Baaghi TV

Category: لاہور

  • بھتیجے کی شادی  پر پہنےبھارتی ڈیزائنر کے تیار کردہ مریم نواز کے جوڑے کی قیمت کتنی؟

    بھتیجے کی شادی پر پہنےبھارتی ڈیزائنر کے تیار کردہ مریم نواز کے جوڑے کی قیمت کتنی؟

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا اپنے بھتیجے زید حسین نواز کے ولیمے میں پہنے گئے لباس کی قیمت منظرِ عام پر آگئی۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر مریم نواز کی ایک نئی تصویر زیرِ گردش ہے وائرل ہونے والی اس تصویر میں مریم نواز سرخ جوڑا پہنے نظر آئیں، مذکورہ تصویر ان کے بھتیجے زید حسین نواز کی شادی کی تقریب کی ہے جس میں انہوں نے سنہرے دھاگے اور نگوں کے کام والا سرخ لباس زیب تن کیا ہوا ہے مریم نواز کے اس حسین جوڑے کو کسی پاکستانی فیشن ڈیزائنر نے نہیں بلکہ بھارت کے سب سے مشہور ڈیزائنر نے تیار کیا ہے۔

    مریم نواز کا یہ جوڑا بھارتی سیلیبریٹی ڈیزائنر سبیاساچی کا شاہکار ہے مذکورہ ڈیزائنر بالی وڈ کے اسٹارز کی شادیوں میں دلہن کے لہنگےاور دلہا کے لباس تیار کرتے ہیں اور جوڑے ان کو پہن کر شادی میں انٹری دینا پسند کرتے ہیں، سبیاساچی کا ڈیزائن کردہ مریم نواز کا جوڑا سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے لیکن عوام اس جوڑے کی قیمت کے حوالے سے کافی متجسس نظر آئے کہ آخر اس مرتبہ مریم نواز کا جوڑا کتنا مہنگا ہے تو اب ان کا تجسس ختم ہو گیا ہے۔

    پوسٹ مارٹم کے دوران مردہ شخص کے حلق سے زندہ چوزا نکل آیا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق مریم نواز کا جوڑا سبیاساچی کی نومبر میں جاری ہونے والی کلیکشن’ہیریٹیج برائیڈل’ کا حصہ ہے جس کی قیمت 4 لاکھ 95 ہزار بھارتی روپے ہےاگر اس قمیت کو پاکستانی کرنسی میں تبدیل کیا جائے تو کل قمیت 16 لاکھ 23 ہزار 609 روپے بنتی ہے۔

    سابق کرکٹر ارشد پرویز انتقال کر گئے

    واضح رہے کہ حسین نواز کے بیٹے اور مریم نواز کے بھتیجے زید حسین نواز کا نکاح 25 دسمبر کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کے قریبی دوست شیخ حبیب الرحمٰن کی صاحبزادی ایمن حبیب سے ہوا ہے۔

    ریشم کی منفرد دعا جس کے باعث وہ تاحال غیر شادی شدہ ہیں

  • یو اے ای کے سفیر کی   جاری ترقیاتی منصوبوں  پر  مریم نواز  کی تعریف

    یو اے ای کے سفیر کی جاری ترقیاتی منصوبوں پر مریم نواز کی تعریف

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے متحدہ عرب امارات کے سفیر حماد عبید ابراہیم الزعابی کی ملاقات ہوئی ہے

    دو طرفہ تعاون کے لیے پنجاب اور یو اے ای کا ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا،ملاقات کے دوران معاشی تعاون اور پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں اور سیاحت کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا،مریم نواز نے یو اے ای کے سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کے لیے دعوت دی،مریم نواز نے یو اے ای کے سرمایہ کاروں کےلئے خصوصی مراعات اور سازگار ماحول کی یقین دہانی کروائی،مریم نواز نے متحدہ عرب امارات کی پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں تعاون کو سراہا

    یو اے ای کے سفیر نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو کامیاب دورہ چین پر مبارک باد دی،سفیر حماد عبید ابراہیم الزعابی نے جاری ترقیاتی منصوبوں، موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق اقدامات پر مریم نواز کی تعریف کی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم، اور توانائی کے شعبوں میں یو اے ای کی معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ،پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی ہیں،پاکستان اور یو اے ای علاقائی استحکام اور خوشحالی کے لیے یکساں سوچ رکھتے ہیں۔پنجاب زراعت، ٹیکنالوجی،گرین انرجی اور دیگر شعبوں میں یو اے ای کے ساتھ تعاون کا خواہاں ہے،

