Baaghi TV

Category: لاہور

  • ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستانی ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان

    ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستانی ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان

    لاہور: ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستانی ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بورڈ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جنوبی افریقا کا دورہ کرنے والی 15 رکنی ٹیسٹ ٹیم میں 7 تبدیلیاں کی گئی ہیں، شان مسعود (کپتان)، سعود شکیل (نائب کپتان)، بابر اعظم، کامران غلام، خرم شہزاد، محمد رضوان، نعمان علی، اور سلمان علی آغا شامل ہیں، امام الحق، محمد ہریرہ اور اسپنر ابرار احمد کی اسکواڈ میں واپسی ہوئی ہے، اس بار عامر جمال، محمد عباس، میر حمزہ اور نسیم شاہ کو آرام دیا گیا ہے جبکہ انجری کے باعث صائم ایوب اور حسیب اللہ اسکواڈ سے باہر ہو چکے ہیں۔

    ملتان میں پہلا ٹیسٹ 17 اور دوسرا ٹیسٹ 25 جنوری سے شروع ہو گاویسٹ انڈیز کے خلاف بھی اسپنرز کے ساتھ اٹیک کرنے کی حکمت تیار کی گئی ہے۔

    بلاول بھٹو نے شہید ذوالفقار علی بھٹو ایکسپریس وے کے فیز ون کا افتتاح کردیا

    ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ کے لیے پاکستانی اسکواڈ:

    شان مسعود (کپتان)، سعود شکیل (نائب کپتان)، ابرار احمد، بابر اعظم، امام الحق، کامران غلام، کاشف علی، خرم شہزاد، محمد علی، محمد ہریرہ، محمد رضوان (وکٹ کیپر/ بیٹر )، نعمان علی، روحیل نذیر (وکٹ کیپر/ بیٹر )، ساجد خان، اور سلمان علی آغا۔

    اینکر پرسن ہرمیت سنگھ عالمی اربعین ایوارڈ میں پہلی پوزیشن کیلئے منتخب

  • یوٹیوب ، فیس بک اور ٹک ٹاک پر فوری پابندی  کیلئے درخواست دائر

    یوٹیوب ، فیس بک اور ٹک ٹاک پر فوری پابندی کیلئے درخواست دائر

    لاہور ہائیکورٹ میں یوٹیوب ، فیس بک اور ٹک ٹاک پر فوری پابندی عائد کرنے کے لئے درخواست دائر کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی: شہری اسلم نے ایڈووکیٹ ندیم سرور کے توسط سےدرخواست دائر کی ،درخواست میں وفاقی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر دوسرے شخص کا یوٹیوب چینل ہے جسے وہ بلیک میلنگ کے لیے استعمال کر رہا ہے،غیر اخلاقی ویڈیوز اپ لوڈ کرکے ویوز لیے جا رہے ہیں اور پیسہ کمایا جا رہا ہے-

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ یوٹیوب اور فیس بک پر بغیر کسی لائسنس کے کسی بھی قسم کی ویڈیو اپ لوڈ کی جا سکتی ہےیوٹیوب ، فیس بک ، انسٹا گرام، ٹک ٹاک پر فیک ویڈیوز اپ لوڈ ہو رہی ہیں، اس کے علاوہ یوٹیوبر اپنے ولاگز میں اپنی خواتین کو دکھا رہے ہیں جو خاندانی نظام تباہ کر رہے ہیں۔

    18واں ایشین فنانشل فورم : وفاقی وزیر خزانہ شرکت کیلئے ہانگ کانگ روانہ

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ لاہور ہائیکورٹ سٹیزن پروٹیکشن رولز پر عملدرآمد کرنے کا حکم دیتے ہوئے سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز بند کرنے کے احکامات جاری کرے۔

    امریکی شہر مینہیٹن جتنی خلائی چٹان زمین کے قریب سے گزرے گی

  • وزیر اعلیٰ پنجاب  نے پاکستان کا پہلا ,”پنجاب دھی رانی پروگرام” لانچ کر دیا

    وزیر اعلیٰ پنجاب نے پاکستان کا پہلا ,”پنجاب دھی رانی پروگرام” لانچ کر دیا

    دھی رانی ، سب کی سانجھی ،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پاکستان کا پہلا ,”پنجاب دھی رانی پروگرام” لانچ کر دیا

