Baaghi TV

Category: لاہور

  • صحافیوں کو پلاٹس دینے کے خلاف درخواستیں واپس،حکم امتناع ختم

    صحافیوں کو پلاٹس دینے کے خلاف درخواستیں واپس،حکم امتناع ختم

    لاہور ہائیکورٹ نے صحافیوں کو روڈا میں پلاٹس دینے کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواستوں کو واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دیا ،عدالت نے حکم امتناعی بھی ختم کردیا،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ قانون کے مطابق ہمارے لیے کوٹہ مقرر کیا گیا ہے،درخواستوں کو واپس لینا چاہتے ہیں،جسٹس سلطان تنویر احمد نے صلاح الدین سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی ،صوبائی وزیر عظمی بخاری عدالت کے روبرو پیش ہوئیں،درخواست گزاروں نے کوٹہ مختص نہ کرنے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا

    گزشتہ ایک سماعت پر عدالت نے استفسار کیا تھا کہ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ملازمین کو نظر انداز کر کے پلاٹس کی الاٹمنٹ کیسے ہوسکتی ہے؟محکمہ اطلاعات کے ملازمین خواجہ محمد سمیع اللہ رفیق و دیگر کی درخواست پر سماعت کی گئی،جسٹس سلطان تنویر احمد نے استفسار کیا کہ آپ نے اس اشتہار کو کیوں چیلنج کیا ؟بیرسٹر سید علی نعمان نے کہا کہ پنجاب جرنلسٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن ایک ادارہ ہے ،ادارہ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے زیر سرپرستی کام کرتا ہے، جرنلسٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کا کام صحافیوں کی فلاح و بہبود ہے ،فورم کا کام صحافیوں کو رہائش کیلئے بلا معاوضہ بغیر منافع پلاٹ فراہم کرنا ہے،انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ملازمین کا کوٹہ 2004قانون میں مختص کیا گیا،الاٹمنٹ کے فارم جاری کرنا ، پی جے ایچ ایف کاکام ہے، روڈا ڈویلپمنٹ اتھارٹی ہے اس کا اس میں کوئی دخل نہیں بنتا ، جسٹس سلطان تنویر احمد نے کہا کہ جن حضرات کو کوٹہ دیا گیا اس سے آپ کو کیا اعتراض ہے؟وکیل نے کہا کہ صحافیوں کی لسٹ لاہور پریس کلب مرتب کر کے فورم کو بھجواتی ہے ، جرنلسٹ فاؤنڈیشن صرف ڈویلپمنٹ چارجز کے عوض پلاٹ کی الاٹمنٹ کرتی ہے،

    لاہور کے صحافیوں کے لئے جلد فیز ٹو لا رہے ہیں، عظمیٰ بخاری

    روڈ ا سکیم میں ریجنل ورکنگ جرنلسٹ کو پلاٹوں سے محروم رکھنا بہت بڑی ناانصافی ہے ۔پاک انٹرنیشنل میڈیاکونسل

  • ہر بچہ کہہ رہا تھا  زیادتی ہوئی  مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں،سرکاری وکیل

    ہر بچہ کہہ رہا تھا زیادتی ہوئی مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں،سرکاری وکیل

    لاہور ہائیکورٹ،تعلیمی اداروں میں طالبات کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس پر سماعت ہوئی

    آئی جی پنجاب عثمان انور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ لا افسر صاحب آپ بتائیں اس میں کیا کیا ، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ پوسٹ میں کہا گیا نجی کالج کی لڑکی کے ساتھ ریپ ہوا ،مختلف گروپس میں یہ خبر فوری پھیلی،کیمپس 10 کی بچیوں نے ہنگامہ آرائی شروع کی جب بچیوں کو محفوظ کرنے کے لیے اوپر کلاسز میں روکا گیا تو پھر ایک نئی بات شروع ہو گئی ،یہ واقع نو اور دس اکتوبر کا ہے ، ایک بچی گھر میں گری اور اسکو جنرل ہسپتال میں لایا گیا ،گیارہ اکتوبر کو یہ بچی ڈسچارج ہوتی ہے اور گھر آتی ہے ، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئی جی پنجاب کہاں ہیں ؟ ڈی آئی جی فیصل کامران نے کہا کہ وہ عدالت سے باہر ہیں، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ وہ عدالت سے باہر کیوں ہیں ؟