    یواے ای کے سفیر کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ پاکستان کےسفر میں حکومت اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ،پاکستان میں مزید پراجیکٹس پر کام کرنا چاہتے ہیں- پنجاب کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے دیرپا ترقی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    حافظ عبدالرحمان مکی کی وفات،سیاسی ،سماجی و کشمیری رہنماؤں کی تعزیت

  • خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ: خلیل الرحمن قمر ہنی ٹریپ کیس کی ملزمہ آمنہ عروج اور یاسر علی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    عدالت نے ملزمان کے وکلا کو تیاری کی مہلت دیتے ہوئے سماعت 6 دسمبر تک ملتوی کر دی ،ملزمان کے وکیل کی جانب سے تیاری کے لیے مزید مہلت طلب کی گئی،جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیسز پر سماعت کی ،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انسداددہشت گردی عدالت لاہور نے آمنہ عروج اور یاسر علی کی ضمانت بعد از گرفتاری خارج کر دی،ملزمہ کو خلیل الرحمن قمر کی جانب سے ناجائز ڈیمانڈ پوری کرنے کے لیے بلیک میل کیا گیا،ایف آئی آر چار دنوں کی تاخیر کے بعد درج ہوئی جس سے پراسیکیوشن کا کیس بری طرح متاثر ہوتا ہے،لاہور ہائی کورٹ آمنہ عروج اور یاسر علی جی درخواست ضمانت منظور کرے،

    خلیل الرحمان آج کل خبروں میں ہیں، گینگ سے تشدد کا نشانہ بننے سے لے کر نازیبا ویڈیو لیک ہونے تک ہر روز خلیل الرحمان قمر کی دو چار خبریں آ رہی ہیں، ہر خبر میں نئے انکشافات سامنے آ رہے جس میں خلیل الرحمان قمر کا حقیقی کردار بے نقاب ہو رہا ہے،خلیل الرحمان قمر آمنہ عروج کو فون کرتے تھے، خود ملنے گئے، ایک بار نہیں کئی بار ملے، نازیبا ویڈیو بنیں اور وائرل ہو گئیں، مقدمہ درج ہوا تو آمنہ عروج ،حسن شاہ و دیگر کو گرفتار کر لیا گیا خلیل الرحمان قمر بھی نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایف آئی اے پہنچ گئے کہ میری ساکھ متاثر ہوئی ہے،خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،

    خلیل الرحمان قمر کو 15 جولائی کو مبینہ طور پر اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، ملزمان کے خلاف 21 جولائی کو تھانہ سندر میں مقدمہ درج کیا گیا تھا،پولیس کے مطابق کیس کے مرکزی ملزم حسن شاہ سمیت 12 ملزمان پولیس کی تحویل میں ہیں،حسن شاہ 28 جولائی کو پشاور سے اپنے دوست کے ہمراہ گرفتار ہوا تھا اور اسی دن ہی خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو وائرل ہوئی تھی،پولیس نے گینگ کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نکال لیا ہے، ملزم حسن شاہ کے خلاف ننکانہ صاحب میں اغواء ، تشدد ، بجلی چوری کے 2 مقدمات درج ہیں ،ملزم کے ساتھی رفیق عرف فیکو قتل سمیت سنگین جرائم میں ملوث رہا ہے،مرکزی ملزم حسن شاہ اور رفیق کو پولیس نے پشاور سے گرفتار کیا ہے،پولیس ریکارڈ کے مطابق رفیق عرف فیکو کے خلاف قتل ، اقدام قتل ، تشدد کے 6 مقدمات شیخوپورہ میں درج ہیں،ملزم رفیق لاہور میں بھی قتل کے مقدمہ کا اشتہاری ہے،ملزم رفیق مرکزی ملزم حسن شاہ کے شوٹر کے طور پر آپریٹ کرتا ہے، ملزم حسن شاہ منشیات کا عادی ہے،افیون سمیت پکڑا گیا ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

    خلیل الرحمان قمر کے ساتھ کبھی کام نہیں کروں گی،نادیہ افگن

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج سمیت 12 ملزمان پر فردجرم عائد