    لاہور کے بہترین میرج ہال میں 51 اجتماعی شادیوں سے آغاز کر دیا گیا،نوبیاہتا جوڑوں میں پانچ کرسچن دولہا دلہن بھی شامل تھے،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے فرداً فرداً سب نوبیاہتا جوڑوں کو مبارکباد دی،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے دلہنوں کو پیار کیا اور دعائیں دیں،تقریب میں مولانا ڈاکٹر مفتی محمد رمضان سیالوی اور بشپ لاہور ندیم کامران نے باری باری دعا کرائیں،نو بیاہتا دولہا دلہن کو وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی طرف سے میٹرس، کھانے پکانے کا سامان ، ڈنر سیٹ اور دیگر سامان کے تحائف دئے گئے،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے دھی رانی پروگرام سلام کارڈ کی لانچنگ بھی کی،وزیراعلی مریم نواز شریف نے ہر دلہن کو پیار کیا اور سلامی کارڈ بھی دیا

    دھی رانی سلامی کارڈ کر ذریعے ایک لاکھ روپے سلامی حاصل کر سکیں گی،تقریب کے شرکاء کو محکمہ سوشل ویلفیئر کی جانب سے پرتکلف ظہرانہ دیا گیا ،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے نوبیاہتا جوڑوں کے ساتھ گروپ فوٹو بھی بنوایا ،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے تحفہ کے طور پر ملنے والے سامان کا بھی معائنہ کیا

    وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف نے ”دھی رانی پروگرام“ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”دھی رانی پروگرام“ کے تحت موجود بیٹیوں اور بیٹوں،والدین اور اہلخانہ کو دل کی گہرائیوں سے شادی کی مبارکباددیتی ہوں -اللہ تعالی آپ کو ہمیشہ خوش رکھے ، دعا کے ساتھ میں بیٹیوں اور بیٹوں کی خوشیوں میں شامل ہونے کے لئے آئی ہوں -اللہ تعالی میرے بیٹیوں اور بیٹوں کو آباد و شاد رکھے، نئی زندگی کی شروعات میں برکت ڈالے،دکھ سکھ کا ساتھی بنائے-بیٹیوں اور بیٹوں کی شادی میں شمولیت ایک جذباتی لمحہ ہے، بے حد خوش ہوں -شادی بچوں اور والدین کے لئے ایک جذباتی لمحہ ہوتاہے،دعا گو ہوں – جتنے آپ کے والدین خوش ہیں، آپ خوش ہوں، میں بھی آپ کی ماں ہوں، میں بھی خوش ہوں -اللہ تعالی میرے بیٹیوں اور بیٹو ں کو سکھ اورچین والی زندگی دے-

  • بیرسٹر سیف   کی  محمد علی درانی کے ہمراہ مرکزی مسلم لیگ کے  سیکریٹریٹ آمد

    بیرسٹر سیف کی محمد علی درانی کے ہمراہ مرکزی مسلم لیگ کے سیکریٹریٹ آمد

    مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی سیکرٹریٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماوں نے پی ایم ایل کے رہنماوں سے ملاقات کی ہے خیبر پختونخواہ کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ ملک میں بہتر نظام جمہوریت کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کے لیئے مرکزی مسلم لیگ کی قیادت کے پاس آئے ہیں

    سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی کی خیبرپختونخواہ کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف کے ہمراہ مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی سیکریٹریٹ لاہور میں مرکزی مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری شیخ محمد یعقوب سے ملاقات ہوئی ہے، ملاقات کے دوران حافظ عبدالرحمن مکی کی وفات پر تعزیت کی گئی

    ملک میں بہتر نظام جمہوریت کے لیے ہم پاکستان کی محب وطن جماعتوں سے رہے ہیں، بیرسٹر سیف
    صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا کہ ملک میں بہتر نظام جمہوریت کے لیے ہم پاکستان کی محب وطن جماعتوں سے ملاقات کر رہے ہیں تاکہ مشترکہ جدوجہد کی جائے اسی سلسلہ میں ہم مرکزی مسلم لیگ کی قیادت کے پاس آئے ہیں ملاقات کے دوران پاڑہ چنار سمیت دیگر سیاسی اور ملکی ایشوز پر ان کو کردار ادا کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا

    سب کو مل کر پاکستان کے لیے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے. محمد علی درانی
    سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی کا کہنا تھا پاکستان پر مشکل وقت ہے اور سب کو مل کر پاکستان کے لیے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے. پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری شیخ محمد یعقوب نے رہنماؤں کو یقین دہانی کروائی کہ مرکزی مسلم لیگ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی حامی ہے ہم پارہ چنار سمیت حساس مسائل پر سیاسی و مذہبی قائدین سے رابطے میں ہیں تاکہ پاکستان سے انتشار و افتراق کا خاتمہ ہو.

