Baaghi TV

Category: لاہور

  • فارم 47 پر آنے والا وزیراعظم شرعی ہے یا غیر شرعی؟حافظ نعیم الرحمان

    فارم 47 پر آنے والا وزیراعظم شرعی ہے یا غیر شرعی؟حافظ نعیم الرحمان

    اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے وی پی این کو غیر شرعی قرار دیے جانے پر مختلف مذہبی جماعتوں کی جانب سے ردعمل کے بعد سیاسی رہنماؤں کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کی، جس میں ان سے اسلامی نظریاتی کونسل کے وی پی این کے حوالہ سے فتویٰ پر سوال کیا گیا جس پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ علماء کرام کو ایکس ( سابقہ ٹوئٹر ) کے غیر شرعی بیان سے پہلے یہ بتانا چاہئیے تھا کہ فارم 47 پر آنے والا وزیراعظم شرعی ہے یا غیر شرعی،وی پی این تو وہ بعد میں استعمال کر رہے ہیں، اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی کریڈیبلٹی پر سوال اٹھا دیا ہے، ان اداروں کی ایسے فیصلوں سے اپنی ساکھ متاثر ہوتی ہے، اس فتوے کو ری وزٹ کیا جائے جس میں تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جانا چاہئے اور آدھا سچ نہیں پورا سچ سامنے آنا چاہیے، پاکستان میں آئی ٹی کا بڑا پوٹینشل ہے، ابھی تک ہم ملک میں آئی ٹی کی مناسب پالیسی نہیں لاسکے، اس کو بہتر بنانےکی بجائے انٹرنیٹ کو سلو کردیا گیا ہے۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک بڑے ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، بلوچستان، خیبر پختونخوا میں امن عامہ سمیت کچھ امورپر بات کرنی ہے، باجوڑ میں جماعت اسلامی کے رہنما کو نشانہ بنایا گیا، اس وقت پورے خیبرپختونخوا میں احتجاج کیا جا رہا ہے، امن و امان کی ذمہ داری حکومت کی ہے، ہمیں اپنی پالیسی کو ازسرنو دیکھنے کی ضرورت ہے، کیا افغانستان کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، بےامنی کے اثرات براہ راست ہماری معیشت پر پڑتے ہیں، بڑے بڑے مسائل پر اکٹھا نہیں بیٹھیں گےتو مسائل حل نہیں ہوں گے،اسٹاک ایکسچینج آگے بڑھنے سے عوام کو کیا فرق پڑ رہا ہے؟ کیا پیٹرول اور بجلی کے بلوں میں عوام کو ریلیف دیاگیا؟ انڈسٹری بند پڑی ہوئی ہے، بجلی ٹیرف میں ڈائریکٹ کمی ہونی چاہیے، جاگیرداروں پر ٹیکس لگانے کی بات کرتے ہیں لیکن کوئی فرق نہیں پڑا، ڈراما کرکے لوگوں کو بیوقوف بنانے کا عمل ختم ہونا چاہیے، آئی ایم ایف نے سولر کو کم کرنے کا کہا ہے، آپ نے اسے قبول کیوں کیا، سولر کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے، ایک دن کہتے ہیں منی بجٹ آئے گا دوسرے دن کہتے ہیں نہیں آئے گا، اس سال حکومت نے سرکاری افسران کےلیے ایک ہزار 87 گاڑیاں خریدنے کےلیے 5 ارب روپے مختص کیے،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نورا کشتی کرتی ہے، نواز شریف نےکہا کہ طے کر لیا تھا کہ اکثریت نہ ملی تو وزیراعظم نہیں بنوں گا، اگر آپ کو ووٹ نہیں ملے تھے تو ایم این اے کیوں بنے تھے؟ پیپلزپارٹی کے سنجیدہ لوگوں سے کہتا ہوں کہ یہ حکومت بجھتا ہوا چراغ ہے۔

    وی پی این غیرشرعی، فتویٰ پر کھراسچ میں مذہبی رہنماؤں کا ردعمل

    وی پی این کا استعمال غیر شرعی،فتویٰ غلط ہے،مولانا طارق جمیل

    دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    واضح رہے کہ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹرراغب حسین نعیمی نے ”وی پی این“ کااستعمال غیرشرعی قراردیدیا۔ حکومت و ریاست کو شرعی لحاظ سے اختیا ر ہے کہ وہ برائی اور برائی تک پہنچانے والے تمام اقدامات کا انسداد کرے،لہذا غیر اخلاقی اور توہین آمیز مواد تک رسائی کو روکنے یا محدود کرنے کے لئے اقدامات کرنا،جن میں وی پی این کی بندش شامل ہے،شریعت سے ہم آہنگ ہے اور کونسل کی پیش کردہ سفارشات و تجاویز پر عمل در آمد ہے،لہٰذا ان اقدامات کی ہم تائید و تحسین کرتے ہیں۔انٹرنیٹ یا کسی سافٹ وئیر(وی پی این وغیرہ) کا استعمال،جس سے غیر اخلاقی یا غیر قانونی امور تک رسائی مقصود ہوشرعا ممنوع ہے۔ریاست کی طرف سے وی پی این بند کرنے کا اقدام قابلِ تحسین ہے۔ وی پی این کا استعمال اس نیت سے کہ غیر قانونی مواد یا بلاک شدہ ویب سائٹس تک رسائی حاصل کی جائے، شرعی لحاظ سے ناجائز ہے۔ حکومت کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ایسے ذرائع اور ٹیکنالوجیز کے استعمال پر موثر پابندی عائد کی جائے جو معاشرتی اقدار اور قانون کی پاسداری کو متاثر کرتے ہیں ۔

  • چوری شدہ50 لاکھ سے زائد مالیت کے موبائل مالکان کے حوالے

    چوری شدہ50 لاکھ سے زائد مالیت کے موبائل مالکان کے حوالے

    انویسٹی گیشن ہیڈ کوارٹرز: 50 لاکھ سے زائد مالیت کے 200 موبائل ریکور، اصل مالکان کے حوالے
    ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید کی قیادت میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ایک اور بڑی کامیابی حاصل کی گئی۔ اسپیشل پولیس ٹیمز کی موثر کارروائیوں کے نتیجے میں 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے 200 موبائل فون برآمد کیے گئے اور انہیں اصل مالکان کے سپرد کر دیا گیا۔

    پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ای گیجٹ ایپ کی مدد سے ان موبائل فونز کو ٹریس اور ریکور کیا۔ یہ موبائل فون مختلف وارداتوں میں چھینے گئے یا چوری ہو گئے تھے۔ مدعی مقدمات نے اپنے قیمتی موبائل فونز کی واپسی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ایس ایس پی محمد نوید نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی جرم یا مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو۔ انہوں نے مزید کہا "شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے، اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔”

    اس کامیاب مہم سے پولیس پر عوام کا اعتماد مزید بڑھا ہے۔ شہریوں نے امید ظاہر کی کہ پولیس اسی طرح محنت اور دیانتداری سے اپنا کام جاری رکھے گی۔یہ اقدامات لاہور پولیس کی جرائم کے خلاف جاری کوششوں کی ایک بہترین مثال ہیں، جو شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔

  • کرکٹ کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے،راشد لطیف

    کرکٹ کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے،راشد لطیف

    لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے کہا ہے کہ اگر بھارت اپنی ٹیم نہیں بھیجتا تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے موقف پر ڈٹے رہنا چاہیے-

    باغی ٹی وی : روزنامہ انڈین ایکسپریس کی ویب سائٹ کے لیے لکھے گئے ایک مضمون میں راشد لطیف نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی کشیدگی اور کھنچاؤ ہمیشہ رہا ہے مگر اِس کے باوجود کرکٹ بھی ہوتی رہی ہے دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے ہاں جاتی رہی ہیں، دو طرفہ کرکٹ بھی ہوئی ہے اور انٹرنیشنل ایونٹس بھی، سیاسی کشیدگی بھی رہے گی اور دونوں ملکوں کو چاہیے کہ کرکٹ کو فاصلے مٹانے کی چیز بنائیں، ملانے والا پُل بنائیں، اسے سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔

    راشد لطیف نے لکھا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ آئی سی سی کے قوانین اور قواعد کا احترام کیا ہےآئی سی سی کے کسی بھی ٹورنا منٹ کے لیے رکن ممالک میں سے جو بھی کوالیفائی کرے اُسے جانا ہی پڑتا ہےپاکستانی کرکٹ ٹیم 2016 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کے لیے اور 2023 میں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کے لیے بھارت گئی تھی۔

    راشد لطیف نے لکھا کہ اہمیت اس بات کی نہیں ہے کہ بھارت کی ٹیم پاکستان نہیں آرہی بلکہ یہ ہے کہ ٹیم نہ بھیجنے کی وجوہ کیا ہیں، پاکستانی کرکٹ بورڈ کا اس حوالے بھارتی کرکٹ بورڈ سے جواب طلب کرنا بالکل فطری اور درست ہےیہ کوئی دو طرفہ سیریز جنگ نہیں بلکہ بین الاقوامی ٹورنامنٹ کا معاملہ ہے اگر بھارت کرکٹ ٹیم کو پاکستان نہیں آنا تو پھر پاکستان کو میزبانی کے حقوق دینے کی بھی کچھ خاص ضرورت نہیں۔

    انہوں نے لکھا کہ اگر بھارت اپنی ٹیم نہیں بھیجتا تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے موقف پر ڈٹے رہنا چاہیے اگر بھارت سمجھتا ہے کہ معاملہ سیکیورٹی کا ہے تو آئی سی سی کو اس حوالے سے آگے بڑھ کر راستہ صاف کرنا چاہیے،پاکستان نے بھارت جانے سے کبھی انکار نہیں کیا جبکہ بھارت انکاری ہے، اس اعتبار سے بھارت پر دباؤ زیادہ ہے۔

  • جو لوگ ملکی وسائل پر قابض ہیں ہمیں انہیں معزول کر دینا چاہئے،حافظ نعیم

    جو لوگ ملکی وسائل پر قابض ہیں ہمیں انہیں معزول کر دینا چاہئے،حافظ نعیم

    لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کی نجکاری ملک کیلئے خطرناک ہے۔

    باغی ٹی وی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے یوتھ گیدرنگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے ملک کے نوجوانوں کو مایوس نہیں ہونے دینا۔

    حافظ نعیم نے کہا کہ جو لوگ ملکی وسائل پر قابض ہیں ہمیں انہیں معزول کر دینا چاہئے، جہاں تعلیم کاروبار بن جائے اس ملک کی تضحیک اس سے زیادہ ہو نہیں سکتی، ملکی وسائل ہمارے بچوں پر لگنے چاہئیں، اور سب کو ایک جیسی تعلیم فراہم کی جائے، ملک میں ایک نظام، ایک نصاب اور ایک زبان ہونی چاہیئے جبکہ تعلیمی اداروں کی نجکاری پاکستان کے لیے خطرناک ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اس کے خلاف مزاحمت کرنا ہو گی، دنیا آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) میں آگے بڑھ رہی ہے حکمران ہوش کے ناخن لیں اگر سرکاری پالیسیاں درست کر لی جائیں تو بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے تنقید کر کے مسئلہ حل نہیں ہوتا اس لیے ہم نے “بنو قابل پروگرام” شروع کیا، ہم دو سال میں 10 لاکھ بچوں کو تربیت دیں گے۔

    حافظ نعیم نے کہا کہ اہل غزہ امت مسلمہ کی جانب سے فرض کفایہ ادا کر رہے ہیں۔ جس کرب اور مصائب سے فلسطینی گزر رہے ہیں ہم اس کا احساس بھی نہیں کرسکتے، ان مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنا اور ان کے لیے آواز اٹھانا ہمارا فرض ہے۔

  • حرف اول سے حرف آخر تک، کون سمجھے یہ زندگی کیا ہے

    حرف اول سے حرف آخر تک، کون سمجھے یہ زندگی کیا ہے

    آدمی کو بے سر و ساماں نہ لکھ
    کچھ بھی لکھ لیکن تہی داماں نہ لکھ

    ڈاکٹر جی آر کنول

    16؍نومبر 1935 : یوم پیدائش

    اردو کے ممتاز شاعر گلشن رائے المعروف ڈاکٹر جی آر کنول 16؍نومبر 1935ء کو لاہور، غیر منقسم ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ پاکستان کی تشکیل زیر غور ہی تھی کہ لاہور کے متعدد ہندو سکھ گھرانوں نے سلسلۂ ہجرت (قسطوں میں) شروع کر دیا تھا۔ کنول آخری قسط میں اپنے والد محترم کے ہمراہ لاہور سے سیالکوٹ جمیون، پٹھان کوٹ، امرتسر اور دیگر شہروں کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے ایک سال میں دلی پہنچے۔ سفر کا بیشتر حصہ، پا پیادہ تھا اس لیے مسلسل آبلہ پائی کا سبب بنا ہر طرف ایک کربناک منظر در پیش تھا۔ آتش زنی، افراتفری اور قتل و غارت گری کے ماحول میں باحفاظت سفر کرنا آسان نہیں تھا۔ دلی پہنچ کر بھی سکون میسر نہ ہوا۔ کئی سال تک خانہ بدوشی اور بے سرو سامانی کا سایہ نصیب رہا۔ ان کے والد محترم کاروباری مشاغل کے علاوہ ”پیسہ اخبار لاہور“ سے وابستہ تھے۔ انھوں نے کنولؔ صاحب کے ادبی ذوق کو بچپن ہی میں پہچان لیا تھا۔ وہ انہیں شورشؔ کاشمیری، عطاء ﷲ خاں بخاری اور استاد ہمدمؔ کی محلفوں میں دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے۔

    ان کی ابتدائی تعلیم تو لاہور ہی میں مکمل ہو چکی تھی۔ مڈل سے لے کر انگریزی میں پی۔ ایچ۔ ڈی تک کے مراحل بڑی سخت جانی سے دلی میں طے کرنے پڑے۔ وہ دلی میں تنہا ہی تھے کیوں کہ ان کے والدین انبالہ شہر میں آباد ہوگئے تھے۔ ایک لمبے عرصے تک دلی کے گلی کوچوں، خصوصا اردو بازار کے اطراف کی خاک چھانی جہاں اُس وقت کی بلند قامت شخصیتوں مثلاً جوشؔ ملیح آبادی، مجازؔ لکھنوی، علامہ انورؔ صابری، شعریؔ بھوپالی اور مخمورؔ دہلوی کے دیدار ہو جاتے تھے۔ اُردو بازار ہی میں ان کا رابطہ استاد رساؔ دہلوی سے ہوا جو کئی سال تک قائم رہا لیکن کبھی تلمذ میں تبدیل نہ ہوا۔ اس بازار سے تھوڑی دور کنولؔ صاحب نے کچھ عرصہ تک ادارۂ شرقیہ میں مولوی عبدالسمیع صاحب کے سامنے زانوئے ادب تہ کرکے فارسی نظم ونثر کا مطالعہ کیا جو ان کی ذہنی اور اخلاقی نشو و نما میں بہت کار گر ثابت ہوا۔

    کنولؔ کی معاشی زندگی کی ابتداء ایک اردو ہفت روزہ اخبار ”ساتھی دیکلی“ کی اشاعت اور ادارت سے ہوئی۔ چند سال بعد یہ سلسلہ ختم ہو گیا کیوں کہ اردو زبان کے قارئین کی تعداد بڑی تیزی سے رو بہ زوال ہو رہی تھی۔ مصلحتاً انہوں نے انگریزی صحافت اور انگریزی زبان و ادب کی درس و تدریس کی طرف رجوع کیا۔ کنول نے دلی یونیورسٹی کے آر ایل اے کالج کی لیچررشپ کی۔ دلی سینئر سیکنڈری اسکول اے ایس وی جے کی تقریباً 20 سال تک پرنسپل رہے۔ سمیر مل جنین پبلک اسکول جنگ پوری، نئی دہلی کی ڈائرکٹر اور ڈاون پبلک اسکول پچھم وبار نئی دہلی اور ڈون پبلک اسکول پنچکولہ (ہریانہ) کی چیئر مین کے منصبی فرائض انجام دیے۔ علاوہ ازیں کئی تعلیمی، ادبی اور سماجی تنظیموں کی عہدے داری اور اہم رکنیت حاصل رہی۔ کئی باوقار اعزازات سے بھی نوازے گئے۔ ان کا پی۔ ایچ۔ ڈی کا مقالہ اٹھارہویں صدی کے عظیم طنز نگار شاعر نثار جوناتھن سوفٹ کے ”نظریۂ انسان“ پر ہے اور بیشتر تصانیف انگریزی ادب کے اُن شہ پاروں پر ہیں جو بی۔ اے آنرز یا ایم۔ اے کے نصاب میں شامل ہوتے ہیں۔
    ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:👇
    ”شیشہ ٹوٹ جائے گا“ 1991ء، ”قلم آشنا“ 2003ء، ”درد آشنا“ 2006ء، ”غزل آشنا“ 2008، ”نیند کیوں نہیں آتی“ 2009ء، ”ریزہ ریزہ زندگی“ 2011ء وغیرہ۔
    #بحوالہ_مجموعۂ_کلام_قلم_آشنا

    💫� ڈاکٹر جی۔ آر۔ کنولؔ کی شاعری سے منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آدمی کو بے سروساماں نہ لکھ
    کچھ بھی لکھ لیکن تہی داماں نہ لکھ
    ——
    بے مزہ کردے جو تیری زندگی
    اُس دوا کو درد کا درماں نہ لکھ
    ——
    ندی جیسے کوئی بے آب سی ہے
    ہماری زندگی بے خواب سی ہے
    ——
    لمحہ لمحہ بے انتشار مرا
    لمحہ لمحہ بکھر رہا ہوں میں
    ——
    کبھی زینہ، کبھی در بولتا ہے
    مرے اندر مرا گھر بولتا ہے
    ——
    کیسے کہہ دوں بچھڑ گیا ہے وہ
    اُس نے مقطع ابھی نہیں لکھا
    ——
    لوگ کہتے ہیں مشت خاک مگر
    اپنے اندر تو کائنات ہوں میں
    ——
    حرف اول سے حرف آخر تک
    کون سمجھے یہ زندگی کیا ہے
    ——
    قلندر ہوں مری خواہش نہ پوچھو
    میں دُنیا میں فقیری چاہتا ہوں
    ——
    دیار زندگی سینے میں تیرے
    مرے دل کا دیا بھی جل رہا ہے
    ——
    ذوق آوارگی سے بہتر تھا
    ہم کسی در پہ مر گئے ہوتے
    ——
    آه! قسمت کہ ہاتھ خالی ہیں
    اف یہ خواہش کہ سب ہمارا ہو
    ——
    ابھی ہے نا مکمل ہر فسانہ
    ابھی دنیا ادھوری داستاں ہے
    ——
    اوس اب اُنگلیاں جلاتی ہے
    جیسے شبنم نہ ہو شرارا ہو
    ——
    روح بھی چاہیے کنولؔ اُس میں
    صرف پیکر سے کچھ نہیں ہوتا
    ——
    ناز ہے جس پر مجھے اے ہم نفس
    وہ ترا چہرہ نہیں کردار ہے
    ——
    بہت میلی ہے میرے دل کی چادر
    نہیں آنسو کوئی اب دھونے والا
    ——
    دھوپ یہ کہہ کے ہوگئی غائب
    میرے سائے کی اب پرستش کر
    ——
    موج در موج ہو تو بات بھی ہے
    قطره قطره شراب بے معنی
    ——
    جس پہ چہکا تھا اک پرندہ آج
    مدتوں سے تھا وہ شجر خاموش
    ——
    کبھی تو بے ٹھکانہ پنچھیوں کا
    بنانے گی ہوا خود آشیانہ
    ——
    تو ہے خاموش اور برسوں سے
    میرے دل میں سوال کتنے ہیں
    ——
    زندگی بھر یہاں وہاں ٹھہرے
    پھر بھی دنیا میں بے نشاں ٹھہرے
    ——
    آپ آئیں تو ختم ہو قصہ
    آپ جائیں تو داستاں ٹھہرے
    ——
    حقیقت خواب سے ہوتی ہے بہتر
    ترے آگے تری تصویر کیا ہے
    ——
    قلم بے روح کر دیتا ہے نسلیں
    قلم کے سامنے شمشیر کیا ہے
    ——
    میری دستک تو تھی مکمل ہی
    اُس نے کھولا تھا اپنا در آدھا
    ——
    میرا آغاز ہے جب اک معمہ
    کسے معلوم ہے انجام میرا
    ——
    کہاں تک ٹھوکریں کھاؤں جہاں میں
    کوئی پتھر نہیں انسان ہوں میں
    ——
    نام ہر آدمی کا فانی لکھ
    صرف اعمال جاودانی لکھ
    ——
    زباں خاموش ہو جاتی ہے میری
    مگر چہرہ برابر بولتا ہے
    ——
    رند وہ ہو گیا خراب بہت
    جس کو ساقی نے دی شراب بہت
    ——
    کیسے بچتا چبھن سے کانٹوں کی
    جس کے دامن میں تھے گلاب بہت
    ——
    مکمل ہو تو سننے کا مزہ ہے
    ادھوری داستاں کچھ بھی نہیں ہے
    ——
    سلگتی آگ بے سرمایہ دل کا
    کنولؔ اُس میں دھواں کچھ بھی نہیں ہے

    👈 #بحوالہ_مجموعۂ_کلام_ریزہ_ریزہ_زندگی

  • محمد یوسف  نے پی سی بی سے راہیں جد ا کرلیں

    محمد یوسف نے پی سی بی سے راہیں جد ا کرلیں

    لاہور: محمد یوسف نے پی سی بی سے راہیں جد ا کرلیں-

    باغی ٹی وی : ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق ٹیسٹ کرکٹ محمد یوسف کا نیشنل کرکٹ اکیڈمی کی کوچنگ چھوڑنے کا فیصلہ، محمد یوسف نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بیٹنگ کوچ تعینات تھے،محمدیوسف پاکستان انڈر 19 کے کوچ بھی تعینات رہے،محمد یوسف کے بعد غلام علی کو پاکستان انڈر19 کا کوچ مقرر کر دیاگیا-

    بیٹنگ کوچ سے پہلے محمد یوسف سلیکشن کمیٹی کے ممبر بھی رہے ہیں سلیکشن کمیٹی کے سابق ممبر وہاب ریاض کو بھی ایک بار پھر پی سی بی میں ذمہ داریاں ملنے کاامکان ہے ، وہاب ریاض کو چیمپئنز ایونٹس کےمعاملات پر اہم ذمہ داری مل سکتی ہے، وہاب ریاض قومی سلیکشن کمیٹی کے ممبر اور ٹیم مینجر بھی رہے ہیں-

  • 9 مئی کے حملوں کے حوالے سے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں،عطا تارڑ

    9 مئی کے حملوں کے حوالے سے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں،عطا تارڑ

    لاہور:وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ایک جماعت نے منظم سازش کے ذریعے 9 مئی کے حملے کیے، تحریک انتشار کے سرکردہ رہنما 9 مئی کے حملوں میں ملوث تھے اور پی ٹی آئی عہدیداروں کو 9 مئی کے لیے ہدایات دی گئیں۔

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے لاہور میں سانحہ 9 مئی اور سی سی ٹی وی شواہد سے متعلق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کے حملوں کے حوالے سے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، تحریک انتشار کے لوگ اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی رٹ لگاتے رہے کہ ہمارے لوگ نہیں تھے ایک جماعت نے منظم سازش کے ذریعے 9 مئی کے حملے کیے، تحریک انتشار کے سرکردہ رہنما 9 مئی کے حملوں میں ملوث تھے اور پی ٹی آئی عہدیداروں کو 9 مئی کے لیے ہدایات دی گئیں۔

    وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے حساس تنصیبات پر حملے کیے، شہدا کی یادگاریں مسمار کیں، 9 مئی کے حوالے سے پی ٹی آئی رہنماﺅں کی ویڈیوز موجود ہیں گوجرانوالہ، راولپنڈی، پشاور کی سی سی ٹی وی فوٹیجز موجود ہیں، سی سی ٹی وی فوٹیجز سے صاف ظاہر ہے کہ 9 مئی کے سانحے میں پی ٹی آئی کے لوگ ملوث تھے۔

    انہوں نے کہا کہ کیا بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کے حواری قوم سے معافی مانگیں گے قومی تشخص اور دفاعی تنصیبات کو جو نقصان پہنچایا گیا، کیا یہ اس کا خمیازہ بھگتنے کو تیار ہیں، میرا مطالبہ ہے کہ 9 مئی کے مقدمات کا جلد از جلد فیصلہ کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی مکروہ حرکت نہ کر سکے۔

    عطااللہ تارڑ نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور تمام ریکارڈ محفوظ ہے، اسے بدلا نہیں جا سکتا، ان لوگوں کی حرکات سب کے سامنے ہیں، انہوں نے قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے تمام شواہد قوم کے سامنے لے آئے ہیں، تحریک انتشار قوم سے معافی مانگے، 9 مئی کے زیر التوا کیسز کا جلد از جلد فیصلہ ہونا چاہیے، ان ملزمان نے دشمنوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا لہٰذا انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے،یہ آج بھی اسی مائنڈ سیٹ پر عمل پیرا ہیں، یہ آج بیرونی مداخلت کی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔

  • منی لانڈرنگ کیس،پرویز الٰہی ذاتی حیثیت میں طلب

    منی لانڈرنگ کیس،پرویز الٰہی ذاتی حیثیت میں طلب

    لاہور کی سپیشل سینٹرل عدالت نے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا.

    باغی ٹی وی کے مطابق عدالت نے مونس الٰہی کے ریڈ نوٹسز اور بیرون ملک سے گرفتاری سے متعلق جے آئی ٹی کو پیشرفت کے احکامات دئیے،لاہور کی سپیشل سینٹرل عدالت نے پرویزالٰہی اور مونس الٰہی کے خلاف ایف آئی اے منی لانڈرنگ مقدمہ میں تحریری حکم جاری کر دیا۔تحریری حکم میں کہا گیا کہ پراسکیوٹر کے مطابق پرویز الٰہی دیگر تقریبات میں شرکت کررہے ہیں۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر اشتیاری ملزمان کی جائیداد قرقی پر رپورٹ جمع کروائے۔حکم نامے میں کہا گیا کہ ریڈنوٹسزکی تعمیل کیلئے جے آئی ٹی معاملے کا تعاقب کرے۔ پراسکیوٹر کے مطابق پرویز الٰہی تشویشناک بیمار نہیں ہیں۔عدالت مقدمہ پر مزید سماعت 28 نومبر کو کرے گی۔خیال رہے کہ اس سے قبل احتساب عدالت نے ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن کے ریفرنس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی تھی۔لاہور کی احتساب عدالت میں پی ٹی آئی رہنما چودھری پرویز الہٰی کیخلاف ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن کے ریفرنس پر سماعت ہوئی تھی اے ٹی سی کے جج زبیر شہزاد کیانی نے کیس کی سماعت کی تھی۔دوران سماعت سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے وکلاءنے چوہدری پرویز الہٰی کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست دائر کی جو عدالت نے منظور کرلی تھی۔عدالت نے عدالتی دائرہ اختیار پر وکلاءکو دلائل کیلئے طلب کرتے ہوئے ریفرنس پر مزید سماعت 20 نومبر تک ملتوی کردی تھی۔قبل ازیں29اکتوبر کو منی لانڈرنگ کیس میں عدالت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کو آئندہ سماعت پر ہر صورت پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

    سوات میں برفانی تودہ گرگیا،،100 سیاح پھنس گئے

    سوات میں برفانی تودہ گرگیا،،100 سیاح پھنس گئے

    شیخ رشید نے 24 نومبر کو احتجاج سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا

  • لاہور سمیت کئی شہروں میں سموگ کا راج،موٹروے بند،پروازیں متاثر

    لاہور سمیت کئی شہروں میں سموگ کا راج،موٹروے بند،پروازیں متاثر

    پاکستان میں سموگ اور دھند کا راج برقرار ہے،صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں سموگ اور دھند کا راج برقرار ہے جبکہ آلودہ ترین شہروں میں لاہور آج بھی دنیا بھر کے شہروں میں دوسرے نمبر پر براجمان ہے۔موٹروے سموگ کی وجہ سے بند کر دی گئی ہے تو وہیں لاہور میں پروازوں کا عمل بھی متاثر ہوا ہے

    لاہور میں سموگ کی اوسط شرح 790 ریکارڈ کی گئی، ڈی ایچ اے کے علاقے کا ایئر کوالٹی انڈیکس 1324 تک جا پہنچا، سید مراتب علی روڈ کے علاقے کا اے کیو آئی 1210 جبکہ غازی روڈ انٹرچینج کا ایئر کوالٹی انڈیکس 850 ریکارڈ کیا گیا، پاکستان میں سب سے آلودہ شہر رحیم یار خان رہا جہاں 822 پارٹیکولیٹ میٹرز ریکارڈ کیے گئے، اسی طرح لودھراں میں 722 جبکہ فیصل آباد میں 605 پارٹیکولیٹ میٹرز ریکارڈ کیے گئے۔

    سموگ اور دھند کے باعث موٹروے کو بھی مختلف مقامات سے بند کردیا گیا جس کے باعث مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،موٹروے ترجمان کا کہنا ہے کہ موٹروے کو مسافروں کی حفاظت کیلئے بند کیا گیا ہے، شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور دوران سفر فوگ لائٹس کا استعمال یقینی بنائیں۔

    علاوہ ازیں علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دھند اور سموگ کے باعث حد نگاہ 200 میٹر پر پہنچ گئی ہےحد نگاہ کم ہونے کے باعث لاہور آنے والی پروازوں کا شیڈول متاثر ہو رہا ہے،کراچی سے لاہور آنے والی نجی ایئرلائن کی پرواز 401 حد نگاہ کم ہونے کی وجہ سے لینڈ نہ ہو سکی، لاہور کی حدود میں 10 منٹ سے زائد چکر لگانے کے بعد پرواز کا رخ واپس موڑ دیا گیا، جدہ سے لاہور آنے والی غیر ملکی ایئرلائن کی پرواز 738 رات 12 بجے کی بجائے تقریباً 10 گھنٹے کی تاخیر سے لاہور پہنچے گی،نجی ایئرلائن کی جدہ سے لاہور آنے والی پرواز 822 شام ساڑھے 7 جبکہ نجی ایئرلائن کی دبئی سے لاہور آنے والی پرواز 417 شام 6 بجے تک تاخیر کا شکار ہے،اسی طرح غیر ملکی ایئرلائن کی جدہ سے لاہور آنے والی پرواز 734 ساڑھے 10 کے بجائے ساڑھے تین گھنٹے کی تاخیر سے لاہور پہنچے گی جبکہ نجی ایئرلائن کی شارجہ سے لاہور آنے والی پرواز 501منسوخ کر دی گئی ہے

  • مصنوعی بارش کیلئے مقامی ٹیکنالوجی کا تجربہ کامیاب ہو گیا

    مصنوعی بارش کیلئے مقامی ٹیکنالوجی کا تجربہ کامیاب ہو گیا

    پنجاب میں مصنوعی بارش کی مقامی ٹیکنالوجی کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے، صوبے میں جہلم، چکوال، تلہ گنگ اور گوجر خان میں ’سیڈ کلاؤڈنگ‘ کے نتیجے میں جہلم اور گوجر خان میں بارش ہوئی ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق محکمہ موسمیات نے اس پیش رفت کی تصدیق کر دی، افواج پاکستان کے سائنسی تحقیق اور ترقی کے ماہرین (ایس پی ڈی)، آرمی ایوی ایشن، پارکو، ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (ای پی اے) اور پنجاب حکومت نے اشتراک عمل سے مصنوعی بارش منصوبے میں کامیابی حاصل کی۔ماہرین کا کہنا تھا کہ دوپہر 2 بجے ’کلاوڈ سیڈنگ‘ کی گئی تھی جس سے جہلم اور گوجر خان میں چند گھنٹوں بعد بارش ہوئی۔’کلاؤڈ سیڈنگ‘ کے اثرات لاہور پر بھی بارش کی صورت برآمد ہونے کا قوی امکان ہے، مصنوعی بارش سے اسموگ میں کمی لانے میں بڑی مدد ملے گی۔دوسری جانب ، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے تمام متعلقہ اداروں، سائنسی ماہرین کو مصنوعی بارش کے کامیاب تجربے پر مبارک باد دی ہے۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ آج آپ کی محنت، لگن اور قابلیت سے صوبہ پنجاب نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے، پوری قوم آپ پر فخر کرتی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ برس متحدہ عرب امارات کے تعاون سے مصنوعی بارش برسانے کا تجربہ کیا گیا تھا، اس بار 100 فیصد اپنی مقامی مہارت اور ٹیکنالوجی سے کامیاب تجربہ کیا۔

    حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ

    کراچی خودکش حملہ: چشم دید گواہان نے مرکزی ملزم کوشناخت کرلیا

    پی ٹی آئی ،جے یوآئی کے اتحاد کی کوئی بات نہیں ہوئی، عبدالغفور حیدری