    آئی جی پنجاب عدالت میں پہنچ گئے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ عدالت کے وقت آپ باہر کیوں تھے؟ویڈیوز کو روکنے کا کام آدھے گھنٹے کا تھا، آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہمارے پاس اس حوالے سے کوئی اتھارٹی نہیں ہے، لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ کیا آپ کسی اتھارٹی کے پاس گئے؟ آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہم پی ٹی اے کے پاس گئے،یہ ویڈیوز 13, 14 اکتوبر کو وائرل ہونا شروع ہوئیں، سی ٹی ڈی نے 114 اکاؤنٹس کی شناخت کی، لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ آپ کو فوراً ایف آئی اے سے رابطہ کرنا تھا، آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہم نے فورا ایف آئی اے سے رابطہ کیا،پولیس نے 700 سے زائد اکاؤنٹس کی شناخت کی، انگلینڈ میں بھی اپلوڈ روکنے کی طاقت نہیں ہے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ وہاں کی بات مت کریں، آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہم نے وزارت داخلہ سے بات کی، انہیں مراسلے لکھے، 700 سے زائد اکاؤنٹس پر یہ ویڈیوز چل رہی تھیں،ان کو بند کرنے کا اختیار پی ٹی اے کے پاس ہے،ہمارے پاس جتنی اتھارٹی ہے، ہم اس پر کام کرنا شروع ہو گئے تھے،ہم نے کچھ اکاؤنٹس کی شناخت کی، وہ ابھی تک ڈیلیٹ نہیں ہوئے، لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ اگر ارادہ ہو تو سارے کام ہوتے ہیں، آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہمارا کیوں ارادہ نہیں تھا،

    ہم جسے گرفتار کرتے ہیں وہ اگلے دن ہیرو بن جاتا ہے،سرکاری وکیل کی پنجاب کالج بارے فیک نیوز دینے والے ملزم کی رہائی پر مایوسی
    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ کیا حکومت پنجاب نے اس حوالے سے کچھ کیا ؟ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ انسٹاگرام پر ایک پوسٹ اپلوڈ ہوئی کہ نجی کالج میں ایک طالبہ سے مبینہ زیادتی کا واقعہ ہوا ہے،علاقے کے اے ایس پی کالج پرنسپل سے ملے، سی سی ٹی وی چیک کیا، ہر بچہ کہہ رہا تھا کہ زیادتی ہوئی ہے مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے،دوسرے کیمپس کے بچے بھی اس کیمپس پہنچ گئے،ایک منظم طریقے سے یہ سب کچھ ہوا،صرف یہ ایک بچی ہسپتال نہیں آرہی تھی تو کسی نے کہا کہا کہ ہمیں زیادتی کا شکار بچی مل گئی ہے،صرف اس بنا پر کہ بچی کالج نہیں آ رہی اسے زیادتی کی افواہ سے جوڑ دیا گیا ہے، اگر آپ کہیں گے تو میں آپ کی اس بچی سے ملاقات کروا سکتا ہوں،ایک اور صاحب نے جو خود کو وکیل کہتے ہیں ان بچیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایک ویڈیو بنائی، اس وکیل کو مجسٹریٹ کی جانب سے مقدمے سے بری کر دیا گیا، مقدمے سے بری کرنے کا نیا رواج چل پڑا ہے،ہم جسے گرفتار کرتے ہیں وہ اگلے دن ہیرو بن جاتا ہے، ہم شاید اتوار کے دن تعین نہیں کرسکے کہ اتوار کو کیا ہونے جا رہا ہے، ہمارے حوالے سے کچھ ناکامیاں ضرور ہیں۔

