Baaghi TV

Category: لاہور

  • لاہور: فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی طالبہ نے چھت سے کود کر خودکشی کرلی

    لاہور: فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی طالبہ نے چھت سے کود کر خودکشی کرلی

    لاہور: فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی ایک طالبہ نے کالج کی تیسری منزل کی چھت سے چھلانگ لگا دی-

    تفصیلات کے مطابق لاہور میں ایک طالبہ نےفاطمہ جناح میڈیکل کالج یونیورسٹی کے ہاسٹل کی چھت سے چھلانگ لگا کر مبینہ طور پر خودکشی کرلی، طالبہ کو سر میں شدید چوٹیں آئیں اور وہ اسپتال منتقل کیے جانے کے باوجود جانبر نہ ہو سکی، ڈاکٹر کے مطابق متاثرہ لڑکی کی شناخت 22 سالہ فریحہ کے نام سے ہوئی ہے جس کے فائنل ایئر کے پیپر ہو رہے تھے، طالبہ دماغ میں چوٹ لگنے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔

    پولیس کی جانب سے ابتدائی طور پر بتایا گیا کہ طالبہ چھ ماہ سے کافی زیادہ ڈپریشن کا شکار رہتی تھی، اُس کا فائنل ایئر کا دوسرا پیپر 19 فروری کو ہونا ہے، ایک پیپر ہو چکا ہے اور دوسرے پیپر کی تیاری کر رہی تھی فریحہ کا تعلق کشمیر سے تھا اور وہ اس وقت اپنے والد کے ساتھ لاہور میں رہائش پذیر تھی صبح 7 بج کر 55 منٹ پر ون فائیو پر کال موصول ہوئی کہ ایک لڑکی نے ہاسٹل کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا دی ہے واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے جبکہ میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دے دیا گیا ہے۔

    وفاقی و صوبائی حکومتیں عوام کو کا رمضان میں کیا ریلیف پیکج دے رہی ہیں؟

    دوسری جانب واقعے کی تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جسے جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہےحکومت پنجاب کو بھی واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور ذمہ داران کے تعین کے لیے باقاعدہ انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی نے طالبہ کی موت کے بعد تمام امتحانات ملتوی کر دیے ہیں اور 18 سے 24 فروری تک چھٹی کا اعلان کیا ہے۔

    پاکستان آج نمیبیا کے خلاف اہم میچ کھیلے گا

    واضح رہے کہ رواں سال کے پہلے دو ماہ میں لاہور میں اس طرح کا یہ تیسرا واقعہ رپورٹ ہوا ہے اس سے قبل ایک 22 سالہ طالب علم نے یونیورسٹی آف لاہور میں اپنی جان لے لی تھی جبکہ ایک اور 21 سالہ طالبہ اسی یونیورسٹی میں شدید زخمی ہو گئی تھیں، جنہیں بروقت طبی امداد دے کر ان کی جان بچا لی گئی۔

    ڈی آئی خان:دہشتگردوں کا کسٹمز آفس پر حملہ، 2 اہلکار شہید 2 زخمی

  • 
رمضان المبارک: پنجاب میں اسکولوں کے نئے اوقات کار جاری

    
رمضان المبارک: پنجاب میں اسکولوں کے نئے اوقات کار جاری

    ‎رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے اسکولوں کے اوقات کار میں تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے تاکہ روزہ رکھنے والے طلبہ اور اساتذہ کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
    ‎اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 16 فروری کو جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے رمضان کے دوران نئے شیڈول کے تحت کام کریں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اوقات کار میں ردوبدل کا مقصد تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہوئے عبادات کے لیے مناسب وقت فراہم کرنا ہے۔
    ‎سنگل شفٹ اسکولوں کے اوقات
    ‎پیر سے جمعرات تک اسکول صبح 8:30 بجے کھلیں گے اور دوپہر 1:00 بجے بند ہوں گے، جبکہ جمعہ کے روز تعلیمی سرگرمیاں صبح 8:30 بجے سے دوپہر 12:30 بجے تک جاری رہیں گی۔
    ‎ڈبل شفٹ اسکولوں کا شیڈول
    ‎ڈبل شفٹ اسکولوں میں مارننگ شفٹ پیر تا جمعرات صبح 8:30 بجے سے دوپہر 12:30 بجے تک ہوگی۔ ایوننگ شفٹ دوپہر 1:00 بجے شروع ہو کر شام 4:00 بجے تک جاری رہے گی۔
    ‎جمعہ کے روز ڈبل شفٹ اسکولوں کی کلاسز دوپہر 2:30 بجے سے شام 5:00 بجے تک منعقد ہوں گی۔
    ‎نوٹیفیکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ لڑکیوں کے اسکول مقررہ اوقات سے 15 منٹ پہلے کھلیں گے اور 15 منٹ پہلے ہی بند کیے جائیں گے۔
    ‎حکومت کے مطابق یہ شیڈول پورے رمضان المبارک کے دوران نافذ رہے گا۔ پاکستان میں رمضان 2026 کا آغاز 19 فروری کو متوقع ہے، تاہم حتمی اعلان چاند نظر آنے کے بعد کیا جائے گا۔ رمضان کے دوران مسلمان سحر سے افطار تک روزہ رکھتے ہیں اور عبادات، تلاوتِ قرآن اور خیرات میں اضافہ کرتے ہیں۔

  • بانی پی ٹی آئی کی بینائی سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا،محسن نقوی

    بانی پی ٹی آئی کی بینائی سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا،محسن نقوی

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بینائی سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت شفافیت پر یقین رکھتی ہے اور اسی لیے کہا گیا کہ اگر ضرورت ہو تو وہ اپنے کسی ذاتی ڈاکٹر کا نام بھی دے دیں تاکہ طبی معائنے کے عمل کو مزید واضح بنایا جا سکے،اپوزیشن سے رابطوں کا عمل کسی خط کے بعد شروع نہیں ہوا بلکہ محمود خان اچکزئی کے خط لکھنے سے پہلے ہی حکومت اپوزیشن سے رابطے میں تھی، حکومت سنجیدہ مذاکرات اور معاملات کے حل پر یقین رکھتی ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے ابتدا ہی میں واضح کر دیا تھا کہ کوئی بھی قیدی ہو، اسے آئین و قانون کے مطابق علاج کی مکمل سہولت فراہم کی جائے گی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے معاملے پر بھی یہی اصول اپنایا گیا، حکومت کی جانب سے ایک غیر سیاسی ڈاکٹر کا نام مانگا گیا، جس کے بعد کہا گیا کہ فیملی کا نما ئندہ بھی ساتھ لے جایا جائے حکومت نے ڈاکٹر قاسم زمان کا نام تجویز کیا،بعد ازاں مطالبہ سامنے آیا کہ عمران خان کو ایک ہفتے کے لیے اسپتا ل منتقل کیا جائے، جس پر حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ فیصلہ ڈاکٹروں کی سفارش پر ہوگا، چاہے وہ ایک ہفتہ ہو یا 2 ہفتے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ آنکھوں کے معاملے پر بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا ان کے بقول عمران خان کے معالجین نے خود کہا کہ انہیں بہترین طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض معاملات میں سب فریقین متفق ہو جاتے ہیں مگر علیمہ خان ویٹو کر دیتی ہیں، کچھ اینکرز کی جانب سے یہ تک کہا گیا کہ عمران خان کی پوری آنکھ ضائع ہو چکی ہے، جو حقائق کے منافی ہے انہوں نے زور دیا کہ بینائی سے متعلق منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو صحافیوں کو جیل لے جا کر سہولتیں دکھائی جا سکتی ہیں تاکہ تمام شکوک و شبہات دور ہو جائیں ان کے بقول وہ چاہیں تو میڈیا نمائندوں کو خود وہاں لے جا سکتے ہیں تاکہ معاملہ ہمیشہ کے لیے واضح ہو جائےحکومت پہلے ہی اپوزیشن سے رابطے میں تھی اور محمود خان اچکزئی کے خط سے قبل ہی معاملات پر بات چیت جاری تھی،حکومت نے واضح یقین دہانی کرائی کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو علاج کی ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔

    وزیر داخلہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے میڈیکل چیک اپ کے لیے ایک نان پولیٹیکل آئی اسپیشلسٹ تجویز کیا گیا اور پی ٹی آئی رہنماؤں سے بھی کہا گیا کہ وہ اپنے اعتماد کے کسی ماہر چشم کا نام دے دیں چیک اپ کے دوران فیملی ممبر کو بھی شامل ہونے کی اجازت دی گئی معائنے کے بعد بانی پی ٹی آئی قریباً ڈیڑھ گھنٹہ اسپتال میں موجود رہے بعد ازاں ایک ہفتے کے لیے اسپتال میں داخلے کا مطالبہ سامنے آیا، تاہم حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ داخلے کا فیصلہ ڈاکٹروں کی سفارش پر ہوگا مزید ٹیسٹ کرانے کی پیشکش بھی کی گئی تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔

    انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی، اپوزیشن لیڈر سینیٹ اور بیرسٹر گوہر علی خان کو ملاقات کی دعوت دی گئی، جس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے پمز اسپتال میں ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات کی اس دوران قریباً 45 منٹ تک ڈاکٹروں نے فون پر تفصیلی بریفنگ دی اور میڈیکل رپورٹ بھی شیئر کی گئی، جس پر ڈاکٹرز نے اطمینان کا اظہار کیا بانی پی ٹی آئی کو اسپتال لانے کا مقصد صرف آنکھ کا علاج تھا اور حکومت یا ادارے اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہتےغیر مصدقہ معلومات پھیلانا اور عوام کو گمراہ کرنا زیادتی ہے اگر سیاسی انتقام مقصود ہوتا تو جیل میں سختی کی جاتی، مگر حکومت نے ہمیشہ قانون اور انسانی تقاضوں کے مطابق اقدامات کیے ہیں۔

    محسن نقوی نے کہا کہ بعض رہنما بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے زیادہ اپنی سیاست کے بارے میں فکر مند دکھائی دیتے ہیں اگر سنجیدہ قیادت کی بات سنی جاتی تو آج کی صورتحال پیدا نہ ہوتی اور 9 مئی جیسے واقعات سے بھی بچا جا سکتا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ ذمہ داروں کو خود احتسابی کرنا ہوگی اسلام آباد کے ریڈ زون میں خرابی پیدا کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے اور عدالت کے فیصلوں پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گافیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ وہ سنجیدہ قیادت کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

    محسن نقوی نے کہا کہ وہ کسی بھی بحران یا مسئلے پر بات چیت کے لیے حاضر ہیں کیونکہ یہ ان کا فرض ہے، تاہم این آر او سے متعلق کسی قسم کی بات چیت ان کا موضوع نہیں، قومی مفاد کے معاملات پر گفتگو ہو سکتی ہے لیکن ذاتی رعایتوں پر نہیں، حکومت نے دہشتگردی کے معاملے پر عالمی سطح پر اپنا مؤقف پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ دہشتگردی کو مظلومیت کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ حقائق دنیا کے سامنے لائے جائیں گے بلوچستان میں دہشتگردی کے لیے فنڈنگ میں 3 گنا اضافہ ہوا ہے اور اس کے شواہد موجود ہیں جب تک عالمی برادری حقیقت کو تسلیم نہیں کرے گی، دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔

  • علامہ محمد اقبال اسکالرشپس کے تحت بنگلہ دیشی طلبہ کا پہلا گروپ پاکستان پہنچ گیا

    علامہ محمد اقبال اسکالرشپس کے تحت بنگلہ دیشی طلبہ کا پہلا گروپ پاکستان پہنچ گیا

    پاکستان بنگلہ دیش نالج کوریڈور کے تحت علامہ محمد اقبال اسکالرشپس پر منتخب بنگلہ دیشی طلبہ کا پہلا گروپ اعلیٰ تعلیم کے لیے پاکستان پہنچ گیا اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

    پاکستان بنگلہ دیش نالج کوریڈور کے تحت علامہ محمد اقبال اسکالرشپس پر منتخب ہونے والے بنگلہ دیشی طلبہ پاکستان پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ ملک کی معروف جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گے ہوائی اڈے پر ہائر ایجوکیشن کمیشن اور متعلقہ جامعات کے نمائندگان نے طلبہ کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں تعلیمی و رہائشی امور سے متعلق بریفنگ دی۔

    حکام کے مطابق اس اسکالرشپ پروگرام کا مقصد پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان علمی روابط کو فروغ دینا، نوجوانوں کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنا اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان باہمی اعتماد کو مضبوط بنانا ہے۔

    ذرائع کے مطابق اگلے بیچ کے لیے انتخابی عمل جلد شروع کیا جائے گا تاکہ مزید طلبہ اس تعلیمی پروگرام سے مستفید ہو سکیں،وزارتِ خارجہ پاکستان اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے پاکستان آنے والے طلبہ کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا ہے۔

  • لاہور جمخانہ کلب انتخابات: ڈاکٹر علی رزاق نے مسلسل چوتھی بار سب سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے ریکارڈ قائم کر دیا

    لاہور جمخانہ کلب انتخابات: ڈاکٹر علی رزاق نے مسلسل چوتھی بار سب سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے ریکارڈ قائم کر دیا

    لاہور جمخانہ کلب کے سالانہ انتخابات میں ڈاکٹر علی رزاق نے تاریخی کامیابی حاصل کی اور مسلسل چوتھی بار سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار بن گئے، جو کلب کی انتخابی تاریخ میں ایک قابل ذکر سنگ میل ہے۔ اگرچہ 2026 کے حتمی نتائج ابھی سرکاری طور پر جاری نہیں کیے گئے، پچھلے انتخابات کے ریکارڈ سے علی رزاق کی کلب ممبران میں مضبوط مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
    گزشتہ سال 2025 کے انتخابات میں علی رزاق نے 1,923 ووٹ حاصل کیے تھے، جس میں انہوں نے سلمان صدیق اور واجد عزیز خان جیسے دیگر معروف امیدواروں کو پیچھے چھوڑا۔ اس مقابلے میں کل 3,015 بیلٹ ڈالے گئے اور 41 ووٹ ناقابل قبول قرار پائے۔
    ‎اگرچہ علی رزاق نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے، ان کے آزاد گروپ نے 12 رکن پر مشتمل ایگزیکٹو بورڈ میں سے صرف دو نشستیں حاصل کیں، جبکہ سلمان-مصباح پینل نے اکثریت حاصل کی۔
    ‎کلب کے اندرونی ذرائع کے مطابق، علی رزاق کی مسلسل کامیابی ممبران کے اعتماد اور ذاتی مقبولیت کی عکاسی کرتی ہے۔ گزشتہ انتخابات میں ان کے مضبوط ووٹ ٹالیز نے ان کی کلب کمیونٹی میں اثر و رسوخ اور پہچان کو واضح طور پر ظاہر کیا۔
    ‎14 فروری 2026 کو منعقد ہونے والے انتخابات میں متعدد پینلز حصہ لے رہے تھے، جن میں ریفارمرز گروپ، روایتی سلمان-مصباح پینل اور علی رزاق کا گروپ شامل تھے۔ امیدواروں نے شفافیت، گورننس اصلاحات، تفریحی سہولیات اور خاندانوں کے لیے بہتر انتظامات کے وعدوں پر مبنی مہم چلائی۔
    ‎جمخانہ کی روایت کے مطابق، علی رزاق کی مسلسل سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کی کارکردگی ممبران کی شمولیت اور کلب میں مقابلہ جاتی سیاست کو اجاگر کرتی ہے۔ کلب انتخابی کمیشن کی جانب سے 2026 کے حتمی نتائج آنے والے دنوں میں جاری کیے جائیں گے، جو اگلے مدت کے لیے نشستوں کی تقسیم اور قیادت کی تفصیلات واضح کریں گے۔

  • عمران خان کے جیل میں علاج کی تفصیلی رپورٹ ہوم ڈپارٹمنٹ پنجاب کو ارسال

    عمران خان کے جیل میں علاج کی تفصیلی رپورٹ ہوم ڈپارٹمنٹ پنجاب کو ارسال

    بانی و چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے جیل میں علاج اور صحت سے متعلق ابتدائی رپورٹ ہوم ڈپارٹمنٹ پنجاب کو بھیج دی گئی ہے۔
    جیل ذرائع کے مطابق بھیجی گئی رپورٹ میں عمران خان کے بلڈ پریشر، شوگر لیول اور کولیسٹرول کا مکمل چارٹ شامل ہے جبکہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں سے متعلق رپورٹ بھی وزارت داخلہ پنجاب کو بھجوائی گئی ہے۔
    ‎ذرائع نے بتایا کہ عمران خان کی کنسلٹنسی رپورٹس اور میڈیکل اسٹاف کی تفصیلات بھی ہوم ڈپارٹمنٹ کو فراہم کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ بانی پی ٹی آئی کو کس ڈاکٹر نے چیک کیا، اس سے متعلق تمام تفصیلات پورٹ میں درج ہیں۔
    ‎جیل ذرائع کے مطابق آن ڈیوٹی ڈاکٹرز روزانہ تین مرتبہ عمران خان کا طبی معائنہ کرتے ہیں اور اس کا ریکارڈ باقاعدگی سے مرتب کیا جاتا ہے۔
    ‎واضح رہے کہ ہوم ڈپارٹمنٹ پنجاب نے اڈیالہ جیل حکام سے عمران خان کے میڈیکل چیک اپ سے متعلق مفصل رپورٹ طلب کی تھی۔

  • 
ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں بانی پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ شروع

    
ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں بانی پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ شروع

    اڈیالہ جیل میں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کی نگرانی میں بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ شروع کر دیا گیا ہے، جس کی تصدیق جیل انتظامیہ نے کر دی ہے۔
    ذرائع کے مطابق مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں کے ماہر ڈاکٹرز پر مشتمل ٹیم معائنے میں شریک ہے، جبکہ اسلام آباد کے معروف اسپتالوں کے ڈاکٹرز بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ آنکھوں کے تفصیلی معائنے کے لیے ہولی فیملی اسپتال سے خصوصی طبی آلات بھی جیل منتقل کیے گئے ہیں تاکہ مکمل طبی جانچ ممکن بنائی جا سکے۔
    ‎جیل حکام کے مطابق طبی معائنے کی رپورٹ مرتب کیے جانے کے بعد متعلقہ اداروں کو آگاہ کیا جائے گا۔

  • لاہور جمخانہ انتخابات : دو پینلز کی 6،6 نشستیں

    لاہور جمخانہ انتخابات : دو پینلز کی 6،6 نشستیں

    لاہور جم خانہ کی مینیجمنٹ کمیٹی کے انتخابات میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد سلمان صدیق، میاں مصباح الرحمن گروپ اور مناپلی بریکر پینل نے 12 میں سے 6،6 نشستیں حاصل کر کے برابری قائم کر دی۔

    جمخانہ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ دو مختلف پینلز برابر نشستیں لے کر سامنے آئے ہیں،گزشتہ روز ہونے والے انتخاب میں تین مختلف پینلز کے مجموعی طور پر 39 امیدوار مدِ مقابل تھے کلب کے تقریباً 55 سو ممبران میں سے 3158 ووٹرز نے حقِ رائے دہی استعمال کیا، جس سے انتخابی عمل میں غیر معمولی دلچسپی ظاہر ہوئی۔

    مناپلی بریکر پینل کے ڈاکٹر علی رزاق 1772 ووٹ لے کر سرفہرست رہے سلمان صدیق 1733 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر کامیاب قرار پائے جبکہ میاں مصباح الرحمن نے 1700 ووٹ حاصل کیے واجد عزیز خان 1693، کامران لاشاری 1637، سردار احمد نواز سکھیرا 1549 اور سرمد ندیم 1536 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ دیگر کامیاب امیدواروں میں ڈاکٹر جواد ساجد (1328)، تسنیم نورانی (1297)، میاں پرویز بھنڈارا (1268)، ضیاء الرحمن خان (1220) اور مسز سمیرا نذیر (1201) شامل ہیں۔

    نتائج کے بعد دونوں گروپس کے درمیان چیئرمین کے عہدے کے لیے جوڑ توڑ اور مشاورت کا سلسلہ تیز ہونے کا امکان ہے۔

  • نجی کمپنی کے مالک کی ساتھی کیساتھ مل کر ملازم حاملہ خاتون  سے اجتماعی زیادتی

    نجی کمپنی کے مالک کی ساتھی کیساتھ مل کر ملازم حاملہ خاتون سے اجتماعی زیادتی

    لاہور: کاہنہ میں حاملہ خاتون سے اجتماعی زیادتی پر کاہنہ پولیس نے 15 کال پر فوری کارروائی کرتے ہوئے زیادتی میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کو جوہر ٹاؤن سے ٹریس کیا گیا مقدمے کی کارروائی کی نگرانی ایس پی ماڈل ٹاؤن شہربانو نقوی خود کر رہی تھیں، متاثرہ خاتون سات ماہ کی حاملہ تھی اور نجی کٹرنگ کمپنی کے ساتھ بطور ویٹر منسلک تھی، کٹرنگ کمپنی کے مالک نے بہانے سے خاتون کو ڈیفنس روڈ پر واقع نجی سوسائٹی کے ایک گھر بلایا، جہاں اس نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    ایس پی ماڈل ٹاؤن کے مطابق ایک ملزم نے خاتون کو زیادتی سے منع کرنے پر تھپڑ بھی مارا واقعے پر تھانہ کاہنہ میں دفعہ 375A کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے گرفتار ملزمان عباس اور اعظم کو مزید تفتیش کے لیے جینڈر سیل کے حوالے کر دیا گیا ہے، ایس پی شہربانو نقوی نے کہا کہ خواتین کا استحصال کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب  کی پولیس اصلاحات کے لیے تین ماہ کی ٹائم لائن مقرر

    وزیراعلیٰ پنجاب کی پولیس اصلاحات کے لیے تین ماہ کی ٹائم لائن مقرر

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پولیس اصلاحات کے لیے تین ماہ کی ٹائم لائن مقرر کرتے ہوئے متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دے دی۔

    مریم نوازکی زیر صدارت اجلاس میں پولیس نظام میں بہتری، شفافیت اور عوام دوست رویے کو یقینی بنانے کے لیے شارٹ، مڈ اور لانگ ٹرم پلان تیار کرنے کی ہدایت کی گئی،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب بھر میں 14 ہزار باڈی کیمز اور 700 پینک بٹن نصب کیے جائیں گے جبکہ ہر پولیس اسٹیشن کے کم از کم 10 اہلکاروں کو باڈی کیم فراہم کئے جائیں گے۔

    وزیراعلیٰ نے باڈی کیمز کے لیے فنڈز کی منظوری بھی دے دی، تھانوں کے باہر پولیس سے متعلق شکایات کے فوری ازالے کے لیے پینک بٹن نصب کیے جائیں گے۔

    حکومت نے انوسٹی گیشن کے عمل کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ، ایف آئی آر کی آن لائن ٹریکنگ سسٹم اور کاغذات و شناختی کارڈ کی گمشدگی کی ایف آئی آر آن لائن درج کرانے کا نظام متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے، بریفنگ میں کہا گیا کہ ایف آئی آر کے اندراج کے لیے پولیس صرف پانچ سوالات کر سکے گی تاکہ تاخیر ختم ہو اور مجرم فائدہ نہ اٹھا سکیں۔

    وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ہر شہری کو ”سر“ کہہ کر مخاطب کیا جائے اور کسی پولیس اہلکار کو سر یا جناب کے بغیر بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے چھوٹی شکایات 2 سے 3 گھنٹوں میں حل کرنے، 80 منٹ کے رسپانس ٹائم کو یقینی بنانے اور سائلین کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنے کی تاکید کی۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں مجموعی جرائم میں 48 فیصد جبکہ بڑے جرائم میں 80 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، ساہیوال اور گجرات جیسے شہروں میں بڑے جرائم کی کالز نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ پراپرٹی تنازعات میں کمی سے بھی جرائم میں کمی آئی ہے، ہر سال ایک کروڑ 68 لاکھ افراد تھانوں کا رخ کرتے ہیں جن میں سے 68 فیصد پولیس خدمت مراکز کی سروسز کے لیے آتے ہیں۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ بچوں کے ساتھ درندگی کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، پولیس سے صرف مجرموں کو ڈرنا چاہیے عوام کو نہیں انہوں نے ہراسمنٹ کی شکایات پر توہین آمیز رویے کے خاتمے، خواتین کی حوصلہ افزائی اور غریب افراد کے اعتماد کی بحالی پر زور دیا۔

    مزید برآں، ٹریفک کو لین میں چلانے کی پابندی، ٹریفک پولیس ون ایپ اور سیف سٹی مانیٹرنگ ایپ کے آغاز، سٹیزن مینجمنٹ سسٹم اور ای ٹیگ انفارمیشن سسٹم کے نفاذ کا بھی اعلان کیا گیا، وزیراعلیٰ نے آئی جی اور سینئر افسران کو خود عوامی فیڈ بیک لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر اوپر کی سطح پر کرپشن ہوگی تو اس کے اثرات تھانے تک جائیں گے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ عوام سے بڑا کوئی وی آئی پی نہیں، وی آئی پی موومنٹ کے نام پر شہریوں کی تذلیل برداشت نہیں کی جائے گی اگر ابھی اصلاحات نہ کیں تو پھر کبھی نہیں کر سکیں گے، قانون کو بلا امتیاز نافذ کرنے کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، اب پولیس میں رویوں کی تبدیلی ناگزیر ہے