Baaghi TV

Category: لاہور

  • وزیر اعلیٰ شکایت سیل بند؛ سائیلین  پریشان ، آخر کیوں ہوا بند یہ شکایت سیل !

    وزیر اعلیٰ شکایت سیل بند؛ سائیلین پریشان ، آخر کیوں ہوا بند یہ شکایت سیل !

    لاہور : وزیراعلیٰ شکایت سیل بند کردیا گیا ، شکایت سیل کی بندش کے بارے میں متضاد خبریں‌ ، اطلاعات ہیں کہ پی ٹی آئی کی اندرونی چپقلش یا کوئی اور وجہ، وزیر اعلیٰ شکایت سیل وقتی طور پر بند کر دیا گیا، چئیرمین وزیر اعلیٰ شکایت سیل ملک اسد کھوکھر نے استعفیٰ دے دیا۔

    ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ شکایت سیل کے چیئرمین اسد کھوکھر نے استعفی وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھجوا دیا ہے، استعفے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ شکایت سیل کی ذمہ داریوں کے باعث انکا حلقہ متاثر ہو رہا ہے، پی پی 168 اور این اے 136 کے حلقے کے مسائل حل کرنے کے لئے وقت دینا چاہتا ہوں, شکایت سیل کی ذمہ داریوں کی وجہ سے حلقے میں وقت دینا مشکل ہو رہا تھا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ دو دنوں سے شکایات سیل میں کوئی کام نہیں ہوسکا، شکایات سیل میں درخواست گزار پریشان ہیں کہ انکی شکایتوں پر شنوائی کیسے ہوگی- ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین شکایت سیل اسد کھوکھر اور وائس چیئرمین ناصر سلمان کے درمیان محاذ آرائی کافی عرصے سے چلی آرہی تھی جس بنا پر اسد کھوکھر نے استعفی دیا۔

  • بہت بڑا جھوٹ  پکڑا گیا ، شوکاز نوٹس جاری ، اتنے بڑے جھوٹ کے ہر طرف چرچے

    بہت بڑا جھوٹ پکڑا گیا ، شوکاز نوٹس جاری ، اتنے بڑے جھوٹ کے ہر طرف چرچے

    لاہور : جھوٹ ، جھوٹ ہی ہوتا ہے ، اور جھوٹ بالآخر پکڑا بھی جاتا ہے ، ایسا ہی ایک جھوٹ میٹروپولیٹن کارپوریشن کا پکڑا گیا ، اطلاعات کے مطابق میٹروپولیٹن کارپوریشن کا 24 شاہراہوں میں سے 11 شاہراہوں پر 1900 لائٹس کو مکمل فعال کرنے کا دعویٰ جھوٹا نکلا، ناقص کارکردگی پر ایس ڈی او محمد زاہد کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق لاہور میٹروپولیٹن کارپوریشن کے شعبہ سٹریٹ لائٹس نے 11 شاہراہوں کو مکمل آپریشنل کرنے کا دعویٰ کیا تو چیف آفیسر میٹروپولیٹن کارپوریشن سید علی عباس بخاری مانیٹرنگ کی، اس دوران کئی سٹریٹ لائٹس خراب نکلی، چیف آفیسر میٹروپولیٹن کارپوریشن سید علی عباس بخاری کی ہدایت پر ڈائریکٹر ایڈمن امین اکبر چوپڑا نے شوکاز نوٹس جاری کردیا۔

  • شریف فیملی کیخلاف وعدہ معاف گواہوں کی درخواست ضمانت پر سماعت

    شریف فیملی کیخلاف وعدہ معاف گواہوں کی درخواست ضمانت پر سماعت

    شہباز شریف فیملی کے خلاف وعدہ معاف گواہوں کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہبازشریف،حمزہ شہبازاوردیگرکے خلاف وعدہ معاف گواہوں کی ضمانت کی درخواستوں پرسماعت ہوئی، لاہور ہائی کورٹ نے نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کرلیا .

    درخواست گزارشاہد رفیق اور آفتاب محمود نے کہا کہ حمزہ شہباز سمیت دیگر کی کرپشن میں سہولت کار کا کردار ادا کیا،عثمان انٹرنیشنل نامی کمپنی سے رقوم شریف فیملی کے اراکین کو منتقل کیں، جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، درخواست ضمانت منظور کی جائے،

    شریف فیملی مشکلات کا شکار،شہباز شریف کے بعد کس کی جائیداد ضبط ہونے جا رہی ہے؟

    واضح رہے کہ حمزہ شہباز اور سلمان شہباز منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار آفتاب محمود اور شاہد رفقی کی وعدہ معاف گواہی کی درخواست چیئرمین نیب نے منظور کر لی ہے، لاہور کی احتساب عدالت میں منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی تونیب نے گرفتار ملزمان آفتاب محمود اور شاہد رفیق کو عدالت میں پیش کیا ،نیب نے دوران سماعت عدالت کو بتایا کہ گرفتارملزمان آفتاب محمود اور شاہد رفیق وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں،چیئرمین نیب نے ملزموں کی وعدہ معاف گواہ بننے کی درخواست منطور کرلی ہے ،

    دونوں ملزمان نے ایک ارب کے لگ بھگ منی لانڈرنگ کی، ملزم آفتاب محمود کے بیان کے مطابق اس نے یوکے و دیگر کمپنیوں سے شریف فیملیز کو بھاری رقوم منتقل کیں،آفتاب محمود نے اعتراف کیا کہ اس نے بے نامی افراد کے نام پر ٹی ٹیز بھی بھجوائیں،

    چند روز قبل وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ حسن،حسین نواز،سلیمان شہباز،علی عمران اشتہاری مجرم ڈکلیئر ہوچکےہیں، حسن،حسین نواز،سلیمان شہبازواپس نہ آئےتوجائیدادیں ضبط ہوسکتی ہیں،

    شہباز شریف فیملی کو 10 کمپنیوں سے کتنے پیسے بھیجے گئے؟ نیب نے رپورٹ جمع کروا دی

  • حافظ سعید کیخلاف مقدمات، لاہور ہائیکورٹ نے سی ٹی ڈی سے جواب طلب کر لیا

    حافظ سعید کیخلاف مقدمات، لاہور ہائیکورٹ نے سی ٹی ڈی سے جواب طلب کر لیا

    جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کے خلاف درج مقدمات کے اخراج کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے سی ٹی ڈی سے جواب طلب کر لیا

    میں نے تو حافظ محمد سعید کے مسلح‌ افراد کبھی نہیں‌ دیکھے، مبشر لقمان نے ایسا کیوں‌ کہا؟ اہم خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں جماعۃ الدعوہ کے سربراہ حافظ محمد سعید ودیگر رہنماؤں کے خلاف درج مقدمات کے اخراج کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس پر مشتمل دو رکنی بنچ نے درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے سی ٹی ڈی کے ایڈیشنل آئی جی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا

    حافظ محمد سعید کے جوڈیشیل ریمانڈ میں‌ ہوئی توسیع

    گزشتہ سماعت پر آفس ہائی کورٹ نے درخواست کے ساتھ مساجد کی تصاویر لف کرنے پر اعتراض لگا دیا تھا . درخواستگزار کی طرف سے اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ پیش ہوئے.درخواست میں وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور ریجنل ہیڈ کوارٹر سی ٹی ڈی کو فریق بنایا گیا ہے ، درخواست جماعت الدعوہ کی ذیلی تنظیم الانفال ٹرسٹ کے سیکرٹری ملک ظفر اقبال نے حافظ سعید سمیت 65 رہنماؤں کیخلاف درج مقدمات کے اخراج کے لیے درخواست دائر کی ہے

    حافظ محمد سعید کی گرفتاری کیوں ہوئی؟ ترجمان جماعةالدعوة نے پول کھول دیا

    درخواست میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے حافظ سعید پر لشکر طیبہ کا سربراہ ہونے کا بے بنیاد الزام لگایا اور مقدمہ درج کیا، حافظ سعید کا القاعدہ یا دوسری ایسی کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے،انڈین لابی کا حافظ سعید پر ممبئی حملوں سے متعلق بیان حقائق کے منافی ہے، حافظ سعید ریاست کے خلاف اقدمات میں ہرگز ملوث نہیں ہیں حافظ سعید کا لشکر طیبہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ حافظ سعید اور دیگر پر درج کی گئیں ایف آئی آر کالعدم قرار دی جائیں۔

     

    واضح رہے کہ سی ٹی ڈی نے حافظ محمد سعید کو لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے گرفتار کیا تھا. انہیں گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا تھا. جس پر عدالت نے جوڈیشیل ریمانڈ پر حافظ محمد سعید کو جیل منتقل کر دیا تھا.

  • خلع کے بغیر دوسری شادی، شوہر بیوی کے خلاف عدالت پہنچ گیا

    خلع کے بغیر دوسری شادی، شوہر بیوی کے خلاف عدالت پہنچ گیا

    خلع کے بغیر دوسری شادی کرنے والی بیوی کے خلاف شوہرنے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

    خیبرپختونخواہ میں ایک اور خواجہ سرا قتل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں امتیاز نامی سائل نے کہا کہ تین بچوں کی ماں فوزیہ امتیاز نے جعلی طلاق ظاہر کرکے دوسرے شخص سے شادی کرلی ،شوگر کے باعث بینائی چلی گئی تو بیوی نے ساتھ چھوڑ دیا،

    دیرینہ دشمنی، چار افراد کو آج ہی جیل سے رہائی ملی تو مخالفین نے قتل کر دیا

    درخواست گزارسائل امتیاز نے عدالت میں دی گئی درخواست میں لکھا کہ بیوی سے بے حد پیار کرتا ہوں مگر معذور ہونے کے بعد بیوی ساتھ چھوڑ گئی، درخواست میں مزید لکھا گیا کہ متعلقہ یونین کونسل میں بھی طلاق سے متعلق کوئی دستاویزاتی ثبوت نہیں، عدالت قانونی کاروائی کرے.

     

    آخر کار آپ مجھے پھانسی گھاٹ تک لے ہی آئے،ملزم عاطف عباس کا تفتیشی افسر سے مکالمہ

  • رانا ثناء اللہ کو گھر سے کھانا دینے کی درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    رانا ثناء اللہ کو گھر سے کھانا دینے کی درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    سیشن کورٹ لاہورنے رانا ثنااللہ کو جیل میں گھر کا کھانا دینے کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا

    رانا ثناء اللہ نے منشیات سمگلنگ سے کتنی پراپرٹی بنائی؟ رپورٹ جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عدالت نےانسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ایم ایس کو رانا ثنااللہ کا میڈیکل کرنے کا حکم دے دیا ،عدالت نے حکم دیا کہ ہسپتال کا ایم ایس رانا ثناء اللہ کا میڈیکل معائنہ کرکے رپورٹ جمع کروائے کہ رانا ثنااللہ کو گھر کا پرہیزی کھانا دینے کی ضرورت ہے یا نہیں ،عدالت نے حکم دیا کہ ایک ہفتے میں رپورٹ جمع کروائی جائے.

    رانا ثناء اللہ کو عدالت پہنچا دیا گیا، ایف آئی آر میں کیا لکھا؟ جان کر ہوں حیران

    ڈیوٹی سیشن جج لاہور امجد علی شاہ نے رانا ثنااللہ کی درخواست پر فیصلہ سنایا

    جیل حکام کی جانب سے عدالت میں کہا گیا تھا کہ رانا ثناء اللہ کو بہترین کھانا دیا جا رہا ہے، رانا ثناء اللہ کا جیل میں روزانہ چیک اپ ہوتا ہے اور اسی بنیاد پر کھانا دیا جاتا ہے، جیل حکام نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا کہ رانا کی طبیعت بالکل ٹھیک ہے. رانا ثناء اللہ کے وکیل فرہاد علی شاہ نے عدالت میں موقف اپنایا تھا کہ رانا ثناء اللہ کی صحت ٹھیک نہیں اس لئے انہیں گھر کا کھانا جیل میں دینے کی اجازت دی جائے،.عدالت نے وکیل کو متعلقہ فورم پر رجوع کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں جیل حکام سے رابطہ کیا جائے.

    وزارت اینٹی نارکوٹکس نے رانا ثناء اللہ کے خلاف پولیس کو خط لکھ دیا. اہم خبر

    واضح رہے کہ رانا ثناء اللہ کو اے این ایف نے گرفتار کیا تھا، گرفتاری کے بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گیا ،عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر رانا ثناء اللہ کو جیل بھجوا دیا تھا. رانا ثنا اللہ کو جیل میں عام قیدی کی سہولیات میسر ہیں ،رانا ثنااللہ کو منشیات فروشوں کے مخصوص سیل میں رکھا گیا ہے ، منشیات فردوشوں کو جیل میں سہولیات میسر نہیں ہوتیں ،جیل قوانین کے مطابق منشیات فروشوں کو بی کلاس نہیں دی جاتی .

    رانا ثناء اللہ کے پروڈکشن آرڈر کا ایک بار پھر مطالبہ آ گیا

    رانا ثناء اللہ کے خلاف درج ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ جب رانا ثناء اللہ کو روکا گیا تو انہوں نے بدتمیزی کی اور گریبان پکڑے، رانا ثناء اللہ نے ناجائز اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے منشیات سمگل کرنے کی کوشش کی، رانا ثناء اللہ کی گاڑی سے 21 کلو منشیات ملی جس میں سے 15 کلو ہیروئن بھی شامل تھی، رانا ثناء اللہ کے خلاف مخبر کی اطلاع پر کاروائی کی گئی خبرنےاطلاع دی راناثنااللہ کی گاڑی میں منشیات ہے راناثنااللہ کی گاڑی کوروکنے کیلئےحکمت عملی مرتب کی گئی موٹروے سےآنیوالی تمام گاڑیوں کی چیکنگ کی گئی

  • آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات ،گوہر اعجاز گروپ ہوا فتحیاب

    آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات ،گوہر اعجاز گروپ ہوا فتحیاب

    آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں گوہر اعجاز گروپ جیت گیا۔ عادل بشیر چئیرمین، عبد الرحیم ناصر سینئر نائب صدر اورامان اللہ قاسم سنٹرل چئیرمین منتخب ہو گئے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں گوہر اعجاز گروپ جیت گیا ہے۔ گوہر اعجاز گروپ کے عادل بشیر چئیرمین، عبد الرحیم ناصر سینئر نائب صدر اورامان اللہ قاسم سنٹرل چئیرمین منتخب ہو گئے۔

    اپٹما لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران گروپ چئیرمین گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ وہ دھاگے یا کپڑے کی نہیں بلکہ معیشت کو سب سے زیادہ سہارا دینے والی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی نمائندگی کرتے ہیں۔ حکومت انہیں توانائی پالیسی دے۔

    نومنتخب چئیرمین عادل بشیر اور سنٹرل چئیرمین امان اللہ قاسم نے کہا کہ کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو پانچ سالہ گیس پالیسی دئیے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے، ہر ماہ گیس کے آنے والے زیادہ بل کو درست کروانے کے لئے ایس این جی پی ایل کے پاس جانا پڑتا ہے۔ اس ایشو سے حکومت نجات دلوائے تاکہ انڈسٹری کو پاؤں پرکھڑا کرسکیں،

    گوہر اعجاز نے تمام جیتنے والے عہدیداران کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے وہ انڈسٹری کی بہتری کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں گے.

  • کشمیر پر عمران خان کا جراتمندانہ موقف بھارت کو جھکنے پر مجبور کردے گا، وزیر اعلیٰ پنجاب

    کشمیر پر عمران خان کا جراتمندانہ موقف بھارت کو جھکنے پر مجبور کردے گا، وزیر اعلیٰ پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کشمیریوں کا مقدمہ جرات،بہادری اور مدلل انداز میں پیش کیا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے دنیا کے سامنے مسئلہ کشمیر کی حقیقت بیان کی ہے، وزیراعلی نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے معصوم کشمیریوں کی ترجمانی کا حق ادا کیا ہے، مودی سرکارکی مکاری اور عیاری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہے، انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر پر عمران خان کاجرات مندانہ موقف بھارت کو جھکنے پر مجبور کردے گا،

    انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان ہی واحد لیڈر ہیں جو مسئلہ کشمیر کے حل کی فہم و فراست رکھتے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہاکہ کشمیری عوام کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے، جمعہ کے روز کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کریں گے، قوم کشمیریوں کیلئے جو ق درجوق باہر نکلے گی،

  • لاہور، نوجوان کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی، لوگ بچانے کی بجائے ویڈیو بناتے رہے

    لاہور، نوجوان کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی، لوگ بچانے کی بجائے ویڈیو بناتے رہے

    لاہور کے تھانہ باٹاپورکے علاقہ میں 35 سالا نوجوان کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگانے کا واقعہ پیش آیا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق جس نوجوان کو آگ لگائی گئی وہ سرگودھا کا رہائشی ہے، نعیم نامی یہ نوجوان کام کی غرض سےلاہورآیا، متاثرہ نوجوان کا کہنا ہے کہ وہ نجی ہاؤسنگ سوسایٹی میں سیکیورٹی گارڈکی نوکری کررہاتھا، نوکری کی نوعیت پسند نہ آئی تومالکان سےگھرواپس جانےکاکہا، مالکان نےگھرجانےسےمنع کیااورپٹرول چھڑک کرآگ لگادی،

    متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ اس دوران کوئی بھی شخص بچانےنہ آیابلکہ وڈیوبناتےرہے، وہاں سےجان بچاکر بھاگا اورخود ہی سیدھا سروسز ہسپتال آیاجہاں اسے علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں،

  • وزیراعلیٰ سے علمائے کرام و مشائخ عظام کی ملاقات، محرم الحرام میں اتحاد و یگانگت پر بات چیت

    وزیراعلیٰ سے علمائے کرام و مشائخ عظام کی ملاقات، محرم الحرام میں اتحاد و یگانگت پر بات چیت

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے آج تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام و مشائخ عظام نے ملاقات کی ہے، محکمہ اوقاف و مذہبی امور اتحاد بین المسلمین کمیٹی پنجاب کے زیر اہتمام 90 شاہراہ قائداعظم پر ہونے والی ملاقات میں کشمیر کی صورتحال، محرم الحرام میں اتحاد و یگانگت اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے اقدامات پر تفصیلی بات چیت ہوئی،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ خود فرداً فرداً علمائے کرام و مشائخ عظام کی نشستوں پر گئے اور ان سے مصافحہ کیا، وزیراعلیٰ کی زیر صدرت علمائے کرام و مشائخ عظام کے اجلاس میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے اور کشمیری عوام پر ظلم و ستم کی شدید مذمت کی گئی اورنہتے کشمیری بہن بھائیوں سے مکمل یکجہتی کا اظہارکیاگیا، اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فائرنگ سے شہید ہونے والے کشمیریوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیاجبکہ دفاع وطن کی خاطر اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پاک فوج کے بہادر افسروں اور جوانوں کی عظیم قربانیوں کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا، اجلاس میں شہداء کے درجات کی بلندی اور کشمیری عوام کی بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔صوبائی وزیر اوقاف پیر سید سعیدالحسن شاہ نے دعا کرائی، اجلاس کے دوران علمائے کرام و مشائخ عظام نے امن و امان کی فضا برقرار رکھنے اور اتحاد و اتفاق کیلئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی،

    وزیراعلیٰ پنجاب نے علمائے کرام و مشائخ عظام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علمائے کرام اور مشائخ عظام کا احترام ہماری روایات کا حصہ ہے، علمائے کرام کے فیوض و برکات کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسی مشکل صورتحال پر قابو پانا ممکن ہوا، ملک قوم کے اتحاد و یکجہتی کے لئے خدمات سرانجام دینے والے جیدعلمائے کرام کو سلام پیش کرتا ہوں۔علمائے کرام نے ملک و قوم کی خاطر ہمیشہ اپنی خدمات پیش کیں اور مشکل وقت کو ٹالنے میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔پاکستان کی یکجہتی،سلامتی اور استحکام میں علمائے کرام کا کردار ہماری ملکی تاریخ کا روشن باب ہے۔علمائے کرام اور مشائخ عظام نے فرقہ وارانہ عصبیت سے پاک اسلامی اور فلاحی معاشرے کے قیام کیلئے قابل تحسین کردار ادا کیاہے اور محرم الحرام کے دوران تمام مکاتب فکر کے علمائے مذہبی رواداری کا مظاہرہ کرتے ہیں،

    انہوں نے کہاکہ اتحاد و یگانگت کی فضا قائم کرنے کیلئے حکومت کے ساتھ علمائے کرام کی مشترکہ کوششیں ان کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی صورتحال کے پیش نظر سماج دشمن عناصر داخلی امن وامان کے درپے ہیں۔ دہشت گردی کا مسئلہ پاک فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاوشوں سے بہت حد تک کم کیاجاچکا ہے لیکن موجودہ صورتحال کے تناظر میں دہشت گردی کے خدشے کو یکسر مستردنہیں کیاجاسکتا۔حکومت پنجاب صورتحال کی احساسیت کے حوالے سے ان امو رپر خصوصی توجہ دے رہی ہے اورحکومت اس ضمن میں علمائے کرام اور مشائخ عظام کی مشاورت کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے جید علمائے کرام ماضی کی طرح آج بھی قوم کو مایوس نہیں کریں گے،

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ مودی سرکار کے ہاتھ مقبوضہ کشمیر کے بے گناہ شہریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔کشمیریوں کی قربانیوں سے صبح آزادی طلوع ہونے کا وقت قریب ہے۔بھارت نے کشمیر کی تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو ختم کرکے عالمی برادری کو ڈھٹائی کا پیغام دیاہے۔سرحدی صورتحال تناؤ کی کیفیت سے گزر رہی ہے اور ہمیں متحد ہو کر دشمن کی مکاری کا مقابلہ کرنا ہے۔ حکومت پنجاب علمائے کرام،مشائخ عظام او رمدارس کے طلباء کی دینی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ علمائے کرام وطلبہ کی فلاح و بہبود کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کرنے کیلئے حکومت سرگرم عمل ہے۔ ہم علمائے کرام اور دینی مدارس کے طلبہ کے لئے بھی صحت انصاف کارڈ سکیم شروع کررہے ہیں۔ علمائے کرام اور طلبہ اپنا بلکہ اہل خانہ کا معیاری نجی ہسپتالوں سے مفت علاج کراسکیں گے۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مدارس اور مدارس سے وابستہ سٹیک ہولڈرز کی فلاح و بہبود کیلئے ایسے تاریخی اقدامات کرے گی جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔اس موقع پر صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علمائے کرام کے مطالبات پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ پنجاب حکومت علمائے کرام کیلئے آسانیاں پیدا کرے گی۔ دشمن کے ناپاک عزائم مل کر ناکام بنائیں گے۔صوبائی وزیر اوقاف پیر سید سعیدالحسن شاہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے محرم الحرام میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے خصوصی اقدامات کئے ہیں اور امید ہے کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کی فضا برقرار رہے گی۔اتحاد بین المسلمین کمیٹی پنجاب کا اجلاس ہر تین ماہ بعد ہوگا،

    وزیراعلیٰ سے ملاقا ت کرنے والوں میں متحدہ علمائے بورڈ کے سربراہ مولانا طاہر محمود اشرفی، حافظ فضل الرحیم اشرفی، مولانا ڈاکٹر حسین اکبر، مولانا ضیاء الحق نقشبندی،مولانا ڈاکٹر محمد سبطین اکبر، مولانا زبیر احمد، پیر سید محمد عثمان نوری،مولانا عبدالخبیر آزاد، پیر سید حبیب الحق شاہ، خواجہ قطب الدین فریدی،، ڈاکٹر علامہ محب النبی طاہر، صاحبزادہ سید محمد ضیاء محی الدین گیلانی، مولانا فیض رسول، مولانا مفتی محمد رمضان سیالوی، مولانا محمد اقبال رضوی، مولانا ظفراللہ شفیق، مولانا مفتی محمد اسحاق ساقی، مولانا غلام مصطفی ثاقب، علامہ محمد رشید ترابی، علامہ محمد افضل حیدری، مولانا شفیق احمد پسروری، مولانا عبدالرحمن لدھیانوی، مولانا محمد نعیم بٹ، مولانا محمد یوسف انور، مولانا عبدالوہاب روپڑی اور دیگر علمائے کرام و مشائخ عظام شامل تھے۔صوبائی وزراء محمد بشارت راجہ، پیر سید سعیدالحسن شاہ، محمد ہاشم ڈوگر، عنصر مجید خان نیازی، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ،پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ، سیکرٹریز اوقاف، اطلاعات، سپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے سربراہ اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