  • حافظ عبدالرحمان مکی کی وفات،سیاسی ،سماجی و کشمیری رہنماؤں کی تعزیت

    حافظ عبدالرحمان مکی کی وفات،سیاسی ،سماجی و کشمیری رہنماؤں کی تعزیت

    ممتاز مذہبی اسکالر پروفیسر ڈاکٹر حافظ عبدالرحمان مکی کے انتقال پر مختلف سیاسی، سماجی و کشمیری جماعتوں کے رہنماؤں نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروفیسر عبدالرحمن مکی تحریک پاکستان کے عظیم روح رواں پروفیسر عبداللہ بہاولپوری کے عظیم بیٹے تھے، انکی امت مسلمہ بالخصوص پاکستان کیلئے علمی و فکری خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، وطن عزیز پاکستان میں مذہبی فرقہ واریت کے خلاف اور فتنہ خوارج کے رد میں ان کی کاوشوں کو یاد رکھا جائے گا،، وہ کشمیری اور فلسطینی مظلوم مسلمانوں کی توانا آواز تھے ان کے وصال سے جو علمی و فکری خلا پیدا ہوا ہے وہ کبھی پر نہیں ہو سکتا .

    ان خیالات کا اظہار سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعودسندھو ، ہدیۃ الہادی کے چیئرمین پیر سید ہارون گیلانی، قائد اعظم یونیورسٹی شعبہ قانون کے سربراہ ڈاکٹر عزیز الرحمان، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے رہنما رانا نصر اللہ ، مسلم لیگ ن اوورسیز کے رہنما حافظ امیر علی اعوان، اے این پی کے رہنما امیر بہادر خان، مولانا ھود، مولانا امیر حمزہ، مفتی محمد یوسف طیبی، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنما قاری محمد یعقوب شیخ، محمد سرور چوہدری، فیصل ندیم، چوہدری شفیق الرحمان وڑائچ،شیخ فیاض احمد، چوہدری حمید الحسن، محمد احسن تارڑ ودیگر نے پروفیسر عبدالرحمن مکی کے انتقال پر ان کے بھانجے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ محمد طلحہ سعید سے ملاقات میں تعزیتی کلمات بیان کرتے ہوئے کہے،

    مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے پروفیسر حافظ محمد طلحہ سعید کے کے گھر جوہر ٹاؤن میں ملاقات کیلئے سارا دن وفود کی آمد کا سلسلہ جاری رہا، تعزیتی پیغام میں مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ پروفیسر عبدالرحمن مکی نہایت بہترین درجے کے متقی اور پرہیزگار انسان تھے، وہ ہمارے مربی اور اتحاد امت کے داعی تھے، ان میں پاکستانیت اور امت مسلمہ کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، پروفیسر عبدالرحمن مکی مرحوم نے مسلم امہ کو درپیش مسائل کے حل کے حوالے سے اور اتحاد امت و فرقہ واریت کے خلاف جو عظیم کوششیں کی ہیں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ان کوششوں کو قبول فرمائے اور پروفیسر حافظ عبدالرحمان مکی کوجنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے آمین

    ممتاز مذہبی اسکالر پروفیسر حافظ عبدالرحمان مکی کی وفات پر تعزیت کیلئے مختلف جماعتوں کےوفود کی آمد کا سلسلہ تیسرے دن بھی جاری رہا، نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ، سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر جاوید اکرم،چیئرمین پاکستان علماء کونسل مولانا طاہر اشرفی، چیئرمین تحریک دعوت توحید میاں جمیل،کنونیئر آل پارٹیز حریت کانفرنس غلام محمد صفی،سربراہ اہل سنت والجماعت علامہ احمد لدھیانوی ، سید صلاح الدین ، کشمیری صحافی وکالم نگار عبدالرافع رسول ،ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نصیر احمد نئیر،ممبر صوبائی اسمبلی بلوچستان آغا عمر، عظمیٰ گل دختر جنرل حمید گل، انجمن تاجران کے صدر حاجی محمد حنیف سمیت مختلف مذہبی ،سیاسی،وسماجی شخصیات نے جوہر ٹاؤن میں ممتاز مذہبی اسکالر پروفیسر حافظ عبدالرحمان مکی کی وفات پر ان کے بیٹے عبدالمنعم اور بھانجے پروفیسر حافظ طلحہ سعید نائب صدر پاکستان مرکزی مسلم لیگ سے ملاقات کی اور اظہار تعزیت کیا ،

    جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ، سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر جاوید اکرم،مولانا طاہر اشرفی،میاں جمیل ،آل پارٹیز حریت کانفرنس کے کنونیئر غلام محمد صفی سمیت دیگر رہنمائوں کا اس موقع پر تعزیتی گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ زمانہ طالب علمی سے عبدالرحمن مکی ایک پختہ عقیدے کے مضبوط لیڈر تھے،جری ، بہادر اور حق بات کہنے سے کبھی عار نہیں کھاتے تھے، موت سب کو آنی ہے لیکن ان کی موت قابل فخر ہے کہ ساری زندگی اللہ کی راہ میں کھڑے رہے، ان کا اس دنیا سے جانا پوری دنیا کے تحریکی مسلمانوں کا نقصان ہے،پروفیسر عبدالرحمن مکی کی وفات ایک مشترکہ سانحہ ہے،یہ دکھ صرف انکی جماعت کا نہیں بلکہ یہ مشترکہ دکھ ہے۔

    کشمیری حریت رہنمائوں کا گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ آج سایہ شفقت سے محروم ہوگئے ہیں، سید علی گیلانی کے بعد آج ہم خود کو یتیم محسوس کر رہے ہیں، پروفیسر حافظ عبدالرحمان مکی ہمارے رہنما اور ہم کشمیریوں کی توانا آواز تھےانکی زندگی بھی قابل رشک تھی اور ان کی موت بھی قابل رشک ہے،اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائےآمین

    ننکانہ : ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مکی کی وفات، امت مسلمہ کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے،ثاقب مجید

    پروفیسر ڈاکٹر حافظ عبدالرحمان مکی کی نماز جنازہ ادا،ہزاروں افراد کی شرکت

    حافظ محمد سعید کے برادر نسبتی پروفیسر ڈاکٹر حافظ عبدالرحمان مکی چل بسے

  • ریشم کی منفرد دعا جس کے باعث وہ تاحال غیر شادی شدہ ہیں

    ریشم کی منفرد دعا جس کے باعث وہ تاحال غیر شادی شدہ ہیں

    لاہور: پاکستان کی معروف اداکارہ و ماڈل ریشم نے تاحال شادی نہ ہونے کی وجہ اللہ کے گھر مانگی گئی اپنی ایک منفرد دعا کو قرار دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اداکارہ ریشم کا نجی ٹی وی چینل پر دیا گئے انٹرویو کا ایک مختصر سا کلپ وائرل ہو رہاہے جس میں ریشم نے اپنی تاحال شادی نہ ہونے کی وجہ پر بات کی ،وائرل کلپ میں ریشم کہہ رہی ہیں کہ میں ایک ڈرامے کی شوٹنگ کو درمیان میں چھوڑ کر عمرے کی ادائیگی کے لیے چلی گئی تھی،میں اللہ کے گھر گئی-

    اداکارہ ریشم نے کہا کہ مسجد الحرام کے مینار دیکھے تو سب نے کہا کہ دعا مانگو، دعا مانگو، جو دعا مانگو گی وہ قبول ہو گی، میں نے دعا مانگی کہ یا اللہ عزت دینا تو کبھی تکبر نہ دینا اور میرا ہاتھ ہمیشہ دینے والا رکھنا کبھی لینے والا ہاتھ نہ بنانا۔

    پی آئی اے نے 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود لاہور سے مسافروں کو ملتان نہ بھجوایا

    ریشم کہتی ہیں کہ میری یہ دعا کوئی ایسی قبول ہوئی کہ آج تک زندگی میں مرد کی کمائی نصیب ہی نہیں ہوئی، مجھے نہیں معلوم اس میں اللّٰہ کی کیا حکمت ہے، اب بس زندگی میں سیٹل ہونا ہے، اللہ سے دعا مانگی ہے کہ میری اب شادی کروا دے، کام چھوڑ دیا تھا مگر بعد میں پھر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

    جنوبی کوریا ، بدترین فضائی حادثے کے بعد فضائی حفاظتی تحقیقات کا حکم

  • پی آئی اے نے 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود لاہور سے مسافروں کو ملتان نہ بھجوایا

    پی آئی اے نے 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود لاہور سے مسافروں کو ملتان نہ بھجوایا

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی ایک اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے سعودی عرب سے ملتان جانے والی پرواز کے مسافر 12 گھنٹے سے لاہور ایئر پورٹ پر بے یار و مددگار بیٹھے ہیں۔

    پی آئی اے کی پرواز جدہ سے ملتان کے لیے روانہ ہوئی تھی، لیکن خراب موسم اور دھند کی وجہ سے اسے لاہور اتارنا پڑا۔مسافروں کا کہنا ہے کہ جب پرواز لاہور پہنچی تو انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ جلد ہی ملتان روانہ کیا جائے گا، لیکن اس کے باوجود 12 گھنٹے گزر جانے کے باوجود کوئی حل نہیں نکالا گیا۔ لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مسافر سخت پریشانی کا شکار ہیں اور پی آئی اے کے عملے کے ساتھ ان کے برتاؤ کو لے کر شدید غم و غصہ ظاہر کر رہے ہیں۔

    مسافروں کی ایک ویڈیو سانے آئی ہے جس میں وہ احتجاج کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک مسافر نے بتایا کہ وہ رات 11 بجے سے ایئر پورٹ پر بیٹھے ہیں اور انہیں مسلسل یہ کہا جا رہا ہے کہ اگلے کچھ وقت میں پرواز ملتان کے لیے روانہ ہو جائے گی۔ تاہم، اب تک کچھ بھی نہیں ہوا۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ انہیں ٹھوس معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں اور وہ گھنٹوں گزر جانے کے باوجود ملتان روانہ نہیں ہو سکے۔ویڈیو میں مسافروں کی ایک بڑی تعداد دکھائی دے رہی ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، اور تمام مسافر پی آئی اے کی انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔ ایک مسافر کا کہنا تھا کہ "ہم نے پی آئی اے پر بھروسہ کیا تھا لیکن اب یہاں آ کر ہمیں احساس ہو رہا ہے کہ ہم نے کتنا بڑا غلط فیصلہ کیا تھا۔”مسافروں کی جانب سے مزید شکایات یہ بھی ہیں کہ ایئر پورٹ پر کوئی مناسب رہنمائی یا سہولت فراہم نہیں کی جا رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایئر لائن کی طرف سے رابطہ کرنے کے لئے کوئی نمبر نہیں دیا جا رہا اور پی آئی اے کا عملہ صرف وقت گزاری کر رہا ہے، جبکہ مسافر سخت پریشانی کا شکار ہیں۔ لاہور ایئر پورٹ پر اس وقت پی آئی اے کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے اور مسافر اس وقت تک ایئرپورٹ پر موجود ہیں جب تک کہ ان کا معاملہ حل نہیں کیا جاتا۔

    پی آئی اے کی پروازیں تاخیر کا شکار

    کراچی سے اسلام آباد،پی آئی اے پرواز میں فنی خرابی،ہنگامی لینڈنگ

    سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

  • موٹرسائیکل چلانے کی تربیت،پاکستانی خواتین کی خود مختاری کی جانب اہم قدم

    موٹرسائیکل چلانے کی تربیت،پاکستانی خواتین کی خود مختاری کی جانب اہم قدم

    پاکستانی خواتین کی خود مختاری کی جانب ایک اہم قدم سامنے آیا ہے "ویمن آن وھیلز” پروگرام نے خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کی تربیت دے کر ان کی زندگیوں میں تبدیلی لائی ہے

    22 سالہ لا ئبہ رشید، ایک پاکستانی طالبہ، نے اپنی زندگی میں ایک نیا موڑ لانے کی امید ظاہر کی ہے، کیونکہ وہ لاہور میں "ویمن آن وھیلز” پروگرام کے تحت موٹر سائیکل چلانے کی تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ اس پروگرام کے ذریعے خواتین کو دو پہیوں والی گاڑیاں چلانے کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ خود مختار بن سکیں اور مردوں پر اپنی روزمرہ کی نقل و حرکت کے لیے انحصار نہ کریں۔یہ پروگرام سات سال قبل شروع ہوا تھا، لیکن پاکستان جیسے روایتی اور اسلامی معاشرتی ڈھانچے میں خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کی اجازت دینا ابھی بھی ایک نیا رجحان ہے۔ خواتین کا مرد رشتہ دار کے پیچھے بیٹھی ہونا یا گاڑی چلانا زیادہ قابل قبول سمجھا جاتا ہے، لیکن لا ئبہ رشید جیسے نوجوان اب اس روایت کو بدلنے کے لیے کمر بستہ ہیں۔لا ئبہ رشید نے رائٹرز کو بتایا: "میں امید کرتی ہوں کہ موٹر سائیکل چلانے کے بعد میری زندگی میں تبدیلی آئے گی کیونکہ مجھے اپنے بھائی پر انحصار کرنا پڑتا ہے کہ وہ مجھے کالج چھوڑے اور لے آئے۔” ان کا کہنا تھا کہ وہ اب خود موٹر سائیکل خرید کر کالج جانا چاہتی ہیں، کیونکہ ان کے خاندان میں پہلے کوئی بھی خاتون موٹر سائیکل نہیں چلاتی تھی۔

    ویمن آن وھیلز پروگرام 2017 میں لاہور ٹریفک پولیس کی جانب سے شروع کیا گیا تھا، اور اس کا مقصد خواتین کو دو پہیوں والی گاڑیاں چلانے کی تربیت فراہم کرنا تھا۔ اس پروگرام کے تحت اب تک 6600 خواتین کو تربیت دی جا چکی ہے۔ پروگرام میں مختلف عمر کی خواتین حصہ لیتی ہیں، جن میں طالبات سے لے کر گھریلو خواتین تک شامل ہیں۔پروگرام کے ایک تربیت دینے والی خاتون، حمیرا رفاقت، جو خود سینئر ٹریفک وارڈن ہیں، نے بتایا کہ خواتین تیز رفتاری سے سیکھتی ہیں کیونکہ ان میں جوش و جذبہ ہوتا ہے اور وہ خطرات مول لینے سے نہیں گھبراتیں۔ حمیرا نے اب تک 1000 سے زائد خواتین کو تربیت دی ہے۔

    پاکستان میں خواتین کا موٹر سائیکل چلانا ایک ثقافتی اور مذہبی اعتبار سے ممنوع سمجھا جاتا تھا، لیکن اب یہ پروگرام خواتین میں اعتماد اور خودمختاری کے حصول کا ذریعہ بن چکا ہے۔ سماجی کارکن بشری اقبال حسین نے کہا کہ "ویمن آن وھیلز” پروگرام ثقافت میں تبدیلی لا رہا ہے اور 1980 کی دہائی میں گاڑیوں کے استعمال کی طرح خواتین اب موٹر سائیکلوں کی جانب بھی بڑھ رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا: "خواتین اپنی نقل و حرکت میں آزادی حاصل کرنے کے لیے اس پروگرام میں حصہ لے رہی ہیں تاکہ وہ اپنے کام، اسکول، اور بازاروں تک پہنچنے کے لیے مردوں پر انحصار نہ کریں۔”

    پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے متوسط طبقے کی قوت خرید کو متاثر کیا ہے۔ اب لوگ گاڑی خریدنے کی بجائے سستی متبادل کے طور پر موٹر سائیکلیں خرید رہے ہیں۔ آٹو سیکٹر کے تجزیہ کار محمد ابرار پولانی کے مطابق، "پاکستان میں سب سے سستی گاڑی کی قیمت تقریباً 2.3 ملین روپے ہے، جبکہ سب سے سستی چینی موٹر سائیکل کی قیمت تقریباً 115,000 روپے ہے، جو زیادہ تر پاکستانیوں کے لیے قابل برداشت ہے۔”

    ویمن آن وھیلز پروگرام میں تربیت حاصل کرنے والی 23 سالہ غنیہ رضا، جو کرمنالوجی میں ڈاکٹریٹ کی طالبہ ہیں، نے بتایا کہ موٹر سائیکل چلانا ان کے لیے ایک عظیم کامیابی کا احساس ہے: "یہ ایک شیشے کی چھت کو توڑنے جیسا تھا۔”

    36 سالہ شمائلہ شفیق، جو تین بچوں کی ماں اور جز وقتی فیشن ڈیزائنر ہیں، نے اس پروگرام کے بعد اپنے شوہر کی موٹر سائیکل پر مارکیٹ جانا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے موٹر سائیکل چلانے کے دوران عورتوں کے لیے ایک خاص طرح کا چھوٹا عبایہ ڈیزائن کیا ہے جو ڈرائیونگ کے دوران محفوظ رہنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ "لمبے عبایہ میں ڈرائیونگ کرنا خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ وہ پہیوں میں پھنس سکتے ہیں،” انہوں نے کہا۔

    ویمن آن وھیلز پروگرام نے پاکستان میں خواتین کی خودمختاری کے لیے ایک نیا باب کھولا ہے، جہاں خواتین اب روایتی طرزِ زندگی سے باہر نکل کر اپنی نقل و حرکت کے فیصلے خود کر رہی ہیں۔ اس پروگرام کی کامیابی اور بڑھتی ہوئی مقبولیت اس بات کا غماز ہے کہ خواتین اب خود مختار بننے کی راہ پر گامزن ہو چکی ہیں۔یہ پروگرام نہ صرف پاکستانی خواتین کے لیے ایک تربیتی موقع ہے بلکہ یہ ان کے لیے ایک مضبوط پیغام بھی ہے کہ وہ معاشرتی رکاوٹوں کو توڑ کر اپنی زندگیوں میں نئی تبدیلیاں لا سکتی ہیں۔

    ایتھوپیا،ٹرک دریا میں گرنے سے 71 افراد کی موت

    بھیک مانگنے کیلئے سعودی عرب جانے کی کوشش،دو خواتین گرفتار

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کا شراب کا دھندہ

  • متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کا شراب کا دھندہ

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کا شراب کا دھندہ

    پاکستانی متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ ایک بار پھر خبروں میں آ گئی ہیں، اور اس بار ان کی خبر لندن سے آئی ہے جہاں وہ ایک نیا متنازعہ کاروبار شروع کر رہی ہیں۔ حریم شاہ نے لندن میں شراب کی بوتل کے ہمراہ ایک ویڈیو شیئر کی ہے، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے۔

    ویڈیو میں حریم شاہ لندن کے ایک معروف علاقے میں موجود ہیں اور شراب کی بوتل کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔ حریم شاہ نے شراب کی بوتل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف کے لندن میں واقع گھر کے باہر رکھی۔ حریم شاہ کہتی ہیں کہ نواز شریف کے لئے بلیو لیبل کا گفٹ لے کر آئی ہوں، صبح اٹھ کر پی لینا، آپ کے گھر کے باہر رکھ کر جا رہی ہوں،

    حریم شاہ، جو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے وابستہ ہیں اور عمران خان کو اپنا رہنما مانتی ہیں، ماضی میں بھی کئی بار اپنے متنازعہ بیانات اور ویڈیوز کے سبب خبروں میں آ چکی ہیں۔ حریم شاہ نے ماضی میں مختلف سیاستدانوں کو بدنام کرنے کے لئے کئی نازیبا ویڈیوز بھی شیئر کی ہیں، حریم شاہ کی اپنی بھی نازیبا ویڈیوز لیک ہو چکی ہیں، جس میں حریم شاہ کو برہنہ دکھایا گیا ہے، دوسروں کی ویڈیو لیک کرنے والی حریم شاہ خود ویڈیو لیک کا شکار ہو چکی ہیں،حریم شاہ کا کردار پاکستانی سوشل میڈیا اور سیاست میں ہمیشہ متنازعہ رہا ہے۔ اب حریم شاہ نے مبینہ طور پر لندن میں شراب کا کاروبار شروع کردیا ہے، نواز شریف کے گھر کے باہر ویڈیو رکھنا حریم شاہ نے حقیقت شراب کی فروخت کی مارکیٹنگ کی ہے تا کہ ان سے شہری شراب لینے کے لئے رابطہ کر سکیں.

    حریم شاہ کا متنازعہ اقدام ایک دفعہ پھر عوامی حلقوں میں بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین مختلف انداز میں اس پر ردعمل دے رہے ہیں، ایک صارف نے ایکس پر لکھا کہ یہ حریم شاہ ہے جسکا تعلق تحریک انتشار سے ہے یہ شراب کی بوتل لندن میں نواز شریف کے گھر کے باہر رکھتی ہے ،اور کیا خوب ہوگا کہ جب یہ پاکستان آتی ہے تو حکومت ہاتھ بھی نہیں لگاتی

    https://x.com/AhadFarhan7/status/1873293261743460728

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ایک اور نازیبا ویڈیو”لیک”

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    صندل خٹک نے حریم شاہ کی جانب سے لگے تمام الزامات کی تردید کر دی ہے

    صندل خٹک نے حریم شاہ کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی

  • لاہورہائیکورٹ کاتمام سکولز کو ایک ماہ بعد اپنی دوبارہ رجسٹریشن کروانے کا حکم

    لاہورہائیکورٹ کاتمام سکولز کو ایک ماہ بعد اپنی دوبارہ رجسٹریشن کروانے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ، اسموگ کے تدراک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    ہائیکورٹ نے تمام سکولز کو ایک ماہ بعد اپنی دوبارہ رجسٹریشن کروانے کا حکم دے دیا ،عدالت نے سیکرٹری ایجوکیشن کو ہدایت کی کہ جو سکول بس پالیسی پر عمل نہیں کرتا اس کی رجسٹریشن معطل کردی جائے،عدالت نے ڈی جی ایل ڈی اے کو لاہور کی سٹرکوں کا جائزہ لیکر ٹریفک پلان طلب کرلیا ، جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ حکومت اسموگ کے تدراک کے لیے بڑے اچھے اقدامات کررہی ہے،

    سیکرٹری سکولز ایجوکیشن خالد نذیر وٹو عدالت کے روبرو پیش ہوئے،سیکرٹری سکولز ایجوکیشن خالد نذیر نے پرائیویٹ سکولز سے متعلق مجوزہ رولز پیش کیے، سیکرٹری ایجوکیشن نے کہا کہ ہم نے پالیسی بنائی ہے سکولز کی بسیں ہوں گئیں تو سکولز کی رجسٹریشن ہوگی،ہم رولز میں نئے سکولز کی رجسٹریشن کے لیے بسیں لازمی قرار دے رہے ہیں،جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ آپ رولز بنائیں ایس او پیز پر یقین نہیں کرتا ،سکول بسیوں کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے سکولز مالکان کے پاس بہت پیسے ہیں ،ہم نے اگلے سیزن سے پہلے پہلے تمام احکامات پر عمل کروانا ہے ،جسٹس شاہد کریم نے استفسار کیا کہ ایچسن سکولز کس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے ،ایچسن ہائرر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے،جسٹس شاہد کریم نے پنجاب حکومت کے وکیل کو ہدایت کی کہ آپ ایچسن کو بھی آگاہ کریں،ماحولیات کا معاملہ بہت سنجیدہ ہوچکا ہے اس میں مزید وقت ضائع نا کیا جائے ،مجھے بہت خوشی ہے حکومت اسموگ پر قابو پانے کے لیے اقدامات کررہی ہے ،ملتان روڑ پر بسوں کے اڈے اور سوسائٹیز ہیں وہاں پر ٹریفک رولز پر عمل نہیں کیا جارہا ،

    پنجاب حکومت کے وکیل حسن اعجاز ایڈووکیٹ پیش ہوئے ،جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی

    بیلجیئم کا ای سگریٹ کی فروخت پر پابندی کا اعلان

    سوشل میڈیا کی دوستی، منڈی بہاؤالدین پہنچنے والا بھارتی گرفتار

  • سوشل میڈیا کی دوستی،  منڈی بہاؤالدین پہنچنے والا بھارتی گرفتار

    سوشل میڈیا کی دوستی، منڈی بہاؤالدین پہنچنے والا بھارتی گرفتار

    سوشل میڈیا پر دوستی کی ایک اور حیران کن داستان سامنے آئی ہے، جہاں ہمسایہ ملک بھارت کا رہائشی مجنوں اپنی لیلیٰ کو پانے کے لیے پاکستانی سرزمین تک پہنچ گیا۔

    بھارتی شہری بادل بابو ولد کرپال سنگھ، جو کہ بھارت کے صوبہ پنجاب کے علاقے سے تعلق رکھتا ہے، سوشل میڈیا پر نواحی گاؤں مونگ کی رہائشی لیلیٰ کے ساتھ دوستی کی تھی۔بتایا گیا ہے کہ بادل بابو کی لیلیٰ کے ساتھ سوشل میڈیا پر تعلقات اتنے بڑھ گئے کہ وہ اپنی محبوبہ سے ملنے کے لیے پاکستان پہنچ آیا۔ اس نے بغیر کسی قانونی سفری دستاویزات کے پاکستان کی سرحد عبور کی اور مونگ کے قریب ایک مقام پر قیام کیا۔جب مقامی لوگوں کو اس بھارتی شہری کی موجودگی کا علم ہوا، تو انھوں نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس تھانہ صدر نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بادل بابو کو گرفتار کر لیا اور اسے حوالات میں بند کر دیا۔ پولیس نے اس کے خلاف فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    مقدمہ سب انسپکٹر غلام رضا کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ گرفتار بھارتی شہری پولیس کو پاکستان میں قیام کے حوالے سے کوئی قانونی دستاویزات فراہم نہیں کر سکا۔ پولیس حکام کے مطابق بادل بابو کے خلاف کارروائی جاری ہے اور اسے قانونی کارروائی کے بعد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    یہ واقعہ سوشل میڈیا کے ذریعے پیدا ہونے والی محبت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے قانونی مسائل کی عکاسی کرتا ہے، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ پولیس حکام نے عوام کو اس بات کا مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر قانونی طریقے سے کسی دوسرے ملک جانے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ ایسا عمل نہ صرف قانون کے خلاف ہے بلکہ اپنی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔مقامی عوام اس واقعے کو ایک سنگین صورتحال کے طور پر دیکھ رہے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور سفری قوانین کی سختی کے باوجود ایسی کوششوں کا ہونا ایک سنگین نوعیت کی بات ہے۔

    جنوبی کوریا،طیارہ حادثے میں شکار مسافر کی آخری گفتگو

    سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی وفات،جوبائیڈن سمیت سابق صدور کا اظہار تعزیت