    پارہ چنار میں پیش آنے والے واقعات افسوس ناک،علما آگے بڑھیں،تابش قیوم

    پاکستان کا میزائل ، ایٹمی پروگرام امن اور تحفظ کی ضمانت ہے،تابش قیوم

    اقتدار نہیں ، ملک کی بقا کے لیے سیاست کر رہے ہیں، مزمل اقبال ہاشمی

    مرکزی مسلم لیگ کا یونین کونسلز کی سطح پر رکنیت سازی کیمپ لگانے کا فیصلہ

    ننکانہ:پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا 2025 کو ‘خدمت کا سال’ قرار دینے کا اعلان

    خواجہ آصف کو وزارت دفاع کے عہدے سے ہٹایا جائے،مرکزی مسلم لیگ

    ننکانہ : پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی کی علمی و فکری خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، میاں عابد

    حافظ عبدالرحمان مکی کی وفات،سیاسی ،سماجی و کشمیری رہنماؤں کی تعزیت

    ننکانہ : ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مکی کی وفات، امت مسلمہ کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے،ثاقب مجید

  • بے باک صحافت  کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    پاکستانی صحافت کی دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنی محنت اور عزم سے کامیابیاں حاصل کیں بلکہ ان کی جرات مندانہ اور بے باک اندازِ صحافت نے انہیں عوام کے دلوں میں ایک خاص مقام دے دیا۔ ان شخصیات میں سے ایک اہم نام مبشر لقمان کا ہے، جنہوں نے ہمیشہ سچ کی پرچار کی ہے اور کبھی بھی کسی خوف یا دباؤ کے آگے نہ جھکے ہیں نہ بکے ہیں۔ ان کا مشہور پروگرام "کھرا سچ” صرف ایک پروگرام نہیں بلکہ ایک تحریک بن چکا ہے جس میں وہ سچ کو بے لاگ اور بے دھڑک طریقے سے پیش کرتے ہیں۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد عوام کو سچ سے آگاہ کرنا اور ان کے ذہنوں میں موجود مفروضات کو توڑنا ہے۔

    مبشر لقمان کا صحافتی سفر ہمیشہ ایک چیلنج کی طرح رہا ہے۔ پاکستان کی صحافتی دنیا میں جہاں اکثر ادارے اور صحافی مختلف دباؤ کا شکار رہتے ہیں، وہاں مبشر لقمان نے کبھی کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا۔ ان کا پروگرام "کھرا سچ” اس بات کا غماز ہے کہ صحافت میں اگر سچ بولنے کا عزم ہو تو آپ تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے سچ کو عوام تک پہنچا سکتے ہیں۔مبشر لقمان کا یہ جرات مندانہ رویہ نہ صرف پاکستانی میڈیا میں بلکہ جونیئر صحافیوں کے لئے ایک اہم سبق بھی ہے۔ وہ ہمیشہ سچ کے علمبردار بنے رہے ہیں اور سچ کو بیان کرنے میں کسی بھی قسم کے خوف کا شکار نہیں ہوئے۔ ان کا یہ بے خوف طرزِ صحافت پاکستان کے نوجوان صحافیوں کے لئے ایک روشن مثال ہے۔ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ صحافت کا اصل مقصد عوام کو حقیقت سے آگاہ کرنا ہے، چاہے اس کے بدلے میں ہمیں کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔

    پاکستان میں سچ بولنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے لئے آپ کو نہ صرف جرات کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ آپ کو مختلف دباؤ، تنقید، گالیاں اور کبھی کبھار مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن مبشر لقمان جیسے صحافی ہمیشہ سچ کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، خواہ اس کے لئے انہیں ذاتی یا پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

    ہم جیسے لکھاری اور صحافی ہمیشہ مبشر لقمان کے تجزیوں اور رپورٹنگ سے کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں۔ ان کا دبنگ انداز، عزم اور جرات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صحافت صرف معلومات فراہم کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا فریضہ ہے جس میں سچائی کا پرچار کرنا سب سے اہم ہے۔”کھرا سچ” ایک ایسا پروگرام ہے جس میں مبشر لقمان نہ صرف معاشرتی اور سیاسی معاملات پر گہرے تجزیے پیش کرتے ہیں بلکہ وہ ان مسائل کی حقیقت کو بھی بے نقاب کرتے ہیں جنہیں عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ان کا یہ پروگرام پاکستانی عوام کے لئے ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے جس سے وہ نہ صرف اپنے ارد گرد کے حالات سے آگاہ ہوتے ہیں بلکہ انہیں ملک کے اہم مسائل کی حقیقت بھی سامنے آتی ہے۔یہ پروگرام پاکستانی میڈیا میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں مبشر لقمان کسی بھی جانب داری یا مفادات کے بغیر صرف اور صرف سچ بولتے ہیں۔ اس میں حقیقت کو کھلے دل سے بیان کیا جاتا ہے، چاہے وہ کسی کو پسند آئے یا نہ آئے۔

