کہا جا رہا تھا کہ اقرا کو لاوارث قرار دے کر دفنایا جائے گا جس پر افشاں لطیف نے مزاحمت کی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے بھی اقرا کا شوہر اس کا حال پوچھنے بہت بار آچکا ہے، تاہم ایدھی سینٹر نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے اور اقرا کو لاوارث لاش کے طور پر نہیں دفنایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ کاشانہ سکینڈل میں سابق صوبائی وزیر اجمل چیمہ کو کلین چٹ دے دی گئی ہے۔ کاشانہ سکینڈل میں انسپکشن ٹیم نے رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کردی گئی۔ رپورٹ کے مطابق کسی بچی سے زیادتی یا بچیوں کو کہیں بھجوانے کے ثبوت نہیں ملے ہیں۔چیئرمین سی ایم آئی ٹی ڈاکٹر راحیل احمد صدیقی کا کہنا ہے کہ سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کے سابق صوبائی وزیر پر لگائے گئے کئی الزامات کی تحقیقات کی لیکن الزامات درست ثابت نہیں ہوئے.

    اس قوم کے بخت سنورگئے جس نے درخت لگا ئے:افشاں لطیف

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں یتیم کمسن بچیوں کی شادی نہ کروانے کے جرم میں کاشانہ کی سپرینڈنٹ افشاں لطیف کو گرفتار کیا گیا تھا، گرفتاری کے وقت افشاں لطیف نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجھے شوہر سمیت گرفتار کیا جا رہا ہے۔مجھے نہیں معلوم اب مجھے کہا لے کر جایا جائے گا اب یہ بچیاں آپ سب کی ذمہ داری ہیں۔ بعد ازاں افشاں لطیف کو رہا کر دیا گیا

    کاشانہ کی بیٹیوں کی پرخلوص دعاﺅں نے وزیراعلیٰ پنجاب کوحادثہ سے بچالیا ،افشاں لطیف

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سوشل میڈیا پر کا شانہ کے بارے میں وائرل ہونے والی ویڈیوکے معاملہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے صوبائی سیکرٹری سوشل ویلفیئر سے رپورٹ طلب کر لی ہے-وزیراعلیٰ نے حکم دیاہے کہ معاملے کی ہر پہلو سے انکوائری کی جائے اور الزامات کی مکمل چھان بین کر کے حقائق منظر عام پر لائے جائیں -وزیراعلیٰ نے کہاکہ تحقیقات میں جو بھی قصوروار ہوا اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی- کاشانہ میں رہائش پذیر بچیو ں کومکمل تحفظ دیں گے اور میں بے آسرا بچیوں کے ساتھ ناروا سلوک کسی صورت برداشت نہیں کروں گا-

    کم عمر بچیوں کی شادی نہ کروانے پر کاشانہ کی سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟

    کاشانہ کیس،بات پارلیمنٹ تک پہنچ گئی، رحمان ملک نے بڑا حکم دے دیا

    قبل ازیں افشاں لطیف نے کاشانہ معاملے پر مدد کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے نام بھی ایک خط لکھا تھا جس میں اپنے متعلق سیکیورٹی تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا،خط میں انہوں نے لکھا کہ یتیم بچیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کو سامنے لانے کی سزا دی جارہی ہے اور مجھ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ سارے الزامات واپس لوں۔انہوں نے مزید لکھا کہ میری فیملی اور مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں لہٰذا فیملی اور مجھے تحفظ فراہم کیا جائے۔

    افشاں لطیف کے خدشات درست ثابت،کاشانہ اسکینڈل کے اہم راز جاننے والی اقرا کائنات کی پراسرار حالات میں موت

  • حکومت کی ناقص پالیسیوں کی بدولت ملک میں گندم کی مصنوعی قلت پیدا ہوئی ،رانا محمد ظفرطاہر

    حکومت کی ناقص پالیسیوں کی بدولت ملک میں گندم کی مصنوعی قلت پیدا ہوئی ،رانا محمد ظفرطاہر

    لاہور:آل پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی جنرل سیکرٹری رانامحمد ظفرطاہرنے کہاہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی بدولت ملک میں گندم کی مصنوعی قلت پیدا کی جارہی ہے اورگندم کی امپورٹ وایکسپورٹ سے کسانوںکابدترین معاشی استحصال کیا جارہاہے۔

    لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے مزید بتایاکہ حکومت کی غلط منصوبہ بندی کے باعث کسان اس وقت انتہائی معاشی مشکلات کا شکارہے ،پہلے گندم کی چارلاکھ ٹن مقدار ایکسپورٹ کردی گئی جس سے مصنوعی بحران پیداکیاگیا اور اب جب کے گندم کی فصلیں پک کر تیارکھڑی ہیں اور ان کی کٹائی کا عمل شروع ہونے والاہے تو باہرسے گندم امپورٹ کی جارہی ہے جس سے کسان کی فصل کوئی نہیں خریدے گا اور وہ شدید معاشی ومعاشرتی مسائل کا شکار ہوجائے گا۔

    ان کا کہناتھاکہ یہ تمام کارروائی سوچی سمجھی سکیم کے تحت کی جارہی ہے اس سے اگر کسان کو نقصان ہوگا تو ملک کی تمام انڈسٹریزکو بھی اس کاڈائیریکٹ نقصان ہوگا۔ انھوںنے کہاکہ اگر کسانوں کے ساتھ معاشی بدمعاشی بند نہ کی گئی تو کسان ملک گیر ہڑتال کریں گے اور حکمرانوں کا گھیراﺅ کریں گے۔انھوں نے صدر پاکستان ، وزیراعظم اور ملک کے تمام گورنرزاور وزراءاعلی سے اپیل کی ہے کہ خدارا اس سوچی سمجھی سازش کو سمجھا جائے اور فی الفور اس کا تدارک کیا جائے ۔

    پریس کانفرنس میں آل پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی چیئرمین ڈاکٹر محمد رانجھا،مرکزی صدر برگیڈیئر (ر) جاوید احمد، انفارمیشن سیکرٹری محمد رضوان رانا، صوبائی صدر پنجاب میاں یاسین سکھیرا، فنانس سیکرٹری میاں امجد محمود ، ضلعی صدر لاہور چوہدری سلطان محمود ، صوبائی صدر سندھ میر بہاول رند، صوبائی صدر بلوچستان سردار عبدالرشید ناصر، صوبائی صدر گلگت بلتستان حاجی محمد صابر، مینارٹی ونگ ہندوکمیونٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری نیتن کمہار اور ڈویژنل صدر چوہدری امتیازاحمد لاڑا موجود تھے۔

  • مشہور بدنام زمانہ ڈبل شاہ کا پاٹنر مفرور اشتہاری ملزم قلب حسین باوا گرفتار۔

    مشہور بدنام زمانہ ڈبل شاہ کا پاٹنر مفرور اشتہاری ملزم قلب حسین باوا گرفتار۔

    لاہور:مشہور بدنام زمانہ ڈبل شاہ کا پاٹنر مفرور اشتہاری ملزم قلب حسین باوا گرفتار۔اطلاعات کےمطابق لاہورانویسٹی گیشن پولیس اچھرہ کی بڑی کارروائی کرکے مشہور بدنام زمانہ ڈبل شاہ کا پاٹنراور 7سال سے مفرور اشتہاری ملزم قلب حسین باوا کو گرفتارکرلیا ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق بین الاضلاعی اشتہاری ملزم قلب حسین باوا چیک ڈس آنر کے متعدد مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا۔ملزم لاہور سمیت حافظ آباد، گوجرانوالہ، ناروال اور شیخوپورہ کے مختلف تھانوں میں فراڈ کے کیسز میں اشتہاری تھا۔ملزم قلب حسین باوا مشہور ڈبل شاہ کا ساتھی تھا اوراس کے ساتھ مل کر لوگوں کو ان کی رقوم سے محروم کرتا تھا۔

    ملزم MBAکی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کراچی کے مختلف بینکوں میں بطور مینجر کام کرتا رہا ہے۔انچارج انویسٹی گیشن پولیس اچھرہ سیدقمر عباس نے اپنی ٹیم کے ہمراہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اشتہاری ملزم کو گرفتارکیا۔ایس پی ماڈل ٹاؤن انویسٹی گیشن اسد مظفر کا اشتہاری ملزم کی گرفتاری پر پولیس ٹیم کے لیے تعریفی اسناد کا اعلان کردیا

  • سانحہ پی آئی سی، حسان نیازی سمیت دیگر کی ضمانت منسوخی کے لئے درخواست دائر

    سانحہ پی آئی سی، حسان نیازی سمیت دیگر کی ضمانت منسوخی کے لئے درخواست دائر

    سانحہ پی آئی سی، حسان نیازی سمیت دیگر کی ضمانت منسوخی کے لئے درخواست دائر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہورہائیکورٹ میں پی آئی سی حملہ کیس کے 8 ملزمان کی ضمانت منسوخی کے لیے رجوع کر لیا گیا،حکومت پنجاب نے حسان نیازی سمیت 8 ملزمان کی ضمانت منسوخی کےلیےاپیل دائر کردی

    زین عباس،علی جاوید،عبدالمجید،مزمل حسین،عابدناز،اسامہ معاذ اور نعیم قمر کی ضمانت منسوخی کی بھی اپیل دائر کی گئی ہے،حکومت پنجاب نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا کہ ملزمان نے 100 سے زائد وکلا کے ساتھ مل کر پی آئی سی پر حملہ کیا،وکلانے ڈنڈوں اور سوٹوں سے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور توڑ پھوڑ کی،عدالت نے حقائق کو نظر انداز کرکے ملزمان کی ضمانتیں منظور کیں،پی آئی سی پر حملے سے متعدد مریض جان سے گئے اور ان کا علاج متاثر ہوا، عدالت پی آئی سی حملے کے ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کرنے کا حکم دے،

    سانحہ پی آئی سی میں وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی بھی شامل تھے جن پر سوشل میڈیا پر طوفان اٹھنے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا اور انکی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے گئے تا ہم وہ روپوش ہو گئے اور بعد ازاں عدالت سے ضمانت کروا لی، ایک سماعت پر عدالت نے ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی تا ہم اگلی پیشی پر حسان نیازی نے خود پیش ہو کر عدالت سے معافی مانگ لی تھی

    قبل ازیں چند روز قبل پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی واقعے پر ڈاکٹرز اور وکلا کے درمیان صلح سی سی پی او لاہور کے اجلاس میں ہوئی۔ اجلاس میں وکلا کی نمائندگی سابق وی سی پنجاب بار شاہنواز گجر، لاہور بار کے صدر عاصم چیمہ اور لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر حفیظ الرحمن نے کی۔

    اجلاس میں پی آئی سی واقعہ میں ملوث ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی جاری رکھنے جبکہ آئندہ ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام پر بھی اتفاق کیا گیا۔ پی آئی سی میں مرنیوالوں کے یادگاری چبوترے پر لگی تختی سے وکلا کے خلاف لکھی تحریر ختم کرکے قرآنی آیت ‘’اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو’’ لکھا جائے گا۔

    سانحہ پی آئی سی، کتنے وکلاء پر مقدمات درج ہو گئے؟ اور کیا دفعات شامل کی گئیں؟ اہم خبر

    الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے،وکلاء کی ہڑتال،سائلین خوار،گرفتاریوں کے لئے ٹیمیں تشکیل

    سانحہ پی آئی سی، وزیراعلیٰ پنجاب عثما ن بزدار کی طلبی ہو گئی

    سانحہ پی آئی سی، نقصان کی ابتدائی رپورٹ جاری،کتنے کروڑ کا نقصان ہوا؟

    سانحہ پی آئی سی،وکلاء نے حملہ کیوں کیا؟ عدالت میں ایسا انکشاف سامنے آیا کہ جج بھی دنگ رہ گئے

    پی آئی سی میں توڑپھوڑکامعاملہ،پولیس کے ذمہ داروں کے تعین کیلیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی،آئی جی پنجاب نے پولیس کے ذمہ داروں کاتعین کرنے کیلیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی،کمیٹی پولیس کی غفلت،کوتاہی اورمس ہنڈلنگ میں ملوث افسران کی نشاندہی کرے گی،کمیٹی میں واقعے کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیج اوردیگر پہلووَں کو دیکھ کرسفارشات دے گی،کمیٹی میں ایڈیشنل آئی جی اظہرمحمود،ڈی آئی جی عمران محموداور اےآئی جی اطہراسماعیل شامل ہیں.

    سانحہ پی آئی سی کے حوالہ سے لاہور ہائیکورٹ میں بھی درخواست زیر سماعت ہے،عدالت نے وکلا اورڈاکٹرز تنازعہ کے حل کیلئے 8رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی،8رکنی کمیٹی میں 4وکلا اور 4ڈاکٹرز کے نمائندے شامل تھے، وکلا میں لاہور بار کے حفیظ الرحمان،شاہ نوازاسماعیل،اصغرگل اور مسعود چشتی شامل ہیں،،عدالت 8 رکنی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں فیصلہ کرے گی

     

  • نواز شریف کے بیٹوں کو اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ

    نواز شریف کے بیٹوں کو اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ

    نواز شریف کے بیٹوں کو اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چودھری شوگر ملز کیس میں حسن نواز اور حسین نواز بھی شامل تفتیش ہیں لیکن وہ پیش نہیں ہوئے جس پر نیب نے انہیں اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالہ سے احتساب عدالت میں درخواست دائر کی جائے گی

    چودھری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کو گرفتار کیا گیا تھا، اب وہ ضمانت پر ہیں، حمزہ شہباز سے بھی تفتیش ہوئی، سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی کوٹ لکھپت جیل سے نیب نے ایک بار پھر گرفتار کیا تھا چوھدری شوگر ملز کی تحقیقات کے لئے ،بعد ازاں نواز شریف نیب حراست میں بیمار ہوئےاور عدالت سے ضمانت لے کر لندن منتقل ہو گئے.

    نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ چودھری شوگر مل کےلیے آف شور کمپنی سے 40 کروڑ روپےبطورقرض لیے گیے ،میسرز چیرڈن جرسی نامی آف شور کمپنی کے نام سے قرض ظاہر کیا گیا، چودھری شوگر مل کے قیام کے لیے شریف فیملی نے 70 کروڑ روپے سے زائد رقم لگائی، چودھری شوگر مل میں نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، حمزہ شہباز سمیت متعدد افراد شراکت داررہے .

    ن لیگی رہنماؤں کی عدالت میں پیشی، مریم نواز کے شوہر کو پولیس نے کیا کہا؟

    مریم نواز کو کٹہرے میں لایا جائے، عدالت کا حکم

    اہل یا نااہل ، مریم نوز کو ایک اور موقع مل گیا

    حلال کی کمائی ہے، 5 ٹکے بھی ان کو نہ دیں، کیپٹن ر صفدر کا دعویٰ

    نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں بتایا تھا کہ 2008 میں مریم نواز کے نام پر11 ملین کے شیئر تھے، مریم نوازچوہدری شوگرملزکی ڈائریکٹرہیں، مریم نوازکے84لاکھ روپے کے شیئر تھے، جو بڑھ کر 41 کروڑ ہوگئے

    چودھری شوگر ملز، شریف خاندان پھنس گیا، شہباز شریف کی طلبی،حمزہ بھی شامل تفتیش

    واضح رہے کہ شریف خاندان نیب کے ریڈار پر ہے، شہباز شریف کے خلاف نیب میں تحقیقات چل رہی ہیں، حمزہ شہباز جیل میں ہیں، شہباز شریف فیملی کے اثاثے اور بینک اکاونٹس نیب نے منجمند کرنے کا حکم دیا ہے، نواز شریف العزیزیہ ریفرنس کیس میں سات برس قید کی سزا کوٹ لکھپت جیل میں کاٹ رہے تھے کہ لندن منتقل ہو گئے، شباز شریف ،مریم نواز ضمانت پر ہیں، یوسف عباس جیل میں ہیں

  • تنخواہوں کی عدم ادائیگی، سٹی 42 کا کیمرہ مین ہارٹ اٹیک کے باعث چل بسا

    تنخواہوں کی عدم ادائیگی، سٹی 42 کا کیمرہ مین ہارٹ اٹیک کے باعث چل بسا

    ایک اور چراغ گل ہوا۔سٹی 42 کا نوجوان کیمرہ میں ہارٹ اٹیک سے جاں بحق

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سٹی 42 سے وابستہ رضوان ملک ہارٹ اٹیک کے باعث جاں بحق ہو گئے،سٹی 42 بارے کہا جا رہا ہے کہ ادارے میں ملازمین کو 3 ماہ کی تنخواہیں نہیں ملیں،

    سٹی فورٹی ٹو کے کیمرہ مین رضوان ملک معمول کے مطابق اپنے گھر پر موجود تھے کہ اس دوران ان کی اچانک طبیعت بگڑگئی، رضوان ملک کوکوٹ خواجہ سعید ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہوسکے اور خالق حقیقی سے جا ملے۔

    ڈاکٹرز کے مطابق رضوان کی موت ہارٹ اٹیک کے باعث ہوئی ہے، رضوان ملک گزشتہ کئی سالوں سے سٹی نیوز نیٹ ورک کے ساتھ منسلک تھا، متوفی رضوان ملک کی نماز جنازہ بعد از نماز ظہر ان کی رہائشگاہ گجر پورہ کے علاقے مکہ کالونی میں ادا کی جائے گی۔

    سٹی 42 کے ملازمین کو ٹریکرز اور لوکیشن کے زریعے لمحہ بہ لمحہ اپنی سرگرمی سے آگاہ رکھنے کا پابند کیا گیا ہے.

    صحافیوں کے گروپ پروگریسو لورز کے مطابق سٹی 42 کے مالک محسن نقوی نے شام چھ بجے تمام کیمرہ مینوں کو ایک کمرے میں طلب کیا گیا تو ملازمین کو خیال آیا کہ شاید محسن صاحب تنخواہ بارے خوشخبری دیں گے اور تنخواہوں میں تاخیر پر معزرت کریں گے ۔۔لیکن جب ۔میٹنگ شروع ہوئی توانہوں ھے کمیرہ مینوں کی ڈیڑھ گھنٹہ جو کلاس لے سکتا تھے، لی اور بغیر تنخواہ کام کرنے والے اپنی غربت اور بے بسی کی تصویر بنے سنتے رہے ان سب میں رضوان ملک بھی شامل تھا جس کی ڈیڑھ سال پہلے ہی شادی ہوئی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ایک اور نجی ٹی وی کی ملازم تنخواہ نہ ملنے کے باعث ہارٹ اٹیک سے فوت ہو گیا تھا، فوت ہونے کے بعد ادارے نے اس کی تنخواہوں کی ادائیگی کی،اس موقع پر صحافیوں نے بھر پور احتجاج کیا تھا

  • حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت کرنیوالا بینچ بھی تحلیل،کب ہو گی سماعت؟

    حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت کرنیوالا بینچ بھی تحلیل،کب ہو گی سماعت؟

    حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت کرنیوالا بینچ بھی تحلیل،کب ہو گی سماعت؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مریم نوازکی درخواستوں پر18فروری اورحمزہ شہبازکی درخواست پر11فروری کو سماعت ہو گی

    لاہورہائیکورٹ میں مریم نوازاورحمزہ شہبازکی درخواستوں پرسماعت کرنےوالابینچ تحلیل کر دیا گیا،مریم نوازکی درخواستوں پرجسٹس علی باقرنجفی اورجسٹس طارق سلیم شیخ سماعت کریں گے،حمزہ شہباز کی درخواست پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس سردار احمد نعیم سماعت کریں گے

    حمزہ شہباز کی درخواست پرجسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی اورجسٹس چودھری عبدالعزیزسماعت کررہےتھے،مریم نواز کی درخواستوں پرجسٹس طارق عباسی اور جسٹس مشتاق چودھری سماعت کر رہے تھے.

    حمزہ شہباز کی رمضان شوگر ملز کیس میں ضمانت ہو چکی ہے جبکہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی درخواست پر سماعت ہونی ہے

    گزشتہ سماعت پر جسٹس طارق عباسی نے دوران سماعت استفسار کیا کہ مریم نواز کیوں ملک سے باہر جانا چاہتی ہیں؟ جس پر مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ مریم نواز کے والد بیمار ہیں تیمارداری کے لیے جانا چاہتی ہیں، عدالت نے کہا کہ نواز شریف کو اٹینڈ کرنے والا کوئی نہیں؟ انکے رشتے دار برطانیہ میں موجود تو ہیں،

    تیسری درخواست میں مریم نواز نے کہا کہ والد کی طبعیت دن بدن ناساز ہوتی جا رہی ہے . نواز شریف کی تازہ رپورٹس میں میں ان کے امراض میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔نواز شریف کی میڈیکل ہسٹری سے متعلق مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا لہذا میرا ان کے پاس موجود ہونا اشد ضروری ہے۔

    مریم نواز نے درخواست میں عدالت سے استدعا کی کہ عدالت میاں نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد والد کی تیمارداری کےلیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے۔

    اس سے قبل مریم نواز نے 7 دسمبر کو لاہور ہائی کورٹ میں ایل سی ایل سے نام نکلوانے کی درخواست جمع کروائی تھی۔ جس کے بعد 9 دسمبر کو جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے حکومت کی نظرثانی کمیٹی کو 7 روز میں مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی نظرثانی درخواست پر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی تھی۔

    مریم نواز نے اپنے وکلا امجد پرویز اور اعظم نذیر تارڑ کے ذریعے لایور ہائیکورٹ میں نئی درخواست دائر کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ مریم نواز کا نام بغیر نوٹس دئیے ای سی ایل میں شامل کیا گیا جو ای سی ایل میں نام شامل کرنے کے میمورنڈم کے منافی ہے۔

    مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر میں ہونے لگی ہے جلد جدائی،خبر سے کھلبلی مچ گئی

    مریم نواز ایک بار پھر "امید” سے، کیپٹن ر صفدرخوشی سے نہال

    مریم نواز نے درخواست میں کہا عدالتی مہلت ختم ہونے کے باوجود حکومت نے اُن کا نام ام ای سی ایل سے نکالنے کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ مریم نواز نے استدعا کی کہ اُن کا نام ای سی ایل سے خارج کیا جائے اور انہیں والد نواز شریف سے ملاقات کیلئے 6 ہفتوں کیلئے ایک مرتبہ بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔

    مریم نواز نے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا اقدام عدالت میں چیلنج کیا تھا اور ساتھ ہی اپنا پاسپورٹ واپس لینے کی استدعا کی تھی، بعد ازاں لاہورہائی کورٹ نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست وفاقی حکومت کی ریویو کمیٹی کو بھجوا دی تھی اور سات دن میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔تاہم وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ نے ذیلی کمیٹی کے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے کی فیصلے کی توثیق کردی تھی، جس کے بعد مریم نواز نے دوبارہ نام ای سی ایل سے نکالنے اور پاسپورٹ واپسی کی درخواست دائر کی تھی۔جس پر عدالت نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے اور پاسپورٹ واپسی کی درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا حکومت نام شامل کرنے پر جواز پیش کرے

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    مریم نواز کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟ عدالت نے پوچھا تو مریم نے کیا جواب دیا؟

    پانچ کمپنیوں میں 19 کروڑ کی منتقلی،حمزہ شہباز نیب کو مطمئن نہ کر سکے

    شہباز شریف کو لائف ٹائم ایوارڈ برائے کرپشن دیا جائے: شہباز گل

    حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر کے خلاف درخواست دائر

    مریم نواز کو والد نواز شریف کی تیمار داری کے لئے ضمانت منظور کی گئی تھی تا ہم نواز شریف  لندن جا چکے ہیں،  لاہور ہائیکورٹ نے  فیصلہ سناتے ہوئے مریم نواز کی چودھری شوگر ملز میں درخواست ضمانت منظور کی تا ہم عدالت نے فیصلے میں یہ حکم بھی دیا کہ مریم نواز اپنا پاسپورٹ رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو جمع کروائیں گے .عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر مریم نواز پاسپورٹ جمع نہیں کروانا چاہتی تو 7 کروڑ روپے زرضمانت جمع کرنا ہو گا ، مریم نواز کا پاسپورٹ عدالت کے پاس ہے مریم پاکستان میں ہیں اور اب وہ لندن جانا چاہتی ہیں اسی لئے انہوں نے عدالت میں تیسری درخواست دائر کی ہے

  • انسداد منشیات عدالت نے دیا رانا ثناء اللہ کو بڑا جھٹکا، فرد جرم کب عائد ہو گی؟ بتا دیا

    انسداد منشیات عدالت نے دیا رانا ثناء اللہ کو بڑا جھٹکا، فرد جرم کب عائد ہو گی؟ بتا دیا

    انسداد منشیات عدالت نے دیا رانا ثناء اللہ کو بڑا جھٹکا، فرد جرم کب عائد ہو گی؟ بتا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انسداد منشیات عدالت مین مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کیس کے حوالہ سے سماعت ہوئی، عدالت نے رانا ثناء اللہ کی گاڑی کی سپرداری کی استدعا مسترد کر دی

    عدالت نے رانا ثناء اللہ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کی استدعا بھی مسترد کر دی، عدالت نے رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کی ویڈیو فراہم کرنے کی استدعا بھی مسترد کر دی

    عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پر رانا ثناء اللہ پر فرد جرم عائد کی جائے گی، عدالت نے کیس کی سماعت 7 مارچ تک ملتوی کر دی.

    مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے،رانا ثنااللہ کے وکیل نے کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کرنے کی استدعا کردی ، وکیل نے استدعا کی کہ ہائیکورٹ بار کے الیکشن ہیں ،29 فروری کے بعد کی تاریخ دی جائے،اس عدالت میں اور بھی کیسزہیں،کیا پراسیکیوشن کو ان کیسز میں جلدی نہیں ،

    پراسیکیوشن نے کہا کہ راناصاحب الزام لگاتے ہیں پراسیکیوشن تاخیری حربے استعمال کررہی ہے

    سپریم کورٹ میں راناثنااللہ کی ضمانت منسوخی کی درخواست دائرکر دی گئی،راناثنااللہ کی ضمانت منسوخی کی درخواست نےاے این ایف نےدائر کی،ضمانت منسوخی کی درخواست 17 صفحات پر مشتمل ہے ،

    رانا ثناء اللہ کی ضمانت منظور، رانا کی اہلیہ اور ن لیگی رہنماؤں نے بڑے سوالات اٹھا دیئے

    رانا ثناء اللہ ایک بار پھرمشکل میں پھنس گئے، حکومت نے اب کیا کیا؟ جان کر ہوں حیران

    رانا ثناء اللہ نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کوجیل سے لکھا خط، کیا کہا؟

    رانا ثناء اللہ کی ضمانت، شہر یار آفریدی میدان میں آ گئے، بڑا اعلان کر دیا

    واضح رہے کہ منشیات کیس میں رانا ثناء اللہ چھ ماہ کے بعد رہا ہوئے تھے ،منشیات کیس میں رہائی پانے والے رکن قومی اسمبلی ،مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اس مقدمے کا کوئی سر اور پاؤں نہیں ہے۔ جن حالات میں مجھے جیل میں رکھا گیا، اس کا ذکر نہیں کروں گا۔ میری چھ ماہ بعد ضمانت ہوئی لیکن پورا انصاف نہیں ہوا۔ جن لوگوں نے جھوٹا مقدمہ درج کرایا اللہ کا قہر اور غضب ان پہ نازل ہو ، اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پہ اللہ کا قہر اور غضب نازل ہو