Baaghi TV

Category: لاہور

  • پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان معاملات طے،اعلامیہ جاری

    پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان معاملات طے،اعلامیہ جاری

    پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان معاملات طے پاگئے۔

    وزیراعلی مریم نوازشریف نے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو صنعت کا درجہ دینے کا فیصلہ، ٹرانسپورٹر ز کا خیرمقدم کیا ہے ٹرانسپورٹرز نے اعلان کیا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کی ترقی کے لئے وزیراعلی پنجاب کے اقدامات کی بھرپور تائید وحمایت کرتے ہیں، مشترکہ اعلامیہ کے مطابق ٹرانسپورٹ کی صنعت کی بہتری، ترقی اور تمام مسائل کے حل کے لئے چار کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں، پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر مرکزی کوآرڈینیٹر مقرر کردیے گئے ہیں۔

    سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیرِ صدارت اجلاس، گڈز اور پبلک ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی اور ہڑتال کے خاتمے کا باضابطہ اعلان بھی کر دیاقائم کردہ کمیٹیوں میں گڈز ٹرانسپورٹ کمیٹی، منی مزدا ٹرانسپورٹ کمیٹی، پبلک ٹرانسپورٹ کمیٹی اور سٹاف ڈیوٹی وہیکل کمیٹی شامل ہے ٹرانسپورٹرز کی سفارشات مرتب کرکے سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کو پیش کریں گی۔

    مشترکہ اعلامیہ کے مطابق ٹرانسپورٹرز اور حکومتی نمائندے آئیندہ بدھ کو مشترکہ پریس کانفرنس میں حتمی تجاویز سامنے لائیں گے، یہ چاروں کمیٹیاں مستقل بنیادوں پر ٹرانسپورٹ سے متعلق مسائل کی نگرانی اور سفارشات پر عمل درآمد کا جائزہ لیں گی ۔ تمام تجاویز کو تین دن میں حتمی شکل دی جائے گی،

    اس کے علاوہ طے پایا کہ انتظامی اقدامات کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی جائے گی، حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں میں ٹریفک آرڈیننس 2025 پر مشترکہ غور، مزید بہتری اور مل کر عمل درآمد کرنے پر اتفاق ہوگیاٹریفک آرڈیننس 2025 میں دیت کے متعلق کوئی شق شامل نہیں کی گئی جبکہ اس بات پر اتفاق ہوا کہ ثبوت پر مبنی چالان پیش کئے جائیں گے۔

    مشترکہ اعلامیہ کے مطابق ایک جرم پر چالان ہونے کے بعد دوبارہ اسی جرم پر اسی چکر میں دوبارہ چالان نہیں ہوگا، الیکڑانک وَن ایپ کے ذریعے روٹس پر چالان کے عمل کو ریگولیٹ کیا جائے گا، دیگر صوبوں کے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ پنجاب کے ٹرانسپورٹ پُل کا کردار ادا کریں گے۔

    ٹرانسپورٹرز نے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب کی طرز پر دیگر صوبوں میں بھی ٹریفک قوانین اور ٹرانسپورٹرز کے مسائل کے حل کے لئے اقدامات کئے جائیں ،ٹرا نسپورٹرز کے مطالبے پر سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب مرکزی سطح پر ٹرانسپورٹرز کے مسائل کے حل کے لئے وزیراعظم شہبازشریف کو سفارشات پیش کریں گی۔

    مشترکہ اعلامیہ کے مطابق مرکزی حکومت اور دیگر صوبے بھی پنجاب کی طرح ٹرانسپورٹ کو صنعت کا درجہ دیں، دیگر سہولیات اور بہتری کے لئے اقدامات کریں، ٹریفک قوانین پر عملدرآمد سے نظام میں بہتری لائیں گے اعلامیہ میں دونوں جانب سے باہمی تعاون پر اتفاق ہوگیا ۔پنجاب حکومت ٹرانسپورٹ کی صنعت کوعالمی معیار پر لانے، منسلکہ شعبوں کی ترقی، جدید ٹیکنالوجی اور طریقوں کے استعمال کو یقینی بنائے گی۔

    مشترکہ اعلامیہ کے مطابق پنجاب حکومت ٹرانسپورٹ صنعت کی ترقی اور بہتری کے لئے قانونی، انتظامی اصلاحات کرے گی، انفراسٹرکچر بہتربنائے گی، گڈز، پبلک ٹرانسپورٹ اور انتظامی امور پر مستقل کمیٹیوں کا ہر تین ماہ بعد اجلاس ہو گا چالان اور جرمانوں کے نظام میں اصلاحات، جدید ایپ کے ذریعے دہرا چالان ختم کرنے پر پیش رفت کی جائے گی، اوورلوڈنگ، ایکسل ویٹ، گاڑیوں کے سائز اور فٹنس سے متعلق مسائل ٹرانسپورٹرز کی مشاورت سے حل کیے جائیں گے۔

    سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ ہمارا مقصد کاروبار کی ترقی، عوام کی زندگی کی حفاظت اور عوام کو بہترین خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ہے، ہر زندگی کی حفاظت، نظام کی بہتری، عالمی معیار کانفاذ اور ہر شعبے کی ترقی بنیادی ہدف ہےہم سب کا تعاون اور مشترکہ کوشش سے ہی پنجاب میں عوام کا معیار زندگی بہتر ہوگا،۔

    مریم اورنگزیب نے ٹرانسپورٹرز کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کو مکالمے سے حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں، ٹرانسپورٹ آرڈیننس 2025 کا واحد مقصد بچوں اور شہریوں کی جان کا تحفظ اور سڑکوں پر نظم و ضبط قائم کرنا ہے۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ کمیونیکیشن کے خلا کیوجہ سے دوبارہ غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں، اس لئے مشاورت کا مستقل نظام قائم کر دیا ہے، اسموگ کے تدارک میں ٹرانسپورٹ سیکٹر کا کردار تسلیم کرتے ہیں، وکس اسٹیشنز اور شفٹ سسٹم میں اضافہ کیا جائے گا ملتان، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں موبائل فیول ٹیسٹنگ، لاری اڈوں کی بہتری کے لیے جامع پلان تیارہوگا۔ مریم اورنگزیب نے ٹرانسپورٹرز نے تعاون اور تجاویز پر کھلے دل سے مشاورت پر وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کا شکریہ ادا کیا۔

  • لاہور: 2 سگی بہنوں سے 5 افراد کی مبینہ اجتماعی زیادتی

    لاہور: 2 سگی بہنوں سے 5 افراد کی مبینہ اجتماعی زیادتی

    لاہور میں دو سگی بہنوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    لاہور کے علاقے سندر میں پانچ افراد نے 2 سگی بہنوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور فرار ہوگئےپولیس نے متاثرہ لڑکیوں کی والدہ کی درخواست پر پانچ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، جس میں ملزمان قاسم، عمیر جٹ، علی اکبر وٹو، ضیاء الرحمن اور احمد رضا کو نامزد کیا گیا ہے۔

    پولیس نے مقدمہ اندراج کے بعد چار ملزمان کو گرفتار کرلیا تاہم ایک کی تلاش جاری ہے، حراست میں لیے گئے افراد سے تفتیش جاری ہے جبکہ لڑکیوں کو میڈیکل کیلیے اسپتال منتقل کردیا گیا، جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید قانونی پیشرفت ہوگی۔

  • لاہور: بسنت کے لئے رجسٹریشن فیس کی تفصیلات جاری

    لاہور: بسنت کے لئے رجسٹریشن فیس کی تفصیلات جاری

    لاہور:شہر میں بسنت کیلئے ڈور اور پتنگ بنانے والوں کو ایک ہزار روپے رجسٹریشن فیس ادا کرنا ہوگی۔

    ضلعی انتظامیہ نے بسنت کے لئے رجسٹریشن فیس کی تفصیلات جاری کر دیں،حکام ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈور،پتنگ مینوفیکچررزکی رجسٹریشن فیس ایک ہزار روپے مقرر کی گئی ہے،کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کی فیس5ہزارروپے مقرر کی گئی،پتنگ سازوں،ڈورمینوفیکچررز رجسٹریشن کیلئےفارم اے،کائٹ ایسوسی ایشن فارم سی بھریں گے،پنجاب حکومت نے 6سے8فروری تک بسنت منانے کی مشروط اجازت دی ہے۔

    واضح رہے کہ انتظامیہ نے رجسٹریشن کے لیے چار کیٹیگریز کے خصوصی فارم جاری کیے ہیں پتنگ ساز اور ڈور تیار کرنے والے افراد فارم "اے” کے تحت رجسٹر ہوں گے,رجسٹریشن کے بعد سرکاری سرٹیفکیٹ فارم "بی” کے ساتھ جاری کیا جائے گا، جس پر کیو آر کوڈ درج ہوگا,فارم "بی” میں جاری ہونے والا کیو آر کوڈ پتنگ اور ڈور پر لازمی طور پر چسپاں کیا جائے گا,یہی کوڈ پتنگ و ڈور فروشوں کی دکانوں اور بینرز پر بھی آویزاں ہوگا,دکان کے اندر فارم "بی” کا سرٹیفکیٹ نمایاں جگہ پر لگانا لازم قرار دیا گیا ہے۔

    انتظامیہ نے پتنگ اور ڈور کے سائز، میٹریل اور معیار کے لیے سخت ہدایات جاری کی ہیں ،پتنگ کا سائز 40 انچ سے زائد نہیں ہوگا،”گڈا” کی چوڑائی 30 انچ سے زیادہ نہیں ہو گی،ڈور کاٹن دھاگے سے تیار کی جائے گی،مانجا میں صرف گلو، سادہ رنگ، آٹا اور کمزور شیشہ استعمال کیا جا سکے گا،ڈور کے لیے صرف پنے کی اجازت ہوگی، چرخی کی تیاری ممنوع ہے،تیز مانجا، تندی، دھاتی تار اور کیمیکل مانجا مکمل طور پر ممنوع قرار دیے گئے ہیں،جبکہ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز کی رجسٹریشن فارم "سی” اور "ڈی” پر کی جائے گی۔

  • نوازشریف نےکہا، اللہ تعالیٰ نے سنا، آج سب چہرےانجام کو پہنچ رہے،جاوید لطیف

    نوازشریف نےکہا، اللہ تعالیٰ نے سنا، آج سب چہرےانجام کو پہنچ رہے،جاوید لطیف

    مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ صرف فیض حمید کو گرفتار کرنے اور سزا دینے سے انصاف نہیں ہوسکتا، پاکستان کی بربادی کرنے والا ایک بڑا گروپ تھا، جب گوجرانوالہ میں نوازشریف نے ان کے نام لیے تو ہمارے اپنے کمزور دل کے لوگ اسٹیج سے چھلانگیں مار کر دوڑ گئے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک ویڈیو کلب میں انہوں نے کہا کہ بڑے عرصے سے کہہ رہا تھا کہ فیض حمید کو گرفتار کرنے اسے سزا دینے سے جسٹس نہیں ہوسکتا۔پاکستان کی بربادی کرنے والا ایک بڑا گروپ تھا، میں تو بڑے عرصے سے نام لیتا آیا ہوں۔گوجرانوالہ میں نوازشریف نے نام لیے تھے تو ہمارے اپنے کمزور دل کے لوگ اسیٹج سے چھلانگیں مار کر دوڑ گئے تھے، فیض حمید کو سزا دینا کافی نہیں ہے، فیض حمید کےساتھ مل کر جو اداروں میں کھلواڑ کررہے تھے بغاوت پر اکسا رہےتھے، فیصلے لے رہےتھےکسی کو صادق امین کا سرٹیفکیٹ دلوا رہےتھے، کسی کو بیٹے سےتنخواہ نہ لینے پر دو تہائی اکثریت والی ترقی کرتی حکومت کو ختم کرکےپاکستان کو تباہی کےنہج پر پہنچایا،میں اپنے گھر کی بات نہیں کر رہا، میرے گھر والوں سے جو سلوک جنرل باجوہ اور فیض حمید نے کیا جو تشدد کروایا اسے معاف کرتا ہوں، مگر اس قوم کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے ریاست کو ڈبونے والے اس نہج تک لانے والے جو بھی ہیں ان کو کس طور بھی معاف نہیں کیا جا سکتا، نوازشریف نےگوجرانوالہ میں کہا تھا یہ پانچ لوگ ہیں جنہوں پاکستان کو برباد کردیا، میں ان کے ہاتھوں اپنے لیےکچھ نہیں مانگوں گا سولی چڑھ جاؤں گا مگر پاکستانی قوم کو آزادی دلوا کر جاؤں گا،اس نےکوئی توپ ٹینک نہیں پکڑا جو نوازشریف نےکہا اللہ تعالیٰ نے سنا آج سب چہرےانجام کو پہنچ رہےہیں۔

  • دعا ہے پی آئی اے کے معاملات اچھے انداز میں نمٹ جائیں۔وزیر خزانہ

    دعا ہے پی آئی اے کے معاملات اچھے انداز میں نمٹ جائیں۔وزیر خزانہ

    لاہور میں آل پاکستان چیمبرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ اداروں کے اندر کمی کوتاہی کو دور کریں گے، جنوری تک این ایف سی پر کمیٹی کو بلاکر آگے بڑھیں گے، این ایف سی میں چاروں صوبوں نے ایک دوسرے کی بات سنی۔

    ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے اسٹرکچرل ریفارمز پر بات ہوگی، ہر طرف بات ہورہی ہے آئی ایم ایف نے مزید پابندیاں لگائیں، آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کے اثاثے پبلک کیے جائیں، سرکاری ملازمین کے اثاثے پبلک کرنے کیلئے قانون سازی کرچکے، یہ اضافی شرط نہیں، عملی اقدام ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ ٹیکس نظام میں بہتری کیلئے اصلاحات متعارف کرائیں، پاسکو کو بند کر رہے ہیں، جہاں جہاں اصلاحات کیں، بہتری آرہی ہے، المیہ ہے معاشی پالیسیوں میں روز تبدیلی ہوتی ہے، معیشت چلے گی تو ملک چلے گا، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا اضافی بوجھ ہے، پرائیویٹ سیکٹر نے ملک کو لیڈ کرنا ہے، وفاقی حکومت کا سائز کم کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔

    وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ فارمل سیکٹر نے کہا نان کمپلائنس سیکٹر کے پیچھے جائیں، سروسز سیکٹر میں بہتری آرہی ہے، خوشی ہے پرائیویٹ سیکٹر حکومت سے ملکر کام کررہا ہے، ہمیں نیو اکانومی کی طرف جانا ہے، ہم نے حکومتی اخراجات کم کیے ہیں، 24 ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کر چکے، دعا ہے پی آئی اے کے معاملات اچھے انداز میں نمٹ جائیں۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ اگلے سال کا بجٹ پالیسی ساز بنائے گا، ہر شعبے کو برآمدات بڑھانے کیلئے کام کرنا ہوگا، ٹیکس پالیسی آفس تاجر برادری سے 24 گھنٹے رابطے میں رہے گا۔

  • پاکستان میں بھی انفلوئنزا کیسز سامنے آ گئے

    پاکستان میں بھی انفلوئنزا کیسز سامنے آ گئے

    دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی موسمی انفلوئنزا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے،

    پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں صورتِ حال خاصی تشویشناک ہو چکی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں شہری وائرل انفیکشن کا شکار ہو رہے ہیں، جس کے باعث سرکاری و نجی اسپتالوں اور کلینکس میں مریضوں کا رش غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ہے۔طبی ذرائع کے مطابق لاہور میں انفلوئنزا کے مریضوں میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ افراد میں خشک اور مسلسل کھانسی، شدید نزلہ و زکام، سر درد، جسم اور جوڑوں میں درد، بخار اور عمومی کمزوری جیسی علامات عام پائی جا رہی ہیں۔ کئی مریضوں کا کہنا ہے کہ علامات شدت اختیار کر رہی ہیں اور معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

    ماہرینِ صحت کے مطابق اس وقت انفلوئنزا تیزی سے پھیل رہا ہے اور اسپتالوں میں آنے والے بیشتر مریض انفلوئنزا اے کی علامات کے ساتھ رپورٹ ہو رہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دسمبر سے فروری تک کے مہینوں میں موسم کی تبدیلی، سرد اور خشک ہوا اور احتیاطی تدابیر میں کمی کے باعث انفلوئنزا کے کیسز میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انفلوئنزا خاص طور پر بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور دائمی امراض میں مبتلا افراد کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ذیابیطس، بلڈ پریشر، دل اور پھیپھڑوں کے مریض اس وائرس سے جلد متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ ان میں پیچیدگیوں کا خدشہ بھی نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق انفلوئنزا کی علامات عموماً 7 سے 10 روز تک برقرار رہتی ہیں، تاہم بعض کیسز میں بیماری کا دورانیہ بڑھ بھی سکتا ہے۔

    محکمہ صحت پنجاب کے حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ فی الحال انفلوئنزا کے مخصوص لیبارٹری ٹیسٹ نہیں کیے جا رہے، تاہم کلینکل تشخیص کی بنیاد پر مریضوں کی تعداد معمول سے کہیں زیادہ ہے۔ حکام کے مطابق اسپتالوں میں آنے والے مریضوں کی علامات واضح طور پر انفلوئنزا کی نشاندہی کر رہی ہیں، جسے سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔طبی ماہرین نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ کھانسی، بخار اور نزلہ زکام کی صورت میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں، غیر ضروری بھیڑ میں جانے سے گریز کریں، ماسک کا استعمال کریں، ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں اور علامات شدید ہونے کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت احتیاط اور آگاہی سے انفلوئنزا کے پھیلاؤ کو کافی حد تک روکا جا سکتا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق فلو کی نئی قسم A(H3N2) کے ذیلی گروپ ’سب کلاڈ K‘ کے باعث برطانیہ سمیت کئی یورپی ممالک میں انفلوئنزا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔برطانوی محکمہ صحت کے مطابق اسپتالوں میں روزانہ اوسطاً 2600 سے زائد مریض داخل ہو رہے ہیں، جو پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے۔برطانوی وزیر صحت کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کوویڈ کے بعد اسپتالوں پر سب سے بڑا دباؤ ہے، ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ نئی قسم زیادہ خطرناک نہیں لیکن اس کا پھیلاؤ معمول سے پہلے شروع ہو گیا ہے۔

    پاکستان میں بھی سپر فلو انفلوائنز کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے اور اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ 20 فیصد نمونوں میں وائرس کی نئی قسم A(H3N2) کے ذیلی گروپ ’سب کلاڈ K‘ کی موجودگی پائی گئی۔اس حوالے سے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے طبی ماہر ڈاکٹر رانا جواد اصغر نے بتایا کہ سپر فلو وائرس کی علامات بھی دیگر انفلوئنزا کی طرح ہی ہوتی ہیں یعنی سر میں درد، نزلہ، بخار جیسی علامات ہوتی ہیں۔ڈاکٹر رانا جواد نے بتایا کہ اس وائرس کو سپر فلو اس کے لیے کہہ رہے ہیں کہ پوری دنیا میں جو متوقع تعداد ہوتی ہے اس سے زیادہ تعداد میں لوگ متاثر ہو رہے ہیں اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ وائرس میں بھی کچھ تبدیلیاں آئی ہیں۔

  • پریس گیلری ایک شاندار ماضی اور پیشہ ورانہ روایات کی امین ہے،عظمٰی بخاری

    پریس گیلری ایک شاندار ماضی اور پیشہ ورانہ روایات کی امین ہے،عظمٰی بخاری

    وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری نے پنجاب اسمبلی پارلیمانی رپورٹرز پریس گیلری کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد پیش کی ہے۔

    عظمٰی بخاری نے بلا مقابلہ منتخب ہونے والے صدر خواجہ نصیر، جنرل سیکرٹری سید عباس نقوی، جوائنٹ سیکرٹری سید فرزند علی اور اسسٹنٹ سیکریٹری واصف محمود کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا،عظمٰی بخاری نے کہا کہ پنجاب اسمبلی پارلیمانی رپورٹرز پریس گیلری اسمبلی کا لازمی اور فعال جز ہے، جو نہ صرف ایوان کی کارروائی کو شفاف انداز میں عوام تک پہنچاتی ہے بلکہ جمہوری اقدار کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پریس گیلری ایک شاندار ماضی اور پیشہ ورانہ روایات کی امین ہے، پریس گیلری حکومت، اسمبلی اور عوام کے درمیان مضبوط پل ہے،امید ہے کہ نو منتخب قیادت حکومت، پارلیمان اور عوام کے درمیان مؤثر رابطے کو مزید بہتر بنائے گی اور اپنی ذمہ داریاں بھرپور جذبے اور راست بازی کے ساتھ ادا کرے گی۔

  • رابی پیرزادہ نے نکاح کرلیا؟  سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل

    رابی پیرزادہ نے نکاح کرلیا؟ سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل

    سوشل میڈیا پر رابی پیرزادہ کی تصاویر اور پوسٹ گردش کر رہی ہے جس سے صارفین میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ سابق گلوکارہ نے نکاح کر لیا ہے-

    پاکستان کی سابقہ گلوکارہ رابی پیرزادہ نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنی کچھ تصاویر شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا’ نکاح سنت ہے اور سنت میں ہی برکت ہے نکاح وہ پاک رشتہ ہے جو محبت کو جائز، عزت کو مضبوط اور رشتے کو ہمیشہ کے لیے مقدس بنا دیتا ہے اللہ ہر نکاح کو سکون، محبت اور رحمت سے بھر دے۔

    ان کی نئی سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ان کی شادی کے حوالے سے گفتگو اور تبصرے شروع کردیے ہیں،اور مبارکبادوں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا جا رہا ہے-

