Baaghi TV

Category: لاہور

  • جہانگیر ترین کے بھائی عالمگیر ترین نے کی خودکشی

    جہانگیر ترین کے بھائی عالمگیر ترین نے کی خودکشی

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے

    حال ہی میں بننے والی نئی سیاسی جماعت استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین کے بھائی عالمگیر ترین نے خودکشی کرلی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمگیر ترین نے اپنے سر میں گولی ماری، وہ لاہور میں اپنے گھر میں تھے، پولیس موقع پر پہنچ گئی،

    عالمگیر ترین معروف بزنس مین اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ٹیم ملتان سلطانز کے مالک اور مینیجنگ ڈائریکٹر تھے ،جہانگیر خان ترین کو بھائی کی موت کی خبر پارٹی اجلاس کے دوران ملی۔ جہانگیر خان ترین اجلاس چھوڑ کر روانہ ہوئے، عالمگیر ترین لاہور کے علاقے گلبرگ میں رہائش پذیر تھے عالمگیر ترین صدیق ٹریڈ سینٹر گلبرگ کے قریب اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر تھے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمگیر ترین کی منگنی ہوئی تھی اوروہ دسمبر میں شادی کا پروگرام بنا رہے تھے، عالمگیر ترین کی شادی نہیں ہوئی تھی،عالمگیر ترین کی خود کشی کے حوالہ سے پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جائے وقوعہ کو سیل کر دیا گیا ہے، پولیس نے آلہ قتل کو بھی قبضے میں لے لیا ہے، پولیس نے عالمگیر کے فلیٹ کی بھی تلاش کی ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں خودکشی کی وجوہات کا تعین نہیں ہو سکا

    جہانگیر ترین کے بھائی عالمگیر ترین کا خط

    عالمگیر ترین کی نماز جنازہ کب ہو گی؟ اعلان ہو گیا
    استحکام پاکستان پارٹی کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عون چوہدری کا کہنا ہے کہ عالمگیر ترین کی نماز جنازہ رات ساڑھے 10 بجے ادا کی جائے گی، نماز جنازہ ماڈل ٹاؤن کی اے بلاک مسجد میں ادا کی جائے گی، پولیس نے واقعہ کی ابتدائی رپورٹ مرتب کر لی ہے، ابتدائی رپورٹ کے مطابق خود کشی صبح 6 سے 7 بجے کے درمیانی وقت میں کی گئی،عالمگیر ترین کی لاش کے قریب سے ایک تحریری نوٹ ملا ہے جس پر لکھائی ان کی اپنی ہی ہے ، موقع سے گولی کا ایک ہی خول ملا ہے ،انہوں نے اپنی پستول سے دائیں کنپٹی پر گولی چلائی

    عالمگیر ترین کا پوسٹمارٹم مکمل ،ابتدائی رپورٹ سامنے آ گئی
    جہانگیرترین کے بھائی عالمگیر ترین کا پوسٹمارٹم مکمل کر لیا گیا ہے،ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق عالمگیرترین کی موت سر میں گولی لگنے سے ہوئی ، پستول اور عالمگیرترین کا لکھا گیا خط فرانزک کیلئے بھجوا دیا گیا گولی سر کے ایک طرف کان کے اوپری حصے میں لگی ،دماغ کے ٹشوز بری طرح سے متاثر ہوئے ،موت بہت زیادہ خون بہنے کی وجہ سے ہوئی ،جسم پر تشدد کے کوئی نشان نہیں پائے گئے پوسٹ مارٹم میں نشے کی زیادتی کے شواہد نہیں ملے، عالمگیر ترین کی کان پٹی پر ایک گولی آر پار ہوئی،

    "استحکام پاکستان پارٹی” نام سے متعلق عون چودھری کی وضاحت

    چھینہ گروپ بھی استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کو تیار

    جہانگیرترین کی پارٹی کا نام الیکشن میں رجسڑیشن سے پہلے ہی الیکشن کمیشن اور اعلی عدلیہ میں چیلنج

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

    استحکام پاکستان پارٹی کی پریس کانفرنس، فواد چودھری "منہ” چھپاتے رہے، تصاویر وائرل

  • میرون لیزلی مڈلکوٹ پاک فضائیہ کا جنگجو پائلٹ ،جو وطن پہ قربان ہوا اور سمندر نے آج تک اس کی لاش واپس نہ کی

    میرون لیزلی مڈلکوٹ پاک فضائیہ کا جنگجو پائلٹ ،جو وطن پہ قربان ہوا اور سمندر نے آج تک اس کی لاش واپس نہ کی

    میرون لیزلی مڈلکوٹ پاک فضائیہ کے جنگجو پائلٹ

    وہ جو وطن پہ قربان ہوا اور سمندر نے آج تک اس کی لاش واپس نہ کی اس وطن پہ قربان ہونے والے ہر فرد کو سلام ہے۔

    یہ 1967 کا ذکر ہے ۔ عرب اسراٸیل جنگ شروع ہوچکی تھی ۔ یہ جنگ صرف عرب تک محدود نہ تھی بلکہ اسلام اور یہود کی وہ جنگ تھی جس کا حقیقی آغاز میثاقِ مدینہ اور خیبر کی فتح کے بعد ہوچکا تھا ۔ جیسا کہ تاریخ اور دینیات کا ہر طالبِ علم جانتا ہے کہ قومِ یہود اپنے شر اورشرارتوں کی وجہ سے اللہ کی نافرمان قوم ہے جس نے انبیاٸے کرام علیہم السلام کو بھی شہید کیا ۔ اسی قوم کی گردن پہ سیدنا یحییٰ علیہ السلام کا خون بھی ہے تو روح اللہ سیدنا عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام کو بھی شہید کرنے کی کوشش کی اور پھر سیدہ مریم علیہا السلام کے کردار پر بھی نعوذ باللہ کیچڑ اچھالنے کی جسارت اسی قوم کے افعال میں شامل ہے اسی لیے مسلمان ہوں یا مسیحی دونوں ہی کے نزدیک یہ شّری قوم ہے بلکہ کیتھولک مسیحی آج تک اس نافرمان قوم پہ تبرا بھیج کر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کرتے ہیں ۔ اسی لیے عرب اسراٸیل جنگ شروع ہوٸی تو عرب کے نسطوری اور کیتھولک مسیحیوں کے جذبات بھی مسلمانوں کے ساتھ شامل تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ صیہونی طاقت امنِ عالم کی سب سے بڑی دشمن ہے ۔ اس جنگ نے نظریاتی رخ اختیار کیا تو اسراٸیل نے جرمن اور امریکی یہودی فوجی افسران بھی جنگ میں جھونک دیئے ۔

    عرب ممالک اس وقت جدید جنگی حالات سے واقف نہ تھے چنانچہ اُن کی نگاہیں اپنے بڑے بھاٸی پاکستان پر گٸیں جو دو سال قبل بھارت جیسی مضبوط قوت کو شکست دے چکا تھا ۔ پاکستان جس کے متعلق اسراٸیل نے اپنے ناجاٸز وجود کے دن ہی کہہ دیا تھا کہ ہمارا دشمن پاکستان ہے تو پاکستان اب عرب ممالک کا ساتھ دینے کے لیے حق بجانب تھا پھر یہی وہ دور تھا جب اسراٸیل بھارت کی خفیہ ایجنسی ” را ” کو مضبوط کر رہا تھا اسی لیے اس جنگ میں پاکستان نے اپنے فضاٸی مجاہد عربوں کے دفاع کے لیے بھیجنے کا تہیہ کرلیا ۔ مگر اس جنگ میں جانا پاک فضاٸیہ کے افسران کے لیے ایک آپشن تھا اسی لیے وہی افسران جاسکتے تھے جو خود جانا چاہیں ۔ ابھی فضاٸیہ میں یہ اعلان ہی ہوا تھا کہ مسرور بیس کراچی پر تعینات ایک مسیحی اسکواڈرن لیڈر جو جنگِ ستمبر میں شاندار کارنامے دکھا کر ستارہ جرأت حاصل کرچکا تھا اس نے خود کو پیش کردیا ۔ بیس کمانڈر نے درخواست موصول ہونے کے ساتھ اسے اپنے دفتر بلوایا اور کہا مسٹر میروِن ! یہ جنگ سراسر مسلمانوں اور یہودیوں کی ہے آپ اس میں کیوں شریک ہونا چاہتے ہیں ؟ مسیحی افسر نے جواباً کہا ” سر ! مجھے پاکستان عزیز ہے اور اسراٸیل یقینی طور پر پاکستان کا دشمن ہے تو میری خواہش ہے کہ پاکستان کے دشمن کو سبق سکھاٶں تاکہ وہ جان لے کہ پاکستان کیا چیز ہے –

    ایرون کا یہ حوصلہ دیکھ کر بیس کمانڈر نے پھر سمجھایا تو اب کی بار میرون نے کہا ” سر ! یہودی قوم موت کے خوف سے جنگ سے ہمیشہ بھاگتی ہے ۔ اب کی بار ہاتھ آٸی ہے تو دشمنِ خدا اور دشمنِ یسوع کو سبق سکھانے کا اس سے اچھا موقع پھر نہیں آٸے گا ۔ اسی لیے میں جانا چاہتا ہوں یہ سن کر بیس کمانڈر نے اسے نامزد کردیا اور وہ مسیحی پاٸلٹ اپنے رہبر ونگ کمانڈر سیف الاعظم اور دیگر پاکستانی پاٸلٹس کے ساتھ شام روانہ ہوگیا ۔

    ملکِ شام پہنچے تو جنگ شدت اختیار کرچکی تھی ۔ عرب کی مشترکہ فضاٸیہ کے پاس ابھی فضاٸی جنگ کا عملی تجربہ نہیں تھا اسی لیے پاکستانیوں کو دیکھ کر ان کے حوصلے بلند ہوگٸے ۔ اب پاکستانیوں نے عربوں کو حوصلہ دیتے ہوٸے وہی حکمتِ عملی اپناٸی جو جنگِ ستمبر میں خود اپناٸی تھی یعنی دفاعی پوزیشن کی بجاٸے جارحانہ حکمتِ عملی اور دشمن کو اس کے گھر ہی میں گھس کر مارنا !

    عرب افیسران پہلے منع کرتے رہے لیکن اسکوڈرن لیڈر سیف الاعظم نے انہیں سمجھایا تو انہوں نے مگ طیارے ان پاکستانی پاٸلٹوں کے حوالے کردیئے ۔ پہلے دن ہی میرون اور سیف الاعظم نے سرحدوں پہ فضاٸی گشت کرکے اسراٸیلی فضاٸیہ کا جاٸزہ لیا جو اس وقت بے حد مضبوط تھی ۔ لیکن ان دونوں پاٸلٹس کو یقین تھا کہ فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے اسی لیے وہ اسراٸیل کو بھی دھول چٹادیں گے ۔ چنانچہ فیصلہ کیا گیا کہ صبح ہوتے ہی تل ابیب کے قریب اسراٸیل کے ہواٸی پر حملہ کیا جاٸے گا اسی لیے پاک فضاٸیہ کے شاہینوں نے اگلے دن کا انتظار کیا اور سورج نکلتے ہی مشن پر روانہ ہوگٸے ۔ میرون اور سیف کے پاس روسی مگ طیارے تھے جو شامی فضاٸیہ سے لیے گٸے تھے دونوں نے اڑان بھرتے ہوٸے جولان کے پہاڑوں کا رخ کیا جہاں سے ہدف قریب تھا۔ کچھ ہی لمحوں میں وہ انبیإ کے شہر بیت المقدس کے اوپر سے گذر رہے تھے جہاں مسجدِ اقصیٰ کے آنسو یقیناً انہوں نے محسوس کیے ہوں گے ۔ پھر وہ وقت بھی آگیا جب یہود کے جنگی جنون کا اہم ہواٸی مستقر ان کے نیچے تھا ۔

