Baaghi TV

Category: لاہور

  • یوای ٹی لاہور،چیف میڈیکل آفیسر کیخلاف تین سال سے کاروائی نہ ہو سکی

    یوای ٹی لاہور،چیف میڈیکل آفیسر کیخلاف تین سال سے کاروائی نہ ہو سکی

    یو ای ٹی کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر شہزاد کے خلاف تین سال سے کاروائی نہ ہو سکی

    2020 میں ڈاکٹر شہزاد کے خلاف بننے والی انکوائری کمیٹی نے کہا تھا کہ ڈاکٹر شہزاد ایک وقت میں دو نوکریاں کر رہے ہیں اور لاکھوں روپے تنخواہ بھی وصول کر رہے ہیں ، انکوائری کمیٹی کی ہدایت پر وائس چانسلر کو کاروائی کے لئے کہا گیا تھا لیکن ابھی تک تین سال گزر گئے کوئی کاروائی نہیں کی گئی، ڈاکٹر شہزاد کے خلاف کاروائی کے لئے دوبارہ درخواست دے دی گئی ہے،

    دوسری جانب محمد آصف یوای ٹی میں بطور رجسٹرار اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔مبینہ طور پر وہ کئی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، اینٹی کرپشن، آڈٹ اور ایچ ای سی نے محمد آصف کے خلاف کاروائی کرنے کا کہا تا ہم یو ای ٹی کے وی سی نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے اخبار میں ٹینڈر شائع کیے بغیر دکانیں الاٹ کی ہیں جو کہ پیپرا رولز کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    دوسری جانب یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے وی سی منصور سرور کے دور میں یونیورسٹی میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور جعلسازیوں کے بارے بڑے بڑے الزامات سامنے آئےہیں اور ڈینز اور چیئرمینز کی تقرریوں پر مبینہ انکشافات کا سلسلہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر جاری ہے. ڈاکٹر منصور سرور نے اپنے پورے دور میں سنیارٹی لسٹ و سنیارٹی رولز کی عدم موجودگی میں تقرریاں کی۔ڈاکٹر منصور سرور نے نہ صرف خود یو ای ٹی ایکٹ کی خلاف ورزی کی بلکہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور چانسلر آفس کو بھی گمراہ کیا۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین کی تقرری تین سینئر پروفیسرز میں سے وائس چانسلر کرتا ہے جبکہ ڈین کا تقرر تین سینئر پروفیسرز میں سے چانسلر یعنی گورنر کرتا ہے۔ یو ای ٹی نے کبھی سنیارٹی لسٹ یا سنیارٹی رولز ہی نہیں بنائے۔ یعنی سنیارٹی لسٹ کی عدم موجودگی میں سنیارٹی کا تعین کر لیا گیا۔

    یو ای ٹی لاہور کے ایک طالب علم عبدالولی خان نے گورنر پنجاب کو خط لکھا ہے جس میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر منصور سرور بارے انکشافات کئے ہیں، خط کی کاپی وائس چانسلر یو ای ٹی، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کمیشن، پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن اور صدر لاہور پریس کلب کو بھی ارسال کی گئی ہے۔ خط میں یو ای ٹی لاہور کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر منصور سرور کیخلاف غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ خط میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر منصور سرور چار سال تک یونیورسٹی میں غیر اخلاقی سرگرمیوں ملوث، خواتین کو ہراساں کرتے رہے اور دفتر کو منفی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے رہے

    سیشن 2019/2023 کے شکایت کنندہ طالب علم عبد الولی خان داوڑ نے وائس چانسلر دفتر کے باہر لگے کیمروں کی چھ مہینوں کی ریکارڈنگ قبضے میں لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص خواتین کے وائس چانسلر دفتر میں داخل ہونے کے اوقات، وائس چانسلر کی قربت پانے کے بعد عہدے پر تیزی سے ترقی ملنے کو بھی دائرہ تفتیش میں شامل کیا جائے اور وی سی ہاؤس کے سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ بھی قبضہ میں لیا جائے کیونکہ منصور سرور چار سال تک وی سی ہاؤس میں اپنی فیملی کے ساتھ شفٹ ہونے کے بجائے اسے غیر اخلاقی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے رہے۔درخواست گزار نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ کیمروں کی ریکارڈنگ غائب کر دی جائے گی لہٰذا مکمل ریکارڈ فوری طور پر قبضے میں لینے کے لیے ایف آئی اے کی معاونت حاصل کی جائے۔ خط میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ پروفیسر منصور سرور نے ان خواتین کے رشتے داروں کو نوازنے کے لیے اپنی مدت ملازمت کے آخری مہینوں میں 3 سنڈیکیٹ اور تین سلیکشن بورڈز کرائے جس میں 50 سے زائد افراد کو بھرتی کیا گیا۔ اس پر الگ سے انکوائری کرانا بے حد ضروری ہے تاکہ میرٹ کی خلاف ورزیاں سامنے لائی جا سکیں۔

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    زیادتی کے بعد خاتون کو جلانے والے ملزم گرفتار

    خواتین کی حفاظت کے لئے لگائے جائیں گے بسوں میں کیمرے

  • ڈی آئی خان کی 21 سالہ جویریہ شادی کیلئے بھارت پہنچ گئی

    ڈی آئی خان کی 21 سالہ جویریہ شادی کیلئے بھارت پہنچ گئی

    اکیس سالہ پاکستانی خاتون جویریہ خانم بھارتی شہری سمیر خان سے شادی کے لیے بھارت پہنچ گئی

    جویریہ اور سمیر کی منگنی ہوچکی تھی، جویریہ پانچ سال سے بھارتی ویزا حاصل کرنے کی کوشش کررہی تھی،بھارتی حکومت نے انہیں 45 دن کا ویزا دیا ہے،جویریہ کی شادی جنوری میں بھارت میں ہوگی،جویریہ کا تعلق پاکستان کے شہر ڈی آئی خان سے ہے، وہ آج واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارت پہنچیں، جویریہ بھارت پہنچیں تو سمیر کے اہلخانہ نے اسکا استقبال کیا، بعد ازاں وہ کولکتہ کے لئے روانہ ہو گئیں،واہگہ بارڈر پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے جویریہ خانم کا کہنا تھا کہ کورونا وبا کے بعد بھی دو بار میرا ویزا مسترد کیا گیا اور اب بھی صرف 45 دن کا ویزا دیا گیا ہے ہماری شادی جنوری کے پہلے ہفتے میں طے ہیں۔بھارتی شہری سمیر خان کا کہنا تھا کہ میں نے پہلی بار جویریہ کی تصویر اپنی والدہ کے فون پر دیکھی تھی اور والدہ سے اسی لڑکی سے شادی کرنے کا اظہار کیا تھا، یہ 2018 کی بات ہے جب میں جرمنی سے تعلیم مکمل کرکے گھر واپس آیا تھا.

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    جسم فروش خواتین اسی طریقے سے نیپال سرحد عبور کر کے بھارت آتی ہیں،

     ہماری بیٹی آج سے ہمارے لئے مر گئی

    بھارتی لڑکی کا پاکستان میں نکاح، حق مہر کتنا رکھا گیا؟

     اگر بیٹی نے اسلام قبول کیا تو سب پاکستان کیوں نہیں جاتے

    بھارت اور پاکستان کے لوگوں کے درمیان پہلے بھی شادیاں ہوتی رہی ہیں،پہلے کس کس کی شادیاں ہوئیں جانتے ہیں

    جویریہ خانم اپنے منگیتر سمیر خان سے ملکر خوش تھیں، جویریہ کا کہنا تھا کہ انہیں یقین نہیں آ رہا کہ وہ بھارت پہنچ گئی ہیں، سمیر کے والد کا کہنا تھا کہ پاکستان سے آنیوالی جویریہ میری بہو نہیں بلکہ میری بیٹی ہے،
    javeria

    javeria

  • کلاسیکل گلوکار حسین بخش گلو انتقال کر گئے

    کلاسیکل گلوکار حسین بخش گلو انتقال کر گئے

    لاہور: ملک کے نامور کلاسیکل گلوکار حسین بخش گلو 75 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گلوکاراستاد حسین بخش گلو طویل عرصے سے بیمار تھے حسین بخش گلو کلاسیکی موسیقی کے مشہور شام چوراسی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے استاد حسین بخش گلو لاہور میں الحمرا اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس سے وابستہ تھے، وہ پٹیالہ گھرانے کے مشہور و معروف گلوکار استاد نتھو خان کے فرزند تھے، جو استاد بڑے غلام علی خان کے بھی استاد تھے۔

    استاد حسین بخش گلو لائٹ کلاسیکل اور غزل گائیکی پر پورا عبور رکھتے تھے، اور ایک بہت اچھے موسیقار بھی تھے، وہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے علاوہ دنیا بھر میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں اور ہر جگہ پر اپنی گائیکی کے نقش چھوڑ آئے۔

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے برصغیر کے نامور گلوکار استاد حسین بخش خان گُلو کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ استاد حسین بخش گلو کے انتقال کی خبر سن کر دلی افسوس ہوا، ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں استاد حسین بخش گلو دنیا بھر میں اپنی آواز کا جادو جگاتے رہے، ان کے انتقال سے آج کلاسیکل موسیقی کا ایک درخشاں باب بند ہو گیا۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل نامور گائیک استاد بدر الزمان بھی انتقال کر گئے تھےمیڈیا رپورٹس کے مطابق استاد بدر الزمان عرصہ دراز سے دل کے عارضے میں مبتلا تھے ان کی نماز جنازہ ٹاؤن شپ لاہور کے مقامی پارک میں ادا کی گئی جس میں فنکاروں سمیت بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی استاد بدرالزمان نےاپنے گائیکی سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا، کلاسیکل گائیکی میں وہ ایک استاد کا درجہ رکھتےتھے۔

  • پی ٹی آئی حکومت سے موازنہ کریں تو ن لیگ کی کارکردگی  ہمالیہ سے اونچی ہے،احسن اقبال

    پی ٹی آئی حکومت سے موازنہ کریں تو ن لیگ کی کارکردگی ہمالیہ سے اونچی ہے،احسن اقبال

    لاہور: مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ اگر ن لیگ اور پی ٹی آئی حکومت کا موازنہ کریں تو ن لیگ کی کارکردگی کوہ ہمالیہ سے اونچی ہے۔

    باغی ٹی وی : نوازشریف اور شہبازشریف کی زیرصدارت مسلم لیگ ن کے پارلیمانی بورڈ کا تیسرا اجلاس ماڈل ٹاؤن مرکزی سیکرٹریٹ میں ہوا جس میں مریم نواز، الیکشن سیل کے سربراہ اسحاق ڈار بھی شریک تھےآج خیبرپختونخوا کے ہزارہ اور ملاکنڈ میں موزوں امیدواروں کے انٹرویوز کئے گئے خیبر پختونخوا سے قومی اسمبلی کے 10 اور صوبائی اسمبلی کے 48 امیدواروں کے انٹرویوز کئے گئے-

    پی ٹی آئی کی چیئرمین شپ کے لیے بیرسٹر گوہر علی خان کا انتخاب ،قیادت …

    اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کا کہنا تھا کہ انتخابات کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز جاری ہیں، پاکستان کومشکلات سے نکالنے کے لیے ن لیگ کا ساتھ دیں، آئندہ عام انتخابات ملک کے مستقبل کا تعین کریں گے، 5سال ایسی حکومت چاہئےجس میں معیشت سنبھالنےکی صلاحیت ہو سوچنے کی بات ہے 100 سال مکمل ہونے پر پاکستان کہاں کھڑا ہوگا، 2013 سے 2018 تک ن لیگ کی حکومت رہی، پھر 2022 تک پی ٹی آئی کی حکومت رہی، اور اگر موازنہ کریں تو ن لیگ کی کارکردگی کوہ ہمالیہ سے اونچی ہے ن لیگ نے لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی ختم کی، سی پیک کو پروان چڑھایا، سابق چیئرمین پی ٹی آئی پاکستان کو پھینک کر چلے گئے تھے، جس کے بعد مخلوط حکومت نے ملک کو تباہی سے بچایا، اور اب نگراں حکومت مخلوط حکومت کی بنیاد پر ہی مزید اصلاحات کررہی ہے۔

    کراچی: ڈکیتی مزاحمت کے مختلف واقعات ، 2 افراد جاں بحق،ایک ڈاکو گرفتار ،ایک …

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف الیکشن کمیشن میں درخواست دائر

  • صرف ن لیگی الیکشن سے بھاگ رہے ہیں،اعتزاز احسن

    صرف ن لیگی الیکشن سے بھاگ رہے ہیں،اعتزاز احسن

    لاہور: سینئر وکیل اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی میں شامل ہونے کی دعوت نہیں ملی۔

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نظر آرہا ہے کہ سائفر کیس سب سے کمزور ہے یہ سائفر کیس میں سزا دینے پر تلے ہوئے ہیں خط کا اصل مخاطب آرمی چیف تھا، یہ صفر کیس ہے اس میں کیا سیکرٹ ہے۔

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ جو الیکشن سے بھاگ رہے ہیں وہ صرف ن لیگی ہیں، میاں صاحب یہاں آ کر پھنس گئے ہیں میاں صاحب کو جب یہاں سے باہر بھاگنا ہے تو پتہ چلے گا، اب توشہ خانہ کے رولز ہیں کہ جب کوئی تحفہ لینا تو اس کی قیمت طے کرکے لینا ہے۔ سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو سے لے کر آج تک سب ایسی چیزیں لیتے رہے جن کی اجازت بھی نہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت نہیں ملی، وہ میری طبیعت کو جانتے ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف پارلمینٹیرین کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان میں غرور آ گیا تھا ، ان میں شعور نہیں تھا کہ حکومت کیسے چلائی جاتی ہے،سابق وفاقی وزیر لعل محمد خان سے ملاقات کرکے پارٹی میں شمولیت کی دعوت دینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے 4 سال کی زندگی پریشان کُن تھی، کابینہ میں فیصلے ہوتے تھے مگر چیئرمین پی ٹی آئی کو پتہ ہی نہیں ہوتا تھا، حکومت سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی تھی ہی نہیں، حکومت تو اعظم خان چلاتا تھاسابق چیئرمین پی ٹی آئی کو نہ کابینہ میں اور نہ ہی گھر میں اختیار تھا، چیئرمین پی ٹی آئی فیصلے کر کے رات کو گھر جاتے تو صبح فیصلے تبدیل کر دیتے۔

  • پی ٹی آئی کی چیئرمین شپ کے لیے بیرسٹر گوہر علی خان کا انتخاب ،قیادت کے انتخاب پر سوالات

    پی ٹی آئی کی چیئرمین شپ کے لیے بیرسٹر گوہر علی خان کا انتخاب ،قیادت کے انتخاب پر سوالات

    پی ٹی آئی کی چیئرمین شپ کے لیے بیرسٹر گوہر علی خان کا انتخاب ،قیادت کے انتخاب پر سوالات

    تحریک انصاف کے عمران خان کی جگہ بیرسٹر گوہر علی خان کو پی ٹی آئی کا نیا چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ عمران خان کی بظاہر اس خواہش کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک قابل اعتماد اتحادی ان کی جگہ لے لے، جو ایک ایسے اسٹریٹجک فیصلے کا اشارہ ہے جس کے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔ تاہم، یہ پارٹی کے اندر دیگر تجربہ کار سیاسی شخصیات کے حوالہ سے بھی متعلقہ سوالات اٹھاتا ہے۔

    تحریک انصاف کی قیادت کی منتقلی میں قابل ذکر سیاسی شخصیات کو نظر انداز کیا گیا جیسا کہ سابق وزیر، عمر ایوب خان، جو اب پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل ہیں۔ عمرایوب خان اس سے قبل 2004 سے 2007 تک وفاقی کابینہ میں وزیر مملکت برائے خزانہ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ایک اور شخصیت سید علی ظفر، جو سابق وفاقی وزیر قانون و انصاف رہ چکے ہیں اور سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر کے عہدے پر بھی فائز تھے۔

    ممتاز قانون دان اعتزاز احسن سے وابستہ بیرسٹر گوہر کے انتخاب نے تحریک انصاف کی صفوں میں تیزی دکھائی ہے ان کا سفر توشہ خانہ کیس کے دوران جج ہمایوں دلاور کے ساتھ تصادم کے تبادلے سے شروع ہوا۔

    بیرسٹر گوہر کی تقرری کے بارے میں ملی جلی رائے سامنے آ رہی ہے، انہیں عمران خان کے عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ پنجاب مقرر کرنے کے ماضی کے فیصلے سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ عمران خان نے جان بوجھ کر کسی ایسے شخص کا انتخاب کیا جو اس کے قانونی مسائل کے حل ہونے تک کوئی خطرہ پیدا کیے بغیر اپنا کردار ادا کر سکے تاہم، اہم سوال یہ ہے کہ کیا بیرسٹر گوہر انتخابات میں پی ٹی آئی کی حمایت کر سکتے ہیں؟-

    انتخابی مہم اور الیکشن کے دن کے انتظامات کی تاثیر ایک اہم سائنس ہے، اور اس بارے میں شکوک و شبہات باقی ہیں کہ آیا بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی کے کارکنوں کی آن دی گراؤنڈ حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔ ان شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے کہ بہت سے اہم رہنماؤں کی غیر موجودگی پارٹی کو ایک چیلنجنگ پوزیشن میں چھوڑ کر جا رہی ہے۔ مزید برآں، سیاسی منظر نامے میں تبدیلی آئی ہے، اس نظام کے ساتھ جس نے 2018 میں پی ٹی آئی کی حمایت کی تھی، 2024 میں ممکنہ تبدیلی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔

    جیسے جیسے سیاسی مرحلہ سامنے آ رہا ہے وقت ہی بیرسٹر گوہر علی خان کی تحریک انصاف کے لیے قیادت کے حقیقی مضمرات سے پردہ اٹھائے گا آنے والے چیلنجز پاکستانی سیاست کی پیچیدہ حرکیات کو نیویگیٹ کرنے کے لیے اسٹریٹجک فیصلہ سازی، اور ماہر انتظام کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

  • انٹرا پارٹی انتخابات:چئیرمین پی ٹی آئی نے دستاویزات الیکشن کمیشن میں جمع کرادیں

    انٹرا پارٹی انتخابات:چئیرمین پی ٹی آئی نے دستاویزات الیکشن کمیشن میں جمع کرادیں

    لاہور: تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہےکہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق دستاویزات الیکشن کمیشن میں جمع کرادی ہیں۔

    باغی ٹی وی: ایک بیان میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جلد ہی الیکشن شیڈول کا اعلان ہونے والا ہے، پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق دستاویزات الیکشن کمیشن میں جمع کرادی ہیں۔

    واضح رہے کہ بیرسٹر گوہر علی خان بلامقابلہ تحریک انصاف کے چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں ،تحریک انصاف کے رجسٹرڈ ووٹرز نےنئے چیئرمین کا انتخاب کیا تھا، بیرسٹر گوہر خان نے چیئرمین پی ٹی آئی کے عہدے کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے تھے ان کے مقابلے میں کسی نے کاغذات جمع نہیں کروائے-

    چیف الیکشن کمشنر نیاز اللہ نیازی کے مطابق عمر ایوب پی ٹی آئی کے بلا مقابلہ مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوگئے ہیں، علی امین گنڈاپور تحریک انصاف خیبرپختونخوا،یاسمین راشدپنجاب کی صدر منتخب ہوئی ہیں، حلیم عادل شیخ سندھ پی ٹی آئی کے صدر منتخب ہو گئے ہیں،جبکہ منیر احمد بلوچ بلوچستان کے صدر پی ٹی آئی منتخب ہوئے ہیں

    چیف الیکشن کمشنر نیاز اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف انٹرا پارٹی الیکشن میں ایک پینل سامنے آیا ، قواعد کے مطابق اعلان کر رہے ہیں، قانون کی بالا دستی اور پاسداری پر ملک قائم ہوگا ،

    دوسری جانب تحریک انصاف کورکمیٹی نے قومی انتخابات کے لیے فنڈز کے عدم اجرا پر اظہار تشویش کیا ہے،تحریک انصاف نے نگران حکومت سے عام انتخابات کے انعقاد کے لیے فوری فنڈز جاری کرنےکا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

  • فضائی آلودگی  میں کمی،لاہور دنیا کے آلودہ شہروں کی فہرست میں 7ویں نمبر پر آ گیا

    فضائی آلودگی میں کمی،لاہور دنیا کے آلودہ شہروں کی فہرست میں 7ویں نمبر پر آ گیا

    لاہور میں اسموگ کی شدت میں کمی ریکارڈ ،دنیا کے آلودہ شہروں کی فہرست میں 7ویں نمبر پر آ گیا-

    باغی ٹی وی : لاہور میں صبح 8 بجے سے پہلے پارٹیکولیٹ میٹر کی تعداد 164 ریکارڈ کی گئی ہے،کراچی میں بھی فضائی آلودگی میں کمی دیکھی گئی ہے اور اب کراچی دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں 9ویں نمبر پر آگیا ہے۔

    اس کے علاوہ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ سمیت وسطی پنجاب میں اسموگ کے باعث شہریوں کو نزلہ، زکام، بخار اور گلے میں انفیکشن کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔

    بار بار دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں کو 10،10 لاکھ جرمانے کی ہدایت

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ باربار آلودہ دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں کو 10،10لاکھ جرمانہ کرنےکی ہدایت کی تھی، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے حکم جاری کیا تھا،علاوہ ازیں عدالت نے حکم دیا کہ پانی ضائع کرنے والےگھریلو صارفین کے لیے 10 ہزار روپےجرمانہ عائد کیاجائے اور پانی کا بے دریغ استعمال کرنے والے کمرشل صارفین کو 20 ہزار روپے جرمانہ کیا جائے-

    امریکی جیل میں ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ جنسی زیادتی کا انکشاف

    دوسری جانب سعودی عرب نے اپنےشہریوں کو پاکستان سمیت 25 ممالک کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کر دی ہے،سعودی محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ان ممالک میں متعدی امراض اور طبی سہولیات کے معیار کے پیش نظر اپنے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت جاری کی گئی ہے، بیما ریوں میں ڈینگی، ہیضہ ،پولیو، یلو فیور، خسرہ ، منکی پاکس، ملیریا، کووڈ 19بھی شامل ہیں۔

    امریکی سفیر کیوبا کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار

  • لاہور : آصف علی زرداری کا پیپلز پارٹی پنجاب کے رہنماؤں سے ملاقات

    لاہور : آصف علی زرداری کا پیپلز پارٹی پنجاب کے رہنماؤں سے ملاقات

    پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری سے پی پی پی پنجاب کے رہنماؤں کی ملاقات کی ہیں، سابق صدر مملکت آصف علی زرداری سے پی پی پی وسطی پنجاب کے قائمقام صدر رانا فاروق سعید اور پی پی پی لاہور کے صدر اسلم گِل نے ملاقات کی ،


    صدر آصف زرداری سے پی پی پی وسطی پنجاب میں شعبہ خواتین کی صدر ثمینہ خالد گھرکی، نواب شہزاد علی خان اور سفیان گھرکی نے بھی ملاقات کی صدر آصف زرداری اور پی پی پی کے رہنماؤں کے درمیان پنجاب کی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا، الیکشن تیاری پر غور کیا گیا،

  • مسلم لیگ ن کے قائد اور مولانا  فضل الرحمن کے درمیان سیٹ ایڈجسمنٹ پر اتفاق

    مسلم لیگ ن کے قائد اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان سیٹ ایڈجسمنٹ پر اتفاق

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ملاقات ختم ہوگئی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور عام انتخابات سمیت دیگر اہم معاملات پر گفتگو کی گئی۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے لیے ماڈل ٹاؤن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹریٹ پہنچے۔ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے صدر جماعت شہباز شریف کے ہمراہ پارٹی سیکریٹریٹ آمد پر مولانا فضل الرحمان کا استقبال کیا۔ دونوں جماعتوں کے مابین وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات ہوئے، اس موقع پر ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق خواجہ سعد رفیق نے سندھ میں ایم کیو ایم کے ساتھ ہونے والے سیاسی مذاکرات کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی۔ملاقات میں دونوں جماعتوں نے ایم کیو ایم کے مجوزہ ملک گیر بلدیاتی نظام پر تفصیلی مشاورت کی اور ایم کیو ایم کے مجوزہ بلدیاتی نظام پر مکمل اتفاق رائے کیا۔پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ آئندہ پارلیمان میں اس بلدیاتی نظام بارے آئینی ترمیم لائی جائے گی۔نواز شریف نے فضل الرحمان کو ایم کیو ایم کے ساتھ طے پا جانے والے انتخابی معاہدے پر اعتماد میں لیا، دونوں جماعتوں نے سندھ میں ایم کیو ایم اور دیگر ہم خیال جماعتوں سے مل کر انتخابی اتحاد بنانے پر بھی اتفاق رائے کا اظہار کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھی مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علما اسلام (ف) میں مکمل سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق ہوگیا ہے۔ ملاقات میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ دونوں صوبوں میں ہر قومی و صوبائی نشست پر امیدوار باہمی اتفاق رائے سے اتارے جائیں گے اور یہ بھی طے پایا کہ جس نشست پر جس پارٹی کا امیدوار مضبوط ہوگا اسی کی نامزدگی اور حمایت کی جائے گی، کسی اتفاق رائے پر نہ پہنچا جا سکا تو ایک جماعت کا امیدوار قومی اور دوسری کا صوبائی نشست پر نامزد کیا جائے گا۔ملاقات میں دونوں جماعتوں نے آئندہ انتخابات کے بعد مل کر حکومت بنانے اور تمام امور پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا اور مشترکہ صدارتی امیدوار لائے جانے پر بھی مشاورت کی۔


    ملاقات میں سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز شریف، سینیٹر اسحاق ڈار، احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق، مریم اورنگزیب اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔
    اس موقع پر نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں دونوں قائدین کے درمیان مجموعی ملکی صورتحال، عام انتخابات کے انعقاد، سیاسی تعاون اور اشتراک عمل پر مشاورت ہوئی۔ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف ماڈل ٹاؤن سے روانہ ہوگئے جبکہ قائد مسلم لیگ ن نواز شریف بھی ماڈل ٹاؤن سے روانہ ہوگئے۔