Baaghi TV

Category: لاہور

  • پاکستان بار کونسل کا  پراپرٹی آرڈیننس  معطل کرنے کے عبوری حکم کا خیرمقدم

    پاکستان بار کونسل کا پراپرٹی آرڈیننس معطل کرنے کے عبوری حکم کا خیرمقدم

    وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل چوہدری طاہر نصراللہ وڑائچ، نے لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس کی جانب سے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی آرڈیننس 2025ء کے نفاذ کو معطل کرنے کے عبوری حکم کا خیرمقدم کیا ہے۔ مذکورہ آرڈیننس کے تحت ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹیوں کو جائیداد کے تنازعات کا فیصلہ کرنے کے اختیارات دیے گئے تھے، جسے عدالتی دائرہ اختیار میں مداخلت قرار دیا جا رہا ہے۔

    وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے اس بیان کی سخت الفاظ میں مذمت اور تنقید کی ہے جس میں انہوں نے مذکورہ آرڈیننس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد طویل عرصے سے زمین اور جائیداد کے تنازعات میں مبتلا لاکھوں شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ چوہدری طاہر نصراللہ وڑائچ نے کہا کہ یہ قانون درحقیقت سول نظام، شہری حقوق اور عدالتی بالادستی کو کمزور کرتا ہے، کیونکہ اس کے تحت ایک ریونیو افسر ایسے مقدمے میں جائیداد کا قبضہ دے سکتا ہے جو پہلے ہی سول کورٹ میں زیر سماعت ہو۔انہوں نے کہا کہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کچھ عناصر عدالتی اختیارات سمیت تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔ مزید برآں انہوں نے نشاندہی کی کہ اس نئے قانون کے ذریعے پٹواریوں اور اسسٹنٹ کمشنرز کے دائرہ اختیار پر بھی سوال اٹھتا ہے اور انہیں ان کے قانونی اختیارات سے کہیں بڑھ کر طاقت دی گئی ہے۔

    چوہدری طاہر نصراللہ وڑائچ نے واضح کیا کہ کسی بھی قانون کی تشریح کا اختیار آئین کے مطابق عدلیہ کو حاصل ہے، لہٰذا لاہور ہائی کورٹ کے معزز چیف جسٹس مکمل طور پر بااختیار ہیں کہ وہ ایسا عبوری حکم جاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ معزز چیف جسٹس کا یہ اقدام درست اور بروقت ہے کیونکہ مذکورہ آرڈیننس عدلیہ کے اختیارات کو مجروح کرتا ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کی قانونی برادری لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور عدلیہ کے ادارے کے ساتھ کھڑی ہے اور عدالتی آزادی و بالادستی کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

  • پاکستان کی ویمن کرکٹر سدرا نواز شادی کے بندھن میں بندھ گئیں

    پاکستان کی ویمن کرکٹر سدرا نواز شادی کے بندھن میں بندھ گئیں

    پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی بیٹر سدرا نواز رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں۔

    سدرا نواز کی شادی کی تقریب لاہور میں ہوئی جس میں دولہا اور دولہن کے، جس میں اہلِ خانہ، قریبی عزیز و اقارب اور دوست احباب نے شرکت کی مہندی اور مایوں کی دلکش تقریبات میں پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کھلاڑیوں نے بھی رنگ جمایاسدرا نواز کی لاہورکے ایک فارم ہاؤس میں شادی کی تقریب سجائی گئی۔

    ذرائع کے مطابق سدرہ نواز کا نکاح غیاث خان سے ہوا، نکاح کی تقریب نہایت سادگی اور خوشگوار ماحول میں منعقد کی گئی اس موقع پر خاندان کے افراد اور قریبی رشتہ داروں نے جوڑے کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

    روزانہ 2 لاکھ لیٹر جعلی دودھ فروخت کرنے والا گروہ گرفتار

    سدرا نواز کا کہنا ہےکہ زندگی کے نئے سفر کا آغاز ہو رہا ہے، اچھا لگ رہا ہے، سب کی دعاؤں کی ضرورت ہے ولیمے کی تقریب کراچی میں ہوگی، ساتھی کھلاڑی تقریب میں شریک ہوں گی۔

    سوشل میڈیا پر شائقینِ کرکٹ، ساتھی کھلاڑیوں اور کھیل سے وابستہ شخصیات کی جانب سے سدرہ نواز کو شادی کی مبارکبادیں دی جا رہی ہیں اور ان کے لیے نئی زندگی میں خوشیوں، کامیابیوں اور خوشحال مستقبل کی دعائیں کی جا رہی ہیں-

    بلوچستان:سیکیورٹی بہتر بنانے کیلئے پہلا آرٹیفیشل انٹیلیجنس سیل قائم کرنے کا اعلان

  • روزانہ 2 لاکھ لیٹر جعلی دودھ فروخت کرنے والا گروہ  گرفتار

    روزانہ 2 لاکھ لیٹر جعلی دودھ فروخت کرنے والا گروہ گرفتار

    لاہور: پنجاب فوڈ اتھارٹی نے صوبے میں میں جعلی دودھ کا سب سے بڑا نیٹ ورک چلانے والے گروہ کو پکڑ لیا۔

    پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ایک کارروائی کرتے ہوئے جعلی دودھ بنانے والے ملزم مقصود بھٹی، روف بھٹی اور ڈاکٹر خالد کو گرفتار کر کے نیٹ ورک توڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔مقصود بھٹی 6 اور رؤوف بھٹی 8 مقدمات میں طویل عرصہ سے پولیس کو انتہائی مطلوب تھا۔

    وزیر اعلٰی پنجاب، مریم نواز شریف نے چیف سیکرٹری پنجاب سیکرٹری ہوم اور آئی جی پنجاب کا کامیابی پر شکریہ ادا کیاڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید نے بتایا کہ ملزمان روزانہ 2 لاکھ لیٹر جعلی دودھ تیار کر کے پنجاب کے مختلف اضلاع میں سپلائی کرتے تھے۔

    تمام ریاستی اداروں کے تعاون سے ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے, وزیراعظم

    قبل ازیں پنجاب فوڈ اتھارٹی نے جعلی اور ملاوٹی دودھ کے خلاف کارروائی میں 27 ہزار لیٹر جعلی دودھ برآمد کرکے تلف کر دیا تھا جوخشک پاوڈر اور ویجیٹیبل آئل سے تیار کیا جا رہا تھا اورانسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ثابت ہو سکتا تھا۔ترجمان پنجاب فوڈ اتھارٹی نے بتایا تھا کہ کارروائی فیض آباد کے قریب محمدی کالونی میں قائم ایک غیر قانونی ملک پروڈکشن یونٹ کے خلاف کی گئی،کارروائی کے دوران موقع سے 4 مکسنگ مشینیں بھی تحویل میں لے لی گئیں جو جعلی دودھ تیار کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں اس کے علاوہ 3200 کلو گھی اور 2500 کلو خشک پاوڈر بھی برآمد کیا گیا۔

    سعودی عرب میں منشیات وصول کرتے ہوئے 6 پاکستانی گرفتار

  • پنجاب اسمبلی میں نواز شریف،شہباز شریف اور فیلڈ مارشل  کو خراج تحسین

    پنجاب اسمبلی میں نواز شریف،شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کو خراج تحسین

    پنجاب اسمبلی نے آج متعدد اہم قراردادیں کثرت رائے سے منظور کیں،اور نواز شریف،شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کو خراج تحسین پیش کیا گیا-

    قرارداد میں سانحہ آرمی پبلک سکول اور سقوط ڈھاکہ کو یاد کرتے ہوئے قومی یکجہتی، اتحاد اور دہشت گردی کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا گیا، قرارداد حکومتی رکن رانا محمد ارشد نے پیش کی۔

    ایوان نے شہدا کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے افواج پاکستان کی خدمات کو سراہا اور نوجوانوں سے توقع ظاہر کی کہ وہ وطن کے لیے یکجہتی اور حوصلے کے ساتھ کام کریں۔ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور موجودہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے جرات مندانہ فیصلوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا،ایوان نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل حافظ عاصم منیر کو قومی اداروں میں خود احتسابی اور شفافیت کے فروغ پر خراج تحسین پیش کیا۔

    ایف آئی اےنے ائیرپورٹس کو آئی سی 4نظام سےمنسلک کردیا

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے اداروں کی ساکھ، آئین کی بالادستی اور قومی مفاد کو یقینی بنایا اور فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے کو انصاف اور ادارہ جاتی سالمیت کے لیے قابل ستائش قرار دیا گیا۔

    اسی اجلاس میں بھارت کے صوبہ بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے خلاف مذمتی قرارداد بھی منظور کی گئی اپوزیشن اور حکومتی اراکین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں مسلم خاتون کا نقاب کھینچنے کے واقعے کو بے شرمانہ، گھٹیا اور نسل پرستانہ عمل قرار دیا گیا اور بھار ت میں اقلیتوں کی غیر محفوظ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا عالمی اداروں سے بھارت سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

    شادی کا جھانسہ دے کر خاتون سے 3 سال تک جنسی زیادتی

    پنجاب اسمبلی نے قرآن پاک کے مقدس اوراق کے تحفظ سے متعلق قرارداد بھی منظور کی، حکومتی رکن پیر اشر رسول کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں مساجد اور مدارس میں ضعیف شدہ اور بے ادبی سے تلف ہونے والے قرآنی اوراق پر تشویش ظاہر کی گئی اور تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو تحفظ کے اقدامات کی سفارش کی گئی۔

  • پاکستان ریلویز نے سال 2025 میں حاصل آمدن کی تفصیلات جاری کر دیں

    پاکستان ریلویز نے سال 2025 میں حاصل آمدن کی تفصیلات جاری کر دیں

    لاہور: پاکستان ریلویز نے سال 2025 میں حاصل ہونے والی آمدن سے متعلق تفصیلات جاری کر دی ہیں۔

    وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی کے مطابق 2025 میں پاکستان ریلویز نے 93 ارب روپے سے زائد ریونیو حاصل کیا جب کہ مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی میں 50 ارب روپے کی آمدن متوقع ہےریلوے مالی سال کے اختتام پر ریلوے تاریخ میں پہلی بار ایک کھرب آمدن کا سنگِ میل عبور کر لے گا۔

    وزیر ریلوے نے بتایا کہ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کو ڈائریکٹوریٹ میں تبدیل کیا گیا جس سے حادثات میں خاطر خواہ کمی آئی،سیفٹی ڈائریکٹوریٹ بننے کے بعد حادثات کی شرح 0.09 سے 0.04 فیصد پر آ گئی، ڈائریکٹوریٹ بننے کے بعد ریلوے کو سیریس نوعیت کا کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔

    جہیز پر پابندی کا بل مسترد کر دیا گیا

    سال 2025 میں راولپنڈی کو ملک کا پہلا اسمارٹ اسٹیشن بنا دیا گیا جہاں کیمرے اور جدید سیکیورٹی سسٹم نصب ہے۔ 2026 میں دیگر بڑے اسٹیشن بھی اسمارٹ بننے جا رہے ہیں اور ٹرینوں میں بھی کیمرے لگانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔

    ریلوے نے صرف 8 ماہ میں ٹرینوں کے 8 ریکس کو اَپ گریڈ کیا۔ شالیمار، پاک بزنس، لاثانی، فیض احمد فیض ٹرینوں کو اَپ گریڈ کیا گیا،وزیر ریلوے نے دعویٰ کیا کہ دسمبر 2026 تک پاکستان ریلویز کی تمام ٹرینیں اَپ گریڈ کر دیں گے،اسی طرح، لاہور، کراچی، راولپنڈی، فیصل آباد اسٹیشن اَپ گریڈ کیے گئے۔

    13 برس تک بوئنگ 737 طیارہ ریکارڈ سے غائب رہا،ایئر انڈیا کا انکشاف

    ریلوے کو ڈیجیٹائز کر دیا ہے، وزارت کا تمام کام ای فائلنگ پر منتقل کر دیا ہے اب تمام بڑے اسٹیشنوں پر اے ٹی ایم، ڈی وی ایم اور پی او ایس مشینیں موجود ہیں،حاضری بھی کمپیوٹرائزڈ کر دی گئی ہے، بغیر دفتر آئے کوئی تنخواہ نہیں لے سکتا۔

    سال 2025 میں قابضین سے 394 ایکڑ اراضی واگزار کروائی گئی وزیرِ ریلوے کے مطابق دسمبر 2026 تک قابضین سے ریلوے کی تمام اراضی واگزار کروا لیں گے تین ریلوے اسکول آؤٹ سورس کر دیے گئے ہیں، دیگر اگلے چھ ماہ میں کر دیں گے اس کے علاوہ، 11 مزید ٹرینیں آؤٹ سورس ہونے جا رہی ہیں۔

    13 برس تک بوئنگ 737 طیارہ ریکارڈ سے غائب رہا،ایئر انڈیا کا انکشاف

    لاہور، خانیوال، ملتان، کراچی اور راولپنڈی اسٹیشنوں کی صفائی کا انتظام آؤٹ سورس کیا گیا اب ان تمام اسٹیشنوں پر رات کے 12 بجے بھی صفائی ملتی ہےاسٹیشنوں پر کھانے کا معیار بہتر کیا گیا جسے صوبائی فوڈ اتھارٹیز کسی بھی وقت چیک کر سکتی ہیں، کراچی تا روہڑی ٹریک بنانے کے منصوبہ پر پیش رفت، جولائی میں گراؤنڈ بریکنگ کر دی جائے گی۔

  • عثمان ڈار کااپنا نام ای سی ایل سے نکلوانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع

    عثمان ڈار کااپنا نام ای سی ایل سے نکلوانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع

    لاہور ہائیکورٹ، عثمان ڈار نے اپنا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکلوانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

    جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے درخواست پر سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی کو نوٹس جاری کر کے کل جواب طلب کرلیا ،عثمان ڈار کی جانب سے ابوزر سیلمان نیازی ایڈووکیٹ پیش ہوئے ،عثمان ڈار کی جانب سےدائر درخواست میں کہا گیا کہ 2024 میں عثمان ڈار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالا گیا تھا ،وفاقی حکومت نے بغیر مؤقف سنے دوبارہ نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا ہے،عدالت عثمان ڈار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے

  • لاہور، گھر سے دو کم عمر بہنوں کی لاشیں برآمد

    لاہور، گھر سے دو کم عمر بہنوں کی لاشیں برآمد

    لاہور کے علاقے الفیصل ٹاؤن میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک رہائشی گھر سے دو کم عمر بہنوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

    پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والی بہنوں کی عمریں بالترتیب 17 اور 19 سال تھیں، جن کی شناخت کرن اور مریم کے نام سے ہوئی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی اور لاشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، تاہم ابتدائی تحقیقات کے دوران اہلخانہ لاشوں کے حوالے سے کوئی واضح یا تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔

    پولیس کے مطابق واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اہلخانہ سے تفصیلی پوچھ گچھ جاری ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ شواہد کی روشنی میں واقعے کے تمام ممکنہ پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

  • لاہور میں  پاک تاجک فیسٹیول کا انعقاد ، تاجک فنکاروں کا روایتی ثقافتی رقص

    لاہور میں پاک تاجک فیسٹیول کا انعقاد ، تاجک فنکاروں کا روایتی ثقافتی رقص

    محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب کے زیر اہتمام پاک تاجک فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا، جس میں وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

    فیسٹیول میں تاجکستان سے آئے فنکاروں نے روایتی ثقافتی رقص اور پرفارمنس پیش کیں جبکہ معروف گلوکار راحت فتح علی خان نے اپنی شاندار پرفارمنس سے حاضرین کے دل موہ لیے،72 رکنی تاجک ثقافتی وفد کی قیادت تاجکستان کے سفیر شریف زادہ یوسف نے کی۔ تقریب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات پنجاب شازیہ رضوان، سیکرٹری اطلاعات سید طاہر رضا ہمدانی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرا آرٹس کونسل محمد نواز گوندل اور ڈی جی پی آر شیخ فرید احمد بھی موجود تھے،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے تاجک وفد کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ پاکستان اور تاجکستان مشترکہ ثقافتی اقدار، روایات اور تہذیبی رشتوں میں گہری مماثلت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تاجکستان ثقافتی فیسٹیول نے دونوں ممالک کے باہمی روابط کو مزید مضبوط کیا ہے اور پنجاب حکومت تاجکستان کے ساتھ ثقافت کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی،عظمیٰ بخاری نے تاجک ثقافت کے منفرد رنگ، تشخص، لباس اور روایات کو سراہتے ہوئے کہا کہ تاجک خواتین کا وقار، حسن اور لباس قابلِ تحسین ہے۔تاجک فنکاروں کی موسیقی اور رقص نے دل موہ لیے ہیں، علامہ محمد اقبال کا کلام پاکستان اور تاجکستان کو ایک فکری رشتے میں جوڑتا ہے ۔

    تاجکستان کے سفیر شریف زادہ یوسف نے کہا کہ علامہ اقبال کی شاعری و فکر پاکستان اور تاجکستان کے عوام کو یک جان کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے لاہور کو جنت سے تشبیہ دیتے ہوئے خوبصورت فیسٹیول اور یادگار میزبانی پر وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر اطلاعات کا شکریہ ادا کیا۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب نے پیرا اسپیشل الاؤنس کی منظوری دے دی

    وزیراعلیٰ پنجاب نے پیرا اسپیشل الاؤنس کی منظوری دے دی

    لاہور: پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی فورس(پیرا) کے ملازمین کے لیے خصوصی الاؤنس کی منظوری دے دی گئی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے PERA اسپیشل الاؤنس کی سمری منظور کر لی جس کے تحت گریڈ 20 افسران کو ماہانہ 1 لاکھ 50 ہزار، گریڈ 19 کو 1 لاکھ 25 ہزار روپے الاؤنس ملے گا ،گریڈ 18 کے افسران کو 1 لاکھ، گریڈ 17 کو 75 ہزار روپے ماہانہ خصوصی الاؤنس ملے گا جبکہ گریڈ 16 سے گریڈ 7 تک ملازمین کے لیے 20 سے 50 ہزار روپے ماہانہ الاؤنس منظور کیا گیا ہے۔

    الاؤنس کا اطلاق پاکستان ایڈمنسٹریٹو ، پی ایس پی اور پی ایم ایس کے افسران پر نہیں ہوگا ،اتھارٹی الاؤنس کے لیے پہلے سے مختص بجٹ استعمال کرے گی، خصوصی الاؤنس کا مقصد پیرا کی کارکردگی اور نفاذی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے ۔

  • بویا سیکورٹی فورسز ہیڈ کوارٹر پر حملہ،ایک حملہ آور کی افغان شہری ہونے کی تصدیق

    بویا سیکورٹی فورسز ہیڈ کوارٹر پر حملہ،ایک حملہ آور کی افغان شہری ہونے کی تصدیق

    پاکستانی سرزمین پر افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر کی مداخلت کا ایک اور واضح ثبوت سامنے آ گیا ہے۔ 19 دسمبر کو شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں سیکیورٹی فورسز کے ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث دہشت گردوں میں سے ایک کے افغان شہری ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔

    سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق اس حملے میں شامل چار دہشت گردوں میں سے ایک کی شناخت ذکی اللہ عرف احمد وزیرستانی ولد مولوی فیض محمد کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق افغانستان کے صوبہ کابل کے ضلع موسہی سے بتایا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد اور انٹیلی جنس معلومات کی روشنی میں اس دہشت گرد کا افغان شہری ہونا ثابت ہو چکا ہے۔مزید تصدیق اس وقت ہوئی جب معتبر ذرائع نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے خودکش حملہ آور کے لیے فاتحہ (تعزیتی) تقریب کابل میں اس کی رہائش گاہ پر منعقد کی گئی۔ یہ تقریب آج صبح 8 بجے سے دوپہر 12 بجے تک جاری رہی، جس میں مقامی افراد کی شرکت بھی سامنے آئی۔ اس تعزیتی اجتماع نے حملہ آور کی شناخت اور افغان پس منظر کی مزید تصدیق کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ خودکش حملہ گل بہادر گروپ سے وابستہ افغان دہشت گردوں کی جانب سے کیا گیا، جو ماضی میں بھی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔ سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے تانے بانے سرحد پار افغانستان سے جا ملتے ہیں۔دفاعی ماہرین کے مطابق اس طرح کے شواہد اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے متعدد بار افغان حکام کو اس حوالے سے شواہد فراہم کیے ہیں، تاہم مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث ایسے واقعات کا تسلسل برقرار ہے