    واضح رہے کہ رابی پیرزادہ کو بطور گلوکارہ، اداکارہ اور ماڈل شہرت حاصل ہوئی لیکن کچھ سال قبل انہوں نے اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کے لیے شوبز انڈسٹری کو خیرباد کہہ دیا تھا اور اب وہ ایک سماجی کارکن ہیں اور فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی نظر آتی ہیں۔

  • پنجاب حکومت سے مذاکرات کامیاب، ٹرانسپورٹرز کا ہڑتال ختم کرنے کا اعلان

    پنجاب حکومت سے مذاکرات کامیاب، ٹرانسپورٹرز کا ہڑتال ختم کرنے کا اعلان

    پنجاب حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے، جس کے بعد ٹرانسپورٹرز نے فوری طور پر ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

    مذاکرات سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب کی زیرِ صدارت ہوئے، جن میں ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں نے بھی بھرپور شرکت کی،وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر ٹرانسپورٹرز کے مسائل کے حل کیلئے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے، جس کی سربراہی مریم اورنگزیب کریں گی۔

    کمیٹی میں گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے نمائندوں سمیت متعلقہ حکام شامل ہوں گے، جبکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس کل طلب کر لیا گیا ہےمذاکرات کے دوران مرکزی صدر گڈز ٹرانسپورٹ الائنس اور دیگر عہدیداروں نے مصالحتی قرارداد پر دستخط کیے، جس کے بعد ہڑتال کے خاتمے کا باضابطہ اعلان سامنے آیا۔

    مریم اورنگزیب نے ٹرانسپورٹرز کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مسائل کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی خواہاں ہے،حکومت کا اولین مقصد انسانی زندگی کا تحفظ اور شہریوں کیلئے حالات کو بہتر بنانا ہے۔

  • رنگ روڈ پر شہری کو پیدل چلنا مہنگا پڑ گیا، مقدمہ درج

    رنگ روڈ پر شہری کو پیدل چلنا مہنگا پڑ گیا، مقدمہ درج

    لاہور رنگ روڈ پر ایک شہری کی انتہائی غفلت اور خطرناک انداز میں روڈ کراسنگ کرنے کے باعث پولیس نے تھانہ ڈیفنس سی میں مقدمہ درج کرلیا۔ مقدمہ نمبر 3339/25 بجرم 283 تعزیراتِ پاکستان کے تحت اندراج کیا گیا۔

    انسپکٹر عامر محمود چشتی (SPO انچارج رنگ روڈ سرکل عبداللہ گل)، جو رنگ روڈ پر ٹریفک کنٹرول ڈیوٹی پر مامور تھے، اپنے ہمراہ اہلکار عفان 5260/JPO سرکاری گاڑی 716/GBG میں نواز شریف انٹرچینج کے قریب ایگزٹ فیز 6، پول نمبر 713 پر موجود تھے کہ اسی دوران ایک شخص نہایت تیز رفتاری سے پیدل دوڑتا ہوا ٹریفک کے بیچوں بیچ روڈ کراس کرنے لگا۔اہلکاروں کے مطابق ملزم نے انتہائی غفلت و لاپرواہی سے دوڑتے ہوئے،ٹریفک کے بہاؤ میں خلل ڈالا،اپنی اور دیگر شہریوں کی جان و مال کو شدید خطرے میں ڈالا،گاڑیوں کی لین میں رکاوٹ پیدا کی،اہلکاروں نے بڑی مشکل سے مذکورہ شخص کو قابو کیا جس کی شناخت ارسلان ولد عمر دین قوم میو، سکنہ ملکو کی پنڈ ہیر لاہور، شناختی کارڈ نمبر 35201-8230307-1 بتائی گئی۔پولیس رپورٹ کے مطابق ملزم کے اس خطرناک عمل پر متعلقہ دفعہ 283 کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی جس پر انسپکٹر عامر محمود چشتی نے تحریر استغاثہ مرتب کرکے تھانہ ڈیفنس سی بھجوا دیا۔

    تھانہ پولیس نے استغاثہ موصول ہونے پر مقدمہ درج کردیا جبکہ تفتیش کے لیے کیس انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔تفتیشی افسر اے ایس آئی محمد شہزاد نے بتایا کہ مقدمہ اندراج کے ساتھ ہی SHO تھانہ ڈیفنس سی کو بھی معاملے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔واقعہ 10 دسمبر 2025 کی دوپہر 2 بجکر 55 منٹ پر پیش آیا جبکہ مقدمہ پولیس ڈاکومنٹیشن کے بعد درج کرلیا گیا۔