Baaghi TV

Category: لاہور

  • مریم اورنگزیب نے عمران خان کو "اقتدار کا منگتا” کہہ دیا

    مریم اورنگزیب نے عمران خان کو "اقتدار کا منگتا” کہہ دیا

    ن لیگی رہنما،پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے سابق وزیراعظم عمران خان کو اقتدار کا منگتا کہہ دیا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پرپوسٹ کرتے ہوئے مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ”اقتدار کا منگتا“ — اب خود سب سے بڑے غلط فہمی کا شکار ہیں سب ان کی اصلیت سمجھ چکے ہیں۔ مکار بہروپئے نے جھوٹ بول کر چار سال عوام کو غلط فہمیوں کا شکار بنایا، کبھی سائفر لہرا کے تو کبھی امریکہ کا نام لے کر۔ روؤ، چیخوں یا پِٹو این آر او نہیں ملنا، تمہارے خلاف کیس ختم نہیں ہونگے، جواب دینا پڑے گا۔

    مریم اورنگزیب نے سوال کیا کہ 9 مئی کس فرد کے خلاف تھا؟ ایئر بیس پہ حملہ کس فرد کے خلاف تھا؟کرنل شیر خان کا مجسمہ توڑنا کس فرد کے خلاف تھا؟ریڈیو پاکستان پہ حملہ کس فرد کے خلاف تھا؟ فوجی تنصیبات پہ حملہ کس فرد کے خلاف تھا؟قائدِاعظم ہاؤس پہ حملہ کس فرد کے خلاف تھا؟ جی ایچ کیو پہ حملہ ادارے کے خلاف نہیں تو کس فرد کے خلاف تھا؟ ملک کے ڈیفالٹ، معیشت کی تباہی اور مہنگائی کا طوفان لانا کس فرد کے خلاف حملہ تھا؟

  • ڈومیسٹک کرکٹ سیزن 2024-25  میں تین نئے چیمپئنز  ٹورنامنٹس کا اعلان

    ڈومیسٹک کرکٹ سیزن 2024-25 میں تین نئے چیمپئنز ٹورنامنٹس کا اعلان

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈومیسٹک سیزن2024-25 میں تین نئے چیمپئنز ٹورنامنٹس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ان ٹورنامنٹس کے انعقاد کا مقصد ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کرکٹ کے درمیان فرق کو کم کرنا، ایک سخت زیادہ مسابقتی اور ہائی پریشر کرکٹ کھیلنے کا ماحول فراہم کرنا اور اپنے مستقبل کے اسٹارز کے لیے بہتر آمدنی کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

    مینز ڈومیسٹک کرکٹ سیزن 2024-25میں یہ تین نئے ٹورنامنٹس چیمپئنز ون ڈے کپ، چیمپئنز ٹی ٹوئنٹی کپ اور چیمپئنز فرسٹ کلاس کپ پہلے سے موجود ٹورنامنٹس کے ساتھ شامل ہونگے جن میں قومی ٹی ٹوئنٹی کپ ، قائداعظم ٹرافی (ریجنل فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ)، پریذیڈنٹ ٹرافی (ڈپارٹمنٹل فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ) ، پریذیڈنٹ کپ ( ڈیپارٹمنٹل 50 اوورز ایونٹ)، اور ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ شامل ہیں۔ یہ سیزن یکم ستمبر 2024 سے 5 اگست 2025 تک جاری رہے گا۔

    تین چیمپئنز ٹورنامنٹس کے اضافے کے بعد پی سی بی اب مردوں کے آٹھ سینئر ٹورنامنٹس میں کل 261 میچز کا انعقاد کرے گا۔ ان تین ایونٹس میں 131 فرسٹ کلاس میچز، دو ایونٹس میں 40 پچاس اوورز کے میچز اور تین ایونٹس میں 97 ٹی ٹوئنٹی میچز شامل ہیں۔ 2023-24سیزن میں، پی سی بی نے مردوں کے چھ سینئر ٹورنامنٹس میں 203 میچز کا انعقاد کیا تھا جس میں دو ٹورنامنٹس میں 51 فرسٹ کلاس میچز، دو ایونٹس میں 55 پچاس اوورز کے میچز اور 97 ٹی ٹوئنٹی میچز شامل تھے۔نئے متعارف کرائے گئے چیمپئنز ٹورنامنٹ کی نمایاں خصوصیات یہ ہیں، چیمپئنز کپ کے ہر ایونٹ میں پانچ سائیڈز مقابلہ کریں گی جن کے نام ڈولفنز۔ لائنز۔ پینتھر ۔اسٹالیئنز اور وولز ہیں۔ چیمپئنز کپ کا ہر ایونٹ ڈبل لیگ فارمیٹ میں کھیلا جائے گا۔

    گزشتہ تین برسوں سے سب سے بہترین کارکردگی دکھانے والے تقریباً 150 ڈومیسٹک کھلاڑی اور موجودہ سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑی سلیکشن کے لیے دستیاب ہوں گے ( مزید تفصیلات وقت پر شیئر کی جائیں گی) ہر ٹیم میں ایک سابق پاکستانی سپر اسٹار بطور مینٹور اور ممکنہ طور پر ایک مالک کے طور پر ہوگا (مینٹور اور مالک کے نام کی تفصیلات کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا) ہر ٹیم کے پلیئر سپورٹ اسٹاف میں ہیڈ کوچ (کم از کم لیول 3 اور فرسٹ کلاس سائیڈ کے ساتھ کم از کم پانچ سال) بیٹنگ/بولنگ/فیلڈنگ کوچز (کم از کم لیول 3، تین سالہ تجربہ)، اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کوچ، فزیو تھراپسٹ، انالسٹ، آپریشنز مینیجر، اور میڈیا/ڈیجیٹل میڈیا منیجر شامل ہونگے۔ہر ٹیم کے لیے فیصل آباد ( ہائی پرفارمنس سینٹر فیصل آباد) کراچی (حنیف محمد ہائی پرفارمنس سینٹر) لاہور (نیشنل کرکٹ اکیڈمی) ملتان (انضمام الحق ہائی پرفارمنس سینٹر) اور سیالکوٹ (ہائی پرفارمنس سنٹر، سیالکوٹ) ٹریننگ اور پریکٹس کے لیے مختص ہو گی۔ ڈومیسٹک کنٹریکٹ 150 کرکٹرز کو اس طرح پیش کیے جائیں گے۔ کیٹگری 1 میں 40 کھلاڑی 550,000 روپے ماہانہ؛ کیٹگری 2 – 50 کھلاڑی 400000 روپے ماہانہ ۔ کیٹگری 3 – 60 کھلاڑی 250,000 ماہانہ

    پچھلے سیزن میں ڈومیسٹک کنٹریکٹس میں اے پلس کیٹیگری کے لیےتین لاکھ اے کیٹیگری کے لیے دو لاکھ روپے۔ بی کیٹگری کے لیے ایک لاکھ پچاسی ہزار۔ سی کیٹگری کے لیے ایک لاکھ ستر ہزار ۔ڈی کیٹگری کے لیے ڈیڑھ لاکھ ای کیٹگری کے لیے ایک لاکھ اور ایف کیٹگری کے لیے پچاس ہزار روپے رکھے گئے تھے۔

    ماہانہ ریٹینرز کے علاوہ کھلاڑیوں کو درج ذیل میچ فیس ملے گی،ریڈ بال کرکٹ کے لیے دو لاکھ روپے۔ پچاس اوورز میں ایک لاکھ پچیس ہزار روپے اور ٹی ٹوئنٹی میچوں میں ایک لاکھ روپے شامل ہیں. 24-2023 کے سیزن میں ریڈ اور وائٹ بال کرکٹ کے لیے بالترتیب 80,000 اور 40000 میچ فیس تھی۔ ہر ٹیم کا ایک کارپوریٹ اسپانسر ہوگا۔ آمدنی کے دیگر سلسلے میں براڈکاسٹ اور لائیو اسٹریمنگ کے حقوق، ایونٹ ٹائٹل اسپانسرشپ، گراؤنڈ برانڈنگ کے حقوق، اور ٹکٹوں کی فروخت اور مرچنڈائز شامل ہوں گے۔

    چیمپئنز ون ڈے کپ سے پی سی بی مینز ڈومیسٹک کرکٹ سیزن 2024-25کے سیزن کا آغاز ہوگا جو یکم سے 29 ستمبر تک 21 میچوں کا ٹورنامنٹ کھیلا جائے گا۔پی سی بی مینز ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا آخری ٹورنامنٹ چیمپئنز فرسٹ کلاس کپ ہوگا جو 28 مئی سے 5 اگست 2025 تک منعقد ہوگا۔اگست 2024 سے ستمبر 2025 کے عرصے میں مردوں کے آٹھ سینئر ٹورنامنٹس کے علاوہ پی سی بی 11 ڈولپمنٹ/ پاتھ وے ٹورنامنٹس بھی منعقد کرے گا جو تین پاکستان شاہینز اور ایک پاکستان انڈر 19 سیریز سے الگ ہوں گے۔ اس کا ممکنہ طور پر مطلب یہ ہے کہ ابھرتے ہوئے اور آنے والے نوجوانوں سے اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، کلبوں، U15، U17، U19، علاقائی انٹر ڈسٹرکٹ سینئر اور چیلنج لیگ سینئر کی سطح پر تمام فارمیٹس میں تقریباً 13,000 میچز متوقع ہیں۔

    پی سی بی مینز ڈومیسٹک کرکٹ سیزن 2024-25 میں مردوں کے آٹھ سینئر ٹورنامنٹس کی عارضی تاریخیں یہ ہیں (شیڈول، فارمیٹس اور دیگر تفصیلات کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا )

    چیمپئنز ون ڈے کپ یکم تا 29 ستمبر ( پانچ ٹیمیں، 21 میچز ) (نیا ایونٹ)
    پریذیڈنٹ کپ (50 اوورز ) 3 تا 15 اکتوبر (نو ٹیمیں، 19 میچز) (سات ٹیمیں، 24 میچز 2023-24)
    قائداعظم ٹرافی: 20 اکتوبرتا 18 دسمبر ( 18 ٹیمیں، 73 میچز) (آٹھ ٹیمیں، 29 میچز 2023-24)
    چیمپئز ٹی ٹوئنٹی کپ ۔: 21 تا 2 جنوری ( پانچ ٹیمیں، 21 میچز) ( نیا ایونٹ)
    پریذیڈنٹ ٹرافی (فرسٹ کلاس) 6 جنوری تا 7 مارچ (9 ٹیمیں، 37 میچز) (سات ٹیمیں، 22 میچ 2023-24)
    قومی ٹی ٹوئنٹی کپ 13 تا 21 مارچ (18 ٹیمیں، 35 میچز) (18 ٹیمیں، 63 میچز 2023-24 )
    پاکستان سپر لیگ 2025: 10 اپریل تا 25 مئی (چھ ٹیمیں، 34 میچز) (2023-24 میں 34 میچز)
    چیمپئنز فرسٹ کلاس کپ: 28 مئی تا 5 اگست (پانچ ٹیمیں، 21 میچز) (نیا ایونٹ)

    چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ہماری موجودہ اسٹینڈنگز ٹیسٹ میں چھٹے، ون ڈے میں چوتھے اور ٹی ٹوئنٹی میں ساتویں نمبر پر پاکستان کرکٹ کی حقیقی صلاحیت اور میراث کی عکاسی نہیں کرتی۔ عالمی کرکٹ میں اپنا صحیح مقام بحال کرنے کے لیے ہمیں اپنے ڈومیسٹک ڈھانچے میں جدت اور حکمت عملی سے اضافہ، وسعت اور مضبوطی لانی ہوگی۔ تین چیمپئنز ٹورنامنٹس کا تعارف اس سمت میں ایک جرات مندانہ قدم ہے۔

    محسن نقوی کا کہنا ہے کہ چیمپئنز ٹورنامنٹس ڈومیسٹک کرکٹ سے ہمارے سب سے زیادہ باصلاحیت اور مستقل پرفارمرز کو ہمارے سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کے ساتھ اکٹھا کریں گےاور ایسا ماحول بنائیں گے جو بین الاقوامی کرکٹ کا آئینہ دار ہو۔ براڈکاسٹ میچز، لیجنڈری مینٹورز، ایلٹ کوچنگ اسٹاف اور وسیع میڈیا کوریج کے ساتھ، یہ ٹورنامنٹ ہمارے کھلاڑیوں کو وہ ایکسپوژر اور تجربہ فراہم کریں گے جس کی انہیں ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ ٹورنامنٹس صرف ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کرکٹ کے درمیان فرق کو ختم کرنے کے بارے میں نہیں ہیں بلکہ یہ ہمارے پورے کرکٹ کے ماحولیاتی نظام میں انقلاب برپا کرنے اور پھر سے جوان کرنے کے بارے میں ہیں۔ ہم اسکولز کالجز اور یونیورسٹیز سے انٹرڈسٹرکٹس اور پھر ریجنل اور ڈپارٹمنٹل مقابلوں تک کے پاتھ وے کے ذریعے آنے والی کرکٹ اسٹارز کی نسل کی پرورش کررہے ہیں۔

    محسن نقوی نے کہا کہ میں پاکستان کرکٹ کے مستقبل کے بارے میں ُپر ُامید ہوں ہم بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کے لیے بہترین ٹیلنٹ تلاش کرکے انہیں تیار کرنے کے لیے وقف ہیں ۔چیمپئنز ٹورنامنٹس ہمارے کھلاڑیوں کو یہیں پر بین الاقوامی کرکٹ کی سختیوں اور دباؤ کا تجربہ کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ یہ ایک مضبوط اور انتہائی مسابقتی ڈھانچہ کی تعمیر کے لیے اہم ہے۔

  • عظمیٰ بخاری جعلی ویڈیو کیس کی سماعت ملتوی،ایف آئی اے سے جواب طلب

    عظمیٰ بخاری جعلی ویڈیو کیس کی سماعت ملتوی،ایف آئی اے سے جواب طلب

    لاہور ہائیکورٹ،وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کی مبینہ جعلی ویڈیو کے خلاف درخواست سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے وفاقی وزیر اطلاعات عظمی بخاری کی مبینہ جعلی ویڈیو کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی، عظمی بخاری اور ایف آئی اے افسران عدالت میں پیش ہوئے،دوران سماعت جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے نے کیا کارروائی کی ہے؟ایف آئی اے افسر نے عدالت میں کہا کہ ہم نے ایک اور ملزم کو گرفتار کیا ہے، ملزم محمد شفیق کو گجرات سے گرفتارکیا گیا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ یہ تمام مٹیریل گرفتار ملزم نے تیار کیا ؟ ایف آئی اے وکیل نے عدالت میں کہا کہ ویڈیو ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے پہلے اپ لوڈ ہوئی اس کو پکڑا، تفتیش ہورہی ہے جیسے جیسے تفتیش ہوگی مزید ملزم سامنے آئیں گے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اس ملزم نے ویڈیو کو سب سے پہلے اپلوڈ کیا تھا ؟ یہ ملزم اس ساری مہم میں شامل تھا، کیا ابھی تک آپ نے ویڈیو کو سب سے پہلے اپلوڈ کرنے والے شخص کی نشاندہی کی؟ ایف آئی اے افسر نے کہا کہ ہماری تحقیقات اس حوالے سے جاری ہیں۔

    بتایا جائے ملک میں ٹویٹر کی سروسز کن کن ایس او پیز کے تحت دی گئیں؟عدالت
    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر اچھے کام بھی ہورہے ہیں لوگوں کو فوائد بھی ملتے ہیں، اچھی چیزوں کا استعمال ہونا چاہیے مگر بری چیزوں کو روکنا ہے، بتایا جائے ملک میں ٹویٹر کی سروسز کن کن ایس او پیز کے تحت دی گئیں؟ وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ پاکستان میں 17 فروری سے ٹویٹر پر پابندی ہے اور ٹویٹر کا کوئی نمائندہ پاکستان میں موجود نہیں، وی پی این پر ہمارا کنٹرول نہیں ہے، اس پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یو اے ای سے جاکر سروسز لیں وہاں وی پی این استعمال کرنا جرم ہے،ایف آئی اے حکام نے عدالت میں کہا کہ ہم نے امریکی سفارت خانے کو خط لکھ دیا ہے جس پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے نے کہا یہ خط تو پہلے دن سے موجود ہے۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ کیا آپ آئی پی ایڈریس کے ذریعے سب سے پہلے ویڈیو اپلوڈ کرنے والے شخص کی نشاندہی کر سکتے ہیں؟وکیل وفاقی حکومت نے جواب دیا کہ ٹوئٹر کی پاکستان میں موجودگی نہیں ہے،جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اگر جواب کے لیے وقت لینا چاہتے ہیں تو لے سکتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ آپ تفصیل سے جواب جمع کروائیں، اب تو لوگ ایف آئی اے کو رپورٹ کرنا بھی پسند نہیں کرتے، ہمارے ہاں سوشل میڈیا کا مسئلہ بہت حساس ہے مگر قانون اتنا ہی غیر سنجیدہ

    لاہور ہائیکورٹ نے عظمی بخاری کےخلاف مبینہ جعلی ویڈیو کے خلاف درخواست پر ایف آئی اے، پنجاب اور وفاقی حکومت سے جوابات طلب کرتے ہوئے سماعت 29 اگست تک ملتوی کر دی۔