    آج سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ منا ئی جا رہی ہے، تو ہم ان کے شجاعانہ اور سچے رویے کو سراہتے ہیں، ان کی بے باک صحافت نے نہ صرف میڈیا کے معیار کو بلند کیا ہے بلکہ بہت سے نوجوان صحافیوں کو یہ سکھایا ہے کہ سچ بولنے کا عزم کیا ہوتا ہے۔ ان کی سالگرہ پر ہم انہیں دل کی گہرائیوں سے دعائیں دیتے ہیں اور ان کی کامیابیوں کی مزید بلندی کی خواہش رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت مند، کامیاب اور خوشحال زندگی دے اور ان کی جرات مندانہ صحافتی کاوشوں کو ہمیشہ کامیابیوں سے ہمکنار کرے۔آمین

    تحریر: محمدمزمل اقبال

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

    فہیم حیدر پر کروڑوں کی بارش، مبشر لقمان کو خاموش رہنے کی اپیل

    کھرا سچ کے میزبان،مبشر لقمان، کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  • وزیر اعلی کی ہدایت،محکمہ صحت کا  چار سال کے  منصوبے کا لائحہ عمل پیش

    وزیر اعلی کی ہدایت،محکمہ صحت کا چار سال کے منصوبے کا لائحہ عمل پیش

    پنجاب میں صحت کے شعبے میں ایک نیا انقلاب آ رہا ہے، وزیر اعلی مریم نواز شریف کی ہدایت پر محکمہ صحت نے صوبے میں آئندہ چار سال کے ترقیاتی منصوبے کا لائحہ عمل پیش کر دیا ہے۔ اس منصوبے میں دل، جگر اور جل جانے والے مریضوں کے علاج کے لیے جدید طبی سہولتوں کا ایک نیٹ ورک قائم کیا جائے گا، جس سے پورے صوبے میں معیاری علاج کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔وزیر مریم اورنگزیب کی صدارت میں پنجاب میں سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کا پانچواں جائزہ اجلاس ہوا، جس میں صحت کی فراہمی کے بنیادی اور ثانوی نظام، پاپولیشن ویلفیئر، اعلی تعلیم اور ریسکیو 1122 کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ترقی اور منصوبہ بندی کے چیئرمین نبیل احمد اعوان، سیکرٹری آصف طفیل اور متعلقہ محکموں کے سیکرٹریوں نے شرکت کی۔

    اہم فیصلے اور اقدامات:
    لاہور میں موروثی اور خون کی بیماریوں کے علاج کے لیے ایک ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ۔
    محکمہ صحت کو فنڈز کی بروقت فراہمی اور منصوبہ بندی پر وزیر مریم اورنگزیب نے شاباش دی۔
    ‘کلینک آن ویلز’ کے فلیگ شپ پروگرام کو تیز کرنے کی ہدایت۔
    بچوں کی نشوونما کی کمی (سٹینٹنگ گروتھ) روکنے کے لیے فولک ایسڈ اور وائرن کی فراہمی جاری رہے گی۔
    سٹینٹڈ گروتھ اور ذیابیطس کی سکریننگ کے لیے مشینوں کی فراہمی۔
    میڈیکل سٹیز اور یونیورسٹی کمپلیکسز کا قیام۔
    وزیراعلی نے ہسپتالوں میں مشینوں کی مسلسل فعالیت کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
    3000 نرسوں کی بھرتی کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
    ضلعی اور تحصیل سطح پر ہسپتالوں کی اپگریڈیشن کی رفتار بڑھانے کی ہدایت۔

    دیگر اہم اقدامات:
    بہاولپور میں 200 بستروں کا ماں اور بچے کا ہسپتال اور میانوالی میں 100 بستروں کا ہسپتال قائم کرنے کی منصوبہ بندی۔
    پتوکی اور قصور میں ٹی ایچ کیو میں 20 بیڈز پر مشتمل ٹراما سینٹر کی تعمیر۔
    لاہور، سرگودھا، فیصل آباد اور ساہیوال میں کینسر ہسپتال بنائے جا رہے ہیں۔
    1610 آئی سی یو بیڈز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔
    وزیراعلی کے منصوبوں کے تحت 13831 ملین روپے کے فنڈز کے ساتھ بنیادی ہیلتھ یونٹس اور رورل ہیلتھ سینٹرز کی تجدید کا عمل جون تک مکمل کیا جائے گا۔
    ایمرجنسی سروسز کی بہتری کے لیے ریسکیو 1122 کے مزید سٹیشنز بنائے جائیں گے۔

