Baaghi TV

Category: لاہور

  • لاہور میں  تین دن کے لیے بسنت منانے کی اجازت

    لاہور میں تین دن کے لیے بسنت منانے کی اجازت

    لاہور: صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اعلان کیا ہے کہ لاہور میں صرف تین دن کے لیے بسنت منانے کی اجازت دی جائے گی، تاہم اس دوران سخت حفاظتی اور قانونی ضوابط لاگو ہوں گے۔

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کے مطابق حکومت نے مینوفیکچررزکو مخصوص معیار کے مطابق پتنگ اورڈور تیار کرنے کی اجازت دے دی ہے جبکہ پتنگ کا ایک سائزمقررکردیا گیا ہے اس سے بڑی پتنگ تیاریا فروخت نہیں کی جا سکے گی، پتنگ اور ڈور صرف مخصوص پوائنٹس پر دستیاب ہوں گی، انہیں ہرجگہ فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، اس اقدام کا مقصد غیر قانونی سرگرمیوں اور خطر ناک مواد کے استعمال کو روکنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ٹریفک اور ٹرانسپورٹ محکموں سے مکمل پلان طلب کرلیا گیا ہے تاکہ بسنت کے دوران شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے حکومت کی کوشش ہے کہ ان تین دنوں کے دوران لوگ کم سے کم موٹر سائیکل استعمال کریں جبکہ کچھ حساس علاقوں میں موٹر سائیکلوں کے داخلے پرمکمل پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے، بسنت کے موقع پرعام تعطیل کا فیصلہ بھی جلد کیا جائے گا۔

    وبائی امراض پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں:مریم نواز

    عظمیٰ بخاری نےواضح کیا کہ جو افراد طے شدہ قوانین پر عمل نہیں کریں گے انکے خلاف سخت کارروائی کی جائےگی، اگر کوئی بچہ پتنگ اڑاتے ہوئے پایا گیا تو اس کے والدین کو جوابدہ ہونا پڑے گا، اور قانون کی خلاف ورزی پر پانچ سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔

    سابق گورنر اسٹیٹ بینک شمشاد اختر چل بسیں

  • وبائی امراض  پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں:مریم نواز

    وبائی امراض پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں:مریم نواز

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے وبائی امراض سے بچاو کی تیاری کے عالمی دن پراپنے پیغام میں کہاہے کہ وبائی امراض کسی علاقے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔ وبائی امراض سے بچاؤ اور قابو پانے کے لیے ہر دم تیار رہنا ضروری ہے۔

    وزیراعلی مریم نوازشریف نے کہاکہ حکومت پنجاب شعبہ صحت کی کیپسٹی بڑھا رہی ہے، سب سے زیادہ صحت پر کام کیا گیا- شہری صحت سے متعلق ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے نبھائیں، احتیاطی تدابیر زندگی کا حصہ بنائیں گے۔وبائی امراض سے بچاؤ کیلئے بروقت تیاری نہ صرف جان بچاتی ہے بلکہ معیشت اور معاشرت کو بھی محفوظ رکھتی ہے۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے کہاکہ وبائی امراض کے مقابلے کے لیے تعاون اور احتیاطی تدابیر پر فوری عملدرآمد کی ضرورت ہے۔کرونا کی وبا نے عالمی برادری میں صحت اور بہبود کے تحفظ کے لیے مستقل عزم اور کوشش کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ وائرس سے شروع ہونے والی وبا نے معاشی اور سماجی طور پر پوری دنیا کو متاثر کیا۔

  • لاہور ہائیکورٹ،وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف توہین عدالت درخواست دائر

    لاہور ہائیکورٹ،وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف توہین عدالت درخواست دائر