    اسراٸیل کو یقین ہی نہ تھا کہ عربوں میں اتنی جرأت کہ وہ یہاں آسکیں اسی لیے راستے میں کوٸی مزاحمت بھی نہ ہوٸی اور ایٸر بیس پر بھی سناٹا تھا ۔ ان پاٸلٹس کا مشن رن وے تباہ کرنا تھا تاکہ بیس شام ،اردن اور لبنان پر حملوں کے لیے ناکارہ ہوجاٸے اسی لیے وقت ضاٸع کیے بغیر دونوں نے بمباری شروع کردی ۔ دھماکے ہوتے ہی اسراٸیلی فضاٸیہ حرکت میں آٸی اور ان پر جھپٹ پڑی لیکن یہ شاہین اپنا کام کرچکے تھے ۔ اسراٸیل نے متبادل راستے سے اپنے طیارے بھیجے تو تل ابیب کی سرحد پر ایروِن نے اسراٸیلی طیارہ مار گرایا !! راستے میں ایک اور مدبھیڑ ہوٸی جس میں ایک جرمن نژاد یہودی بھی طیارے سمیت جھلس گیا ۔ اس کے بعد اسراٸیل سے جولان کی وادی میں مقابلہ ہوا تو اسراٸیلیوں کے لیے وہ معرکہ یومِ موت بن چکا تھا جس میں ایرون اور سیف الاعظم نے ناصرف اسراٸیلی طیاروں کو خاک میں ملایا بلکہ اسراٸیلی برّی فوج کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ عربوں سے مقابلہ کررہی تھی !! یہ شاندار اور تاریخی معرکہ انجام دینے کے بعد دونوں شاہین واپس آگٸے تو فضاٸیں نعرہ تکبیر سے بلند تھیں ۔ گوکہ اسراٸیل نے چھ روزہ برّی جنگ میں جدید ساز و سامان کے باعث برتری حاصل کرلی تھی لیکن فضاٸی محاذ پر اسراٸیل کو شدید نقصان اٹھانا پڑا اسی لیے اسراٸیل نے جنگ بندی پہ دستخط کردیئے کیونکہ اسے یقین تھا کہ اگر ایسا ہی ہوتا رہا تو کوٸی بعید نہیں کہ عرب مجاہدوں کے ہاتھوں سارے یہودی ہی مارجاٸیں جبکہ ابھی اسراٸیل نے عربوں کے صحراٸے سینا سمیت کچھ علاقے ہتھیالیے تھے جس کے جواب میں عرب مجاہدوں کی جانب سے شدید مزاحمت جاری تھی ۔ مصری فوج کی پسپاٸی کے بعد اب اخوان المسلمون سمیت عالمِ اسلام کے رضاکار بھی تیار بیٹھے تھے ( یہود کتنا مقابلہ کرتے علاقوں پہ قبضے کے بعد اُنکی جانیں بھی بہرحال جارہی تھیں اور اہلِ یہود کو سب سے زیادہ خوف موت ہی کا ہوتا ہے !! ) ۔ا

    سراٸیلی وزیرِ دفاع موشے دیان نے کہا کہ ” تل ابیب تک آنا اور پھر جولان میں فضاٸیہ کا بہادری سے لڑنا سمجھ نہیں آتا ۔ یہ عربوں کی نہیں بلکہ پاکستانیوں کی اڑان لگتی ہے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ شامی ، مصری یا اردنی نہیں بلکہ پاکستانی تھے ” ۔ ” دجال نما” موشے دیان کی بات بھی درست تھی ( تقریباً یہی بیان 1973 میں گولڈا ماٸر نے بھی دیا تھا جو مزید دھمکی آمیز تھا ) کیونکہ یہ پاکستانی ہی تھے جو سیف الاعظم کی قیادت میں عرب مجاہدین کے ساتھ نیلے آسمان تلے سینہ سپر تھے ۔ اور وہ مسیحی پاٸلٹ میروِن بھی اس جنگ میں عربوں کا ہیرو بن کر ابھرا جسے تاریخ ” ونگ کمانڈر میروِن لیزلی مڈل کوٹ ” کے نام سے جانتی ہے ۔

    جی ہاں پاکستان کے یہ مسیحی فرزند جنہوں نے 1954 میں پاک فضاٸیہ میں شمولیت اختیار کی، ایک بے مثال پاٸلٹ تھے جنھوں نے جنگ ستمبر اور پھر جنگِ دسمبر 1971 میں دوبار ستارہٕ جرأت لیا اور وہ ایم ایم عالم کے بعد پاک فضاٸیہ کی تاریخ میں دوسرے فرد بنے جنھیں بارِ دگر یہ اعزاز ملا ہو !!

    ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل میرون لیزلی مڈلکوٹ 6 جولائی 1931 کو لدھیانہ کے ایک مسیحی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد کا نام پرسی مڈلکوٹ اور والدہ کا نام ڈیزی مڈلکوٹ تھا۔ جب پاکستان بنا تو انکا گھرانہ بھی ہجرت کر کے لاہور میں بس گیا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سینٹ اینتھونی ہائی اسکول سے حاصل کی اور بعد ازاں لارنس کالج گھوڑا گلی مری سے استفادہ حاصل کیا۔ انہوں نے 1954ء میں پاکستان ایئر فورس میں شمولیت اختیار کی۔

    1965 کی پاک بھارت جنگ میں یہ کراچی کے PAF بیس مسرور میں F86 جہازوں کا ایک سکواڈرن کمانڈ کر رہے تھے۔ اسی جنگ کی ایک رات بھارتی جہازوں نے کراچی پر بھرپور حملہ کیا۔ سکواڈرن لیڈر مڈلکوٹ نے ایک F86 طیارے میں take off کیا اور آناً فاناً میں دشمن کے دو طیارے مار گرائے۔ ان طیاروں کے دونوں بھارتی پائلٹ بھی مارے گئے۔ پوری جنگ کے دوران مڈلکوٹ نے ایسی بہادری کا مظاہرہ کیا کہ ان کے زیر کمان افسر اور جوان بھی ان کی دیکھا دیکھی شیروں کی طرح لڑے۔ جنگ کے اختتام پر ان کی بہادری کے صلے میں انہیں ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔

    1967 میں عرب اسراٸیل جنگ کے بعد اردنی فضاٸیہ نے انہیں اپنے اسکوڈرنز کی تربیت کے لیے رکھ لیا اور وہ اردنی اور لبنانی فضاٸیہ کی تربیت کرتے رہے ۔ اسی دوران دسمبر 1971 آگیا ۔ میرون کو چونکہ اپنے دیس پاکستان سے محبت تھی چنانچہ انہوں نے اردنی حکام سے اجازت لی ۔ جارڈن ایٸر چیف نے انھیں روکا تو ایرون نے صاف منع کردیا اور کہا ” آپ سب کی محبتوں کا شکریہ لیکن ابھی میرا وطن مجھے پکار رہا ہے ۔ وہاں حالات شدید خراب ہیں اسی لیے میری غیرت اجازت نہیں دیتی کہ میں یہاں امن و سکون سے رہوں ”

    وہ 11 دسمبر 1971 کو وطن واپس آٸے ۔ اور آتے ہی مسرور بیس کراچی میں دوبارہ اپنا ونگ جواٸن کرلیا ۔ بھارت نے کچھ دن قبل ہی کراچی پر حملہ کیا کرکے یہاں ریفاٸنری میں بمباری کی تھی اسی لیے اس کے حوصلے بلند تھے چنانچہ پاک فضاٸیہ نے فیصلہ کیا کہ 1965 کی طرح ایک بار پھر بھارت کے خلاف جارحانہ اقدام اٹھایاجاٸے اور اس کے شہر جام۔نگر کے ہوٸی اڈے کو تباہ کرکے بھارتی پرواز کی ناکہ بندی کی جاٸے ۔ 1965 میں بھی بھارت نے کراچی پر حملہ کیا تھا تو پاک فضاٸیہ نے اپنے اس شاہین میروِن مڈل کوٹ کو سیبر طیارے کے ساتھ بھیجا تھا اور انھوں نے بھارت کے دو طیارے کراچی کے ساحل میں گرا کر ” محافظِ کراچی” کا لقب حاصل کیا تھا اور اسی کارنامے پر انھیں ستارہ جرأت بھی دیا گیا تھا ۔

    12 دسمبر 1971 کو پاک فضاٸیہ نے جنگِ ستمبر والی حکمتِ عملی اپناتے ہوٸے جارحانہ اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا اور ونگ کمانڈر میرون مڈل کوٹ کو امرتسر کے مشن پر بھیجا گیا جہاں ان کا ٹارگٹ رن وے اور ریڈار تباہ کرنا تھا ۔ یہی وہ امرتسر کا ہواٸی اڈا تھا جہاں پر نصب ریڈار سسٹم سے بھارت پاکستانی فضاٸیہ کی نقل و حرکت دیکھتا تھا ۔ میرون نے مشن قبول کیا اور وہ اپنی فارمیشن کے ساتھ روانہ ہوگٸے ۔ امرتسر کے ہواٸی اڈے پر حفاظتی دستے موجود تھے لیکن میرون کی جھپٹ نے ان سب کو للکارتے ہوٸے جام نگر کے ” شیطان خانے ” کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا ۔ تقریباً چار منٹ میں آپریشن مکمل ہوگیا تو میرون کامیاب و کامران واپس پلٹے ۔ وہ ابھی بحیرہ عرب سے گذر ہی رہے تھے کہ ان کی بھارتی جہازوں سے مدھ بھیڑ ہوگٸی ۔ نیچے گہرا سمندر تھا اور اوپر آگ کا فضاٸی معرکہ ! میرون نے ہتھیار نہ ڈالے بلکہ بھارتی جہازوں کا تنہا مقابلہ کرنے لگے ۔ چار بھارتی طیاروں نے انھیں گھیر لیا تھا مگر ہر بار بار وہ فضاٸی ناکہ توڑ جاتے ۔ اسی دوران ان کے جہاز کو بھارتی پاٸلٹ بھوشن سونی نے نشانہ بنالیا ۔ اب میروِن کا جلتا ہوا طیارہ فضإ میں قلابازیاں کھانے لگا تو میرون نے Eject کرلیا ۔ اور سمندر میں اپنے پیراشوٹ سمیت آگٸے لیکن وہ سمندر ہی نہیں بلکہ شارک مچھلیوں کی مضبوط کمین گاہ تھی ۔ میرون کو آتے دیکھ کر ساری شارک مچھلیاں ان پر ٹوٹ پڑیں اور یوں ونگ کمانڈر اپنا کامیاب فرض نبھا کر واپسی پر شارک کا نوالا بن گٸے لیکن آسمان پر موجود بھارتی طیاروں نے بھی ان کی عظمت کی داد دی کہ انھوں نے پاک وطن کی خاطر خود کو سمندر کی اور شارک کی نذر کردیا لیکن بھارت کے ہاتھوں جنگی قیدی نہ بنے ۔۔ !! ( یہی ہماری ریت ہے کہ ہم دشمن کی قید میں Tea was Fantasitic نہیں کہتے ! )
    میرون کی خبر جیسے ہی پاکستان میں پہنچی تو اہلِ پاکستان کے ساتھ ساتھ اردن، لبنان اور شام میں بھی افسردگی چھا گٸی بلکہ اردن کی حکومت نے کہا تھا کہ اگر میرون کی باقیات مل جاٸیں تو وہ انھیں دے دی جاٸیں یا ان کے جسدِ خاکی کو اردنی پرچم میں لپیٹ کر سپردِ خاک کیا جاٸے ۔یوں پاکستان کا یہ مسیحی سپوت جس نے بھارت اور اسراٸیل کو ان ہی کے ” گھر میں گھس کر مارا” تھا تاریخ میں اپنا خون دے کر امر کرگیا ۔

    جنگ کے بعد ان کی اس بے مثال بہادری پر ان کو ایک دوسرے ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔ مڈلکوٹ کی قربانی پر اردن کے شاہ حسین نے نہ صرف ان کے اہل خانہ کے ساتھ ذاتی طور پر تعزیت کی بلکہ یہ درخواست بھی کی کہ اگر ان کے جسم کو پاکستان کے قومی پرچم کے ساتھ دفنایا جائے تو اس کے ساتھ اردن کے پرچم کو ان کے سر کے نیچے رکھا جائے۔ اس اعزاز کی وجہ 1967ء کے دوران میں اسرائیل کے خلاف جنگ میں ان کی خدمات تھیں-

    میرون لیزلی مڈلکوٹ نے 27 ستمبر 1957 کو جینی ویگاس سے شادی کی جن سے 21 اکتوبر 1959 کو ایک بیٹی پیدا ہوئی۔این لیزلی۔ یہ بچی جب 8 سال کی تھی تب ایک دن اسے اسکول کے ایک بچے نے کہا "تمہارا نام عجیب ہے آپ پاکستانی نہیں ہو آپ اس ملک کو چھوڑ دو”۔ یہ روداد سن کر بچی کے والد نے کہا کہ پاکستانی جھنڈے میں سبز حصہ مسلمانوں کی علامت ہے اور سفید حصہ لیزلی کے لیے ہے۔

  • محافظ ہو جہاں محمود عالم سا کوئی بیٹا ، وہ دھرتی سر اٹھاتی ہے وہ مائیں فخر کرتی ہیں

    محافظ ہو جہاں محمود عالم سا کوئی بیٹا ، وہ دھرتی سر اٹھاتی ہے وہ مائیں فخر کرتی ہیں

    فخر پاکستان ایم ایم عالم

    ( محمد محمودعالم کا یوم پیدائش)

    عقابوں کے تسلط پر فضائیں فخر کرتی ہیں
    خودی کے راز دانوں پر دعائیں فخر کرتی ہیں

    محافظ ہو جہاں محمود عالم سا کوئی بیٹا !!!!!
    وہ دھرتی سر اٹھاتی ہے وہ مائیں فخر کرتی ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عابی مکھنوی
    ٭ائر کموڈور ایم ایم عالم کی یاد میں

    محمد محمودعالم (جنہیں ایم ایم عالم بھی کہا جاتا ہے) پاکستان کے جنگی ہواباز تھے۔ جن کی وجہ شہرت گنیز بک ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ایک منٹ میں سب سے زیادہ طیارے مار گرانے کا ریکارڈ ہے وہ 06 جولائی 1935 کو کلکتہ کے ایک خوشحال اور تعلیم یافتہ گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ ثانوی تعلیم 1951 میں سندھ گورنمنٹ ہائی اسکول ڈھاکہ (سابقہ مشرقی پاکستان )سے مکمل کی ۔

    1952 میں فضائیہ میں آئے اور 2 اکتوبر 1953 کو کمیشنڈ عہدے پر فائز ہوئے ۔ ان کے بھائی ایم شاہد عالم ایک معاشیات کے پروفیسر تھے نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی میں اور ایک اور بھائی ایم سجاد عالم SUNY البانی میں طبعیات دان تھے ۔ 1965 کی جنگ میں پاکستان کے لیے نمایاں کارنامہ انجام دیا ۔ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد ان کی فیملی پاکستان میں قیام پزیر رہی ۔

    1965 کی جنگ کے بعد 1967 میں آپ کا تبادلہ بہ طور اسکواڈرن کمانڈر برائے اسکواڈرن اول کے طور پر ڈسالٹ میراج سوم لڑاکا طیارہ کے لیے ہوا جو پاکستان ایئر فورس نے بنایا تھا ۔ 1969 میں ان کو اسٹاف کالج کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ۔ 1972 میں انہوں نے 26ویں اسکواڈرن کی قیادت دو مہینے کے لیے کی ۔ بنگالی ہونے کی وجہ سے 71 کی جنگ میں آپ کو ہوائی جہاز اڑانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ 1982 میں ریٹائر ہو کر کراچی میں قیام پزیر ہوئے ۔

    سکواڈرن لیڈر محمد محمودعالم کو یہ عزاز جاصل ہے کے انھوں نے 1965 کی پاک بھارت جنگ میں سرگودھا کے محاذ پر پانچ انڈین ہنٹر جنگی طیاروں ایک منٹ کے اندر اندر مار گرایا جن میں سے چار تیس سیکنڈ کے اندر مار گرائے گئے تھے ۔ یہ ایک عالمی ریکارڈ تھا۔اس مہم میں عالم صاحب ایف 86 سیبر طیارہ اڑا رہے تھے جو اس زمانے میں ہنٹر طیارے سے تینکی اعتبار فرو تر تھا۔ مجموعی طور پر آپ نے نو طیارے مار گرا‎ئے اور دو کو نقصان پہنچایا ہے۔ جن میں چھ ہاک ہنٹر طیارے تھے ۔

    اس کارنامے میں درج ذیل نقصانات دشمن کے ہوئے :

    ستمبر 6, 1965, 1× ہاوکر ہنٹر

    اسکواڈرن لیڈر , No. 7 Sqn, KIA نزد ترن تارن اجیت کمار راولی.

    ستمبر 7, 1965, 5× ہاوکر ہنٹر

    اسکواڈرن لیڈر اونکار ناتھ کیکر, No. 27 Sqn, جنگی قیدی

    اسکواڈرن لیڈر اے بی دیویا , No. 7 Sqn (جن کے متعلق یہ دعوی بھی کیا جاتا ہے کہ یہ فلائٹ لیفٹنٹ امجد حسین تھے ۔

    اسکواڈرن لیڈر سریش بھی ٰبھگوت, No. 7 Sqn

    فلائٹ لفٹنٹ بی گوہا , No. 7 Sqn

    فلائنگ آفسیر جگدیشن سنگھ برار, No. 7 Sqn, KIA, نزد سانگلہ ہل.

    سمتبر16, 1965, 1× ہاؤکر ہنٹر

    فلائنگ آفیسر فرخ دارا بنشا, No. 7 Sqn, KIA, نزد امرتسر.

    بھارتی فضائیہ کی طرف سے ایم ایم عالم کے اس کارنامے کے تصدیق کے طور پر چار طیاروں کے مارے جانے کی اطلاع ملی پانچویں طیارے اسکواڈرن لیڈر اونکار ناتھ کیکر کسی زمینی حملے کا شکار ہوئے تھے ۔بنگالی ہونے کی وجہ سے 71 کی جنگ میں آپ کو ہوائی جہاز اڑانے کی اجازت نہیں دی گئی، مگر آپ نے جنگ سے بعد پاکستان میں ہی قیام کیا۔

    ایم ایم عالم جنرل ضیاالحق کے خلاف تھے، خفیہ ادارے ان کی گفتگو ریکارڈ کرتے تھے1982ءمیں انور شمیم ائیر فورس کے چیف تھے یہ صدر جنرل ضیاالحق کے دوست بھی تھے یہ دونوں اردن میں اکٹھے رہے تھے ائیر مارشل انور شمیم شاندار انسان تھے لیکن وہ اپنی بیگم کے زیر اثر تھے بیگم صاحبہ پر کرپشن کے الزامات لگ رہے تھے ایم ایم عالم ائیر فورس کے میس میں ان الزامات کا ببانگ دہل ذکر کرتے تھے وہ بار بار کہتے تھے جنرل ضیاالحق اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ملک کو تباہ کر رہے ہیں خفیہ ادارے نے یہ گفتگو ٹیپ کر کے چیف آف ائیر سٹاف کو پہنچا دی انور شمیم یہ ٹیپ لے کر جنرل ضیاالحق کے پاس چلے گئے جنرل ضیاالحق نے ٹیپ سنی اور ایم ایم عالم کو ائیر فورس سے فارغ کرنے کا حکم دے دیا اور یوں پاکستان کے ہیرو اور ائیر فورس کے ہسٹری کے ورلڈریکارڈ ہولڈر ایم ایم عالم کو 1982ءمیں قبل از وقت ریٹائر کر دیاگیا وہ اس وقت ائیر کموڈور تھے ایم ایم عالم کی پنشن سمیت تمام مراعات روک لی گئیں-

    وہ 1969ءمیں سٹاف کالج میں تھے لیکن ان کے باغیانہ خیالات کی وجہ سے انہیں سٹاف کالج سے فارغ کر دیا گیا۔وہ درویش صفت انسان تھے دنیا میں ان کا کوئی گھر نہیں تھا شادی انہوں نے کی نہیں تھی لہذا وہ ریٹائرمنٹ کے بعد چک لالہ ائیر بیس کے میس میں مقیم ہو گئے وہ ایک کمرے تک محدود تھے کتابیں تھیں عبادت تھی اور ان کی تلخ باتیں تھیں حکومت کوشش کر کے نوجوان افسروں کو ان سے دور رکھتی تھی لیکن اس کوشش کے باوجود بھی اگر کوئی جوان افسر ان تک پہنچ جاتا تھا تو اس کے کوائف جمع کر لئے جاتے تھے اور بعد ازاں اس پر خصوصی نظر رکھی جاتی تھی چنانچہ نوجوان افسر بھی ان سے پرہیز کرنے لگ گئے تھے۔جنرل ضیاالحق کے بعد ائیر فورس نے انہیں پنشن اور دیگر مراعات دینے کی کوشش کی لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا وہ خوددار انسان تھے وہ دس دس دن فاقہ کاٹ لیتے تھے۔