    مجھے انصاف نہ ملا تو پھر بشریٰ بی بی کی "ویڈیو”بھی آئے گی، عظمیٰ بخاری
    قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراطلاعات پنجاب عظمٰی بخاری کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے والے مجھ سے پوچھتے ہیں کس اکاؤنٹ سے کیا ہورہا ہے، مجھے اس بارے میں کیا پتہ، کیا یہ میرا کام ہے؟ افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک کسی کو کیس ہی سمجھ نہیں آیا ہے، کہتے ہیں کہ ٹوئٹر بند ہے، خاک بند ہے، وی پی این استعمال ہورہا ہے،پہلے 15 دن تک سماعت ملتوی کی گئی،اب میں مزید 15 دن تک انتظار کروں، آج تک ایف آئی اے کسی فیس بک کے کسی اکاؤنٹ کی نشاندہی نہیں کرسکی ،اگر مجھے انصاف نہیں ملے گا تو پھر بیڑہ غرق ہے، پھر کوئی نہیں بچے گا، پھر بشریٰ بی بی کی ابھی تک ڈیپ فیک نہیں آئی تو میں بھی اپنے لوگوں کو چُھٹی دوں گی کہ ٹھیک ہے آپ بھی یہی کرو،آج تک منع کرتی آئی ہوں، ہماری پارٹی یہ نہیں کرتی، کیا ہمیں ڈیپ فیک ویڈیو بنانا نہیں آتی، اگر انصاف نہیں ملے گا تو ہم بھی کر کے دکھائیں‌گے، میں نہیں جانتی وہ کون ہیں جس نے ویڈیو بنائیں،فیس بک،ٹویٹر پر میری ویڈیو چلی اور ہیروئن آتی ہے کہتی ہے کہ ویڈیو آ گئی، آج وہ کہہ رہی ہے کہ سیاسی انتقام ہور ہا ہے، میں حکومت میں ہوں، اٹھوا دیتی لیکن میں نے یہ نہیں کیا،میں عدالت میں انصاف لینے آئی ہوں،

    عظمیٰ بخاری کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر واہیات پن پی ٹی آئی نے شروع کیا، سائبر کرائم کو کچھ نہیں پتہ کہ کیا ہو رہا ہے، میں کہاں جاؤں، پیکا کے اوپر سب آزادی اظہار رائے کے جھنڈے لے کر آ جاتے ہیں میں کیا کروں،قانون بنائیں تو احتجاج ہوتا ہے، اب ایسے نہیں چلے گا،میں ہر حد تک جاؤں گی، انصاف کے دروازے کھٹکھٹاؤں گی، نو مئی کو جنہوں نے کیا انکو انصاف مل جاتا ہے کیا ہم قوم کی بیٹیاں نہیں ہیں،جو میرے ساتھ انصاف نہیں کر پا رہا میں انکی کیا عزت کروں،مجھے انصاف نہیں ملے گا تو پھر کوئی نہیں بچے گا، میں اپنے لوگوں کو چھٹی دوں گی کہ یہ تم بھی کرو،ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ بند کروا دیں، سائبر کرائم ونگ ٹکے کے کام کا نہیں میں تو تنگ آ گئی ہوں، سائبر ونگ کے پاس اپنے شعبے کی کوئی مہارت ہی نہیں،ہمیں یہ چیز روکنا ہو گی ورنہ آج میں ہوں کل کوئی اور ہو گا، میرے بیٹے کے ساتھ میری تصویر لگا کر جو کچھ کہا جا رہا ہے، اس پر کسی کو شرم آئی؟

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 24 جولائی کو فلک جاوید کی جانب سے ایکس پر عظمی بخاری کے خلاف ایک جھوٹی ویڈیو شئیر کی گئی، مذکورہ ویڈیو سینکڑوں افراد کی جانب سے شئیر کی گئی جس سے عظمی بخاری کی شہرت کو نقصان پہنچا، عدالت پی ٹی آئی کارکن فلک جاوید سمیت دیگر کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت جاری کرے۔

    عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیو: ایف آئی اے نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا

    عظمیٰ بخاری نے گندے انڈے والےعمر عادل کیخلاف ایف آئی اے میں دی درخواست

    شہدا کے مجسمے جلا کر اپنے وقت کا فرعون معافیاں مانگ رہا ہے،عظمیٰ بخاری

    عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیو بنانے والے ہر کردار کو بے نقاب کرینگے،شزہ فاطمہ

    تحریک انصا ف،یہودی صیہونی لابی کا گٹھ جوڑ،ثبوت سامنے آ گئے

  • اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کی درخواست عدالت نے نمٹا دی

    اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کی درخواست عدالت نے نمٹا دی

    لاہور ہائیکورٹ: اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنا پر نمٹا دی ،ایڈوکیٹ سمیر کھوسہ نے کہا کہ اظہر مشوانی کو وٹس ایپ کال آئی ہے کہ مغوی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے پاس ہیں،چونکہ مغوی وفاقی ایجنسیوں کی حراست میں ہیں، لہذا ہم درخواست واپس لیتے ہیں ، وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ مغوی پنجاب پولیس کے پاس نہیں ہیں، جسٹس علی باقر نجفی نے قاضی حبیب الرحمن کی درخواست پر سماعت کی،دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اظہر مشوانی کے دو بھائیوں کو جون میں اغواء کیا گیا، سادہ لباس اور پولیس یونیفارم میں ملبوس اہلکاروں نے حراست میں لیا،عدالت اظہر مشوانی کے دونوں بھائیوں کو بازیاب کروانے کا حکم دے،

    چاہت فتح علی خان سے بڑے بڑے سپر اسٹارز خوفزدہ کیوں ؟

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

  • ڈاکٹر شاہد صدیق قتل کیس میں مقتول کا بیٹا گرفتار

    ڈاکٹر شاہد صدیق قتل کیس میں مقتول کا بیٹا گرفتار

    تحریک انصاف کے رہنما اور نجی ہسپتال کے مالک ڈاکٹر شاہد صدیقی قتل کیس میں پولیس نے مقتول کے بیٹے کو گرفتار کر لیا.

    میڈیا رپورٹس کے مطابق او سی یو ٹیم نے ڈاکٹر شاہد صدیق کے بیٹے قیوم شاہد کو ٹھوس شواہد پر حراست میں لیا، قیوم نے مبینہ طور پر شوٹر کی مدد سے اپنے والد کو قتل کروایا،ڈاکٹر شاہد کے قتل کا مقدمہ ان کے دوسرے بیٹے تیمور کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، پولیس حکا کے مطابق ڈاکٹر شاہد کی نماز جنازہ بھی قیوم شاہد نے پڑھائی تھی جس کو گرفتار کیا گیا ہے

    لڑکی سے شادی کی خواہش،باپ انکاری،بیٹے نے دو کروڑ دے کر باپ قتل کروا دیا
    پولیس نے کہا کہ مقتول ڈاکٹر کی نماز جنازہ بھی بیٹے قیوم شاہد نے پڑھائی تھی،دوران تحقیقات انکشاف ہوا کہ ڈاکٹر شاہد صدیق کے بیٹے قیوم نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر والد کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی، قیوم ایک لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا مگر والد انکاری تھے، قیوم نے جنوری میں بھی اپنے والد پر قاتلانہ حملہ کروایا تھا،ملزم قیوم نے جنوری میں اپنے والد کے قتل کی ڈیل 50 لاکھ روپے میں کی اور ڈاکٹر شاہد صدیق پر دوسرا حملہ 2 کروڑ روپے میں کروایا گیا،جس روز واقعہ ہوا اسی دن سفید کارنے صبح 9 بج کر 50 منٹ پر ڈاکٹر شاہد کی ریکی کی تھی، اسی کار میں ڈاکٹر شاہد کا بیٹا قیوم بھی موجود تھا، جمعہ کے روز مقتول نے بینک سے رقم نکلوا کر مستحق افراد میں تقسیم کی اس دوران بھی مشکوک کار ڈاکٹر شاہد کا تعاقب کرتی رہی،

    ڈاکٹر شاہد صدیق کے قتل کا مقدمہ تھانہ کاہنہ میں مقتول کے بیٹے تیمور صدیق کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے،درج مقدمے کے مطابق مدعی مقدمہ تیمور صدیق کا کہنا ہے کہ میں اپنے والد، بھائی اور چچا کےہمراہ جامع مسجد خضریٰ سے جمعہ کی نماز ادا کر کے مسجد سے باہر آ کر اپنی گاڑیوں میں بیٹھنے لگے،ہماری گاڑیاں مسجد کے گیٹ سے کچھ فاصلے پر تھیں،جونہی میں اور میرے والد اپنی گاڑی کے پاس آئے تو گاڑی سے پیچھے چند قدموں پر تین چار نامعلوم افراد کھڑے تھے،ان میں سے ایک ہماری گاڑی کی طرف آیا میرے والد نے گاڑی میں بیٹھنے کے لئے دروازہ کھولا ہی تھا کہ اس نے 30 بور پسٹل سے میرے والد پر فائرنگ کر دی،فائر میرے والد کے جسم کے بائیں طرف کے حصوں پر لگا،وہ گولی لگنے کے بعد گرپڑے،ملزم کا حلیہ رنگ گندمی،جسم بھاری،قد تقریبا پانچ فٹ، عمر 30سے 35 برس،شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی،ان تمام ملزمان کو سامنے آنے پر ہم شناخت کر سکتے ہیں،ہم اپنے والد کو ہسپتال لے کر جا رہے تھے کہ راستے میں انکی موت ہو گئی،میرے والد پر چھ سات ماہ قبل بھی قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے،

    میں نے خلیل الرحمان قمر کو ہنی ٹریپ نہیں کیا،آمنہ کی درخواست ضمانت دائر

    خلیل الرحما ن قمر کیس،آمنہ عروج کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، جیل بھجوا دیا گیا

    نازیبا ویڈیو”لیک” ہونے سے میری ساکھ کو نقصان پہنچا،خلیل الرحمان قمر کا دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر کو زنا کے جرم میں کیوں نہیں پکڑا جارہا؟صارفین برہم

    خلیل الرحمان قمر کی ایک اور "ویڈیو "آنے والی ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

    میری ویڈیو وائرل ہو گئی،دل کرتا ہے عدالت کے باہر خود کشی کر لوں،آمنہ عروج

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

  • تمام مدارس رجسٹرڈ ہیں، دہشت گردی کی کوئی سرگرمی نہیں ہوتی، علامہ طاہر اشرفی

    تمام مدارس رجسٹرڈ ہیں، دہشت گردی کی کوئی سرگرمی نہیں ہوتی، علامہ طاہر اشرفی

    پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ ملک میں تمام مدارس رجسٹرڈ ہیں اور ان میں دہشت گردی کی کوئی سرگرمی نہیں ہوتی۔استحکام پاکستان علماء مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ ہم یہودیوں کی بنائی ہوئی چیزیں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں، آج یہودیوں نے ہماری معیشت کو جکڑ رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مدرسہ دہشت گردی میں ملوث ہے تو ہمیں اطلاع دیں، ہم خود اسے بند کریں گے۔ کل ملک بھر میں یوم استحصال کشمیر منایا جائے گا۔ آج جو فلسطینیوں کے ساتھ ہو رہا ہے، وہی کشمیریوں کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔

    علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں یوم استحصال کشمیر منایا جائے گا۔ کوئی جبری گمشدگی نہیں ہوئی اور عدالتیں ابھی تک 9 مئی کے مجرموں کو سزا نہیں دے سکیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر بات چیت کریں۔چیئرمین علماء کونسل نے کہا کہ اگر فوج سیاست میں نہیں آنا چاہتی تو ہم اسے زبردستی کیوں گھسیٹ رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ محمود خان اچکزئی ہی سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کریں گے۔ اگر ایران اسرائیل پر حملہ کرتا ہے تو پاکستان او آئی سی کے ساتھ کھڑا ہے اور او آئی سی کے فیصلوں کی حمایت کرے گا۔

    انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہماری قانونی اور دینی جماعتوں کی مشاورت جاری ہے اور سب کی متفقہ رائے سے جو بھی فیصلہ ہوگا، اس پر عمل ہوگا۔ پاکستان کے کسی مدرسے میں کوئی منفی سرگرمی نہیں ہو رہی، اور اگر ہوئی تو ہم خود اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔علامہ طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ 14 اگست کو تمام مدارس پر قومی پرچم لہرائے جائیں گے۔ جنہیں ہم نے 40 سال تک پالا ہے، وہ اب ہمیں آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ تمام پاکستانی اپنے پرچم کی حفاظت اور اس کی عزت کرنا جانتے ہیں۔

  • وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل: مخصوص نشستوں کے حوالے سے قانونی اور آئینی سوالات اٹھائے

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل: مخصوص نشستوں کے حوالے سے قانونی اور آئینی سوالات اٹھائے

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے سپریم کورٹ کے دو ججز کی جانب سے مخصوص نشستوں پر دیے گئے تفصیلی فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران عطا تارڑ نے کہا کہ دو ججز کے فیصلے نے اکثریتی فیصلے پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور اس فیصلے کے 15 دن بعد بھی تفصیلی فیصلہ منظرِ عام پر نہیں آیا، جو کہ معمول کے خلاف ہے۔عطا تارڑ نے کہا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے سے متعلق سپریم کورٹ کے ججز کے اختلافی نوٹ میں بتایا گیا ہے کہ عدالتی فیصلہ آئین کے کچھ آرٹیکلز سے ہٹ کر تحریر کیا گیا ہے۔ ان ججز نے سوال اٹھایا کہ 15 دن گزر جانے کے باوجود مکمل تفصیلی فیصلہ کیوں جاری نہیں ہوا، اور یہ کہ پی ٹی آئی کو کس بنیاد پر ریلیف دیا گیا جب کہ وہ عدالت میں درخواست گزار نہیں تھی۔

    وفاقی وزیر نے وضاحت کی کہ جن لوگوں نے مخصوص نشستوں پر انتخاب جیتا اور حلف اٹھایا، ان کی رکنیت کو ختم کر دیا گیا ہے۔ تاہم، قانونی طور پر ان کی رکنیت کو ختم کرنے کے مراحل ابھی تک مکمل نہیں ہوئے، جو کہ ایک قانونی اور آئینی سوالیہ نشان ہے۔ عطا تارڑ نے کہا کہ یہ بہت بڑی بات ہے کہ مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے افراد کو عہدے سے ہٹایا گیا ہے، مگر حلف لینے سے پہلے کے قانونی مراحل کو نظر انداز کیا گیا۔انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پی ٹی آئی نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر سوالات اٹھائے تھے اور سپریم کورٹ کے ججز کے تفصیلی فیصلے کے بارے میں بھی ان کے سوالات ابھی تک بغیر جواب کے ہیں۔
    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ سپریم کورٹ کے 2 جج یہ کہہ رہے ہیں کہ آرٹیکل 175 اور 155 میں جو دائرہ کار تفویض کیا گیا ہے کہ اس سے باہر جاکر اکچریت میں فیصلہ دیا ہے اور نا صرف یہ انہوں نے آرٹیکل 51، 63، 106 کی بات کی ہے کہ یہ آئین کے آرٹیکل کو معطل کرنا پرے گا اس فیصلے پر عملدرآمد کروانے کے لیے اور حقیقت بھی یہی ہے یعنی وہ لوگ جو سنی اتحاد کے ممبر ہیں وہ کہہ ہی نہیں رہے کہ ہم نے پارٹی تبدیل کرنی ہے تو کیا وہ فلور کراسنگ ہوگی کہ وہ ایوان میں سنی اتحاد سے اٹھ کے پی ٹی آئی کی سفوں میں بیٹھیں گے تو کیا یہ 62-1 ایف اور 63 کی خلاف ورزی نہیں ہوگی؟

    انہوں نے بتایا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ فلور کراسنگ کریں؟ کیا مستقبل میں بھی اس بات کا جواز بنایا جائے گا کہ کوئی بھی ممبر فلور کراسنگ کرنا چاہے تو وہ اس فیصلے کا سہارا لے کر پارٹی تبدیل کر سکے گا؟ سب سے بڑی بات یہ کہ 2 ججز جنہ۰وں نے اختلافی نوٹ لکھا اس میں انہوں نے کہا کہ سنی اتحاد کا پارلیمنٹ میں وجود نہیں تھا حتی کہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین تک نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑا، اس پر آئین واضح ہے، آئین کہتا ہے کہ وہ سیاسی جماعتیں جو پارلیمان میں موجود ہیں ان کو متناسب نمائندگی کے فارمولے کے تحت مخصوص نشستیں دی جائیں گی۔عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ کیا سنی اتحاد کونسل کا وجود پارلیمان میں موجود تھا یا نہیں تھا؟ اس کا جواب ہے کہ سنی اتحاد کا وجود پارلیمان میں نہیں تھا کیونکہ ان کے چیئرمین نے بھی آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا، جب چیئرمین نے آزاد الیکشن لڑا تو یہ غلطی پی ٹی آئی کے سابقہ ممبرز کی تھی جنہوں وہ جماعت میں شمولیت اختیار کی جس کا سیاسی وجود نہیں تھا، وہ چاہتے تو ایم ڈبلو ایم میں شامل ہوجاتے جس کا وجود موجود تھا۔

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ایک ایسی سیاسی جماعت کا انتخاب کیا جس میں شامل ہو کر ان کو آئین و قانون کے مطابق مخصوص نشستیں نہیں مل سکتی تھیں، سنی اتحاد کونسل کے اپنی آئین میں یہ لکھا کہ کوئی بھی اقلیت کا ممبر ان کی پارٹی میں شامل نہیں ہوسکتا لہذا ان کو اقلیت کی سیٹیں بھی نہیں مل سکتی تھیں، تو قانون کی روشنی میں 2 ججز نے جو اختلافی نوٹ لکھا ہے اور تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے اس نے اکثریت کے فیصلے پر بہت بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکلز کو معطل کرنا پڑے گا اس فیصلے پر عملدرآمد کروانے کے لیے۔

    انہوں نے بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ آئین کے دو آرٹیکلز میں جو دائرہ اختیار تفویض کیا گیا ہے، اس سے باہر جاکر فیصلہ کرنا پڑے گا، ہم تو پہلے دن سے کہہ رہے تھے کہ یہ ٹائم کو پیچھے کیا گیا ہے اور وہ ریلیف دیا گیا جو مانگا نہیں تھا اور ان کو دیا گیا جنہوں نے مانگا ہی نہیں تھا، وہ موجود ہی نہیں ہیں جن کو ریلیف دیا گیا، آئین و قانون میں یہ چیزیں واضح درج ہیں، اتنے آرٹیکلز، الیکشن ایکٹ 2017 کی خلاف ورزی کرنے کے بعد پھر یہ ممکن ہے کہ یہ ریلیف دیا جاسکے ایک ایسی جماعت کو جس نے عدالت کے سامنے یہ استدعا نہیں کی۔عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ کسی نے بھی یہ قدم چیلنج نہیں کیا کہ یہ سنی اتحاد میں گئے تھے، یا تو اس قدم کو چیلنج کیا جاتا کسی کی طرف سے کہ ہم سنی اتحاد میں گئے اور چیلنج کرتے کہ سنی اتحاد میں نہیں جاسکتے تھے تب تو پھر پی ٹی آئی کا ممبر ان کو تصور کیا جاتا اور جو نشستوں پر منتخب ہوئے تھے اور ان کی حق تلفی ہوئی ان کو بھی نہیں سنا گیا، نا ان کو بلایا گیا، ان ممبران کا پورا پراسس ہے، لسٹ گئی ہیں الیکشن کمیشن میں جس کی اسکروٹنی ہوئی پھر نوٹیفکیشن ہوا، ان کی رکنیت ختم کردی گئی مگر باقی مراحل کے بارے میں بات نہیں کی گئی۔
    عطا تارڑ نے مزید کہا کہ ہم نے اس فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کی تھی اور ہم سمجھتے تھے کہ اس پر سماعت ہونا ضروری ہے، لیکن ابھی تک اس کی سماعت مقرر نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں آئینی اداروں میں کوئی چھٹی نہیں ہوتی، مگر یہاں چھٹیوں کا مسئلہ سامنے آ رہا ہے۔ دو ججز کے اٹھائے گئے قانونی نکات پر بات ہونا بہت ضروری ہے، کیونکہ ان نکات پر تفصیلی فیصلہ نہ آنے سے قانونی فریم ورک پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔عطا تارڑ نے مسلم لیگ ن کی جانب سے مزید کہا کہ دو اہم معاملات ہیں: ایک یہ کہ سنی اتحاد نے ایسی سیٹیں مانگی ہیں جن کا انہیں حق نہیں تھا، اور دوسرا یہ کہ پی ٹی آئی درخواست گزار ہی نہیں تھی، پھر بھی اتنا بڑا ریلیف کیوں دیا گیا؟ ان سوالات کے جوابات ابھی باقی ہیں، اور یہ بہت اہم قانونی نکات ہیں جن کا جواب ملنا اور تفصیلی فیصلہ آنا ضروری ہے۔ ورنہ یہ تاثر قائم ہو جائے گا کہ ایک طرفہ ریلیف دیا گیا ہے، جس سے آئین کی حکمرانی پر منفی اثر پڑے گا اور قانون کے اصولوں کو نقصان پہنچے گا۔ اگر فلور کراسنگ کو قانونی طور پر تسلیم کر لیا جائے تو اس سے ماضی کی تشریحات اور آئینی اصولوں پر سوال اٹھے گا، جیسے کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح میں ووٹ کو کاؤنٹ نہ کرنے اور رکنیت ختم کرنے کی بات کی گئی تھی، اور اب پارٹی بدلنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ان ججز نے اپنے اختلافی نوٹ میں بہت اہم نکات اٹھائے ہیں، جن کا جواب ملنا ضروری ہے۔

  • سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا یوم شہداء پولیس کی تقریب سے خطاب

    سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا یوم شہداء پولیس کی تقریب سے خطاب

    پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک محمد احمد خان نے یوم شہداء پولیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان لوگوں اور شہداء کے مقروض ہیں جنہوں نے ملک کے امن کے لیے قربانیاں دیں۔ملک محمد احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ تقریب شہداء کے ورثاء کی ہے، جن کا حق ہم کبھی ادا نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کیپٹن احمد مبین شہید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ شہید ہوئے تو میں حکومت کا ترجمان تھا اور مال روڈ پر ہونے والے شہداء اور ان کے خاندانوں کو آج تک نہیں بھولا۔
    ملک احمد خان نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے ملک جس طرف جا رہا ہے، افراتفری پھیلا دی گئی ہے۔ انہوں نے شہداء کے خاندانوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ ان قربانیوں کو بیان کر سکیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت پنجاب شہداء کے بچوں کو ایف ایس سی تک مفت تعلیم فراہم کر رہی ہے اور مزید مراعات بھی وزیر اعلیٰ پنجاب کی مشاورت سے دی جائیں گی۔ ملک احمد خان نے کہا کہ شہداء کے بچوں کو ہر طرح کی مراعات دی جائیں گی۔
    ملک احمد خان نے یہ بھی اعلان کیا کہ قصور کے ایک چوک کو پولیس شہداء کی یاد میں "وال آف فیم” کے طور پر بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سالمیت کی کہانی افراد کے کندھوں پر ہے اور اگر وہ شہداء جیسے ہوں تو ملک آگے بڑھے گا۔تقریب کے دوران، شہداء کے خاندانوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور ان کی خدمات کو سراہا گیا۔ ملک محمد احمد خان نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ حکومت شہداء کے ورثاء کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی مشکلات کا ازالہ کرنے کے لئے ہر ممکن اقدام کرے گی۔

  • یوم شہداء پولیس: پنجاب بھر میں خراج عقیدت کی تقریبات

    یوم شہداء پولیس: پنجاب بھر میں خراج عقیدت کی تقریبات

    لاہور: آج ملک بھر میں یوم شہداء پولیس منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر صوبے کے مختلف شہروں میں شہید پولیس اہلکاروں کی یاد میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جہاں شمعیں روشن کر کے ان کی قربانیوں کو یاد کیا گیا۔ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق، یہ تقریبات شہداء کی یادگاروں، پبلک سروس ڈلیوری سنٹرز اور دیگر مقامات پر منعقد کی گئیں۔ ان تقریبات میں آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی اوز سمیت اعلیٰ پولیس افسران نے شرکت کی۔ شہداء کے اہل خانہ، سول سوسائٹی کے نمائندے اور عام شہری بھی بڑی تعداد میں ان تقریبات میں شامل ہوئے۔
    اس موقع پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے اپنے پیغام میں کہا کہ شہداء پولیس کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے شہداء کو جرات، بہادری اور ملک و قوم سے وفا کا پیکر قرار دیا۔ آئی جی پنجاب نے یہ بھی کہا کہ شہداء کی فیملیز کی فلاح و بہبود اور ویلفیئر کا مکمل خیال رکھا جا رہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ پاکستان بھر میں 4 اگست کو یوم شہداء پولیس کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن ان تمام پولیس اہلکاروں کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہوں نے ملک کی حفاظت اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
    اس سال کی تقریبات خاص طور پر اہم ہیں کیونکہ حالیہ برسوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے باعث پولیس کے نقصانات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ شہداء کے اہل خانہ کی مدد کے لیے مزید اقدامات اٹھانے پر غور کر رہے ہیں۔شہریوں نے بھی اس موقع پر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ لاہور کے ایک شہری، احمد علی نے کہا، "ہم اپنے پولیس شہداء کے مرہون منت ہیں۔ انہوں نے ہماری حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ ہم انہیں کبھی نہیں بھولیں گے۔”یوم شہداء پولیس کی یہ تقریبات ملک بھر میں جاری رہیں گی، جہاں مختلف شہروں میں شہداء کی یاد میں تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارے پولیس اہلکار روزانہ کتنی بڑی قربانیاں دیتے ہیں تاکہ ہم محفوظ رہ سکیں۔

  • مریم نواز کی قیادت میں "اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام کی تیز  کرنے کا اعلان

    مریم نواز کی قیادت میں "اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام کی تیز کرنے کا اعلان

    پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے بے گھر افراد کے لئے "اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام کو تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت تین مختلف ماڈلز کی منظوری دی گئی ہے۔ مریم نواز نے ہدایت کی ہے کہ پلاٹ پر قرض حاصل کرنے والوں سے سروس چارجز نہ لیے جائیں۔یہ پروگرام 14 اگست کو لانچ کیا جائے گا، اور اس کے تحت پائلٹ منصوبے کے طور پر ماڈل گھر بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ماڈل گھروں کے نقشے میں لیونگ روم شامل کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ عوام کی سہولت کے لیے ایک ٹال فری نمبر بھی متعارف کرایا جائے گا۔پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس پروگرام کے لیے ایک خصوصی پورٹل تیار کرے تاکہ خواہش مند افراد آن لائن درخواست جمع کرا سکیں۔ سیکرٹری ہاؤسنگ کیپٹن (ر) اسد اللہ خان نے اس منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ "اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام کے فارم ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرز کے دفاتر سے حاصل کیے جا سکیں گے۔

    ایک سے پانچ مرلہ تک پلاٹ مالکان کو بلا سود قرض فراہم کیا جائے گا، اور وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ قرض کی ادائیگی آسان اقساط میں کی جائے۔ سرکاری زمین پر گراونڈ اور تین منزلہ اپارٹمنٹ کے منصوبے کا پی سی ون منظور کر لیا گیا ہے اور اس کی فزیبلٹی سٹڈی جلد ہوگی۔ پرائیویٹ سکیموں میں تین اور پانچ مرلہ کے گھر "پھاٹا” کے الاٹیز کو فراہم کیے جائیں گے، جو پانچ سال میں اقساط میں ادا کیے جائیں گے۔ حکومت پنجاب پرائیویٹ سکیموں میں گھر کی لاگت کو کم کرنے کے لیے سبسڈی فراہم کرے گی۔کسی بھی شہر یا گاوں میں 70 ہزار پلاٹ مالکان بلا سود قرض حاصل کر سکیں گے، جبکہ مائیکروفنانس اداروں کے ذریعے قرض کی ادائیگی پر سروس چارجز حکومت پنجاب ادا کرے گی۔ اس اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے، جس میں سینیٹر پرویز رشید اور سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں۔