    اس وقت جو بچے سڑکوں پر ہیں کیا وہ اس اسٹیٹ آف مائنڈ میں ہیں کہ دوبارہ کالج آسکیں،عدالت
    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ ایک منظم طریقے سے ہوا مگر جب یہ ہوا موقع پرستوں نے فائدہ اٹھایا، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں ہراسانی کی کتنی شکایات ہیں؟ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ 14 اکتوبر کو ایک بچی نے ہراسانی کی درخواست دی،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ اس شخص کے خلاف کتنی شکایات ہیں؟رجسٹرار لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی نے جواب دیا کہ اس شخص کے حوالے سے ایک ہی شکایت ہوئی ہے، ہم نے مذکورہ شخص کو معطل کر دیا ہے، ہماری ہراسمنٹ کمیٹی بہت عمدہ طریقے سے کام کر رہی ہے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سوال کیا کہ اس شخص کے پاس طالبہ کا نمبر کیسے آیا؟رجسٹرار نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی یہ ہے کہ وہ نمبر مذکورہ شخص کا نہیں تھا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ آپ یہ کیسے کہہ سکتی ہیں، کوئی ڈاکومنٹ دیں،رجسٹرار یونیورسٹی نے کہا کہ ہم اس حوالے سے رپورٹ جمع کروائیں گے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ آج بھی کوئی کہتا ہے کہ اس نے یہ واقعہ ہوتے دیکھا ہے تو اس عدالت میں پیش ہو، جو نقصان ہوا ہے کالج کی بلڈنگ کا اس کو کیا والدین پورا کریں گے، اگر کسی بات کا غصہ ہے تو سب سے پہلے اپنا گھر توڑیں،ایک فیک نیوز پر اگر ایسا ہوا تو انتہائی افسوس ناک ہے، بچوں کے مستقبل کا سوچیں، بچوں کا مستقبل خرابی کی طرف جارہا ہے، بچوں کی تعلیم کا بہت بڑا نقصان ہورہا ہے،ایک دن چھٹی ہو جائے تو تعلیمی شیڈول میں اس کو ریکور نہیں کیا جاسکتا،اس وقت جو بچے سڑکوں پر ہیں کیا وہ اس اسٹیٹ آف مائنڈ میں ہیں کہ دوبارہ کالج آسکیں،ایسے لگتا ہے کہ ایک ماہ تک بچے کالجز کا رخ نہیں کریں گے، کیا والدین دوبارہ بچوں کو کالجز بھیج پائیں گے؟ بچوں کے مستقبل کا سوچیں، فوری ایکشن لیں جہاں طالبات موجود ہیں وہاں مردوں کو موجودگی ممنوع کریں،والدین کا بھروسہ دوبارہ بحال کیجیے۔

    ڈی جی ایف آئی اے پنجاب یونیورسٹی خودکشی، پنجاب کالج زیادتی اور لاہور کالج ہراسگی شکایت کیس کی تحقیقات کرینگے،عدالت
    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ یہ کیس بہت اہم ہے اس پر فل بنچ بنا رہے ہیں ،فل بنچ منگل سے کارروائی سماعت کریگا،سرکاری وکیل نے کہا کہ ہمیں پیر کا دن دے دیں تاکہ مکمل رپورٹ پیش کی جا سکے.عدالت نے ڈجی ایف آئی اے کی سربراہی میں کمیٹی بنانے کی ہدایت کردی،ڈی جی ایف آئی اے اس معاملے کی تحقیقات کرینگے،عدالت نے کہا کہ یہ کالج انتظامیہ کا فیلئر ہے،لڑکی کا بیان لیا جائے ،آگر یہ علم ہوا کہ لڑکی کا بیان لینے کیلئےدباؤ ڈالا گیا تو پھر نتائج کیلئے تیار رہیں. ڈی جی ایف آئی اے پنجاب یونیورسٹی خودکشی پنجاب کالج زیادتی اور لاہور کالج ہراسگی شکایت کیس کی تحقیقات کرینگے۔یہ دیکھنا ہے کہ آخر یہ بندہ کون ہے کہاں سے آیا، لاہور ہائیکورٹ کا فل بنچ ان حالیہ واقعات اور سوشل میڈیا پر فیک نیوز پھیلنے کے حوالے سماعت کرے گا،منگل کے روز فل بنچ ان کیسز پر سماعت کرے گا، عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو اگلی سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

    پنجاب کالج سوشل میڈیامہم،عمران ریاض،سمیع ابراہیم سمیت 36 افراد پر مقدمہ

    راولپنڈی،طلبا کا احتجاج، توڑ پھوڑ،پولیس کی شیلنگ

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

  • 2018 میں ہیرا پھیری سے وزیراعظم بننے والے عمران وائس چانسلر کیلئے نااہل،برطانوی اخبار

    2018 میں ہیرا پھیری سے وزیراعظم بننے والے عمران وائس چانسلر کیلئے نااہل،برطانوی اخبار

    برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے سابق وزیراعظم عمران خان پر آکسفورڈ کے وائس چانسلر کو لے کر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ عمران خان خود پسند اور چانسلر کیلئے نا اہل ہیں، منتخب ہوئے تو مغرب دشمنوں کی مدد کریں گے، وہ طالبان کے معترف بھی رہے ہیں،2018ء میں ہیرا پھیری سے وزیراعظم بنے، سیاسی ظلم کا شکار نہ مظلوموں کے رہنما ہیں،

    برطانوی اخبار نے عمران خان پر شدید تنقید کی،آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے امیدواروں کی نااہلی کی فہرست سامنے آنے سے چند گھنٹے قبل، برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں چانسلر کے عہدے کے لیے غیر موزوں قرار دیا۔ٹیلی گراف نے لکھا کہ عمران خان خود پسند شخصیت ہیں، اور اگر منتخب ہو گئے تو مغرب مخالف ایجنڈے کو تقویت دیں گے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ خان نے ماضی میں طالبان کی تعریف کی اور 2018 میں مبینہ دھاندلی کے ذریعے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ اخبار کے مطابق وہ نہ سیاسی مظلوم ہیں اور نہ ہی مظلوموں کے رہنما۔ انہیں 1980 کی دہائی میں ایک کرکٹر اور جریدوں میں ان کی متنازع داستانوں کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے، لیکن اب بھی برطانیہ میں کچھ لوگ ان کی حمایت کر رہے ہیں۔عمران خان نے خود کو 21ویں صدی کے اسلام پسند رہنما کے طور پر پیش کیا، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ وہ آکسفورڈ کے چانسلر کے عہدے کے لیے امیدواروں میں شامل تھے، مگر جیل میں ہونے اور خود پسندی کے سبب اس عہدے کے لیے موزوں نہیں سمجھے گئے۔عمران خان نے آکسفورڈ کے طلبا کو کہا تھا کہ یونیورسٹی کو دنیا کے تنوع کی عکاسی کرنی چاہیے اور ان کی چانسلرشپ اس مقصد کی مثال بن سکتی ہے۔

    برطانوی اخبار نے سوال اٹھایا کہ کیا آکسفورڈ کے سابق طلبا اور عملہ ایسے شخص کو منتخب کرنے کے لیے تیار ہیں جس نے طالبان کی حمایت کی ہو، جو خواتین کی تعلیم پر پابندیاں لگاتے ہیں؟ رپورٹ میں ملالہ یوسفزئی پر حملے کے تناظر میں بھی عمران خان کے بیانات پر تنقید کی گئی۔مزید برآں، رپورٹ نے عمران خان کی 2018 کی حکومت کے قیام کو طاقتور اداروں کی مداخلت کا نتیجہ قرار دیا، جس پر پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے بھی اعتراض کیا تھا۔ عمران خان پر مغربی اقدار کی مذمت اور آزادی اظہار پر تنقید کا بھی الزام لگایا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ اکتوبر میں پاکستان کے الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو نااہل قرار دے کر پانچ سال کے لیے عوامی عہدے سے روک دیا تھا۔ بعد ازاں، فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ خان کی پارٹی کو ایک فلاحی پلیٹ فارم کے ذریعے لاکھوں ڈالر کا فنڈ فراہم کیا گیا تھا، جس کا تعلق ایک ایسے پاکستانی سے تھا جو امریکہ میں مالی فراڈ کے الزامات میں ممکنہ طور پر 291 سال قید کا سامنا کر رہا ہے۔

    عمران خان کو سزا،مجرمانہ ریکارڈ،آکسفورڈ کی چانسلرشپ سے نااہلی کی وجوہات

    چانسلر کا انتخاب اور عمران خان کی شمولیت، آکسفورڈ یونیورسٹی بھی مشکل میں پڑگئی

    کیا طالبان دوست عمران خان واقعی آکسفورڈ کے اگلے چانسلر کے لیے بہترین انتخاب ہیں؟

    عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

  • پنجاب حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کی چھٹی اور دفعہ 144 کا نفاذ

    پنجاب حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کی چھٹی اور دفعہ 144 کا نفاذ

    حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور انسانی جانوں و املاک کے تحفظ کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، کل یعنی 18 اکتوبر کو تمام سرکاری اور نجی کالجز اور جامعات میں چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔یہ چھٹیاں ایک ایسے وقت میں دی گئی ہیں جب حکومت نے صوبے میں دو روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت 18 اکتوبر (جمعہ) سے لے کر 19 اکتوبر (ہفتہ) تک ہر قسم کے احتجاج اور جلوس جیسی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہوگی۔ حکومت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات عوامی تحفظ اور امن و امان کی بحالی کے لیے ضروری ہیں۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے واضح کیا ہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ کا مقصد عوامی اجتماع کو محدود کرنا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
    حکومت کی یہ کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ شہریوں کی حفاظت کو اپنی ترجیح سمجھتی ہے اور امن و امان کی بحالی کے لیے سخت اقدامات اٹھا رہی ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف تعلیمی اداروں میں طلباء کی محفوظ رہنمائی کے لیے اہم ہیں بلکہ صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال کو بھی مستحکم رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس حکم کی پاسداری کریں اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوں تاکہ صوبے میں امن و سکون برقرار رہے۔

  • نواز شریف سے بھارتی صحافیوں کے وفد کی ملاقات

    نواز شریف سے بھارتی صحافیوں کے وفد کی ملاقات

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نوازشریف سے بھارتی صحافیوں کے وفد کی ملاقات ہوئی تھی،

    وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف بھی ملاقات میں شریک تھیں ،پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب بھی ملاقات میں شریک تھی،نواز شریف سے بھارتی صحافیوں کی ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی ہے، ملاقات کے دوران بھارتی صحافیوں نے پاک بھارت تعلقات،کرکٹ و دیگر امو ر پر بات چیت کی، بھارتی صحافیوں نے نواز شریف سے کئی سوالات کئے جن کے نواز شریف نے جواب دیئے،بھارتی صحافیوں نے نواز شریف سے ملاقات کے دوران ایس سی او سربراہی اجلاس کے کامیاب انعقاد پر پاکستان کی کارکردگی کو سراہا،نواز شریف کا کہنا تھا کہ ایس سی او سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی اچھی شروعات ہوسکتی ہیں، پاک بھارت تعلقات بہتر ہوجائے تو بہت کچھ بہتر ہوسکتا ہے،بھارتی کرکٹ ٹیم کو کھیلنے کے لئے پاکستان آنا چاہیے،بھارتی کرکٹ ٹیم سے پوچھیں تو وہ بھی کہیں گے پاکستان آ کر کھیلنی ہے، کرکٹ کھیلنے پر راضی بھارتی کرکٹ ٹیم کو اجازت دینے والے اجازت نہیں دیتے، بھارتی کرکٹ ٹیم پاکستان آئے گی تو کرکٹ کے لیے بہت اچھا ہوگا،

    پاک بھارت تعلقات اچھے ہو جائیں تو دو گھنٹوں میں ضرورت کا سامان پاکستان آ سکتا ہے،نواز شریف
    سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھارتی صحافیوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ بھارتی وزیر اعظم اگر شنگھائی کانفرنس میں آتے تو اچھا ہوتا، ماضی بہت تلخ رہا ہے، آگے دیکھیے ،مستقبل پر نظر رکھیں،ایس سی او سربراہی اجلاس میں بھارتی وزیراعظم نہیں آئے مگر وزیر خارجہ آئے یہ بھی اچھی بات ہے، موسمیاتی تبدیلیوں پر بھی پاکستان اور بھارت کو فوری اور بہت کام کرنے کی ضرورت ہے، ابھی سبزیاں اور سامان بھارت سے دبئی جاتا ہے وہاں سے پاکستان آتا ہے، مہنگا پڑتا ہے، پاک بھارت تعلقات اچھے ہو جائیں تو دو گھنٹوں میں ضرورت کا سامان پاکستان آ سکتا ہے

    بھارتی صحافی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کی کوریج کے سلسلے میں پاکستان آئے ہوئے ہیں

    قبل ازیں نواز شریف کی بھارتی صحافی برکھا دت سے بھی ملاقات ہوئی تھی،بھارتی صحافی برکھا دت کو نواز شریف نے انٹرویو دیا ہے، برکھا دت کا کہنا تھا کہ میری سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے ملاقات ہوئی ہے نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہوں ، میری خواہش تھی کہ بھارتی وزیراعظم مودی ایس سی او اجلاس میں شریک ہوتے، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بحالی کی راہ کھلنے کی امید ہے۔ امید کرتا ہوں ہم آپس میں جلد ملاقات کریں گے،

    آئینی ترمیم میں ہزارہ صوبہ شامل کیا جائے،خیبر پختونخوا کا نیا نام قبول نہیں،سردار یوسف

    آئینی ترامیم، خصوصی کمیٹی اجلاس،عمر ایوب کی حکومتی اراکین سے تلخ کلامی

    وفاقی آئینی عدالت کا قیام قائداعظم کا خواب تھا، بلاول

    آئینی ترامیم، حکومتی مسودہ سامنے آ گیا، خصوصی کمیٹی کا اجلاس آج پھر

    وفاقی حکومت بہت پر اعتماد ہے کہ ان کے پاس نمبر گیم ہیں،بلاول

    آئینی ترامیم، آج حکومتی ڈرافٹ ملا،دیکھتے ہیں بات کہاں تک پہنچتی،مولانا فضل الرحمان