    1965 کی جنگ کے مذکورہ بے مثال جرات اور بہادری سے بھرپور کارنامے پر ایم ایم عالم کو ستارہ جرات سے نوازا گیا لاہور میں گلبرگ کے علاقے میں ایک اہم سڑک کا نام فخر پاک فضائیہ ایئر کموڈور محمد محمود عالم کے نام پر ایم ایم عالم روڈ رکھا گیا طویل عرصے تک علیل رہنے کے بعد 18 مارچ 2013ء کو پھیپھڑے کے مرض سے کراچی میں ان انتقال ہوا نماز جنازہ پی اے ایف بیس مسرور میں ادا کی گئی ۔ مرحوم نے سوگواران میں تین بھائی اورایک بہن چھوڑے ۔

  • یاسمین راشد اور خدیجہ شاہ سمیت دیگرخواتین کےجوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

    یاسمین راشد اور خدیجہ شاہ سمیت دیگرخواتین کےجوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

    لاہور: جناح ہاؤس حملہ اور جلاؤ گھیراؤ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما یاسمین راشد اور خدیجہ شاہ سمیت دیگر خواتین کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کردی گئی۔

    لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں جناح ہاؤس حملہ اور جلاؤ گھیراؤ کیس پر سماعت ہوئی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کی جج عبہر گل نے کی دوران سماعت خواتین کو جوڈیشل ریمانڈ کی معیاد مکمل ہونے پر پولیس نے عدالت میں پیش کیا عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد، خدیجہ شاہ، صنم جاوید سمیت دیگر خواتین کے جوڈیشل ریمانڈ میں 20 جولائی تک توسیع کر دی۔عدالت نے سانحہ 9 مئی کے دیگر ملزمان کی عدم پیشی پر اظہار برہمی کیا اور پولیس کو آئندہ سماعت پر حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری پر ملک گیر پُرتشدد احتجاج کیا گیا جس میں قومی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، شرپسندوں نے فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔ جس کے بعد پی ٹی آئی کے کئی رہنما اور کارکنان گرفتار ہیں اور انھیں متعدد مقدمات کا سامنا ہے۔

    عمران خان 9 مئی کے واقعات میں بھی ملزم نامزد

    دوسری جانب پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو جی ایچ کیو حملہ کیس میں حساس تنصیبات اورمیٹروسٹیشن جلانے کے مقدمات میں بھی ملزم نامزد کر دیا گیا عمران خان کو راولپنڈی کے تھانہ آراے بازاراورتھانہ نیوٹاؤن میں درج انسداد دہشت گردی اوردیگر دفعات کے تحت درج کئے گئے دو مقد مات میں نامزد کیا گیا 9 مئی کو ہونے والے پرتشددواقعات میں راولپنڈی پولیس نے جی ایچ کیو پر حملے کے الزام میں تھانہ آراے بازارمیں ایف آئی آرنمبر 208 ،سابق وزیرقانون پنجاب راجہ بشارت سمیت پی ٹی آئی کے 15 نامزد اور دیگر 300 نامعلوم کارکنوں کے خلاف سب انسپکٹر ملک محمدریاض کی مدعیت میں درج کی تھی –

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف غیر شرعی نکاح کیس میں نظر ثانی …

  • پرویز الہٰی کی مقدمات اور انکوائریوں کی تفصیلات کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری

    پرویز الہٰی کی مقدمات اور انکوائریوں کی تفصیلات کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری

    لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کی مقدمات اور انکوائریوں کی تفصیلات کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

    لاہور ہائیکورٹ میں چوہدری پرویز الہٰی کی مقدمات اور انکوائریوں کی تفصیلات کی درخواست پر سماعت ہوئی پرویزالہیٰ کی جانب سے ایڈووکیٹ عامر سعید راں دلائل کے لیے عدالت میں پیش ہوئے۔ درخواست میں نگراں حکومت، اینٹی کرپشن، ایف آئی اے،آئی جی جیل، نیب، آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔

    وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کیخلاف سیاسی بنیادوں پر کیسز بنائے گئے، اینٹی کرپشن کے کئی بےبنیاد کیسز سے ڈسچارج اور ضمانت منظور ہوچکی ہے، ضمانت منظور ہونے کے بعد نامعلوم کیس میں دوبارہ گرفتار کرلیا جاتا ہے۔

    پنجاب، سی ٹی ڈی کی مختلف کارروائیوں میں سات دہشت گرد گرفتار

    پرویز الہیٰ کے وکیل کا کہنا تھا کہ سرکاری ادارے کیسز اور انکوائریوں کی تفصیلات فراہم نہیں کر رہے، عدالت سے استدعا ہے کہ حکام کو حکم دے کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کو بکتر بند گاڑی کی بجائے ہوا دار گاڑی میں پیش کریں اور نامعلوم کیسز میں گرفتار نہ کیا جائے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے آئندہ سماعت پر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 13 جولائی تک ملتوی کردی۔

    آئی سی سی کی سالانہ میٹنگز میں شرکت کیلئےذکا اشرف کل جنوبی افریقا جائیں گے

  • پنجاب، سی ٹی ڈی کی مختلف کارروائیوں میں سات دہشت گرد گرفتار

    پنجاب، سی ٹی ڈی کی مختلف کارروائیوں میں سات دہشت گرد گرفتار

    لاہور میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے مختلف کارروائیوں میں سات دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا۔

    ترجمان محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے مطابق پنجاب کے مختلف شہروں میں خفیہ اطلاعات پر آپریشنز کیے گئے جس کے نتیجے میں7 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا ہے تمام آپریشن انٹیلی جنس بیسڈ پر کیے گئے کارروائیاں راولپنڈی، ساہیوال، بہاولپور اور گوجرا نو الہ میں کی گئیں۔

    سی ٹی ڈی حکام نے بتایا کہ آپریشن کے دوران گرفتار سات دہشت گردوں کے قبضے سے بارودی مواد، موبائل فون، اسلحہ اور رقم برآمد کی گئی گرفتار دہشت گردوں کے خلاف مقدمات درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی ہے، جب کہ ان کے دیگر ساتھیوں کی تلاش میں بھی چھاپے مارے جارہے ہیں ترجمان کے مطابق دہشتگردوں کا تعلق کالعدم القاعدہ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے ان کے قبضے سے بارودی مواد، ڈیٹونیٹر، موبائل فون، اسلحہ اور گولیاں برآمد ہوئی ہیں۔

