Baaghi TV

Category: لاہور

  • بلوچستان پولیس کی ٹیم عمران خان کے وارنٹ گرفتاری لے کر لاہور روانہ

    بلوچستان پولیس کی ٹیم عمران خان کے وارنٹ گرفتاری لے کر لاہور روانہ

    اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی، بلوچستان پولیس کی ٹیم عمران خان کے وارنٹ گرفتاری لے کر لاہور روانہ ہو گئی ہے

    عمران خان کے خلاف کوئٹہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا،باخبر ذرائع کے مطابق عمران خان کے خلاف کوئٹہ میں درج مقدمے میں پولیس وارنٹ لے کر زمان پارک آ رہی ہے، بلوچستان پولیس پنجاب پولیس کی مدد سے عمران خان کو گرفتارکرے گی، کوئٹہ میں درج مقدمے میں کہا گیا تھا کہ جب پولیس عمران خان کو گرفتار کرنے ان گھر زمان پارک گئی تو انہوں نے ٹی وی پر آکر اعلیٰ افسران کیخلاف نفرت انگیز تقریر کی جس سے ان کی جان کو خطرہ ہوا اور انہوں نے ریاستی اداروں کے خلاف اپنے لوگوں کو اکسایا.

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عمران خان کے خلاف کوئٹہ میں کیس عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی ہے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہے یہ صورتحال ناقابل قبول ہے،چیف جسٹس عدلیہ کے واضح فیصلوں کی توہین کا نوٹس لیں،وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور وزرائے اعلیٰ کو طلب کیا جائے،عالم کاکڑ نائب صد رپی ٹی آئی بلوچستان کا کہنا ہے کہ عمران خان کیخلاف مقدمہ درج ہونے پر کارکن سخت مشتعل ہیں، حکومت اوچھے ھتکنڈوں پہ اتر آئی ہے ، عمران خان کیخلاف ایف آئی آر کوئٹہ کا امن و امان خراب کرنے کی سازش ہے،آئی جی بلوچستان پولیس اور عوام کے تعلقات میں دراڑ ڈالنے والوں کیخلاف نوٹس لے، فوری طور پر بوگس مقدمہ واپس لیا جائے

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

    دوسری جانب عمران خان نے تمام کیسز میں ویڈیولنک کے ذریعے حاضری کیلئے درخواست دائر کر دی ،دائر درخواست میں کہا گیا کہ اسلام آباد کے تمام کیسز میں ویڈیو لنک پر پیشی کی اجازت دی جائے، دوسری صورت میں اسلام آباد کے تمام کیسز جوڈیشل کمپلیکس منتقل کی جائیں سکیورٹی وجوہات پر ذاتی پیشی سے عدالتی کارروائیاں بھی تعطل کا شکار ہوتی ہیں، پولیس کو عدالت پیشیوں کے دوران مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیاجائے، موٹروے ہائی وے پر بھی سیکیورٹی فراہمی کے احکامات دیئے جائیں،

  • عورت مارچ،عدالت نے تحریری فیصلے میں شرائط لکھ دیں

    عورت مارچ،عدالت نے تحریری فیصلے میں شرائط لکھ دیں

    عورت مارچ کی اجازت سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا

    عورت مارچ کے لیے طے پانے والی شرائط کو عدالتی فیصلے کا حصہ بنایا گیا ،شرائط میں کہا گیا ہے کہ آئین کیخلاف اور متنازع پلے کارڈز مارچ میں نہیں لائے جائیں گے،اگر متنازع پلے کارڈز لائے گئے تو کارروائی عمل میں لائی جائے گی، مارچ منتظمین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے کوئی متنازع تصویر یا تحریر جاری ہوئی تو کارروائی ہو گی، عورت مارچ میں اگر کوئی متنازع شخصیت آئے تو اسے نکالنے کی ذمہ داری منتظمین کی ہو گی ،لاؤڈ ا سپیکر کے غلط استعمال پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ،لاہور مال روڈ پر ریلی کی اجازت نہیں ہو گی،عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ عورت مارچ اور جماعت اسلامی ہماری سوسائٹی کا حصہ ہیں، دونوں معاشرے میں آگاہی کے لیے اپنے اپنے طریقے سے اقدامات کر رہے ہیں

    واضح رہے کہ لاہور حکومت نے عورت مارچ کی اجازت نہیں دی تھی جس پر عورت مارچ انتظامیہ نے عدالت سے رجوع کیا تھا،درخواست گزار صباحت رضوی کی جانب سے عورت مارچ پر پابندی چیلنج کی گئی تھی ،لاہو ر ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈی سی لاہور کا عورت مارچ پر پابندی فیصلہ غیر قانونی ہے،عورت مارچ میں خواتین کے حقوق کی تحفظ کی بات ہوتی ہے،پر امن مارچ پر پابندی آئین کی خلاف ورزی ہے،عدالت عورت مارچ پر پابندی سے متعلق ڈی سی لاہور کا فیصلہ کالعدم قراردیا جائے،

    عورت مارچ نا منظور،مردان میں "مرد مارچ” کے نعرے

    مرد دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کو گھر سے نکال دیتا ہے،وزیراعظم

    تاثر غلط ہے کہ ہراسمنٹ کا قانون صرف خواتین کے لیے ہے،کشمالہ طارق

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

  • پولیس کی جانب سے 80 سالہ خاتون کو ہراساں کرنے کا واقعہ،حقیقت سامنے آ گئی

    پولیس کی جانب سے 80 سالہ خاتون کو ہراساں کرنے کا واقعہ،حقیقت سامنے آ گئی

    لایور ہائیکورٹ،، تھانہ نواں کوٹ پولیس کے 80 سالہ خاتون کو ہراساں کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن ڈاکٹر انوش مسعود سمیت دیگر پولیس افسران عدالت میں پیش ہوئے،ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی جانب درخواست گزار خاتون کو ہراساں نہ کرنے کی رپورٹ پیش کی ،عدالت نے ہولیس رہورٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حراساں کرنے کے خلاف درخواست درخواست نمٹا دی

    جسٹس مس عالیہ نیلم نے ولائیت بیگم کی درخواست پر سماعت کی، ایس ایس پی نے عدالت میں کہا کہ درخواست گزار خاتون کے بھانجے کے خلاف تھانہ نواں کوٹ تھانے میں بجلی چوری کا مقدمہ ہے،ملزم بھی درخواست گزار خاتون کے گھر رہتا ہے، پولیس ملزم کو مقدمہ کی اطلاع کرنے گئی تھی،سرکاری وکیل نے کہا کہ درخواست گزار خاتون کو ہراساں کرنے کا الزام بے بنیاد ہے،

    درخواست میں سی سی پی او ، ایس ایچ او نواں کوٹ ،سمیت دیگرزکو فریق بنایا گیا ہے،درخواست گزار نے عدالت میں دائر درخواست میں کہا کہ درخواست گزار 80 سالہ خاتون ہے اور کسی مقدمہ میں ملوث نہیں ،درخواست گزار کا اکلوتا بیٹا گزشتہ 27 سالوں سے بیرون ملک رہائش ہذیر ہے ، تھانہ نواں کوٹ کا اے ایس آئی خادن حسین اس کے گھر ایا اور اس کی جائیداد سیل کرنے کی دھمکیاں دیں ، تھانہ نواں کوٹ پولیس درخواست گزار کو ہراساں کررہی ہے،عدالت ہولیس کو ہراساں کرنے سے روکنے کا حکم دے

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    تحریک عدم اعتماد کا خوف،وزیراعظم آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیکرٹریز سمیت تمام ممبران اسمبلی پر گاڑیوں کی نوازشات

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

  • سیکشن 402 سی کسی حد تک صدر کے اختیارات میں رکاوٹ ڈالتا ہے،عدالت

    سیکشن 402 سی کسی حد تک صدر کے اختیارات میں رکاوٹ ڈالتا ہے،عدالت

    صدر مملکت کی جانب سے آرٹیکل 45 کے تحت سزا معافی کیس کی سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ نے درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا،عدالت نے کہا کہ سیکشن 402 سی کسی حد تک صدر کے اختیارات میں رکاوٹ ڈالتا ہے ،لاہور ہائیکورٹ نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 402 سی کو آئین کے خلاف قرار دے دیا، عدالت نے کہا کہ آئین آرٹیکل 45 کے تحت صدر کو سزا معاف یا ختم کرنے کا اختیار برتر ہے،اس ضمن میں سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے جس پر 4 سال بعد بھی عمل نہ ہو سکا، چیف سیکریٹری سپریم کورٹ فیصلے پر عمل کا معاملہ وزیراعلیٰ کے نوٹس میں لائے،آئی جی جیل خانہ جات کو یہ رپورٹ مناسب احکامات کیلئے صوبائی حکومت کو بھیجی جائے،سپریٹنڈنٹ جیل بیمار قیدیوں کی قبل از وقت رہائی کیلئے رپورٹ آئی جی جیل کو بھیجنے کا ذمہ دار ہے،حکومت مبارک علی کی سزا میں کمی کیلئے کیس آرٹیکل 45 کے تحت صدر کو بھیج سکتی ہے،

    عدالتی معاون نے کہا کہ صدر کو آرٹیکل 45 کے تحت سزا معاف کرنے کا اختیار ہے،402سی کے تحت صدر کو روکا نہیں جا سکتا، سرکاری وکیل نے کہا کہ حکومت کے ہاتھ بندھے ہونے کی وجہ سے ریلیف نہیں دیا جا سکتا، عدالت نے کہا کہ سیکشن 402 سی کے تحت صدر یا حکومت کو ورثا کی مرضی کے بغیر سزا کم یا ختم کرنے کا کوئی اختیار نہیں، مبارک علی کو 2006 میں قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی ملزم مبارک علی نے طبی بنیادوں پر سزا معاف کرنے اپیل دائر کی تھی

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی،

  • عورت مارچ، عدالت نے مشروط اجازت دے دی

    عورت مارچ، عدالت نے مشروط اجازت دے دی

    لاہور ہائیکورٹ میں عورت مارچ کی اجازت کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی

    ڈی سی لاہور عدالت میں پیش ہوئے جسٹس انوار حسین نے درخواست پر سماعت کی- لاہور ہائیکورٹ نے لاہور میں عورت مارچ کی مشروط اجازت دے دی ،عدالت نے حکم دیا کہ نادرا آفس شملہ پہاڑی سے لیکر فلیٹی ہوٹل تک مارچ کیا جا سکتا ہے، عورت مارچ دوپہر 1:30 سے لیکر شام 6 بجے تک ہوگا، عورت مارچ کی انتظامیہ کے سوشل اکاونٹس کوئی متنازع بیان اپ لوڈ نہیں ہوگا،مارچ میں آئین پاکستان کے خلاف کوئی اقدام نا کیا جائے کسی خاص فرقے کے مہمان کو مدعو نہیں کیا جائے گا،

    قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ نے عورت مارچ منتظمین اور ڈپٹی کمشنر کودوپہر 2 بجے تک مارچ کی جگہ فائنل کرنے کی ہدایت کی ،عدالت نے کہا کہ آپ لوگ بھی انتظامیہ کے ساتھ بیٹھ جائیں اور جگہ کا تعین کریں-ڈی سی لاہور نے کہا کہ ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی 17 فروری کو میٹنگ ہوئی تھی، فیڈ بیک آیا کہ امن و امان کی صورتحال ٹھیک نہیں ہے-جسٹس انوار حسین نے کہا کہ ہر دفعہ یہ معاملات ہائیکورٹ میں آتے ہیں ،ڈی سی لاہور نے کہا کہ اس دفعہ عورت مارچ کے لیے ناصر باغ کی درخواست دی گئی ،پی ایس ایل بھی چل رہا ہے ٹیم موومنٹ ہوتی ہے-جسٹس انوار حسین نے ڈی سی لاہور سے سوال کیا کہ پھر جلسے جلوس کیوں ہو رہے ہیں ؟جب کسی سیاسی لیڈر کی پیشی ہوتی ہے تو پولیس ایکٹو ہو جاتی ہے،ڈی سی لاہور نے کہا کہ گزشتہ سال بھی عورت مارچ کے موقع پر کلیش ہو گیا تھا-

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ انہیں عورت مارچ سے نہیں روک سکتے ،انتظامیہ کی امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہے، عورت مارچ منتظمین بھی ذمہ داری لے کہ کوئی ہنگامہ نہیں ہو گا ،ڈی سی کا اجازت نہ دینے کا نوٹیفکیشن درست نہیں ہے، جب سیاسی جماعتیں بھی جلسے کرتی ہیں تو وہ انتظامیہ کے ساتھ بیٹھتی ہے-قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مزمل اختر شبیر نے ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے عورت مارچ کی اجازت نہ دینے کے خلاف درخواست پر سماعت سے ذاتی وجوہ کی بناءپر معذرت کرلی تھی عدالت نے درخواست کو کسی دوسرے بینچ میں لگانے کے لیے کیس فائل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دی تھی-عورت مارچ کے منتظمین اسد جمال ایڈووکیٹ اور ہائی کورٹ بار کی سیکریٹری صباحت رضوی نے درخواست میں ڈپٹی کمشنر لاہور، سی سی پی او سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے ۔

    عورت مارچ نا منظور،مردان میں "مرد مارچ” کے نعرے

    مرد دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کو گھر سے نکال دیتا ہے،وزیراعظم

    تاثر غلط ہے کہ ہراسمنٹ کا قانون صرف خواتین کے لیے ہے،کشمالہ طارق

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

  • الیکشن ہوگا بھی یا نہیں میں نہیں جانتا ،خواجہ سعد رفیق

    الیکشن ہوگا بھی یا نہیں میں نہیں جانتا ،خواجہ سعد رفیق

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت لاہورمیں خواجہ برادران کیخلاف پیراگون ہاﺅسنگ سوسائٹی ریفرنس پر سماعت ہوئی،

    احتساب عدالت کے جج قمر الزمان نے کیس کی سماعت کی،سعد رفیق اور سلمان رفیق نے عدالت کے رو برو حاضری مکمل کرائی نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ سپلیمنٹری رپورٹ چیئرمین نیب سے آ گئی ہے ،نئے ڈی جی نیب لاہور کی تعیناتی کے بعد رپورٹ پیش کریں گے ،نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ عدالت چھوٹی سی تاریخ دے دے آئندہ پیش کر دیں گے ،عدالت نے سپلیمنٹری رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت22 مارچ تک ملتوی کردی

    عدالت پیشی کے موقع پر ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر ریلوے وہوا بازی خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ جمہوریت کو کمزور کرنے کے عمل میں عمران خان بنیادی کھلاڑی ہیں پارلیمنٹ کو جو زنجیریں پہنائی گئی ہیں عمران خان اس کھیل کا حصہ تھےعمران خان مجرم کے طور پر تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہیں اس ملک میں الیکشن ہوگا بھی یا نہیں میں نہیں جانتا لیکن ایسے فیصلے دیئے گئے جس سے ریاست کی بنیادیں ہل گئیں اب کہہ رہے ہیں الیکشن کروا دو

  • عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ناقابل سماعت قرار

    عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ناقابل سماعت قرار

    لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی: توہین عدالت کی کارروائی کے لیے درخواستوں پر سماعت ہوئی، لاہور ہائیکورٹ نے آفس اعتراض کو برقرار رکھتے ہوئے درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دے دیا-

    غلط بیانی کرنے اور کار سرکار میں مداخلت پر شبلی فراز پر مقدمہ درج

    لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ بادی النظر میں عمران خان کے بیانات سپریم کورٹ کے جج کے بارے ہیں،ایسے میں درخواستیں ہائیکورٹ میں کیسے قابل سماعت ہیں-

    آفس ہائیکورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض لگا یا تھااور آفس ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اعتراض کیا گیا تھا کہ ججوں کو درخواست میں فریق نہیں بنایا جا سکتا۔

    واضح رہے کہ درخواست گزار نے آفس ہائیکورٹ کے اعتراض کو چیلنج کیا تھا۔ جسٹس شجاعت علی خان نے مشکور احمد کی اعتراض کی درخواست پر سماعت کی جس میں عمران خان کو فریق بنایا گیا درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ لاہورہائیکورٹ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے ،اپیل میں عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری خارج کرنے کی استدعا کی گئی تھی-

    جنرل (ر ) باجوہ یا فیض حمید سے متعلق کوئی بات نہیں کی،سابق چیف …

    درخواست میں موقف تھا کہ عمران خان کی سربراہی میں عدلیہ کے خلاف منظم مہم چلائی جا رہی ہے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دینے پر ججز کےخلاف مہم چلائی گئی لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد میں پیشی پر عمران خان جتھوں کے ساتھ عدالتوں میں پیش ہوئے لیکن سرکاری عمارتوں کو نقصان اور نعرے بازی کرتے ہوئے عدالت میں پیش ہونا توہین عدالت ہے۔

    اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس پر پلان کر کے حملہ کیا گیا جس کے ماسٹر مائنڈ عمران خان تھے، عمران خان نے عدلیہ کو پریشرائز کرنے کے لیے ورکرز کو جوڈیشل کمپلیکس بلایا درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ لاہور ہائیکورٹ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے، عدالت عمران خان کو عدالت میں طلب کر کے جواب دہی کرے۔

    کوئٹہ میں دھماکا،6 افراد جاں بحق

  • غلط بیانی کرنے اور کار سرکار میں مداخلت پر شبلی فراز پر مقدمہ درج

    غلط بیانی کرنے اور کار سرکار میں مداخلت پر شبلی فراز پر مقدمہ درج

    لاہور: اسلام آباد پولیس نے شبلی فراز سمیت ڈیڑھ سو نامعلوم کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا۔

    باغی ٹی وی : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کو وارنٹ گرفتاری موصول کرانےکے لیے لاہور آنے والی اسلام آباد پولیس نے یہ مقدمہ ایس ایچ او تھانہ سیکرٹریٹ اسلام آباد ندیم طاہر کی مدعیت میں تھانہ ریس کورس لاہور میں درج کرایا –

    پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی اور فواد چودھری کے خلاف مقدمہ درج

    ایف آئی آر کے مطابق ایس ایچ او تھانہ سیکرٹریٹ اسلام آباد ندیم طاہر ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کی جانب سے جاری وارنٹ گرفتاری لے کر عمران خان نیازی کی رہائش گاہ زمان پارک لاہور پہنچے۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہےکہ شبلی فراز نے غلط بیانی کرتے ہوئےکارِ سرکار میں مداخلت کی اور لکھ کر دیا کہ عمرن خان نیازی وہاں موجو دنہیں ہیں، اس موقع پرڈنڈوں سے مسلح 100 سے ڈیڑھ سو کارکنوں نے انہیں روکے رکھا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔

    قبل ازیں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما فواد چوہدری اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کیا گیا ہے، مقدمہ نمبر 373 محمد وسیم سب انسپکٹر کی مدعیت میں تھانہ ریس کورس لاہور میں درج کیا گیا۔

    جنرل (ر ) باجوہ یا فیض حمید سے متعلق کوئی بات نہیں کی،سابق چیف

    ایف آئی آر میں مقدمہ درج کرنے کی وجہ شاہ محمود قریشی اور فواد چوہدری کی زمان پارک میں پریس کانفرنس اور اس کے باعث رش کی وجہ سے کینال روڈ بلاک ہونا لکھی گئی ہے، مزید یہ کہ فواد چوہدری نے فتنہ انگیزی اور اشتعال انگیزتقریر کی انہوں نے عوام کو حکومت پاکستان کے ریاستی اداروں کے خلاف اکسایا، انہوں نے شارع عام پر آمدورفت میں خلل ڈال کر جرم کا ارتکاب کیا۔

    مقدمہ میں روڈ بلاک، دھمکیوں، اشتعال انگیز تقاریر سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں جب کہ ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا کہ فواد چوہدری نے ریاستی اداروں پر قتل کی منصوبہ بندی کا بھی الزام لگایا۔

    رمضان المبارک میں قرآن پاک کے 10 لاکھ نسخے تقسیم کرنے کی منظوری

  • شب برأت آج انتہائی عقیدت و احترام کیساتھ منائی جائے گی

    شب برأت آج انتہائی عقیدت و احترام کیساتھ منائی جائے گی

    اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ شعبان کہلاتا ہے،یہ مہینہ بہت مقدس مانا جاتا ہے،اس مہینے کی 15ویں تاریخ کو شب برات کے طور پر منایا جاتا ہے اس رات میں مخلوق کوگناہوں سے بری کردیا جاتا ہے-

    شب برات میں جو شخص خدا کی عبادت کرتا ہے، اس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس رات کو لوگ رات بھر جاگ کر خدا کی عبادت کرتے ہیں۔ اس مرتبہ یہ رات آج 7 مارچ، منگل کو منائی جائے گی۔

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے۔ جب شعبان کی پندرہویں شب آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سےاعلان ہوتا ہے، ہے کوئی مغفرت کا طالب کہ اس کے گناہ بخش دوں، ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا کہ اسے عطا کروں اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے وہ ملتا ہے وہ سب کی دعا قبول فرماتا ہے سوائے بدکار عورت اور مشرک کے۔

    جب شعبان کی پندرھویں شب ہو تورات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو کیونکہ غروب آفتاب کے وقت سے ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت آسمان دنیا پر نازل ہوجاتی ہے اوراللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ہے کوئی مغفرت کا طلب کرنے والا کہ میں اسے بخش دوں ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اس کو رزق دوں ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اسے مصیبت سے نجات دوں، یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے۔

    تقریبًادس صحابہ کرامؓ سے اس رات کے متعلق احادیث منقول ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ”شعبان کی پندرہویں شب کومیں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کواپنی آرام گاہ پرموجود نہ پایا ت وتلاش میں نکلی دیکھا کہ آپ جنت البقیع کے قبرستان میں ہیں پھرمجھ سے فرمایاکہ آج شعبان کی پندرہویں رات ہے ،اس رات میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیاپرنزول فرماتاہے اورقبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعدادسے بھی زیادہ گنہگاروں کی بخشش فرماتاہے۔

    ایک اور حدیث میں ہے کہ اس رات میں اس سال پیداہونے والے ہربچے کانام لکھ دیاجاتاہے ،اس رات میں اس سال مرنے والے ہرآدمی کانام لکھ لیا جاتا ہے،اس رات میں تمہارے اعمال اٹھائے جاتے ہیں،اورتمہارارزق اتاراجاتاہے۔

    سی طرح ایک روایت میں ہے کہ” اس رات میں تمام مخلوق کی مغفرت کردی جاتی ہے سوائے سات اشخاص کے وہ یہ ہیں مشرک، والدین کا نافرمان، کینہ پرور،شرابی، قاتل، شلوارکوٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا اورچغل خور، ان سات افرادکی اس عظیم رات میں بھی مغفرت نہیں ہوتی جب تک کہ یہ اپنے جرائم سے توبہ نہ کرلیں۔

    حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں منقول ہے کہ اس رات میں عبادت کیا کرواوردن میں روزہ رکھاکرو،اس رات سورج غروب ہوتے ہی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اعلان ہوتا ہے کون ہے جو گناہوں کی بخشش کروائے؟ کون ہے جورزق میں وسعت طلب کرے؟کون مصیبت زدہ ہے جومصیبت سے چھٹکاراحاصل کرنا چاہتا ہو؟-

    حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ خیر کو چار راتوں میں خوب بڑھاتے ہیں "عید الاضحی کی رات، عید الفطر کی رات، شعبان کی پندرہویں رات اور چوتھی نویں ذی الحجہ کی رات۔ ان تمام راتوں میں صبح کی اذان تک خیر و برکت کا نزول ہوتا رہتا ہے-” (ابن ماجہ)

    حضرت معاذ ابن جبلؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شعبان کی پندرہویں شب میں اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اپنی ساری ہی مخلوق کی مغفرت فرما دیتا ہے، سوائے شرک کرنے والے اور کینہ رکھنے والے کے۔ (طبرانی، بیہقی)

    شب برأت رحمتوں،برکتوں،مغفرت اور دعاؤں کی قبولیت والی مقدس رات ہے،عوام اس عظمت اور برکت والی مقدس رات میں ملک کی سلامتی،ترقی وخوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں کریں۔

    احادیث کریمہ اورصحابہ کرام ؓاوربزرگانِ دینؒ کے عمل سے ثابت ہوتاہے کہ اس رات میں تین کام کرنے کے ہیں:

    قبرستان جاکرمردوں کے لئے ایصال ثواب اورمغفرت کی دعا کی جائےلیکن یادرہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ساری حیاتِ مبارکہ میں صرف ایک مرتبہ شب برأت میں جنت البقیع جانا ثابت ہےاس لئےا گرکوئی شخص زندگی میں ایک مرتبہ بھی اتباع سنت کی نیت سے چلاجائے تواجروثواب کاباعث ہے لیکن پھول پتیاں،چادرچڑھاوے،اورچراغاں کااہتمام کرنا اورہرسال جانے کو لازم سمجھنا اس کوشب برأت کے ارکان میں داخل کرنایہ ٹھیک نہیں ہےجوچیزنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس درجے میں ثابت ہے اس کواسی درجہ میں رکھنا چاہئے اس کانام اتباع اوردین ہے۔

    اس رات میں نوافل،تلاوت،ذکرواذکارکااہتمام کرنا، دن میں روزہ رکھنابھی مستحب ہے، ایک تواس بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے اوردوسرایہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہرماہ ایام بیض(13،14،15) کے روزوں کااہتمام فرماتے تھے ،لہذااس نیت سے روزہ رکھاجائے توموجب اجروثوب ہوگا-

    اس رات میں پٹاخے بجانا،آتش بازی کرنا اورحلوے کی رسم کااہتمام کرنایہ سب خرافات اوراسراف میں شامل ہیں۔شیطان ان فضولیات میں انسان کومشغول کرکے اللہ کی مغفرت اورعبادت سے محروم کردیناچاہتاہے اوریہی شیطان کااصل مقصدہے۔

    رحمتوں و برکتوں سے جھولیاں بھرنے کیلئے شب برأت کا خاص عمل:

    2 رکعت نفل حاجت کی نیت سے پڑھیں اور ہر سجدے میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کے بعد آیت کریمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْن 40،40 مرتبہ پڑھیں۔

    نفل پڑھنے کے بعد 3 تسبیحات آیت کریمہ کی پڑھیں اور پھر خوب گڑ گڑا کر دعا کریں۔ آج رات شب برأت اس عمل کو ضرور کریں اور رحمتوں و برکتوں سے جھولیاں بھر لیں۔

    روزانہ بھی پڑھیں صبح وشام پڑھیں۔ مشکلات بیماریاں، جادو جنات اور کسی بھی مقصد کے حصول کیلئے اس عمل کو کر سکتے ہیں۔

    اہلِ مکّہ کے معمولات تیسری صدی ہجری کے بزرگ ابو عبد اللہ محمد بن اسحاق فاکِہی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں کہ جب شبِ براءت آتی تو اہلِ مکّہ کا آج تک یہ طریقۂ کار چلا آرہا ہےکہ مسجد ِحرام شریف میں آجاتےاور نَماز ادا کرتے ہیں، طواف کرتے اور ساری رات عبادت اور تلاوتِ قراٰن میں مشغول رہتےہیں-

    لوگ 100 رکعت (نفل نماز) اس طرح ادا کرتےکہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد دس مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھتے۔ زم زم شریف پیتے، اس سے غسل کرتے اور اسے اپنے مریضوں کے لیے محفوظ کر لیتے اور اس رات میں ان اعمال کے ذریعے خوب برکتیں سمیٹتے ہیں۔(اخبار مکہ، جز: 3،ج2،84 ملخصاً)

  • پی ٹی  آئی  رہنما  شاہ محمود قریشی اور فواد چودھری کے خلاف  مقدمہ درج

    پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی اور فواد چودھری کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور:پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی اور فواد چودھری کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا –

    باغی ٹی وی : مقدمہ نمبر 23/373 سب انسپکٹر کی مدعیت میں تھانہ ریس کورس لاہور میں درج ہوا، ایف آئی آر کے متن کے مطابق شاہ محمود قریشی اور فواد چودھری نے زمان پارک میں پریس کانفرنس کی،پریس کانفرس میں رش کے باعث کینال روڈ بلاک ہوگئی-

    ایف آئی آر کے مطابق رہنما پی ٹی آ ئی فواد چودھری نے اشتعال انگیز تقریر کی ، فواد چودھری نے عوام کو حکومت کے خلاف اکسایا،فواد چودھری نے شارع عام پر آمدورفت میں خلل ڈال کر جرم کا ارتکاب کیا-

    مقدمہ میں روڈ بلاک ، دھمکیوں ، اشتعال انگیز تقاریر سمیت دیگر دفعات شامل ہیں-

    دوسری جانب اس معاملے پر پی ٹی آئی رہنماوں کی جانب سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا-