Baaghi TV

Category: لاہور

  • تشدد اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 2560 سے زائد شرپسند گرفتار

    تشدد اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 2560 سے زائد شرپسند گرفتار

    سرکاری و نجی اداروں پر حملوں، توڑ پھوڑ، تشدد اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 2560 سے زائد شرپسند عناصر گرفتار کر لئے گئےم

    شرپسند عناصر کی پرتشدد کاروائیوں میں پنجاب بھر میں 150 سے زائد پولیس افسران واہلکار زخمی ہوئے ،زخمیوں میں مختلف شہروں سمیت لاہور کے 63، فیصل آباد 26، گوجرانوالہ 13، راولپنڈی کے 29 پولیس افسران و اہلکار شامل ہیں، زخمیوں میں اٹک کے 10، سیالکوٹ 05 اور میانوالی کے 06 پولیس افسران و اہلکار شامل ہیں، پنجاب پولیس کے زیر استعمال 72 جبکہ 08 نجی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ، نذر آتش کیا گیا لاہور میں 23، راولپنڈی 18، فیصل آباد 18، ملتان 08، سیالکوٹ 5، گوجرانولہ 03، اٹک میں 01 پولیس وہیکل کو نقصان پہنچایا گیا ، آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ سرکاری و نجی املاک، پولیس و شہریوں پر حملوں، پرتشدد کاروائیوں میں ملوث شرپسند عناصر قانون کی گرفت سے بچ نہیں پائیں گے،

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    دوسری جانب جناح ہاؤس کو جلانے،توڑ پھوڑ کرنے اورقیمتی اشیاء و دستاویزات چوری کرنے والے شرپسندوں کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا، اب تک بیشتر افراد کی شناخت کر لی گئی ہے جنہوں نے کور کمانڈر ہاؤس کا جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی پرتشدد کاروائیوں میں حصہ لیا تھا،ان شر پسندوں کے خلاف انسداد دہشتگردی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، شرپسندوں میں اویس مشتاق ولد محمد مشتاق سکنہ اوکاڑہ، عباد فاروق ولد امانت علی سکنہ لاہور، محمد حاشر خان ولد طارق بشیر سکنہ لاہور اور جہانزیب خان سکنہ کیولری گراونڈ لاہور کی نشاندہی کر لی گئی ہے ،پر تشدد کارکنان مسلح آتشی اسلحہ، ڈنڈے، پتھر و پیٹرول بم سے لیس تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے مزید افراد جنہوں نے ملک کے دیگر علاقوں میں ملکی املاک کو نقصان پہنچایا وہ بھی قانون کی گرفت میں آ رہے ہیں،پنجاب پولیس شرپسند عناصر کو گرفتار کر رہی ہے، لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں سے بھی گرفتاریاں کی گئی ہیں

    کور کمانڈر ہاؤس سمیت سرکاری املاک پر حملہ آوروں کو قانون کے مطابق کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا:محسن نقوی
    بلوائیوں کے سہولت کاروں کیخلاف بھی بھرپور کاروائی، ہرحملہ آور کی شناخت کر کے قرار واقعی سزا دلائی جائے گی
    سرکاری املاک توڑ پھوڑ کر کے دہشت گردی کا بد ترین مظاہرہ کیاگیا، امن عامہ کیلئے تمام قانونی اقدامات اٹھانے کاحکم
    محکمہ پراسیکیوشن دہشت گردی کے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف پراسیکیوشن کے عمل کو تیز رفتاری سے آگے بڑھائے

    نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیرصدارت وزیراعلیٰ آفس میں صوبے میں قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے صوبے بھر میں امن و امان کی صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے تمام قانونی اقدامات اٹھانے کاحکم دیتے ہوئے کہا کہ بلوائیوں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی بھرپور کاروائی کی جائے گی اور ہرحملہ آور کی شناخت کر کے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ او رجلاؤ گھیراؤ کر کے دہشت گردی کا بد ترین مظاہرہ کیا گیا۔ کور کمانڈر ہاؤس سمیت سرکاری املاک پر حملہ کرنے والوں کو قانون کے مطابق کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔ نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے ہدایت کی کہ محکمہ پراسیکیوشن دہشت گردی کے ان واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف پراسیکیوشن کے عمل کو تیز رفتاری سے آگے بڑھائے اور شرپسندوں و حملہ آوروں کی شناخت کا عمل جلد مکمل کیا جائے۔ انہو ں نے مزید ہدایت کی کہ بلوائیوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی میں کوئی رعایت نہ برتی جائے۔ صوبے میں قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اجلاس میں صوبے میں امن عامہ کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    انسپکٹر جنرل پولیس نے امن وامان کی صورتحال اور شر پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کے بارے بریفنگ دی۔ صوبائی وزیر اطلاعات عامر میر، چیف سیکرٹری،انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، سی سی پی او لاہور، سیکرٹری قانون، سیکرٹری پبلک پراسیکیوشن اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ تمام کمشنرز اور آرپی اوز ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

  • ماضی میں بھی گرفتاریاں ہوتی رہی ،کوئی پہلی گرفتاری تھی جس کے بعد اتنا ہنگامہ ہوا؟ عدالت

    ماضی میں بھی گرفتاریاں ہوتی رہی ،کوئی پہلی گرفتاری تھی جس کے بعد اتنا ہنگامہ ہوا؟ عدالت

    لاہو رہائیکورٹ میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی مقدمات کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    دوران سماعت جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہ اکہ سیاسی رہنماﺅں کی ذمہ داری نہیں کہ وہ کارکنوں کو روکیں، ماضی میں بھی گرفتاریاں ہوتی رہی ہیں،کیا یہ کوئی پہلی گرفتاری تھی جس کے بعد اتنا ہنگامہ ہوا؟ ماضی والی گرفتاریاں درست تھیں یا غلط وہ بعد میں ثابت ہوئیں یا نہیں ،جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ بے نظیر بھٹو پر قاتلانہ حملہ ہوا، کارکن زخمی ہوئے اتنا ریکشن نہیں ہوا،جسٹس انوارالحق پنوں نے کہا کہ کیا ایسے گرفتار کیا جا سکتا ہے جس طرح آپ نے گرفتار کیا؟

    جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ کیا پنجاب حکومت نے مقدمات کی تفصیلات فراہم کردی تھیں؟ وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ عثمان بزدار پر ایک مقدمہ درج ہے،عثمان بزدار کیخلاف 13 انکوائریاں زیرسماعت ہیں ،جسٹس نیلم عالیہ نے کہا کہ درخواست گزار نے درج مقدمے میں حفاظتی ضمانت حاصل کی،کیا آپ نے عبوری ضمانت کیلئے متعلقہ عدالت سے رجوع کیا؟ سرکاری وکیل نے کہا کہ عثمان بزدار کو آج عدالت کے رو برو پیش ضرورہونا چاہئے تھا،جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہاکہ گزشتہ ایک سال سے جو ملک میں ہورہا ہے اس پر ہم آنکھیں بند نہیں کر سکتے،2 گھنٹے پہلے مقدمہ درج ہوتا ہے اس کے بعد گرفتاری کرلی جاتی ہے،لاہور ہائیکورٹ نے عثمان بزدار کی درخواست فیصلہ محفوظ کرلیا۔

  • بلوائیوں کے سہولت کاروں کیخلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی،محسن نقوی

    بلوائیوں کے سہولت کاروں کیخلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی،محسن نقوی

    نگران وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرصدارت امن وامان یقینی بنانے سے متعلق اجلاس ہوا،

    اجلاس میں امن وامان کو یقینی بنانے کیلئے تمام قانونی اقدامات اٹھانے کی ہدایت دی گئی نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے کہا کہ بلوائیوں کے سہولت کاروں کیخلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی،کور کمانڈ ہاﺅس اور املاک پرحملہ کرنیوالوں کو قانون کے مطابق قرارواقعی سزا دی جائےتوڑ پھوڑ اور جلاﺅ گھیراﺅ کرکے دہشتگردی کا بدترین مظاہرہ کیا گیا

    دوسری جانب جناح ہاؤس کو جلانے،توڑ پھوڑ کرنے اورقیمتی اشیاء و دستاویزات چوری کرنے والے شرپسندوں کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا، اب تک بیشتر افراد کی شناخت کر لی گئی ہے جنہوں نے کور کمانڈر ہاؤس کا جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی پرتشدد کاروائیوں میں حصہ لیا تھا،ان شر پسندوں کے خلاف انسداد دہشتگردی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، شرپسندوں میں اویس مشتاق ولد محمد مشتاق سکنہ اوکاڑہ، عباد فاروق ولد امانت علی سکنہ لاہور، محمد حاشر خان ولد طارق بشیر سکنہ لاہور اور جہانزیب خان سکنہ کیولری گراونڈ لاہور کی نشاندہی کر لی گئی ہے ،پر تشدد کارکنان مسلح آتشی اسلحہ، ڈنڈے، پتھر و پیٹرول بم سے لیس تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے مزید افراد جنہوں نے ملک کے دیگر علاقوں میں ملکی املاک کو نقصان پہنچایا وہ بھی قانون کی گرفت میں آ رہے ہیں،پنجاب پولیس شرپسند عناصر کو گرفتار کر رہی ہے، لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں سے بھی گرفتاریاں کی گئی ہیں

    پاکستان میں توقع سے بڑھ کر پیار ملا، بھارتی برج ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ، کھلاڑیوں کا شاہی قلعہ کا دورہ

    برج گیم میں جوا اور پیسے نہیں لگتے:برج پلیئرغیاث ملک ، جہانگیر اور سعید اختر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ، بھارتی ٹیم لاہور پہنچ گئی

  • پنجاب پولیس کی عمران خان کو گرفتار کرنے کی استدعا

    پنجاب پولیس کی عمران خان کو گرفتار کرنے کی استدعا

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی تمام مقدمات کی سماعت ایک جگہ کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے درخواست پر سماعت کی،جسٹس عالیہ نیلم، جسٹس طارق سلیم شیخ، جسٹس انوار الحق پنوںاور جسٹس امجد رفیق بنچ میں شامل ہیں۔عمران خان کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ درخواست گزار کے خلاف پنجاب بھر میں مقدمات کا اندراج کیا جا رہا ہے،درخواست گزار کی جان کو سنگین خطرات لاحق ہیں، درخواست گزار کو عدالتوں میں پیشی کے دوران مشکلات کا سامنا ہے، درخواست گزار کی عدالتی پیشی کے دوران دیگر سائلین ، کیسز کی سماعت پر فرق پڑتا ہے، درخواست میں استدعا کی گئی کہ درخواست گزار کیخلاف تمام کیسز کی سماعت ایک ہی جگہ کرنے کا حکم دیا جائے ،عدالت نے تمام مقدمات کی تفتیش سے متعلق رپورٹ طلب کررکھی ہے ۔

    عمران خان پر درج مقدمات کی تفصیلات لاہور ہائیکورٹ میں پیش کر دی گئی،وفاق اور پنجاب حکومت نے 4 مئی 2023 تک درج مقدمات کی رپورٹ جمع کروا دی ۔رپورٹ میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان پر اسلام آباد میں 29 مقدمات درج ہیں ،عمران خان پر پنجاب میں 6 مقدمات درج ہیں،پنجاب میں درج 2 مقدمات میں عمران خان کو بے گناہ قراردیا گیا ہے،لاہور میں درج 2 مقدمات کی تحقیقات جے آئی ٹی کررہی ہے ،وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ پنجاب میں ہنگامہ آرائی کے بعد مزید 3 مقدمات درج کئے ہیں ،پنجاب حکومت کے وکیل نے تینوں مقدمات کی ایف آئی آر عدالت میں پیش کردیں ،مجموعی طور پر پنجاب میں ابتک عمران خان پر 9 مقدمات درج ہو چکے ہیں ،پنجاب پولیس نے عمران خان کو گرفتار کرنے کی استدعا کردی ،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان درج مقدمات میں شامل تفتیش ہو چکے ہیں،آج مقدمات میں شواہد کے حصول کیلئے عمران خان کی گرفتاری مطلوب ہے

  • شیریں مزاری،یاسمین راشد سمیت تحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی گرفتار

    شیریں مزاری،یاسمین راشد سمیت تحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی گرفتار

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے،

    شیریں مزاری، ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر کو گرفتار کیا گیا ہے، اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کو حراست میں لے لیا ہے، شیریں مزاری کو ان کی رہائشگاہ ای سیون سے گرفتار کیا گیا ہے، ڈاکٹر یاسمین راشد کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے،عندلیب عباس نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے یاسمین راشد کوگرفتار کرلیا 4 سے 5 گاڑیاں اور40 سے 50 لوگ یاسمین راشد کو گرفتارکرکے لے گئے، ڈاکٹر یاسمین راشد نے لاہور سے کارکنوں کے ہمراہ اسلام آباد پہنچنا تھا،ڈاکٹر یاسمین راشد ڈیفنس یا کیولری گراﺅنڈ میں روپوش تھیں،اسمین راشد پولیس سے چھاپوں کے باعث کافی روز سے گھر میں موجود نہیں تھیں،

