Baaghi TV

Category: لاہور

  • آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس، نیب نے شہباز شریف کو 5 جولائی کو طلب کر لیا

    آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس، نیب نے شہباز شریف کو 5 جولائی کو طلب کر لیا

    نیب نے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف کو طلب کر لیا ہے. نیب نےشہباز شریف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں 5 جولائی کوطلب کیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق نیب نے اس سے قبل منی لانڈرنگ کیس میں‌ شہباز شریف کو طلب کیا تھا اور انہیں‌ کہا گیا تھا کہ وہ دستاویزات سمیت حاضر ہوں. نیب کی جانب سے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے اثاثہ جات کی تفصیل اور ذرائع بھی بتائیں.

    نیب کی جانب سے شہباز شریف کو اپنے والد میاں‌ محمد شریف سے ملنے والی وراثت سے متعلق بھی تفصیلات فراہم کرنے کیلئے کہا گیا تھا. قومی احتساب بیورو نیب اثاثہ جات کیس میں شہباز شریف خاندان کے خلاف تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع کرتے ہوئے پورے خاندان کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے.

  • جی ایم ریلوے کی صحافیوں سے بدسلوکی، لاہور پریس کلب، ایمرا اور دیگر صحافتی تنظیموں‌ کی شدید مذمت

    جی ایم ریلوے کی صحافیوں سے بدسلوکی، لاہور پریس کلب، ایمرا اور دیگر صحافتی تنظیموں‌ کی شدید مذمت

    لاہورپریس کلب اور ایمرا کے عہدیداران نے پاکستان ریلوے کے سینئرجنرل منیجرکی جانب سے دوران میڈیا کوریج صحافیوں سے بدتمیزی کرنے اور انہیں‌ ڈرانے دھمکانے کی شدید مذمت کی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری، سینئرنائب صدر ذوالفقارعلی مہتو، نائب صدر ناصرہ عتیق، سیکرٹری زاہد عابد، جوائنٹ سیکرٹری حافظ فیض احمد، خزانچی سالک نواز اور اراکین گورننگ باڈی نے لاہور پریس کلب کے سینئرکونسل ممبر اور آج ٹی وی کے رپورٹرسعید بلوچ،لاہورنیوزکی ٹیم اور دیگر صحافیوں کے ساتھ بدتمیزی کرنے اورڈرانے دھمکانے کی شدید مذمت کی ہے۔ اسی طرح ایمرا کے صدر شوکت علی , نائب صدر ریاض اعوان , سیکرٹری عدنان شیخ , جوائنٹ سیکرٹری افضال سعید , خزانچی و سیکرٹری انفارمیشن عباس نقوی سمیت گورننگ باڈی نے جی ایم ریلوے کی جانب سے سینئر صحافیوں کے ساتھ بدتمیزی اور تشدد کی شدید مذمت کی ہے .

    لاہور پریس کلب کے عہدیداران نے اپنے مذمتی بیان میں کہاہے کہ پاکستان ریلوے کے سینئرجنرل منیجرکی جانب سے اس طرح کا بہیمانہ سلوک انتہائی تشویش ناک ہے جس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ حکومت جو اس وقت شدید کرائسس کا شکار ہے اسے مزید مشکل میں ڈالنے کے لئے صحافیوں سے لڑانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انھوں نے وفاقی حکومت خصوصا وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید اور دیگر حکام سے واقعہ کی فی الفورتحقیقات کرانے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ سینئرجنرل منیجر معافی مانگیں اوراگر اس واقعہ میں ملوث افرادکے خلاف ایکشن نہ لیاگیا تو ملک بھر کے صحافی اس کے خلاف ایکشن لیں گے اور وفاقی وزیرریلوے کی پریس کانفرنس کابائیکاٹ کیاجائے گا۔

    صدر ایمرا شوکت علی نے کہا کہ جی ایم ریلوے نے پیشہ وارانہ فرائض انجام دینے والے صحافیوں کو نہ صرف سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں بلکہ ہولیس اہلکاروں کے ذریعے تشدد کروایا جو کسی صورت قابل قبول نہیں. ایمرا باڈی نے وزیر اعظم پاکستان اور وزیر ریلوے سے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر جی ایم ریلوے کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو پریس کلب, پی یو جے , ایمرا , اینکا ,فوٹو جرنلسٹس سمیت صحافی تنظیمیں اپنا لائحہ عمل طے کریں گی

  • فردوس عاشق اعوان کے بعد اب صمصم بخاری بھی مریم نواز کے خلاف میدان میں آگئے

    فردوس عاشق اعوان کے بعد اب صمصم بخاری بھی مریم نواز کے خلاف میدان میں آگئے

    لاہور:سابق وزیر اعطم میاں محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف کی پریس کانفرنس کو فردوس عاشق اعوان کے بعد اب صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب صمصام بخاری نے بھی آڑے ہاتھوں لے لیا .صمصام بخاری نے مریم نواز شریف کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ بہتر ہوتا کہ مریم نواز شریف اپنے بھائیوں کو پاکستان واپس آنے کا اعلان کرتیں.مریم نواز شریف پریس کانفرنس کے ذریعے حکومت پر دباو بڑھانے کی کوشش کررہی ہیں. جو ناکا م ہوگی.

    صوبائی وزیر اطلاعات نے مریم نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ تنقید ضرور کریں لیکن کرپشن کا حساب بھی تو دیں.صوبائی وزیر نے مریم نواز شریف کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وہ حقائق کو صیح پیش نہیں کررہیں. یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے درخواست مسترد ہونے کے بعد مریم نواز شریف کی طرف سے مسلسل ایسے بیان اور ٹویٹس آرہی ہیں جس سے پریشانی کھل کر سامنے آرہی ہے.

  • مریم نواز نے شہباز شریف سے اختلافات کی وضاحت کرتے ہوئے کیا کہا؟ اہم خبر آ گئی

    مریم نواز نے شہباز شریف سے اختلافات کی وضاحت کرتے ہوئے کیا کہا؟ اہم خبر آ گئی

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے اور شہباز شریف کے درمیان اختلافات کی خبروں کی سختی سے تردید کی اور کہا ہے کہ ان شاء اللہ مخالفین کی یہ خواہش پوری نہیں‌ ہو گی.


    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مریم نواز نے سوشل میڈیا سائٹ ٹویٹر پو ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرا اور شہباز شریف صاحب کا نہ کوئی اختلاف ہے نہ ہی ان شاءاللہ مخالفین کی یہ خواہش کبھی پوری ہو گی۔ میں نے واضح کر دیا ہے کہ یہ میری ذاتی رائے ہے۔ اس کو اختلاف بنا کے پیش کرنے والوں کو مایوسی ہو گی۔ یاد رہے کے یہ کوشش ۳۰ سال سے جاری ہے۔


    مریم نواز نے یہ ٹویٹ سینئر اینکر غریدہ فاروقی کی اس ٹویٹ کے بعد کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ میثاق معیشت کے مسئلہ پر مریم نواز اور شہباز شریف کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں. واضح رہے کہ غریدہ فاروقی نے ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ مریم نواز نے شہباز شریف کے تجویز کردہ میثاقِ معیشت کو مذاقِ معیشت قرار دے دیا ! مریم نواز اور شہباز شریف کے اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔ یہ اختلاف مریم نے پارٹی میٹنگ میں نہیں، پبلک پریس کانفرنس میں کیا۔ آج کی پریس کانفرنس سے شہباز شریف کی عدم موجودگی بھی بہت کچھ کہہ رہی ہے. غریدہ فاروقی نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ شہباز شریف اور آصف زرداری میثاق معیشت کے حامی اور مولانا فضل الرحمن حکومت گرانے کے خواہاں، اے پی سی کس کی حکمت عملی پر آگے بڑھے گی؟


    واضح رہے کہ مریم نواز کی لاہور میں‌ کی جانے والی پریس کانفرنس کو میڈیا میں بہت زیادہ ہائی لائٹ کیاگیا ہے.

  • کفایت شعاری کی نئی مثال عثمان بزدار نےوزیراعلیٰ ہاؤس کے اخراجات میں کروڑوں روپے کی کمی کا اعلان کردیا

    کفایت شعاری کی نئی مثال عثمان بزدار نےوزیراعلیٰ ہاؤس کے اخراجات میں کروڑوں روپے کی کمی کا اعلان کردیا

    لاہور:وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنے بالآخر وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق بچت اورغیر ضروری اخراجات میں کٹوتی کے عمل کا آغاز وزیراعلیٰ پنجاب کے آفس سے کر ہی دیا جو سب کے لیے قابل تقلید مثال بن گئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر وزیراعلیٰ کے دفترنے تنخواہوں کے علاوہ دیگراہم مدات میں 2017-18 کے نسبت مالی سال 2018-19 کے حقیقی اخراجات میں تقریباً 60فیصد کمی کی ہے،وزیراعلیٰ کے تحائف و مہمانداری کے اخراجات 11کروڑ روپے سے کم کر کے 3کروڑ روپے کردئیے گئے ہیں او راس طرح اس مد میں تقریباً 8کروڑ روپے کی بچت کی گئی ہے

    ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کفایت شعاری اورغیر ضروری اخراجات کو کم کرنے کی پالیسی کے تحت گاڑیوں کی مرمت کی مد میں اخراجات ساڑھے 4کروڑروپے سے کم کرکے نصف کر دئیے گئے ہیں . وزیراعلیٰ اوران کے عزیزواقارب کی نجی رہائشگاہوں کی سیکورٹی پر تقریباً 2ہزار سے زائد اہلکار تعینات تھے لیکن اب ان اہلکاروں کی تعدادمیں خاطر خواہ کمی کی گئی ہے اور سیکورٹی کے لئے ناگزیر ضرورت کے تحت اہلکار تعینات کئے گئے ہیں،اس طرح سیکورٹی اخراجات میں تقریباً66فیصد کمی کی گئی ہے جو 83کروڑروپے سے کم ہو کر 28کروڑ روپے رہ گئے ہیں ۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعلی پنجاب کا لاہور میں کوئی کیمپ آفس، نجی رہائش یا دفتر نہیں اورمیں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ سیکورٹی کے نام پر ذاتی رہائشگاہوں کی بہتری اور نئی تعمیر ات کی غلط روایت کو بھی بدل دیا گیاہے.پی ٹی آئی حکومت نے سابقہ دورحکومت میں سیکورٹی کے نام پر ذاتی رہائشگاہوں کی دیواروں وغیرہ کی تعمیر ومرمت پر سخت تنقید تھی .لیکن اب وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کفایت شعاری کے منصوبے کو عملی جامہ پہنا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ عمران خان کے ویژن پر ہر صورت عمل کرکے عمران خان کے اعتماد کو بحال رکھیں گے.

  • مریم نواز نے شہباز شریف کی کھل کر مخالفت کر دی، کہا ان کا پوائنٹ آف ویو ہمیشہ مختلف ہوتا ہے

    مریم نواز نے شہباز شریف کی کھل کر مخالفت کر دی، کہا ان کا پوائنٹ آف ویو ہمیشہ مختلف ہوتا ہے

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران شہباز شریف کے موقف کی کھل کر مخالفت کی اور کہا ہے کہ ان کا پوائنٹ آف ویو ہمیشہ مختلف ہوتا ہے. مسلم لیگ ن کے اندر جمہوریت ہے ہماری اپروچ میں‌ فرق ہو سکتا ہے تاہم آخری فیصلہ نواز شریف ہی کرتے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف بھی پارٹی ڈسپلن کے پابند ہیں. اپوزیشن کی اے پی سی کو وہی لیڈ کرینگے۔ جب پارٹی کا صدر موجود ہے تو میں کیوں اے پی سی کو لیڈ کروں گی، میری شرکت کا فیصلہ پارٹی کرے گی۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نہ یہ ملک مصر ہے نہ ہم نوازشریف کو مرسی بننے دیں گے۔ شہباز شریف کی اپنی رائے اورمیری اپنی رائے ہے۔ میثاق معیشت کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے اسے مذاق معیشت قرار دیدیا۔

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ میاں‌ نواز شریف کو دل کا عارضہ پرانا ہے انہیں تیسری بار جیل میں ہارٹ اٹیک ہوا لیکن ہمیں لاعلم رکھا گیا ،نوازشریف کی صحت کے معاملے پر آگاہ ہونا عوام کا حق ہے میاں صاحب کودل کا عارضہ15 سے20سال پرانا ہے ،نوازشریف کی صحت کے حوالے سے عوام کو اعتماد میں لینا چاہتی ہوں ، میاں صاحب کو ایک اور بائے پاس کی ضرورت ہے، ان کو ضمانت نہیں دی گئی،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مریم نواز نے کہا کہ میاں صاحب کو تیسری بار ہارٹ اٹیک اسوقت ہوا جب وہ اڈیالہ جیل میں تھے، میاں‌صاحب کی طبیعت خراب ہوئی تو ایک دن سیل میں مجھے میسج دیا گیا کہ سپیڈنڈٹ آفس فوری پہنچیں وہاں گئی تو کچھ حضرات بیٹھے تھے کچھ پمز کے کارڈیالوجسٹ تھے انہوں نے بتایا کہ میاں صاحب کی طبیعت خراب ہے انہیں کہیں کہ ہسپتال چلے جائین اسی دوران نواز شریف وہاں آ‌گئے ان کو ہسپتال جانے کا کہا تو وہ نہیں آئیں گے ،میاں صاجب نے کہا مجھے منطور نہیں کہ میں اکیلا آپ کو جیل چھوڑ کر ہسپتال چلا جاوں، ڈاکٹرز نے کہا کہ میاں‌صاحب کو کنوینس کریں کہ وہ ہسپتال جائیں مغرب کے بعد کا وقت تھا میں محسوس کر رہی تھی کہ کچھ ہلچل ہے لیکن کچھ بتایا نہیں جا رہا،

    مریم نواز سے جب تاریخ پوچھی تھی تو انہوں‌ نے کہا کہ کیلکولیٹ کر لیں مجھے تاریخ یاد نہیں. مریم نواز نے مزید کہا کہ میاں نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان کو ایمرجنسی میں لاہور سے اڈیالہ بلوایا گیا اور کہا کہ میاں صاحب کا ٹیسٹ کروانا ہے، میں نے ایک گھنٹہ لگا کر کنوینس کیا کہ وہ ہسپتال جائٰیں، ڈاکٹر عدنان آ گئے ،میاں‌ صاحب ہسپتال چلے گئے ان کو دو یا تین دن رکھا گیا، وہ مزید بھی رکھنا چاہتے تھے، مجے ان کے بارے میں کوئی خبر نہیں دی جاتی تھی، ایک دن مجھے خبر ملی کہ میاں صاھب واپس آ رہے ہیں جب واپس آئے تو میری دس منٹ کی ملاقات ہوئی، میاں‌صاحب ڈاکٹر کی ہدایات کے باوجود جیل واپس آئے تھے، ان کو میڈیکل سہولیات اپنے آپ دے دی گئیں، ایمرجنسی کی چیزیں مہیا کر دی گئیں میں یہ سوچتی رہی کہ کیا بات ہے، پھر ایک دن معالج نے بتایا کہ میاں صاحب کو اس دن ہارٹ اٹیک ہوا تھا، ہمیں کسی‌ڈاکٹر، جیل کے عملے نے کوئی ریکارڈ نہیں دیا، ڈسچارج سلپ کچھ ہفتے بعد ملی جس میں واضح لکھا ہے کہ میاں صاحب کو ہارٹ اٹیک ہوا، یہ مریض ،لواحقین اور مریض کے معالج کو دیا گیا.

    مریم نواز نے کہا کہ جیل حکام نے بڑی غفلت برتی اگر کچھ نقصان ہوتا تو میری روح کانپ جاتی، نواز شریف کی ہارٹ کی دو میجر سرجریز ہو چکی ہیں،

    مریم نواز نے مزید کہا کہ میاں صاحب کی ایک بڑی شریان 95 فیصد بند ہے،میاں صاحب کو ایک اور بائے پاس کی ضرورت ہے، ان کو ضمانت نہیں دی گئی، میں آئی وٹنس ہوں‌جب وہ ہسپتالوں کے چکر لگا رہے تھے مجھے ہسپتال جانے کی اجازت تھی، کئی ڈاکٹرز نے کہا کہ یہ ہائی رسک کیس ہے،

    واضح رہے کہ میاں نواز شریف کو 29 جولائی 2018 کو اڈیالہ جیل سے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا . نواز شریف کے بائیں بازو اور سینے میں تکلیف کے باعث ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کر کے فوری طور پر جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا تھا.

  • پنجاب میں افغانوں‌ کے کاروبار پر پابندی عائد، مکان، دوکان اور ہوٹل بھی کرایہ پر نہیں دیے جا سکیں‌ گے

    پنجاب میں افغانیوں‌ کے کاروبار پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ اسی طرح جن مساجد میں افغانی امام ہیں انہیں‌ فوری طور پر ہٹانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق افغانیوں‌ کو مکان، دوکان اور ہوٹل بھی کرایہ پر دینے پر پابندی لگا دی گئی ہے. افغان شہریوں‌ کو جائیداد کے لین دین پر بھی پابندی ہو گی. اس سلسلہ میں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے. محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے پنجاب کے تمام شہری علاقوں میں رہائش پذیر افغان مقامی تھانوں میں رجسٹریشن کروانے کے پابند ہوں گے۔

    یہ فیصلہ ملک بھر میں سکیورٹی کی صورتحال، دہشتگرادنہ سرگرمیوں میں افغان شہریوں کے ملوث پائے جانے کے بعد محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبہ بھر میں افغان شہریوں کیساتھ ہر قسم کے کاروبار، لین دین اور جائیداد کی خرید و فروخت پر پابند ی لگا ئی گئی ہے، خلاف ورزی کی صورتحال میں ملوث افغان شہری کیساتھ اس کے شراکت دار کیخلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کے علاوہ پنجاب بھر کی تمام مساجد میں امام مسجد کی خدمات سرانجام دینے والے تمام امام، معلموں کو فوری طور پر ان کی ذمہ داری سے ہٹانے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی اس نوعیت کے اقدامات اٹھائے جاتے رہے ہیں.

  • قومی سلامتی کےاداروں کوسیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیئے،مریم کا مطالبہ

    قومی سلامتی کےاداروں کوسیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیئے،مریم کا مطالبہ

    مسلم لیگ ن کی نائب‌ صدر مریم نواز نے اپنے والد نواز شریف کی‌ صحت کے حوالہ سے پریس کانفرنس کےد وران حکومت پر خوب تنقید کی کہا مریم نواز کے لئے جے آئی ٹی بن جاتی ہے ،علیمہ خان کے لیے نہیں، کسی سیاسی جماعت کو کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہونا چاہئے، عالمی مالیاتی ادارے سے موجودہ حکومت کے دس ماہ کے قرضوں کا آڈٹ کروایا جائے.

    نوازشریف کو کچھ ہوا تو ذمہ داری سب پر،جعلی حکومت سے ریلیف نہیں مانگتی، مریم نواز

    نواز شریف کو اڈیالہ جیل میں ہوا تھا تیسرا ہارٹ اٹیک ،مریم نواز نے کیا پریس کانفرنس میں انکشاف

     

    اپوزیشن کی اے پی سی میں شہباز شریف لیڈ کریں گے، میں نے شرکت کرنی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ شہباز شریف کریں گے، مریم نوازنے مزید کہا کہ قومی سلامتی کےاداروں کوسیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیئے ،تین نسلوں کاحساب دیامگرکچھ بھی نہ نکلا،پیپلزپارٹی کا اپنا ایجنڈا ہے ہمارا اپنا ایجنڈا ہے ،جس نےبھی عوام کےحقوق کی آوازنہ اٹھائی وہ عوام کےمجرم ہوں گے، مریم نواز نے مزید کہا کہ علیمہ خان اورعمران خان نےایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھایا یہ کیساکمیشن ہے جس میں نیب شامل ہے،یہ قوم سے مذاق ہے کسی بھی سیاسی جماعت کو کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہونا چاہیئے،

    قربانی کا بکرا بننے کو تیار ہوں، مریم نواز

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ نوازشریف چاہتےہیں کہ اپوزیشن کسی قسم کی کمزوری نہ دکھائے ،نالائق اعظم10ماہ میں 5ہزار ارب کےقرضے لےچکاہے .عوام کومہنگائی کےبوجھ تلےدبانےوالاآج کمیشن بنانےکی بات کررہاہے کمیشن تو ضرور بنے گا، تحقیقات 1999سے2019تک ہونگی ،مریم نوازکے لیےجےآئی ٹی بن جاتی ہےعلیمہ خان کے لیےنہیں ،آصف زرداری کیخلاف کیسزجھوٹےہیں یاسچےمجھےعلم نہیں،

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ معیشت کابیڑاغرق کرنےوالےسےمیثاق نہیں کرناچاہیے ،عالمی مالیاتی ادارےسےآڈٹ کرایاجائے اور آڈٹ رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی جائے.

  • میثاق جمہوریت کرنیوالے قومی مجرم،قربانی کا بکرا بننے کو تیار ہوں، مریم نواز

    میثاق جمہوریت کرنیوالے قومی مجرم،قربانی کا بکرا بننے کو تیار ہوں، مریم نواز

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ میں‌ صحافیوں کے لئے بھی آواز اٹھاوں گی، قربانی کا بکرا بننے کو تیار ہوں، میثاق معیشت کرنے والے قومی مجرم ہوں گے، حکمرانوں کا گھیراو کرنا چاہئے.

    نوازشریف کو کچھ ہوا تو ذمہ داری سب پر،جعلی حکومت سے ریلیف نہیں مانگتی، مریم نواز

    نواز شریف کو اڈیالہ جیل میں ہوا تھا تیسرا ہارٹ اٹیک ،مریم نواز نے کیا پریس کانفرنس میں انکشاف

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ جمعرات کو ملاقات کے دن آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے، عدالت کا دروازہ بار بار کھٹکھٹایا اس امیدسے کہ ایک دن انصاف ملے گا.شہباز شریف مسلم لیگ ن کے صدر ہیں ان کا سیاسی ،ایڈمنسٹریٹو تجربہ ہے حب الوطنی پر کوئی شک نہیں، میثاق جمہوریت میں ان کے پیش نظر جو چیزیں ہیں وہ میرے نہیں ہوں گی، ان کی اپنی رائے ہے. میری ذاتی رائے دینے کا حق ہے ، جس شخص نے معیشت کا بیڑہ غرق کیا جو جعلی طریقے سے، چوردروازے سے اقتدار میں آیا ان کے ساتھ بات کرنے کی بھی ضرورت نہیں. میثاق معیشت کرنا حکمرانوں کو این آر او دینے کے مترادف ہے، اس پر تو حکمرانوں کا گھیراو ہونا چاہئے، جعلی وزیراعظم سے جواب لینا چاہئے، عوام کی عدالت میں اپوزیشن پارٹی جو میثاق معیشت کرے گی وہ مجرم کہلائے گی، جو ووٹ چوری کر کے حکومت میں آتا ہے اس کو میثاق کی آفر کی بجائے عبرت کا نشان بناتے ہیں .

    مریم نواز نے کہا کہ وہ اپنی نااہلی کا ذمہ دار اپوزیشن پارٹیوں کو بنانا چاہتا ہے اس سے دور رہنا چاہئے. مریم نواز نے مزید کہا کہ میں میاں صاحب کا مقدمہ ہر جگہ لڑوں گی ،ایک بیٹی اپنے باپ کا مقدمہ کیوں نہ لڑے مجھے کوئی شرم نہیں، میں نہ صرف ان کا بلکہ صحافی جو پابندیوں اور خوف کا شکار ہیں ہمارا میسج آپ کے‌ذریعے پہنچتا ہے میں آپ کے لئے بھی آواز اٹھاوں گی، میں قربانی کا بکرا بنانے کو تیار ہوں،

    مریم نواز نے مزید کہا کہ نالائق اعظم نے قرضے لینے کا ریکارڈ بنایا لیکن ایک اینٹ پاکستان میں نہیں لگائی ،کوئی مںصوبہ شروع نہیں کیا وہ آج کمیشن بنا رہا ہے جس نے حساب دینا ہے کہ اس نے دس ماہ میں ریکارڈ قرضے لئے پھر بھی قرضوں کا حجم بڑھ گیا وہ کٹہرے میں کھڑے ہونے کی بجائے کمیشن بنا رہا ہے.

  • نوازشریف کو کچھ ہوا تو ذمہ داری سب پر،جعلی حکومت سے ریلیف نہیں مانگتی، مریم نواز

    نوازشریف کو کچھ ہوا تو ذمہ داری سب پر،جعلی حکومت سے ریلیف نہیں مانگتی، مریم نواز

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کو کچھ ہوا ان کی صحت بگڑی تو اس کی ذمہ داری سب پر ہو گی، یہ مقدمہ آج عوام کے سامنے رکھ رہی ہوں .

    نوازشریف کو کچھ ہوا تو ذمہ داری سب پر،جعلی حکومت سے ریلیف نہیں مانگتی، مریم نواز

    نواز شریف کو اڈیالہ جیل میں ہوا تھا تیسرا ہارٹ اٹیک ،مریم نواز نے کیا پریس کانفرنس میں انکشاف

    میثاق جمہوریت کرنیوالے قومی مجرم،قربانی کا بکرا بنانے کو تیار ہوں، مریم نواز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مریم نواز نے لاہور میں پریس کانفرنس کی اس موقع پر پرویز رشید بھی ان کے ہمراہ تھے، مریم نواز نے کہا ہے کہ فیملی کی ملاقاتیں اور کارکنان سے ملاقاتوں پر پابندی لگا کر چھوٹے پن کا مظاہرہ کیا گیا ہے، جمعرات کو کہا گیا کہ پانچ لوگوں سے زیادہ کسی کو ملنے کی اجازت نہیں، شہباز صاحب ،میں اور میرے بچے گئے، میاں‌ صاحب کی بہن گیٹ سے واپس گئی ، اس بات جب میٹنگ شروع ہونے والی تھی تو ہم بیٹھ گئے میاں‌ صاحب کچھ دیر بعد آتےہیں تو اس دوران ایک‌ صاحب آ کر بیٹھ گئے.میاں نواز شریف سے ملاقات کے وقت ہم پر نظر رکھی گئی اور ہماری تمام باتیں سنی گئیں، مریم نواز نے کہا کہ میاں صاحب کی کڈنی کا اسٹیج تھری کا مسئلہ ہے، دو سال کی محنت کے بعد نواز شریف سے ملاقاتوں پر پابندی لگائی جارہی ہے ،کونسا اخلاق اس بات کی اجازت دیتا ہے، شرم آنی چاہئے ان کو، نالائق اعظم اور اس کی حکومت کو سمھجھ آجانی چاہئے کہ وہ شکست کھا گیا، نواز شریف آج بھی طاقتور ہے اس سے وہ‌ ڈر رہے ہیں، نواز شریف کہتے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے کی سزا انہیں مل رہی ہے.

    مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کو اقامہ پر نکالا گیا، ان پر کرپشن ثابت نہیں ہوئی، نواز شریف سیاسی قیدی ہیں جو سول بالا دستی کا نعرہ لگانے کی سزا بھگت رہے ہیں.

    مریم نواز کا مزید کہنا ہے سیلیکٹڈ وزیراعظم سے تو کوئی توقع نہیں وہ چھوٹا آدمی ہے لیکن عدالت نے نواز شریف کی صحت سے متعلق سرٹیفکیٹس کے باوجود کیوں علاج کے لئے ضمانت نہیں دی اس کےچقائق پتہ نہیں ،نواز شریف کو کچھ ہوا تو ذمہ دادی ان سب پہ عائد ہو گی ،مقدمہ عوام کی عدالت میں رکھتی ہوں

    مریم نواز نے مزید کہا کہ نواز شریف کو علاج چاہئیے، اور علاج فوری نہیں سالوں میں ہو گا ،چھ ہفتوں میں کھانسی اور زکام کا علاج بھی نہیں ہو سکتا. جعلی حکومت سے ریلیف نہیں مانگ رہی جو خود کسی کا محتاج ہو وہ کسی کو کیا ریلیف دے سکتا ہے.