Baaghi TV

Category: لاہور

  • فیکٹ چیک،سوشل میڈیا پر پنجاب پولیس کے افسران کی جعلی ویڈیو وائرل

    فیکٹ چیک،سوشل میڈیا پر پنجاب پولیس کے افسران کی جعلی ویڈیو وائرل

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پنجاب پولیس کے افسران ایف ایم پر نازیبا زبان استعمال کر رہے ہیں۔

    حقیقت میں‌یہ ویڈیو مکمل طور پر غلط اور اے آئی سے تیار کردہ پروپیگنڈا ہے۔جو ویڈیو 92 نیوز کے لوگو کے ساتھ گردش کر رہی ہے، وہ ایڈٹ شدہ اور جعلی ہے۔92 نیوز کی انتظامیہ نے واضح طور پر اس بات کی تردید کی ہے کہ اُن کا اس مواد سے کوئی تعلق ہے یا انہوں نے اسے نشر کیا ہے۔یہ پروپیگنڈا پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سے تیار کیا گیا ہے تاکہ عوام کو گمراہ کیا جائے اور نفرت پھیلائی جائے۔ایف آئی اے سائبر کرائم میں اُن تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف سرکاری شکایت درج کرا دی گئی ہے جنہوں نے یہ جعلی ویڈیو پھیلائی۔

    پنجاب پولیس کی جانب سے ایف ایم پر نازیبا زبان استعمال کرنے کا بیانیہ سراسر غلط معلومات ہے اور اسے نہ مانا جائے اور نہ ہی پھیلایا جائے۔

  • پنجاب حکومت نے بسنت کا تہوار منانے کی اجازت دے دی

    پنجاب حکومت نے بسنت کا تہوار منانے کی اجازت دے دی

    لاہور: پنجاب حکومت نے بسنت منانے کی اجازت دے دی ہے۔ حکومت کے ذرائع کے مطابق بسنت کا تہوار رواں سال 6، 7 اور 8 فروری کو منایا جائے گا، تاہم اس دوران قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ بسنت کے دوران کسی بھی قسم کی فائرنگ، ہلڑ بازی یا غیر قانونی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔ بسنت کے موقع پر پتنگ اور ڈور کے استعمال کے لیے خصوصی کیو آر کوڈ جاری کیے جائیں گے تاکہ سب قوانین کی پابندی کریں۔

    گورنر پنجاب سلیم حیدر کے دستخطوں سے جاری ہونے والے آرڈیننس میں بسنت منانے کے لیے واضح شرائط اور پابندیاں مقرر کی گئی ہیں۔ آرڈیننس کے مطابق قوانین کی خلاف ورزی پر نہ صرف جرمانہ بلکہ قید کی بھی سزا دی جا سکتی ہے۔آرڈیننس کے مطابق پنجاب میں 2001 میں پتنگ بازی پر پابندی عائد کی گئی تھی، اور اب 25 سال بعد محدود شرائط کے تحت دوبارہ اجازت دی گئی ہے۔ تاہم، 18 سال سے کم عمر کے بچے پتنگ بازی نہیں کر سکیں گے اور خلاف ورزی کی صورت میں والد یا سرپرست ذمہ دار ہوں گے،بسنت کے موقع پر صرف دھاگے سے بنی ڈور کے استعمال کی اجازت ہوگی، جبکہ دھات یا تیز دھار مانجھے والے دھاگے کے استعمال پر سخت قانونی کارروائی ہوگی۔ خلاف ورزی کرنے والے کو کم از کم 3 سال اور زیادہ سے زیادہ 5 سال قید، اور 20 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔مزید برآں، آرڈیننس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضلع کے اندر ہر موٹرسائیکل حفاظتی تدابیر کے مطابق چلائی جائے گی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

  • پاک فوج کے جانباز اور جانثار سپوت ، سوار محمد حسین شہید (نشانِ حیدر) کا54واں یومِ شہادت

    پاک فوج کے جانباز اور جانثار سپوت ، سوار محمد حسین شہید (نشانِ حیدر) کا54واں یومِ شہادت

    سوار محمد حسین 18جنوری1949 کو ڈھوک پیر بخش، ضلع راولپنڈی کی تحصیل گوجر خان میں پیدا ہوئے

    1971کی جنگ میں سوار محمد حسین نے بطور اسلحہ بردار ٹرک ڈرائیور شکر گڑھ سیکٹر میں نمایاں کردار ادا کیا،جنگ ایسے مرحلہ پر تھی جب ہر طرف آگ، بارود اور دھوئیں کے بادل چھائے ہوئے تھے،ایک پرجوش جوان ہر قسم کے خطرات سے بے نیاز ہو کر اگلے مورچوں کے درمیان دوڑ دوڑ کر شجاعت کا نیا اورق رقم کر رہا تھا،سوار محمد حسین اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ایک مورچے سے دوسرے مورچے تک گولہ بارود پہنچاتے رہے،علاوہ ازیں آپ کئی بار لڑاکا گشت کی کارروائیوں میں بھی رضاکارانہ طور پر شامل ہوئے،7دسمبر کو ایسے ہی ایک لڑاکا گشت کے دوران سوار محمد حسین نے اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ دشمن کو گدرپور گاؤں سے بھگایا ،آپ نےگجگال گاؤں کی جانب دشمن کی پیش قدمی سے متعلق اہم معلومات بھی اپنی یونٹ ہیڈ کوارٹر کو فراہم کیں

    9 دسمبر کو آپ نے انتہائی کامیابی سے دشمن کے ایک آرٹلری آبزرور کی نشاندہی کی اور اسے بھاگنے پر مجبور کر دیا،10دسمبر کو بھی آپ نے ہندوستانی ٹینکوں کی نشاندہی اور ان پر فائر گرانے میں اہم کردار ادا کیا،آپ کی درست نشاندہی کے نتیجے میں ہندوستانی فوج کے 16ٹینک تباہ ہو گئے،10 دسمبر کو ہی جنگ کے دوران وطنِ عزیز کا یہ بہادرفرزند دشمن کے ٹینک پر نصب مشین گن فائر کی زد میں آکر شہید ہوگیا ،سوار محمد حسین شہیدکی جرات و شجاعت اور وطن سے بے لوث محبت کا جذبہ ہمیشہ زندہ و جاوید رہےگا

    سوار محمد حسین شہید (نشانِ حیدر)کے 54ویں یومِ شہادت کے موقع پر آج مساجد میں قرآن خوانی اور دعاؤں کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔ دن کا آغاز مساجد میں قرآن خوانی سے ہوا جہاں علمائے کرام نے سوار محمد حسین شہید کے بلند درجات اور وطنِ عزیز کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔شہید کی خدمات اور قربانی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے علمائے کرام نے اپنے خطابات میں کہا کہ شہید ہمیشہ زندہ ہوتے ہیں اور ان کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔علمائے کرام کے مطابق شہداء کا خون پوری قوم پر قرض ہے اور جو قومیں اپنے شہداء کی تکریم نہیں کرتیں وہ ذلیل و رسوا ہو جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زندہ قومیں اپنے محسنوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں اور ان کے احسانات کو کبھی نہیں بھولتیں۔علمائے کرام نے کہا کہ سوار محمد حسین شہید دھرتی کا بہادر بیٹا تھا، جس نے وطن کی خاطر اپنی جان قربان کرکے بہادری، وفا اور حب الوطنی کی لازوال مثال قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ شہید کا نام اور کردار ہمیشہ ہر دل میں زندہ رہے گا اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔

  • پاکستان کے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی کی صورتحال مزید خراب

    پاکستان کے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی کی صورتحال مزید خراب

    ملک کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جس کے باعث شہریوں کی صحت اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

    عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ کے مطابق دنیا کے بڑے آلودہ شہروں کی فہرست میں لاہور ایک مرتبہ پھر پہلے نمبر پر آ گیا ہے، جہاں فضائی آلائشوں کا لیول 253 پارٹیکولیٹ میٹر ریکارڈ کیا گیا، جو انسانی صحت کے لیے نہایت مضر تصور کیا جاتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق دیگر صوبائی دارالحکومتوں کی صورتحال بھی تشویش ناک ہے۔کوئٹہ میں آلودگی کا لیول 248 پی ایم تک پہنچ گیا،پشاور میں 243 پی ایم ریکارڈ ہوا،جبکہ کراچی میں 236 پی ایم کے ساتھ فضا مضر صحت قرار دی گئی۔

    ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی اسموگ، گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتی اخراج اور موسمی تبدیلیوں کے باعث آلودگی میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ صحت کے ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ ضرورت کے بغیر باہر نکلنے سے گریز کریں، ماسک کا استعمال کریں اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد خاص احتیاط برتیں۔

    دوسری جانب پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں شدید دھند کے باعث حدِ نگاہ بری طرح متاثر ہے۔ موٹروے پولیس کے مطابق دھند کے پیش نظر موٹروے ایم ون پشاور سے برہان تک جبکہ ایم فائیو ظاہر پیر سے شیر شاہ تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔ حکام نے ڈرائیوروں کو ہدایت کی ہے کہ دورانِ سفر فوگ لائٹس استعمال کریں، رفتار کم رکھیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے ہفتوں میں آلودگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس سے صحت کے مسائل اور ٹریفک حادثات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

  • لاہور: 48 گھنٹے بعد اغوا ہونے والا بچہ بازیاب، دو خواتین گرفتار

    لاہور: 48 گھنٹے بعد اغوا ہونے والا بچہ بازیاب، دو خواتین گرفتار

    لاہور میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کو پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے کامیابی سے حل کر لیا۔ دو روز قبل لاہور کے علاقے سے اغوا ہونے والا معصوم بچہ 48 گھنٹوں کی تلاش کے بعد بادامی باغ سے سلامت حالت میں بازیاب کرا لیا گیا۔

    پولیس کے مطابق بچے کے اغوا کی اطلاع ملتے ہی مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر تفتیش کا دائرہ وسیع کیا گیا۔ بدھ کی صبح ایک اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے بادامی باغ میں چھاپہ مارا جہاں سے بچہ برآمد ہوا۔ترجمان پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران دو خواتین ملزمان کو موقع سے گرفتار کیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ بچوں کو اغوا کرکے دوسرے صوبوں میں فروخت کرنے کے مکروہ کاروبار میں ملوث تھیں۔ ابتدائی تفتیش کے دوران خواتین نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔ گرفتار ملزمان سے تفتیش کے بعد مزید انکشافات متوقع ہیں

  • لاہور ہائیکورٹ،پاکستان میں تنخواہ ایک ہزار ڈالر کرنے کی درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ،پاکستان میں تنخواہ ایک ہزار ڈالر کرنے کی درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان میں کم از کم تنخواہ ایک ہزار امریکی ڈالر مقرر کرنے کی درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دے دیا۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے فہمید نواز کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی اور ابتدائی دلائل سننے کے بعد اسے مسترد کردیا۔سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت ایسی درخواستیں سننے کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی اور نہ ہی یہ فورم اخباری سرخیوں کے لیے درخواستیں دائر کرنے کی جگہ ہے۔ عدالت نے کہا کہ کم از کم اجرت کا تعین پالیسی کا معاملہ ہے، جو متعلقہ حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے، عدالت اس میں مداخلت نہیں کرسکتی۔

    درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ موجودہ کم از کم اجرت عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے، لہٰذا اسے ایک ہزار ڈالر کے برابر مقرر کیا جائے۔ تاہم عدالت نے درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کر دی۔

  • پنجاب: مسیحی سرکاری ملازمین کو کرسمس سے قبل تنخواہیں اور پنشن دینے کا فیصلہ

    پنجاب: مسیحی سرکاری ملازمین کو کرسمس سے قبل تنخواہیں اور پنشن دینے کا فیصلہ

    محکمہ خزانہ پنجاب نے مسیحی سرکاری ملازمین کو کرسمس کے تہوار سے قبل تنخواہیں اور پنشن فراہم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق صوبہ بھرکے تمام ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفسزاورمتعلقہ محکموں کو مراسلہ جاری کیا گیا ہے جس میں واضح ہدایت دی گئی ہے کہ دسمبرکی تنخواہیں اورپنشن 19 دسمبرتک تمام مسیحی ملازمین کوادا کی جائیں، یہ اقدام ملازمین کے مالی سہولت اور تہوارکی خوشیوں کو یقینی بنانے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔

    صوبائی حکومت نے تمام محکموں کو ہدایت کی ہے کہ ادائیگی کے عمل میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو اور ملازمین کو بروقت تنخواہیں اور پنشن فراہم کی جائیں،یہ اقدام صوبائی حکومت کی طرف سے کرسمس کے موقع پر سرکاری ملازمین کی مالی ضروریات اور خوشیوں کا خیال رکھنے کی کوشش کے طور پر لیا گیا ہےملازمین نے بھی اس فیصلے کو خوش آئند قراردیا ہے اور اسے کرسمس کی خوشیوں میں اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    یونیسکو نے سندھ کے قدیم لوک ساز بوریندو کو ثقافتی ورثے میں شامل کرلیا

    نیپرانےاضافی بجلی کی کھپت پر رعایتی نرخ کی منظور ی دے دی

    یونیسکو نے سندھ کے قدیم لوک ساز بوریندو کو ثقافتی ورثے میں شامل کرلیا

  • پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے جدید اے آئی سسٹم تیار کر لیا،مریم نواز

    پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے جدید اے آئی سسٹم تیار کر لیا،مریم نواز

    لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے ٹاک ٹو کیمرا کے نام سے ایک جدید اے آئی سسٹم تیار کر لیا،یہ سسٹم افسران کو مقامی زبان میں سوال کر کے پورا کیمرا نیٹ ورک چیک کرنے کی سہولت دیتا ہے-

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ 40 ہزار سے زائد شہری سیف سٹی کنیکٹ سروسز سے فائدہ اٹھا چکے ہیں حکومت کا ساتھ دیں، ہماری آنکھیں اور کان بنیں اور پنجاب سیف سٹیز کا حصہ بنیں، لاہور میں فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے کا واقعہ 15 ہیلپ لائن پر رپورٹ ہوا، اور باہمی رابطے کی بدولت آگ پر فوراً قابو پا لیا گیا، بروقت کارروائی سے مزید اسموگ اور ماحول کو نقصان سے بچا لیا گیا لودھراں افسوسناک واقعے میں کھلے مین ہول کے باعث ایک قیمتی جان ضائع ہوئی۔

    مریم نواز نے کہا کہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے ٹاک ٹو کیمرا کے نام سے ایک جدید اے آئی سسٹم تیار کر لیا ہے، یہ سسٹم افسران کو مقامی زبان میں سوال کر کے پورا کیمرا نیٹ ورک چیک کرنے کی سہولت دیتا ہے، یہ سسٹم ریئل ٹائم میں کھلے مین ہولز، اوور فلو ہوتے ڈمپسٹرز اور دھوئیں جیسے مسائل شناخت کرسکتا ہے،سٹم کا کامیاب پائلٹ ٹرائل لاہور اور شیخوپورہ میں کر لیا گیا ہے اور کامیاب ٹرائلز کے بعد ٹاک ٹو کیمرا کو پورے پنجاب میں توسیع دی جا رہی ہے،ٹیکنالوجی کا مقصد تیز رفتار رسپانس کو مضبوط بنانا اور اسمارٹ سٹی مینجمنٹ کو مزید بہتر کرنا ہے۔

    نوسٹراڈیمس کی 2026 سے متعلق خوفناک پیشگوئیاں

    وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ گنجان آباد علاقوں میں قبضہ شدہ زمینیں واگزار کروا کر خوبصورت تفریحی مقامات میں بدل دی گئی ہیں علاقے کے لوگوں کے لیے سبزہ زار، کھیل کے میدان اور اسپورٹس سہولیات شامل ہیں، جبکہ صوبے بھر میں وسیع پیمانے پر انفراسٹرکچر اور بیوٹیفکیشن کے منصوبے جاری ہیں ایک سال کے اندر پنجاب نمایاں طور پر بدل چکا ہو گا۔

    یورپی ملک میں خواتین نے ’کرائے پر شوہر‘ حاصل کرلیے

  • پنجاب حکومت کا چین کے ساتھ زرعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

    پنجاب حکومت کا چین کے ساتھ زرعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

    لاہور: پنجاب حکومت نے چین کے ساتھ زرعی تعاون بڑھانے پر اتفاق کر لیا۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت صوبے میں زرعی ترقی کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا اجلاس میں گندم کی بوائی، کسان کارڈ اور زرعی مشینری کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی،جس میں بتایا گیا کہ پنجاب میں یوریا کی فروخت میں پچھلے سال کے مقابلے میں 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور پنجاب میں کھاد کی مسلسل فراہمی، قیمتوں کا استحکام اور بلیک مارکیٹ کا مکمل خاتمہ ہوا،پنجاب حکومت میں کھاد نہ مہنگی ہوئی اور نہ ہی کوئی کمی سامنے آئی-

    پنجاب حکومت نے زرعی ترقی کو مزید فروغ دینے کیلئے چین کے ساتھ تعاون کو بھی بڑھانے پر اتفاق کیا،بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب کے ہر کھیت، ہر کسان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے 250 ارب روپے کے قرضے جاری کیے گئے، پنجاب کے ساؤتھ ریجن میں 105 ارب روپے کے قرضے دیئے گئے ،پنجاب کے کسانوں نے کسان کارڈ کے ذریعے 110 ارب روپے کی کھادیں خریدیں، اور 25 ارب روپے کے 30 ہزار گرین ٹریکٹر سے کسانوں کو جدید سہولتیں فراہم کی گئیں، جبکہ 10 ارب روپے کے 10 ہزار سپر سیڈرز کسانوں کو فراہم کیے گئے، گرین ٹریکٹر فیز 2 کے 5 ہزار 30 ٹریکٹرز تیار ہو گئے ہیں، اور 3 ہزار 389 ٹریکٹر کسانوں کو فراہم کیے گئے ہیں 38 اقسام کے آلات پر 68 فیصد سبسڈی دی جائے گی جبکہ پنجاب میں ایگری تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کے ساتھ 3 ایم او یوز پر دستخط کر دیئے گئے ہیں۔

    سیالکوٹ: تعلیمی اداروں میں بڑے پیمانے پر فرضی مشقیں، سیکیورٹی ردِعمل کا عملی جائزہ

    چین:سرکاری ادارے کے سابق اعلیٰ عہدیدار کو رشوت لینے پر سزائےموت

    سیالکوٹ: خصوصی افراد میں وہیل چیئرز، الیکٹرک چیئرز اور ٹرائی سائیکلوں کی تقسیم

  • بسنت سے قبل پنجاب حکومت کا نیا ضابطہ کار جاری

    بسنت سے قبل پنجاب حکومت کا نیا ضابطہ کار جاری

    لاہور:پنجاب میں بسنت کے تہوار سے قبل پتنگ اور ڈور بنانے والوں، فروخت کنندگان اور کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز کی باضابطہ رجسٹریشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    محکمہ داخلہ پنجاب نے پتنگ سازی، ڈور سازی اور ان کی خرید و فروخت کے لیے جامع ضابطہ کار تشکیل دے دیا ہے، جس کے تحت تمام افراد اور اداروں کے لیے مخصوص فارم لازمی قرار دیئے گئے ہیں، پتنگ یا ڈور بنانے، بیچنے یا خریدنے کے لیے فارم اے جمع کرانا ضروری ہوگا جبکہ تصدیق شدہ افراد کو سرکاری سرٹیفکیٹ فارم بی کے ساتھ جاری کیا جائے گا،جبکہ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز کی رجسٹریشن کے لیے فارم سی اور فارم ڈی مقرر کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے ان کی سرگرمیوں، ارکان اور انتظامی ڈھانچے کی مکمل تفصیل حاصل کی جائے گی۔

    محکمہ داخلہ حکام کے مطابق ڈوراور پتنگ کا سائز، میٹریل اورمعیارشیڈول ون کے مطابق مقررکیا جائے گا جبکہ غیر معیاری، کیمیکل یا دھاتی ڈور کی تیاری اورفروخت مکمل طورپرممنوع ہوگی، رجسٹرڈ ایسوسی ایشنز ضلعی انتظامیہ خصوصاً ڈپٹی کمشنرکی نگرانی میں بسنت کے انتظامات میں معاونت کریں گی تاکہ تہوارمحفوظ اورمنظم اندازمیں منایا جا سکے، ضابطہ کارکی خلاف ورزی پررجسٹریشن منسوخ کرنے کیساتھ ساتھ قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے،محفوظ بسنت کے لئے ضابطہ کار کے پہلے مرحلے کو مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ اگلے مراحل پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔

    چین:سرکاری ادارے کے سابق اعلیٰ عہدیدار کو رشوت لینے پر سزائےموت

    اوکاڑہ: ستھرا پنجاب مہم کے تحت صفائی انتظامات کی چیکنگ، اسسٹنٹ کمشنر کا متعدد علاقوں کا دورہ

    سیالکوٹ: وزیر اعلیٰ اعزازیہ پروگرام کیلئے 2500 آئمہ کرام کی رجسٹریشن مکمل، امن کمیٹی اجلاس میں اہم فیصلے