    سرگودھا: کالعدم تنظیم کے دہشت گرد کو جرم ثابت ہونے پر 30 سال قید ،جائیداد …

    علاوہ ازیں سرگودھا کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے کالعدم تنظیم کے دہشت گرد کو جرم ثابت ہونے پر 30 سال قید ،جائیداد ضبط کرنے اور 50 ہزار روپے جرمانے کا حکم سنادیا، مقدمہ کی سماعت کے بعد مجرم کو سخت سکیورٹی میں جیل منتقل کردیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق کاؤنٹر ٹیرایزم ڈیپارٹمنٹ نے 27 مارچ2023 کو سرگودھا کے قصبہ حیدر آباد ٹاؤن کی گلی نمبر 5 کے رہائشی کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے طاہر محمود نامی دہشت گردی کو گرفتار کرکے اس کے قبضہ سے بارودی مواد، ڈیٹو نیٹر، سیفٹی فیوز، پسٹل برآمد کیا تھا جس کا مقدمہ دہشت گردی کی دفعات کے تحٹ سی ٹی ڈی تھانہ سرگودھا میں درج کیا گیا تھا-

    اسلام آباد؛ کنسٹیبل عنصر محمود گولی لگنے سے جان بحق

  • آئی سی سی کی سالانہ میٹنگز میں شرکت کیلئےذکا اشرف کل جنوبی افریقا جائیں گے

    آئی سی سی کی سالانہ میٹنگز میں شرکت کیلئےذکا اشرف کل جنوبی افریقا جائیں گے

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی سالانہ میٹنگز میں شرکت کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کی مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین ذکا اشرف کل جنوبی افریقا روانہ ہوں گے۔

    ذرائع کے مطابق ذکا اشرف کے ہمراہ پی سی بی کے سی او او سلمان نصیر بھی جائیں گےآئی سی سی کی سالانہ میٹنگز 10 سے 13 جولائی تک جنوبی افریقا کے شہر ڈربن میں ہوں گی، آئی سی سی کی میٹنگز میں اہم امور زیرِ بحث آئیں گے جبکہ اس دوران سالانہ رپورٹ اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی بات ہو گی۔

    ذرائع کے مطابق آئی سی سی پاکستان میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی 2025 کے حوالے سے ممبرز کو بریف کرے گا جبکہ میٹنگز کی سائیڈ لائنز پر پی سی بی کے عہدے داران ممبرز ممالک کے عہدے داروں سے ملاقاتیں کریں گے،ایشیا کپ کے میچز میں اضافے اور دیگر امور پر بھی اے سی سی کے ممبرز سے سائیڈ لائنز پر بات ہو گی۔

    زکاء اشرف پی سی بی چئیر مین مقرر

    واضح ہے کہ وفاقی حکومت نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی نئی مینجمنٹ کمیٹی تشکیل دے دی،وفاقی کابینہ نے سمری سرکولیشن کے ذریعے پی سی بی کی نئی مینجمنٹ کمیٹی بنانے کی منظوری دی پاکستان کرکٹ بورڈ کی مینجمنٹ کمیٹی کے نئےچیئرمین ذکاء اشرف نے عہدے کا چارج سنبھال لیاچارج سنبھالنے کے بعد چوہدری ذکاء اشرف کی پی سی بی ہیڈ کواٹرز آمد ہوئی جہاں بورڈ کے اعلیٰ عہدیداروں نے ذکاء اشرف کا استقبال کیا ذکاء اشرف کے چارج سنبھالنے کی کاغذی کارروائی مکمل کرلی گئی ہے-

    آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ جاری

    ذکاء اشرف آج نئی مینجمنٹ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گے،پی سی بی کی نئی مینجمنٹ کمیٹی کا پہلا اجلاس نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ہوگا جس میں کرکٹ بورڈ کی آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی نئی مینجمنٹ کمیٹی 4 ماہ کے لیے بنائی گئی ہے جو بورڈ کے آئی سی سی سمیت دیگر امور کو دیکھے گی پی سی بی کی مینجمنٹ کمیٹی 10 ارکان پر مشتمل ہے جس میں کلیم اللہ خان، اشفاق اختر، مصدق اسلام، عظمت پرویز، ظہیر عباس، خرم سومرو، خواجہ ندیم، مصطفیٰ رمدے اور ذوالفقار ملک شامل ہیں ذکاء اشرف سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات نجم سیٹھی چلا رہے تھے تاہم پاکستان پیپلز پارٹی نے چیئرمین پی سی بی کے لیے ذکاء اشرف کا نام تجویز کیا تھا۔

    ذکاء اشرف کی آئی سی سی اجلاس میں شرکت کا اعلامیہ واپس لے لیا گیا

  • ذکاء اشرف چیئرمین پی سی بی  مقرر

    ذکاء اشرف چیئرمین پی سی بی مقرر

    وفاقی کابینہ نے سمری سرکولیشن کے ذریعے پی سی بی کی نئی مینجمنٹ کمیٹی بنانے کی منظوری دے دی ہے جبکہ نئی کمیٹی میں ذکا اشرف کو پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے حکومت نے پی سی بی کے چیف الیکشن کمشنر احمد شہزاد فاروق رانا کو عہدے سے ہٹا دیا اور ان کی جگہ محمود اقبال خاکوانی کو پی سی بی کا نیا چیف الیکشن کمشنر مقرر کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کی نئی مینجمنٹ کمیٹی 4 ماہ کے لیے بنائی گئی ہے، نجی ٹی وی کے مطابق مینجمنٹ کمیٹی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے ساتھ معاملات طے کرے گی، یہ کمیٹی چوہدری ذکاء اشرف کی سربراہی میں کام کرے گی۔ پی سی بی کی مینجمنٹ کمیٹی 10 اراکان پر مشتمل ہے، کمیٹی میں کلیم اللہ خان، اشفاق اختر، مصدق اسلام، عظمت پرویز، ظہیر عباس، خرم سومرو، خواجہ ندیم، مصطفیٰ رمدے اور ذوالفقار ملک شامل ہیں۔

    مزید یہ پڑھیں؛
    وزیراعظم کی غیرملکی سرمایہ کاری سے متعلق مواقع تلاش کرنے کی ہدایت
    ڈی جی پی ٹی اے کے گھر چوری کی واردات
    شمالی وزیرستان؛ خودکش دھماکے میں 3 اہلکار شہید جبکہ 10شہری زخمی
    امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس سے کوکین برآمد
    اسحاق ڈار کی امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات
    لاہورمیں 285 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوچکی ہے،عامر میر
    سی پیک کے دس سال مکمل،وزیراعظم شہبازشریف کی چین اورپاکستان کو مبارکباد
    پی سی بی کی مینجمنٹ کمیٹی کا پہلا اجلاس کل لاہور میں طلب کر لیا گیا ہے جبکہ پی سی بی چیئرمین کے الیکشن اور ذکا اشرف کی اہلیت کا معاملہ عدالتوں میں زیر التوا ہے۔ تاہم خیال رہے کہ ذکا اشرف سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات نجم سیٹھی چلا رہے تھے تاہم پاکستان پیپلز پارٹی نے چیئرمین پی سی بی کے لیے ذکا اشرف کا نام تجویز کیا تھا۔

  • وہاب ریاض لمبے بوٹ پہن کر بارش کا پانی چیک کررہے، ویڈیو وائرل

    وہاب ریاض لمبے بوٹ پہن کر بارش کا پانی چیک کررہے، ویڈیو وائرل

    وہاب ریاض کی ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ ایک شاہراہ پر لانگ شوز پہن کر پانی میں کھڑے ہیں اور آنے جانے والوں کو دیکھ رہے ہیں جبکہ کیمرہ مین ان کی ویڈیو بنا رہا ہے۔ جبکہ قومی کرکٹر کے اس عمل پر سوشل میڈیا صارفین نےسخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے طرح طرح کے تبصرے کرتے ہوئے انہیں موٹر سائیکل سواروں اور دیگر کا خیال رکھنے کی نصیحت کی ہے۔


    خیال رہے کہ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے کھیل وہاب ریاض بارش کے بعد شاہراہوں کے دورے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جس کے باعث انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جبکہ دوسری جانب سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہاب ریاض اسپیڈ میں گاڑی چلا رہے ہیں جس سے موٹر سائیکل پر جانے والے فیملی اور دیگر پر پانی کے چھیٹے جاتے دکھائی دے رہے ہیں.
    مزید یہ پڑھیں؛
    وزیراعظم کی غیرملکی سرمایہ کاری سے متعلق مواقع تلاش کرنے کی ہدایت
    ڈی جی پی ٹی اے کے گھر چوری کی واردات
    شمالی وزیرستان؛ خودکش دھماکے میں 3 اہلکار شہید جبکہ 10شہری زخمی
    امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس سے کوکین برآمد
    اسحاق ڈار کی امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات
    لاہورمیں 285 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوچکی ہے،عامر میر
    سی پیک کے دس سال مکمل،وزیراعظم شہبازشریف کی چین اورپاکستان کو مبارکباد
    یاد رہے کہ ملک بھر میں ہونے والے شدید بارشوں کے باعث بچوں ، خواتین سمیت 12 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں صبح چار بجے سے شروع ہونے والی طوفانی بارش کے باعث شہر ڈوب گیا اور اہم شاہراہیں سمندر کا منظر پیش کرنے لگیں، جہاں تاحد نگاہ پانی ہی پانی موجود۔

  • پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے استحکام پاکستان پارٹی میں شامل

    پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے استحکام پاکستان پارٹی میں شامل

    استحکام پاکستان پارٹی کے پیٹرن ان چیف جہانگیر ترین سے پاکپتن سے سابق ایم پی اے میاں فرخ ممتاز مانیکا نے ملاقات کی اور استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے جبکہ فرخ ممتاز مانیکا نے جہانگیر ترین کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ جہانگیر ترین نے فرخ ممتاز مانیکا کو استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت پر خوش آمدید کہا۔

    ملاقات کے دوران اسحاق خاکوانی، عون چوہدری اور نعمان لنگڑیال بھی موجود تھے۔ دوسری جانب استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ عوامی مسائل کا حل ہماری اولین ترجیح ہے، ملک کو بحرانی کیفیت سے نکالیں گے۔ استحکام پاکستان پارٹی کے پیٹرن انچیف جہانگیر ترین اورپارٹی صدرعلیم خان کی زیر صدرات اہم اجلاس ہوا،مرکزی سیکرٹریٹ میں ہونےوالے اجلاس میں مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اجلاس کے دوران پارٹی منشور، پارٹی رجسٹریشن سمیت اہم معاملات پر حکمتِ عملی طے کی گئی جبکہ پارٹی کی تنظیم سازی اورپارٹی ممبر سازی مہم پرتفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر جہانگیر ترین نے کہا کہ ہمارا فوکس عام آدمی کے مسائل کا حل اور غربت و مہنگائی کا خاتمہ ہے، عوامی امنگوں کے عین مطابق پارٹی منشور دیں گے۔ اسی دوران عبدا لعلیم خان نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل ہماری اولین ترجیح ہے، استحکام پاکستان پارٹی ملک کو بحرانی کیفیت سے نکالے گی۔

    جبکہ ادھر خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے تحریک انصاف کے صدر عرفان کنڈی اور سابق صوبائی وزیر حبیب اللہ کنڈی نے پارٹی سے چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حبیب اللہ کنڈی نے کہا ہے کہ میں نے سیاسی کیریئر 1985 ء میں شروع کیا، میں نے تحریک انصاف میں شمولیت سے قبل ہمیشہ آزاد لڑا اور جیتتا رہا، مجھے پرویز خٹک نے گھر پر ٹکٹ بھیجا۔
    مزید یہ پڑھیں؛
    وزیراعظم کی غیرملکی سرمایہ کاری سے متعلق مواقع تلاش کرنے کی ہدایت
    ڈی جی پی ٹی اے کے گھر چوری کی واردات
    شمالی وزیرستان؛ خودکش دھماکے میں 3 اہلکار شہید جبکہ 10شہری زخمی
    امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس سے کوکین برآمد
    اسحاق ڈار کی امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات
    لاہورمیں 285 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوچکی ہے،عامر میر
    سی پیک کے دس سال مکمل،وزیراعظم شہبازشریف کی چین اورپاکستان کو مبارکباد
    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعے کی اس وقت بھی مذمت کی اب بھی کرتا ہوں، میں تحریک انصاف کو خیرباد کہتا ہوں، پاکستان کا نقصان کیا گیا، تحریک انصاف چھوڑ رہا ہوں، 9 مئی کے واقع میں ملوث نہیں ہوں ہمارے اوپر کسی کا دباؤ نہیں ہے۔ کسی کے کہنے پر پارٹی نہیں چھوڑ رہا، میری عمر اجازت نہیں دیتی کہ ابھی کوئی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کروں، ابھی فیصلہ نہیں کیا کہ آزاد حیثیت سے سیاست کرنی ہے یا پرویز خٹک کے ساتھ جانا ہے۔