    تعلیمی شعبے میں اقدامات:
    ہائیئر ایجوکیشن کی 100 سکیموں میں سے 81 جاری اور 19 نئی سکیموں پر کام کیا جا رہا ہے۔
    گوجرانوالہ یونیورسٹی کے قیام کے لیے 400 ملین مزید فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔
    وزیر اعلی مریم نواز شریف نے کہا کہ حکومت عوام کے خادم ہیں اور اس پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ عام آدمی کی زندگی میں آسانی آئے اور تمام محکموں کی کارکردگی کو تسلی بخش بنانے کے لیے بار بار جائزہ لیا جائے گا۔

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بڑھ گئیں

    مریم نواز کی جعلی تصویر وائرل کرنے والا گرفتار

  • مریم نواز کی جعلی تصویر وائرل کرنے والا گرفتار

    مریم نواز کی جعلی تصویر وائرل کرنے والا گرفتار

    مریم نواز کی جعلی تصاویر وائرل کرنے کے معاملے میں ایف آئی اے کی اہم کارروائی

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جعلی تصاویر کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے معاملے میں ایف آئی اے نے اہم پیشرفت کی ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔تحقیقات نمبر 50/2025 مورخہ 07-01-2025 کے نتیجے میں، ایف آئی آر نمبر 06/2025 سی سی آر سی لاہور میں سیکشن 20، 21، 24 پی ای سی اے 2016 کے تحت درج کی گئی ہے۔ ملزم بلال حسین نے غیر ملکی معززین اور پاکستانی حکومتی شخصیات کے خلاف اے آئی جنریٹڈ توہین آمیز مواد فیس بک پر شیئر کیا، جس سے پاکستان کے دوستانہ اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچنے اور قومی مفاد کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ایف آئی آر نمبر 06/2025 مورخہ 10-01-2025 درج کی گئی۔ملزم بلال حسین ولد محمد حنیف (سی این آئی سی: 34502-3975735-3، پتہ: کھوکھر ٹاؤن، لاہور) کو گرفتار کر لیا گیا۔توہین آمیز پوسٹ کے لیے استعمال ہونے والا فیس بک اکاؤنٹ اور موبائل فون برآمد کر لیا گیا۔ملزم کو کل جسمانی ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ملزم نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے اے آئی جنریٹڈ توہین آمیز مواد شیئر کیا۔دیگر ملوث سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی شناخت اور قانونی کارروائی جاری ہے۔

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم کی شناخت بلال کے نام سے ہوئی ہے، جو لاہور کا رہائشی ہے۔ ملزم نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی تصاویر تیار کیں اور انہیں فیس بک پر اپ لوڈ کیا۔ ان ویڈیوز میں مریم نواز کو غیر مناسب انداز میں پیش کیا گیا تھا، جس سے ان کی عزت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ایف آئی اے کی جانب سے ملزم کے خلاف پاکستان کے الیکٹرانک کرائمز ایکٹ اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کی ٹیم نے لاہور کے علاقے کھوکھر چوک سے ملزم بلال کو گرفتار کر لیا، جس کے بعد تحقیقات کا سلسلہ مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

    اس واقعے پر ایف آئی اے نے سوشل میڈیا پر جعلی اور مضر مواد کی پھیلاؤ کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ملزم کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر اس طرح کی سرگرمیوں کے خاتمے کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ سوشل میڈیا کو ایک محفوظ پلیٹ فارم بنایا جا سکے۔

    مریم نواز کے مصافحہ کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل،تبصرے

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

  • دریائے سندھ میں سونے کے وسیع ذخائردریافت ، کیا  اس سے ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے؟

    دریائے سندھ میں سونے کے وسیع ذخائردریافت ، کیا اس سے ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے؟

    پاکستان کا دریائے سندھ، جو خطے کی تاریخ اور تہذیب میں مرکزی کردار ادا کرتا رہا ہے، میں اربوں روپے مالیت کے سونے کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔

    دریائے سندھ، جو ہمالیہ سے شروع ہوکر بھارت سے گزرتا ہوا پاکستان میں داخل ہوتا ہے، دنیا کے طویل ترین دریاؤں میں سے ایک ہے اور 3200 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ نہ صرف لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کے لیے پانی کا بنیادی ذریعہ ہے بلکہ اس کے بطن میں قیمتی خزانے، سونا اور دیگر معدنیات بھی چھپے ہوئے ہیں۔یہ سونے کے ذخائر پنجاب کے ضلع اٹک کے قریب دریائے سندھ میں دریافت ہوئے ہیں۔ پاکستان کے جیالوجیکل سروے کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ ذخائر 600 ارب پاکستانی روپے کی ممکنہ آمدنی پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ ذخائر، جو دریائی تلچھٹ میں پائے گئے ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جمع ہوتے ہیں جہاں سردیوں کے موسم میں پانی کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ سونا ہمالیہ کے شمالی علاقوں سے دریائے سندھ کے تیز بہاؤ کے ذریعے صدیوں میں نیچے پہنچا ہے۔

    دریائے سندھ نے ہمالیہ سے قیمتی معدنیات، بشمول سونے کے ذرات، کو میدانوں تک پہنچانے میں صدیوں سے کردار ادا کیا ہے۔ سرد موسم میں جب پانی کی سطح کم ہو جاتی ہے تو مقامی لوگ دریائی تہہ سے سونے کے ذرات نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم یہ غیر قانونی سرگرمی حالیہ برسوں میں بہت بڑھ گئی ہے، جس کے باعث حکومت کو کارروائی کرنا پڑی۔2024 میں، پنجاب حکومت نے دریائے سندھ سے سونے کی غیر قانونی کان کنی پر پابندی عائد کر دی۔ سونے کی بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے وسیع پیمانے پر غیر قانونی کان کنی ہو رہی تھی، جسے روکنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی۔ حکام بھاری مشینری کے استعمال پر خاص توجہ دے رہے ہیں تاکہ اس کی روک تھام کی جا سکے۔ پنجاب کے وزیر برائے کان کنی، ابراہیم حسن مراد نے انکشاف کیا کہ اٹک کے علاقے میں 32 کلومیٹر پر پھیلے سونے کے ذخائر کا وزن 32.6 میٹرک ٹن تک ہو سکتا ہے۔اس دریافت نے مقامی اور صوبائی حکام میں خوشی اور تشویش دونوں پیدا کر دی ہیں۔ اس حوالے سے اختلافات بھی سامنے آئے ہیں کہ ان ذخائر کا انتظام کیسے کیا جائے۔ تنازع اس وقت مزید گہرا ہو گیا جب یہ انکشاف ہوا کہ پنجاب کے ایک اعلیٰ افسر نے وزیر اعلیٰ مریم نواز کے حکم کو نظرانداز کیا، جس کے باعث سونے کی ممکنہ کان کنی پر تنازع پیدا ہو گیا۔

    خیبرپختونخوا حکومت نے بھی دریائے سندھ کے حوالے سے ایک سروے کیا ہے، جس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ہمالیہ سے سونے کے ذرات دریائے کابل کے ذریعے پشاور اور مردان کے علاقوں تک پہنچ رہے ہیں۔

    یہ وسیع ذخائر پاکستان کے لیے اقتصادی ترقی کے امکانات لاتے ہیں، لیکن ماحولیاتی تحفظ اور وسائل کے انتظام کے چیلنجز بھی پیدا کرتے ہیں۔ حکومت سونے کے ان قیمتی ذخائر کو بروئے کار لانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ پائیدار ترقی کے اصولوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ان ذخائر کا استعمال یا دیگر معدنیات جیسے زنک اور پتھر پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ خطے کی کان کنی کی صنعت کے مستقبل کے لیے اہم ہوگا۔ دریائے سندھ کے اس چھپے ہوئے خزانے کی تقدیر تاحال غیر یقینی ہے۔

    ہَش منی کیس: ڈونلڈ ٹرمپ سزا سے بچ گئے ، جرم برقرار
    وزیراعظم سے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات
    چیمپئنز ٹرافی سے قبل بڑے کھلاڑی انجریز کا شکار

  • سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

    پاکستان کے معروف اور سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی آج سالگرہ ہے۔سالگرہ کے موقع پر مبشر لقمان کو مختلف شخصیات کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہوئے ہیں

    مبشر لقمان 11 جنوری 1963ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔مبشر لقمان نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر لاہور سے حاصل کی اور انٹرمیڈیٹ تک کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخلہ لیا۔مبشر لقمان نے اپنی صحافتی کیریئر کا آغاز چینل بزنس پلس سے بطور میزبان کیا تھا۔ ٹیلی ویژن اسکرین پر اپنے پہلے تجربے کے دوران انہوں نے پاکستان کے معاشی، سیاسی اور سماجی مسائل کو اجاگر کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ایکسپریس نیوز میں پروگرام "پوائنٹ بلینک” کی میزبانی کی اور پھر دنیا نیوز میں منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے "کھری بات ود لقمان” کے نام سے پروگرام کیا۔

