Baaghi TV

Category: لاہور

  • اردو کی ممتاز اور معرکتہ آراء شاعرہ ادا جعفری

    اردو کی ممتاز اور معرکتہ آراء شاعرہ ادا جعفری

    اردو کی ممتاز اور معرکتہ آراء شاعرہ ادا جعفری

    ادا جعفری اردو زبان کی معروف شاعرہ تھیں۔ آپ کی پیدائش 22 اگست 1924ء کو بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ آپ کا خاندانی نام عزیز جہاں ہے۔ آپ تین سال کی تھیں کہ والد مولی بدرالحسن کا انتقال ہو گیا۔ جس کے بعد پرورش ننھیال میں ہوئی۔ ادا جعفری نے تیرہ برس کی عمر میں ہی شاعری شروع کر دی تھی۔ وہ ادا بدایونی کے نام سے شعر کہتی تھیں۔ اس وقت ادبی رسالوں میں ان کا کلام شائع ہونا شروع ہو گیا تھا۔ آپ کی شادی 1947ء میں نور الحسن جعفری سے انجام پائی شادی کے بعد ادا جعفری کے نام سے لکھنے لگیں۔ ادا جعفری عموماً اختر شیرانی اور اثر لکھنوی سے اصلاح لیتی رہی۔ ان کے شعری مجموعہ شہر درد کو 1968ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔ شاعری کے بہت سے مجموعہ جات کے علاوہ جو رہی سو بے خبری رہی کے نام سے اپنی خود نوشت سوانح عمری بھی 1995ء میں لکھی۔ 1991ء میں حکومت پاکستان نے ادبی خدمات کے اعتراف میں تمغا امتیاز سے نوازا۔ وہ کراچی میں رہائش تھیں ۔

    ممتاز شاعرہ ادا جعفری اپنے رنگ‘ اپنے اسلوب میں نہ صرف منفرد بلکہ تاریخ ادب میں نسائی لہجے کی غزل کہنے میں انتہائی مقبول اور معتبر قرار پائیں۔ ہمیں یاد ہے کہ وہ اپنے شوہر نور الحسن جعفری جو سابق بیوروکریٹ تھے اور بعد میں انجمن ترقی اُردو پاکستان کے صدر بھی رہے‘ ان سے بے پناہ محبت کرتی تھیں۔ ادا جعفری اور نور الحسن جعفری کو اکثر ساتھ ہی دیکھا۔ جعفری صاحب کے انتقال کے بعد ادا جعفری نے دنیا سے ناطہ توڑ لیا اور مکمل طور پر گوشہ نشین ہو گئیں۔

    کوئی پندرہ سولہ برس کا عرصہ گزرا ادا جعفری نہ کسی مشاعرے میں شریک ہوئیں اور نہ کسی ادبی محفل میں اور نہ ان کا کلام کسی ادبی رسالے کی زینت بنا۔ ادا جعفری نے اُردو غزل اور نظم میں جو مقبولیت حاصل کی وہ کسی اور شاعرہ کے حصے میں اس طرح نہیں آئی جس طرح ادا جعفری کے حصے میں آئی۔ ہم نے اپنی نوجوانی کے دور میں صہبا لکھنوی مرحوم کی سرپرستی میں ادبی سفر کا آغاز کیا تھا۔ اس زمانے میں ادبی جریدہ ماہنامہ افکار شائع ہوا کرتا تھا۔ ادا جعفری اس ادبی جریدے میں تازہ ترین تخلیقات کے ساتھ شائع ہوا کرتی تھیں۔ جب بھی ادا جعفری کوئی نئی غزل یا نظم لکھتیں تو افکار میں شائع ہوتیں۔ وہ جب کبھی افکار کے دفتر آتیں تو صہبا لکھنوی ان کے احترام میں کھڑے ہو جاتے اور بتاتے کہ ادا بہن ادبی جرائد کو آج کل کتنے مشکل حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔

    وہ اس سلسلے میں اشتاری معاونت بھی کرتیں اور صہبا لکھنوی کا حوصلہ بڑھاتیں۔ نور الحسن جعفری کے انتقال کے بعد ادا جعفری کی جو نظمیں شائع ہوئیں وہ بڑی اہمیت کی حامل ہیں ان نظموں اور غزلوں میں ایک تنہائی کا احساس اور اپنے شریک سفر سے بچھڑ جانے کا انداز اشعار میں جس ڈھنگ سے آتا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ ادا جعفری نے دو چار برس یہ سلسلہ جاری رکھا اور پھر انہوں نے چھپنے سے گریز کیا۔ ہمیں یاد ہے کہ ادا جعفری کی صدارت میں ہم نے اپنی نوجوانی میں کئی مشاعرے پڑھے۔ وہ مشاعرے کی شاعرہ نہیں تھیں لیکن انہیں مشاعروں میں پوری توجہ کے ساتھ سنا جاتاتھا۔ وہ اپنے اشعار پر مشاعرے لوٹ لیا کرتی تھیں۔ 1987ء میں پی ٹی وی کا ایک یادگار مشاعرہ تھا جس میں ہم نے بحیثیت شاعر پہلی مرتبہ پی ٹی وی مشاعرہ میں شرکت کی۔ اس مشاعرے کی صدارت محترمہ ادا جعفری کر رہی تھیں جبکہ نظامت کے فرائض حمایت علی شاعر نے انجام دئیے تھے۔