    لاہور ہائیکورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی گئی۔

    درخواست شہری منیر احمد نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب پراپرٹی اونرشپ ایکٹ سے متعلق عدالتی حکم پر تنقیدی بیانات توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں، پراپرٹی قانون کی معطلی پر بیانات سے عدلیہ کی ساکھ متاثر ہوئی، درخواست میں مزید کہا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے بیانات نے عدالت کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی، عدالتی حکم کو لینڈ مافیا کے حق میں قرار دینا سنگین الزام ہے، لاہور ہائیکورٹ کے حکم کو سیاسی رنگ دیناغیر قانونی عمل ہے، اعلیٰ عہدیداران کے بیانات سے عدالتی عمل متاثر ہو سکتا ہے، لہٰذا مریم نواز اور عظمیٰ بخاری کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا جائے، لاہور ہائیکورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور عظمیٰ بخاری کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کرے

  • دشمن قوتیں پاکستان کی سفارتی، اخلاقی ،نظریاتی کامیابیوں سے خائف ہیں،طاہر اشرفی

    دشمن قوتیں پاکستان کی سفارتی، اخلاقی ،نظریاتی کامیابیوں سے خائف ہیں،طاہر اشرفی

    لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ کچھ عناصر کو بھارت کے خلاف پاکستان کی فتح ہضم نہیں ہو رہی اور اسی وجہ سے ملک کے خلاف منفی اور جھوٹا بیانیہ گھڑا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جھوٹ اور پروپیگنڈے کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا بیانیہ زیادہ دیر تک نہیں چلتا اور بالآخر حقائق ہی سامنے آتے ہیں۔

    حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور پرامن ریاست ہے، جس نے ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور بقائے باہمی کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن قوتیں پاکستان کی سفارتی، اخلاقی اور نظریاتی کامیابیوں سے خائف ہیں اور اسی لیے سوشل میڈیا اور بین الاقوامی فورمز پر منفی مہمات چلائی جا رہی ہیں، تاہم پاکستان کا مؤقف مضبوط اور حقیقت پر مبنی ہے۔

    انہوں نے ملک میں اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تمام اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے اور آئین پاکستان ہر شہری کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی ضمانت دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقلیتیں پاکستان کی ترقی میں برابر کی شریک ہیں اور ریاست ان کے جان و مال اور عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنا رہی ہے۔چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے ملکی معیشت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت مضبوط ہو چکی ہے اور درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود حکومت، ادارے اور عوام مل کر ملک کو معاشی استحکام کی جانب لے جا رہے ہیں، جس کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ منفی پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں، قومی اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دیں اور ملک کے خلاف سازشوں کا شعور اور ذمہ داری کے ساتھ جواب دیں۔

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی لاہور آمدصحافیوں کو مہنگی پڑی،دوصحافیوں‌کے موبائل چوری

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی لاہور آمدصحافیوں کو مہنگی پڑی،دوصحافیوں‌کے موبائل چوری

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی لاہور آمد کےد وران کوریج کے لیے جانے والے دو صحافیوں کے موبائل چوری کر لئے گئے

    صحافی میاں انیب ظہیر اور ذیشان المانی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی کوریج کے لئے موجود تھے کہ دونوں کے موبائل ایک ہی تقریب سے چوری ہو گئے، اردو نیوز کے رپورٹر ادیب یوسفزئی کا مائیک چوری ہو گیا تو وہ بعد ازاں مل گیا تاہم دو صحافیوں کے موبائل نہ مل سکے،

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا گزشتہ روز لاہور پہنچے ہیں، پنجاب اسمبلی، لبرٹی گئے، آج شاہ محمود قریشی کے گھر گئے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی لاہور میں تین روز قیام کریں گے

    لاہور میں شاہ محمود قریشی کے گھر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ میرا پاکستان ہے میرا جہاں دل چاہے گا میں جاؤں گا، لاہور آیا ہوں تاکہ تمام تنظیمی دوستوں سے ملوں، اسیران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ان کے گھر جارہا ہوں،ہماری حکومت نے جیل میں قید قیادت سے ملنے کے لیے باقاعدہ لیٹر لکھا جس کا جواب نہیں دیا گیا، نہ مجھے اپنے بانی سے ملنے دے رہے ہیں نہ قیادت سے ملنے دے رہے ہیں، حکومت کے ساتھ ڈائیلاگ کی ذمہ داری تحریک تحفظ آئین کی ہے۔

  • بسنت،پنجاب حکومت کا فری بس،رکشے چلانے کا اعلان

    بسنت،پنجاب حکومت کا فری بس،رکشے چلانے کا اعلان

    لاہور: پنجاب حکومت نے بسنت کے موقع پر امن و امان، شہری سہولت اور ٹریفک کے مسائل کے پیش نظر ایک اہم اجلاس منعقد کیا، جس میں بسنت کے دوران شہریوں کی نقل و حرکت کو محفوظ اور سہل بنانے کیلئے متعدد فیصلے کیے گئے۔

    اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اعلان کیا کہ پنجاب حکومت نے 6، 7 اور 8 فروری کو لاہور میں بسیں اور رکشے فری چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تین روز کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کو مفت کرنے کا مقصد شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا اور سڑکوں پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔عظمیٰ بخاری نے واضح کیا کہ حکومت چاہتی ہے کہ شہری ان دنوں میں موٹر سائیکلوں کا کم سے کم استعمال کریں تاکہ حادثات، ٹریفک جام اور دیگر مسائل سے بچا جا سکے۔ ان کے مطابق بسنت کے دوران شہریوں کی بڑی تعداد گھروں کی چھتوں پر موجود ہوتی ہے، جس کے باعث سڑکوں پر ٹریفک کے غیر ضروری دباؤ سے گریز ناگزیر ہے۔

    وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ حکومت نے بسنت سے قبل 30 دسمبر سے پتنگوں اور ڈوروں کی مینوفیکچرنگ کی اجازت دے دی ہے، تاکہ اس عمل کو منظم، قانونی اور سرکاری نگرانی میں رکھا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی اور خطرناک ڈوروں کے استعمال کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔عظمیٰ بخاری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب حکومت بسنت کو محفوظ، منظم اور خوشگوار انداز میں منانے کیلئے تمام ضروری انتظامات کر رہی ہے، جبکہ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور اپنی اور دوسروں کی جان کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے مکمل طور پر متحرک ہوں گے تاکہ بسنت کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

  • پنجاب، مین ہول کے ڈھکن چوری کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا فیصلہ

    لاہور: پنجاب کے سیکریٹری ہاؤسنگ نور الامین مینگل نے مین ہول کے ڈھکن چوری کرنے کے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس سنگین مسئلے میں ملوث افراد کے خلاف قید اور بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔

    سیکریٹری ہاؤسنگ نے اس حوالے سے تمام اضلاع کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مین ہول کے ڈھکن چوری کرنے والے عناصر کی نشاندہی کے لیے اسپیشل برانچ کی ٹیموں کی مکمل معاونت حاصل کی جائے۔ نور الامین مینگل نے مزید ہدایت کی کہ تمام منیجنگ ڈائریکٹرز واسا (واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسیاں) اپنے اپنے اضلاع میں سرگرم مافیا کا سراغ لگانے اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی میں بھرپور کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ واسا حکام فیلڈ میں نگرانی بڑھائیں، حساس مقامات کی نشاندہی کریں اور پولیس و دیگر اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں۔سیکریٹری ہاؤسنگ نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مین ہول کے ڈھکن چوری کرنے میں نشے کے عادی افراد کی تعداد نسبتاً کم جبکہ منظم اور پیشہ ور مافیا زیادہ ملوث ہے، جو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت یہ ڈھکن چوری کر کے انہیں فروخت کرتے ہیں۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ مین ہول مافیا کو قابو میں لانے کے لیے سخت قوانین متعارف کرائے جائیں گے، جن کے تحت نہ صرف چوری میں ملوث افراد بلکہ خرید و فروخت میں شامل تمام عناصر کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ نور الامین مینگل کا کہنا تھا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔سیکریٹری ہاؤسنگ نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں میں کھلے یا غائب مین ہول ڈھکنوں کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ بروقت اقدامات کیے جا سکیں اور کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔

  • اخباری خبروں کے لیے عدالت میں ڈائیلاگ نہ ماریں، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    اخباری خبروں کے لیے عدالت میں ڈائیلاگ نہ ماریں، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ میں پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت کی گئی کارروائیوں کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے ڈی آر سی کمیٹی کے ذریعے حاصل کیا گیا قبضہ فوری طور پر واپس کرنے کا حکم دے دیا۔

    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے محمد علی کی درخواست پر سماعت کی جس دوران پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت قبضہ حاصل کرنے والا شہری بھی عدالت میں پیش ہوا، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے قبضہ حاصل کرنے والے شہری کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ غلط فیصلے کا دفاع کیسے کر سکتے ہیں ،وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈی سیز کے ماتحت قائم کمیٹیوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پہلے قبضہ واپس کریں، پھر مزید بات ہوگی، کیوں نہ کمیٹی ممبران کے خلاف کارروائی شروع کی جائے، وکیل خود تسلیم کر رہا ہے کہ ڈی سیز نے اختیارات سے تجاوز کیا، اگر پٹواری وقت پر کام کرتا تو یہ معاملہ پیدا ہی نہ ہوتا،سسٹم کو بائی پاس کیا جائے گا تو ایسے مسائل جنم لیں گے۔

    سماعت کے دوران وکیل نے کہا کہ اگر سسٹم سے انصاف نہیں ملے گا تو لوگ کہاں جائیں؟ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اخباری خبروں کے لیے عدالت میں ڈائیلاگ نہ ماریں، وہ جانتی ہیں کہ عدالتوں میں کتنے پرانے کیسز زیر التوا ہیں،وکیل نے بتایا کہ دیپالپور میں 40 ایکڑ پراپرٹی پر مخالفین قابض ہیں جبکہ مخالف فریق کے وکیل نے کہا کہ ڈی آر سی کمیٹیز نے 27 دن میں قبضہ دلایا، اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ قبضے کا آرڈر پاس کس نے کیا؟ کمیٹی کا قبضے کا آرڈر مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے، وکیل نے تسلیم کیا کہ ڈی سیز نے غلط فیصلہ دیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ خود مان رہے ہیں کہ ان کے پاس قانون کے تحت فیصلے کا اختیار ہی نہیں تھا،عدالت نے واضح کیا کہ ڈی سی اس معاملے میں فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں اور اصل سوال یہ نہیں کہ درخواست گزار پراپرٹی کا مالک ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا ڈی سیز کو ایسے فیصلوں کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔

  • لائیو پروگرام کے دوران مداخلت،احسن اقبال کی وضاحت آ گئی

    لائیو پروگرام کے دوران مداخلت،احسن اقبال کی وضاحت آ گئی

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے نجی ٹی وی پر لائیو پروگرام کے دوران ہونے والی مداخلت پر وضاحت پیش کردی۔

    گزشتہ روز وفاقی وزیر احسن اقبال نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں شریک تھے اور گفتگو کر رہے تھے کہ اسی دوران کسی کی مداخلت کی وجہ سے ان کا موبائل بند ہوگیا،یہ ویڈیو جیسے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو صارفین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ آخر کار وفاقی وزیر کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا۔،اس پر صحافی اجمل جامی کے ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے احسن اقبال نے لکھا کہ ایک شخص کی بحث کے باعث اس وقت ایک مختصر سی رکاوٹ آگئی تھی جب میں لائیو شو میں گفتگو کر رہا تھا اور وہ شخص اس سے لاعلم تھا، احسن اقبال نے کہا کہ کچھ ہی دیر بعد میں نے شو کو دوبارہ جوائن کر لیا تھا، مجھے امید ہے کہ اس معاملے پر غیرضروری سیاست نہیں کی جائے گی۔

    دوسری جانب وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا میری بھی بات ہوئی ہے احسن اقبال سے تو انہوں نے کہا کہ کوئی بچہ غیر متوقع طور پر کمرے میں داخل ہوگیا تھا، سب کچھ ٹھیک ہے اور انہوں نے دوبارہ شو بھی جوائن کیا۔

    واضح رہے کہ نجی ٹی وی شو پر وفاقی وزیر احسن اقبال کی ویڈیو کال بند کروا دی گئی تھی، واقعہ اے آر وائی نیوز پر اینکر وسیم بادامی کے شو کی براہ راست نشریات کے دوران پیش آیا،احسن اقبال پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے۔ وہ بذریعہ ویڈیو کال پروگرام میں شریک تھے۔ 11:16 بجے اچانک کوئی نامعلوم شخص آیا۔ احسن اقبال نے گفتگو کرتے ہوئے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔ اگلے ہی لمحے اس شخص کی آواز آئی بند کرو، بند کرو اسے،” اسی کے ساتھ اس نے موبائل پر جھپٹنے کی کوشش کی لیکن احسن اقبال نے اچانک ہڑبڑاہٹ میں موبائل فون اٹھایا اور کال منقطع ہوگئی،اس اچانک واقعے سے وسیم بادامی بھی پریشان ہوگئے اور انہوں نے سوال کیا کہ کیا احسن اقبال اپنے گھر سے پروگرام میں شریک تھے۔ انہوں نے اپنی ٹیم سے کہا کہ معاملے کا پتا کروائیں۔ اس کے بعد وہ وقفے پر چلے گئے۔ تقریباً سات منٹ کے وقفے کے بعد وسیم بادامی دوبارہ لائیو ہوئے لیکن انہوں نے احسن اقبال کے معاملے پر کوئی بات نہیں کی،

  • لاہور رنگ روڈ پر ٹول ٹیکس میں اضافہ

    لاہور رنگ روڈ پر ٹول ٹیکس میں اضافہ

    لاہور رنگ روڈ اتھارٹی نے نادرن اور سدرن لوپس کے ساتھ ساتھ ایسٹرن بائی پاس پر ٹول ٹیکس میں 16.67 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔

    پرو پاکستانی کے مطابق نئی ٹول شرحیں رواں ہفتے کے آغاز سے نافذ العمل ہو چکی ہیں، جن کا اطلاق مختلف اقسام کی گاڑیوں پر کیا گیا ہے،نئی شرحوں کے تحت کاروں اور جیپوں کے لیے ٹول ٹیکس 60 روپے سے بڑھا کر 70 روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ ہائی ایس اور ویگن مالکان کو اب 120 کے بجائے 140 روپے ادا کرنا ہوں گے، اسی طرح منی بسوں اور کوسٹرز کے لیے بھی ٹول 120 سے بڑھا کر 140 روپے مقرر کر دیا گیا ہے۔

    بسوں کے ٹول ٹیکس میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جو اب 300 روپے سے بڑھ کر 350 روپے ہو گیا ہے دو سے تین ایکسل والی لوڈر ٹرک، ڈمپرز اور پک اپس کے لیے ٹول 360 روپے سے بڑھا کر 420 روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ تین سے زائد ایکسل والے ٹرکوں اور ٹریلرز کو اب 600 کے بجائے 700 روپے ٹول ادا کرنا ہوگا۔

    بنگلہ دیشی سابق وزیراعظم کے صاحبزاد ے17 سال بعد بنگلہ دیش پہنچ گئے

    لاہور رنگ روڈ اتھارٹی کے مطابق ٹول ٹیکس میں اضافے کا مقصد سڑکوں کی دیکھ بھال، آپریشنل اخراجات اور سہولیات میں بہتری لانا ہے،بعض گاڑیاں ٹول ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گی ان میں ایمبولینسز، دفاعی گاڑیاں، فائر فائٹنگ وہیکلز، جنازہ گاڑیاں، پولیس گاڑیاں، فلیگ کارز اور ضروری خدمات کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیاں شامل ہیں اس کے علاوہ ایوانِ صدر، وزیراعظم سیکرٹریٹ، گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ اور پاکستان کے سرکاری دورے پر آئے غیر ملکی معززین کی گاڑیاں بھی ٹول سے مستثنیٰ قرار دی گئی ہیں۔

    ریاست کے ساتھ کوئی نہیں لڑ سکتا ، وزیراعلیٰ پنجاب