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

  • پی ٹی آئی آفیشل پیج سے طلباء کو اشتعال کی ترغیب دی گئی،عظمیٰ بخاری

    پی ٹی آئی آفیشل پیج سے طلباء کو اشتعال کی ترغیب دی گئی،عظمیٰ بخاری

    وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ انصاف اسٹوڈنٹ ونگ کے سابق عہدیدار خود طلباء کو اشتعال دلاتے رہے ہیں، اس کی ویڈیو بھی موجود ہیں

    عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ بھچر صاحب تحریک انصاف کے آفیشل پیج سے طلباء کو اشتعال کی ترغیب دی گئی، انصاف اسٹوڈنٹ ونگ کے لوگ مار دھاڑ، جلاؤ گھیراؤ میں ملوث پائے گئے، آپ کی جماعت نے پلاننگ کے تحت ایک بچی اور اس کےخاندان کی عزت اچھالی،تحریک انصاف کے اس پروپیگنڈے کا شکار مریم نواز اور میں خود متعدد بار ہو چکے ہیں، لاہور، راولپنڈی اور گوجرانوالہ سمیت پنجاب کے تمام شہروں میں حالات معمول کے مطابق ہیں، پولیس امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے،جن لوگوں نے اس سارے معاملے میں پروپگنڈا کیا فیک معلومات پھیلائی ان سب کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا چاہے ان کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو

    قبل ازیں پی ٹی آئی رہنما ملک احمد خان بھچر کا کہنا تھا کہ کل وزیراعلیٰ مریم نواز نے پریس کانفرنس کی، مریم نواز نے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف چارج شیٹ بنا کر پیش کردی،محترمہ اپنی بیڈ گورننس کو چھپانے کیلئے پی ٹی آئی پر ملبہ ڈالنے جا رہی ہیں، آپ نے 6، 7 ماہ گزارے، پی ٹی آئی کی کردار کشی کے علاوہ کیا کیا؟، آپ انسانی حقوق کی علم بردار بنی بیٹھی ہیں، آپ کی جماعت نے محترمہ بینظیر بھٹو کی تصاویر جہاز سے گرائی تھیں، آپ کی جماعت کی ذہنیت وہاں سے شروع ہوتی ہے، کیا ڈاکٹر یاسمین راشد خاتون نہیں ہے، کیا عالیہ حمزہ خاتون نہیں ہے، آپ خواتین کے حقوق کی علم بردار بن کے سیاست چمکانا چاہتی ہیں، ہم تو خود فسطائیت کا شکار ہی،صوبے کی تمام خواتین کے حقوق ہیں، چاہے سرکاری ادارے ہوں یا پرائیویٹ، آپ اسے سیاست کیلئے استعمال کر رہی ہیں،ہماری ایم این ایز کو اغواء کیا ہوا ہے،آپ سب سے بڑی جماعت کو دہشتگرد کہہ رہی ہیں، یہ بتائیں پرویز مشرف کا طیارہ اغواہ کس نے کیا تھا، تب دہشتگردی کا مقدمہ کس پر ہوا تھا؟

    پنجاب کالج سوشل میڈیامہم،عمران ریاض،سمیع ابراہیم سمیت 36 افراد پر مقدمہ

    راولپنڈی،طلبا کا احتجاج، توڑ پھوڑ،پولیس کی شیلنگ

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

  • پنجاب کالج سوشل میڈیامہم،عمران ریاض،سمیع ابراہیم سمیت 36 افراد پر مقدمہ

    پنجاب کالج سوشل میڈیامہم،عمران ریاض،سمیع ابراہیم سمیت 36 افراد پر مقدمہ

    پنجاب کالج واقعہ پر سوشل میڈیا مہم چلانے کا الزام،ایف آئی اے نے 36 افراد کے خلاف سائبر کرائم کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

    مقدمہ نجی کالج کی پرنسپل کی درخواست پر درج کیا گیا ہے،مقدمہ میں سائبر کرائم ایکٹ، دھمکی، ہراسگی، فیک نیوز سمیت دیگر دفعات شامل ہیں،ایف آئی اے میں درج مقدمے کے مطابق نامزد ملزمان نے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم شروع کی جو ان کے ہینڈلرز کے ذریعے مزید پھیل گئی،کالج کی سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کی تحویل میں ہے، شک ہے کہ اس معاملے میں دو طلبا کا کردار ہو سکتا ہے، ان طلبا کو ویڈیوز بنانے سے روکنے کےلیے وائس پرنسپل نے تنبیہ کی تھی،واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں، حقائق جاننے کےلیے طلبہ اور عملے سے رابطہ ہے،سوشل میڈیا پر اس پروپیگنڈا کے بعد ایک بےقابو اور پرتشدد ہجوم نے ہمارے کیمپس پر حملہ کیا،مشتعل ہجوم نے ہمارے عملے کو نقصان پہنچایا اور عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچایا، مقدمہ ایف آئی اے سائبر کرائمز سرکل میں درج ہوا، 36 ملزمان کے علاوہ کچھ سوشل میڈیا اکائونٹس بھی مقدمہ میں شامل ہیں،

    مقدمہ نمبر 168/24 کالج انتظامیہ کی مدعیت میں درج ہوا، ایف آئی اے نے مقدمے میں راجہ احسن نوید،فیصل شہزاد،فرید شہزاد،جمیل فاروقی،ایاز امیر،عمران ریاض،ابراہیم،عمر دراز گوندل،مقدس فاروق اعوان، شاکر محمود اعوان،فرح اقرار،طیبہ راجہ،صدام ترین، احتشام علی عباسی،احمد، عبداللہ وڑائچ،محمد شہزاد،نعیم بخاری،فرقان جٹ، سمیع ابراہیم،عمرانہ مغل،میاں عمر،حسیب احمد، سید خلیق الرحمان،چوہدری اخلاص گجر، ملک گل نواز،مصباح ایڈوکیٹ، محمد عمران،سید ذیشان عزیز،محمد شہزاد، طوبیٰ احمد،سعد خلیق الرحمان،محسن رضا، ثاقب جمیل کو نامزد کیا گیا ہے.

    دوسری جانب لاہور نجی کالج کے طالبہ کیساتھ منسلک من گھڑت ویڈیو کا واقعہ ڈیفنس اے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے،درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر طالبہ کیساتھ مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ کی خبر وائرل ہوئی،واقعہ کی تصدیق کیلئے مختلف طلبا وطالبات سے دریافت کیا گیا،متعلقہ لڑکی اور اسکے والدین نے اس واقعہ کی مکمل تردید کی، بچی کے والدین نے کہا بیٹی دو اکتوبر کو گھر میں گری،گہری چوٹ آئی، 11 اکتوبر تک اسکا علاج اتفاق اور جنرل میں کیا گیا،15 دن کا بیڈ ریسٹ تجویز کیا گیا.

    واضح رہے کہ لاہور کے پنجاب کالج میں مبینہ زیادتی کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، طلبا نے احتجاج کیا، تاہم کوئی مدعی نہ نکلا،کوئی لڑکی سامنے نہ آئی، پولیس نے تحقیقات کیں تو سارا واقعہ ہی جھوٹا نکلا، واقعہ کو لے کر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے طلبا کو اشتعا ل دیا، اس دوران پر تشدد مظاہرے ہوئے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گزشتہ روز قانونی کاروائی کا حکم دیا تھا.

    راولپنڈی،طلبا کا احتجاج، توڑ پھوڑ،پولیس کی شیلنگ

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

  • تربیلاڈیم کے 50سال مکمل ہونے پر یاد گاری ڈاک ٹکٹ جاری

    تربیلاڈیم کے 50سال مکمل ہونے پر یاد گاری ڈاک ٹکٹ جاری

    لاہور: تربیلاڈیم کے 50سال مکمل ہونے پر یاد گاری ڈاک ٹکٹ جاری کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : پاکستان پوسٹ کی جانب سے تربیلا ڈیم کے 50 سال مکمل ہونے پر 50 روپے مالیت کا یادگاری ٹکٹ جاری کیا گیا۔ یاد گاری ڈاک ٹکٹ کی تقریبِ رونمائی واپڈا ہاؤس لاہور میں منعقد ہوئی چیئرمین واپڈا انجینئرلیفٹیننٹ جنرل سجاد غنی (ریٹائرڈ) تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔

    چئیرمین واپڈا کا کہنا تھا کہ تربیلا ڈیم پاکستان کی انجینئرنگ میں مہارت اور قومی ترقی کی علامت ہے یاد گاری ڈاکٹ ٹکٹ ہماری آئندہ نسلوں کو تربیلا ڈیم کی اہمیت یاد دلاتا رہے گا انجینئرنگ کا شاہکار تربیلا ڈیم 1974کی تیسری سہ ماہی میں مکمل ہوا تربیلا ڈیم گزشتہ 50سال سے پاکستان کی معاشی اور معاشرتی ترقی کا اہم ترین جزو ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ تربیلا ڈیم سے گزشتہ 50 سال میں زراعت کے لئے 406ملین ایکڑ فٹ پانی مہیا کیا جاچکا ہے جبکہ تربیلا ہائیڈل پاوراسٹیشن نیشنل گرڈ کو 540ارب 36کروڑ یونٹ سستی پن بجلی فراہم کر چکا ہے تربیلا ڈیم گزشتہ 50 برس میں قومی اقتصادیات کو 400ارب ڈالر سے زائد کا فائدہ پہنچا چکا ہے۔