    وہ مشاعرہ اس قدر اہم تھا جس میں مقبول شعراء شریک ہوئے۔ پروین شاکر‘ جمیل الدین عالی بھی محفل میں شریک تھے۔ ادا جعفری نے اس مشاعرے میں کئی خوبصورت غزلیں سنائیں۔ ہمیں یاد ہے کہ ادا جعفری نے اس وقت پروین شاکر کو بھی ان کی غزل پر خاصی داد دی تھی۔ اور ہم پر اپنا دست شفقت رکھا تھا۔ ادا جعفری شاعرہ تو بہت بڑی تھیں لیکن انسان بھی بہت بڑی تھیں۔ جب بھی اپنے چھوٹوں سے شعر سنتیں‘ اچھے اشعار پر ان کی حوصلہ افزائی کرتیں۔ ان جیسی قد آور شاعرہ کے سامنے ہم جیسے نوجوانوں کی کیا حیثیت تھی۔ لیکن ان کا مشفقانہ طرز عمل ہمارے لئے باعث تقویت رہا۔

    ایک نوجوان شاعر نے انہیں اپنے ولیمے کا کارڈ دیا تو کچھ ہی دیر کے بعد جس محفل میں انہیں کارڈ دیا گیا تھا انہوں نے بڑی اپنائیت سے کہاکہ ہم ولیمے کے روز بہت مصروف ہیں اگر آپ ہمیں اپنی شادی میں مدعو کر لیں تو آپ کا کیا خیال ہے۔ ادا جعفری کی اس بات پر نوجوان شاعر نے کہاکہ یہ تو میرے لئے‘ اہل خانہ کے لئے اعزاز کی بات ہے کہ آپ شادی کی تقریب میں شریک ہوں۔ اور پھر ادا جعفری شادی کی تقریب میں شریک ہوئیں اور خاصی دیر شریک رہنے کے بعد دعائیں دیتی ہوئی رخصت ہوئیں۔

    ادا جعفری کی غزل میں ایک ایسا لہجہ چھپا ہوا تھا جس کی ہمارے عہد کی شاعرات نے نہ صرف تقلید کی بلکہ نسائی حسیت بھی ان کے شعروں میں نمایاں ہونے لگی۔ ادا جعفری کی غزل ہمارے عہد کی ایسی غزل ہے جس میں عورت کا بھرپور اظہار اور احساس کے ساتھ خیال کی سطح بلند ہوتی ہے اور اس طرح دل کو چھوتی ہے کہ پڑھنے والے اس خیال کو اپنے قریب تر سمجھنے لگتا ہے۔ غزل میں جو رچائو اور چاشنی ہے وہ ادا جعفری کی غزل کا خاصہ ہے۔ ادا جعفری کی وہ غزل جو بہت زیادہ مقبول ہوئی:

    ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام ہی آئے
    آئے تو سہی برسر الزام ہی آئے

    یہ غزل استاد امانت علی کی آواز میں گائے جانے سے تو مقبول ہوئی لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ استاد امانت علی کی گائیکی میں ادا جعفری کی خوبصورت غزل ان کے ریکارڈ میں شامل ہو گئی۔

    ادا جعفری کی نثر اس قدر منفرد نثر ہے ان کی سوانح حیات ’’جو رہی سو بے خبری رہی‘‘ سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ کس سطح کی نثر نگار تھیں۔ خود نوشت سوانح حیات میں ادا جعفری نے واقعات کے تانے بانے جس انداز سے جوڑے ہیں اور وہ واقعات جو ان کی ابتدائی زندگی میں آئے اور ان کی شاعرہ بننے میں کیا محرکات تھے وہ واقعات حیران کن بھی ہیں اور ادا جعفری کے جینئس ہونے کی بھی نشاندہی کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اُردو کی ایک اہم‘ ممتاز اور معرکتہ الآرا شاعرہ قرار پائیں۔ وہ اپنے شوہر نور الحسن جعفری کے انجمن ترقی اُردو سے وابستہ ہونے کے باعث خود بھی انجمن سے جڑی رہیں۔ اُردو کے کلاسک شعراء کا انتخاب ’’غزل نما‘‘ ایک تاریخی کارنامہ ہے۔ آج ادا جعفری ہم میں نہیں ہیں لیکن ادا جعفری کی شاعری سے کئی نسلیں استفادہ کرتی رہیں گی۔

    #تصانیف

    میں ساز ڈھونڈتی رہی 1950(شاعری)
    شہر درد 1967 (شاعری)1968ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔
    غزالاں تم توواقف ہو 1974 (شاعری)
    ساز سخن بہانہ ہے 1982 (شاعری) ہائیکو
    حرف شناسائی (شاعری)
    موسم موسم (کلیات2002ء)
    جو رہی سو بے خبری رہی 1995 ( خود نوشت)

    منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید
    راہ میں سنگ وفا تھا شاید

