Baaghi TV

Category: لاہور

  • بابراعظم پرتنقید کرنےسےپہلےاسطرح کا کرکٹر بنیں اور پھر بات کریں،افتخار احمد

    بابراعظم پرتنقید کرنےسےپہلےاسطرح کا کرکٹر بنیں اور پھر بات کریں،افتخار احمد

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے جارح مزاج بلےباز افتخار احمد کا کہنا ہے کہ کپتان پر تنقید کرنے سے پہلے اسطرح کا کرکٹر بنیں اور پھر بات کریں۔

    باغی ٹی وی : ایک انٹرویو میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کھلاڑی باز افتخار احمد نے کہا کہ بابراعظم کی کپتانی کو تنقید کرنا ’’گناہ‘‘ کے مترادف ہے، ہر کوئی جانتا ہے کہ بابراعظم جیسا کھلاڑی دنیا میں کوئی نہیں۔ کپتان پر تنقید کرنے سے پہلے اسطرح کا کرکٹر بنیں اور پھر بات کریں۔

    قبل ازیں اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان نے بابراعظم کے حوالے سے کہا تھا کہ شائقین کو پاکستانی کپتان کی قدر کو سمجھنا چاہیے اور ان پر غیر ضروری تنقید نہیں کرنی چاہیے،حیثیت قوم ہم بابر کی قدر نہیں کررہے اور اس پر دباؤ ڈال رہے ہیں، ہمیں بابر کا احترام کرنا چاہیے تنقید کریں لیکن کسی کی دل آزاری نہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے آٹھویں ایڈیشن کے آغاز سے قبل محمد عامر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ میرا کام وکٹ لینا ہے اس سے قطع نظر کون سا بلےباز کریز پر موجود ہے، خواہ وہ بابراعظم ہوں یا کوئی ٹیلنڈر! بولنگ کروانا یکساں ہے، جس کے بعد پیسر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

    علاوہ ازیں شعیب اختر نے بھی بابر اعظم کے بولنے کی صلاحیت کو نشانہ بنایا تھا شعیب اختر نے کہا کہ ’آج کے دور میں کوئی بھی کرکٹر وسیم اکرم، وقار یونس، عمران خان اور شاہد آفریدی کی طرح کا سپر اسٹار نہیں ہے، جس کی دنیا تعریف کرتی ہو، اس لیے کیونکہ ہمارے لڑکوں کو بات نہیں کرنا آتی جس کے باعث وہ لوگوں سے جُڑ نہیں پاتے‘۔

    انہوں نے کہا کہ آج کل صرف ٹیلنٹ سے کام نہیں چلتا، میڈیا بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے، کرکٹ ایک جاب ہے اور میڈیا ایک الگ جاب ہے، اگر آپ بول ہی نہیں سکتے تو اپنی پرفارمنس ٹی وی پر کیسے بیان کریں گے؟’

    شعیب اختر نے مزید کہا ‘میں کھلے عام کہتا ہوں کہ ابھی بابراعظم کو پاکستان کا سب سے بڑا برانڈ ہونا چاہیے تھا لیکن وہ نہیں ہے کیونکہ اسے بولنا نہیں آتا، اس کے علاوہ بھی کوئی لڑکا نہیں بول سکتا، کیوں ابھی تک صرف میں، آفریدی اور وسیم اکرم اشتہاروں میں آرہے ہیں؟’

  • جیل بھرو تحریک میں گرفتار زلفی بخاری کی رہائی کی درخواست دائر

    جیل بھرو تحریک میں گرفتار زلفی بخاری کی رہائی کی درخواست دائر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف نے گزشتہ روز جیل بھرو تحریک ختم کرنے کا اعلان کیا آج تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری کی رہائی اور ملاقات کے لئے درخواست دائر کر دی گئی ہے

    درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی ہے ،تحریک انصاف کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائردرخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ذوالفقار بخاری نے جیل بھرو تحریک میں گرفتاری دی تھی پنجاب پولیس نے زلفی بخاری کو گرفتار کر کے نامعلوم جگہ منتقل کر دیا ہے،زلفی بخاری کو رہا کیا جائے اور ملاقات بھی کروائی جائے،

    گزشتہ روز سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عمران خان نے جیل بھرو تحریک معطل کرنے کا اعلان کیا تھا تحریکِ انصاف کی جیل بھرو تحریک 22 فروری کو لاہور سے شروع ہوئی تھی

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کو جیل میں سہولیات دینے کا اعلان 

     تحریک انصاف کے رہنماء اور کارکن گرفتاری دیئے بغیر واپس روانہ 

    توشہ خانہ گرفتاری سے بچنے کے لیے جیل بھرو تحریک کا شوشہ چھوڑا گیا 

     گرفتار پی ٹی آئی رہنماوں کو دوسرے شہر منتقل کرنے کا فیصلہ

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    جیل بھرو تحریک،تحریک انصاف کا رہنما گرفتاری دینے کی بجائے بھاگ نکلا،ویڈیو

    تحریک انصا ف کے رہنما شاہ محمود قریشی کو ڈسٹرکٹ جیل اٹک منتقل کیا گیا ہے جبکہ اسد عمر کو راجن پور ، محمد خان مدنی کو بہاولپور، ڈاکٹر مراد راس کو ڈی جی خان جیل منتقل کیا گیاہے ۔سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو بھکر جیل میں منتقل کیا گیا ہے لیہ جیل میں 24 کارکنان ، بھر میں 24 اور راجن پور جیل میں 25 کارکنان کو منتقل کیا گیا ہے

  • پنجاب میں گزشتہ برس غیرت کے نام پر 188 خواتین قتل ہوئیں،رپورٹ

    پنجاب میں گزشتہ برس غیرت کے نام پر 188 خواتین قتل ہوئیں،رپورٹ

    لاہور سمیت پنجاب میں جنوری سے 31 دسمبر 2022 تک غیرت کے نام پر 188 خواتین قتل ہوئیں-

    باغی ٹی وی: پولیس کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال پنجاب میں 183 مقدمات درج ،345 میں سے 276 ملزمان گرفتار ہوئے-

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب بھر میں گزشتہ سال لڑکیوں کے اغوا کے 7397 مقدمات درج کیے گئے،پنجاب بھر میں لڑکیوں کے اغوا میں ملوث12ہزار156ملزمان میں 6ہزار 376گرفتار ہوئے-

    رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال پنجاب میں خواتین کے اغوا کے8ہزار963مقدمات درج ،7ہزار 97ملزمان گرفتارہوئے،گزشتہ سال پنجاب میں خواتین پر تشدد کے 1662 مقدمات درج ہوئے جبکہ 3 ہزار 101 ملزمان گرفتار ہوئے-

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال پنجاب میں 42 خواتین کو جلانے پر 39 مقدمات درج،61 میں سے 55 ملزمان گرفتار ہوئے گزشتہ سال پنجاب میں 2 خواتین کی زبردستی شادیاں کرنے پر 2مقدمات درج، 4 ملزمان گرفتار ہوئے-

    رپورٹ کے مطابق لاہورسمیت پنجاب بھرمیں خواتین سے زیادتی کے 3608 مقدمات درج کیے گئے ،لاہورسمیت پنجاب بھرمیں خواتین سے زیادتی کے 3344 ملزمان کوگرفتار کیا گیا –

  • عمران خان صادق اور امین ہیں تو کیوں چھپ رہے ہیں،عطا تارڑ

    عمران خان صادق اور امین ہیں تو کیوں چھپ رہے ہیں،عطا تارڑ

    وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کے مشیر خاص اور رہنما مسلم لیگ ن عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ عمران خان صادق اور امین ہیں تو کیوں چھپ رہے ہیں-

    باغی ٹی وی: عطاتارڑ نے کہا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ اس معاملے کو مزید تاخیر کی جا ئے، عمران خان نے گوشواروں میں ذاتی معلومات چھپائی ہیں،عمران خان اس کیس کو تاخیر کا شکار کرنا چاہتے ہیں-

    عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ عمران خان مسلسل عدالتوں سے بھاگ رہے ہیں،ایک وزیراعظم کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کیا گیا،عمران خان کا کیس جھوٹے بیان حلفیہ کا بھی ہے،اگلے ہفتے جب اس کیس کی سماعت ہوگی، دلائل مکمل ہوں گے-

    لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ اگر چھپانے کیلئے کچھ نہیں تو دائرہ اختیار کو چیلنج کیوں کیا جارہا ہے، فارن فنڈنگ کیس کو مکمل ہونے میں 6 سال لگے،آپ کی سیکیورٹی کے لیے خار دار تاریں لگائی گئی ہیں، کل جو صحافیوں کے ساتھ ہوا اس کی مذمت کرتا ہوں-

    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ بچنے کے لیے جو حیلے بہانے تلاش کر رہے ہیں، یہ مناسب نہیں، باہر آپ بڑھکیں مارتےہیں، عدالتوں میں آکر کہتے ہیں یہ کیس آپ کے دائرہ اختیار میں نہیں ،عدالتوں کے اندر جلسے کیے جاتے ہیں جو قابل مذمت ہے-

  • ایف آئی اے کا فرح گوگی کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان لانے کا فیصلہ

    ایف آئی اے کا فرح گوگی کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان لانے کا فیصلہ

    ایف آئی اے نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی دوست فرح گوگی کو پاکستان لانے کے لئے انٹر پول سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔

    باغی ٹی وی : ایف آئی اے نے وزارت داخلہ سے اجازت مانگ لی ۔ ذرائع کے مطابق فرح گوگی کو اشتہاری قرار دینے کے لئے عدالت سے ریڈ وارنٹ حاصل کئے جائیں گے۔

    فرح گوگی کے خلاف اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیاہے۔ اسٹیٹ بنک کی ہدایت پر یہ مقدمہ درج کیا گیا تھا فرح گوگی کے اکاؤنٹس میں غیر معمولی ٹرانزیکشنز ہوئیں تھیں۔

    واضح رہے کہ ایف آئی اے لاہور نے فرح گوگی کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے پنجاب اینٹی کرپشن لاہور کی طرف سے فرح گوگی کے خلاف اربوں روپے کی کرپشن کے خلاف بھیجی گئی درخواست پر منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔

    فرح گوگی گزشتہ دورِ حکومت میں آر پی اوز، کمشنرز، ڈی پی اوز اور ڈی سی وغیرہ کے تبادلوں کے عوض اربوں روپے بطور رشوت لیتی رہیں۔ فرح گوگی نے فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ میں سال 2021 میں 60 کروڑ روپے مالیت کی 10 ایکڑ اراضی اپنی کمپنی المعیز ڈیریز اینڈ فوڈز پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام پر غیر قانونی طور پر صرف 8 کروڑ میں الاٹ کروائی۔

    ایف آئی آر کے مطابق اس کے علاوہ فرح گوگی نے سرکاری افسران پر دباؤ کے ذریعے ٹھیکہ جات کے ٹینڈرز غیر قانونی طور پر ایوارڈ کروانے کی مد میں بھی کروڑوں روپے بطور رشوت لیے۔ تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ فرح گوگی کے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں گزشتہ دور حکومت کے پچھلے تین سالوں میں تقریباً 84 کروڑ روپے جمع کروائے گئے جو اس کے ذرائع آمدن سے مماثلت نہیں رکھتے ہیں۔

    فرح گوگی کے تمام بینک اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر گزشتہ دور حکومت میں تقریباً ایک ارب روپے سے زائد بذریعہ کیش جمع کروائے گئے۔ صرف سال 2019 اور 2020 میں فرح گوگی کے بینک اکاؤنٹس میں تقریباَ41 کروڑ روپے بذریعہ کیش جمع کروایا گیا۔ فرح گوگی کے بینک اکاؤنٹس میں 50 سے زائد کیش رائیڈرز نے جمع کروایا جس کی تحقیقات جاری ہیں۔

    تحقیقات کے دوران فرح گوگی کے اربوں روپے کے مزید بے نامی بینک اکاؤنٹس ملنے کا امکان ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں فرح گوگی کے نام پر بننے والے تقریباً 52 کروڑ روپے مالیت کے اثاثہ جات بشمول لاہور اور اسلام آباد میں کمرشل و رہائشی پلاٹ، پلازے اور گھر سامنے آئے ہیں۔

    فرح گوگی نے کرپشن، رشوت اور غیر قانونی سیاسی اثر و رسوخ و دباؤ کے ذریعے اربوں روپے کمائے اور پھر منی لانڈرنگ کے ذریعے اثاثہ جات بنائے۔ ایف آئی اے لاہور نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے سیکشن 3 اور 4 کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا۔

    آئندہ فرح گوگی کے کمائے گئے کالے دھن سے جڑے اور بڑے بڑے سیاسی و سرکاری نام بھی سامنے آنے کے امکانات ہیں۔

  • مریم نواز کیخلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ملتوی

    مریم نواز کیخلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر مریم نواز کیخلاف دائر توہین عدالت کی درخواستوں کو یکجا کر دیا، سماعت 6 مارچ تک ملتوی کردی گئی

    مریم نواز کیخلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے سماعت 6 مارچ تک ملتوی کردی ، عدالت نے کہا کہ اسی نوعیت کے کیسز کو 6 مارچ کیلئے رکھا ہے ،اس کیس کو بھی اسی دن سنیں گے ،عدالت نے اسی نوعیت کی تمام درخواستوں کو اکٹھا کر دیا

    عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے پاس کس طرح براہ راست توہین عدالت کی کارروائی کا اختیار ہے،کیا یہ عدالت سپریم کورٹ کے جج کی توہین کے بیان پر کارروائی کا اختیار رکھتی ہے؟کس آرڈر کی توہین ہوئی،کس قانون کے تحت آپ نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی ؟

    دوسری جانب پی ٹی آئی نے شہباز شریف اور مریم نواز کی بریت سپریم کورٹ میں چیلنج کر دی ، تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شہباز شریف اور مریم نواز کی بریت کیخلاف درخواست دائر کر دی ہے،درخواست میں شہباز شریف اور مریم نواز کی بریت کے فیصلےکو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ، درخواست سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی اعظم سواتی نے سپریم کورٹ میں دائر کی نیب بریت کے خلاف اپیل فائل نہیں کررہا اس لیے پی ٹی آئی اپیل فائل کررہی ہے،

  • جیل بھرو تحریک ختم،انتخابی مہم کا کیا عمران خان نے اعلان

    جیل بھرو تحریک ختم،انتخابی مہم کا کیا عمران خان نے اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کا پنجاب اور خیبر پختونخوا کے صوبائی الیکشن کے حوالہ سے فیصلہ آنے کے بعد تحریک انصاف نے جیل بھرو تحریک معطل کر دی ہے اور مزید گرفتاریاں نہ دینے کا اعلان کیا ہے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ جیل بھرو تحریک معطل کررہے ہیں ،عمران خان نے انتخابی مہم کے آغاز کا اعلان کردیا، عمران خان کا کہنا تھا کہ آئین کی پاسداری سپریم کورٹ کی ذمہ داری تھی، سپریم کورٹ نے بہادری سے اپنا کردار نبھایا

    تحریک انصاف کی جیل بھرو تحریک کے فوکل پرسن اعجاز چودھری کا کہنا ہے کہ اللہ کریم کا شکرہے کہ پاکستان میں آئین بحال ہے،الیکشن نوے روز میں ہونگے آج فیصل آباد میں گرفتاریوں کی بجائے اللہ کا شکر ادا کیا جائے گا،بھرپور جلسہ ہوگا مگر گرفتاریاں نہیں دی جائیں گی۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے، پی ٹی آئی کارکنان الیکشن کی تیاری کریں۔ آئین کی بالادستی کیلئے 90 دن میں الیکشن کرانا ضروری ہے، الیکشن کمیشن اور نگران حکومت صاف شفاف انتخابات کو یقینی بنائے

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے جیل بھرو تحریک کا اعلان کر رکھا تھا، لاہور سے کچھ گرفتاریاں ہوئی تھیں جس کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں کی رہائی کے لئے اگلے روز درخواستیں دائر کر دی گئی تھیں، جیل بھرو تحریک کا آج پانچواں روز تھا، آج فیصل آباد سے گرفتاریاں ہونی تھیں تا ہم تحریک انصاف نے جیل بھرو تحریک روک دی ہے

  • ملک کے بیشترعلا قوں میں بارش کا امکان

    ملک کے بیشترعلا قوں میں بارش کا امکان

    لاہور: محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشترعلا قوں میں مطلع ابر آلود رہےگا-

    باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان، خیبرپختونخوا ،گلگت بلتستان اورآزاد کشمیر میں بارش متوقع ہے،پنجاب، خطۂ پوٹھو ہار میں گرج چمک کے ساتھ بارش کاامکان ہے،اسلام آباد میں بارش اور بعض مقا مات پر ژالہ باری کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ،ژوب ، زیارت ، چمن، سبی، خضدار، قلات میں بارش متوقع ہے،دالبندین ،نوکنڈی ، خاران اور پنجگور میں بارش کا امکان ہے ،گوجرانوالہ، لاہور، ساہیوال، فیصل آباد، سرگودھا میں ژالہ باری کا امکان ہے-
    ،
    محکمہ موسمیات کے مطابق میانوالی اوربھکر میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے ،مری، گلیات اور گردو نواح میں تیز بارش اور پہاڑوں پر برفباری متوقع ہے،ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان اوربہاولنگر میں بوندا باندی کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق سکھر، لاڑکانہ اور گردونواح میں گرج چمک کے ساتھ بوندا باندی کا امکان ہے،چترال، کرم، وزیرستان ،دیر، سوات، بالاکوٹ، کوہستان میں بارش متوقع ہے،کوہاٹ، پشاور، مردان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بارش کا امکان ہے-

  • کراچی اور لاہور میں اسٹیڈیم کے ساتھ ہوٹل بنانے کا پلان ہے،نجم سیٹھی

    کراچی اور لاہور میں اسٹیڈیم کے ساتھ ہوٹل بنانے کا پلان ہے،نجم سیٹھی

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ کراچی اور لاہور میں اسٹیڈیم کے ساتھ ہوٹل بنانے کا پلان ہے-

    باغی ٹی وی: یہ اعلان انہوں نےاس وقت کیا جب وہ لاہور اور یو کے میڈیا کے درمیان میچ کے موقع پر چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی نجم سیٹھی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے

    نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے چیف سکریٹری پنجاب کو خط لکھ دیا ہے کہ ہوٹل کےلیے زمین کی نشاندہی کردیں تاکہ اس پر کام شروع کیا جاسکے۔

    اس موقع پر میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ میڈیا کے نمائندوں کو کھیلتا دیکھ کر دل کر رہا ہے کہ میں بھی کھیلوں۔نجم سیٹھی نے کہا کہ اس قسم کے ایونٹس ہی سے کھیل کو فروغ ملتا ہے۔

    نجم سیٹھی نے کہا کہ اس قسم کے ایونٹس ہی سے کھیل کو فروغ ملتا ہے لاہوریوں نے پی ایس ایل کے میچز میں رنگ بھر دیے ہیں، شائقین کرکٹ کے بڑی تعداد میں آنے سے اسٹیڈیم چھوٹے پڑگئے ہیں پی ایس ایل نے ہمیشہ ہی پاکستان کو اچھا ٹیلنٹ دیا ہے۔

    چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی نے بتایا کہ آئی سی سی اور اے سی سی اجلاسوں میں ایشیا کپ اور چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی پر غور ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹس اور ریجنز کے انتخابات کروا کر گورننگ بورڈ مکمل کردیں گے، آئندہ ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کے لیے ڈیپارٹمنٹس نے ہامی بھر لی۔

  • مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے مشہور سفر نامہ نگار

    مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے مشہور سفر نامہ نگار

    مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے مشہور سفر نامہ نگار ہیں۔ اب تک پچاس سے زیادہ کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کی وجہ شہرت سفر نامے اور ناول نگاری ہے۔ اس کے علاوہ ڈراما نگاری، افسانہ نگاری اور فن اداکاری سے بھی وابستہ رہے۔ مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ادیب ہیں۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    مستنصر کا آبائی تعلق گجرات سے ہے لیکن اس وقت لاہور میں رہتے ہیں۔ بچپن میں قیام پاکستان کو دیکھنے کا موقع ملا ۔
    مستنصر حسین تارڑ کے والد رحمت خان تارڑ گجرات کے ایک کاشت کار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ مستنصر صاحب نے اپنے والد سے گہرا اثر قبول کیا۔

    ابتدائی حالات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    مستنصر حسین تارڑ 01 مارچ 1939ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ بیڈن روڈ پر واقع لکشمی مینشن میں اُن کا بچپن گزرا جہاں سعادت حسن منٹو پڑوس میں رہتے تھے۔ اُنھوں نے مشن ہائی اسکول، رنگ محل اور مسلم ماڈل ہائی اسکول میں تعلیم حاصل ک۔ میٹرک کے بعد گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔ ایف اے کے بعد برطانیہ اور یورپ کے دوسرے ممالک کا رخ کیا، جہاں فلم، تھیٹر اور ادب کو نئے زاویے سے سمجھنے، پرکھنے اور برتنے کا موقع ملا۔ پانچ برس وہاں گزارے اور ٹیکسٹائل انجنئیرنگ کی تعلیم حاصل کرکے وطن واپس لوٹے۔

    ادبی و فنّی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ٹی وی ڈراموں میں کام کیا ہے۔ متعدد سفر کیے۔ آج کل اخبار جہاں میں ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ناول کے حوالے سے بھی وہ ایک اہم نام ہے۔ انہوں نے بہاؤ، راکھ (ناول)، خس و خاشاک زمانے اور اے غزال شب جیسے شہرہ آفاق ناول تخلیق کیے۔ اس کے علاوہ آپ نے ٹی وی پروگراموں کی میزبانی بھی کرتے رہے ہیں۔ پی ٹی وی نے جب پہلی مرتبہ 1988ء میں صبح کی نشریات صبح بخیر کے نام سے شروع کیں تو مستنصر حسین تارڑ نے ان نشریات کی کئی سال تک میزبانی کے فرائض سر انجام دیے۔ ریڈیو پروگرام کی بھی میزبانی کی ۔

    1957ء میں شوقِ آوارگی انھیں ماسکو، روس میں ہونے والے یوتھ فیسٹول لے گئی۔ (اُس سفر کی روداد 1959 میں ہفت روزہ قندیل میں شائع ہوئی۔)۔ اس سفر کی روداد پر ناولٹ ”فاختہ“ لکھی۔ یہ قلمی سفر کا باقاعدہ آغاز تھا۔

    ٹی وی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان لوٹنے کے بعد جب ان کے اندر کا اداکار جاگا، تو انھوں نے پی ٹی وی کا رخ کیا۔ پہلی بار بہ طور اداکار ”پرانی باتیں“ نامی ڈرامے میں نظر آئے۔ ”آدھی رات کا سورج“ بہ طور مصنف پہلا ڈراما تھا جو 74ءمیں نشر ہوا۔ آنے والے برسوں میں مختلف حیثیتوں سے ٹی وی سے منسلک رہے۔ جہاں کئی یادگار ڈرامے لکھے، وہیں سیکڑوں بار بہ طور اداکار کیمرے کا سامنا کیا۔ پاکستان میں صبح کی نشریات کو اوج بخشنے والے میزبانوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ بچوں کے چاچا جی کے طور پر معروف ہوئے۔ 2014ء میں ایکسپریس ٹی وی پر ”سفر ہے شرط“ کے نام سے سفر نامہ پروگرام بھی کر رہے ہیں۔ جیو ٹی وی پر شادی کے حوالے سے ایک پروگرام بھی کیا۔

    ڈرامے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ناول اور سفرناموں کے علاوہ مستنصر صاحب نے ڈرامے بھی تحریر کیے جن میں قابل ذکر یہ ہیں :
    شہپر
    ہزاروں راستے
    پرندے
    سورج کے ساتھ ساتھ
    ایک حقیقت ایک افسانہ
    کیلاش
    فریب

    سفر نامے
    ۔۔۔۔۔۔
    1969ء میں وہ یورپی ممالک کی سیاحت پر روانہ ہوئے، واپسی پر ”نکلے تری تلاش میں“ کے نام سے سفرنامہ لکھا۔ یہ 71ءمیں شائع ہوا۔ قارئین اور ناقدین دونوں ہی نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اِس کتاب کو ملنے والی پزیرائی کے بعد انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اگلا سفر نامہ ”اندلس میں اجنبی“ تھا ۔ 42 برسوں میں 30 سفرنامے شائع ہوئے۔ 12 صرف پاکستان کے شمالی علاقوں کے بارے میں ہیں۔ پاکستان کی بلند ترین چوٹی ”کے ٹو“ پر ان کا سفرنامہ اس قدر مقبول ہوا کہ دو ہفتے میں پہلا ایڈیشن ختم ہوگیا۔ اِس علاقے سے اُن کے گہرے تعلق کی بنا پر وہاں کی ایک جھیل کو ”تارڑ جھیل“ کا نام دیا گیا۔ ان کے چند نمایاں سفرناموں کے نام یہ ہیں:

    نکلے تری تلاش میں
    اندلس میں اجنبی
    خانہ بدوش
    نانگا پربت
    نیپال نگری
    سفرشمال کے
    سنولیک
    کالاش
    پتلی پیکنگ کی
    شمشال بے مثال
    سنہری اُلو کا شہر
    کیلاش داستان
    ماسکو کی سفید راتیں
    یاک سرائے
    نیو یارک کے سو رنگ
    ہیلو ہالینڈ
    الاسکا ہائی وے
    لاہور سے یارقند
    امریکا کے سورنگ
    آسٹریلیا آوارگی
    راکاپوشی نگر
    اور سندھ بہتا رہا

    اوائلِ عمر میں سوویت یونین کے سفرنامے ”لنڈن سے ماسکو تک“ سے انھوں نے سفر ناموں کی ابتدا کی۔ اس کے بعد ”نکلے تیری تلاش میں“ سے انہوں نے اردو ادب میں سفرنامہ لکھنے کے لیے ایک ایسا انداز متعارف کروایا جس کی اقتدا میں کئی سفرنامے لکھے گئے۔ انہوں نے سفرنامہ کو دلچسب، پُر مزاح، آسان اور سلیس تحریر سے ادب میں سفرناموں کے قارئین کی ایک کثیر تعداد پیدا کی۔ منظر نگاری کرتے ہوئے وہ الفاظ کی ایسی جادوئی بنت کرتے ہیں کے پڑھنے والا اس مقام و منظر سے بھرپور واقفیت حاصل کرلیتا ہے۔ ”نکلے تیری تلاش میں“ کے بعد انہوں نے مڑ کر نہیں دیکھا اور اندلس میں اجنبی، خانہ بدوش، کے ٹو کہانی،نانگا پربت، یاک سرائے، رتی گلی،سنو لیک، چترال داستان، ہنزہ داستان، شما ل کے سفرناموں سے ایسے سفرنامے تحریر کیے جن کو پڑھ کر کئی لوگ آوارہ گرد بن کر ان مقاموں کو دیکھنے ان جگہوں تک جا پہنچے۔”غار حرا میں ایک رات اور منہ ول کعبہ شریف” ان کے وہ سفر نامے ہیں جوحجاز مقدس کے بارے میں تحریر کیے گئے ہیں۔”نیو یارک کے سو رنگ،ماسکو کی سفید راتیں،پتلی پیکنگ کی،سنہری الو کا شہر بھی یادگارسفر نامے کہے جا سکتے ہیں ۔

    ناول نگاری
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سفرنامے کے میدان میں اپنا سکہ جما کر ناول نگاری کی جانب آ گئے۔ اولین ناول "پیار کا پہلا شہر” ہی بیسٹ سیلر ثابت ہوا۔ اب تک اِس کے پچاس سے زائد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ یوں تو ہر ناول مقبول ٹھہرا، البتہ راکھ اور “بہاؤ” کا معاملہ مختلف ہے۔ خصوصاً “بہاؤ” میں اُن کا فن اپنے اوج پر نظر آتا ہے، پڑھنے والوں نے خود کو حیرت کے دریا میں بہتا محسوس کرتا ہے۔ اِس ناول میں تارڑ صاحب نے تخیل کے زور پر ایک قدیم تہذیب میں نئی روح پھونک دی۔ ”بہاؤ“ وادی سندھ کے ایک شہر کا احوال ہے جو ایک قدیم دریا سرسوتی کے معدوم اور خشک ہوجانے کا بیان ہے، جس سے پوری تہذیب فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہے۔ ناول کی زبان انتہائی منفرد ہے اس میں سندھی، سنسکرت، براہوی اور سرائیکی زبان کے الفاظ جا بجا ملتے ہیں جس سے ناول کا طرزِ تحریر اور اسلوب منفرد ہو جاتا ہے۔ ”بہاؤ“ کی طرزِ تحریرو زبان کی مثال ملنا مشکل ہے، یہ ایک انوکھی تخلیق ہے بقول مصنف یہ ایک(Myth )متھ ہے۔ ”بہاؤ“ میں مستنصر حسین تارڑ ماہر بشریات Anthropoligist نظر آتے ہیں۔

    راکھ کو 1999ء میں بہترین ناول کے زمرے میں وزیر اعظم ادبی ایوارڈ کا مستحق گردانا گیا، جس کا بنیادی موضوع سقوط ڈھاکا اور بعد کے برسوں میں کراچی میں جنم لینے والے حالات ہیں۔ ”قلعہ جنگی“ نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکی حملے کے پس منظر میں لکھا گیا۔ اردو کے ساتھ پنجابی میں بھی ناول نگاری کا کام یاب تجربہ کیا۔ اس سفر میں افسانے بھی لکھے۔ ان کی شناخت کا ایک حوالہ کالم نگاری بھی ہے، جس میں ان کا اسلوب سب سے جداگانہ ہے۔ ’خس و خاشاک زمانے‘ ضخیم ناول ہے جس میں دو خاندانوں کی کئی نسلوں پر پھیلی داستان بیان کی گئی ہے۔

    ”اے غزال شب“ سوویت یونین کے زوال کے بعد، پھیکے پڑچکے سرخ رنگ کی کہانی ہے جس میں لینن کے مجسمے پگھلا کر صلیبیں بنائی جا رہی ہیں اور کرداروں میں اُکتاہٹ بڑھ رہے ہے۔ اکتاہٹ، جو ان میں واپس اپنے وطن آنے کی خواہش جگاتی ہے، وہاں قیام کرنے کی غرض سے نہیں کہ اب وہاں اُن کا اپنا کوئی نہیں، فقط نامعلوم میں جھانکنے کے لیے۔ اور جب وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں، تو شوکی جھوٹا سامنے آتا ہے۔

    ایک عجیب و غریب کردار جس کا تخیل گم شدہ چیذوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اور قارئیں ناول کے چار کرداروں ہی کے زمرے میں آتے ہیں، اُس کی زبان سے سنتے ہیں۔ راکھ اور خس و خاشاک زمانے کی طرح یہ ناول بھی پاکستان کی مٹی سے جڑا ناول ہے جس کے کردار جاندار لیکن ماضی گزیدہ ہیں۔ خس و خاشاک زمانے بلا شبہ عظیم ناولوں کی فہرست میں شامل کرنے کے قابل ہے لیکن اے غزال شب بھی اگرچہ ضخامت میں قدرے مختصر ہے لیکن اسے بھی ایک ماسٹر پیس کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ جو قاری تارڑ کے اسلوب سے آشنا ہیں انہیں اس ناول میں ان کا فن اپنے عروج پر نظر آئے گا۔ تارڑ نے ماسکو میں اپنے قیام کے دوران میں جن حالات و واقعات کا مشاہدہ کیا اور ماسکو کی سفید راتیں میں تحریر کیا اس کا عکس اگر چہ جا بجا نظر آتا ہے لیکن اس ناول میں انداز بیاں، گہرائی و گیرائی کا جواب نہیں ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب آکے تارڑ کا فن اپنے کمال تک پہنچا ہے۔ اس ناول میں تارڑ کے کردار ماضی کے خوابوں کے اسیر اور زندگی کی لایعنیت سے تنگ آئے لوگ ہیں۔

    (1)بہاؤ
    (2)بے عزتی خراب
    (3)پیار کا پہلا شہر)
    (4)راکھ
    (5)قلعہ جنگی
    کالم نگاری
    اس کے علاوہ تارڑ صاحب کالم نگاری بھی کرتے رہے ہیں۔ ان کے کالموں کے مجموعہ مندرجہ ذیل ہیں:
    چک چک
    الو ہمارے بھائی ہیں
    گدھے ہمارے بھائی ہیں
    شطر مرغ ریاست
    تارڑ نامہ 1،2،3،4
    آج کل روزنامہ نئی بات اور ہفتہ وار اخبار جہاں میں بھی باقاعدگی سے کالم نگاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔.
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خانہ بدوش
    جپسی (ناول)
    اندلس ميں اجنبی
    پیار کا پہلا شہر
    نانگا پربت
    ہنزہ داستان
    شمشال بے مثال
    کے ٹو کہانی
    برفیلی بلندیاں
    سفر شمال کے
    گدھے ہمارے بھائی ہیں
    کالاش
    یاک سرائے
    دیو سائی
    چترال داستان
    کاروان سرائے
    الّو ہمارے بھائی ہیں
    نکلے تيری تلاش میں
    بہاؤ (ناول)
    راکھ (ناول)
    پکھیرو (ناول)
    سنو لیک
    نیپال نگری
    پتلی پیکنگ کی
    یاک سرائے
    دیس ہوئے پردیس (ناول)
    سیاہ آنکھ میں تصویر (کہانہاں)
    خس و خاشاک زمانے (ناول)
    اے غزال شب(ناول)
    الاسکا ہائی وے
    ہیلو ہالینڈ
    ماسکوکی سفید راتیں
    لاہور سے یارقند تک
    خطوط (شفیق الرحمٰن،کرنل محمد خان،محمد خالداختر)
    نیویارک کے سو رنگ
    امریکا کے سو رنگ
    آسٹریلیا آوارگی
    راکا پوشی نگر
    اور سندھ بہتا رہا
    15 کہانیاں
    تارڑ نامہ (1)
    تارڑ نامہ (2)
    تارڑ نامہ(3)
    تارڑ نامہ(4)
    تارڑ نامہ(5)

    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    مستنصر حسین تارڑ کی ادبی خدمات کے بدلے صدارتی تمغا حسن کارکردگی اوران کے ناول ”راکھ“ کو 1999 میں بہترین ناول کے زمرے میں وزیر اعظم ادبی ایوارڈ کا مستحق گردانا گیا اور آپ کو 2002ء میں دوحہ قطر میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔

    متاثر کرنے والے لوگ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    مطالعے کی عادت جتنی پختہ ہے، اتنی ہی پرانی۔اردو میں قرۃالعین حیدر ان کی پسندیدہ لکھاری ہیں۔ اُن کا ناول ”آخری شب کے ہمسفر“ اچھا لگا۔ ٹالسٹائی اور دوستوفسکی کے مداح ہیں۔ ”برادرز کرامازوف“ کو دنیا کا سب سے بڑا ناول خیال کرتے ہیں۔ شفیق الرحمن کی کتاب ”برساتی کوے“ کو اپنے سفرنامے ”نکلے تری تلاش میں“ کی ماں قرار دیتے ہیں۔ کرنل محمد خان کی ”بجنگ آمد“ کو اردو کا بہترین نثری سرمایہ سمجھتے ہیں۔ غیرملکی ادیبوں میں رسول حمزہ توف کی ”میرا داغستان“ اور آندرے ژید کی خودنوشت اچھی لگیں۔ کافکا اور سارتر بھی پسند ہیں۔ ترک ادیب یاشر کمال اور اورحان پامک کے مداح ہیں۔ مارکیز اور ہوسے سارا ماگو کو بھی ڈوب کر پڑھا۔ ممتاز ادیب محمد سلیم الرحمن کی تنقیدی بصیرت کے قائل ہیں۔ اپنی تخلیقات کے تعلق سے ان سے مشورہ ضرور کرتے ہیں۔

    تارڑ کہتے ہیں’’دوستوفسکی سے مَیں نے صبر سیکھا کہ کیسے لکھا جاتا ہے، کیسے کردار نگاری کی جاتی ہے۔ مَیں کوئی اوریجنل شخص نہیں ہوں بلکہ میرے اندر اُن بہت سے ادیبوں کی جھلک نظر آتی ہے، جنہیں مَیں نے پڑھا ہے اور جو آہستہ آہستہ مجھ میں سرایت کرتے گئے ہیں۔ آیا میرا اپنا کوئی اَنگ بھی بنا ہے یا نہیں، یہ مَیں نہیں کہہ سکتا۔ دوستوفسکی، چیخوف اور ٹالسٹائی کے بعد مَیں نے کافکا، کامیو اور کئی فرانسیسی ادیبوں کے ساتھ ساتھ جرمن ادیب ہرمن ہیسے کو بھی پڑھا، جن کے ناول ”سدھارتھ“ کو تو ایک بائبل کی طرح پڑھا جاتا ہے‘‘ ۔

    تاثرات و تبصرے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان کے ناول جنہوں نے سب سے زیادہ ادبی حلقوں میں پزیرائی حاصل کی ان میں سرفہرست ”بہاؤ“ کا نام آتا ہے جووادئ سندھ کے معاشرتی طرز اور اطوار کو واضح کرتا ہےاردو ادب کے مشہور ناول نگار عبداللہ حسین بہاؤ کے بارے میں لکھتے ہیں "اس تحریر کی پشت پر جس قدر تخیلاتی ریسرچ پائی جاتی ہے اس کا اندازہ کر کے حیرت ہوتی ہے- رسمی لحاظ سے سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کے اگر یہ ناول کسی ترقی یافتہ ملک میں لکھا جاتا تو چند سال کے اندر مصنف کو کسی یونیورسٹی کی جانب سے علم بشریا ت کی اعزازی ڈگری پیش کی جاتی "عبد اللہ حسین کے ان الفاظ سے بہاؤ کی ادبی حیثیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

    ” نکلے تری تلاش میں“ سفرنامہ 71ءمیں شائع ہوا۔ قارئین اور ناقدین دونوں ہی نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اِسے پڑھنے کے بعد محمد خالد اختر نے لکھا تھا: “ اُس نے مروجہ ترکیب کے تاروپود بکھیر ڈالے ہیں! ”اندلس میں اجنبی“ پڑھ کر شفیق الرحمن نے کہا: ”تارڑ کےسفرنامےقدیم اور جدید سفرناموں کا سنگم ہیں!“

    اس کے علاوہ ”راکھ اورخس و خاشاک زمانے کو بھی شاہکار نہ کہنا نہ انصافی ہوگی۔تقسیم برصغیر کے بارے میں لکھ گئے یہ ناول ان تاریخی حقائق کو بیان کرتے ہیں جن پی اب تک بات کرنا پسند نہیں کی جاتی ہے، “خس و خاشاک زمانے“” کو تو پاکستان کی ایک ایسی دستاویز کہا جاسکتا ہے جو پاکستانی معاشرے کی اخلاقی اور تہذیبی اقدار اور اس کے بدلتے رویوں کو بیان کرتی ہے۔ جب کے ”پیار کا پہلا شہر“ اور ”قربت مرگ میں محبت“ مقبول عام ہیں۔ ادب سے لگاؤ رکھنے والا شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جس نے پیار کا پہلا شہر پڑھ نہ رکھا ہو۔ اس کے علاوہ ڈاکیا اور جولاہا، سیاہ آنکھ میں تصویر،جپسی، قلعہ جنگی، فاختہ اور اے غزال شب کے نام بھی ان کے ناولوں میں شمار ہوتے ہیں۔ بقول عبداللہ حسین اے غزال شب اُن کا پسندیدہ ترین ناول ہے۔