Baaghi TV

Category: لاہور

  • لاہور:قذافی اسٹیڈیم میں پی ایس ایل کے سیکیورٹی کیمروں کا سامان چوری

    لاہور:قذافی اسٹیڈیم میں پی ایس ایل کے سیکیورٹی کیمروں کا سامان چوری

    لاہور: قذافی اسٹیڈیم میں پی ایس ایل کی سیکیورٹی کے لیے نصب کیمرے چوری ہو گئے۔

    باغی ٹی وی: لاہور میں قذافی اسٹیڈیم کے قریب پی ایس ایل میچز کی سیکیورٹی کے لیے لگائے گئے لاکھوں روپے مالیت کے 8 کیمروں کا سامان چوری ہوگیا،چوروں نے قذافی اسٹیڈیم کے اطراف میں بچائی گئی فائبرکیبل بھی چوری کرلی جبکہ اسٹیڈیم میں روشنی کے لیے لگائے گئے جنریٹرز کی بیٹریاں بھی غائب ہیں-

    قذافی اسٹیڈیم کے گرد پی ایس ایل کی سیکیورٹی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے تھے، کیمروں کی مانیٹرنگ کے لیے خصوصی کنٹرول روم تشکیل بھی دیا گیا تھا۔

    پولیس نے تھانہ گلبرگ میں چوروں کے خلاف 2 مقدمات درج کرلیے۔ چوروں کے فرار ہونے کی سی سی ٹی وی موجود ہے لیکن تاحال گرفتار نہ ہوسکے،پولیس کے مطابق ملزمان کی تلاش کی جارہی ہے۔

    پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آرز کے مطابق نامعلوم ملزمان نے 19 اور 22 فروری کو قذافی اسٹیڈیم کے قریب 2 مختلف وارداتیں کیں ،ایف آئی آر کے مطابق چوری کیے گئے سامان کی مالیت 9 لاکھ 82 ہزار روپے ہے۔

    واضح رہے کہ غیر یقینی صورتحال کے باوجود لاہور میں پی ایس ایل میچز کی تیاریاں جاری ہیں جب کہ رینجرز اور پولیس سمیت مختلف اداروں کے اہلکار ڈیوٹی پر مستعد ہیں۔

  • موجودہ سیاسی نظام میں چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں،شاہد خاقان عباسی

    موجودہ سیاسی نظام میں چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں،شاہد خاقان عباسی

    الحمرا ہال لاہورمیں لاہورلٹریچرفیسٹیول کےدوسرے دن مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما و سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے خصوصی نشست میں گفتگو کی-

    باغی ٹی وی: شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آئین توموجود ہے لیکن اس کی بالادستی قائم کرنا بھی ضروری ہے، ملکی سیاسی تاریخ میں صرف 4 لیڈرز ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف، بے نظیر بھٹو اور عمران خان آئے ہیں، اسٹیبلشمنٹ سمیت سبھی کو سیاسی معاملات حل کرانا ہوں گے، تاخیر ملکی مفادمیں نہیں۔

    لیگی رہنما کا کہنا تھاکہ بدقسمتی سے اسٹیبلشمنٹ کیلئے کرپٹ لوگ زیادہ قابل قبول ہیں، با نسبت ان لوگوں کے جو کردار والے ہیں، پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ مسئلے کا حل نہیں بلکہ خود ایک مسئلہ ہے،موجودہ سیاسی نظام میں چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں-

    شاہد خاقان عباسی نےکہا کہ بیوروکریسی میں بھی متعلقہ وزارتوں کےمسائل حل کرنے کی اہلیت نہیں،وفاقی ملازمین مراعات کیلئےصوبوں میں کام کرنےکےخواہشمند ہوتے ہیں یہ عوام کی صوابدید ہےپارلیمنٹ میں کسےہونا چاہیے مگرایسا ہوتا نہیں ہے، 50 فیصد سینیٹرز نشستیں خرید کر سینیٹ میں پہنچتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھاکہ سبھی جانتے ہیں کہ پاکستانی سیاست پر عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ اثر انداز ہوتے ہیں لیکن اب سب کو مل کر آئین اورقانون کی بالادستی یقینی بناناہوگی۔

  • لاہور ویسٹ منیجمنٹ کمپنی نے پی سی بی سے صفائی کے واجبات مانگ لیے

    لاہور ویسٹ منیجمنٹ کمپنی نے پی سی بی سے صفائی کے واجبات مانگ لیے

    لاہور: ایل ڈبلیو ایم سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے کروڑوں روپے صفائی کے واجبات مانگ لئے۔

    باغی ٹی وی: ایل ڈبلیو ایم سی نے صفائی سروسز کے بقایاجات کی ادائیگی کیلئے پی سی بی کو خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ ایل ڈبلیو ایم سی کے پی سی بی کے ذمے مجموعی طور پر 4 کروڑ 83 لاکھ روپے واجب الادا ہیں۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ پی سی بی 2017 سے اب تک قذافی اسٹیڈیم میں کھیلی جانے والی تمام سیریز اور میچز کے واجبات کی ادائیگی میں ناکام رہا، 2017 میں کھیلے گئے ورلڈ الیون، پاک سری لنکا سیریز اور پی ایس ایل کی ادائیگیاں نہیں ہوئیں۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ رواں سال پی یس ایل 8 کیلئے 50 لاکھ کے بل بھجوائے گئے ہیں 2022 میں کھیلے گئے پاک انگلینڈ، پاک آسٹریلیا اور 2017 میں کھیلے گئے میچز کے عوض 2 کروڑ 35 لاکھ کے بقایا جات باقی ہیں ،پی ایس ایل 7 کے میچز میں دی جانے والی سروسز کے واجبات 1 کروڑ 10 لاکھ بھی ادا نہیں کیے گئے-

    پی ایس ایل 8 کیلئے بھی تمام تر صفائی کی ذمے داری ایل ڈبلیو ایم سی کے پاس ہے، 2022 میں کھیلے گئے پی ایس ایل 7 کے ایک کروڑ 10 لاکھ کےواجبات بھی ادا نہیں کیے گئے۔

  • پی ایس ایل میچز کی لاہور منتقلی:حکومت پنجاب اورپی سی بی کے درمیان ڈیڈلاک برقرار

    پی ایس ایل میچز کی لاہور منتقلی:حکومت پنجاب اورپی سی بی کے درمیان ڈیڈلاک برقرار

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 8 کے پنجاب میں ہونے والے میچز کے سکیورٹی اخراجات کے حوالے سے حکومت پنجاب اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہے۔

    باغی ٹی وی: پاکستان کرکٹ بورڈ کا اس حوالے سے اجلاس میں ہوا جس میں فیصلہ کیا گیاکہ بورڈ اپنےمؤقف پر ڈٹا رہے گا پنجاب حکومت کو پیغام پہنچا دیا ہے کہ سکیورٹی اخراجات کی مد میں حکومت کو کوئی ادائیگی نہیں کی جائے گی-

    پی سی بی کی جانب سے نگران حکومت پنجاب کی جانب سے پی سی بی کو 25 کروڑ روپے ادا کرنے کے پیغام پر جواب دے دیا گیا ہے کہ ادائیگی نہیں کی جائےگی۔

    پی سی بی کی جانب سے حکومت پنجاب کو پیغام بھیجا گیا ہے کہ لاہور میں دو پی ایس ایل میچز کے بعد لیگ کے بقیہ میچز کراچی میں ہوں گے سیکیورٹی کو بنیاد بنا کر کسی کھلاڑی نے دستبرداری کا فیصلہ کیا تو بورڈ ذمے دار نہیں ہوگاسیکیورٹی کی ذمےداری اسٹیٹ کی ہے، ٹیموں کو اسٹیٹ گیسٹ کا درجہ حاصل ہے۔

    دوسری جانب سابق چیئرمین پی سی بی رمیزراجہ نے اپنےبیان میں کہا کہ اگر حکومت سکیورٹی نہیں دے گی تو بڑا ٹورنامنٹ نہیں ہوسکے گا، پی ایس ایل دوسرے شہروں میں شفٹ کرنے سے بہت نقصان ہوگا۔

    جبکہ نگران حکومت کے وزیر تعلیم منصور قادر نے بتایا کہ اس سال پی ایس ایل کے انتظامات کا تخمینہ ایک ارب 20 کروڑ روپے لگایاگیا، اتنی بڑی رقم خرچ کرنے پر نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی کے تحفظات ہیں غیر ضروری اخراجات ختم کرکے پی ایس ایل پر اخراجات کا تخمینہ 50 کروڑ روپے لگایا گیا جس میں سے ہم 25 کروڑ روپے خرچ کرنے کو تیار ہیں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے 25 کروڑ روپے دینے سے انکار کر دیا ہے ہم نے پی سی بی سے کہا کہ 25 کروڑ روپے دے کر لائٹیں خرید لیں، تاکہ ہر سال کام آئیں۔

    انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل کے فوری بعد رمضان شروع ہو رہا ہے، مالی بحران کا شکار حکومت رمضان میں عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے یہی وجہ ہے کہ پی ایس ایل پر اتنی بڑی رقم خرچ کرنے سے گریزاں ہے، حکومت پنجاب کو رمضان میں عوام کو ریلیف دینا مشکل ہو رہا ہے ہم چاہتے ہیں کہ پی سی بی اپنا شیئر ڈالے تاکہ عوام کو تفریح کے ساتھ ساتھ رمضان میں سہولت بھی دے سکیں۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل پنجاب حکومت نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی سکیورٹی کیلئے سرکاری خزانے سے 50 کروڑ روپے دینے سے انکار کردیا تھا آج نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی سربراہی میں پنجاب کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے اس فیصلے سے پی سی بی کو آگاہ کیا گیا تھا۔

    ذرائع‏ کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے پی سی بی پر واضح کیا گیا تھا کہ پنجاب حکومت تب انتظامات کرے گی جب پی سی بی 25 کروڑ روپے ادا کرےگاکابینہ میں مؤقف اپنایا گیا کہ پنجاب حکومت اب تک پی ایس ایل میچز کے انتظامات پر 45 کروڑ روپے لگا چکی ہے۔

    خیال رہے کہ کل کراچی میں پی ایس ایل کا آخری میچ شیڈول ہے جس کے بعد فائنل سمیت تمام میچز لاہور اور پنڈی میں شیڈول ہیں۔ معاملہ طے نہ ہوا تو ایونٹ کا شیڈول تبدیل کیے جانے کا امکان ہے۔

  • لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن الیکشن:ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں پہلی بار خاتون سیکریٹری منتخب

    لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن الیکشن:ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں پہلی بار خاتون سیکریٹری منتخب

    لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے الیکشن کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا،الیکشنزمیں ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں پہلی بار خاتون سیکریٹری منتخب ہوگٸیں۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ بار کے سالانہ انتخابات کا میدان حامد خان گروپ کے صدارتی امیدوار اشتیاق اے خان نے میدان مار لیا۔ صدراتی نشست پر انہوں نے 7293 ووٹ حاصل کیے جبکہ عاصمہ جہانگیر گروپ کے لہراسب گوندل نے 3372 ووٹ حاصل کیے۔

    نائب صدر کی نشست پر ربیعہ باجوہ 3590 ووٹ لے کر فاتح قرار پائیں جبکہ سیکریٹری کی سیٹ پر صباحت رضوی نے 4310 ووٹ لے کر ہائی کورٹ کی تاریخ رقم کرتے ہوئے پہلی مرتبہ سیکریٹری منتخب ہوئیں۔

    فنانس سیکرٹری کی نشست پر شاہ رخ شہباز وڑائچ 7109 ووٹ لے کر کامیاب رہے، فاتح امیدواروں کی جانب سے ہائی کورٹ کے احاطے میں جیت کا جشن منایا گیا۔ حامی ووٹرز کی جانب سے نعرے بازی اور گل پاشی کر کہ امیدواروں کو مبارک باد دی۔

    لاہور ہائی کورٹ بار کے سالانہ انتخابات میں چار عہدوں پر چودہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔ دس ہزار پانچ سو ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا۔

  • فرخ گوگی کیخلاف درج تمام مقدمات کی نئےسرے سے انکوائری کا آغاز

    فرخ گوگی کیخلاف درج تمام مقدمات کی نئےسرے سے انکوائری کا آغاز

    ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب کا کہنا ہے کہ فرخ گوگی کیخلاف درج تمام مقدمات کی نئےسرے سے انکوائری کا آغاز کیا جائے گا-

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے جیو سے گفتگومیں اینٹی کرپشن پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) سہیل ظفرچٹھہ نے کہا ہے کہ فرخ گوگی کےخلاف درج تمام مقدمات کی نئےسرے سے انکوائری کا آغاز کردیاگیا،فرح گوگی نے اثر و رسوخ سےزرعی زمین سستےداموں فروخت کرائی تھی،ان کا کیس ایف آئی اے کو بھی بھجوایاجائےگا-

    انہوں نے بتایا کہ شیخ رشید کے خلاف انکوائری کو بھی ری اوپن کر دیا گیا ہے شیخ رشید نے رنگ روڈ اسکینڈل میں سڑک کا رُخ اپنی زمین کی طرف کرایاتھا اور اس طرح اپنی زمین کی قیمت بڑھائی تھی۔

    انہوں نےبتایا کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کےدورمیں ہونے والےترقیاتی کاموں کا تمام ریکارڈ طلب کرلیا پی ٹی آئی دورکےترقیاتی منصوبوں کا ریکارڈ بھی پنجاب بھر کے کمشنرز سےمانگ لیا گیا ہے،پنجاب بھر کی تمام ہاؤسنگ سوسائٹیز کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا گیا ہے اور دیکھاجا رہا ہے عثمان بزدار، پرویز الٰہی نے کتنی ہاؤسنگ سوسائیٹیز کو ریلیف دیا-

    ظفر چٹھہ نے کہا کہ رنگ روڈ اسکینڈل کی فائل بھی دوبارہ انکوائری کیلئے اوپن کر دی گئی ہےپی ٹی آئی حکومت کے سینیئر افسران کو انکوائری میں ریکارڈ سمیت بُلا لیا گیاجو افسر اینٹی کرپشن سےتعاون نہیں کرتا اسے گرفتار کیا جائے گا انکوائریاں اور گرفتاریاں آئندہ ہفتے شروع کی جا سکتی ہیں، محمود الرشید، راجہ بشارت، مراد راس، یاسمین راشد اور دیگر وزرا کے محکموں کا ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق مارچ کے پہلے ہفتے سے کرپشن میں ملوث افسران اور سابق وزرا کی گرفتاریاں متوقع ہیں۔

  • نيب  نےعثمان بزدار اور انکی فیملیز کے نام جائیدادوں کا ریکارڈ طلب کرلیا

    نيب نےعثمان بزدار اور انکی فیملیز کے نام جائیدادوں کا ریکارڈ طلب کرلیا

    نيب لاہور نے عثمان بزدار اور انکی فیملیز کے نام جائیدادوں کا ریکارڈ طلب کرلیا-

    باغی ٹی وی: آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس اورجائیداديں بنانے کے الزام میں نيب نے سابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے خلاف گھیرا مزید تنگ کرتے ہوئےعثمان بزدار اور ان کی فیملیز کے نام جائیدادوں کا ریکارڈ طلب کرلیا،لاہورنیب نے خاندان کے 10 افراد سے متعلق تمام تفصیلات طلب کرلیں

    نيب نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز ریونيو کو مراسلہ جاری کردیا جس میں 28 فروری تک نيب لاہور کو عثمان بزدار کے نام جائیدادوں کا ریکارڈ فراہم کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔

    مراسلے کے مطابق عثمان بزدار کے خاندان کے دس افراد کے نام جائیدادوں کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے، عثمان بزدار کے تمام فیملی ممبران کے نام جائیدادوں کا ریکارڈ عثمان بزدار یا فیملی کے نام پر پراپرٹی، زمین، تحائف اور وراثتی جائیداد کا ریکارڈ مانگا گیا ہے۔

  • عمران خان ٹانگ کا پلاسٹر اب تمہیں مزید نہیں بچائے گا، مرد بنو اور قانون کا سامنا کرو،مریم نواز

    عمران خان ٹانگ کا پلاسٹر اب تمہیں مزید نہیں بچائے گا، مرد بنو اور قانون کا سامنا کرو،مریم نواز

    لاہور: مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نےعمران خان کو “سازشوں کا بادشاہ” قرار دیا-

    باغی ٹی وی: عمران خان نے اپنے ایک ٹوئٹر بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ کے ججوں پر پی ڈی ایم کے بے شرم اور بے حساب حملے اور بدعنوانی کے پیسوں سے پالی جانے والی بی بی مریم کا صرف ایک مقصد ہے آئین کی خلاف ورزی کرکے بھی انتخابات سے بھاگنا۔ ایس سی پی پر حملہ کرکے، وہ فیڈریشن کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور پاکستان میں جنگل کے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنا رہے ہیں۔


    عمران خان کی ٹویٹ کے جواب میں مریم نواز نے عمران خان کو “سازشوں کا بادشاہ” قرار دیاکہا کہ آپ کی چیخیں غلط نہیں کیوںکہ آپ اپنے گاڈ فادر فیض اور ان کی باقیات کی مدد سے ‘سازشوں کے بادشاہ’ ہیں۔


    مریم نواز نے کہا کہ آپ فیض اوران کی باقیات کی سازشوں پر پھلتے پھولتےاورزندہ رہتےہیں، اب آپ دیکھیں گےکہ “بگڑی ہوئی شہزادی” آپ کو کیسے مات دیتی ہے، آپ جیسے پیادے غیر متعلقہ ہو جائیں گے۔

    مریم نے مزید کہا کہ تم عدالتوں سے بچتے پھر رہے ہو اور التوا کی بھیک مانگ رہے ہو، جو تمہارے مجرم ہونے کا واضح ثبوت ہے، ٹانگ کا پلاسٹر اب تمہیں مزید نہیں بچائے گا، مرد بنو اور قانون کا سامنا کرو-


    مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ چور ڈاکو کا بیانیہ اب پٹ چکا ہے، بلکہ تم اور تمہاری بیوی توشہ خانہ کیس میں چوری کرتے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہو 190 ملین پاؤنڈ (58 ارب روپے) کی چوری ، بیوی کے زیورات اور توشہ خانہ کی ڈکیتی، 5 کیرٹ ہیرے کی انگوٹھی کے لیے فائلوں پر دستخط کرنے تک ہر قسم کی بدعنوانی کا مجرم بننے والے پہلے وزیراعظم ہو-

  • لاہور:پرتشدد واقعات میں ملوث کم عمر لڑکوں کے گینگ 102 کا انکشاف

    لاہور:پرتشدد واقعات میں ملوث کم عمر لڑکوں کے گینگ 102 کا انکشاف

    لاہور:صوبائی دارالخلافہ لاہور میں نجی تعلیمی اداروں کے لڑکوں کے گینگ کا انکشاف ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مختلف اسکولوں کے کم عمر طالب علموں کے 35 رکنی گینگ کو 102 کے نام سے آپریٹ کیا جاتا ہے، جو مختلف اسکولوں کے باہر لڑکوں پر تشدد کرتا ہے۔

    پولیس کے مطابق گلبرگ میں ایک نوجوان پر تشدد کے الزام میں گینگ پر مقدمہ درج کر کے 2 طلبہ کو گرفتار کیا گیا۔ گروہ کے دیگر افراد کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔
    چند روز قبل ملزمان نے 1 طالب علم کو اسنوکر کلب میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ یہ لڑکے تشدد کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر کے خوف و حراس پھیلاتے ہیں۔ گینگ کی پرتشدد سرگرمیوں کی ویڈیوز بھی وائرل ہوئی ہیں۔

    سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی ماڈل ٹاؤن سے رپورٹ طلب کرلی اور مکمل تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔

    سربراہ لاہور پولیس نے کہا کہ ایسے کسی بھی گینگ کی پرتشدد اور غیر قانونی سرگرمیوں پر ملوث افراد کی فوری گرفتاری عمل میں لائیں، لاہور پرامن لوگوں کا شہر ہے، سٹریٹ گینگز کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے،والدین اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں، انہیں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہونے دیں۔

  • صوفیہ مرزا کو بڑا دھچکا، عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کے اغوا کا مقدمہ خارج کردیا

    صوفیہ مرزا کو بڑا دھچکا، عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کے اغوا کا مقدمہ خارج کردیا

    لاہور کی مقامی عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کو اغوا کرنے کا مقدمہ خارج کردیا۔

    باغی ٹی وی :جوڈیشل مجسٹریٹ لاہور غلام مرتضیٰ ورک نے فیصلے میں کہا ہے کہ ایف آئی اے کو لاہور میں مقدمہ درج ہی نہیں کرنا چاہیے تھا 14 برس قبل بچیوں زینب اور زنیرہ کے اغوا کا مبینہ واقعہ کراچی میں ہوا تو کارروائی بھی وہیں ہونی چاہیے تھی۔

    عدالت نے حکم دیا کہ معاملہ ہمارے دائرہ کار میں نہ نہیں ہے اس لیے اس کیس کی فائل تمام انکلوژرز اور شواہد کے ساتھ استغاثہ کو واپس کر دی جاتی ہے تاکہ اسے مناسب فورم پر دائر کیا جا سکے۔

    عدالت میں عمر ظہور کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ میں معاملہ 2013 میں حل ہوچکا، صوفیہ مرزا نے 10 لاکھ لے کر کیس نمٹا دیا تھا۔

    ایف آئی اے نے مقدمے میں لائبیریا کے سفیر عمر فاروق، صدف ناز اور محمد زبیر کو نامزد کیا تھا،مجسٹریٹ کے فیصلے کے بعد تفتیشی عمل مکمل کرنے کیلئے کیس ایف آئی اے کراچی کو بھیجا جائے گا۔

    عمر فاروق ظہور نے شکایت کی درج کرائی تھی کہ ان کی سابق اہلیہ صوفیہ مرزا سابق وزیر احتساب شہزاد اکبر اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر (مرحوم) ڈاکٹر رضوان کے ساتھ مل کر سازش کی اور ان کے خلاف منی لانڈرنگ اور اغوا کے جعلی مقدمات درج کرائے تاکہ ان پر ایف آئی اے کو سزا دی جائے۔

    انتقام کی مہم اور آج کے آرڈر آف لرنڈ مجسٹریٹ نے اپنے موقف کی توثیق کی ہے کہ شہزاد اکبر نے ایف آئی اے لاہور کو اس حقیقت کے باوجود کہ ایف آئی اے لاہور کے دائرہ اختیار میں کمی کے باوجود ایف آئی اے لاہور کو اپنے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے پر مجبور کر کے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ صدف ناز کی درخواست کے مطابق کراچی میں 2009 میں ہونے والے مبینہ جرم کی ایف آئی آر کے اندراج میں 10 سال سے زائد کی غیر وضاحتی تاخیر ہوئی ہے اور استغاثہ نے 9 گواہ پیش کیے ہیں لیکن وہ جرم کا ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ملزم کے خلاف مواد صدف ناز نے استدعا کی تھی کہ انہیں بغیر کسی وجہ کے "جعلی اور فرضی” کیس میں گھسیٹا گیا اس لیے ان کے خلاف مقدمہ خارج کیا جائے۔

    سمجھا جاتا ہے کہ جج غلام مرتضیٰ ورک کے فیصلے کے بعد کیس اب باقی تفتیش مکمل کرنے کے لیے ایف آئی اے کراچی کو بھیجا جائے گا۔

    اس حوالے سےعمر فاروق ظہورکا کہنا تھا کہ سابقہ اہلیہ صوفیہ مرزا نے جون 2020 میں نےانتقامی کارروائی کیلئےجعلی مقدمہ درج کرکے ایف آئی کو ملوث کیا تھا، مقدمہ درج کرانے کیلئے صوفیہ مرزا کو سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر مرحوم ڈاکٹر رضوان کی معاونت حاصل تھی۔

    انہوں نے کہا کہ مجسٹریٹ کے فیصلے سے ثابت ہوگیا ایف آئی اے کو غلط مقدمہ درج کرنے کیلئے مجبور کیا گیا۔

    گزشتہ سال جون میں جیو اور دی نیوز نے تحقیقات کے بعد انکشاف کیا کہ صوفیہ مرزا کی طرف سے عمر فاروق ظہور پر مبینہ فراڈ اور 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے الزامات لگائے گئے شہزاد اکبر نے ایف آئی اے کو استعمال کرنے کیلئے صوفیہ مرزا کو شکایت درج کرانے کا مشورہ دیا، شکایت وزارت داخلہ کے ذریعے پی ٹی آئی حکومت کی کابینہ تک پہنچی تاہم کابینہ نے عمر فاروق ظہور اور ان کے عزیز کے خلاف 16 ارب روپے کے مبینہ فراڈ کی ایف آئی اے کو تحقیقات کی اجازت دی۔

    ایف آئی اے نے تفتیش مکمل کرنے کے بعد عمر فاروق ظہور کے خلاف دو کیسز درج کیے، تحقیقات کے مطابق عمر فاروق ظہور اور شریک ملزم نے ناروے اور سوئٹزرلینڈ میں فراڈ کیے، اوسلو میں 2010 میں 89.2 ملین ڈالر کا بینک فراڈ اور برن میں 12 ملین ڈالر کے فراڈ کا الزام عائد کیا گیا۔

    ایف آئی اے کو شکایت میں خوش بخت مرزا نے یہ نہیں بتایا کہ وہ بطور اداکارہ و ماڈل صوفیہ مرزا کے نام سے معروف ہیں، صوفیہ مرزا نے شکایت میں یہ بھی نہیں بتایا کہ عمر فاروق ظہور ان کے سابق شوہر ہیں۔

    شکایت میں الزام لگایا گیا کہ عمر فاروق ظہور نےکئی ممالک میں فراڈ کیا اور ناروے میں سزا یافتہ اور مطلوب ہے،عمر فاروق ظہور نے مبینہ طور پر 9.37 ملین ترک لیرا کا بھی فراڈ کیا، گھانا میں 510 ملین ڈالر کا مشکوک معاہدہ بھی کیا، عمر فاروق ظہور کے پاس کالے دھن کے کئی ملین ڈالر اور پاکستان و دبئی میں کئی جائیدادوں کا الزام بھی لگایا گیا۔

    صوفیہ مرزا نے سابق شوہر پر سونے کی اسمگلنگ، مہنگی گاڑیاں اورگھڑیوں کی ملکیت اور سونا و رقم گھر میں رکھنے کا الزام بھی لگایا۔

    ماڈل صوفیہ مرزا نے ایف آئی سے استدعا کی کہ وہ پاکستان کو بدنام کرنے والے شخص کے خلاف تحقیقات کرے، کابینہ میں شہزاد اکبر کی طرف سے پیش کی گئی سمری کے حوالے سے کوئی سوال نہیں کیا گیا تھا کابینہ کو یہ بتانے کی زحمت بھی نہیں کی گئی کہ خوش بخت مرزا ہی اصل میں صوفیہ مرزا ہیں،کابینہ کو عمر فاروق ظہور کے خوش بخت کا سابق شوہر ہونے اور جڑواں بچیوں کی تحویل کی لڑائی سے بھی لا علم رکھا گیا۔

    جوڑے کی 2008 میں طلاق کے بعد بچیاں اپنی مرضی سے والد کے ساتھ دبئی میں مقیم ہیں، کابینہ کو اس بات سے بھی لاعلم رکھا گیا کہ پاکستان اور یو اے ای کی اعلیٰ عدالتوں میں بچیوں کی تحویل کا معاملہ طے ہوچکا ہے۔

    صوفیہ مرزا نے بدعنوانی کے دو مقدمات سے قبل سابق شوہر پر بچیوں کے اغوا کا مقدمہ بھی درج کروایا، والدین پر اپنے بچوں کے اغوا کا مقدمہ نہ بننے کے قانون کے باوجود شہزاد اکبر کی ہدایت پر عمر فاروق ظہور کے خلاف مقدمہ بنا، کابینہ میں سمری کی منظوری کے بعد عمر فاروق ظہور کا نام ایگزٹ کنٹرول میں ڈال دیا گیا، قانونی کارروائی مکمل کیے بغیر ناقابل ضمانت وارنٹس کے اجرا کے علاوہ پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ بلیک لسٹ کردیے گئے، انٹرپول کے ذریعے عمر فاروق ظہور کی گرفتاری کیلئے ریڈ وارنٹس بھی جاری کر دیے گئے۔

    عمر فاروق ظہور نے لائبیریا کے سفیر کے طور پر ایف آئی اے کے اقدامات کو ختم کرانے کیلئے کارروائی شروع کی، عدالتی کارروائی کے بعد ناقابل ضمانت وارنٹس اور ریڈ وارنٹس منسوخ ہوئے۔

    عدالت نے یہ مشاہدہ کیا کہ اشتہاری قرار دینے سے قبل مجوزہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا تھا، عدالت نے یہ مشاہدہ بھی کیا کہ 2019 سے لائبیریا کا سفیر ہونے کی حیثیت سے عمر فاروق ظہور کو قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے۔

    عمر فاروق ظہور کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہونے کے باوجود ایف آئی اے نے ڈفیوژن نوٹس جاری کیا، عمر فاروق کو استثنیٰ اور ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود ان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹس جاری کرائےگئے۔

    عدالتی حکم نامے کے مطابق ایف آئی اے نے ڈفیوژن نوٹس کی اجازت کے حوالے سے انٹرپول سے جھوٹ بولا، ایف آئی اے کے غیر قانونی اقدامات سے بچانے کیلئے عمر فاروق نے جوڈیشل مجسٹریٹس لاہور غلام مرتضیٰ ورک سے رابطہ کیا۔

    جوڈیشل مجسٹریٹس لاہور غلام مرتضیٰ ورک کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ دونوں کیسز میں نہ تو ناقابل ضمانت وارنٹس جاری کیےگئے اور نہ ایف آئی اے کی جانب سے کوئی رپورٹ پیش کی گئی، عمر فاروق ظہور کا نام سرخیوں میں اس وقت آیا جب سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے عمران خان کے غیرقانونی احکامات ماننے سے انکار کا انکشاف کیا۔

    بشیر میمن پر مارچ 2022 میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے عمر فاروق کو پاکستان کے دورے کرنے کی غیر قانونی اجازت دی، سوئس حکام نے 7 دسمبر 2020 کو تصدیق کےشواہدکی کمی اور ٹائم بار کے سبب عمر فاروق کے خلاف کیس خارج کردیا گیا۔

    ترک باشندے کی طرف سے لگائےگئے فراڈ کے الزام کی نیب نے انکوائری کی، کرپشن کا کوئی ثبوت نہ ملنے پر اگست 2013 کو احتساب عدالت نے عمر فاروق کو کلین چٹ دی تھی۔

    مئی 2020 میں ناروے حکام نے بینک فراڈ کیس عدم ثبوت پر عمر فاروق کے خلاف کیس بند کردیا تھا، سوئٹزرلینڈ اور ناروے کی طرف سے عمر فاروق ظہور پر کیسز ختم ہوتے ہی ان پر پاکستان میں عجلت میں کیسز بنائےگئے۔