    اس قدر تیز ہوا کے جھونکے
    شاخ پر پھول کھلا تھا شاید

    جس کی باتوں کے فسانے لکھے
    اس نے تو کچھ نہ کہا تھا شاید

    لوگ بے مہر نہ ہوتے ہوں گے
    وہم سا دل کو ہوا تھا شاید

    تجھ کو بھولے تو دعا تک بھولے
    اور وہی وقت دعا تھا شاید

    خون دل میں تو ڈبویا تھا قلم
    اور پھر کچھ نہ لکھا تھا شاید

    دل کا جو رنگ ہے یہ رنگ اداؔ
    پہلے آنکھوں میں رچا تھا شاید
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آخری ٹیس آزمانے کو
    جی تو چاہا تھا مسکرانے کو

    یاد اتنی بھی سخت جاں تو نہیں
    اک گھروندا رہا ہے ڈھانے کو

    سنگریزوں میں ڈھل گئے آنسو
    لوگ ہنستے رہے دکھانے کو

    زخم نغمہ بھی لو تو دیتا ہے
    اک دیا رہ گیا جلانے کو

    جلنے والے تو جل بجھے آخر
    کون دیتا خبر زمانے کو

    کتنے مجبور ہو گئے ہوں گے
    ان کہی بات منہ پہ لانے کو

    کھل کے ہنسنا تو سب کو آتا ہے
    لوگ ترسے ہیں اک بہانے کو

    ریزہ ریزہ بکھر گیا انساں
    دل کی ویرانیاں جتانے کو

    حسرتوں کی پناہ گاہوں میں
    کیا ٹھکانے ہیں سر چھپانے کو

    ہاتھ کانٹوں سے کر لیے زخمی
    پھول بالوں میں اک سجانے کو

    آس کی بات ہو کہ سانس اداؔ
    یہ کھلونے تھے ٹوٹ جانے کو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
    آئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے

    حیران ہیں لب بستہ ہیں دلگیر ہیں غنچے
    خوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے

    لمحات مسرت ہیں تصور سے گریزاں
    یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے

    تاروں سے سجا لیں گے رہ شہر تمنا
    مقدور نہیں صبح چلو شام ہی آئے

    کیا راہ بدلنے کا گلہ ہم سفروں سے
    جس رہ سے چلے تیرے در و بام ہی آئے

    تھک ہار کے بیٹھے ہیں سر کوئے تمنا
    کام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے

    باقی نہ رہے ساکھ اداؔ دشت جنوں کی
    دل میں اگر اندیشۂ انجام ہی آئے

  • ظل شاہ کی والدہ نے پی ٹی آئی کو بیٹے کا قاتل قرار دے دیا

    ظل شاہ کی والدہ نے پی ٹی آئی کو بیٹے کا قاتل قرار دے دیا

    لاہور: ظل شاہ کی والدہ نے پاکستان تحریک انصاف کو اپنے بیٹے کا قاتل قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے ظل شاہ کی والدہ نے کہا کہ میرا بیٹا عمران خان پر قربان ہو گیا جب سے عمران خان کو چوٹ لگی میرا بیٹا دن رات وہیں بیٹھا رہتا تھا ان کو چاہیئے تھا اس کی حفاظت کرتے انہوں نے کیا کیا اتنا کچھ ہو گیا مار دیا ڈالے گھمائے یاسمین راشد نے انہیں کال کی بجائے ان کو کال کرنے کے یاسمین راشد اسپتال جاتی-

    ظل شاہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ اپنے ان کے بچے حفاظت سے ہیں میرا بچہ ان کے لئے قربان ہو گیا جب سے عمران خان کو چوٹ لگی میرا بیٹا گھر نہیں آتا تھا کہتا تھا میرے ووٹ سے جیتے گا اس کو میری وجہ سے آرام آئے گاہمیں انصاف چاہیئے ہمیں ہمارا بیٹا چاہیئے بس میرا انہیں پیغام پہنچا دیں-

    جاں بحق کارکن کی والدہ نے کہا کہ مجھے تسلی نہیں ہے اس قدر بے دردی سے میرے بیٹے کا قتل کیا یہ سب سازش کے تحت ہوا ہے اس وقت سب کچھ اکٹھا ہو گیا اتنے لوگ مرتے ہیں کسی کا پتہ نہیں ہوتا میرے بیٹے کا انہوں نے سب کچھ بائیو ڈیٹا نکال لیا وہاں مر گیا اسپتال میں چلا گیا دس پندرہ منٹ میں میرے میاں کو بھی پتہ چل گیا یہ اتنا سب کچھ تحریک انصاف والوں نے کیا مجھے بس عمران خان سے یہی کہنا ہے کہ مجھے میرا بیٹا دے دے اس کی بڑی مہربانی ہو گی-

    انہوں نے کہا کہ میرا بیٹا اس کی حفاظت کے لئےگیا لیکن انہوں نے میرے بچے کی کوئی حفاظت نہیں کی آپ خود ہی دیکھ لیں آپ خود دیکھ لیں میرے بچے کی کون سی حفاظت کی انہوں نےمجھ سےمیرا جوان بچہ چھین لیا میں اپنےبچےکو کہتی ہوتی تھی بلال نہ جاؤ کہتا نہیں امی میں اپنے گھر کے لئے جا رہا ہوں آپ مجھے مت روکو میرے ووٹ سے وہ وزیراعظم بنے گا اتنا یقین تھا ا س کامیں اسے ڈانٹ بھی دیتی تھی اور ایک دو مرتبہ اسے تھپڑ بھی مارا س اسے زیادہ میں کچھ نہیں کہوں گی بس اسے (عمران خان) کہیں میرا بیٹا لادے-

  • میری  گرفتاری کی صورت میں پارٹی کی پلاننگ تیار  ہے،عمران خان

    میری گرفتاری کی صورت میں پارٹی کی پلاننگ تیار ہے،عمران خان

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کی گرفتاری کی صورت میں پارٹی کی پلاننگ تیار ہے۔

    عمران خان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ ویسے تو ملکی مسائل کا واحد حل فوری اور شفاف انتخابات ہیں اگر الیکشن کے علاوہ بھی ملک کو دلدل سے نکالنے کا کوئی راستہ ہے تو وہ بتا دیں ملک میں اس وقت خوف کا نظام قائم ہے، میں پوچھتا ہوں کہ کس نےفیصلہ کیا کہ عمران خان کو نہیں آنے دینا، ملک میں ایک ہی وفاقی پارٹی رہ گئی ہے ، آپ مجھے ختم کریں گے تو ملک کو اکٹھا کون کرے گا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کی پی ٹی آئی کارکن کی موت کی تحقیقات کرنے والی ٹیم سے …

    ایک بیان میں عمران خان نے کہا کہ جنہوں نے این آر او لیا ان کو مجھ سے خطرہ تو ہونا ہی ہے، ملک کا کوئی قانون ہے یا اسے ملکہ کے حکم پر چلانا ہے؟ اختلاف کرتے ہیں تو اس کا مقصد یہ نہیں کہ ہم اداروں سے لڑائی کریں گے، مجھے نظر آرہا ہے کہ صرف عدلیہ ہی ملک کو تباہی سے بچا سکتی ہے-

    ان کا کہنا تھا کہ جام پورکے الیکشن سے ان کی کانپیں ٹانگنے لگی ہیں، ان کا ایک نکاتی ایجنڈا ہے کسی طرح الیکشن سے نکلو، ان کا پلان تھا ہم سب کو باہر کرکے الیکشن کراتے، آج جتنے لوگ تھے مجھے خوف ہوا کہ نکلے تو خون خرابہ ہو گا، ہم عدالت کے پاس جا رہے ہیں کہ ہمیں عدلیہ سے آر اوز چاہئیں۔

    عمران خان نے کہا کہ ملک میں کوئی قانون ہے یا ملکہ کے حکم پر چلنا ہے، میرا بھی لندن میں فلیٹ تھا اُس پر نواز شریف مجھے عدالت لے گیا ، میں نے اپنے فلیٹ سے متعلق ایک ایک دستاویز پیش کیے۔

    پی ٹی آئی نے لاہور میں کل کی ریلی کے شیڈول کا اعلان کردیا

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ میں آزاد آدمی ہوں اور کسی کا غلام نہیں بن سکتا اگر یہ ہم سے بہتر معیشت چلاتے تو میں چپ کرکے الیکشن کا انتظار کرتا ان کے پاس جو غیر قانونی دولت ہے اس کا ابھی تک جواب نہیں دیا، جو ملک کا پیسے چوری کر کے باہر لے گئے وہ کیسے ملک ٹھیک کر سکتے ہیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ مریم نواز کو جلسوں کی اجازت ہے ہمیں نہیں، کیا یہ لیول پلیئنگ فیلڈ ہے؟ ن لیگ کا بیڑا غرق میری وجہ سے نہیں ہو رہا بلکہ اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ نواز شریف نے اپنی بیٹی کو اوپر بٹھا دیا ہے، ن لیگ کے پرانے لوگ اس خاتون سے آرڈر لیں گے جس نے ایک گھنٹہ کام نہیں کیا، وہ ہر دوسرے روز ایسی بات کر دیتی ہے جو ہمارا فائدہ کراتی ہے گرفتاری کی صورت میں پلاننگ تیار ہے، وقت پر بتائیں گے-

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا میں نے کبھی نہیں کہا کہ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو آرمی چیف بناؤ، یہ گیم اپنا کھیل رہے تھے اور مجھے استعمال کیا جا رہا تھا یہ لیول پلئینگ فیلڈ اسے کہتے ہیں کہ دوسرے کے ہاتھ باندھ دو اور اگلے کے ہاتھ میں بندوق پکڑا دو۔

    سستی روٹی سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

  • وزیراعلیٰ پنجاب کی پی ٹی آئی کارکن کی موت کی تحقیقات کرنے والی ٹیم سے ملاقات

    وزیراعلیٰ پنجاب کی پی ٹی آئی کارکن کی موت کی تحقیقات کرنے والی ٹیم سے ملاقات

    لاہور: نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کارکن کی موت کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کو شاباش دی-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق محسن نقوی سے پی ٹی آئی کاکرن ظل شاہ کی مورت کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کی ملاقات ہوئی ملاقات میں چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب اورسی سی پی او بھی موجود تھے۔


    ملاقات میں وزیراعلیٰ نے پولیس ٹیم کی کارکردگی کوسراہا اورشاباش دی اور کہا کہ آپ نے محنت، پیشہ ورانہ انداز سے کم وقت میں اندھےکیس کا سراغ لگایا، حکومت آپ کی کارکردگی کو سراہتی ہے جاں بحق شہری کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی ہم سب کی ذمہ داری ہے، آپ نے پہلے بھی انصاف کے تقاضے پورے کیے، آئندہ بھی پورے کریں گے۔


    واضح رہے کہ لاہور میں جاں بحق ہونے والے کارکن سے متعلق پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا ہےکہ علی بلال کی موت پولیس کے تشدد سے ہوئی بعد ازاں پنجاب حکومت نے پی ٹی آئی کارکن علی بلال کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیو کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا تھاکہ کارکن کی موت گاڑی کی ٹکر سے ہوئی۔

    لاہور میں ہنگامی پریس کانفرنس میں نگران وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کارکن علی بلال کی موت پولیس تشدد سے نہیں گاڑی کی ٹکر سے ہوئی، جس گاڑی میں اس کی لاش اسپتال لائی گئی اس کا مالک پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب کا رکن راجا شکیل ہے، اسی نے یاسمین راشد کو معلومات دی کہ گاڑی سے بندہ ہٹ ہوا، یاسمین راشد نے راجا شکیل کو کہا آپ میرے ساتھ کل زمان پارک چلیں، ڈرائیور کو گاڑی میں چھوڑ کر راجا شکیل یاسمین راشد کے ساتھ زمان پارک گئے، وہاں یہ سازش رچائی گئی۔

    انہوں نے کہا تھا کہ ڈرائیور کو گاڑی میں چھوڑ کر راجا شکیل یاسمین راشد کے ساتھ زمان پارک گئے، یاسمین راشدزمان پارک کےاندرگئیں اورباہر آکر راجاشکیل کوکہاکہ بے فکر ہوجائیں۔

    آئی جی پنجاب عثمان انور نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ شہری لیاقت علی نے اپنے بیٹے علی بلال کی موت کی تحقیقات کرنے کی اپیل کی ، فیصلہ کیا گیا ہے کہ پولیس تشدد کے شواہد ملے تو مکمل کارروائی کی جائے گی سوشل میڈیا پر پھیلائی جانےوالے ویڈیو جعلی ہے، کالے رنگ کی گاڑی سروسز اسپتال آنے کی ویڈیو رپورٹ ہوئی ہے-

    انہوں نے کہا تھا کہ بلال کی لاش 6 بج کر 52 منٹ پر سروسز اسپتال میں چھوڑی گئی، گاڑی 31 کیمروں کی مدد سے جی پی ایس کی مدد سے وارث شاہ روڈ سے برآمد کی، گاڑی کے ڈرائیور کا نام جہانزیب اور مالک کا نام راجا شکیل ہے، اس شخص کو مارنے کی سازش نہیں تھی، ظل شاہ کے والد سے وعدہ ہےکہ انہیں تمام شواہد پیش کریں گے۔

  • پی ٹی آئی نے لاہور میں کل کی ریلی کے شیڈول کا اعلان کردیا

    پی ٹی آئی نے لاہور میں کل کی ریلی کے شیڈول کا اعلان کردیا

    پاکستان تحریک انصاف نے لاہور میں کل کی ریلی کے شیڈول کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی لاہور کے صدر شیخ امتیاز کے مطابق کل دوپہر 2 بجے زمان پارک سے داتا دربار تک ریلی نکالی جائے گی ریلی زمان پارک سے علامہ اقبال روڈ، ریلوے اسٹیشن سے داتا دربار پہنچے گی اور ریلی کی قیادت عمران خان کریں گے۔

     

    قومی اسمبلی؛37 نشستوں پر ضمنی انتخابات منسوخ کردیئے گئے

    خیال رہے کہ عمران خان نے آج لاہور میں ریلی کا اعلان کیا تھا عمران خان کی جانب سے آج ریلی نکالنے کے اعلان کے بعد پنجاب حکومت نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ر ینجرز کو طلب کر لیا تھا۔

    نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سیاسی سرگرمیوں پر کوئی پابندی نہیں ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم چلانےکی آزادی ہے، ہم نے آج کے لیے ریلیاں اور سیاسی سرگرمیاں محدود کردی ہیں۔

    آئی فونز میں اردو نستعلیق کس نے شامل کروایا تھا؟

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ لاہور میں پی ایس ایل کرکٹ میچ، ٹیم کی نقل و حرکت اور میراتھن ہے، اس حوالے سے تمام منصوبہ بندی کی گئی تھی اور بہت پہلے اعلان کیا گیا تھا۔

    تاہم صوبائی نگران حکومت نے پی ایس ایل کی وجہ سے دفعہ 144 نافذ کی جس کے بعد آج کی ریلی ملتوی کی گئی۔

    ضلع خیبر؛ پہاڑی تودہ گرنے سے 3 مزدور جاں بحق

  • سستی روٹی  سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    سستی روٹی سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    لاہور: سوشل میڈیا پر سستی روٹی ٹاپ ٹرینڈ بن گیا-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سے #سستی-روٹی کے نام سے ٹرینڈ لانچ کیا گیا،جس میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا صارفین نے حصہ لیا –

    اس موقع پرسوشل میدیا صارفین نے مختلف خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ باقی سیاسی جماعتوں کی طرح مہنگائی کے خلاف احتجاج کرنے کی بجائے عملی اقدامات کر رہی ہے-

    صج پورے پاکستان میں مرکزی مسلم لیگ کے تحت سستی روٹی کے تندور لگا کر بغیر منافع کے سستی روٹی فراہم کی جارہی ہے ۔جو سفید پوش گھرانوں کے لیے یہ ایک بہت بڑا قدم ہے-

    سوشل میڈیا پر ایک عبداللہ نامی صارف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سستی روٹی ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ اگر مرکزی مسلم لیگ جیسی ایک نئی سیاسی جماعت یہ کام کر سکتی ہے تو پھر سالوں پرانی سیاسی جماعتوں کیلئے عوام کیلئے ایسا کچھ کرنا تو کوئی مشکل ہی نہیں-جس کے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ #سستی-روٹی ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا-


    https://twitter.com/AmraButt11/status/1634940770166915075?s=20

  • شاہ محمود قریشی کی دفعہ 144 کے باوجود کارکنان کو آج زمان پارک پہنچنے کی ہدایت

    شاہ محمود قریشی کی دفعہ 144 کے باوجود کارکنان کو آج زمان پارک پہنچنے کی ہدایت

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شاہ محمود قریشی نے دفعہ 144 کی پابندی کے باوجود پارٹی کارکنان کو آج زمان پارک پہنچنے کی ہدایت کر دی۔

    باغی ٹی وی: لاہور میں میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ لیڈر شپ کے اجلاس میں عمران خان کے فیصلے کے مطابق آج لاہور میں پرامن ریلی نکالی جائی گی جس کی قیادت عمران خان کریں گے دفعہ 144 کا کوئی جواز نہیں، فیصلے کو چیلنج کریں گے۔

    پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکرٹری ارسلان تاج گرفتار

    شاہ محمود نے کہا کہ مریم کو ہر چیز کی اجازت ہے اور ہمیں آئینی اور قانونی حق سے روکا جا رہا ہےیہ کھلا تضاد ہے اسی لیے ہم الیکشن میں جا رہے ہیں حکومت لاشیں گرا کر انتخابات ملتوی کروانا چاہتی ہے اور نگران وزیر اعلیٰ کہہ دیں کہ وہ پی ڈی ایم کے وزیر اعلیٰ ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ دفعہ 144 کے خلاف اتوار کی چھٹی کے باوجود لاہور ہائی کورٹ بھی جائیں گےتحریک انصٓف کی انتخابی مہم روکنے کے لیے 144 لگائی گئی ہے لہٰذا اس سلسلے میں یاسمین راشد اور اسلم اقبال آج صبح 10 بجے الیکشن کمیشن کے آفس جایئں گے ا لیکشن کمیشن لاہور سے درخواست کریں گے کہ نگراں حکومت آپ کی پابند ہے، انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے تو ریلی کی پابندی کا جواز نہیں۔

    پنجاب حکومت نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کر دی

    شاہ محمود نے کہا کہ وکلاء کی ٹیم کے ذریعے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے درخواست کریں گے کہ 144 کا نفاذ ختم کروایا جائے، بابر اعوان سپریم کورٹ میں بھی اپیل کریں گے اور چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات بھی کریں گے۔

    انہوں نے کارکنان کو پرامن رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آج 2 بجے زمان پارک پہنچیں، عمران خان آج ریلی کی قیادت کریں گے۔

    واضح رہے کہ عمران خان کی جانب سے آج ریلی نکالنے کے اعلان کے بعد پنجاب حکومت نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ر ینجرز کو طلب کر لیا، ریلیاں نکالنے پر پابندی عائد ہوگی۔

    پنجاب حکومت نے لاہور میں ر ینجرز کو طلب کر لیا

  • پنجاب حکومت نے لاہور میں ر ینجرز کو طلب کر لیا

    پنجاب حکومت نے لاہور میں ر ینجرز کو طلب کر لیا

    عمران خان کی جانب سے آج ریلی نکالنے کے اعلان کے بعد پنجاب حکومت نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ر ینجرز کو طلب کر لیا-

    باغی ٹی وی:ذرائع کا کہنا ہے کہ رینجرز کو کسی بھی ناخوشگوار واقع سے نمٹنے کے لیے طلب کیا گیا ہے لہٰذا آج صبح دفعہ 144 کے باعث زمان پارک اور اہم مقامات پر رینجرز تعینات کر دی گئی ہے-

    پنجاب حکومت نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کر دی

    نگراں وزیر اطلاعات عامر میر نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ نے ایک بار پھر اہم دن پر ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے، لاہور میں آج پی ایس ایل کا ایک میچ، 40 کلومیٹر کی میراتھن اور سائیکل ریس ہونے جا رہی ہے۔

    عامر میر کا کہنا تھا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلئے دفعہ 144 لگائی جا رہی ہےانتظامیہ نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کیے اور انہیں بتایا کہ آپ ریلی کی تاریخ کو آگے لے جائیں۔

    پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکرٹری ارسلان تاج گرفتار

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے آج دوپہر 2 بجے انتخابی ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھاعمران خان کا کہنا تھا کہ لاہور میں انتخابی ریلی کی قیادت میں خود کروں گا، مجھے پتا ہے انہیں الیکشن سے بھاگنے کیلئے کچھ کرنا ہے، یہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں، یہ کسی اور کو بھی قتل کروا سکتے ہیں۔

    پی ایس ایل 8: نمائشی ویمنز لیگ ایمازونز نے جیت لی

    لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے تحریک انصاف کو لاہور میں ریلی کی درخواست پراجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ڈی سی آفس نے پی ٹی آئی کو مراسلہ بھی لکھا-

    مراسلے میں کہا گیا کہ 11 فروری کو ہونے والی ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی میں ریلی کے بارے میں جائزہ لیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ متعدد تھریٹ الرٹس موصول ہوئے ہیں جو خاص طور پر لاہور میں اجتماعات اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی نشاندہی کرتے ہیں لہٰذا ممکنہ خطرے کے پیش نظر پی ٹی آئی کی قیادت کی سیکیورٹی کے حوالے سے حساسیت کے پیش نظر ریلی جاری رکھنا مناسب نہیں ہے۔

    مزید کہا گیا کہ پی ایس ایل میچ سمیت پہلے سے طے شدہ ایونٹس کی وجہ سے سیکیورٹی کے اہلکار پہلے ہی کم ہیں، جشن بہاراں کے واقعات اور مردم شماری کے دوران شمار کنندگان کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہے لہذا ریلی کو دوبارہ ترتیب دینے کی سفارش کی جاتی ہے۔

    تُونس کے صدر کا شام کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کا ارادہ

    ڈی سی او آفس کی جانب سے مراسلے میں مزید کہا گیا کہ لاہور میں ریلی کے دوران سیکیورٹی فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا، ڈی سی آفس نے پی ٹی آئی کو ریلی نہ کرنے کا مشورہ دے دیا۔

  • پنجاب حکومت نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کر دی

    پنجاب حکومت نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کر دی

    پنجاب حکومت نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کر دی-

    باغی ٹی وی: نگران وزیر اطلاعات نے پریس کانفرنس میں کہا کہ لاہور میں جلسے،جلوس اور ریلیاں نکالنے پر پابندی ہوگی،لوگ عدالت میں جانا چاہتےہیں تو جاسکتےہیں،لاہور میں دفعہ 144صرف ایک روز کے لیے لگائی گئی ہے-

    عمران خان کا کل لاہور میں انتخابی ریلی کی قیادت کا اعلان

    نگران وزیر اطلاعات عامر میر نے کہا کہ امیدواروں کی حتمی فہرست جاری ہونےکے بعد الیکشن مہم شروع کی جاسکتی ہے،پی ٹی آئی سے آج انتظامیہ کے مذاکرات ہوئے اور ریلی نہ نکالنے کا مشورہ دیا،12مارچ کیلئے پنجاب حکومت نے ریلی نکالنے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا-

    عامر میر نے کہا کہ اگر ان کی جانب سے مزاحمت کی گئی تو دفعہ 144 کو آگے بڑھا دیا جائے گا،ہماری درخواست ہے قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کریں،لاہور میں آج پی ایس ایل کا اہم میچ ہونےجارہاہے،لاہور میں آج میراتھون اور سائیکل ریس بھی ہوگی-

    صوبائی وزیرسردار عبدالرحمان کھیتران رہا

    نگران وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان نے آج اہم دن پر ریلی نکالنے کا اعلان کیا ،ہمارے لیے آج سب سے بڑا ایونٹ پاکستان سپرلیگ کا ہے،اگر ان کی جانب سے مزاحمت کی گئی تو دفعہ144کو آگے بڑھا دیا جائے گا-

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے کل ریلی کے اعلان کے بعد لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے اجازت دینے سے انکار کردیا تھا-

    عمران خان نے کل لاہور میں ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا کہ ریلی کی قیادت وہ خود کریں گے اس کے اعلان کے بعد ڈپٹی کمشنر لاہور کا کہنا تھاکہ کرکٹ میچ کی وجہ سے کل ریلی کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کرکٹ میچ اور ٹیم کی آمدو رفت کی وجہ سےانتہائی حساس دن ہےان کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی نے ریلی ملتوی نہ کی تو دفعہ 144کے نفاذ کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

    چین میں کیڑوں کی برسات ،لوگوں میں حیرت اور خوف پھیل گیا

  • پی ٹی آئی ورکر ظل شاہ کی ہلاکت سے متعلق سوال پر یاسمین راشد گڑبڑا گئیں

    پی ٹی آئی ورکر ظل شاہ کی ہلاکت سے متعلق سوال پر یاسمین راشد گڑبڑا گئیں

    پی ٹی آئی ورکر ظل شاہ کی ہلاکت سے متعلق سوال پر پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد گڑبڑا گئیں-

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں ظل شاہ کی موت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ ظل شاہ کو اسپتال لانے والی گاڑی کے مالک کا 2 دن پہلے سے پتہ تھا-

    عمران خان کا کل لاہور میں انتخابی ریلی کی قیادت کا اعلان

    میزبان نے کہا کہ میڈٰیا کو کیوں نہیں بتایا؟ جس پر یاسمین راشد گڑبڑا گئیں اور کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ میں صرف سوشل میڈٰیا دیکھتی ہوں میرے پاس اور بھی کرنے کیلئے بہت سے کام ہیں،جھوٹ پر جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے-

    پنجاب کی سابق صوبائی وزیر صحت اور تحریک انصاف کی رہنما یاسمین راشد ظل شاہ کی موت کے بارے میں جانتے ہوئے بھی خاموش رہیں انہوں نے ظل شاہ کی موت کا علم ہونے کے باوجود اسکو چھپائے رکھا اور وجہ نہ بتائی بلکہ تحریک انصاف کی پروپیگنڈہ ٹیم کا حصہ بنی رہیں جو پولیس پر الزامات لگاتی رہی۔ عوامی حلقوں نے یاسمین راشد کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے تو دوسری جانب پنجاب کے نگران صوبائی وزیر اطلاعات عامر میر کا کہنا ہے کہ یاسمین راشد کو اس کیس میں گرفتار کیا جا سکتا ہے

    یاد رہے کہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی اور آئی جی پنجاب عثمان انور نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ظلِ شاہ کی موت گاڑی کی ٹکر سے ہوئی، جس گاڑی میں اس کی لاش اسپتال لائی گئی اس کا مالک پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب کا رکن راجا شکیل ہے، اسی نے یاسمین راشد کو معلومات دی کہ گاڑی سے بندہ ہٹ ہوا، یاسمین راشد نے راجا شکیل کو کہا آپ میرے ساتھ کل زمان پارک چلیں، ڈرائیور کو گاڑی میں چھوڑ کر راجا شکیل یاسمین راشد کے ساتھ زمان پارک گئے، وہاں یہ سازش رچائی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ ڈرائیور کو گاڑی میں چھوڑ کر راجا شکیل یاسمین راشد کے ساتھ زمان پارک گئے، یاسمین راشدزمان پارک کےاندرگئیں اورباہر آکر راجاشکیل کوکہاکہ بے فکر ہوجائیں۔

    بعد ازاں نگراں وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب کی پریس کانفرنس کے ردعمل میں ویڈیو لنک سے خطاب میں عمران خان نے عمران خان نے ظل شاہ کی کار حادثے میں ہلاکت کے بیان کو مسترد کردیا اور کہا کہ ظل شاہ کو پولیس نے دوران حراست تشدد کرکے شہید کیا۔

    صوبائی وزیرسردار عبدالرحمان کھیتران رہا

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ظل شاہ کوشہید کیاگیا میں اس کی ویڈیوزسوشل میڈیا پردیکھتا رہا،26 سال کی سیاست میں مشکل سے مشکل وقت آیا 25 مئی کو بھی ہمارے کارکنوں پر بڑا ظلم ہوا 11سال کے بچے کو پکڑ کر لے گئے خواتین پر تشدد کیا گیا، 25 مئی کو ہمارے دو کارکن شہید کیے گئے تب بھی یہ درندے پولیس والے تھے-

    انہوں نے کہا کہ ظل شاہ کی شہادت سے صرف مجھے نہیں قوم کو تکلیف ہوئی، 25 مئی کو انھوں نے ظل شاہ کا بازو توڑ دیا تھا وہ اپنی دنیا میں رہنے والا شخص تھا، پولیس اسے وین میں ڈال کر لے گئی، ڈیڑھے گھنٹے اس کے ساتھ کیا کیا؟ بعدازاں اس کی لاش سڑک سے ملی ذہن نہیں مانتا کہ یہ کس طرح کے درندے تھے، ظل شاہ کی تصویریں دیکھیں اس کے ساتھ ظلم کرکے لاش سڑک پر پھیینکی گئی ظل شاہ کے جسم پر 60 جگہ تشدد کے نشانات ہیں،ایسے شخص کو وزیراعلیٰ بنایا گیا جس کے ذہن میں ہمارے خلاف زہر تھا،پہلے یہ ظل شاہ کا قتل مجھ پر ڈال رہے تھے آج یہ پریس کانفرنس میں کہتے ہیں کہ ظل شاہ کے ساتھ حادثہ ہواہے-

    ایم پی اے سردار یار محمد رند کے فرزند کے قافلے پر حملہ،دو محافظ جاں بحق ایک زخمی