    مبشر لقمان نے اے آر وائی نیوز میں "کھرا سچ” کے پروگرام کی میزبانی کی جس کے ذریعے انہوں نے متعدد سیاستدانوں کی کرپشن اور جھوٹ کو بے نقاب کیا۔ ان کا پروگرام "کھرا سچ” عوام میں بے حد مقبول ہوا اور اس کے ذریعے انہوں نے کئی سیاسی معاملات پر کھل کر اپنی رائے دی۔مبشر لقمان مختلف ٹی وی چینلز میں کھرا سچ پروگرام کرتے رے، آج کل 365 نیوز پر انکا پروگرام کھراسچ جمعہ سے اتوار شام آٹھ بجے نشر ہوتا ہے، اس دوران، ان پر کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں کئی مقدمات بھی درج کیے گئے، مگر عدالتوں نے ان کے حق میں فیصلے دیے اور ان کی سچائی کو تسلیم کیا۔

    ml
    مبشر لقمان نے اپنے صحافتی سفر میں کئی سنگ میل عبور کیے ہیں اور انہیں ان کی غیر معمولی پیشہ ورانہ خدمات کے لیے نہ صرف پاکستان میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔ ان کا اندازِ صحافت، ان کی جرات مندانہ تحقیقات اور سچائی کی تلاش نے انہیں میڈیا کی دنیا میں ایک منفرد مقام دلایا ہے۔مبشر لقمان کی سب سے زیادہ شہرت حاصل کرنے والی خصوصیت ان کی بے باک صحافت اور سوالات اٹھانے کی جرات ہے۔
    وہ کئی بڑے نیوز چینلز کے ساتھ وابستہ رہ چکے ہیں اور ان کی تحقیقاتی رپورٹنگ نے عوامی سطح پر گہری تاثیر ڈالی ہے۔

    مبشر لقمان نہ صرف ایک قابل صحافی ہیں بلکہ انہوں نے سیاست میں بھی اپنی موجودگی کو محسوس کرایا ہے۔ وہ 2007 اور 2008 میں پنجاب کے وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مواصلات بھی رہے ہیں۔ اپنے پروگرام "کھرا سچ” کے ذریعے، انہوں نے نہ صرف حکومتی کرپشن کو بے نقاب کیا بلکہ عوامی مسائل پر بھی گہری نظر رکھی۔

    mubasher

    مبشر لقمان کی ایمانداری اور بے باکی کی بدولت وہ ایک اہم شخصیت بن چکے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد مبشر لقمان کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا بھی رہا، اور ان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا، تاہم وہ ہمیشہ اپنی سچائی پر قائم رہے اور کرپشن کے خلاف آواز بلند کرتے رہے۔ مبشر لقمان کے بارے میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے بھی یہ اعتراف کیا کہ وہ ایک بہادر صحافی ہیں جو طاقتوروں کی کرپشن کو بے نقاب کرتے ہیں۔مبشر لقمان نے ہمیشہ حقائق کو سامنے لانے اور حکومتی کرپشن کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ پاکستان کے واحد اینکر ہیں جنہوں نے ہمیشہ سچ بولنے کی جرات دکھائی اور حکمرانوں اور اپوزیشن دونوں کو آئینہ دکھایا۔

    مبشر لقمان پاکستان کے سب سے بڑے ڈیجیٹل میڈیا نیٹ ورک باغی ٹی وی کے سی ای او بھی ہیں ۔ باغی ٹی وی اردو انگریزی، چینی زبان، پشتو ، دری میں شائع ہو رہا ہے، مبشر لقمان کا یوٹیوب چینل مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل بھی پاکستان کے مقبول ترین چینلز میں سے ہے۔بیباک تبصروں اور تجزیوں کے ساتھ کھرا سچ اور پھر اس پر ڈٹ جانا مبشر لقمان کی پہچان ہے، انہوں نے مفاد کی خاطر کبھی ضمیر کا سودا نہیں کیا بلکہ علی الاعلان کلمہ حق کہا یہی وجہ ہے کہ ان پر نہ صرف مقدمے بنائے گئے بلکہ متعدد بار انکے پروگرام کو بھی بند کروانے کی مذموم کوشش کی گئی.

    mubasher

    مبشر لقمان پاکستان برج فیڈریشن کے صدر بھی ہیں، دو برس قبل لاہور میں انہوں نے ایشیا اور مڈل ایسٹ کے برج فیڈریشن کے تحت مقابلہ جات کروائے جس میں بھارت سمیت کئی ممالک کی ٹیموں نے شرکت کی.پاکستان برج فیڈریشن کے صدر مبشر لقمان برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ کے نائب صدر بھی ہیں. یہ نہ صرف مبشر لقمان اور پاکستان برج فیڈریشن کیلئے ایک اعزاز کی بات ہے جبکہ ملک پاکستان کیلئے بھی اعزاز ہے کہ مبشر لقمان کو اس کھیل کے میدان میں عالمی سطح پر انہیں اپنی خدمات پر سراہا جارہا ہے.

    pbf ml

    مبشر لقمان کی سالگرہ کے موقع پر سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر HBD_Mubasherlucman ٹرینڈ میں مداحوں سمیت معروف شخصیات کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہورہے ہیں اور ساتھ ہی نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے-

    ml

  • ہنجروال کے علاقہ میں غیر ت کے نام پر قتل، باپ سمیت ملزمان گرفتار

    ہنجروال کے علاقہ میں غیر ت کے نام پر قتل، باپ سمیت ملزمان گرفتار

    ہنجروال پولیس نے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے غیرت کے نام پر 19 سالہ شمائلہ پر گولیاں برسانے والے باپ سمیت 03 ملزمان کو گرفتارکرلیا۔گرفتار ملزمان فیاض، امتیازاور سلیم شامل ہیں۔ مقتولہ کے چچا امتیاز سے پسٹل 30 بور بمہ گولیاں برآمدکر لی گئیں۔ شمائلہ نے مدنی نامی لڑکے سے پسند کی شادی کی ہوئی تھی۔

    لوہاری گیٹ پولیس نے واردات کی منصوبہ بندی ناکام بناتے ہوئے قدیمی باغ کے قریب سے دو رکنی ریکارڈ یافتہ موٹر سائیکل چور گینگ گرفتار کر لیا۔گرفتار ملزمان میں سرغنہ سردار علی اور ساتھی محمد علی بٹ عرف بیبو شامل ہیں۔ ملزمان کے قبضہ سے موٹر سائیکل اور غیر قانونی اسلحہ برآمدکر لیا گیا۔

    قائد اعظم انڈسٹریل اسٹیٹ پولیس نے بھی دو رکنی متحرک موٹر سائیکل چور گینگ اور ایک منشیات فروش کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار ملزمان کے قبضہ سے 2 موٹر سائیکل ماسٹر چابیاں،موبائل فون اور پستول برآمدکیا گیا۔گرفتار ملزمان میں محمد زمان اور نعیم شامل ہیں جبکہ ملزم فیصل مسیح کے قبضہ سے 1420 گرام چرس برآمدکی گئی۔

    چوکی گلدشت ٹاؤن پولیس نے 15 کی کال پر فوری کارروائی کرتے ہوئے شادی ہال کے باہر سر عام ہوائی فائرنگ کرنے والے 04 ملزمان ہاشم، سمیر، عمیر اور علی شیر کو حراست میں لے لیا۔ ملزمان سے رائفل، 02 پستول میگزین اور گولیاں برآمد کی گئیں۔

    ڈولفن سکواڈنے 15 کال پر کارروائی کرتے ہوئے گھروں اور فلیٹوں میں چوری کرنیوالا 3 رکنی گروہ گرفتارکر لیا۔ملزمان سہراب،امیر اور ہارون شامل ہیں۔ ملزمان کے قبضہ سے 235000 روپے نقدی برآمدکی گئی۔ ملزمان نے شہری عصمت کے فلیٹ سے چوری کی تھی۔ڈولفن سکواڈ نے اسلحہ کی نمائش کیخلاف مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے 4 ملزمان کو حراست میں لے لیا۔ملزمان کے قبضہ سے 2 پستول اور2 رائفلیں برآمدکی گئیں۔ گرفتار ملزمان میں حسن،جواد، علی اور فریاد شامل ہیں۔

    علاوہ ازیں ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے احکامات کی روشنی میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سول لائنز ڈویژن پولیس کی جانب سے تھانہ مغلپورہ کی بلڈنگ میں موک ایکسرسائز کا انعقاد کیا گیا۔ہنگامی مشقوں میں پولیس،بم سکواڈ، ریسکو،ایلیٹ فورس اور سی ٹی ڈی سمیت دیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں نے شرکت کی۔موک ایکسرسائز میں فرضی دہشت گردوں کو پکڑنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔ایس ڈی پی او سول لائن سول لائن انتخاب شاہ نے موک ایکسرسائز میں حصہ لینے والے تمام جوانوں کی قابلیت کو سراہا۔

    آٹھ گھنٹے گھر پر بیٹھ کر گزاریں گے تو آپ کی بیوی بھاگ جائے گی۔اڈانی

    2025 کے لیے دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹ،پاکستان کا کونسا نمبر؟