Baaghi TV

Category: لاہور

  • 2019ء لوٹ مار کے احتساب کا سال، تحریر:محمد حسن رضا

    2019ء لوٹ مار کے احتساب کا سال، تحریر:محمد حسن رضا

    2019ء لوٹ مار کے احتساب کا سال، تحریر:محمد حسن رضا

    ایک وقت تھا قومی احتساب بیورو (نیب)جسے تمام سیاستدان ،افسران ،کاروباری شخصیات سمیت ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے تھے اور نیب کسی بھی طاقتور شخص کے خلاف ایکشن لینے سے گھبراتا تھا، یہاں تک کہ یہ وہ ادارہ تھا کہ یہ جاگیرادار لوگوں کی گھر کی لونڈی بن چکی تھی ، اور ہر طاقتور شخص اس کو صرف اور صرف اپنے لئے استعمال کرتا تھا، لیکن پھر کیا تھا کہ اچانک تبدیلی آئی ،

    وہ بھی ایسی کہ ایک ریٹائرڈ جج کو چیئرمین نیب اور ایک ریٹائرڈ فوجی افسر میجر (ر)شہزاد سلیم کو لاہور میں اہم ذمہ داری سونپ دی گئی، ان کی تعیناتیوں کے وقت حکومت اور اپوزیشن تمام افراد متفق نظر آئے ۔ پھر آہستہ آہستہ ہر سیکٹر میں انکشافات ہونے لگے ،کہیں کسی کے پیچھے کارروباری شخصیت کا ہاتھ تو کسی کے پیچھے طاقتور بیوروکریٹ توکہیں سیاستدان یہاں تک کہ سابق وزراء اعظم اور وزراء اعلیٰ، اور پھر گورنر ، تو کہیں وزراء اور اسپیکر ، صدر تک بھی مبینہ کرپشن میں پیچھے نہ تھے۔ سرکاری خزانے کو لوٹنے اورقبضہ مافیا کی مدد کا بازار گرم تھا۔ پھر ایک دن یہ آیا کہ نیب کے نام سے سب خوف کھانے لگے ، کیونکہ جب ایکشن لیا جانے لگا ۔قانون اور رولز کی کتاب کو سامنے رکھا تو پھر ہر دوسرا طاقتور شخص قانون کی گرفت میں آنے لگا۔ نیب نے لوٹے گئے اربوں روپے ثبوتوں کی روشنی میںریکور کر کے سرکاری خزانے میں جمع کروائے ۔

    نیب اور حکومت کی کارکردگی کی بدولت پاکستان بدعنوانی کے تاثر کے حوالے سے اعشاریے سی پی آئی میں 175 سے 116 ویں نمبر پر آگیا ہے ۔پاکستان واحد ملک ہے جس کا سی پی آئی نیچے آنے کا رجحان ہے ۔ ہماری کارکردگی کو بھارت سمیت سارک ممالک کی جانب سے سراہا گیا ہے ، اسی لئے نیب سارک اینٹی کرپشن فورم کا متفقہ طور پر چیئرمین منتخب ہوا ہے ۔جو کہ پاکستان کے لئے ایک بڑی کامیابی ہے ۔ پاکستان کو 100 فیصد کرپشن فری بنانے کیلئے پرعزم ہے ۔ نیب نے نوجوانوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے ملک بھر میں کردار سازی کی 55 ہزار سے زائد انجمنیں قائم کی ہیں۔ نیب کی 2018ء سے 2019ء کے اس عرصہ کے مقابلہ میں شکایات انکوائریوں اور انوسٹی گیشن کی تعداد دوگنا ہے جو کہ نیب کی احتساب سب کیلئے بلاامتیاز پالیسی پر اعتماد کا اظہار ہے ۔

    نیب نے سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزرائے اعظم نوازشریف،شاہد خاقان عباسی،راجہ پرویز اشرف سابق وزرائے اعلی شہبازشریف ،چوہدری پرویز الٰہی، منظوروٹو، پرویز خٹک ، موجودہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ، جبکہ چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ ساتھ ان کے رشتہ دار ، بیٹوں کے خلاف بھی تحقیقات کر رہا ہے ، اسی طرح متعدد صوبائی اور وفاقی وزراء ہیں یہاں تک کے وزیراعظم عمران خان کے اردگرد رہنے والے افراد بھی شامل ہیں جن میں وفاقی وزیر خسروبختیار ، پرویز خٹک اور دیگر اس وقت اہم عہدوں پر تعینات زلفی بخاری سمیت متعدد شخصیات ہیں جن کے کیسز نیب میں سال 2019میں چلتے رہے اور متعدد وزراء کے خلاف کیسز کا آغاز کیا۔ اور متعدد کو کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثہ جات میں گرفتار بھی کیا گیا ۔

    پہلے نمبر پر نیب لاہور کی کارکردگی دیکھنے میں آئی۔ نیب لاہور میں کم و بیش 1 لاکھ افراد کوتحقیقاے کیلئے نیب لاہور طلب کیا گیا جس میں سے دوران تحقیقات 859ملزمان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوئے جن پر عملدرآمد کیا گیا۔ ہائوسنگ سیکٹر میں نیب لاہور کی ریکوری میں 700 فیصد اضافہ ہوا، مجموعی طور پر کرپشن کیسز میں ریکوری 500 گناہ بڑھ گئی،17 سالوں کے دوران نیب لاہور کی ہائوسنگ سیکٹر میں ریکوری 45 کروڑ رہی اور 2017 سے تاحال 3 سالوں کے دوران 3 ارب 61کروڑ کی ریکوری کی گئی، سب سے زیادہ ریکوری 2019میں دیکھنے میں آئی، نیب لاہور کے قیام سے 2016 تک بیورو کی جانب سے مجموعی ریکوری سالانہ اوسطا65 کروڑ رہی جبکہ 2017 سے تاحال سالانا اوسط ریکوری 3 ارب 89 کروڑ تک پہنچ گئی ۔ اسی طرح ہائوسنگ سیکٹر ریفرنسز میں ریفرنسز کی صورت میں 16 سالوں کے دوران مجموعی طور پر 76 ارب مالیت کے ریفرنس احتساب عدالتوں میں دائر کئے گئے تاہم ڈی جی نیب لاہور کی سربراہی میں 3 سالوں میں ہی 46 ارب مالیت پر مشتمل ریفرنس دائر کئے جا چکے ہیں، ہائوسنگ سیکٹر میں دائر ریفرنسز کی مالیت میں 265% اضافہ دیکھنے میں رہا، ہائوسنگ سیکٹر ان ڈائریکٹ ریکوری 1999 سے 2016 تک محض 251ملین کی ان ڈائریکٹ ریکوری شمار ہوئی اسکے برمقابل 2017 سے تاحال 53 ارب کی ان ڈائریکٹ ریکوری کی گئی ہے ، ان ڈائریکٹ۔ریکوری کی مد میں17 ہزار گنا اضافہ رہاہے ، ہائوسنگ سیکٹر پلی بارگین میں ملزمان سے پلی بارگین کی مد میں 17 سالوں کے دوران صرف 350 ملین کی وصولی رہی، 2017 سے ابتک نیب لاہور 6 ارب 42 کروڑ کی بلین بارگین کر چکا ہے جو کہ ریکارڈ اضافہ ہے ، ہائوسنگ کیسز میں ہونیوالی پلی بارگین میں گزشتہ 3 سالوں کا مجموعی اضافہ 10 ہزار گنا رہا ہے ، ہائوسنگ سیکٹر ریکوری میں نیب لاہور ماضی کے 17 سالوں کی ہائوسنگ سے متعلقہ ریکوری 76 ارب کے مقابلے میں صرف 3 سالوں کے دوران 108 ارب کی مزید ریکوری ممکن بنا رہا ہے ، اس دوران صرف ہائوسنگ سیکٹر میں 54 ہزار متاثرین کو مکانات و پلاٹوں کے مالکانہ حقوق واپس دلوانا بھی نیب لاہور کے افسران کی انتھک محنت کا ضامن ہے ، نیب نے ایک نہیں متعدد شخصیات کے خلاف ایکشن لیا، یہاں تک کے شریف خاندان کے خلاف جہاں ریفرنسز فائل کئے وہاں ٹھوس شواہد عوام کے سامنے بھی آئے ،کہاں ٹی ٹی کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی تو کہاں منصوبوں میں من پسند افراد کو نوازنے کے الزامات بھی سامنے آئے ۔

    سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف جاری تحقیقات میں نیب لاہور نے 50کروڑ روپے کی رقم ملزم کے بینک اکاؤنٹس سے برآمد کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے حوالے کی۔ گلبرگ میں کروڑوں روپے مالیت کا چار(4) کنال پر محیط گھر بھی حکومت پنجاب کے حوالے کیا جارہا ہے جسے فروخت کرکے وصول ہونے والی مکمل رقم قومی خزانے میں جمع کروائی جائیگی۔ پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کے سابق چیف فائنینشل آفیسر اکرام نوید سے نیب لاہور نے 1ارب مالیت کی جائیدادیں برآمد کروا کر حکومت پنجاب اور ایرا حکام کے حوالے کیں۔ نیب لاہور کی جانب سے ڈبل شاہ کیس میں ملزمان سے اربوں روپے کی تاریخی وصولی اور ہزاروں متاثرین میں برآمد کی گئی۔نیب لاہور نے ڈبل شاہ کیس کے متاثرین میں 19کروڑ35لاکھ روپے اور دوساری مرتبہ 36کروڑ روپے تقسیم کئے ۔ مجموعی طور پر نیب لاہور نے ڈبل شاہ کیس میں ہزاروں متاثرین کوایک ارب روپے کی خطیر رقم ملزمان سے برآمد کروا کر تقسیم کی جا چکی ہے ۔

    ہاؤسنگ سیکٹر کے مقدمات میں پیش رفت ہوئی گذشتہ دو سالوں کے دوران نیب لاہور نے ہاؤسنگ سیکٹر کے 54,000 متاثرین کو انکے حقوق واپس دلوائے غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے کیسز میں گذشتہ دو سالوں کے دوران نیب لاہور نے 26ارب مالیت پر مشتمل 14بدعنوانی کے ریفرنسز معزز احتساب عدالتوں میں دائر کئے ہیں جبکہ نیب لاہور نے مجموعی طور پر دو سالوں کے دوران 31ارب روپے کی خطیر رقم ملزمان سے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کروائی۔

    نیب میں میگا کرپشن کے مقدمات جن میں شریف خاندان سے متعلق جہاں ایکشن لئے گئے جن میں سابق وزیر ِ اعلی پنجاب شہباز شریف،حمزہ شہباز، سلمان شہباز و دیگر کیخلاف مبینہ منی لانڈرنگ و آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی تحقیقات، چوہدری شوگر ملز کیس میں میاں نواز شریف، مریم نواز شریف، یوسف عباس اور عبدالعزیز کیخلاف مبینہ منی لانڈرنگ کی انکوائری، پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کیس میں ملزم اکرام نوید کیخلاف مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی تحقیقات اور سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کے داماد عمران علی یوسف کیخلاف تحقیقات، سابق وزیرِ خزا نہ ملزم اسحاق ڈار کیخلاف مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے کیس کی تحقیقات، سابق وزیرِ اعلی پنجاب میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف کیخلاف رائیونڈ روڈ کی توسیع میں مبینہ طور پر اختیارات کے غیر قانونی استعمال کیخلاف جاری تحقیقات، میاں محمد نواز شریف کیخلاف ایل ڈی اے پلاٹوں کی مبینہ غیر قانونی تقسیم کے کیس کی انکوائری کے علاوہ دیگر میگا کرپشن کیسز پر ایکشن لئے گئے ہیں۔ شریف خاندان کے خلاف جو نیب کی رپورٹ سامنے آئی اس میں بتایا گیا کہ نوازشریف نے یوسف عباس اور مریم نواز کی شراکت داری سے 410ملین روپے کی منی لانڈرنگ کی،ملزمان نے جعلی گیارہ ملین کے شیئرز غیر ملکی شخص نصیر عبداللہ کو منتقل کرنے کا دعویٰ کیا، غیر ملکی کو ٹرانسفر کئے جانیوالے شیئرز درحقیقت نوازشریف کو 2014میں واپس کر دئیے گئے تھے ، نیب رپورٹ کے مطابق چوہدری شوگر ملز اور شمیم شوگر ملز میں1992سے لیکر 2016تک 2ہزار ملین کی انوسٹمنٹ کی گئی،سابق وزیراعظم نوازشریف نے 1کروڑ 55 لاکھ 20ہزار ڈالر کا قرض شوگر ملز میں ظاہر کیا گیا، نوازشریف نے قرضہ 1992میں آف شور کمپنی سے لیا گیا تھا، رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ نوازشریف نے جس کمپنی سے قرض لیا اس آف شور کمپنی کا اصل مالک ظاہر نہیں کیاگیا،چوہدری شوگر مل کے آغاز کے لئے شریف فیملی نے اپنی ہی 9کمپنیوں سے قرض لیا،شریف فیملی نے 20کروڑ 95لاکھ کا قرض 9کمپنیوں سے لیا، چوہدری شوگر مل کے قیام کے لئے ایک کروڑ 53لاکھ ڈالر کا قرض بھی حاصل کیا گیا،نوازشریف 1992میں 43ملین شیئر کے مالک تھے ، نوازشریف کے پاس اتنے شیئر 1992میں کہاں سے آئے یہ نہیں بتایا گیا، نوازشریف کے جب آثاثے بڑھے اس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ ، وزیر خزانہ بھی رہے ۔ مریم نواز سے 3 غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے بھوائے گئے شئیرز کے متعلق پوچھا گیا اور ٹرانسفر ڈیڈ مانگی گئی ۔مریم نے کہا انکے پاس ٹرانسفر ڈیڈ نہیں ہے ، مریم نواز نے موقف بدلتے ہوئے کہا شاید یہ ٹرانسفر ڈیڈ پرانے ریکارڈ میں موجود ہوں۔چودھری شوگر مل کا بینک اکاونٹس منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے ۔عبدالعزیز عباس کے اکاونٹ میں 3 دنوں کے دوران 10 کروڑ کی خطیر رقم ٹرانسفر کی گئی،25 اکتوبر 2013 کو 2 ٹرانزیکشن کے زریعے 5 کروڑ کی رقم منتقل کی گئی، 23 اکتوبر 2013 کو ایک ہی دن میں 5 ٹرانزیکشن کے زریعے 5 کروڑ کی رقوم منتقل ہوئیں، مریم نواز اس رقم سے متعلق تسلی بخش جواب نہیں دے سکیں،مریم نواز نے کہا کہ انکی فیملی کے دوبئی میں موجود بزنس مینوں سے کاروباری مراسم ہیں، دوبئی کی کاروباری شخصیات سے بزنس کے سلسلہ میں لین دین چلتا رہتا تھا،جبکہ رپورٹ کے مطابق یوسف عباس کے اکاونٹ میں 1 سال کے دوران 33 کروڑ کی رقم منتقل ہوئی، یوسف عباس کو یہ خطیر رقم 2010،11 میں 10 ٹرانزیکشن کے زریعے منتقل ہوئیں، یوسف عباس نے دوران تفتیش لاعملی کا اظہار کرتے ہوئے کمپنی سیکرٹری سے مشاورت کے لیے ملاقات کا کہا،اوریوسف عباس نے کہا کہ کمپنی سیکرٹری سے مل کر اس رقم سے متعلق بتا سکتا ہو،مریم نواز اور یوسف عباس سے سیل ڈیڈ سمیت دیگر پوائنٹس پر تفتیش بھی کی گئی ہے ۔

    آصف علی زردار ی اور دیگر کے خلاف جعلی بینک اکاؤنٹس کیس سے متعلق مجموعی طور پر 26 انکوائریز اور انویسٹی گیشنز کی گئیں ہیں، نیب رپورٹ کے مطابق جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق انکوائریز سپریم کورٹ کے حکم پر شروع کی گئیں اور 5 انکوائریز اور 3 انویسٹی گیشنز میں آصف زرداری کا کردار سامنے آیا ہے ۔نیب رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری کے اب تک صرف ایک کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔ جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کا پسِ منظرکی طرف جائیں تو بہت انکشافات سامنے آتے ہیں یعنی منی لانڈنگ کیس 2015 میں پہلی دفعہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے اُس وقت اٹھایا گیا، جب مرکزی بینک کی جانب سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے ) کو مشکوک ترسیلات کی رپورٹ یعنی ایس ٹی آرز بھیجی گئیں۔ایف آئی اے نے ایک اکاؤنٹ سے مشکوک منتقلی کا مقدمہ درج کیا جس کے بعد کئی جعلی اکاؤنٹس سامنے آئے جن سے مشکوک منتقلیاں کی گئیں۔جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری اور اومنی گروپ کو جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے فوائد حاصل کرنے کا ذمہ دار قرار دیا اور ان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی تھی پھر انہیں نیب نے ایکشن لیتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا ، اس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے بھی تفتیش کی جارہی ہیں، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی تحریری طور پر جے آئی ٹی کو اپنا جواب بھیجا جب کہ اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید اور نجی بینک کے سربراہ حسین لوائی ایف آئی اے کی حراست میں ہیں۔نیب کو ملنے والی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ 29 مشکوک اکاؤنٹس کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ایک اکاؤنٹ جو اے ون انٹرنیشل کے نام سے موجود تھا جس کا مالک طارق سلطان نامی شخص کو ظاہر کیا گیا تھا، یہ اکاؤنٹ منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ 35 ارب کی مزید مشکوک منتقلی کی نشاندہی کی ہے ، جس سے مستفید ہونے والوں میں متحدہ عرب امارات کے نصیر عبداللہ لوطہ گروپ کے سربراہ، آصف علی زرداری اور ان کی بہن کا گروپ اور آصف زرداری کے قریبی دوست انور مجید شامل ہیں۔اور نصیر عبداللہ لوطہ چیئرمین سمٹ بینک کو دو ارب 49 کروڑ، انصاری شگر ملز جس کے مالک انور مجید اور علی کمال مجید ہیں کو سات کروڑ 37 لاکھ، اومنی پولیمرز پیکجز کے عبدالغنی مجید اور کمال مجید کو 50 لاکھ، پاک ایتھنول کے مصطفیٰ ذوالقرنین مجید اور عبدالغنی مجید کو ایک کروڑ 50 لاکھ، چمبڑ شگر ملز کے مالک انور مجید اور نمر مجید کو 20 کروڑ، ایگرو فارمز ٹھٹہ کے مالک انور مجید اور نازلی مجید کو 57 لاکھ، زرداری گروپ جس کے مالک آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور اور دیگر ہیں کو ایک کروڑ، پارتھی نون کے قابل خان نوری کو پانچ لاکھ، ایون انٹرنیشنل کو پانچ لاکھ 76 ہزار، لکی انٹرنیشنل کو دو کروڑ 72 لاکھ، لاجسٹک ٹریڈنگ کو 14 کروڑ 50 لاکھ، رائل انٹرنیشنل کو 28 کروڑ اور عمیر ایسوسی ایٹس کو 80 کروڑ کی منتقلی ہوئی۔ حسین لوائی پر 29 جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے میں معاونت کرنے کا الزام ہے ، جن کے ذریعے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری سمیت 13 کمپنیوں کو اربوں روپوں کی مشکوک منتقلی کی گئی ہے ۔ 29 مشکوک اکاؤنٹس کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ایک اکاؤنٹ جو اے ون انٹرنیشنل کے نام سے موجود تھا جس کا مالک طارق سلطان نامی شخص کو ظاہر کیا گیا تھا، یہ اکاؤنٹ منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا، اکاونٹ مالک طارق سلطان نے اس اکاونٹ سے لاتعلقی کا اظہار کیا، ان کے انکار کے بعد ہینڈ رائٹنگ اور دستخط کے حوالے سے موقف لیا گیا جس میں جعلی دستخط ثابت ہوئے ۔ایف آئی اے کے مطابق اے ون انٹرینشل کے مالک طارق سلطان نے انکشاف کیا کہ اس وقت کی آپریشنل مینیجر کرن امان نے جعلی اکاونٹ کی تصدیق کی لیکن اس وقت کی کارپوریٹ رلشن شپ افسر نورین سلطان اور دیگر افسران نے کوئی کارروائی نہیں کی باوجود اس کے اکاؤنٹس کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا تھا کہ اکاونٹ کا تعلق اومنی گروپ سے ہے ۔کرن امان نے انکشاف کیا کہ دستاویزات کارپوریٹ ڈیپارٹمنٹ کو بھیجے گئے جہاں طلحہ رضا، کارپوریٹ ہیڈ نے واپس بھیج دیے اور حسین لوائی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی ہدایت کے تحت اکاؤنٹ کھولا جائے ۔تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ 10 ماہ کے قلیل مدت میں ساڑھے چار ارب روپے اس اکاؤنٹ میں جمع ہوئے اور دیگر اکاؤنٹس میں ان کی منتقلی کی گئی۔یہ رقم جمع کرانے والوں میں سجاول ایگرو فارمز پرائیوٹ لمیٹیڈ (50 کروڑ 50 لاکھ)، ٹنڈو الہ یار شگرملز (23کروڑ 84 لاکھ )، اومنی پرائیوٹ لمیٹیڈ (5 کروڑ)، ایگرو فارمز ٹھٹہ (ایک کروڑ 70 لاکھ)، الفا ژولو کو پرائیوٹ لمیٹیڈ( 2 کروڑ 25 لاکھ)، حاجی مرید اکبر بینکر( 2 کروڑ)، شیر محمد مغیری اینڈ کو کانٹریکٹر (5 کروڑ)، سردار محمد اشرف ڈی بلوچ پرائیوٹ لمیٹیڈ کانٹریکٹر( 10 کروڑ)، ایون انٹرنیشنل (18 کروڑ 45 لاکھ)، لکی انٹرنیشنل (30 کروڑ 50 لاکھ)، لاجسٹک ٹریڈنگ (14 کروڑ 50 لاکھ)، اقبال میٹلز (15 کروڑ 63 لاکھ)، رائل انٹرنیشنل (18 کروڑ 50 لاکھ)، عمیر ایسو سی ایٹس (58 کروڑ 12 لاکھ) اور دیگر شامل تھے ۔ رپورٹ میں 4 ارب 14 کروڑ کی مزید مشکوک منتقلی کی نشاندھی کی ہے ، جس سے مستفید ہونے والوں میں متحدہ عرب امارات کے نصیر عبداللہ لوطہ گروپ کے سربراہ، آصف علی زرداری اور ان کی بہن کا گروپ اور آصف زرداری کے قریبی دوست انور مجید شامل ہیں۔یہ بھی الزام عائد ہوا کہ نصیر عبداللہ لوطہ چیئرمین سمٹ بینک کو دو ارب 49 کروڑ، انصاری شگر ملز جس کے مالک انور مجید اور علی کمال مجید ہیں کو 7 کروڑ 37 لاکھ، اومنی پولیمرز پیکجز کے عبدالغنی مجید اور کمال مجید کو 50 لاکھ، پاک اتھنول کے مصطفیٰ ذوالقرنین مجید اور عبدالغنی مجید کو ایک کروڑ 50 لاکھ، چمبڑ شگر ملز کے مالک انور مجید اور نمر مجید کو 20 کروڑ، ایگرو فارمز ٹھٹہ کے مالک انور مجید اور نازلی مجید کو 57 لاکھ، زرداری گروپ جس کے مالک آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور اور دیگر ہیں کو ایک کروڑ، پارتھی نون کے قابل خان نوری کو پانچ لاکھ، ایون انٹرنیشنل کو پانچ لاکھ 76 ہزار، لکی انٹرنیشنل کو دو کروڑ 72 لاکھ، لاجسٹک ٹریڈنگ کو 14 کروڑ 50 لاکھ، رائل انٹرنیشنل کو 28 کروڑ اور عمیر ایسو سی ایٹس کو 80 کروڑ کی منتقلی ہوئی۔ایک سرکاری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ جعلی اکاؤنٹس کھولنا اور غیر قانونی رقومات جمع کرانا اور مختلف اکاؤنٹس میں مشکوک انداز میں منتقلی، پاکستان اسٹیٹ بینک کی قوانین کے مطابق منی لانڈنگ کے زمرے میں آتی ہے ۔نصیر عبداللہ لوطہ چیئرمین سمٹ بینک جو پاکستان سے باہر ہیں، حسین لوائی جو اس وقت سمٹ بینک کے صدر اور موجودہ وقت وائس چیئرمین ہیں نے مرکزی کردار ادا کیا۔اورانور مجید، عبدالغنی مجید اور ان کے اومنی گروپس کی مختلف کمپنیوں نے جعلی اکاونٹس کھولے اور طحہ رضا اور حسین لوائی کے ذریعے اربوں رپوں کی ہیرا پھیری کی۔ تمام فریقین کو سمن جاری کر کے انفرادی اور کمپنیوں کو رقومات کی منتقلی اور وصولی کے حوالے سے موقف پیش کرنے کی ہدایت جاری کی لیکن کوئی بھی حاضر نہیں ہوا۔ملزم انور مجید ولد عبدالمجید، عبدلغنی مجید والد انور مجید، اسلم مسعود ولد مسعود اللہ ملک، محمد عارف خان، بینک افسران نورین سلطان، کرن امان، عدیل شاہ رشیدی، طلحہ ولد نقی رضا، حسین لوائی ولد حاجی موسیٰ اور نصیر عبداللہ چیئرمین سمٹ بینک پر منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا،اورانور مجید پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ہیں، ڈاکٹر عاصم حسین کے بعد تحقیقاتی اداروں نے ان کا گھیراؤ تنگ کیا تھا، جبکہ گزشتہ سال سندھ میں گنے کے کاشتکاروں اور شگر ملزمالکان میں کشیدگی کے وقت بھی انور مجید کا نام سامنے آیا تھا، سندھ میں شگر ملز کی اکثریت کے مالک انور مجید ہیں جبکہ آصف علی زرداری کا گروپ بھی بعض ملز کا مالک ہے ، کاشتکاروں کا الزام تھا کہ حکومت ملز مان کو فائدہ پہنچا رہی ہے ۔ حکومت سندھ نے جب بیمار صنعتوں کو مالی مرعات فراہم کی تو پچاس فیصد صنعتیں انور مجید کی تھیں۔تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع ہوتا گیا تو مزید 33 مشکوک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا ہے جن سے اربوں روپے بیرون ممالک منتقل کیے گئے ۔اب تک کی تحقیقات میں 335سے زائد ملوث افراد سامنے آئے ہیں اور تمام افراد ان اکاؤنٹس میں ترسیلات کرتے رہے ۔ان کے جعلی اکاؤنٹس کے ساتھ 210 کمپنیوں کے روابط رکھے گئے ہیں۔ جبکہ 47 ایسی کمپنیوں کا سراغ لگایا گیا ہے جن کا براہ راست تعلق اومنی گروپ سے ہے ۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے بتایا کہ یہ ساڑھے 4 ارب روپے کی ٹرانزیکشن کا معاملہ ہے ، اس حوالے سے تمام فہرست مہیا کر دی گئی ہے کہ کتنی رقم اکاؤنٹ میں آئی اور کتنی استعمال ہوئی۔ اے ون انٹرنیشنل اور عمیر ایسوسی ایٹس سے اربوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی، ان اکاؤنٹس کے ساتھ زرداری گروپ اور پارتھینون کمپنیوں کی ٹرانزیکشن ہوئی۔’نیب کے مطابق ایف آئی اے نے حسین لوائی اور ان کے ساتھی طلحہ رضا کو گذشتہ برس گرفتار کیا۔ ان پر 29 جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے میں معاونت کرنے کا الزام ہے ، جن کے ذریعے مبینہ طور پر آصف زرداری سمیت 13 کمپنیوں کو اربوں روپوں کی مشکوک منتقلی کی گئی۔ آئی پی پیزسے متعلقہ 300 ارب کی مبینہ کرپشن کیس میں 8 ارب مالیت کی مبینہ کرپشن کے الزام میں سابق ڈی جی نیپرا ملزم سید انصاف احمد گرفتار کیا گیا، ملزم سید انصاف احمد نے دانستہ بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے۔ نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ (IPP) سے ٹھیکہ جات میں بجلی نرخ انتہائی مہنگے داموں مقرر کئے جو حکومتی خزانے کو 8 ارب کے نقصان کا موجب بنا تھا، نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ کیجانب سے 2010میں 200 میگا واٹ پر مشتمل پاور پلانٹ کی تنصیب کی گئی تھی۔

    چیئر مین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب نے کسی کا فیس نہیں بلکہ کیس دیکھ کر اپنی تحقیقات کا قانون اور شواہد کی بنیاد پر آغاز کرتا ہے ۔ جن کیسز میں شہادتیں موجود ہیں وہاں ٹھوس اورمضبوط کیس بنائیں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ نیب کے افسران ٹیم ورک کے تحت کام کریں یوں کہ نیب میں کیس کی تحقیقات کیلئے کمبائینڈ انوسیٹی گیشن ٹیم(CIT) کے نظام کو اسی لئے متعارف کروایا گیاہے۔ جسٹس (ر)جاوید اقبال نے نیب افسران سے کہا کہ وہ کسی بھی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر اپنے فرائض آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سر انجام دیں۔ انہوں نے تحقیقاتی افسران کو ہدایت کی کہ تمام مقدمات کو ٹھوس شواہد اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مکمل کیا جائے ہر شخص کی عزت ِ نفس کا خیال کیا جائے ۔ فرائض کی انجام دہی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ نیب نے 71ارب کی خطیر رقم قومی خزانے میں جمع کروائی ۔

    بشکریہ روزنامہ دنیا.

  • پیراگون ہاوسنگ سوسائٹی سکینڈل کیس، خواجہ سعد رفیق کی عدم پیشی، ریمانڈ میں ہوئی توسیع

    پیراگون ہاوسنگ سوسائٹی سکینڈل کیس، خواجہ سعد رفیق کی عدم پیشی، ریمانڈ میں ہوئی توسیع

    پیراگون ہاوسنگ سوسائٹی سکینڈل کیس، خواجہ سعد رفیق کی عدم پیشی، ریمانڈ میں ہوئی توسیع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیراگون ہاوسنگ سوسائٹی سکینڈل کیس کی سماعت لاہور کی احتساب عدالت میں ہوئی، جیل حکام نے خواجہ سلیمان کو احتساب عدالت میں پیش کردیا، خواجہ سعد رفیق اسلام آباد اسمبلی کے اجلاس میں مصروف ہونے کے باعث پیش نہ ہوئے۔

    احتساب عدالت نے پیراگون ہاوسنگ سوسائٹی سکینڈل میں ن لیگی رہنماوں خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کے جوڈیشل ریمانڈ میں 24 جنوری تک توسیع کر دی۔

    عدالت نے پیراگون سوسائٹی کے سابق ڈٓائریکٹر قیصر امین بٹ کے خواجہ برادران سے متعلق بیان کی کاپی فراہم کرنے کی ہدایت کی، اور وکلائے فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے خواجہ برادران کے جوڈیشل ریمانڈ میں 24 جنوری  تک توسیع کر دی۔

    آپ نے بحث مکمل کرنی ہے یا باہر جانا ہے؟ عدالت کے استفسار پر خواجہ سعد رفیق نے کیا کہا؟

    لاہور کی احتساب عدالت نے 4 ستمبر کو مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کے خلاف پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی میں بے ضابطگیوں پر دائر ریفرنس میں فرد جرم عائد کی تھی۔ خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق نے صحت جرم سے انکار کیا تھا۔

    میں ملنے گئی تو زرداری وہیل چیئر سے اٹھے، پولیس نے کہا دفعہ ہو جاؤ، آصفہ بھٹو

    آصف زرداری کا طبی معائنہ، کونسی بیماری اور ڈاکٹر نے کیا تجویز کیاِ؟

    واضح رہے کہ 11 دسمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کی عبوری ضمانت خارج کردی تھی، جس کے بعد نیب نے دونوں بھائیوں کو حراست میں لے لیا تھا۔ خواجہ برادران کو پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار کیا گیا

  • ملک بھر میں‌ بارش، بچے سکول نہ جا سکے، چھتیں گرنے کے واقعات، 3 افراد جاں  بحق

    ملک بھر میں‌ بارش، بچے سکول نہ جا سکے، چھتیں گرنے کے واقعات، 3 افراد جاں بحق

    ملک بھر میں‌ بارش، بچے سکول نہ جا سکے، چھتیں گرنے کے واقعات، 3 افراد جاں بحق
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر کے مختلف شہروں میں بارش سے سردی میں اضافہ ہو گیا، دوسری جانب برفباری سے بلوچستان میں 10 افراد جاں بحق، سکھر میں مکان کی چھت گرنے سے سے 7 افراد زخمی، جھنگ میں مکان کی چھت گرنے سے 3 افراد جاں بحق ہو گئے.

    پنجاب کے دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں بادل خوب گرجے برسے جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔ کہیں بوندا باندی تو کہیں تیز بارش، لاہور میں صبح کے وقت کالی بدلیاں چھائیں اور پھر چھما چھم برسات ہوئی۔ گڑھی شاہو، دھرم پورہ، ایئر پورٹ، گلبرگ، فیروز پور روڈ ، جوہر ٹاؤن سمیت شہر کے مختلف حصوں میں بھی تیز بارش ہوئی جس سے خنکی میں اضافہ ہو گیا۔

    بارش کے باعث سکولوں کی تعطیلات ختم ہونے کے باوجود سکولوں میں حاضری کم رہی، بارش کی وجہ سے بچے سکول نہ جا سکے،

    سندھ میں بھی بارش کی وجہ سے سردی میں اضافہ ہوگیا،کراچی ، جیکب آباد، سکھر سمیت سندھ میں بارش سے جاتی سردی پھر لوٹ آئی۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھی بارش کی جھڑی کل تک وقفے وقفے سے جاری رہے گی جبکہ پہاڑوں پر مزید برفباری کا بھی امکان ہے۔

    فیصل آباد، قصور، چکوال، ننکانہ صاحب، شکر گڑھ، سرگودھا، جھنگ، خانیوال، ہارون آباد، رحیم یار خان، خان پور، اوچ شریف سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں ابر کرم خوب برسا جس سے جاتی سردی پھر لوٹ آئی۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق پشین میں بارش اور برفباری کے باعث ایک گھر کی چھت گرنےسے 3 افراد جاں بحق اور ایک خاتون سمیت 3 بچے زخمی ہوئے، جن کو ریسکیو کرکے ڈی ایچ کیو منتقل کیا گیا جہاں زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ژوب کے کلی شہابزئی میں برفباری کے باعث مکان کی چھت گرنے ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 3 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں۔ لاشوں کو سول ہسپتال ژوب منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں بجلی کا کرنٹ لگنے سے ایک خاتون جاں بحق ہوئی ہے۔ پی ڈی ایم اے کا کہناہے کہ صوبے کے تمام اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز اور دیگر اداروں کو کسی بھی ہنگامی صورت سے نمٹنے کے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    پنجاب کے ضلع جھنگ میں مکان نکی چھت گرنے سے 3 افراد جاں بحق ہو گئے ، جاں بحق ہونے والوں میں بچہ بھی شامل ہے،

    بلوچستان کے علاقے قلعہ عبداللہ میں برفباری سے نظام زندگی متاثر ہے۔ شہر کا زمینی رابطہ دیگر علاقوں سے مکمل طور پر منقطع جبکہ بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہے۔ کئی فٹ برف پڑنے سے کوئٹہ چمن شاہراہ بھی بند پڑی ہے۔ بین الاقوامی شاہراہ بھی ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند ہے جس سے افغان ٹریڈ ٹرانزٹ سمیت تمام ٹرانسپورٹ معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ اس صورتحال کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کوئی انتظامات نہیں کئے گئے۔

    حکومت بلوچستان شدید ترین برفباری کے پیش نظر صوبے میں سنو ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس کا نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ ایمرجنسی زیارت، پشین، قلعہ عبداللہ، کچھی، کولپور اور ہرنائی سمیت دیگر متاثرہ علاقوں میں نافذ کی گئی ہے۔

    ادھر بولان، بھاگ ناڑی، ڈھاڈر، بالا ناڑی اور گردونواح میں صبح سے وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو چکا ہے۔ بارش کے باعث فیڈر ٹرپ کرنے سے کئی علاقوں کی بجلی غائب ہے۔ اس صورتحال میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    مچھ اور کولپور میں شدید برف باری سے راستے بند ہو چکے ہیں جنھیں انتظامیہ بحال کرنے میں مصروف ہے۔ راستے بند ہونے سے کئی گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔

    سبی اور گردونواح میں بارش کا نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔ انتظامیہ نے اس صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے صوبے میں شدید برفباری اور اس ہونے والے نقصان کا جائزہ لینے کیلئے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کا دورہ کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    ملک کے بالائی علاقوں کی بات کی جائے تو وہاں برفباری کے باعث نظام زندگی مفلوج ہے۔ ہنزہ کا شاہراہ قراقرم اور بالائی علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔ گلگت میں بھی رابطہ سڑکیں بند ہیں، جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سکردو میں بھی زندگی کا پہیہ جام ہے۔ شہری گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ ٹریفک بھی معطل ہے۔

    سندھ کے علاقے سکھر میں بوسیدہ مکان کی چھت گرنے سے بچی جاں بحق، خواتین اور بچوں سمیت 7 افراد زخمی ہو گئے، لاش اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ حادثہ نیو پنڈ کے علاقے میں پیش آیا، لاش اور زخمیوں کو ملبے سے نکال کر ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔

  • لاہور بارایسویسی ایشن کے نومتختب عہدیداروں کوبلاول بھٹوکی مبارکباد،ساتھ ایک خواہش کا اظہاربھی کردیا

    لاہور بارایسویسی ایشن کے نومتختب عہدیداروں کوبلاول بھٹوکی مبارکباد،ساتھ ایک خواہش کا اظہاربھی کردیا

    لاہور:لاہوربارایسوسی ایشن کے نومتختب عہدیداروں کوبلاول بھٹوکی طرف سے مبارکباد،اطلاعات کےمطابق پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے لاہور بار ایسوسئیشن کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباددی گئی ہے اوران سے حکومت کے خلاف جدوجہد میں تعاون کی خواہش کا اظہاربھی کیاگیا ہے

    باغی ٹی وی کےمطابق پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو نے نومنتخب صدر جی اے طارق خان سمیت تمام عہدیداران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وکلاء برادری ملک میں قانون و آئین کی بالادستی کے لیئے اٹھ کھڑی ہو

    بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ملک میں قانون کی حکمرانی اور پارلیمانی نظامِ جمہوریت کے لیئے جدوجہد کی ہے،پیپلز پارٹی اور وکلاء برادری کا اتحاد ملک میں غیرقانونی و غیر آئینی اقدام کے خلاف آہنی دہوار بن کر کھڑا ہوگا

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مجھے یقین ہے، ایشیا کی سب سے بڑی بار ایسوسئیشن ملک میں آئین پسندی اور جمہوریت کے لیئے اپنا کردار نبھائے گی

  • ارشد انصاری سے ہتک آمیزرویہ ناقابل برداشت عمل ھے۔پاکستان گروپ آف جرنلسٹس

    ارشد انصاری سے ہتک آمیزرویہ ناقابل برداشت عمل ھے۔پاکستان گروپ آف جرنلسٹس

    حافظ آباد۔ ٹریفک وارڈن کا سینئیر صحافی و صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری سے ہتک آمیزرویہ ناقابل برداشت عمل ھے۔صحافیوں کے ساتھ جو رویہ اختیارکیا جارہاہے وہ ملک و قوم کے لیے اچھا شگون نہیں ہے، ان خیالات کا اظہارسیدظہیر عباس شاہ ضلعی صدر پاکستان گروپ آف جرنلسٹس نے صدرپریس کلب لاہورارشد انصاری کے خلاف ٹریفک وارڈنز کی طرف سے بدتمیزی پرکیا ہے

    باغی ٹی وی کےمطابق سید ظہر عباس شاہ نے ارشد انصاری کے ساتھ ٹریفک وارڈنزکیطرف سے غیرمناسب رویے پرکہاکہ ٹریفک وارڈن کے رویہ کی آل پاکستان گروپ آف جرنلسٹس بھرپورمذمت کرتی ہے۔سید ظہیرعباس شاہ نے کہاکہ اس سے پہلے پاکستان کے معروف صحافی سنیئراینکرمبشرلقمان کے ساتھ فواد چوہدری کی طرف سے جوبدتمیزی اوربدمعاشی کی گی ابھی اس کے زخم تازہ ہیں‌

    باغی ٹی وی کےمطابق ضعلی صدرپاکستان گروپ آف جرنلسٹس نے کہا کہ ہےکہ غنڈہ گردی اور معززشہریوں سے بدتمیزی کرنے والے ٹریفک وارڈن معاشرے کا ناسورہیں۔۔صدرلاہور پریس کلب کی صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے خدمات ناقابل فراموش اور قابل تعریف ہیں،غنڈہ گردی کرنے والے وارڈنز کو سلاخوں کے پیچھے نہ دھکیللا گیا تو ملک بھر میں احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں.

  • صدرپریس کلب ارشد انصاری کےساتھ ٹریفک وارڈنزکی بدتمیزی، صحافیوں اورصحافتی تنظیموں کی طرف سے مذمت

    صدرپریس کلب ارشد انصاری کےساتھ ٹریفک وارڈنزکی بدتمیزی، صحافیوں اورصحافتی تنظیموں کی طرف سے مذمت

    لاہور:صدرپریس کلب لاہورارشد انصاری کےساتھ ٹریفک وارڈنزکی بدتمیزی،موبائل بھی چھین لیا، صحافیوں اورصحافتی تنظیموں کی طرف سے مذمت،اطلاعات کے مطابق لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کے ساتھ افتخار نامی ٹریفک وارڈن اور ساتھی وارڈنز کی جانب سے بدتمیزی کرنےاورموبائل فون چھیننے کی شدید اور پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے

    باغی ٹی وی ذرائع کےمطابق لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کے ساتھ افتخار نامی ٹریفک وارڈن اور ساتھی وارڈنز کی جانب سے بدتمیزی کرنے اور موبائل فون چھیننے کی شدید اور پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز ایسوسی ایشن(ایمرا) کے صدر محمد آصف بٹ، سینئر نائب صدر جوادملک، نائب صدر عرفان ملک، سیکرٹری ایمرا سلیم شیخ، ایڈیشنل سیکرٹری نعمان شیخ، فنانس سیکرٹری ارشد چوہدری، سینئر جوائنٹ سیکرٹری کنور عزیراسے صحافت اورصحافیوں کی توہین قرار دیا ہے اورکہا ہےکہ پہلے وفاقی وزیرکی طرف سے یہ انداز اختیار کیا گیا ہے اورٹریفک وارڈنز کے ذریعے بدمعاشی کی تاریخ دہرائی جارہی ہے،

    ٹریفک وارڈنز کی طرف سے صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر ایمرا کے جوائنٹ سیکرٹری قادر خواجہ،سیکرٹری انفارمیشن شفیق شریف، آفس سیکرٹری افضل سیال، ممبران گورننگ باڈی روباعروج، آصف خاور، ثاقب سلیم بٹ،منصوربٹ،ذمل خان اسرارخان نوین علی ، حامدخان،شاکراعوان،صادق بلوچ،احمرکھوکھر، محمدعبداللہ،برہان الدین، یار محمد، رانا وحید حسین،عباس حیدر، عرفان ڈوگر، سید عمران شمسی، ابوبکربلال،علی وقار، شکیل ملک اور محمد وقاص نے لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کے ساتھ افتخار نامی ٹریفک وارڈن اور ساتھی وارڈنز کی جانب سے بدتمیزی کرنے اور موبائل فون چھیننے کی شدید اور پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق ایمرا صدر محمد آصف بٹ نے آئی جی پنجاب پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹریفک وارڈنز کی جانب صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری کے ساتھ بدتمیزی اور نازیبا رویہ اختیار کرنے والے ٹریفک وارڈنز کے خلاف سخت محکمانہ کاروائی کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

    آئی جی پنجاب پولیس بے لگام ٹریفک وارڈن افتخارسمیت اس کے ساتھیوں کو لگام ڈالیں۔ کیونکہ موجودہ سی ٹی او لاہور جب سے تعینات ہوئے ہیں تب سے صحافتی برادری کو ٹریفک وارڈنز کی جانب سے آئے روز بدتمیزی اور نازیبا رویہ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آئی جی پنجاب پولیس اس پر فوری طور پر نوٹس لیں اور ذمہ دار وارڈنز کے خلاف فوری طور پر محکمانہ کاروائی عمل میں لائیں۔

    لاہور پریس کلب سے تعلق رکھنے والی تمام صحافتی تنظیموں اورشخصیات نے کہا ہے کہ ہم آئی جی پنجاب پولیس سمیت تمام ذمہ داران کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری کے ساتھ بدتمیزی اور نازیبا رویہ اختیار کرنےوالے وارڈنز کے خلاف کاروائی عمل میں نہ لائی گئی تو ایمرا ، لاہور پریس کلب، پی یو جے اور پی ایف یو جے سمیت تمام صحافتی تنظیموں کے ساتھ ملکر آئی جی پنجاب پولیس سمیت تمام ذمہ داران کے دفاتر کا گھیراوکرے گی اور گھیراوتب تک جاری رہے گا جب تک ذمہ دار وارڈنز کے خلاف کاروائی عمل میں لانے سمیت آئندہ اس طرح کےواقعات کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں ۔

  • پنجاب میں نمبر داری نظام کو فعال بنانے کا فیصلہ

    پنجاب میں نمبر داری نظام کو فعال بنانے کا فیصلہ

    پنجاب میں نمبر داری نظام کو فعال بنانے کا فیصلہ

    باغی ٹی وی پنجاب میں نمبرداری نظام کو فعال بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا، وزیراعلیٰ نے نمبرداری نظام کو فعال بنانے کے لئے اقدامات کی منظوری دے دی۔ پینتالیس ہزار کے قریب نمبر داروں کو اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔
    بزدار سرکار پنجاب میں تبدیلی کے خواہاں، صوبے میں نمبرداری نظام فعال بنانے کا فیصلہ، وزیراعلی عثمان بزدار نے اقدامات کی منظوری دے دی۔ نظام متحرک کر کے نمبردار کو اہم حکومتی اقدامات میں پارٹنر بنایا جائے گا۔ 14کے قریب اہم ذمہ داریاں نمبرداری نظام کے تحت سرانجام دی جائیں گی۔ 45 ہزار کے قریب نمبرداروں کو اہم ذمہ داریاں ملیں گی۔نمبرداری نظام کو فعال بنا کر سرکاری واجبات کی وصولی کوتیز کیا جائے گا۔ ناجائز تجاوزات، سرکاری عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان کی رپورٹ بھی نمبرداری نظام کے ذمے ہو گی۔

    امریکی حملے میں ایران کے قاسم سلیمانی،عراقی ملیشیا کے کمانڈر جاں بحق، ایران نے دیا امریکہ کو سخت ردعمل

    قاسم سلیمانی کو ٹرمپ کی ہدایت پر مارا گیا، پینٹا گون، ٹرمپ نے کیا کہا؟

    ایرانی جنرل کو مارنے کے بعد امریکہ نے دی شہریوں کو اہم ہدایات

    جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت، امریکہ نے خطے کا امن داؤ پر لگا دیا، ایسا کس نے کہا؟

    ایرانی جنرل پر امریکی حملہ، چین بھی میدان میں آ گیا، بڑا مطالبہ کر دیا

    تیسری عالمی جنگ، امریکا کے خطرناک ترین عزائم، سابق امریکی وزیر خارجہ کے انٹرویو نے تہلکہ مچا دیا

    فصلوں کی گرداوری اور ضلع کے کلکٹر کے احکامات کی تعمیل نمبرداروں پر لازم ہو گی۔ حکام کی جانب سے جاری سمنوں میں نمبردار سرکاری حکام کی معاونت کریں گے۔ کسانوں کو جدید کاشتکاری اوران کے بچوں کوسکولز کی جانب راغب کرنا بھی نمبرداری نظام کا حصہ ہو گا، سرکاری کھالے یا نہر میں شگاف یا چوری کی صورت میں اطلاع کرنا بھی نمبردار کے فرائض میں شامل ہو گا۔

  • کانسٹیبل نے ڈانٹنے پر ڈی آئی جی کو چھریاں مار کر زخمی کردیا، اعلیٰ حکام کانسٹیبل کے ردعمل پرحیران

    کانسٹیبل نے ڈانٹنے پر ڈی آئی جی کو چھریاں مار کر زخمی کردیا، اعلیٰ حکام کانسٹیبل کے ردعمل پرحیران

    لاہور:کانسٹیبل نے ڈانٹنے پر ڈی آئی جی کو چھریاں مار کر زخمی کردیا، اعلیٰ حکام کانسٹیبل کے ردعمل پرحیران اوروجہ تنازعہ کی وجوہات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیاہے، پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں کانسٹیبل نے ڈانٹنے پر ڈی آئی جی کو چھریاں مار کر زخمی کر دیاتھا اوربعد ازاں ڈی آئی جی کو ہستپال پہنچادیا گیا

     

    یورپی یونین کا ایران پر فوری پابندیاں عائد نہ کرنے کا فیصلہ

    لاہور پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں انوکھا واقعہ پیش آیا ہے جہاں کانسٹیبل نے ڈانٹ ڈپٹ کرنے پر ڈی آئی جی شہزاد کمال صدیقی کو چھریاں مار کر زخمی کردیا۔ واقعے کے بعد ڈی آئی جی کو ہسپتال منتقل کردیا گیا جب کہ پولیس کے اعلیٰ افسران بھی ہسپتال پہنچ گئے۔

    ”شوہر نہاتا نہیں ہے“، بیوی نے طلاق لینے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا

    پولیس حکام نے ہستپال ذرائع کے حوالے سے کہا ہےکہ ڈی آئی جی کی حالت خطرے سے باہر ہے جس کے بعد انہیں ڈسچارج کردیا گیا، بعد ازاں بلڈپریشرکم ہونے پر دوبارہ داخل کرلیا گیا اور پھر طبیعت بہتر ہونے پر انہیں دوبارہ گھر منتقل کردیا گیا۔دوسری جانب ڈی آئی جی شہزاد کمال صدیقی پر حملہ کرنے والے کانسٹیبل رفیق کو قلعہ گجر سنگھ پولیس نے گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا۔

    ترکی اور امریکہ میں شدید زلزلہ ، لوگ گھروں سے باہرکھلے میدانوں کیطرف بھاگنے لگے

  • کشمیر بھارتی فوج کا قبرستان لازما  بنےگا، سراج الحق کا دبنگ بیان

    کشمیر بھارتی فوج کا قبرستان لازما بنےگا، سراج الحق کا دبنگ بیان

    کشمیر بھارتی فوج کا قبرستان بنے گا، سراج الحق کا دبنگ بیان

    لاہور: باغی ٹی وی .مقبوضہ کشمیر میں 161 دنوں سے جاری محاصرے اور لاک ڈاؤن پر جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ کشمیر بھارتی فوج کے لئے قبرستان ضرور بنے گا۔

    منصورہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب اس ملک کو منظم جدوجہد و انقلاب کی ضرورت ہے، ہمیں دشمن سے کشمیر کو آزاد کرانا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کا ماننا ہے کہ سکون قبر میں ملے گا میں لیکن میں کہتا ہوں سکون دنیا میں بھی حاصل ہو سکتا ہے۔

    سراج الحق نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قوم کو مایوس کررہی ہے، یہ پیغام دے رہے ہیں کہ کبھی بھی پاکستان پرسکون نہیں بنے گا لیکن میں انہیں بتا دوں کہ ہم خوشحال پاکستان بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں بھارتی آرمی چیف کو کہنا چاہتا ہوں کہ ہم آج بھی سومنات کو پاش پاش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نے مجبوریوں کا ساتھ دیا، ہر روز ایک این آر او اسلام آباد میں نظر آتا ہے، نیب قوانین تبدیلی کے بل میں بھی این آر او موجود ہے۔

    واضح رہے کہ مقبوضہ وادی کو جیل میں تبدیل ہوئے 161 روز ہوگئے، ایک ہفتے کے دوران 36 سے زائد نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔ امریکی نائب معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا، سری نگر میں حریت کانفرنس کے زیر اہتمام طلبا نے بھارت کے خلاف مظاہرہ کیا۔
    مقبوضہ وادی کے باسیوں کو مسلسل قید میں رہتے ہوئے 161 روز ہو گئے، دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ ناہونے کے برابر ہے، سری نگر میں حریت کانفرنس کے زیر اہتمام طلبا نے مظاہرہ کیا۔ آزادی کے متوالوں نے مسئلہ کشمیر پر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش پر بھارت کی مذمت کی۔
    مقبوضہ وادی کو جیل میں تبدیل ہوئے 161 روز بیت گئے، مزید کتنے کشمیری گرفتار کرلیے،اہم رپورٹ

  • حریم شاہ پہنچ گئی "محفوظ "مقام پر، مفتی عبدالقوی نے باغی ٹی وی سے گفتگو میں کیا حریم بارے اہم انکشاف

    حریم شاہ پہنچ گئی "محفوظ "مقام پر، مفتی عبدالقوی نے باغی ٹی وی سے گفتگو میں کیا حریم بارے اہم انکشاف

    حریم شاہ پہنچ گئی "محفوظ "مقام پر، مفتی عبدالقوی نے حریم سے ملاقات بارے کیا باغی ٹی وی سے گفتگو میں اہم انکشاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کی سوشل میڈیا پر مفتی عبدالقوی کے ہمراہ تصویر وائرل ہو چکی ہے، صارفین کا کہنا ہے کہ حریم شاہ اب صحیح اور محفوظ مقام پر پہنچ چکی ہیں،

    تحریک انصاف کے رہنما مفتی عبدالقوی نے باغی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس جب بھی خواتین آتی ہیں وہ تصاویر بناتی ہیں میں حریم شاہ کو نہیں جانتا تھا میں جب عرب امارات سے واپس آیا ہوں تو سپر مارکیٹ میں کچھ دوست کھانے کے لئے جانے لگے تو خواتین کی ایک ٹولی آئی اور انہوں نے کہا کہ ہم نے تصاویر بنانی ہیں.

    مفتی عبدالقوی کا مزید کہنا تھا کہ 7 دسمبر کو عرب امارات سے واپس آیا ہوں، 25 نومبر کو گیا تھا ، اور یہ تصویر جو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے یہ اسلام آباد کی ہے کچھ دوستوں نے کھانا رکھا تھا سپر مارکیٹ کے ایک ریسٹوینٹ میں اوپر کی منزل میں کھانا تھا، جب میں گاڑی سے اترا تو پانچ سے چھ خواتین نے ایک ایک کر کے سیلفی بنائی،

    مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ تصویر میں حریم شاہ مجھ سے الگ کھڑی ہیں، اور تصویر میں جو ستون ہے اسکی وجہ سے میں نے مقام پہچانا کہ یہ سپر مارکیٹ کی تصویر ہے.

    باغی ٹی وی نے جب سوال کیا کہ کیا آپ کی صرف تصویر ہے یا کوئی ویڈیو بھی حریم شاہ کے ساتھ آنے والی ہے کے جواب میں مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ میرا خیال یہ ہے کہ صرف تصویر ہے ،ایسی کوئی ویڈیو نہیں ہو گی جو وہ سامنے لا سکیں ممکن ہے کوئی ایک آدھ منٹ کی ان خواتین نے ویڈیو بنا لی ہو اس میں اگر کوئی بات ہوئی تو یہی ہو گی کہ میں انہیں بتا رہا ہوں گا کہ میں رات عرب امارات سے واپس پہنچا ہوں اور حال احوال بارے بات ہو رہی ہو گی.

    مفتی عبدالقوی کا مزید کہنا تھا کہ میرا جس دین سے تعلق ہے اس میں پردہ ڈالنے کا حکم ہے ، میں نے حریم شاہ کو ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ اپنی نسب کو دیکھیں آپ پاکستان کی بیٹی ہو ایسا کام نہ کرو، شرم و حیا سے کام لو، یہ باتیں میں نے کی تھیں.

    مفتی عبدالقوی کا کہنا ہے کہ حریم شاہ کو نہیں جانتا تھا کچھ خواتین نے تصویر بنائی تا ہم 7 دسمبر تک حریم شاہ خبروں میں ان تھیں اور حریم شاہ کے حوالہ سے پاکستانی میڈیا میں خبریں چل چکی تھی کیونکہ 23 اکتوبر کو حریم شاہ وزارت خارجہ کے آفس گئی تھیں جس کا میڈیا میں خوب شور ہوا تھا اور انکوائری کا بھی کہا گیا تھا ،حریم شاہ کی مفتی عبدالقوی سے ملاقات ماہ دسمبر میں ہوئی تو ایسا تو نہیں کہ مفتی صاحب حریم شاہ کو پہچانتے نہ ہوں.

    واضح رہے کہ حریم شاہ کی پاکستان کے مختلف سیاستدانوں کے ساتھ ملاقاتیں تو ہیں لیکن حریم شاہ نے اب تک جو تصاویر وائرل کی ہیں وہ صرف تحریک انصاف کے رہنماؤں کے ساتھ بنوائی جانے والی تصاویر وائرل کی ہیں، حریم شاہ کی وزیراعظم عمران خان سے لے کر جہانگیر ترین، فواد چوھدری، فیاض الحسن چوہان، شاہ محمود قریشی، گورنر پنجاب سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ تصویریں سامنے آچکی ہیں.

    حریم شاہ چند روز سے خبروں میں ہیں اور انہوں نے آڈیو ویڈیو لیکس کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے، وہ دبئی میں تھی تا ہم تین دن قبل اپنی دوست صندل خٹک کے ہمراہ پاکستان پہنچی، اب وزیراعظم نے حریم شاہ کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے کہ یہ کون ہے اور اس کے کیا مقاصد ہیں،.

    حریم شاہ کی دبئی میں کر رہے ہیں بھارتی پشت پناہی، مبشر لقمان نے کئے اہم انکشاف

    حریم شاہ کو کریں گے بے نقاب، کھرا سچ کی ٹیم کا بندہ لڑکی کے گھر پہنچا تو اسکے والد نے کیا کہا؟

    مبشر صاحب ،گند میں نہ پڑیں، ایس ایچ او نے حریم شاہ کے خلاف مقدمہ کی درخواست پر ایسا کیوں کہا؟

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    حریم شاہ خود کو پاکستانی اور پی ٹی آئی کی کہتی ہیں تا ہم انہوں نے سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے خلاف ایک محاذ بنایا ہوا ہے ، حریم شاہ روزانہ ٹویٹ کر کے پھر ڈیلیٹ کر دیتی ہے، کہتی ہے عمران خان کو دھمکی نہیں دی لیکن تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف شاید مریم نواز اتنے ٹویٹ نہیں کرتی تھی جتنے حریم شاہ کے اکاؤنٹ سے ہوتے ہیں اس کے باوجود پنجاب حکومت کے فیاض الحسن چوہان حریم شاہ سے رابطے میں ہیں.

    حریم شاہ باز نہ آئی، وفاقی وزیر کی ویڈیو لیک کرکے شرمناک الزامات عائد کر دیئے

    شیخ رشید کی ویڈیو لیک، حریم شاہ پھر میدان میں آ گئی؟ کیا کہا؟

    عمران خان کی ویڈیو لیک کر دوں گی، حریم شاہ کی نئی ٹویٹ کے بعد کھلبلی مچ گئی

    میرا پیچھا چھوڑ دیں، حریم شاہ کس کی منتیں کرنے لگ گئی؟ سب حیران رہ گئے

    دوسروں کی ویڈیو لیک کرنیوالی حریم شاہ کی ایسی "حقیقت” سامنے آئی کہ سب حیران رہ گئے

    شیخ رشید نے نکاح متعہ کیا ہے، حریم شاہ کے انکشاف پر سب حیران

    حریم شاہ کے الزامات، شیخ رشید نے کونسا قدم اٹھا لیا؟ سب حیران رہ گئے

    شیخ رشید نے خاموشی توڑ دی،حریم شاہ کو کال کر کے کیا کہا؟ ریکارڈنگ منظر عام پر

    حریم شاہ کی "لیکس” کا سلسلہ جاری، فیاض الحسن چوہان کی کال ریکارڈنگ شیئر کر دی

    شیخ رشید کی کردار کشی، حریم شاہ کو کس نے دیا ٹاسک؟ باغی ٹی وی سب سامنے لے آیا

    حریم شاہ نے کس ملک کی شہریت کے لئے اپلائی کر دیا؟ سن کر فیاض الحسن چوہان پریشان

    ننگے ہونے کے لئے تیار ہو جاؤ، حریم شاہ نے کس کو شرمناک دھمکی دی؟

    سراج الحق بھی……حریم شاہ نے کیا تہلکہ خیر انکشاف

    حریم شاہ کی کسی شخص کے گھٹنے پر بیٹھنے کی تصویر وائرل، وہ شخص کون؟ حریم نے خود بتا دیا

    حریم شاہ کی "لیکس” زرتاج گل بھی میدان میں آ گئیں، کیا کہا؟ جان کر ہوں حیران

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے طیارے سے چوری کرنے اور بعد میں معافی مانگنے والی ٹک ٹاک گرل حریم شاہ دفتر خارجہ کے کمیٹی روم میں پہنچ گئی تھی جس کا سوشل میڈیا پر چرچاہوا، ٹویٹر پر ویڈیو جاری ہونے کے بعد وزیراعظم ہاؤس نے نوٹس لیا ہے اور تحقیقات کا حکم دیا تھا تا ہم تحقیقاتی رپورٹ ابھی تک سامنے نہیں آ سکی

    غیر سنجیدہ خاتون حریم شاہ وزارت خارجہ کے اہم کمیٹی روم میں کیسے پہنچیں ؟ کس کے ساتھ گئیں ؟ اس کا ذمہ دار کون ہے سوالات اٹھ گئے، وزیراعظم ہاؤس کے نوٹس لینے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا تا ہم کیا تحقیقات ہوئیں اور کس کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا کچھ معلوم نہ ہو سکا

    حریم شاہ، صندل خٹک نےمشبر لقمان کے خلاف سازش رچانےکا اعتراف کرتے ہوئے معافی کی درخواست کردی

    حریم شاہ کی ویڈیو جاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق پر انگلیاں اٹھی تھیں،صارفین کا کہنا ہے کہ وزارت خارجہ کمیٹی روم میں حریم شاہ کو لے جانے میں نعیم الحق کا ہاتھ ہو سکتا ہے تاہم تحقیقات کے بعد سب سامنے آئے گا.

    معروف اینکر مبشر لقمان کے خلاف سازشی عناصر ننگے ہوگئے ، سازش فیاض الحسن چوہان نے تیار کی ، سازشی کرداروں نے راز اگل دیئے

    سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فرحان ورک نے ٹویٹر پر کہا کہ جو بھی حریم شاہ کو ایسی حساس جگہوں پر لے کر گیا اس کی تفتیش کی ضرورت ہے۔ اگر حریم شاہ جا سکتی ہے تو معلوم نہیں کہ کون کون پہلے بھی ایسے جا چکا ہے؟ حریم شاہ کی تو ٹک ٹاک سے پتہ چلا۔ یہ انتہائی حساس نوعیت کا مسلہ ہے۔ اس کی مکمل چیکنگ کی ضرورت ہے