    پی ٹی آئی کے بلوچستان کے صوبائی رہنما مبین خلیجی کوئٹہ سے گرفتارہو گئے، مبین خلیجی کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیاگیااور ڈسٹرکٹ جیل منتقل کر دیا گیا ،وفاقی حکومت نے شاہ محمود قریشی، اسد عمراورفواد چوہدری سمیت اعلیٰ قیادت کو پہلے ہی حراست میں لے لیا تھا، اب صوبائی سطح کی قیادت کو گرفتار کیا جا رہا ہے، پنجاب حکومت کی ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے پولیس نے خسرو بختیار، افضل ساہی اور بلال بسرا کو بھی گرفتار کر لیا، انہیں لاہور کے تھانہ سرور روڈ منتقل کیا گیا ہے

     خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

  • عمر فاروق ظہور منی لانڈرنگ کے دو کیسز میں بری

    عمر فاروق ظہور منی لانڈرنگ کے دو کیسز میں بری

    لاہور؛ جوڈیشل مجسٹریٹ کی طرف سے کاروباری شخصیت عمر فاروق ظہور کو منی لانڈرنگ اور فراڈ کے دو مقدمات میں بری کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے خلاف ان کی سابقہ اہلیہ صوفیہ مرزا نے سابق وفاقی وزیر احتساب شہزاد اکبر کی مدد سے درج کرائے گئے مقدمات میں کامیاب ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت کی پی ٹی آئی کی حکومتی کابینہ نے ان کیسز کی منظوری دی تھی۔

    جیو نیوز کے صحافی مرتضیٰ علی شاہ کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت کے جج غلام مرتضیٰ ورک نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے کیئے گئے کیسز میں عمر فاروق ظہور کو بری کرنے کے ساتھ دو فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آر) کو منسوخ کر دیا ہے کیونکہ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ ملزم فراڈ، منی لانڈرنگ اور بدعنوانی میں ملوث نہ پایا گیا ہے .

    یاد رہے کہ یہ دونوں کیسز جون 2020 کے اوائل میں اس وقت شروع ہوئے تھے جب شہزاد اکبر کی مدد سے ایف آئی اے لاہور کے کارپوریٹ سرکل سے رابطہ کرنے، اور ظہور اور اس کے بہنوئی سلیم کی جانب سے تقریباً 16 ارب روپے کے فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر تحقیقات کی منظوری کے لیے کابینہ سے رجوع کیا گیا تھا.

    جبکہ شہزاد اکبر نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ عمر فاروق ظہور نے 2010 میں ناروے میں 89.2 ملین ڈالر کا بینک فراڈ کیا تھا جبکہ 2004 میں سوئٹزرلینڈ کے شہر میں بھی کوئی مبینہ کیس سامنے آیا تھا. یوں اس وقت کے وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی شہزاد اکبر مرزا شکایات کابینہ کے سامنے لیکر گئے تھے اور کابینہ سے کہا تھا کہ عمر فاروق ظہور سے اس کی تفتیش ہونی چاہئے ۔

    خیال رہے کہ عمر فاروق ظہور ایک کامیاب بزنس مین ہیں اور اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی دولت اس مرحلے پر لاکھوں ڈالرز میں ہے۔ انہوں نے دبئی اور کئی دوسرے ممالک میں رئیل اسٹیٹ، آئی ٹی کے کاروبار، توانائی کے منصوبوں، زراعت کے شعبے وغیرہ میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ وہ مشرق وسطیٰ میں شاہی خاندان کے بہت سے ارکان کے ساتھ اور افریقہ، جنوب مشرقی ایشیا، کیریبین اور جنوبی امریکہ کے کئی سربراہان مملکت کے ساتھ بھی کام کرتے ہیں۔

    عمر فاروق مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا کے لئے لائبیریا کے ایمبیسڈر ایٹ لارج بھی ہیں۔ عمر فاروق ظہور اپنی سابقہ ​​اہلیہ، ماڈل اور اداکارہ صوفیہ مرزا کے ساتھ طویل عرصے سے جاری عدالتی لڑائی کے حوالے سے کئی سالوں سے پاکستانی خبروں میں رہے۔ جوڑے کی دو جڑواں بیٹیاں ہیں جو دبئی میں محمد بن راشد سٹی ڈسٹرکٹ ون کے ایک خاص محلے میں ظہور کے ساتھ رہتی ہیں۔

    یاد رہے کہ عمر فاروق ظہور کا نام 2021 میں پہلی بار پاکستانی میڈیا پر اس وقت آیا جب تمام ٹی وی چینلز نے ایف آئی اے کے حوالے سے رپورٹنگ شروع کی، جو اس وقت شہزاد اکبر کے ماتحت تھا، کہ یہ ایف آئی اے کے سابق ڈی جی بشیر میمن تھے جنہوں نے ظہور کو شاہی خاندان کے رکن کے ساتھ سرکاری دورے پر پاکستان آنے کی اجازت دی تھی۔ خبروں میں بشیر میمن اور ظہور کو جوڑا گیا اور ظہور کو قانون کا ’’مفرور‘‘ کہا گیا تھا۔

    جبکہ عمر فاروق ظہور ناروے میں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی پاکستانی والدین کے ہاں پیدا ہوئے۔ عمر فاروق ظہور نے ابتدائی تعلیم ناروے میں حاصل کی اور پھر تقریباً 22 سال قبل مشرق وسطیٰ چلے گئے۔ عمر فاروق ظہور کا دعویٰ ہے کہ وہ شہزاد اکبر کو اچھی طرح جانتے ہیں اور مارچ 2019 میں انہوں نے فرح شہزادی کو ان سے ملوایا تھا۔

    علاوہ ازیں واضح رہے کہ ایف آئی اے نے مرزا کی شکایت پر مزید الزام لگایا تھا کہ ظہور نے 2010 میں ناروے کے اوسلو میں مبینہ طور پر 89.2 ملین ڈالرز کا بینک فراڈ کیا، اور2014 میں برن، سوئٹزرلینڈ میں 12 ملین ڈالر کی رقم کا ایک اور فراڈ کیا، کم سن بچوں کی اسمگلنگ میں ملوث تھے، 9.37 ملین ترک لیرا کا فراڈ کیا، گھانا میں 510 ملین ڈالر کے مشکوک معاہدے پر عمل درآمد کیا، کالے دھن کی شکل میں لاکھوں ڈالر کی نقدی کے مالک ہیں، اور دبئی اور پاکستان میں کروڑوں ڈالر مالیت کے کئی مکانات اور جائیدادوں کے مالک ہیں، بشمول دبئی کے اعلیٰ درجے کے اضلاع، سیالکوٹ، گوادر اور اسلام آباد۔

    تاہم جیسے ہی وفاقی کابینہ نے ظہور کے خلاف کارروائی کی منظوری دی تھی، ایف آئی اے لاہور کے سربراہ ڈاکٹر رضوان نے ظہور کے خلاف کارروائی شروع کردی تھی؛ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالا گیا تھا، ایک ایف آئی آر میں ناقابل ضمانت وارنٹ قانونی تقاضے پورے کیے بغیر عدالت سے حاصل کیے گئے تھے، اور مذکورہ ناقابل ضمانت وارنٹ کی بنیاد پر ان کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلیک لسٹ کر دیا گیا تھا جبکہ ظہور کی گرفتاری کے لیے نیشنل کرائم بیورو پاکستان کی جانب سے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس بھی جاری کیے گئے تھے۔

    لیکن اب عمر فاروق ظہور ان دو کیسز میں باعزت بری ہوچکے ہیں.

  • چیف جسٹس نے  مجرم کو رہا کر کے خوشی منائی ہے۔ مریم نواز شریف

    چیف جسٹس نے مجرم کو رہا کر کے خوشی منائی ہے۔ مریم نواز شریف

    سپریم کورٹ کی جانب سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کے حکم پر پاکستان مسلم لیگ ن کی سینیئر نائب صدر مریم نواز کا ردعمل سامنے آیا ہے جبکہ اپنی ٹوئٹ میں مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ چیف جسٹس صاحب کو آج قومی خزانے کے 60 ارب ہڑپ کرنے والے وارداتیے کو مل کر بہت خوشی ہوئی اور اس سے بھی زیادہ خوشی انھیں اس مجرم کو رہا کر کے ہوئی۔

    خیال رہے کہ آج سپریم کورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری رہا کرنےکا حکم دے دیا۔ عدالت عظمیٰ نے عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سےدوبارہ رجوع کرنےکا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ ہائی کورٹ جو فیصلہ کرے گی وہ آپ کو ماننا پڑے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    جبکہ دوسری جانب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کی گرفتاری سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ کا رد عمل بھی سامنے آگیا ہے۔ اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کی ڈرامائی گرفتاری کو غیرقانونی قرار دینے کے حکم سے متعلق برطانوی نشریاتی ادارے کی خبر کا اسکرین شاٹ شیئر کیا۔

  • آفتاب اقبال کو بھی گرفتار کر لیا گیا، بیٹی کی تصدیق

    آفتاب اقبال کو بھی گرفتار کر لیا گیا، بیٹی کی تصدیق

    آفتاب اقبال کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے

    اینکر پرسن آفتاب اقبال کی بیٹی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انکے والد آفتاب اقبال کو گرفتار کیا گیا ہے، ویڈیو پیغام میں آفتاب اقبال کی بیٹی کا کہنا تھا کہ آفتاب اقبال کو گرفتار کیا گیا ہے، کچھ گاڑیاں آئیں اور والد کو ساتھ لے گئیں ، میرے والد کے لئے دعا کیجیے اور انکو دعاؤں میں یاد رکھیں،

    اس سے قبل اینکر عمران خان کو بھی آج صبح سیالکوٹ ایئر پورٹ سے گرفتار کیا گیا جب وہ د بئی روانہ ہو رہے تھے،

  • پرویز الٰہی کی عبوری ضمانت خارج

    پرویز الٰہی کی عبوری ضمانت خارج

    انسداد دہشتگردی کی عدالت نے تحریک انصاف کے صدر پرویز الٰہی کی عبوری ضمانت خارج کردی، جس کے بعد پرویز الہیٰ کی گرفتاری کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں،

    لاہور کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پرویز الٰہی کے گھر چھاپے کے دوران پیٹرول بم پھینکنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوھدری پرویز الہی کی عبوری ضمانت خارج کر دی ،انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج نے عبوری ضمانت پر فیصلہ سنایا اور پرویز الٰہی کی ایک روزہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی مسترد کردی پرویز الٰہی کے خلاف تھانہ غالب مارکیٹ میں دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے

     خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    درخواست میں کہا گیا کہ غالب مارکیٹ پولیس نے پولیس پارٹی پر حملہ کرنے کا بے بنیاد الزام لگایا، پولیس پارٹی پر پیٹرول بم پھینکنے کے الزام بھی مقدمہ میں لگایا گیا،پولیس نے سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے جھوٹا مقدمہ درج کیا، گرفتاری کا خدشہ، مقدمہ میں شامل تفتیش ہونے کیلئے عبوری ضمانت دی جائے، اٹرائل کے حتمی فیصلے تک ضمانت قبل از گرفتاری بھی منظور کی جائے،

  • ن لیگ پارٹی سیکرٹریٹ میں توڑ پھوڑ،پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست

    ن لیگ پارٹی سیکرٹریٹ میں توڑ پھوڑ،پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست

    مسلم لیگ ن لاہور پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاون 180 ایچ میں توڑ پھوڑ کے مقدمہ کی درخواست درج کرا دی گئی

    مسلم لیگ ن کے رہنماء رانا محمد ارشد کی مدعیت میں تھانہ ماڈل ٹاون میں پی ٹی آئی رہنماوں سمیت 200 نامعلوم افراد کو اندارج مقدمہ کی درخواست میں نامزد کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے پارٹی سیکرٹریٹ توڑ پھوڑ کے مقدمے میں پی ٹی آئی رہنماء اعجاز چوہدری،ڈاکٹر یاسمین راشد،میاں اسلم اقبال،میاں محمودالرشید،شبیر گجر،سرفراز کھوکھر،شیخ امتیاز سمیت 200 افراد کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست درج کرائی گئی ہے۔

    ن لیگ کی جانب سے تحریک انصاف کے خلاف دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے پتھراؤ، توڑ پھوڑ کی،ہوائی فائرنگ کی گئی،اتنی شدید تھی کہ علاقے بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا، پٹرول بم پھینکے گئے،واک تھرو گیٹ، جنریٹر، موٹر سائیکلیں انکو آگ لگا دی گئی،شیشے توڑ دیئے، فرنیچر باہر نکال کر جلا دیا گیا ،قیمتی اشیا اٹھا کر ساتھ لے گئے،فوج اور دیگر ریاستی اداروں کے خلاف نعرے لگاتے رہے،لیڈران جلاؤ گھیراؤ کی ترغیب دیتے رہے،

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات
    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا