Baaghi TV

Category: لاہور

  • عمران خان کے وارنٹ گرفتاری دو ہفتوں کیلئے معطل

    عمران خان کے وارنٹ گرفتاری دو ہفتوں کیلئے معطل

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے لئے بلوچستان پولیس کی ٹیم لاہور پہنچ گئی ہے، دوسری جانب بلوچستان ہائیکورٹ نے وارنٹ گرفتاری معطل کر دیئے ہیں

    پولیس عمران خان کے وارنٹ گرفتاری لے کر آئی ہے، گزشتہ روز کوئٹہ کی مقامی عدالت نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے.میڈیا رپورٹس کے مطابق ایس پی سٹی کوئٹہ پولیس ٹیم کی سربراہی کر رہے ہیں، ٹیم میں ڈی ایس پی، سب انسپکٹر، 2 گارڈ اور ڈرائیور شامل ہیں۔ ٹیم زمان پارک جائے گی اور عمران خان کو گرفتار کرے گی، کوئٹہ پولیس کی ٹیم لاہور پولیس کے ساتھ ملکر زمان پارک جائے گی،

    واضح رہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کوئٹہ نے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری گذشتہ روزجاری کئے، عمران خان کے خلاف مقدمہ کوئٹہ کے شہری نے بجلی روڈ تھانے میں درج کروایا تھا، مقدمے میں ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی سمیت دفعات شامل کی گئی ہیں، دوسری جانب کوئٹہ پولیس کے لاہور پہنچنے پر تحریک انصاف نے ایک بار پھر کارکنان کو زمان پارک پہنچنے کی کال دے دی ہے،عمران خان کی ممکنہ گرفتاری ،جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخواسے کارکنوں کو بلا لیا گیا کم از کم 5 ہزار پارٹی کارکن زمان پارک کے باہر ہر وقت موجود رہیں گے

    گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر متبادل پارٹی قیادت کا معاملہ بھی طے کر لیا گیا،عمران خان کی گرفتاری کی صورت میں شاہ محمود قریشی فیصلے کرنے میں بااختیار ہوں گے عمران خان کی ممکنہ گرفتاری سے پہلے پارٹی ٹکٹوں کو فائنل کرنے کی بھی کوشش کی جائے گی اگلے ہفتے سے انتخابی جلسے شروع کرنے کی بھی منظوری دے دی گئی امیدواروں کو بلدیاتی انتخابات اور حکومتی عہدوں پر ایڈجسٹ کیا جائے،مسرت جمشید چیمہ کا کہنا ہے کہ پارٹی کی مفاہمتی کمیٹی امیدواروں کے درمیان مفاہمت پیدا کرے گی،زمان پارک میں مزید کیمپ لگانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے،عمران خان کی رہائشگاہ کے سامنے دو خالی پلاٹ استعمال ہوں گے،

    دوسری جانب عمران خان کے خلاف کوئٹہ میں درج مقدمے میں وارنٹ گرفتاری 2 ہفتوں کیلئے معطل کر دیئے گئے ہیں بلوچستان ہائیکورٹ نے آئی جی بلوچستان ، ڈی آئی جی، ایس پی لیگل اور ایس ایچ او کو نوٹس جاری کر دیئے جبکہ عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کرانے والے خلیل کاکڑ کو بھی نوٹس بھجوایا گیا ہے۔عدالت نے کیس کی سماعت 2 ہفتے کیلئے ملتوی کر دی

  • عمران خان کارکنوں کو آگے کرکے خود گھر میں چھپے رہے،مریم نواز

    عمران خان کارکنوں کو آگے کرکے خود گھر میں چھپے رہے،مریم نواز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگی مریم نواز نے کہا ہے کہ ن لیگ کے نئے کوارڈنیٹرز کی تعیناتی پر مبارکباد پیش کرتی ہوں، پاکستان کی نوجوان نسل ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے، اگر کسی جماعت کے پاس کوئی پلان تو وہ صرف مسلم لیگ ن ہے،

    لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو لون اسکیمز اور وظائف ن لیگ کی حکومت میں ملے ،امید ہے کوآرڈنیٹرز اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائیں گے،انفارمیشن ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے ہمارے پاس ورک فورس ہے،ہمیں ٹیکنالوجی کو ورک فورس میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، ملک کو اس وقت ایک سمت کی ضرور ہے نوجوانوں کو لون اسکیمز اور وظائف ن لیگ کی حکومت میں ملے ،

    مریم نواز نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کل عمران خان کارکنوں کو آگے کر کے خود گھر میں چھپے رہے، عمران خان واحد لیڈر ہے جس نے کارکنوں کو ڈھال بنایا،عمران خان کارکنوں اپنی حفاظت کیلئے بلاتے رہے ،عمران خان نوجوانوں کے ساتھ مذاق کررہے ہیں،انصاف اور اہل قیادت کے بغیر ملک آگے نہیں جا سکتا،قومی اسمبلی توڑ دی اور آج اسی اسمبلی میں جانے کیلئے منتیں کررہے ہیں،عمران خان کا صبح کا فیصلہ اور ،دوپہر کواور شام کو کچھ اور ہوتا ہے،عمران خان نے جاں بحق کارکن کےبزرگ والد کو تعزیت کیلئے زمان پارک بلایا ،اس شخص نے 4سال میں صرف پیسے جمع کیے اور کچھ نہیں کیا،پرویز الہیٰ اسٹیک ہولڈر تھے انہیں اسمبلی ٹوٹنے کا پتہ ہی نہیں تھا،عمران خان کو الیکشن کا بہت شوق ہے ،عمران خان نے نوجوانوں اور اپنے کارکنوں سے جھوٹ بولا،اس شخص نے پراپرٹی ٹائیکون کی جیب میں پیسے ڈالے، کل تحریک انصاف کی لاہور میں ہونے والی ریلی ناکام رہی،نواز شریف عدالت میں5،5 دن پیش ہوتا تھا،پولیس گرفتار کرنے آتی تو عمران خان گھر میں چھپ جاتا ہے،پولیس کو کہتاہے کہ لکھ کر دے دو میں موجود نہیں،عمران خان بیماریوں کے پیچھے چھپ رہے ہیں،عدالت نے بلایا تو کہتا ہے جان کو خطرہ ہے مگرریلی میں جانا ضروری ہے،

    تاثر غلط ہے کہ ہراسمنٹ کا قانون صرف خواتین کے لیے ہے،کشمالہ طارق

    عورت مارچ والی آنٹیاں ایسے نعرے کہیں اور لگا کر دکھائیں …تو کیا ہوگا ؟

    باغی ٹی وی”عوام کو”عورت مارچ” کےفوائد نہیں بتاتا:ہمیں یہ منظورنہیں:”عورت مارچ "کی آرگنائزرکاموقف دینے سے انکار،

    میرے ساتھ ایک عورت کی موجودگی میں اس کے خاوند نے جنسی زیادتی کی:وہی عورت اب عورت مارچ کی روح رواں

    عورت مارچ کے لیے فنڈریزنگ شروع:حکومت مخالف قوتیں دل کھول کرفنڈدینے لگیں‌

  • پی ٹی آئی کارکن کی موت، گرفتاری کی پرانی ویڈیو وائرل کر دی گئی

    پی ٹی آئی کارکن کی موت، گرفتاری کی پرانی ویڈیو وائرل کر دی گئی

    گزشتہ روز تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی رہائشگاہ زمان پارک کے باہر تحریک انصاف کے کارکنان اور پولیس کے مابین تصادم کے بعد تحریک انصاف نے دعویٰ کیا کہ انکے کارکن کو پولیس نے گرفتار کیا بعد ازاں اس کی لاش ملی، عمران خان نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کی، اور کارکن کی پولیس گاڑی میں گرفتاری کی ویڈیو شیئر کی جانے لگیں، اس ضمن میں تحریک انصاف نے جھوٹ سے سہارا لیا، تحریک انصاف مرنے والے کارکن کی جو ویڈیو شیئر کر ہی ہے وہ کل کی نہیں بلکہ جیل بھرو تحریک کے وقت گرفتاری دینے کی تھی

    عمران خان نے ویڈیو شیئر کی جس پر گل بخاری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایک مہینہ پرانی وڈیو آج کا کہہ کر لگا دی جھوٹے مکار شخص نے ایکسیڈینٹ میں مرنے والے کی لاش پر سیاست کرنے کے لیے ۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کے مرنیوالے کارکن علی بلال کو ہسپتال کون لے کر گیا اس حوالہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کو موصول ہو گئی ہے جبکہ تصاویر بھی سامنے آ گئی ہیں، پولیس کا کہنا ہے کہ کالے ڈالے میں سوار 2 افراد علی بلال کو ہسپتال لائے ایمرجنسی میں ایدھی ایمبولینس سے سٹریچر لے کر علی بلال کو اندر لے گئے ڈاکٹرز نے چیک کرتے ہی علی بلال کی موت کی تصدیق کر دی علی بلال کی موت کی تصدیق ہونے پر دونوں افراد ایمرجنسی سے فرار ہو گئے دونوں افراد کو شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انکوائری کمیٹی علی بلال کی موت سے متعلق حقائق جلد سامنے لائے گی

    تحریک انصاف کے کارکن علی بلال کی نماز جنازہ آج بعد نماز عصر سیکرٹریٹ لاہور کی بیک سائڈ بابا گراؤنڈ میں ادا کی جائے گی

    زمان پارک کی بجلی بھی بند کر دی گئی ہے

    زمان پارک میں عورتوں کے ساتھ زیادتی

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

     قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    زمان پارک بارے آڈیو لیک،مولانا فضل الرحمان بھی خاموش نہ رہ سکے

  • چیف جسٹس آف پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے، اعتزاز احسن

    چیف جسٹس آف پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے، اعتزاز احسن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ گورنر خیبرپختونخوا الیکشن کی تاریخ نہ دے کر توہین عدالت کر رہے ہیں،

    میڈٍیا رپورٹس کے مطابق اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق 111 دن بعد نگران حکومت ختم ہوجائے گی ،یہ بات واضح کردوں کہ الیکشن کے معاملہ 5 رکنی بینچ تھا،ن لیگی متوالوں کی نگاہ میں نوز شریف اور مریم نواز درست ہیں،پی ٹی آئی والے کہتے ہیں عمران خان ہماری ریڈ لاین ہیں،اب چیف جسٹس کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں چیف جسٹس ہماری ریڈ لائن ہیں الیکشن کے لیے جو محکمہ سروسز نہیں دے گا وہ توہین عدالت کرے گا ،جن ججز نے فیصلہ کیا ان کے خلاف سازش کی جارہی ہے شہباز شریف نے کہا کہ 2قسم کے ججز ہیں ایک نواز شریف کے ساتھ دوسرا ان کے خلاف ،ایک سیاسی رہنما کہتی ہیں کہ میرے پاس سیاست دانوں کی ویڈیوز موجود ہیں مریم نواز نے جیل کا بہادری سے سامنے کیا، بھائی بھگوڑے ہو گئے،مریم نواز کے جلسوں میں اب جان نہیں رہی ،مریم نواز چاہتی ہیں ایک سیاست دان کو باہر کردیا جائے ،

    آرمی چیف نے مختلف فارمیشنز کے الوداعی دوروں کے ایک حصے کے طور پر سیالکوٹ اور منگلا گیریژن کا دورہ کیا۔

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

  • لاہور: سول جج فاروق احمد نوکری سے برطرف

    لاہور ہائیکورٹ نے سول جج فاروق احمد کو نوکری سے برطرف کردیا۔

    باغی ٹی وی : رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ نےسول جج فاروق احمد کی نوکری سے برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جس میں بتایا گیا کہ سول جج فاروق احمد کیخلاف پنجاب سول سرونٹ رولز 1999 کے تحت ڈسپلنری کارروائی کی گئی۔

    سابق مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب زبیر احمد خان گرفتار

    نوٹیفیکیشن کے مطابق انکوائری افسر نے تمام شواہد اکٹھے کرکے انہیں نوکری سے برطرف کرنے کی سفارش کی۔

    واضح رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج بہاولپور اور سول جج بہاولپور ملک فاروق کے درمیان کافی عرصے سے تنازع چلا آرہا تھا جس پر سیشن جج نے سول جج ملک فاروق اور ان کی اہلیہ پر مقدمہ بھی درج کرایا تھا جبکہ ایف آئی اے نے ان کے گھر پر چھاپہ بھی مارا تھا۔

    گزشتہ برس جولائی میں ایڈیشنل سیشن جج بہاولپور کی جانب سے مقدمہ درج کرنے کے معاملے میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سول جج بہاولپور ملک فاروق اور ان کی اہلیہ کی حفاظتی ضمانت رات گئے منظور کی تھی-

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان حتمی مذاکرات آج ہوں گے،درجنوں اشیا پر …

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 10 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض 18 جولائی تک حفاظتی ضمانت منظور کرنے کے احکامات جاری کیے تھے-

    ہائیکورٹ میں دائر اپنی درخواست میں سول جج نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیشن جج نے مجھے مختلف مقدمات کے فیصلے ان کی مرضی کے کرنے کا کہا لیکن میں نے میرٹ پر فیصلے کئے، سیشن جج نے دھمکی دی پھر میرا تبادلہ کروایا۔

    سول جج کا کہنا تھا کہ میرے خلاف مقدمہ درج کروا دیا اور اب پولیس گھر پر چھاپے مار رہی ہے، میرے پاس سیشن جج کے واٹس ایپ میسجز کالز کا مکمل ریکارڈ موجود ہے، گرفتاری کا خدشہ ہے اس لیے حفاظتی ضمانت منظور کی جائے۔

    عمران خان سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش نہیں ہوں …

  • ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی درخواست پر نوٹس جاری

    ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی درخواست پر نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان کی بذریعہ ویڈیو لنک عدالتوں میں پیشی و سکیورٹی کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے کہا کہ آپ نے درخواست میں غیر ضروری پارٹیز کو ختم کردیا ہے ،وکیل عمران خان نے کہا کہ جی بالکل ہم نے غیر متعلقہ فریقین کو الگ کردیا ہے،عدالت نے وفاقی حکومت،پنجاب حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کر کے جواب طلب کر لیا جسٹس عابد عزیز شیخ نےعمران خان کی درخواست پر سماعت کی

    قبل ازیں عدالت نے وکیل کو پٹیشن ترامیم کرکے فوری دائر کرنے کی ہدایت کردی، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پٹیشن پر دوبارہ سماعت آج ہی ہوگی آپ کی پٹیشن دیکھی آپ فول پروف سکیورٹی چاہتے ہیں، وکیل سلمان صفدر نے عدالت میں کہا کہ عمران خان سابق وزیراعظم ہیں سکیورٹی ان کا حق ہے جسٹس عابد عزیز شیخ نے استفسار کیا کہ کیا سابق وزیراعظم کو سکیورٹی دینے سے متعلق کوئی نوٹیفکیشن ہے؟وکیل درخواست گزار نے عدالت میں‌ کہا کہ نوٹیفکیشن میرے پاس تو نہیں لیکن حکومت آپ کی معاونت کرے گی، عمران خان نے ریلی کی قیادت کرنا تھی، سکیورٹی کی ضرورت تھی،عمران خان کو عدالتوں میں پیشی، ریلی کی قیادت کیلئے سکیورٹی خدشات تھے،

    وزیراعظم شہبازشریف سے امریکی نمائندہ خصوصی جان کیری کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیرخارجہ بلاول  کی میٹا کے عالمی امور کے صدر نک کلیگ سے ملاقات

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ملنڈا اینڈ بل گیٹس کے بانی بل گیٹس سے ملاقات کی ہے۔

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے درخواست میں جن کو فریق بنایا ان کا اس پٹیشن سے کوئی تعلق نہیں 3 دن سے آپ اعتراضات ختم کرا رہے ہی، غیر متعلقہ افراد کو پٹیشن میں فریق بنایا ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ بالکل یہ ہماری غلطی ہے اورغلطی سے ایسا ہوا،جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو انتہائی محتاط ہونا چاہئے

  • عمران خان کی تقریر اور بیانات نشر کرنے پر پابندی کے پیمرا کانوٹیفکیشن  معطل

    عمران خان کی تقریر اور بیانات نشر کرنے پر پابندی کے پیمرا کانوٹیفکیشن معطل

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی تقریر اور بیانات نشر کرنے پر پابندی کے پیمرا کانوٹیفکیشن معطل کر دیا-

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان کی تقاریر اور بیانات نشر کرنے پر پابندی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس شمس محمود مرزا نے سماعت کی-

    تحریک انصاف کے رہنما عامر کیانی اورعمران اسماعیل کے خلاف فراڈ کا مقدمہ درج

    دوران سماعت جسٹس شمس محمود مرزا نے ریمارکس دیئے کہ کسی سیاسی جماعت کے سربراہ پر اس طرح پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔یہ توآزادی اظہار رائے کیخلاف ہے۔

    پیمرا کے وکیل نے اعتراض کیا کہ یہ معاملہ یہاں نہیں سنا جا سکتا ہے، فل بینچ نے سماعت کرنا ہے۔میری عدالت سے درخواست ہے کہ یہ دائرہ اختیار نہیں ہے۔

    متحدہ عرب امارات پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار

    عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ آئندہ چیئرمین پیمرا سے کہیے گا کہ آپ سے مشاورت کر لیں۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی تھی کہ پیمرا نے عمران خان کی اور تقاریر نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کی ہے۔بیانات اور تقاریر پر پابندی لگانا بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے پیمرا کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    خاتون جج دھمکی کیس: عمران خان کی آج عدالت حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر

    بعد ازاں دوبارہ کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو جسٹس شمس محمود مرزا نے پیمرا کی جانب سے عمران خان کی تقریر اور بیانات نشر کرنے پر پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے پابندی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا۔

    عدالت نے عمران خان کی درخواست کو مزید سماعت کے لیے فل بینچ کو بھجوا دیا۔عمران خان نے پیمرا کی جانب سے پابندی کے نوٹیفکیشن کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔عدالت نے وفاقی حکومت سمیت فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کاروائی 13مارچ تک ملتوی کردی۔

    پیمرا نے 5 مارچ کو عمران خان کی جانب سے ریاستی اداروں پر الزامات کے حوالے سے ان کی تقاریر اور بیانات نشر کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔

  • لاہور میں ہنگامہ آرائی اور  پرتشدد واقعات،عمران خان پر مقدمہ درج

    لاہور میں ہنگامہ آرائی اور پرتشدد واقعات،عمران خان پر مقدمہ درج

    لاہور میں گزشتہ روز کی ہنگامہ آرائی اور پرتشدد واقعات پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : عمران خان پر مقدمہ ڈی ایس پی رائیونڈ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے ایف آئی آر کے متن کے مطابق مسلح افراد سمیت تین، چار سو افراد پر مشتمل جتھے نے ہنگامہ آرائی کی، جتھے میں شریک افراد قومی سلامتی کے اداروں کو دھمکیاں دے رہے تھے-

    ایف آئی آر کے مطابق پی ٹی آئی کارکن عمران خان، حسان نیازی، فرخ حبیب، فواد چوہدری، حماد اظہر، محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کےکہنے پر اداروں کودھمکیاں دیتے رہے پی ٹی آئی کےمشتعل افراد نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور ڈنڈے برسائے جس میں 13 پولیس افسران اور اہلکار زخمی ہوئے، پی ٹی آئی کارکنوں کے پتھراؤ کی وجہ سے ان کے اپنے 6 کارکن بھی زخمی ہوئے۔

    سابق مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب زبیر احمد خان گرفتار

    واضح رہےکہ گزشتہ روز تحریک انصاف نے آئین اور عدلیہ سے اظہار یکجہتی کے لیے ریلی نکالنےکا اعلان کیا تھا اور عمران خان نے بھی اس ریلی میں شرکت کرنی تھی تاہم محکمہ داخلہ پنجاب نے لاہور میں جلسہ ، جلوس ، ریلی پر پابندی عائد کردی جس کے تحت احتجاج ، دھرنے اور مظاہروں پر بھی پابندی عائد ہوگئی ہے، یہ پابندی سات روز تک جاری رہے گی۔

    زمان پارک لاہور میں پولیس اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکن آمنے سامنے آگئے تھے صوبائی حکومت کی جانب سے دفعہ 144 نافذکی گئی تھی جس کی خلاف ورزی پر پی ٹی آئی کے37 کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔

    اقوام متحدہ میں عرب ممالک کا قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے واقعات پر …

    پی ٹی آئی کی ریلی روکنے کیلئے پولیس نے پکڑ دھکڑ، شیلنگ اور آبی توپ کا استعمال بھی کیا،پولیس اور کارکنوں کی مڈ بھیڑ میں کئی گاڑیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے کارکنوں کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا ۔ پولیس نے کئی کارکنوں کو حراست میں لیا۔

    پولیس ترجمان کا کہنا ہےکہ لاہور میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کے حملوں میں 2 ڈی ایس پیز سمیت 11 اہلکار زخمی ہوئے ہیں جب کہ پی ٹی آئی نے مبینہ پولیس تشدد سے اپنے ایک کارکن کی ہلاکت کا بھی الزام لگایا ہے۔

    عمران خان سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش نہیں ہوں …

  • سابق مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب زبیر احمد خان گرفتار

    سابق مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب زبیر احمد خان گرفتار

    لاہور: سابق مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب زبیر احمد خان کو رات گئے گرفتار کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی: سابق چیئرمین چیف منسٹر کمپلینٹ سیل پنجاب اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کے مشیر زبیر احمد خان کو رات گئے ان کے گھر سے گرفتار کر لیا گیا۔


    سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑیاں زبیر احمد خان کے گھر کے باہر آ کر رکیں اور انہیں گھر سے گرفتار کر کے اپنے ہمراہ لے گئیں۔

    زبیر احمد خان کی گرفتاری سے متعلق تفصیلات تاحال سامنے نہیں ئیں اور نہ ہی پولیس کی جانب سے کوئی بیان جاری کیا گیا ہے۔

  • آپ دولت کے ترازو میں دلوں کو تولیں

    آپ دولت کے ترازو میں دلوں کو تولیں

    ساحر لدھیانوی ایک جاگیردار گھرانے میں 8 مارچ 1921 کو پیدا ہوئے اور ان کا نام عبدالحئی رکھا گیا۔ان کے والد کا نام چودھری فضل محمد تھا اور وہ انکی گیارھویں، لیکن خفیہ ،بیوی سردار بیگم سے ان کی پہلی اولاد تھے۔ساحر کی پیدائش کے بعد ان کی ماں نے اصرار کیا کہ ان کے رشتہ کو باقاعدہ شکل دی جاے تاکہ آگے چل کر وراثت کا کوئی جھگڑا نہ پیدا ہو۔

    چودھری صاحب اس کے لئے راضی نہیں ہوئے تو سردار بیگم ساحر کو لے کر شوہر سے الگ ہو گئیں ۔اس کے بعد ساحر کی تحویل کے لئے فریقین میں مدّت تک مقدمہ بازی ہوئ۔ساحر کی پرورش ان کے ننہال میں ہوئی۔جب اسکول جانے کی عمر ہوئی تو ان کا داخلہ مالوہ خالصہ اسکول میں کرا دیا گیا جہاں سے انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔اس زمانہ میں لدھیانہ اردو کا متحرک اور سرگرم مرکز تھا ۔یہیں سے انہیں شاعری کا شوق پیدا ہوا اور میٹرک میں پہنچتے پہنچتے وہ شعر کہنے لگے۔

    1939 میں اسی اسکول سے انٹرنس پاس کرنے کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں داخلہ لیا۔اسی زمانہ میں ان کا سیاسی شعور بیدار ہونے لگا اور وہ کمیونسٹ تحریک کی طرف راغب ہو گئے۔ملک اور قوم کے حالات نے ان کے اندر سرکشی اور بغاوت پیدا کی۔بی اے کے آخری سال میں وہ اپنی اک ہم جماعت ایشر کور پر عاشق ہوے اور کالج سے نکالے گئے۔وہ کالج سے بی اے نہیں کر سکے لیکن اس کی فضا نے ان کو اک خوبصورت رومانی شاعر بنا دیا۔ان کا پہلا مجموعہ "تلخیاں” ۱۹۴۴ میں شائع ہوا اور ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔

    کالج چھوڑنے کے بعد وہ لاہور چلے گئے اور دیال سنگھ کالج میں داخلہ لے لیا لیکن اپنی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے وہ وہاں سے بھی نکالے گئے پھر ان کا دل تعلیم کی طرف سے اچاٹ ہو گیا۔وہ اس زمانہ کے معیاری ادبی رسالہ "ادب لطیف "کے ایڈیٹر بن گئے۔بعد میں انھوں نے سویرا اور اپنے ادبی رسالہ شاہکار کی بھی ادارت کی ساحر نے بچپن اور جوانی میں بہت پر خطر اور کٹھن دن گزارے جس کی وجہ سے انکی شخصیت میں شدید تلخی گھل گئی تھی۔

    دنیا سے اپنی محرومیوں کا بدلہ لینے کی ایک زیریں لہر ان کی شخصیت میں رچ بس گئی تھی جس کے مظاہر وقتا فوقتا” سامنے آتے رہتے تھے ساحر نے جتنے تجربات شاعری میں کئے وہ دوسروں نے کم ہی کئے ہوں گے۔انھوں نے سیاسی شاعری کی ہے،رومانی شاعری کی ہے،نفسیاتی شاعری کی ہے اور انقلابی شاعری کی ہے جس میں کسانوں اور مزدوروں کی بغاوت کا اعلان ہے۔انھوں نے ایسی بھی شاعری کی ہے جو تخلیقی طور پپر ساحری کے زمرہ میں آتی ہے-

    انکی ادبی خدما ت کے اعتراف میں انہیں ۱۹۷۱ میں پدم شری کے خطاب سے نوازا گیا۔۱۹۷۲ میں مہارازشر حکومت نے انہیں "جسٹس آف پیس” ایوارڈ دیا ۱۹۷۳ میں "آو کہ کوئی خواب بُنیں” کی کامیابی پر انھیں "سویت لینڈ نہرو ایوارڈ” اور مہاراشٹر اسٹیٹ لٹریری ایوارڈ ملا۔۱۹۷۴ میں مہاراشٹر حکومت نے انھیں ‘اسپشل ایکزیکیوٹیو مجسٹریٹ نامزد کیا۔ان کی نظموں کے ترجمے دنیا کی مختلف زبانوں میں ہو چکے ہیں۔۸مارچ ۲۰۱۳ء کو ان کے یوم پیدائش کے موقع پر محکمہ ڈاک نے اک یادگاری ٹکٹ جاری کیا ۲۵ اکتوبر،۱۹۸۰ میں دل کا دورہ پڑنے سے ممبئی میں وفات پاگئے.

    ساحر لدھیانوی کے یوم پیدائش پر انکے کچھ منتخب اشعار بطور خراج عقیدت.

    *میں پل دو پل کا شاعر ہوں پل دو پل مری کہانی ہے
    پل دو پل میری ہستی ہے پل دو پل مری جوانی ہے*
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
    جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
    اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اپنی تباہیوں کا مجھے کوئی غم نہیں
    تم نے کسی کے ساتھ محبت نبھا تو دی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا
    ہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتا چلا گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آپ دولت کے ترازو میں دلوں کو تولیں
    ہم محبت سے محبت کا صلہ دیتے ہیں