Baaghi TV

Category: لاہور

  • لائیو پروگرام کے دوران مداخلت،احسن اقبال کی وضاحت آ گئی

    لائیو پروگرام کے دوران مداخلت،احسن اقبال کی وضاحت آ گئی

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے نجی ٹی وی پر لائیو پروگرام کے دوران ہونے والی مداخلت پر وضاحت پیش کردی۔

    گزشتہ روز وفاقی وزیر احسن اقبال نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں شریک تھے اور گفتگو کر رہے تھے کہ اسی دوران کسی کی مداخلت کی وجہ سے ان کا موبائل بند ہوگیا،یہ ویڈیو جیسے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو صارفین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ آخر کار وفاقی وزیر کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا۔،اس پر صحافی اجمل جامی کے ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے احسن اقبال نے لکھا کہ ایک شخص کی بحث کے باعث اس وقت ایک مختصر سی رکاوٹ آگئی تھی جب میں لائیو شو میں گفتگو کر رہا تھا اور وہ شخص اس سے لاعلم تھا، احسن اقبال نے کہا کہ کچھ ہی دیر بعد میں نے شو کو دوبارہ جوائن کر لیا تھا، مجھے امید ہے کہ اس معاملے پر غیرضروری سیاست نہیں کی جائے گی۔

    دوسری جانب وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا میری بھی بات ہوئی ہے احسن اقبال سے تو انہوں نے کہا کہ کوئی بچہ غیر متوقع طور پر کمرے میں داخل ہوگیا تھا، سب کچھ ٹھیک ہے اور انہوں نے دوبارہ شو بھی جوائن کیا۔

    واضح رہے کہ نجی ٹی وی شو پر وفاقی وزیر احسن اقبال کی ویڈیو کال بند کروا دی گئی تھی، واقعہ اے آر وائی نیوز پر اینکر وسیم بادامی کے شو کی براہ راست نشریات کے دوران پیش آیا،احسن اقبال پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے۔ وہ بذریعہ ویڈیو کال پروگرام میں شریک تھے۔ 11:16 بجے اچانک کوئی نامعلوم شخص آیا۔ احسن اقبال نے گفتگو کرتے ہوئے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔ اگلے ہی لمحے اس شخص کی آواز آئی بند کرو، بند کرو اسے،” اسی کے ساتھ اس نے موبائل پر جھپٹنے کی کوشش کی لیکن احسن اقبال نے اچانک ہڑبڑاہٹ میں موبائل فون اٹھایا اور کال منقطع ہوگئی،اس اچانک واقعے سے وسیم بادامی بھی پریشان ہوگئے اور انہوں نے سوال کیا کہ کیا احسن اقبال اپنے گھر سے پروگرام میں شریک تھے۔ انہوں نے اپنی ٹیم سے کہا کہ معاملے کا پتا کروائیں۔ اس کے بعد وہ وقفے پر چلے گئے۔ تقریباً سات منٹ کے وقفے کے بعد وسیم بادامی دوبارہ لائیو ہوئے لیکن انہوں نے احسن اقبال کے معاملے پر کوئی بات نہیں کی،

  • لاہور رنگ روڈ پر ٹول ٹیکس میں اضافہ

    لاہور رنگ روڈ پر ٹول ٹیکس میں اضافہ

    لاہور رنگ روڈ اتھارٹی نے نادرن اور سدرن لوپس کے ساتھ ساتھ ایسٹرن بائی پاس پر ٹول ٹیکس میں 16.67 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔

    پرو پاکستانی کے مطابق نئی ٹول شرحیں رواں ہفتے کے آغاز سے نافذ العمل ہو چکی ہیں، جن کا اطلاق مختلف اقسام کی گاڑیوں پر کیا گیا ہے،نئی شرحوں کے تحت کاروں اور جیپوں کے لیے ٹول ٹیکس 60 روپے سے بڑھا کر 70 روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ ہائی ایس اور ویگن مالکان کو اب 120 کے بجائے 140 روپے ادا کرنا ہوں گے، اسی طرح منی بسوں اور کوسٹرز کے لیے بھی ٹول 120 سے بڑھا کر 140 روپے مقرر کر دیا گیا ہے۔

    بسوں کے ٹول ٹیکس میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جو اب 300 روپے سے بڑھ کر 350 روپے ہو گیا ہے دو سے تین ایکسل والی لوڈر ٹرک، ڈمپرز اور پک اپس کے لیے ٹول 360 روپے سے بڑھا کر 420 روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ تین سے زائد ایکسل والے ٹرکوں اور ٹریلرز کو اب 600 کے بجائے 700 روپے ٹول ادا کرنا ہوگا۔

    بنگلہ دیشی سابق وزیراعظم کے صاحبزاد ے17 سال بعد بنگلہ دیش پہنچ گئے

    لاہور رنگ روڈ اتھارٹی کے مطابق ٹول ٹیکس میں اضافے کا مقصد سڑکوں کی دیکھ بھال، آپریشنل اخراجات اور سہولیات میں بہتری لانا ہے،بعض گاڑیاں ٹول ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گی ان میں ایمبولینسز، دفاعی گاڑیاں، فائر فائٹنگ وہیکلز، جنازہ گاڑیاں، پولیس گاڑیاں، فلیگ کارز اور ضروری خدمات کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیاں شامل ہیں اس کے علاوہ ایوانِ صدر، وزیراعظم سیکرٹریٹ، گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ اور پاکستان کے سرکاری دورے پر آئے غیر ملکی معززین کی گاڑیاں بھی ٹول سے مستثنیٰ قرار دی گئی ہیں۔

    ریاست کے ساتھ کوئی نہیں لڑ سکتا ، وزیراعلیٰ پنجاب

  • ریاست کے ساتھ کوئی نہیں لڑ سکتا ، وزیراعلیٰ پنجاب

    ریاست کے ساتھ کوئی نہیں لڑ سکتا ، وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہےکہ پنجاب میں کسی کو اجازت نہیں دوں گی کہ اقلیتوں سے ٹکر لے کیونکہ آپ کی حفاظت اور آپ کا تحفظ میری ذمہ داری ہے۔

    مریم نواز نے لاہور میں کرسمس کی تقریب میں شرکت کی جہاں انہوں نے مسیحی رہنماؤں کے ہمراہ کرسمس کیک کاٹا اور کرسمس گرانٹ کے چیک تقسیم کیے،اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ جو کسی کا حق مارے گا اس کو معاف نہیں کیاجائے گا، جو کسی کے ساتھ زیادتی کرے گا اس کا مقابلہ ریاست سےہے، ریاست کے ساتھ کوئی نہیں لڑ سکتا ہے، پنجاب میں کسی کو اجازت نہیں دوں گی کہ اقلیتوں سے ٹکر لے، آپ کی حفاظت، آپ کا تحفظ میری ذمہ داری ہے،کسان کارڈ، ہونہار اسکالر شپ دیتے ہوئے کبھی کسی سے مذہب کا نہیں پوچھا، ہاؤسنگ اسکیم میں سوا لاکھ گھر دیے جن میں بڑی تعداد اقلیتوں کی ہے اقلیتوں کا بجٹ 600 فیصد بڑھایا ہے، اقلیت دوست پنجاب خواب ہے، سکھ اپنی پگڑی نہیں اتارتے، انہیں ہیلمٹ پہننے سے استثنیٰ دیا، ہم نے اقلیتوں کو سر کا تاج بنایا ہے، بھارتی وزیراعلیٰ نے مسلم خاتون کا نقاب اتار کر مسلمانوں کی تذلیل کی ہے۔قائد اعظم محمد علی جناح وہ عظیم رہنما ہیں جنہوں نے منتشر قوم کو یکجا کر کے انکی تقدیر بدل دی،ہم ہندو، عیسائی یا سکھ نہیں ہم پاکستانی ہیں، میرے سامنے کیس آتا ہے تو میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ تعلق کس مذہب سے ہے، میں انصاف کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہوں،پنجاب اب اقلیتوں کے لیے محفوظ جگہ ہے۔ میں یقین دلاتی ہوں کہ جب تک میں وزیر اعلیٰ ہوں کسی اقلیتی شہری کے ساتھ زیادتی پر میں مضبوط دیوار بن کر کھڑی ہوں گی قبرستان سمیت ہر ضرورت پر فوری اقدام ہوگا آپ کے پاس مکمل اختیار ہے

  • ایف بی آر کی بڑی کارروائی، دو ارب 64 کروڑ سے زائد رقم وصول

    ایف بی آر کی بڑی کارروائی، دو ارب 64 کروڑ سے زائد رقم وصول

    لاہور: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کے ذیلی ادارے کارپوریٹ ٹیکس آفس (سی ٹی او) لاہورنے ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کے لیے بڑی کارروائی کرتے ہوئے دو ارب 64 کروڑ 60 لاکھ روپے وصول کرلیے ہیں۔

    ایف بی آر کے مطابق کارپوریٹ ٹیکس آفس لاہور نے ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کو مؤثر بنانے کے لیے ایک اہم انفورسمنٹ پیش رفت کرتے ہوئے دو ارب 64 کروڑ 60 لاکھ روپے وصول کرلیے ہیں، تشخیصی کارروائی کی کامیاب تکمیل کے بعد یہ ٹیکس وصولی ایک ایسے ٹیکس دہندہ کے خلاف کی گئی جس نے انکم ٹیکس کےبقایا جات کی مد میں اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری نہیں کی تھیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ سی ٹی او لاہور نے نہ صرف ایک ہی کیس میں واجب الادا خطیر رقم کا ٹیکس عائد کیا بلکہ ٹیکس قوانین کی متعلقہ دفعات کے مطابق تمام قانونی تقاضے پیشہ ورانہ انداز میں پورے کرتے ہوئے اس کی وصولی بھی یقینی بنائی،یہ وصولی ایف بی آر اور اس کی فیلڈ فارمیشنز کی بڑے مقدمات سے نمٹنے، سرکاری محصولات کا تحفظ یقینی بنانےکی پیشہ ورانہ صلاحیت کی عکاس ہے یہ اقدام ٹیکس میں سنگین نادہندگی کے معاملات سے نمٹنے کے لیے ایف بی آر کے ٹھوس مؤقف کا عکاس ہے اور متعلقہ قانونی عمل پورا کرکے انصاف کو بھی یقینی بنایا گیا۔

    حکمران زنا کیلیے آسانی اور حق نکاح کیلیے مشکلات پیدا کررہے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    ایف بی آر کے ممبر آئی آر آپریشنز نے ٹیکس قوانین کے نفاذ اور سرکاری محصولات کے تحفظ کے لیےسی ٹی او لاہور کے افسران کی انتھک کاوشوں کو سراہا اور ایف بی آر نے رضاکارانہ کمپلائنس کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہےکہ نان کمپلائنس کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

    ٹیکس دہندگان کی سہولت کیلئے ہفتے کی چھٹی ختم،دفتر ی اوقات کار میں بھی توسیع

  • پی ایس ایل: 2 نئی ٹیموں کیلئے دنیا بھر سے  12 پارٹیوں کی بڈنگ

    پی ایس ایل: 2 نئی ٹیموں کیلئے دنیا بھر سے 12 پارٹیوں کی بڈنگ

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی دو نئی ٹیموں کی فروخت کے لیے جاری کیے گئے ٹینڈر کے غیر معمولی اور حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں،پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے مطابق پی ایس ایل کے لیے 12 پارٹیوں نے باضابطہ طور پر بڈز جمع کرا دی ہیں۔

    پی سی بی کے مطابق مقررہ تاریخ کے اندر 12 پارٹیوں نے باضابطہ طور پر بڈز جمع کروائیں۔ یہ بڈرز دنیا کے پانچ براعظموں سے تعلق رکھتے ہیں جن میں امریکا، آسٹریلیا، کینیڈا، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور پاکستان شامل ہیں، جو پی ایس ایل کی عالمی مقبولیت اور کشش کا واضح ثبوت ہے۔

    اسلام آباد کی فضائی حدود عارضی طور پربند،نوٹم جاری

    پریس ریلیز کے مطابق بڈنگ کے اس مرحلے کے نتائج کا اعلان 27 دسمبر کو کیا جائے گا اگلے مرحلے میں ٹیکنیکلی کوالیفائیڈ بڈرز کو اوپن کمپیٹیشن بڈنگ کے ذریعے دو نئی ٹیمیں خریدنے کا موقع دیا جائے گا یہ مرحلہ 8 جنوری کو اسلام آباد کنونشن سینٹر میں منعقد ہوگا۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ اس عمل کو شفاف، مسابقتی اور عالمی معیار کے مطابق مکمل کرنے کے لیے پُرعزم ہے، تاکہ پاکستان سپر لیگ کی مزید توسیع اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    روس: ایک اور دھماکے میں دو پولیس افسران سمیت 3 افراد ہلاک

  • پنجاب میں4 سال بعد آٹھویں کے بورڈ امتحانات کا اعلان

    پنجاب میں4 سال بعد آٹھویں کے بورڈ امتحانات کا اعلان

    لاہور: پنجاب میں 4 سال بعد آٹھویں جماعت کے سالانہ بورڈ امتحانات مارچ 2026 میں ہوں گے۔

    پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پیکٹا کی جانب سے سالانہ بورڈ امتحانات کا شیڈول تیار کر لیا گیا اور پیکٹا کے زیر اہتمام بورڈ امتحانات 5 مارچ سے شروع ہوں گے پیکٹا کی جانب سے امتحانات کی تیاری کے لیے کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اور پنجاب بھر میں ایک پیٹرن پر امتحان منعقد کیا جائے گا،پیکٹا حکام کے مطابق تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی سے فوکل پرسنز کی نامزدگیاں منگوا لی گئی ہیں۔

    دوسری جانب پنجاب حکومت نے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں امتحانی نظام کو جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کا اعلان کر دیا۔

    اوکاڑہ: کمشنر ساہیوال کا کرسمس انتظامات کا جائزہ، سہولیات پر اطمینان

    چیئرمین ٹاسک فورس برائے امتحانات پنجاب مزمل محمود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام تعلیمی بورڈز میں ای مارکنگ کا عمل متعارف کرایا جا رہا ہے، تاکہ امتحانی نظام میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے اس منصوبے کا پائلٹ مرحلہ 2026 میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے کمپیوٹر امتحانات سے شروع کیا جائے گا۔

    مزمل محمود نے کہا کہ صوبے بھر کے تمام امتحانی مراکز میں ڈیجیٹل حاضری کا نظام نصب کیا جائے گا اور تمام طلبا کی حاضری بائیو میٹرک کے ذریعے لی جائے گی ڈیجیٹل اصلاحات کا یہ منصوبہ آئندہ 3 برس میں مرحلہ وار مکمل طور پر نافذ کر دیا جائے گاامتحانی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تمام تعلیمی بورڈز کے لیے یکساں سوالات پر مشتمل مرکزی سوالیہ بینک بھی قائم کیا جائے گا جس سے امتحانی معیار میں بہتری اور یکسانیت پیدا ہو گی،ان اصلاحات کا مقصد نقل اور بے ضابطگیوں کا خاتمہ، امتحانی عمل میں شفافیت اور طلبا کو ایک منصفانہ نظام فراہم کرنا ہے۔

    90 سالہ شخص کی 25 سالہ لڑکی سے شادی، ویڈیو

  • وقت آ گیا ہے کہ تمام ادارے ایک دوسرے کا احترام کریں، لاہور ہائیکورٹ

    وقت آ گیا ہے کہ تمام ادارے ایک دوسرے کا احترام کریں، لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ نے بلدیاتی ایکٹ 2025 کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران فریقین سے مزید دلائل طلب کرتے ہوئے کارروائی ملتوی کر دی ہے

    بلدیاتی ایکٹ 2025 کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس سلطان تنویر نے کی، عدالت میں پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل آفس نے خصوصی نوٹس کا جواب جمع کرایا،اس موقع پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل بیرسٹر سعد غازی نے مؤقف اختیار کیا کہ بلدیاتی ایکٹ 2025 میں ایسی کوئی پابندی موجود نہیں جس کے تحت امیدوار پارٹی ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ نہ لے سکیں، سماعت کے دوران جسٹس سلطان تنویر نے ریمارکس دیئے کہ اسمبلی فلور کی بہت اہمیت ہوتی ہے اور وہاں سے کسی ادارے کو ٹارگٹ نہیں کیا جانا چاہیے، اب وقت آ گیا ہے کہ تمام ادارے ایک دوسرے کا احترام کریں، ہم آپ کا احترام کریں گے، آپ ہمارا احترام کریں، پاکستان کو آگے بڑھنا ہے اور اداروں کو سیکھنا چاہیے کہ باہمی احترام لازم ہے۔

    عدالت نے واضح کیا کہ قانون سازی پارلیمنٹ کا اختیار ہے اور عدالت آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی فیصلہ کرے گی، عدالت چاہتی ہے کہ اس کیس کا فیصلہ بلدیاتی انتخابات سے قبل ہو جائے۔

    اس سے قبل درخواست گزاروں کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ بلدیاتی ایکٹ 2025 کی متعدد شقیں آئین سے متصادم ہیں اس لیے عدالت اس قانون کو کالعدم قرار دے،بعدازاں لاہور ہائی کورٹ نے درخواست گزاروں کے وکلا کو مزید دلائل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

  • امریکن سکھ وزیر اعلیٰ مریم نواز  کے مداح نکلے

    امریکن سکھ وزیر اعلیٰ مریم نواز کے مداح نکلے

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف سے "سکھ آف امریکہ” کے 7رکنی وفد کی ملاقات، وفد کی سربراہی بانی چیئرمین چند ہوک نے کی

    وزیراعلی مریم نواز شریف نےسکھ وفد سے ملاقات میں پنجابی میں گفتگو کی،امریکن سکھ نے وزیر اعلی مریم نواز شریف کے عوامی فلاحی پراجیکٹس کو سراہا ،سکھ وفد نے اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ کے وزیراعلی مریم نواز شریف کے اقدامات کی تعریف و توصیف کی،امریکن سکھ وفد نے پنجاب میں سکھ میرج ایکٹ کے نفاذ کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ،امریکن سکھ وفد نے پنجاب میں کرسمس کی تقریبات کے پرامن انعقاد کو بھی سراہا ،امریکن سکھ وفد نے پنجابی زبان کے احیا اور پنجابی سائن بورڈ لگانے پر اظہار مسرت کیا،

    اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ امریکہ سے آنے والے سکھ بھائیوں سے ملاقات خوشی کا باعث ہے۔ خیرمقدم کو اعزاز سمجھتی ہوں،پنجاب اور پاکستان کے لئےہمیشہ پیار اور احترام کا مظاہرہ کرنے پر پوری دنیا کی سکھ برادری کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔سکھ برادری کاپنجاب میں موجود مقدس مقامات سےجذباتی تعلق اور پاکستان سےاٹوٹ رشتہ ہے۔ بقائے باہمی اور ہم آہنگی کے فروغ کے لئے سکھ بھائیوں نے ہمیشہ خیرسگالی کا مظاہرہ کیا۔سکھ برادری سے شکر گزاری کے اظہار کے لئے بیساکھی کے موقع پر گوردوارہ کرتار پور کا دورہ کیا۔گوردوارہ کرتار پور دنیا کے لئے پاکستان کاامن کا ناقابل تردید پیغام ہے۔پنجاب میں سکھ ورثے کے تحفظ کو فرض سمجھ کر ادا کررہے ہیں۔56تاریخی گوردواروں کی تعمیر ومرمت وبحالی جلد مکمل کر لی جائے گی۔پنجاب بھر میں گوردواروں کی مرمت اور دیکھ بھال کا کام تیزی سے جاری ہے تاکہ زائرین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہوں۔ اقلیتوں کی فلاح اور معاشی بحالی کے لئے 75ہزار اقلیتی کارڈ کا پروگرام شروع کیا،تعداد مزید بڑھائیں گے۔میں سمجھتی ہوں کہ ہر کمیونٹی میں تحفظ کے احساس کے بغیر پنجاب کی ترقی کا سفر نامکمل رہے گا۔ سکھ یاتریوں کے لئے سکیورٹی،نقل وحرکت اور دیگر سہولیات کو مثالی بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔باباگورونانک دیو جی کے 556 ویں یوم پیدائش کی تقریبات کے لئے دنیا بھر سے ہزاروں یاتریوں کی آمد اپنا اعزاز سمجھتے ہیں۔ہزاروں سکھ یاتریوں کی پنجاب میں آمد مذہبی ہم آہنگی اور باہمی احترام مشترکہ ورثے کی عکاس ہے،پنجاب میں آنے والے ہر سکھ کی حفاظت،سہولت اور آسانی ہماری ذمہ داری اور خدمت ہمارا اعزاز ہے۔چاہتے ہیں کہ پاکستان آنے والا ہر سکھ یاتری پنجاب سے خوشگوار یادیں لے کر جائے۔پاکستان دنیا بھر میں سکھ میرج ایکٹ نافذ کرنے والا دنیا کا واحد ملک ہے۔ سکھ میرج ایکٹ کے نفاذ کا مقصد سکھ بھائیوں کی مذہبی شناخت اور عقیدے کی روایات کااحترام ہے۔پنجاب میں مذہبی سیاحت کے فروغ کے لئے تاریخی اور قابل قدر اقدامات کئے جارہے ہیں۔سکھ بھائیوں کی مذہبی سیاحت اور ہوٹلنگ کے شعبہ میں سرمایہ کاری کا خیرمقدم کریں گے۔پاکستان کو امن وآشتی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے مرکز کے طور پر متعارف کرانا چاہتے ہیں۔قائد محمد نواز شریف کی طرح سکھ برادری کا احترام اور معاونت ترجیحات میں شامل ہے۔پنجاب کا ہر فرد دنیا بھر کی سکھ برادری کو اپنے دل کے قریب رکھتا ہے۔پنجاب کی سرزمین سے احترام اور پیار کے چشمے پھوٹتے ہیں۔

  • عدالتیں لگانا حکومت کا کام نہیں، مریم نواز عدالتیں لگانا بند کریں،احسن بھون

    عدالتیں لگانا حکومت کا کام نہیں، مریم نواز عدالتیں لگانا بند کریں،احسن بھون

    پاکستان بار کونسل کے ممبر احسن بھون نے کہا ہے کہ معزز چیف جسٹس سے متعلق وزیراعلیٰ پنجاب کا بیان افسوسناک ہے، وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز اپنا بیان واپس لیں۔

    میڈیا سے گفتگو کے دوران احسن بھون نے کہا کہ پراپرٹی اونر شپ ایکٹ پر پنجاب حکومت کا رویہ غیر مناسب اور غیر سنجیدہ ہے، جن لوگوں نے یہ قانون ڈرافٹ کیا، اُنہوں نے غلط مشورہ دیا، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے خلاف کبھی کوئی شکایت نہیں آئی، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ہمیشہ آئین اور قانون کے تحت کام کیا ہے،عدالتیں لگانا حکومت کا کام نہیں، آپ عدالتیں لگانا بند کریں، حکومت نے یہ کام بند نہ کیا تو وکلاء سٹرکوں پر ہوں گے، حکومت تعلیم اور صحت میں اچھا کام کر رہی ہے اس کو ہم سراہتے ہیں، ہم نے ہمیشہ پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات ہے،قانون بنانا پارلیمنٹ کا کام ہے اس کی تشریح عدالتوں نے کرنی ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز کو اس معاملے پر کسی نے غلط گائیڈ کیا ہے۔

  • بغیر کسی آرڈر کے زبانی طور پر قبضے کیسے دلوائے جا رہےہیں؟ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ برہم

    بغیر کسی آرڈر کے زبانی طور پر قبضے کیسے دلوائے جا رہےہیں؟ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ برہم

    لاہور ہائیکورٹ نے پراپرٹی اونرشپ ایکٹ کے تحت کارروائیوں کے خلاف درخواستیں فل بینچ کے سامنے لگانے کی ہدایت کردی۔

    چیف جسٹس عالیہ نیلم نے شہری مشتاق احمد سمیت دیگر درخواستوں پر سماعت کے دوران کہا کہ معاملہ سول کورٹ میں زیر التوا ہوگا تو ڈی سیز متعلقہ کورٹ میں درخواست دے گا، سول کورٹ پابند ہوگی کہ کیس ٹریبونل کو بھجوائے، تقریباً ڈھائی ماہ بعد آپ نے ٹریبونلز کا نوٹیفکیشن کیا، ابھی تک آپ کے ٹریبونلز نے کام ہی شروع نہیں کیا،چیف جسٹس نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ بغیر کسی آرڈر کے زبانی طور پر قبضے کیسے دلوائے جارہے ہیں؟ عدالت بغیر آرڈر کے آپ کو کچھ کہے تو کیا آپ مان لیں گے؟

    دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈی سی شیخوپورہ نے زبانی قبضے کا آرڈر دیا ہے، کیس ہائیکورٹ میں زیر سماعت تھا اس کے باوجود ڈپٹی کمشنر نے قبضہ کروایا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے مزید 10درخواستوں پر ڈی سیز کی کاروائی کو روک دیا،چیف جسٹس نے کہا کہ سرکاری وکیل صاحب بار بار پوچھ رہی ہوں بتائیں کہ ہائیکورٹ کے حکم امتناعی کے باوجود کمیٹیاں کیسے کاروائی کررہی ہیں ؟اب آپ کو نتائج کے لیے تیار رہنا چاہیں آپ انارکی پھیلا رہے ہیں ،آرڈنینس میں کہاں لکھا ہے کہ ڈی سی ٹربیونل کے اختیار استعمال کرے گا ؟ پنجاب حکومت کا وکیل عدالت میں کوئی جواب نہ دے سکا ،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے پاس میرے کسی سوال کا جواب نہیں ،آپکا قانون تھا کہ سول کورٹ میں کیس ہو گا تو ڈی سیز عدالت میں درخواست دے گا ،سول کورٹ میں درخواست دینا تو دور ہائیکورٹ کے احکامات کو بھی اڑا دیا گیا،یہ لیگل ایشوز ہیں ایسے آپ کام کرینگے تو سوسائٹی میںں انارکی پھیلے گی،قانون شہادت کو آپ نے ختم کردیا ہے جس کو آئین پاکستان تحفظ دیتا ہے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پراپرٹی پر قبضہ لیا گیا مگر ڈپٹی کمشنر تحریری احکامات نہیں دے رہا،سرکاری وکیل نے کہا کہ رولز ابھی آنے ہیں ،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ رولز کب آنے ہیں؟ کاروائیاں کی جارہی ہیں،بغیر رولز بنے کیسے کارروائیاں ہوسکتی ہیں؟آپ یہ بتائیے کہ جب ڈی سیز آرڈر نہیں دے گا تو متاثرہ فریق آرڈر چیلنج کیسے کرے گا،متاثرہ فریق نے بغیر آرڈر کے درخواستیں دی تو آفس نے اعتراض لگا دیا،اب آپ یہ بتائیں کہ متاثرہ فریق کہاں جائیں،یہ آپکے سامنے متاثرہ شخص کھڑا ہے آپ بتائیں ان کے پاس کیا آپشن ہے ،قانون مکمل ہوتا ہے نا مکمل کچھ نہیں ہوتا ،عدالت میں کیس آنے کے بعد آپ نے ٹریبونلز کا نوٹیفکیشن کیا ہے ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ڈی سی شیخوپورہ نے زبانی طور پر قبضے کا آرڈر دیا ،چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ تمام درخواستوں میں سنگین نوعیت کے الزامات ہیں ،ہم اس لیے ہر کیس دیکھ رہے ہیں کہ آپکو پتہ چلے کہ ہو کیا رہا ہے ،آپکو پتہ چلے کہ قانون کیا تھا اور کام کیا ہو رہا تھا،آپ کے علم میں آئے کیسے اختیار سے تجاوز کیا جا رہا ہے ،وکیل درخؤاست گزار نے کہا کہ ہائیکورٹ میں کیس زیر سماعت تھا اس کے باوجود ڈپٹی کمشنر نے قبضہ کروایا ،چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ ایکٹ میں ہے کہ اگر معاملہ سول کورٹ میں زیر التوا ہوگا تو ڈی سی متعلقہ کورٹ میں درخواست دے گا ،سول کورٹ پابند ہوگی کہ کیس کو ٹریبونل کو بھجوایاجائے ،سرکاری وکیل صاحب بتائیے کیا اس نقطے پر عمل ہورہا ہے؟یہ جو شور مچایا ہے سارے جہاں میں ٫٫ کام تو پھر کام ہوتا ہے ،آپ کے قانون میں تو کچھ بھی نہیں لکھا ،یہ بتائیے کہ کہاں لکھا ہے کمیٹیاں قبضہ دلوائیں گی؟قانون میں ہے کہ ٹریبونل کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد قبضہ ہوگا ،پیرا کیسے قبضے دلوا رہا ہے؟
    کمیٹی پیرا کو کہتی ہے ، پیرا قبضہ دلوا دیتی ہے ،بغیر کسی آرڈر کے زبانی طور پر قبضے کیسے دلوائے جا رہےہیں؟
    کیا اگر یہ عدالت بغیر آرڈر کے آپکو کچھ کہے تو کیا آپ مان لیں گے؟آپ تو کہیں گے کہ پہلے آرڈر دکھائیں پھر آگے بات کریں ،سرکاری وکیل صاحب بتائیے کہ کیا زبانی احکامات ٹریبونل نے جاری کیے؟ کیا ٹریبونلز نے کام شروع کردیا ہے؟ ابھی تک اپکے ٹریبونلز نے کام نہیں شروع کیا ،نہ عملہ ہے نا یہ پتہ ہے کہ ٹربیونل کہاں بیٹھیں گے ،کیا یہ اختیارات سے تجاوز نہیں؟کیا قانون کا غلط استعمال نہیں ہو رہا ہے،تمام چیزیں بتانا پڑتی ہیں کہ کوئی درخواست آئے تو کس طرح کارروائی ہوگی