  • رمضان شوگر ملز ریفرنس  اینٹی کرپشن عدالت بھجوانے کا حکم

    رمضان شوگر ملز ریفرنس اینٹی کرپشن عدالت بھجوانے کا حکم

    رمضان شوگر مل ریفرنس میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے

    وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف ریفرنس کی سماعت ہوئی، احتساب عدالت نے وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز ریفرنس اینٹی کرپشن عدالت بھجوانے کا حکم دے دیا،عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ ریفرنس کو اینٹی کرپشن عدالت میں منتقل کیا جائے،اینٹی کرپشن کی عدالت میں نیب ریفرنس کو منتقل کرنے پر اعتراض نہیں ہے، احتساب عدالت کے جج زبیر شہزاد کیانی نے ریفرنس پر سماعت کی،سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی حاضری معافی کی درخواست وکیل نے دائر کی،عدالت نے سابق وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی،وزیر اعظم کے نمائندہ انوار حسین عدالت میں پیش ہوئے

    رمضان شوگر ملز کیس میں حمزہ شہباز سات ماہ جیل میں بند رہے رمضان شوگر ملز کیس میں نیب کا موقف یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے ایک نالا بنوایا جو کہ رمضان شوگر ملز کے فائدے کے لیے تھا۔ اس کیس میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور مریم نواز پر بھی ملوث ہونے کا الزام ہے۔رمضان شوگر ملز کیس میں شہبازشریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کی جا چکی تھی،

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

  • مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    لاہور ہائیکورٹ ، لاہور کے تعلیمی اداروں میں حالیہ واقعات ،احتجاج سے متعلق اعلی سطح تحقیقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے شہری اعظم بٹ کی درخواست پر سماعت کی، لاہور ہائیکورٹ نے کل آئی جی پنجاب کو رپورٹ سمیت ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، عدالت نے رجسٹرار لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی رجسٹرار کو ذاتی حیثیت میں کل طلب کر لیا، دوران سماعت چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ عالیہ نیلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ایک فل بنچ میں ایک کیس چل رہا ہے، ہم نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ نجی کالج واقعے کے حوالے سے رپورٹ جمع کرائیں، اس بچی کی زندگی تباہ کر دی، چاہے اس کے ساتھ واقعہ ہوا ہے یا نہیں،آئی جی پنجاب عدالت کو بتائیں کہ ایسی ویڈیوز اور تصاویر پھیلنے کے بعد پولیس نے ایکشن کیوں نہیں لیا، اینٹی ریپ ایکٹ تو متاثرہ بچی کا نام پبلشر کرنے کی اجازت نہیں دیتا،کیا آئی جی پنجاب اتنا بے خبر تھا، اس نے تصاویر اور ویڈیو وائرل ہونے دیں، آئی جی پنجاب سمیت دیگر تمام افسران ریکارڈ سمیت کل عدالت میں پیش ہوں، آئی جی پنجاب پنجاب یونیورسٹی میں طالبہ کی خودکشی کے حوالے سے بھی رپورٹ کریں، ہمیں اس واقعہ کا ہاتھ سے لکھا ہوا روزنامچہ چاہیے، کمپیوٹرائزڈ روزنامچہ نہیں۔

    درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے فلور پر کہا کہ لاہور کالج کی وائس چانسلر نے مجھے کہا کہ یونیورسٹی میں ہراسگی کے خلاف ہم کچھ نہیں کر پا رہے، لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ یہ کس چیز کی شکایت ہے؟ درخواستگزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ یہ ہراسگی کی شکایت ہے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس نے درخواستگزار کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کس قسم کی شکایات ہیں کس طرح کی ہراسگی؟ وکیل درخواستگزار نے کہا کہ میڈیا نے ہراسگی رپورٹ کیا ہے، مجھ تک یہی لفظ پہنچا ہے، پنجاب یونیورسٹی میں ایک طالبہ کے خودکشی کا واقعہ سامنے آیا، پنجاب یونیورسٹی کے واقعے کی تحقیقات تو ہونی چاہیے

    واضح رہے کہ لاہورہائیکورٹ میں پنجاب میں طلبا احتجاج اور مبینہ زیادتی واقعات بارے تحقیقات بارے درخواست دائر کی گئی ہے

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار