Baaghi TV

Category: لاہور

  • مخلوق خدا کے لیے ہی مذاکرات کریں، تجزیہ :شہزادقریشی

    مخلوق خدا کے لیے ہی مذاکرات کریں، تجزیہ :شہزادقریشی

    ملک کی اگر تمام سیاسی جماعتیں ، بیورو کریسی ، اعلیٰ عہدوں پر فائز انتظامی افسران ،صنعت کار ، بڑے بڑے تاجر ، اشرافیہ میں شامل ملک کے تمام ادارے اگر پارسائی کے دعویدار ہیں توو پھر اس قائد کے ملک کو کنگال کس نے کیا ہے ؟ سڑکوں چوراہوں پر بیٹھے دیہاڑی دار مزدوروںنے ؟ ملک بھر کے عام آدمی جو غربت سے خودکشی کرتا ہے ؟ جو دو وقت کی روٹی کا محتاج ہے کیا اس عام آدمی نے ملک کو کنگال کیا ہے ؟ ملک کی معاشی صورت حال ملک کے تمام سیاستدانوں کے پارسائی کے دعوے پر بھی کہا جا سکتا ہے کہ

    کہاں میں اور کہاں یہ آب کوثر سے دھلی خلقت
    میراتو دم گھٹ رہا ہے ان پارسائوں میں

    مقام افسوس ہے کہ عام آدمی کا جینا مشکل ہی نہیں مشکل ترین ہو چکا ہے ۔ پاکستان بطور ریاست معاشی بحران کا شکار ہے ۔ دہشت گردی کے سائے منڈلا رہے ہیں سرحدوں پر جوان شہید ہو رہے ہیں ملک کے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے جانوں کانذرانہ دیا جا رہاہے۔ دوسری طرف حزب اقتدار اور حزب اختلاف جو جمہوریت میں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہوتے ہیں ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں۔

    جمہوریت کی یہ خوبی ہوتی ہے حزب اقتدار اور حزب اختلاف جو جمہوریت میں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہوتے ہیں ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں۔ جمہوریت کی یہ خوبی ہوتی ہے حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں مضبوط بھی ہوتی ہیں جمہور اور ریاست کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ آج کے دور کی سیاست تعمیری نہیں تخریبی سیاست کا روپ دھار چکی ہے۔

    معاشرے میں عدم استحکام مایوسی اورعدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے آج کی تخریبی سیاست کے اثرات بالخصوص پاکستان کے مستقبل نوجوانوں پر منفی اثرات پڑر ہے ہیں۔ خدا کی پناہ آڈیو اور ویڈیو کا گندہ کھیل کھیلا جا رہا ہے ذرا سوچئے اگر سیاستدانوں نے تخریبی سیاست کا راستہ جاری رکھا تو اس کے اثرات ملک اور آنے والی نسل پر کیا پڑیں گی؟ –

    موجودہ آڈیو وڈیو والے سیاستدانوں ۔ ٹویٹی سیاستدانوں ،سوشل میڈیا والے سیاستدانوں کو اس ملک اور اس کی بے بس اورلاچار عوام پر ترس کیوں نہیں آتا ایک ذات اوپر بھی ہے جو بے رحم لوگوں پر رحم نہیں کرتا بلکہ غرور خدا کی زمین پر اکثر کر چلنے والے کیوں بھول رہے ہیں کہ خدا کی مخلوق پر رحم نہ کرنے والوں پر رحم نہیں کیا جاتافراخدلی کا مظاہرہ کریں مخلوق خدا کے لئے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اپنے سیاسی وجود کی بقا کے لئے نہیں ملک اور عوام کی بقا کے لئے ۔

    (تجزیہ شہزادقریشی)

  • جب بھی حکم ملےگا الیکشن کرا دیں گے، محسن نقوی

    جب بھی حکم ملےگا الیکشن کرا دیں گے، محسن نقوی

    لاہور: نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا کہنا ہےکہ جب بھی حکم ملےگا الیکشن کرا دیں گے۔

    باغی ٹی وی : نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے کہا کہ میں نے کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی، ہمارا خیال تھا کہ گرفتاریاں دینے والے بہت زیادہ ہوں گے، بہت زیادہ گرفتاریوں کے پیش نظرکچھ لوگوں کو دیگر شہروں کی جیلوں میں بھیجا گیا۔

    الیکشن کرانے سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ ہمیں جب بھی حکم ملے گا، الیکشن کرا دیں گے۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ میں لاہورکا رہنے والا ہوں، لاہورکا کوئی پروجیکٹ نہیں رکنے دیں گے، جاری پروجیکٹس کی تکمیل ترجیح ہے، جو پروجیکٹ کم وقت میں مکمل ہو سکتے ہیں، مکمل کرائیں گے۔

    نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پی سی بی سے معاہدہ ہوگیا ہے، پی سی بی لائٹس خریدےگا، لائٹس کرائے پر نہیں لیں گے، صرف لائٹس کےکرائےکی مد میں گزشتہ سال 60 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، رواں سال بھی لائٹس کے کرائے کا خرچ 50 کروڑ روپے تھا۔

  • مریم نواز کیخلاف خلاف توہین عدالت کی درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب

    مریم نواز کیخلاف خلاف توہین عدالت کی درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب

    لاہور ہائیکورٹ میں مریم نواز کے خلاف خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ نے توہین عدالت سے متعلق درخواست گزاروں کو عدالتی فیصلے پیش کرنے کی ہدایت کر دی، لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کے وکیل کو کل مزید دلائل کے لیے طلب کرلیا،لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دینے کی ہدایت کر دی، عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے پاس کس طرح براہ راست توہین عدالت کی کارروائی کا اختیار ہے،کیا یہ عدالت سپریم کورٹ کے جج کی توہین کے بیان پر کارروائی کا اختیار رکھتی ہے؟کس آرڈر کی توہین ہوئی،کس قانون کے تحت آپ نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی ؟

    دوسری جانب پی ٹی آئی نے شہباز شریف اور مریم نواز کی بریت سپریم کورٹ میں چیلنج کر دی ، تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شہباز شریف اور مریم نواز کی بریت کیخلاف درخواست دائر کر دی ہے،درخواست میں شہباز شریف اور مریم نواز کی بریت کے فیصلےکو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ، درخواست سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی اعظم سواتی نے سپریم کورٹ میں دائر کی نیب بریت کے خلاف اپیل فائل نہیں کررہا اس لیے پی ٹی آئی اپیل فائل کررہی ہے،

  • لیڈرضمانت پر گھر بیٹھا ہے،اور باقیوں کو کہتا ہے جیل جاؤ،پی ٹی آئی رہنما ولید اقبال کی والدہ پھٹ پڑیں

    لیڈرضمانت پر گھر بیٹھا ہے،اور باقیوں کو کہتا ہے جیل جاؤ،پی ٹی آئی رہنما ولید اقبال کی والدہ پھٹ پڑیں

    تحریک انصاف کے رہنما ولید اقبال کی والدہ جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ اقبال پی ٹی آئی کی جیل بھرو تحریک پر پھٹ پڑیں۔

    باغی ٹی وی :جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ اقبال نےجیل بھرو تحریک پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ بیٹے کو جیل بھرو تحریک میں شریک ہونے سے منع کیا تھا انہوں نے عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ جو لیڈر بنا بیٹھا ہے وہ تو ضمانت قبل از گرفتاری لے کر گھر بیٹھا ہوا ہے اور باقیوں کو کہتاہے جیل جاؤ۔

    ناصرہ اقبال نےکہا کہ پی ٹی آئی کو اس وقت الیکشن مہم چلانی چاہیے، عوام کے خرچے پر جیل میں بیٹھنے کی حکمت سمجھ سے بالا تر ہے۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی جیل بھرو تحریک میں اب تک چند رہنماؤں نے گرفتاری پیش کی ہے۔

    یاد رہے کہ اکتوبر2022 میں عمران خان نے میانوالی میں ایک جلسے سے خطاب کے دوران عندیہ دیا تھا کہ وہ جلد جیل بھرو تحریک کا اعلان کریں گےتاہم اس کا باقاعدہ اعلان 17 فروری کو کیا گیا۔

    جب 22 فروری کو جیل بھرو تحریک کا باقاعدہ آغاز ہوا ہے تو عمران خان خود تحریک کے پہلے دن گرفتاری کے لیے موجود نہیں تھے، تاہم ان کی جماعت کے بعض اہم ترین رہنما اس وقت مختلف جیلوں میں قید ہیں۔

    پی ٹی آئی کے ٹویٹر اکاونٹ سے شیئر کیے جانے والے شیڈول کے مطابق ملک میں لاقانونیت، آئین شکنی اور مہنگائی کے خلاف پرامن جیل بھرو تحریک پہلے مرحلے میں 8 شہروں میں شروع کی گئی ہے۔ دیگر شہروں میں شیڈول کا اعلان مرحلہ وار کیا جائے گا۔

    اب تک لاہور، پشاور، راولپنڈی اور ملتان میں جیل بھرو تحریک کے لیے قائدین اور کارکنان گرفتاریاں دینے کے لیے جمع ہوتے رہے ہیں۔ جبکہ آج گوجرانوالہ میں پاور شو کیا جا رہا ہے جہاں گجرات، سیالکوٹ سمیت چند دیگر علاقوں سے بھی پی ٹی آئی کے کارکنان کے قافلے پہنچے-

  • زمان پارک سے عمران خان کے جاتے ہی سیکورٹی بیریئر ہٹانے کا کام شروع

    زمان پارک سے عمران خان کے جاتے ہی سیکورٹی بیریئر ہٹانے کا کام شروع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان عدالت پیشی کے لئے اسلام آباد روانہ ہوئے تو لاہور میں انکی رہائشگاہ زمان پارک میں نگران حکومت نے سیکورٹی کے لئے لگائے گئے بیریئر ہٹانا شروع کر دیئے ہیں

    عمران خان وزیرآباد حملے کے بعد سے اب تک زمان پارک لاہور اپنی رہائشگاہ پر موجود تھے، عمران خان کی رہائشگاہ کی اطراف سیکورٹی بیریئر لگائے گئے تھے ، تحریک انصاف کی پنجاب میں حکومت ختم ہوئی تو نگران حکومت کا قیام عمل میں‌ آیا، اس دوران زمان پارک سے ہر تیسرے روز عمران خان کی متوقع گرفتاری کا شوشہ چھوڑا جاتا اور کارکنان کو زمان پارک بلا لیا جاتا ، کارکنان زمان پارک عمران خان کی رہائشگاہ کے اطراف میں جمع رہتے، اب آج عمران خان عدالت میں پیشی کے لئے روانہ ہوئے تو نگران حکومت نے زمان پارک پر لگائے گئے سیکورٹی انتظامات ہٹانے کا عمل شروع کر دیا

    چیئرمین تحریک انصاف کے اسلام آباد روانہ ہوتے ہی پولیس اہلکار زمان پارک پہنچ گئے،عمران خان کی رہائشگاہ کے باہر لگائے گئے حفاظتی انتظامات ختم کرنا شروع کر دیئے گئے، اس حوالہ سے باغی ٹی وی کو زمان پارک سے ویڈیو بھی موصول ہوئی ہیں،ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ زمان پارک میں رکھے گئے سیکیورٹی بیرئرز ہٹائے جانے کا عمل جاری ہے

  • شہباز گل کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کی درخواست،فل بینچ بنانے کی سفارش

    شہباز گل کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کی درخواست،فل بینچ بنانے کی سفارش

    لاہور ہائیکورٹ،شہباز گل کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے معاملے پر فل بینچ بنانے کی سفارش کر دی ،کیس کی فائل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو ارسال کر دی گئی شہباز گل نے نام ای سی ایل سے نکلوانے کی درخواست دائر کر رکھی ہے

    درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل پاکستانی شہری ہیں ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہے عدالتوں نے مقدمات خارج کیے لیکن وزارت داخلہ نے ان کا نام غیر قانونی طور پر ای سی ایل میں ڈالا اس اقدام نے ان کے مؤکل کے انسانی حقوق کو روک دیا ہے شہری آزادیوں کا حق آئین کے تحت محفوظ ہے

    واضح رہے کہ شہباز گل کے خلاف پاکستان کے کئی شہروں میں مقدمات درج ہوئے تھے اور شہباز گل کو گرفتار بھی کیا گیا تھا تا ہم شہباز گل کو بعد میں ضمانت پر رہائی ملی

    جیلیں تیار کھلاڑی فرار

    شیخوپورہ سے ہمیں اسلام آباد لا کر چھوڑ دیا گیا، خاتون کی دکھ بھری کہانی

    بڑے اسکولز میں کس طرح کے بگڑے بچے پڑھتے ہیں؟

    فاٹا کے جرگوں میں لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ 15 لاکھ میں ڈیل ڈن

    مردانہ کمزوری کی حقیقت کیا؟ہم ایسے سوالات کیوں نہیں اٹھاتے؟

  • ممتاز شاعر ، ملی و فلمی نغمہ نگار کلیم ثانی

    ممتاز شاعر ، ملی و فلمی نغمہ نگار کلیم ثانی

    ہے اگرچہ شہر میں اپنی شناسائی بہت
    پھر بھی رہتا ہے ہمیں احساس تنہائی بہت

    کلیم عثمانی

    کلیم عثمانی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر اور ملی و فلمی نغمہ نگار ہیں، جو اپنے گیت تیرا سایا جہاں بھی ہو سجنا، پلکیں بچھا دوں، ملی نغمہ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں اور یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کلیم عثمانی 28 فروری، 1928ء کو دیوبند، سہارنپور، برطانوی ہندستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نا م احتشام الہٰی تھا۔ ان کے خاندان کا تعلق مولانا شبیر احمد عثمانی سے جا ملتا ہے۔ کلیم عثمانی کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا۔ والد فضل الہٰی بیکل بھی اپنے زمانے کے اچھے شاعر تھے۔ شروع میں والد سے شاعری میں اصلاح لی۔1947ء میں ان کا خاندان ہجرت کر کے لاہور منتقل ہو گیا۔ کلیم عثمانی نے یہاں احسان دانش کی شاگردی اختیار کی۔

    ان کی آواز میں ترنم تھا اس لیے مشاعروں میں انہیں خوب داد ملتی تھی۔ پھر انہوں نے فلمی نغمہ نگاری کے میدان میں قدم رکھا۔ سب سے پہلے انہوں نے 1955ء میں فلم انتخاب کے گیت تحریر کیے اس فلم کی موسیقی فیروز نظامی نے مرتب کی تھی۔اس کے بعد انہوں نے ہمایوں مرزا کی فلموں بڑا آدمی، راز، دھوپ چھاؤں کے نغمے لکھے۔ فلم راز کے لیے تحریر کردہ ان کا نغمہ میٹھی میٹھی بتیوں سے جیا نہ جلا بے مقبول ہوا۔ یہ نغمہ زبیدہ خانم نے گایاتھا اور اس کی موسیقی فیروز نظامی نے ترتیب دی تھی۔

    1966ء میں فلم ہم دونوں میں ان کی غزل ان کی نظروں سے محبت کا جو پیغام ملا نے ان کی شہرت کو بام عروج پر پہنچادیا۔ یہ گیت رونا لیلیٰ نے گایا تھا اور اس کی موسیقار نوشاد نے ترتیب دی تھی۔ بعد ازاں کلیم عثمانی لاہور منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے متعدد فلموں میں مقبول گیت تحریر کیے جن میں ان کی اس زمانے کی فلموں میں عصمت، جوش انتقام، ایک مسافر ایک حسینہ، عندلیب، نازنین، دوستی، بندگی، نیند ہماری خواب تمہارے اور چراغ کہاں روشنی کے نام شامل ہیں۔

    1973ء میں انہوں نے فلم گھرانہ کے گیت تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا اور 1978ء میں فلم زندگی کے گیت تیرے سنگ دوستی ہم نہ چھوڑیں کبھی پر نگار ایوارڈ حاصل کیے۔ فلم فرض اور مامتا میں انہوں نے ایک ملی گیت اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں تحریر کیا۔ روبن گھوش کی موسیقی اور نیرہ نور اور ساتھیوں کی آواز میں گایا ہوا یہ گیت آج بھی بے حد مقبول ہے۔ اس کے علاوہ ان کا تحریر کردہ ایک اور ملی نغمہ یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے کا شمار بھی پاکستان کے مقبول ملی نغمات میں ہوتا ہے اور اسے مہدی حسن نے گایا۔

    کلیم عثمانی کی غزلیات کا مجموعہ دیوار حرف اور نعتیہ مجموعہ ماہ حرا کی نام سے شائع ہوا۔

    مشہور نغمات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں (فرض اور مامتا)
    تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا (گھرانہ)
    یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
    ان کی نظروں سے محبت کا جو پیغام ملا (ہم دونوں)
    میٹھی میٹھی بتیوں سے جیا نہ جلا (راز)
    پیار کر کے ہم بہت پچھتائے (عندلیب)
    تیرے سنگ دوستی ہم نہ توڑیں کبھی (زندگی)
    مستی میں جھومے فضا(نازنین)

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    دیوار حرف (غزلیات)
    ماہ حرا (نعتیہ مجموعہ)

    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کلیم عثمانی نے 1973ء میں انہوں نے فلم گھرانہ کے گیت تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا اور 1978ء میں فلم زندگی کے گیت تیرے سنگ دوستی ہم نہ چھوڑیں کبھی پر نگار ایوارڈ حاصل کیے۔

    نمونۂ کلام
    ۔۔۔۔۔۔
    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    ہے اگرچہ شہر میں اپنی شناسائی بہت
    پھر بھی رہتا ہے ہمیں احساسِ تنہائی بہت
    اب یہ سوچا ہے کہ اپنی ذات میں سمٹے رہیں
    ہم نے کرکے دیکھ لی سب سے شناسائی بہت
    منہ چھپا کر آستین میں دیر تک روتے رہے
    رات ڈھلتی چاندنی میں اس کی یاد آئی بہت
    اپنا سایہ بھی جدا لگتا ہے اپنی ذات سے
    ہم نے اس سے دل لگانے کی سزا پائی بہت
    آئینہ بن کے وہ صورت سامنے جب آئی
    عکس اپنا دیکھ کر مجھ کو ہنسی آئی بہت
    میں تو جھونکا تھا اسیرِ دام کیا ہوتا کلیم
    اس نے زلفوں کی مجھے زنجیر پہنائی بہت

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    رات پھیلی ہے تیرے ، سرمئی آنچل کی طرح
    چاند نکلا ہے تجھے ڈھونڈنے ، پاگل کی طرح
    خشک پتوں کی طرح ، لوگ اُڑے جاتے ہیں
    شہر بھی اب تو نظر آتا ہے ، جنگل کی طرح
    پھر خیالوں میں ترے قُرب کی خوشبو جاگی
    پھر برسنے لگی آنکھیں مری ، بادل کی طرح
    بے وفاؤں سے وفا کرکے ، گزاری ہے حیات
    میں برستا رہا ویرانوں میں ، بادل کی طرح

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    کلیم عثمانی 28 اگست، 2000ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پا گئے اور لاہور میں علامہ اقبال ٹاؤن میں کریم بلاک کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔

  • پی ٹی آئی رہنماؤں کو 30 روزکیلئےایم پی اوکے تحت نظربند کیا ہے،پنجاب حکومت نےعدالت میں رپورٹ جمع کرا دی

    پی ٹی آئی رہنماؤں کو 30 روزکیلئےایم پی اوکے تحت نظربند کیا ہے،پنجاب حکومت نےعدالت میں رپورٹ جمع کرا دی

    لاہور: جیل بھرو تحریک کے دوران گرفتار رہنماؤں کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواستوں پر پنجاب حکومت نے گرفتاریاں دینے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں سے متعلق رپورٹ جمع کروا دی۔

    باغی ٹی وی: پنجاب حکومت کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ شاہ محمود قریشی، اسدعمر اور اعظم سواتی سمیت 9 رہنماؤں کو 30 روزکے لیے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت نظربند کیا ہے۔

    پنجاب حکومت کے وکیل نے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں77 لوگوں کو نظر بندکیا گیا ہے، ڈپٹی کمشنر لاہور نے نظر بندی کے احکامات جاری کیےپی ٹی آئی رہنماؤں کی دوسرےشہروں میں منتقلی کےخلاف درخواست ہےاعجاز چوہدری کی رہنماؤں کی بازیابی کی درخواست میں رپورٹ آگئی ہے۔

    لاہور ہائی کورٹ نے سرکاری وکیل کو اگلی سماعت تک باقاعدہ جواب داخل کرانےکی ہدایت کرتے ہوئےکہا کہ ابھی رپورٹ عدالت کی فائل میں نہیں لگی، اس میں بھی رپورٹ جمع کرائیں، دونوں درخواستوں میں رپورٹ آنےکے بعد جمعےکو سماعت کریں گے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کی جیل بھرو تحریک کے دوران گرفتار وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی، سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی اسد عمر، سینیٹر اعظم سواتی، سینیٹر ولید اقبال، عمر چیمہ، مراد راس، جان مدنی، اعطم نیازی اور احسان ڈوگر کی بازیابی کے لیے ایک سے زائد درخواستیں دائر کی گئیں تھیں-

    پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چوہدری نے مشترکہ درخواست دائر کی تھی جس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم، انسپکٹر جنرل (آئی جی) اور سی سی پی او کو فریق بنایا گیا تھا-

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ آئی جی اور سی سی پی او نے پی ٹی آئی کے قائدین کو گرفتار کیا، پی ٹی آئی قائدین کو مال روڈ سے پکڑ کر پہلے کیمپ جیل پھر کوٹ لکھپت جیل لے جایا گیا،قائدین کو کھانا اور دوائیاں بھی فراہم نہیں کی جارہی ہیں اور نہ ادویات کی اجازت دی گئی اور انہیں غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے تاکہ ان کی شہرت اور ذات کو نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹے مقدمات بنائے جاسکیں۔

    درخواست کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کو حراست میں رکھنے کا کوئی قانونی جواز نہیں سینیٹر اعجاز چوہدری نے عدالت سے استدعا کی رہنماؤں کو بازیاب کرکے پولیس کو غیرقانونی اقدام سے باز رہنے کا حکم دیا جائے۔

    پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین قریشی، ولید اقبال کی اہلیہ سیدہ نوریا، اعظم سواتی کے بیٹے عثمان علی سواتی نے الگ درخواستیں بھی دائر کیں، جس میں ان کی رہائی کی استدعا کی گئی-

  • کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثے:عثمان بزدار کو کیس میں شامل تفتیش ہونے کا حکم

    کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثے:عثمان بزدار کو کیس میں شامل تفتیش ہونے کا حکم

    لاہور: احتساب عدالت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں شامل تفتیش ہونے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: لاہور کی احتساب عدالت میں عثمان بزدارکے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں سابق وزیراعلیٰ عدالت میں پیش ہوئے۔دورانِ سماعت عدالت نے کہا کہ ملزم کو علم ہونا چاہےکہ الزام کیا ہے، اس دوران نیب نے عدالت کو بتایا کہ عثمان بزدار شامل تفتیش نہیں ہوئے۔عدالت نے عثمان بزدار سے استفسار کیا کہ آپ شامل تفتیش کیوں نہیں ہورہے، اس پر سابق وزیراعلیٰ نےکہا کہ میں جلد شامل تفتیش ہو جاؤں گا، ایک شادی کی تقریب ہے، 10 دن کی مہلت دے دیں-

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ بہانے نہ بنائیں شادی کوئی بہانہ نہیں ہے، بزدار صاحب شادی میں کیا کرنا ہے، 10 دن کی تاریخ مانگ رہے ہیں، خدا کا خوف کریں،اگرآپ شامل تفتیش نہیں ہوتےتو آپ کومجھ سےریلیف نہیں ملےگانیب سے بھی پوچھیں آپ نے کن شواہد کی بنیاد پر انکوائری شروع کی۔عثمان بزدار نے کہا کہ نیب والےکہتے ہیں میرے 10 ارب کے اثاثے ہیں، میرے پورے قبیلےکے 10 ارب کے اثاثے نہیں۔

    بعد ازاں عدالت نے عثمان بزدار کو 3 مارچ کو نیب آفس میں پیش ہونے کا حکم دیا اور انہیں انکوائری کی کاپی فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی عدالت نے کیس میں عثمان بزادر کی ضمانت میں7 مارچ تک توسیع کردی اور انہیں شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا۔

    پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں عثمان بزدار نے کہا کہ نیب والے آج کل مجھ پر، فیملی، بھائیوں اور دوستوں پر کیسز بنارہے ہیں اور نوٹسز دے رہے ہیں، ہم کیس کریں گے اور مجھے امید ہے کہ عدالتوں سے ہمیں ریلیف ملےگا نیب والے 10ارب کی بات کررہے ہیں یہ عجیب سی بات ہے، میرے تو پورے خاندان کے اثاثے بھی 10 ارب نہیں۔پرویز الٰہی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہاں سیاسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں، کورٹ کی باتیں کریں۔

    واضح رہےکہ نیب نے سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کے الزام کے تحت انکوائری شروع کررکھی ہے۔

  • آج انڈین طیاروں کو گرانے کا "سرپرائز ڈے” ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    آج انڈین طیاروں کو گرانے کا "سرپرائز ڈے” ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    لاہور:آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے تحت دو بھارتی طیارے گرانے اور ایک پائلٹ کو گرفتار کرنے پر آج کے دن کو سرپرائز ڈے کا نام دیا گیا جسے آج جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے جبکہ "سرپرائز ڈت” ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ پر ہے-

    باغی ٹی وی : 27 فروری 2019 تاریخ کا وہ دن جب پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر دنیا کو یہ بتایا دیا کہ مملکت خداداد کے دفاع کے لیے ہم ہمہ وقت تیار ہیں بھارتی فورسز کو لائن آف کنٹرول پر سبق سکھایا گیا جو کہ مادر وطن کے دفاع کے لیے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کا ثبوت ہے۔

    بھارت نے 27 فروری 2019 کو پلوامہ حملے کے جھوٹے پروپیگنڈے پر کنٹرول لائن پار کرنے کی غلطی کی جس پر پاکستان نے بھارت کو ’آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ‘ کی صورت میں کرارا جواب دیا تھا۔

    14فروری 2019 کو بھارت نے پلوامہ میں فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا جس مقصد صرف یہ تھا پاکستان کے خلاف جنگ شروع کی جائے اور 15 فروری کو پلوامہ فالس فلیگ آپریشن کے جواب میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کیخلاف سخت کارروائی کی دھمکی دی۔

    انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان بھارت کو تباہ کرنے کے خواب دیکھنا چھوڑ دے، اور یہ کہ جنہوں نے یہ حملہ کیا ان کو بھاری قیمت چکانا ہو گی۔

    15 فروری کو پاکستان کے وزارت خارجہ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت اور میڈیا کے الزامات بے بنیاد ہیں۔

    16 فروری کو پاکستان نے بھارت سے پلوامہ حملے کے حوالے سےثبوت طلب کئے 18 فروری کو پاکستان نے بھارت سے اپنے ہائی کمیشن کو واپس بلا لیا اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات تاریخ کی کم ترین سطح پر آگئے-

    18 فروری ہی کو بھارت نے کلبھوشن کیس میں دلائل دیئے۔اس موقعے پر بھارتی مندوب نے پاکستانی مندوب سے ہاتھ نہیں ملایا اور نمستے پر اکتفا کیا۔

    21 فروری کو اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس نے دونوں ممالک کو با مقصد مذاکرات کا مشورہ دیا اور 21 فروری کو ہی بھارت میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے مودی سے کہا کہ پلوامہ واقعے پر سیاست نہ کی جائے۔

    22 فروری کو اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جنگ نہیں بات چیت کا پیغام دیامگر ساتھ ہی بھارت کو کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا عندیہ بھی دیدیا۔

    تحریک انصاف کے رہنما اور وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ بھارتی فورسز پر حملہ 130 کلومیڑ دور شہر کے اندر کیا گیا حملے کی گاڑی اور 360 کلوگرام باردوی مواد پاکستان سے تو نہیں بھیجا گیا۔

    بھارت نے پلوامہ حملے کا ذمہ دار جیش محمد کو قرار دیا گیا۔ جیش محمد مولانا مسعود اظہر نے 2000 میں بنائی تھی۔ پھر پرویز مشرف کی حکومت نے بھی اس تنظیم پر پابندیاں عائد کر دی۔

    پلوامہ حملے میں نامزد ہونے کے بعد یہ سوال اٹھا کہ کیا یہ تنظیم کشمیر میں اتنی بڑی کارروائی کرسکتی ہے؟ پاکستان میں دفاعی تجزیہ نگار پلوامہ حملے کو فالز فلیگ آپریشن قرار دیتے رہے۔

    بھارت کی حکومت نے بدلہ لینے کا ارادہ کیا اور آپریشن بندر 26 فروری کو لانچ کیا۔ اس کا نام بندر اس کو خفیہ رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس کے تحت بھارتی ایئر فورس نے پاکستان میں جیشِ محمد کا ہیڈ کوارٹر تباہ کرنا تھا۔

    26 فروری کوبھارتی فضائیہ نےبالا کوٹ کےقریب ایک مدرسےکو نشانہ بنانےکی کوشش کی اوردعویٰ کیاکہ بالا کوٹ میں مبینہ دہشتگردوں کو نشانہ بنایا گیا اور 300 سے زائد دہشتگرد ہلاک کئے تاہم بھارت اس حوالے سے آج تک کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا، درحقیقت بھارتی میراج طیارے ہدف کو نشانہ بنانے میں بری طرح ناکام رہے۔

    رات گئے پاکستانی فضائیہ نے بہالپور، لاہور اور سیالکوٹ سیکٹر کی طرف بھارتی ایئر فورس کی نقل و حمل دیکھی۔ بروقت کارروائی کی وجہ سے وہاں سے بھارتی جہاز داخل نہیں ہو سکےتاہم ان کی ایک فارمیشن بن الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی کرتےہوئے لائن آف کنٹرول کی طرف سے پاکستان داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ یہ فارمیشن پانچ ناٹیکل میل تک پاکستان کی حدود میں آئی۔

    صبح سویرے پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ جنرل آصف غفور نے کہا کہ رات بھارتی طیارے پاکستانی حدود کے اندر چلے آئے تھے۔ جیسے ہی پاکستانی طیارے ان کے تعاقب میں آئے تو یہ بالا کوٹ کے مقام جابہ پر اپنا پے لوڈ گرا کر واپس بھارت چلے گئے۔

    دوسری طرف بھارت نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان میں جیش کا ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا ہے، اور اس مشن میں میراج 2000 طیاروں کی فارمیشن نے حصہ لیا۔ بھارتی ایئر فورس نے یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے نہ صرف جیش کا ہیڈ کوارٹر تباہ کیا بلکہ وہاں متعدد لوگ بھی مارے گئے۔

    26 فروری کی صبح آئی ایس پی آر میڈیا ٹیم کو لے کر جابہ گئی۔ جو صحافی سرکاری طور پر نہیں جا سکے، وہ اپنے طور پر وہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے رپورٹ کیا کہ وہاں جیش کا ہیڈ کوارٹر نہیں تھا نہ کوئی تین سو لاشیں تھیں۔ کچھ کووں اور درختوں کے سوائے وہاں کچھ تباہ نہیں ہوا تھا۔ اس کے بعد سفارتی مشنز بھی وہاں گئے لیکن ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے پتہ چلتا کہ بھارت کی ایئر فورس نے کوئی تباہی پھیلائی یا دہشت گرد مارے۔ اس جگہ پر کوئی ہیڈ کوارٹر موجود نہیں تھا بس وہاں جنگل تھا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس میں بھارت کو پیغام دیا کہ ’اب ہمارے جواب کا انتظار کریں، ہم آپ کو سرپرائز دیں گے۔

    بھارتی اشتعال انگیزی کے جواب میں سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بیان دیا کہ پاکستان اس جارحیت کا بھرپور جواب دے گا اور جگہ اور وقت کا تعین پاکستان کی مرضی سے کیا جائے گا۔

    اس وقت کے میجر جنرل آصف غفور نےکہا کہ کسی بھی ملٹری ٹارگٹ سے گریز اورنقصان کو محدود کرنے کا یہ ایک سوچا سمجھا انتخاب تھا اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ ابتدائی طور پر منتخب کیے گئے اہداف میں سے ایک فوجی انتظامی مرکز تھا لیکن پی اے ایف کمانڈ نے اس پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    27 فروری کو پاکستانی فضائیہ کی فارمیشن میں جے ایف 17 تھنڈر، ایف 16 اور میراج طیارے شامل تھے۔ جب ڈاگ فائٹ میں بھارتی اور پاکستانی طیارے مدمقابل آئے توبھارت کی ایل او سی کراس کرنے کی کوشش کو پاکستان نے ناکام بنا دیا اوردو بھارتی طیارے مار گرائے-

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے بھارت کے دو طیارے تباہ کر دیئے۔ ایس یو 30 طیارے کا ملبہ مقبوضہ کشمیر میں گرا اور ابھی نندن کے جہاز مگ 21 کا ملبہ آزاد کشمیر میں گرا ابھی نندن پیراشوٹ کے ذریعے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے میں گرے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

    گرفتار بھارتی ونگ کمانڈر ابھی نندن کو بہترین سہولیات مہیا کی گئیں اور یکم مارچ کو ابھی نندن کو واہگہ بارڈر کے راستے انڈین آرمی کے حوالے کر دیا گیا۔

    پاکستان کی جانب سے بھارتی جارحیت کے اس منہ توڑ جواب کو سرپرائز ڈے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

    اس موقع پر بھارتی وزیر اعظم مودی بھی پاکستانی فوج کی مہارتوں کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے اور کہا اگر رافیل طیارے ہوتے تو حالات مختلف ہو سکتے تھے۔

    بھارتی میڈیا اور حکومت نے دعویٰ کیا کہ ابھی نندن نے ایجیکٹ کرنے سے پہلے پاکستان کا ایف 16 تباہ کر دیا تھا۔

    بھارتی حکومت پاک فضائیہ کا ایک ایف سولہ جہاز گرانے کا جھوٹ مسلسل بولتی رہی لیکن بھارتی جھوٹ کا پول امریکی جریدے فارن پالیسی نے کھولا، جس کے بعد بھارتی میڈیا بھی سچائی دکھانے پر مجبور ہوگیا۔

    بھارتی اینکر راہل کو ٹی وی پر سب کے سامنے اس وقت سبکی سامنا کرنا پڑا جب وہ ایک پرزے کوایف 16 کا کہہ رہے تھے تو ہوا بازی کے ماہر نے کہا یہ تباہ شدہ ٹکڑا ایف 16 کا نہیں مگ 21 کا ہے۔

    ماہرین کے مطابق ابھی نندن کا جہاز جب تباہ ہوا تو اس کا کوئی میزائل استعمال ہی نہیں ہوا تھا۔ پاکستان ایئرفورس نے اسلام آباد میں ایئر ہیڈ کوارٹر میں میڈیا نے ابھی نندن کے جہاز کا ملبہ دیکھا تو اس ملبے میں ابھی نندن کی سیٹ اور میزائل سالم حالت میں موجود تھے۔

    27 فروری کا دن سرپرائز ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر سرپرائز ڈے ٹاپ ٹرینڈ پر ہے-
    https://twitter.com/Kb128LC/status/1630102543362666497


    https://twitter.com/TheNeutralPK/status/1630102749944881152