Baaghi TV

Category: لاہور

  • اسموگ کے تدارک کیلیےدرخت کاٹنے پر پابندی عائد

    اسموگ کے تدارک کیلیےدرخت کاٹنے پر پابندی عائد

    لاہور: ہائیکورٹ نے اسموگ کے تدارک کے لیے تعلیمی اداروں میں درخت کاٹنے پر پابندی عائد کر دی، درخت کاٹنے والے اداروں کے خلاف کیسز اینٹی کرپشن کو بھیجیں جائیں۔لاہور ہائیکورٹ نے اسموگ کے تدارک کے لیے احکامات جاری کر دیے۔ جسٹس شاہد کریم نے ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی۔

    دوران سماعت، عدالت نے تعلیمی اداروں میں درخت کاٹنے پر کیس اینٹی کرپشن بھجوانے کا حکم دیا جبکہ سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں درخت کاٹنے کے لیے پی ایچ اے سے اجازت مشروط کر دی۔ نجی سوسائٹی میں درخت کاٹنے کے لیے بھی پی ایچ اے سے پیشگی اجازت لینا ہوگی۔

    عدالت نے ٹریفک کے لیے ایمرجنسی ہیلپ لائن نمبر کے بورڈ آویزاں کرنے کا حکم بھی دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایسا نظام بنایا جائے کہ ٹریفک جام پر فوری رسپانس ملے۔

    عدالت سی ٹی او لاہور اور ڈی جی پی ایچ اے کے تبادلے کی اجازت بھی دیدی جبکہ ڈی جی ایل ڈی اے کے تبادلے کی مشروط اجازت دی گئی ہے عدالت نے حکم دیا ہے کہ ڈی جی ایل ڈی اے کے تبادلے سے قبل میٹیریل فراہم کریں عدالت ٹریفک کے نظام کو فعال بنانے کا حکم بھی دیا

    دوران سماعت واسا کی جانب سے واسا کے لیگل افسران پیش ہوئے۔ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب شان گل نے عدالت سے استدعا کی کہ افسران کے تبادلے روکنے کا حکم واپس لیا جائے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ نگراں حکومت کا اس میں کیا مفاد ہے، آپ نے سی ٹی او کو پہلے ہی تبدیل کر دیا ہے اس پر ایکشن نہیں لیا۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ ڈی جی ایل ڈی اے کو کیوں تبدیل کرنا ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر تبادلہ ضروری ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ سیکریٹری اسپیشلائزڈ کو تبدیل نہیں کرنا؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہمیں معلوم ہے کہ پریشر کہاں سے آ رہا ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ سر آپ کو معلوم ہے کہ میں پریشر نہیں لیتا ہوں۔

    ممبر ماحولیاتی کمیشن نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی۔ رپورٹ کے مطابق ایک اسکول میں درخت کاٹنے کی رپورٹ موصول ہوئی۔

    ممبر ماحولیاتی کمیشن نے بتایا کہ پی ایس ایل کے میچ ہو رہے ہیں جس کے باعث جنریٹر چلنے سے آلودگی پھیل رہی ہے۔ عدالت نے پوچھا کہ آپ ایکشن کیوں نہیں لے رہے ڈی جی ماحولیات کو کہیں، کیا سرٹیفائیڈ جنریٹر چل رہے ہیں یا نہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ آج ہی اس پر حکم دے رہے ہیں اس پر عمل درآمد کروائیں۔

  • توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    لاہور: قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف کی تفصیلات کا سیل شدہ ریکارڈ لاہور ہائیکورٹ میں پیش کر دیا گیا۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عاصم حفیظ نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی جہاں سیکشن افسر نے توشہ خانہ کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جس پر عدالت نے توشہ خانہ کے سربراہ کو 23 فروری کو بیان حلفی کے ساتھ طلب کر لیا۔

    ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد باجوہ نے بتایا کہ یہ ریکارڈ کلاسیفائیڈ ہے، عدالت چاہے تو کھول سکتی ہے، توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کرنے کے بارے میں آئندہ کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا جانا ہے اس پر عدالت نے کہا کہ سیل شدہ ریکارڈ ابھی نہیں کھول رہے۔

    درخواست گزارنے قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف کی تفصیلات اور جن اشخاص کو تحفے دیے گئے ان کی تفصیلات مانگ رکھی ہیں۔

  • جیل بھرو تحریک،شاہ محمود قریشی دیگر رہنماؤں اور دو سو کارکنوں کے ساتھ گرفتاری دیں گے، پنجاب حکومت نے بھی حکمتِ عملی طے کر لی

    جیل بھرو تحریک،شاہ محمود قریشی دیگر رہنماؤں اور دو سو کارکنوں کے ساتھ گرفتاری دیں گے، پنجاب حکومت نے بھی حکمتِ عملی طے کر لی

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف کی جیل بھرو تحریک آج لاہور سے شروع ہوگی-

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق جیل بھرو تحریک آج لاہور سے شروع ہوگی، جہاں شاہ محمود قریشی دیگر رہنماؤں اور دو سو کارکنوں کے ساتھ گرفتاری دیں گے پہلے مرحلے میں عمر سرفراز چیمہ، سینیٹر ولید اقبال، مراد راس کارکنوں کے ساتھ گرفتاریاں دیں گے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر لاہور پولیس نے گرفتار نہ کیا تو پھر ملتان سے گرفتاری دوں گا۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی خیبرپختونخوا نے بھی جیل بھرو تحریک کے تحت گرفتاریاں دینے کا شیڈول تیار کرلیا۔ جس کے تحت پہلے مرحلے میں چار سابق ارکان صوبائی اسمبلی، ایک ایم این اے اور 100 کارکنان گرفتاریاں دیں گے۔

    قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی جیل بھرو تحریک کے پہلے روز ہی گرفتاری دیں گے۔

    لاہور میں حماد اظہر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا تھا کہ جیل بھرو تحریک کا آغاز بائیس فروری سے ہوجائے گا، جس کے بعد سیکڑوں کارکن گرفتاریاں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی بھی رضاکارانہ طور پر گرفتاری پیش کریں گے پاکستان تحریک انصاف کی سینئر قیادت بھی جیل بھرو تحریک کے لیے مکمل تیار ہے۔

    حماد اظہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے ہم تیار ہیں، ہمارے امیدواروں نے قومی اسمبلی کی نشستوں پر ضمنی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جبکہ اپنا نگراں سیٹ اپ ہونے کے باوجود مسلم لیگ ن کے کسی بھی امیدوار نے کاغذات جمع نہیں کرائے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ عوام کیا حال کریں گے۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) کی جیل بھرو تحریک کے حوالے سے پنجاب حکومت نے بھی حکمتِ عملی طے کر لی-

    ذرائع پنجاب حکومت کے مطابق لاہور کی جیلوں میں مزید قیدیوں کی گنجائش نہیں ، اس لیے گرفتار شدگان کو میانوالی اور ڈیرہ غازی خان کی جیلوں میں منتقل کرنا پڑے گا۔

    ذرائع پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کو متحرک کر دیا گیا ہے،گرفتاری دینے والوں کے کرمنل ریکارڈ کے علاوہ ٹیکس اور بینک ریکارڈ کی بھی جانچ کی جائے گی اگر کوئی بدعنوانی یا کرمنل کیسز میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔

    اس کے علاوہ وفاقی وزیر داخلہ کی زیرِصدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جیل بھرو تحریک میں خواتین اور غریب کارکنوں کی گرفتاری سے گریز کیا جائے ۔

    وفاقی وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ دنیا کی پہلی جیل بھرو تحریک ہے جس کا آغاز لیڈر اپنی حفاظتی ضمانت سے کررہا ہے ۔

  • برصغیر کے عظیم انقلابی شاعر جوش ملیح آبادی

    برصغیر کے عظیم انقلابی شاعر جوش ملیح آبادی

    برصغیر کے عظیم انقلابی شاعر، شاعر انقلاب کے طور پر معروف

    جوش ملیح آبادی

    اصلی نام :شبیر احمد حسن خاں

    پیدائش : ۵ دسمبر، ۱۸۹۸| ملیح آباد, اتر پردیش

    وفات :۲۲ فروری، ۱۹۸۲ | اسلام آباد, پاکستان

    برصغیر کے عظیم انقلابی شاعر اور مرثیہ گو جوش ملیح آبادی ان کاخاندانی نام شبیر احمد خاں تھا۔ جسے بعد میں بدل کر شبیر حسن خاں کر دیا گیا تھا۔ ان کی پیدائش ۵ دسمبر۱۸۹۸ کو ملیح آباد کے ایک متمول خاندان میں ہوئی تھی۔ ان کے والد بشیر احمد خاں بشیر بھی شاعر تھے اور داد انواب احمد خاں کا بھی شاعری سے تعلق تھا۔ اس کے علاوہ ان کے پر دادا نواب فقیر محمد خاں صاحب دیوان شاعر تھے۔ ان کے خاندان میں خواتین شاعرات بھی موجو د تھیں۔

    جوش کی دادی بیگم نواب محمد احمد خاں مرزا غالب کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس طرح جوش کو شاعری ورثے میں ملی تھی جوش نے نو برس کی عمر میں پہلا شعر کہا ابتدا میں عزیز لکھنوی سے اصلاحِ سخن لی پھر یہ سلسلہ منقطع ہوگیا اور خود اپنی طبیعت کو رہنما بنایا عربی کی تعلیم مرزا ہادی رسوا سے اور فارسی اور اردو کی تعلیم مولانا قدرت بیگ ملیح آبادی سے حاصل کی۔انہوں نے ۱۹۱۴ء میں آگرہ سینٹ پیٹرز کالج سے سینئر کیمرج کا امتحان پاس کیا۔

    جوش ملیح آبادی انقلاب اور آزادی کا جذبہ رکھنے والے روایت شکن شاعر تھے انہوں نے ۱۹۲۵ء میں عثمانیہ یونیورسٹی میں مترجم کے طور پر کام شروع کیا اور کلیم کے نام سے ایک رسالے کا آغاز کیا اور اسی دوران شاعر ِانقلاب کے لقب سے مشہور ہوئے تقسیمِ ہند کے چند برسوں بعد ہجرت کرکے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کرلی جوش نہ صرف اردو میں ید طولیٰ تھے بلکہ عربی، فارسی، ہندی اورانگریزی پربھی دسترس رکھتے تھے۔

    اپنی انہیں خداداد لسانی صلاحیتوں کے باعث انہوں نے قومی اردو لغت کی ترتیب و تالیف میں بھرپورعلمی معاونت کی جوش ملیح آبادی کثیر التصانیف شاعر و مصنف ہیں۔ ان کی تصانیف میں نثری مجموعہ ’یادوں کی بارات‘،’مقالاتِ جوش‘، ’دیوان جوش‘اور شعری مجموعوں میں جوش کے مرثیے’طلوع فکر‘،’جوش کے سو شعر‘،’نقش و نگار‘ اور’شعلہ و شبنم‘ کو لازوال شہرت ملی ۲۲ فروری ۱۹۸۲ء کو جوش نے اسلام آباد میں وفات پائی اور وہیں آسودہ خاک ہوئے۔ ان کی تاریخ وفات معروف عالم اورشاعر نصیر ترابی نے ان کے اس مصرع سے نکالی تھی۔

    میں شاعرِآخرالزماں ہوں اے جوش

    شاعر آخرالزماں جوش ملیح آبادی کا یوم وفات پر ان کے کچھ منتخب اشعار بطور خراج عقیدت. آپ سے بھی گزراش ہے کہ ان کا ایک شعر کمنٹ کر کے خراج عقیدت پیش کریں۔۔۔

    🌸انتخاب و پیشکش۔۔۔۔لکی آرزو🌸

    *کام ہے میرا تغیر نام ہے میرا شباب
    میرا نعرہ انقلاب و انقلاب و انقلاب*
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا
    جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ایک دن کہہ لیجیے جو کچھ ہے دل میں آپ کے
    ایک دن سن لیجیے جو کچھ ہمارے دل میں ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اس دل میں ترے حسن کی وہ جلوہ گری ہے
    جو دیکھے ہے کہتا ہے کہ شیشے میں پری ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہم گئے تھے اس سے کرنے شکوۂ درد فراق
    مسکرا کر اس نے دیکھا سب گلہ جاتا رہا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہاں آسمان اپنی بلندی سے ہوشیار
    اب سر اٹھا رہے ہیں کسی آستاں سے ہم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اب تک نہ خبر تھی مجھے اجڑے ہوئے گھر کی
    وہ آئے تو گھر بے سر و ساماں نظر آیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    صرف اتنے کے لیے آنکھیں ہمیں بخشی گئیں
    دیکھیے دنیا کے منظر اور بہ عبرت دیکھیے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ایک کانٹے پہ سرخ کرنیں ہر اک کلی میں چراغ روشن
    خیال میں مسکرانے والے ترا تبسم کہاں نہیں ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    پہچان گیا سیلاب ہے اس کے سینے میں ارمانوں کا
    دیکھا جو سفینے کو میرے جی چھوٹ گیا طوفانوں کا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اک نہ اک ظلمت سے جب وابستہ رہنا ہے تو جوش
    زندگی پر سایۂ زلف پریشاں کیوں نہ ہو
    ۔۔۔۔۔۔۔
    شباب رفتہ کے قدم کی چاپ سن رہا ہوں میں
    ندیم عہد شوق کی سنائے جا کہانیاں.

  • پیرس کی منفرد شاعرہ ممتاز ملک

    پیرس کی منفرد شاعرہ ممتاز ملک

    کتنے ہنگامے تھے وابستہ اسی کے دم سے
    وہ جو چپ چاپ میرے شہر سے جانے والا

    ممتازملک

    پیرس کی منفرد شاعرہ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اور کالم نگار : ممتاز ملک
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سلمیٰ صنم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نام ممتاز ملک، تخلص ممتاز ہے۔ 22 فروری کو روالپنڈی پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ان کے والد ملک خالد لطیف کا تعلق پنجابی قطب شاہی اعوان ( ملک) سے اور والدہ خورشید بیگم کا تعلق پختون قبیلے سے تھا۔ممتاز ملک نے گورنمنٹ گرلز آہی اسکول، مری روڈ روالپنڈی سے میٹرک کیا اور پھر ایف ایے اور بی آئی کی ڈگری پرائیوٹ طور حاصل پر کی۔

    اپنے حالات زندگی کے بارے میں وہ یوں لکھتی ہیں ”میں 4 بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی ۔ 5 بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر ہوں ۔ میری پیدائش کے لیے کوئی منت نہیں مانی گئی ۔ نہ ہی کوئی خوشی منائی گئی کیونکہ میرے والد صاحب جو ( ذات سے قطب شاہی اعوان۔ ملک خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اپنی 5 پھوپھیوں اور 5 بہنوں والے گھر میں بیٹیوں سے بہت زیادہ ہونے والی محبت سے خائف رہا کرتے تھے۔ ان سب کی محبتوں کا قرض میں نے اپنے والد صاحب کی نفرت کا بوجھ اٹھا کر چکایا۔

    میری والدہ 16 سال کہ عمر میں بیاہ کر آئیں۔ (ان کا تعلق پختون قبیلے آشاخیل سے تھا) ان کے لیئے ان پڑھ لیکن بیحد حسین ہونے کے ساتھ ایک نئی قوم قبیلے اور زبان میں داخلہ خود ایک صبر آزما مرحلہ تھا وہاں وہ بیٹی کی پیدائش کو اتنا بڑا امتحان سمجھتی تھیں کہ میری پیدائش پر وہ خوب روئیں اور خدا سے آئندہ مذید کسی بھی بیٹی کی پیدائش سے معافی مانگ لی کہ اتنے سارے امتحانات میں ایک ایسے انسان کی بیٹیاں نہ دینا جو اس سے بیزار ہو۔میرا گھر میرے لئے ایک۔قید۔خانہ تھا اور میں 24گھنٹے کی بے تنخواہ ملازمہ جس کی اجرت تھی 3وقت کا کھانا اور سال کے 3 جوڑے کپڑے میرے والد صاحب اعلیٰ پائے کے میکنک تھے۔ اپنے کام میں ان کا کوئی جوڑ نہیں تھا ۔

    گھر سے باہر وہ ایک مہربان ترین انسان تھے۔ اور گھر میں ان کے آتے ہیں ہم بہن بھائی چھپنے کے لیے کونے کھدرے تلاش کیا کرتے تھے۔ اس ڈر سے کہ جانے کب کس بہانے آج ہمیں پانی بھرنے والے پلاسٹک کے پائپ سے یا بیلٹ سے مار کھانی پڑ جائے ۔

    میری شادی 07 جنوری 1996ء 15 شعبان المعظم کو بروز اتوار لاہور سے تعلق رکھنے والے شیخ محمد اختر صاحب کےساتھ ہوئی جو پاکستان سے ایف ایس سی پاس کرتے ہی لڑکوں کے گروپ کے ساتھ فرانس چلے گئے تھے۔ وہیں کچھ زبان سیکھی مختلف جابز کیں۔ 1980 سے پیرس میں مقیم تھے۔ سیلز مین بھی رہے اپنا اوپن بازار میں (جسے فرنچ میں مارشا کہتے ہیں) کھلے کپڑے کا کاروبار کیا۔ کچھ عرصہ ایک دوست کے ساتھ مل کر اطالیہ (درزی خانہ) بھی چلایا ۔ پھر اپنی بوتیک بنائی۔ آج کل ایک الیکٹرونکس ڈپو پر جاب کرتے ہیں ۔

    الحمد اللہ وہ بہت اچھے اور مددگار انسان ہیں ۔ میں آج جو کچھ ہوں اپنے شوہر کی ہی حوصلہ افزائی کے سبب ہوں ۔ لکھنے کا باقاعدہ آغاز 2008 میں کیا مگر بچپن سے ہی وہ کچھ نہ کچھ لکھتی رہتی تھیں۔ اپنے لکھاری بننے کے تعلق سے وہ یوں رقم طراز ہیں :

    ” فنکار، شاعر، لکھاری، مصور سب پیدائش ہوتے ہیں ان کی صلاحیتوں کو زیادہ سےزیادہ پالش کرکے نکھارا جاسکتا ہے انھیں بنایا نہیں جاسکتا۔ میں بھی پیدائشی شاعرہ ہوں۔ قافیہ ردیف کی سمجھ میری فطرت میں گوندھی گئی تھی میں نے کسی سے شاعری نہیں سیکھی۔ بچپن میں کورس کی کتابیں خریدتے ہی دو تین روز میں ہی ساری پڑھ لیا کرتی تھی۔ صرف یہ ہی ہوتا تھا ذہن میں کہ اس میں نیا کیا لکھا ہے۔ یوں جو کتاب سامنے آتی اچھا برا، بڑوں کا چھوٹوں کا کوئی بھی موضوع ہوتا بلالحاظ و تفریق پڑھنے بیٹھ جاتی تھی ۔ اسی مطالعے نے مجھے بولنے کے لیئے الفاظ کا ذخیرہ عطا کر دیا۔

    جو بعد میں میرے قلم کی سیاہی بن گیا لیکن میں اپنے سکول کے دنوں میں انتہائی شرمیلی سی شرارتی بچی ہوا کرتی تھی ۔ جو کسی کے بھی اپنی جانب متوجہ ہونے پر گھبرا جایا کرتی تھی ۔ اس لیئے اپنی کوئی تحریر کسی کو سنانے کی کبھی جرات نہیں ہوئی ۔ نہ ہی کبھی چھپوانے کا سوچا ۔ ابو جی بھی بہت سخت مزاج تھے ۔ حالانکہ ان کو شاعری کا خوب شعور تھا۔ان کا شعری ذوق اور میوزک کولکیشن شاندار تھا بس مجھے پڑھنے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ بقول انکے میں لڑکی تھی اور لڑکیاں پڑھ لکھ کر ماں باپ کا منہ کالا کرواتی ہیں ۔ ہمارے گھر میں تو رسالوں کا داخلہ ممنوع تھا ۔

    میری کتابیں پھاڑ دی جاتی تھیں ۔ کتابیں پڑھنے پر خوب مار کھانا پڑتی تھی۔ کسی سے ملنے کیا دروازے پر جانے تک کی اجازت نہ تھی ۔ وہاں شاعری کا نام لینا کیسے ممکن پوتا ۔ اس لئے لکھنے کا یہ شوق دل ہی میں کہیں دفن رہا ۔ ان تحریروں کو سنبھالنے کا خیال بھی تب ہوتا جب وہ مجھے خود بھی اہم لگتا اور یقین ہوتا کہ میں انہیں کبھی کہیں شائع کروا پاونگی ۔ لیکن یہ جراثیم تب سے ہی مجھ میں موجود رہے ۔
    پھر زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب مجھے لگا ایک ایک بندے کے ساتھ کھپ کھپ کے اور اس کے ساتھ بحث کر کے اسے کسی بات پر قائل کرنے سے کہیں اچھا ہے کہ میں اسے لکھ کر ہزاروں لوگوں کے سامنے بیک جنبش قلم پیش کر دیا کروں ۔ کچھ لوگ مخالف ہوں گے تو وہ اس پر سوچیں گے ۔ اور جو اس بات کے حامی ہونگے وہ اسے مزید آگے بڑھائینگے ۔

    سو جناب 2008ء میں ایک مذہبی ادارے کی جنرل سیکٹری منتخب ہونے کے بعد مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ یہ مائیک کسقدر اہم ہے جسے لوگ مفاد پرستی اور منافقت کے لیئے استعمال کرتے ہیں جبکہ اسے بہت پاورفل انداز میں مثبت تبدیلیوں کے لیئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ سو میں نے بطور جنرل سیکٹڑی کیساتھ سٹیج سیکٹری کی ذمہ داری بھی سنبھال لی ۔ تین گھنٹے کا پروگرام مکمل مطالعے کے تحت کسی ایک ہی موضوع پر ہوتا ۔ جس میں اس موضوع پر آیات و احادیث و واقعات تجربات ،مشاہدات سبھی کچھ شامل ہوتا تھا ۔ جس کے لیئے میں ایک یا دو پروگرامز کے لیئے سارا مہینہ دیوانہ وار تیاری کیا کرتی تھی۔ بس یہ سمجھیں وہ میرا لکھاری بننے کی جانب ایک بڑا بھرپور اور یقینی قدم تھا ۔

    لکھنے کاباقاعدہ آغاز 2008 ء ہی میں ہوا۔ پہلے تخلیقات 2010ء سے تک صرف میرے دوستوں کی محفل تک ہی پہنچتی تھیں ۔ انہیں کے ذریعے جب پیرس میں فیض احمد فیض کے یوم پیدائش کی صدسالہ تقریبات کا پروگرام ہوا تو کہیں میرا ذکر بھی کسی کی زبانی ہوا تو ادبی تنظیم ” قلم قافلہ” نے میرا نمبر ڈھونڈ کر مجھے بارسلونا ریڈیو پر اپنا کلام پیش کرنے اور گفتگو کے لیئے مدعو کیا ۔ یوں یہ راز سر عام آ گیا کہ سنا ہے پیرس میں ممتازملک بھی کوئی خاتون ہے جو شعر کہا کرتی ہے یوں دوستوں نے مجھے راہ ادب میں دھکا دیدیا اور حکم ہوا کہ چلو جی کتاب لاو ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔

    وہ مانتی ہیں کہ ہر لکھنے والا ان کا استاد ہے ۔کلاسیک شعراء میں انہیں اقبال اور غالب پسندہیں ان کے علاوہ انہیں حبیب جالب۔ محسن نقوی۔ فراز ۔ منیر نیازی کی شاعری بہت اچھی لگتی ہے۔ان کے بارے میں وہ لکھتی ہیں “شاعری تو ہم سب نے ہی پڑھ رکھی ہے اور پسند بھی کرتے ہیں ۔ لیکن مجھے خصوصا جن کے کلام نے ہمیشہ ہی متاثر کیا ہے ان میں حبیب جالب روایت شکن اور انقلابی نظریات لیئے ہوئے ہیں تو محسن نقوی سچ کا آئینہ یوں دکھاتے ہیں کہ دیکھنے والا اپنے عکس سے بھی انجان لگتا ہے ،منیر نیازی جب لفظوں کی مالا پروتے ہیں تو پڑھنے والا ملنگ ہو ہی جاتا ہے ۔

    اشفاق احمد کی زندگی کے تجربات ہمیں روشنی کا مینارہ دکھاتے ہیں ۔ تو مشتاق احمد یوسفی اور یونس بٹ کی تحریروں سے تھکی ہوئی زندگی کے اندھیرے میں ڈسکو لائٹس کا سواد آ جاتا ہے ۔ یہ سب مجھے متاثر کرتے ہیں ۔ اور مجھے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ میں ان کے ساتھ ایک ہی دور میں موجود ہوں اور ہمیشہ گنی جاونگی ۔

    عصر حاضر کے شعراء میں امجد اسلام امجد صاحب اور شہناز مزمل ،رقیہ غزل ، نیلما ناہید درانی ان کے پسندیدہ شاعر و شاعرات ہیں۔ شعر گوئی ان کے نزدیک قلبی واردات سے مشروط ہے ۔وہ سمجھتی ہیں کہ جو بات آپ کے دل تک نہیں پہنچتی آپ کی روح کو نہیں جھنجھوڑتی وہ کسی اور پرکوئی اثر نہیں چھوڑے گی ۔بقول ان کے۔ پیغمبر پر وحی خدا کی دین ہے تو شاعر پر شعر اللہ کی عطاء ہے ۔ وہ چاہے تو آپ کے دل کو حساسیت کے ساتھ الفاظ کی ترتیب و ترنم عطاء فرمادیگا۔وہ نہ دے تو کوئی شعر کوئی نغمہ ترتیب نہیں پا سکتا ۔

    وہ شاعری کے علاوہ کالم بھی لکھتی ہیں شروع سے ہی شاعری اور نثر نگاری ان کے ساتھ ساتھ چل رہی ہےاس طرح انہیں شاعری اور نثر نگاری دونوں ہی پسند ہیں ۔ کیونکہ بقول ان کےجو باتیں قافیئے اور ردیف کی بندش نہ سہہ پائیں اور پنچرہ توڑ کر الفاظ کے پنکھ لگا لیں تو نثر کی صورت اڑان بھرنے لگتی ہیں ۔ اور اڑتے پرندے کسے اچھے نہیں لگتے-

    ان کے مشاغل ہیں مطالعہ کرنا ، لکھنا ، فلاور میکنگ، ہوم ڈیکوریشن، ڈرائنگ ، سکیچنگ ، ککنگ، سوشل ورک، مقررہ، ٹیچنگ۔اوران کی مصروفیات ہیں نعت خوانی ، شاعری، کالم نگاری ، لکھاری، ٹی وی ہوسٹنگ ، اصلاحی و تربیتی لیکچرز دینا ، بلاگر ، کوٹیشنز رائیٹر ، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ وغیرہ ۔

    وہ فرانس میں پہلے پاکستانی ویب ٹی وی / Ondesi tv پر پروگرام “انداز فکر” کی میزبان و لکھاری ہیں جس کی 29 (انتیس) کے قریب اقساط یوٹیوب پر بھی موجود ہیں ۔وہ اردو کے علاوہ پنجابی زبان میں بھی لکھتی ہیں ۔اب تک ان کی پانچ کتابیں شائع ہو چکی ہیں-
    ۔ (1)” مدت ہوئی عورت ہوئے “
    شعری مجموعہ(2011ء)
    ۔ (2)”میرے دل کا قلندر بولے “
    شعری مجموعہ(2014ء)
    ۔ (3)”سچ تو یہ ہے“
    کالمز کا مجموعہ(2016ء)
    ۔ (4)” اے شہہ محترم صلی اللہ علیہ وسلم “
    نعتیہ مجموعہ( 2019 ء)
    ۔ (5)”سراب دنیا“
    شعری مجموعہ کلام (2020ء)
    پانچ کتابیں زیر طبع کتب ہیں
    ۔ (1)پنجابی شعری مجموعہ کلام
    ۔ (2)نظموں کا مجموعہ
    ۔ (3)شاعری کا مجموعہ
    ۔ (4)کالمز کا مجموعہ
    ۔ (5)کوٹیشنز کا مجموعہ
    ۔ بنام ” چھوٹی چھوٹی باتیں ”
    وہ فرانس میں پہلی پاکستانی نسائی ادبی تنظیم “راہ ادب” کی بانی اور صدرہیں۔ ان کی کتابوں پر انھیں کئی اعزازات اورانعامات سے نوازا گیا ہے۔
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان کی کتاب “سراب دنیا” پر ایک ایم فل کا مقالہ طالب علم نوید عمر (سیشن 2018ء تا 2020ء) صوابی یونیورسٹی پاکستان سے لکھ چکے ہیں ۔
    انعامات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)دھن چوراسی ایوارڈ
    چکوال پریس کلب 2015ء/
    ۔ (2)حرا فاونڈیشن شیلڈ 2017ء/
    ۔ (3)کاروان حوا اعزازی شیلڈ 2019ء/
    ۔ (4)دیار خان فاونڈیشن شیلڈ 2019ء/
    ۔ (5)عاشق رندھاوی ایوارڈ 2020ء/
    اور بہت سے دیگر اسناد۔۔۔۔
    ☆تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)مدت ہوئی عورت ہوئے
    ۔ شعری مجموعۂ کلام-(2011ء)
    ۔ (2)میرے دل کا قلندر بولے
    ۔ شعری مجموعۂ کلام-( 2014ء)
    ۔ (3)سچ تو یہ ہے
    ۔ مجموعہ مضامین (2016ء)
    ۔ (4) اے شہہِ محترم (صلی اللہ علیہ وسلم)
    ۔ نعتیہ مجموعہ کلام ( 2019ء)
    ۔ (5) سراب دنیا۔
    ۔ شعری مجموعہ کلام ( 2020ء )
    زیر طبع کتب۔5
    ☆آغازِ تحریر: 1998ء سے
    ☆پتا:79 avenue de Rosny
    ۔ 93250 Villemomble
    ۔ France

    ۔۔۔۔۔۔
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    میری کتاب سراب دنیا پر ایک ایم فل کا مقالہ ۔ طالب علم نوید عمر (سیشن 2018ء تا 2020ء) صوابی یونیورسٹی پاکستان سے لکھ چکے ہیں ۔

    وہ سماجی اور اخلاقی موضوعات پر لکھنا زیادہ پسند کرتی ہیں ۔ ہم انہیں معاشرتی اور گھریلو مسائل پر بات کرتے ہوئے زیادہ پائیں گے ۔ کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ ہر گھر معاشرے کی ایک بنیادی اکائی ہے اور جب بہت ساری اکائیاں اکٹھی ہوتی ہیں تو ہی کوئی معاشرہ تشکیل پاتا یے ۔ اور وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھ کر اپنے معاشرے کی خرابیوں کی نشاندہی کرتے رہنا اور اس کی اصلاح کے لیئے تجاویز پیش کرتے رہنا ہی ایک اچھے لکھاری اور کالم نگار کی ذمہ داری ہے ۔ جسے وہ پورا کرنے کی کوشش کررہی ہیں ۔ اسی سلسلے میں ان کی گھریلو مسائل پر لکھی گئی تحاریر اور بچوں کی پرورش اور بڑھتی عمر کیساتھ ان کے مسائل پر لکھی گئی تحاریر ان کے دل سے بہت ذیادہ قریب ہیں ۔ جیسے کہ “بچے ،بچپن اور تحمل” ۔ “پاس نہیں قریب رہو “۔ “مائیں بور نسلیں تباہ” ۔ “گھروں کو گھر ہی رہنے دیں” ۔ اور بہت سے دوسرے کالمز بقول ان کے ان کی دل کی آواز ہیں ۔

    ان کے کالمز چالیس (40) سے زیادہ ویب سائٹس اخبارات میں شائع ہوتے ہیں جیسے جنگ اوورسیز ۔آزاد جائزہ ، ڈیلی میزبان ، عالمی اخبار وغیرہ ۔
    رقیہ غزل ان کے بارے میں لکھتی ہیں:
    ”ممتاز ملک صاحبہ فن شعر گوئی میں اپنے منفرد لہجے اور اسلوب کی بدولت نمایاں مقام رکھتی ہیں ۔ ۔ویسے بھی نسوانی جذبات کا اظہار ایک عورت سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا کیونکہ وہ عملاً ان تجربات سے گزرتی ہے اس لیے کسی بھی عورت نے جب قلم اٹھایا تو عورت کی بے توقیری ، جذبوں کی پامالی ،مرد کی بے وفائی کے دکھ کو اپنا موضوع سخن بنایا ہے ممتاز ملک رہتی پیرس میں ہیں مگر ان کا کلام اور کالم ان کے پاکستان میں ہونے کا احساس دلاتے ہیں ۔

    ممتاز ملک کی شخصیت کا احاطہ تو بہت مشکل ہے کیونکہ وقار و تمکنت ان کا خاصہ اور شائستگی انکی فطرت کا حصہ ہے وہ لفظوں سے کھیلنا خوب جانتی ہیں ۔جہاں ان کے لفظوں کی کاٹ قاری کو بڑھکاتی ہے وہاں رم جھم سے گنگناتے ہوئے اشعار ذہنوں پر مثبت اور روحانی سکون چھوڑتے ہیں ۔ انسان بہتے پانیوں کی طرح ان کے سحر انگیز کلام کے زیر اثر شعری تصور کی رو میں بہتا چلا جاتا ہے ۔اور یوں ایک قاری اور سامع ان کا کلام دل و دماغ میں یوں اٹھا ئے پھرتا ہے جیسے وہ کوئی جاگیر لئے پھرتا ہے کیونکہ ان کا اندازواقعی دلپذیر ہے ۔ممتاز ملک کا شمار ایسے قلمکاروں میں ہوتا ہے جو اپنے محسوسات ،مشاہدات اور عملی تجربات کو دوسروں تک پہنچانے کا فن جانتی ہیں ۔انھوں نے نہایت سادہ اور عام فہم انداز بیان کو اختیار کر کے مختلف مگر بے شمار موضوعات پر طبع آزمائی فرمائی ہے جو کہ قابل داد ہے” ۔

    عاشق حسین رندھاوی ان کی نعت گوئ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
    ”نعت گوئی اہلِ ایمان اور مذہب اسلام سے وابستہ لوگوں کا ایک فکری اور دلی عقیدت نامہ اور اصناف سخن کا سب سے اعلیٰ اور پاکیزہ حصہ ہے ۔ مگر یہ جس قدر سعادت وخوش بختی بلکہ آپ ﷺ سے بے پناہ عقیدت ومحبت کی دلیل ہے وہیں سب سے مشکل ،دشوار گزار اور بال سے زیادہ باریک راستہ ہے ۔ نعت کا موضوع جتنا اہم ،دل آویز اور شوق انگیز ہے اتنا ہی اس موضوع پر قلم اٹھانا پل صراط پر چلنے کے مترادف ہے ۔خود شعر و ادب کی تخلیق کوئی کسبی چیز نہیں کہ جس کے مخصوص اوزان وبحور کو رٹ کر کچھ طبع آزمائی کرلی جائے ، بلکہ یہ ایک انعامِ الٰہی ہے جو خالقِ کائنات کی جانب سے بعض مخصوص بندوں ہی کو عطا کیا جاتا ہے۔

    ان ہی چند لوگوں میں سے ممتاز ملک بھی ہیں جو علمی و ادبی حلقوں میں شاید بہت زیادہ معروف نہیں ہیں ۔ لیکن انہیں نعت کہنے کا سلیقہ آتا ہے اور انہوں نے کچھ اس انداز سے اپنے خیالات کو شعروں میں ڈھالا ہے کہ ان کے اشعار سن کر دل جھوم اٹھتا ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ وہ آنے والے دور کی بہت معروف اور پختہ شاعرہ بن کر سامنے آئیں گی ۔ ان کے اشعار سننے کے بعد میرا پہلا تاثر تھا کہ محترمہ نے اگر کچھ اور نہ بھی کہا ہوتا تو بھی یہ نعت انہیں ادب میں زندہ رکھنے کے لئے کافی تھی ۔ ان کی لکھی نعت کےچند اشعار خدمت ہیں :
    دیارِ نبی کا ارادہ کیا ہے
    کہ خود سے ہی ہم نے یہ وعدہ کیا ہے

    سجائیں گے صحنِ حرم آنسوؤں سے
    تو مانگیں گے ان کا کرم آنسوؤں سے

    وہ رکھیں گے اپنا بھرم آنسوؤں سے
    انھیں سب بتائیں اعادہ کیا ہے
    ان اشعار میں محترمہ ممتاز ملک صاحبہ نے اپنا عقیدہ بہت ہی خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے اور تخیل کا یہ عالم ہے کہ عام انسان بھی ان کے اشعار کو پڑھ کر مدینے کی گلیوں میں سیر کرنے لگتا ہے ۔دعاہے اللہ تعالیٰ ان کے تخیل کو اور بھی پختہ اور بلند کرے”
    ایاز محمود ایاز ان کی نعت گوئی پر یوں رقم طراز ہیں

    ”ان کا نعتیہ مجموعہ کلام ۔۔ اے شہہ محترم صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔اپنے نبی کریم ﷺ سے عشق ہے۔ محترمہ ممتاز ملک صاحبہ کے حصے میں وہ سعادت آئی جو بڑے بڑے شعراء کو نصیب نہیں ہوتی ۔ میں سمجھتا ہوں نعت لکھی نہیں جاتی لکھوائی جاتی ہے جس پہ نبی کریمﷺ کی نظرِ خاص اور خصوصی کرم ہو وہ ہی نعت لکھ سکتا ہے۔ ممتاز ملک صاحبہ نے جہاں نبی کریم ﷺ سے اپنے عشق کو اپنا موضوع سخن بنایا وہیں انہوں نے بڑی خوبصورتی سے نبی کریم ﷺ کی اسوہ حسنہ کو بھی موضوع بنایا ممتاز ملک صاحبہ کے لئے دعا گو ہوں کہ آپکا یہ ہدیہ نعت آپ کی بخشش کا سبب ہو اور آپکی عقیدتوں کا یہ سفر ہمیشہ اسی طرح جاری رہے” ۔ آمین
    پیش خدمت ہے ان کا نمونہ کلام

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وہ شب و روز میرے ساتھ بتانے والا
    اب بھی ملتا ہے مگر حال زمانے والا
    جب ضرورت ہو مجھے یاد بھی کر لیتا ہے
    بن ضرورت کے نہیں وقت گنوانے والا
    مجھ سا بیکار نہیں ہے یہ مجھے علم نہ تھا
    ورنہ ہوتا نہ گلہ اس سے ستانے والا
    جانے والے کو برا کہتے نہیں لوگ کہیں
    خوش رہے مجھ پہ وہ الزام لگانے والا
    کتنے ہنگامے تھے وابستہ اسی کے دم سے
    وہ جوچپ چاپ میرے شہر سےجانے والا
    اس کو نسیان عجب طرز کا لاحق ہے سنا
    یاد رہتا نہیں پیمان نبھانے والا
    حال اپنا نہ کھلا اس پہ وگرنہ ممتاز
    وہ تو ریکھاوں سے تھا راز چرانے والا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔
    :ہوش والوں نے کیا نیلام جسکو
    ایک دیوانے نے اسکی لاج رکھ لی
    بے بیخودی تھی یا ندامت کیا خبر
    کل جو رکھ پایا نہیں وہ آج رکھ لی
    دوسروں کو بانٹ کے سارے تفاخر
    اپنے حصے کی خودی محتاج رکھ لی
    دفن کی اس نے محبت دھوم سے اور
    مسکرا کر اک عمارت تاج رکھ لی
    شیر و مکھن میں نہ تھا حصہ کوئی
    میری خاطر ماں نے لیکن چھاج رکھ لی
    چاک تھے جتنے گریباں سی لیئے ہیں
    اس طرح سے صبر کی معراج رکھ لی
    ہے محض ممتاز دھوکہ سوچ کا تو
    اک غلامی تھی بنام راج رکھ لی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تم گواہ ہو میری ہر سمت سفر کے سچے
    اے میرے پاوں کے چھالو مجھے پیارے تم ہو
    جانا چاہو تو چلے جاو میری دنیا سے
    اے میرے چاہنے والو مجھے پیارے تم ہو
    ہر گھڑی جس میں کوئی غم ہی گھلا ہے واللہ
    خوب شفاف ہو پیالو مجھے پیارے تم ہو
    میں جو سامان جہاں میں ہوں مقید ایسے
    قید سے مجھکو نکالو مجھے پیارے تم ہو
    آسمانوں سے گرا کر مجھے پاتالوں میں
    میرے ٹکڑے نہ سنبھالو مجھے پیارے تم ہو
    جس طرح زخم دیئے تم نے زباں سے اپنی
    جان سے مار ہی ڈالو مجھے پیارے تم ہو
    ہاتھ جل جائے نہ تن من تو جلا ہے پہلے
    یوں نہ انگار اچھالو مجھے پیارے تم ہو
    وقت رخصت کی سمجھ لو اسے دنیاداری
    مجھ کو سینے سے لگا لو مجھے پیارے تم ہو
    اب تو ممتاز جلن سانس کا حصہ ٹہری
    اور بھی چاہے جلا لو مجھے پیارے تم ہو

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    ”ماں کے ہاتھوں کا دیا“
    ۔۔۔۔۔۔۔
    میں اپنی ماں کے
    حسین ہاتھوں کا وہ دیا ہوں
    وہ جس کی مدھم سی روشنی میں
    ہر ایک شئے کو تلاشتی تھی
    وہ اس کی کھوئی ہوئی سوئ ہو
    یا اس کے گم کردہ خواب ہوں پھر
    نہ صرف وہ کھوجتی تھی ان کو
    بڑے یقیں سے وہ پا بھی لیتی
    کبھی جو باد ستم چلی تو
    وہ اپنا ہاتھ
    اس کی لو پہ رکھ کر
    بنا کے چھجا بچا بھی لیتی
    کبھی کبھی اس کی حدتوں سے
    وہ ہاتھ اپنا جلا بھی لیتی
    مگر محبت کی روشنی کو
    وہ اپنا مقصد سمجھ چکی تھی
    کہ یہ ہی ممتاز روشنی تھی
    یہ روشنی اس کی زندگی تھی

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    ”حد نگاہ“
    ۔۔۔۔۔۔
    یہاں سے سورج غروب ہوتا
    جو میں نے دیکھا
    وہاں سے لیکن
    اسی گھڑی میں
    طلوع صبح کی نوید
    اس نے مجھے سنائی
    نہ میں غلط تھی
    نہ وہ غلط تھے
    نہ کذب میرا
    نہ جھوٹ اس کا
    بس اپنے اپنے تھے یہ مناظر
    بس اپنے اپنے یہ فاصلے تھے

  • چوہدری پرویز الٰہی کو ق لیگ سےنکال دیا گیا

    چوہدری پرویز الٰہی کو ق لیگ سےنکال دیا گیا

    لاہور:سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو ق لیگ سے نکال دیا گیا۔مسلم لیگ ق نے چوہدری پرویز الٰہی کی پارٹی رکنیت ختم کرتے ہوئے انہیں عہدے سے برخاست کردیا۔

    ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے 16 جنوری کو چوہدری پرویز الٰہی کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جبکہ انہیں 26 جنوری کو لاہور میں غیرآئینی اجلاس بلانے پر بھی نوٹس دیا گیا تھا۔چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے نوٹسز کا جواب نہ دینے پر ان کی پارٹی رکنیت ختم کرتے ہوئے انہیں تمام عہدوں سے برخاست کردیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے مقرر کردہ تمام پارٹی عہدے بھی واپس لے گئے ہیں۔چوہدری شجاعت حسین کی جانب سے لکھے گئے خط کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی آئندہ مسلم لیگ ق کا نام استعمال نہیں کرسکیں گے۔پارٹی ترجمان مصطفیٰ ملک نے چوہدری پرویز الٰہی کی پارٹی رکنیت ختم کرنے کی تصدیق کردی۔

    دوسری جانب ق لیگ کے رہنما چوہدری شافع حسین کا کہنا تھاکہ پرویزالٰہی مسلم لیگ ق کے پلیٹ فارم سے پی ٹی آئی میں ضم نہیں ہو سکتے کیونکہ چوہدری شجاعت مسلم لیگ ق کے سربراہ ہیں، وہی فیصلہ کرسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ پرویزالٰہی سمیت کسی نے پی ٹی آئی میں شامل ہونا ہے تو ق لیگ سے استعفیٰ دے کر شامل ہونا ہو گا۔

    انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ق کے پلیٹ فارم سے پی ٹی آئی سے ڈیل کی گئی تویہ غیرقانونی اورغیراخلاقی ہو گا۔خیال رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور پرویزالٰہی کے درمیان آج اہم ملاقات ہونی ہے جس میں مسلم لیگ ق کوپی ٹی آئی میں ضم کرنے کے حوالے سے فیصلے کا امکان ہے۔

  • عمران خان کے بھانجے سمیت 20 پی ٹی آئی کارکنوں پر پولیس اہلکاروں پر تشدد اور اسلحہ چھیننے کا مقدمہ درج

    عمران خان کے بھانجے سمیت 20 پی ٹی آئی کارکنوں پر پولیس اہلکاروں پر تشدد اور اسلحہ چھیننے کا مقدمہ درج

    لاہور: سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے بھانجے سمیت پی ٹی آئی کارکنوں پر پولیس اہلکاروں پر تشدد اور اسلحہ چھیننے کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گزشتہ روز ہائیکورٹ میں پیشی پر سپیشل برانچ کے اہلکاروں پر تشدد اور اسلحہ چھینے کا مقدمہ درج،5 نامزد 15 نامعلوم افراد،حسان نیازی،احمد خان نیازی،عمران خان کے تین گارڈز کے خلاف ڈکیتی سمیت 6 دفعات کا مقدمہ درج کیا گیا ہے-

    ملزمان کے خلاف ریس کورس تھانہ میں مقدمہ درج کیا گیا ہےمقدمہ اہلکار جہانزیب سہیل کی مدعیت ڈکیتی سمیت 6 دفعات کے تحت درج کیا گیا، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ریلی کے شرکاء نے حسان نیازی، احمد خان نیازی کی ایماء پر تشدد کیا جس کی ویڈیو منظر عام پر آچکی ہے۔

    مدعی کا کہنا ہے کہ مسلح ملزمان نے سرکاری پستول اور گولیاں چھین لیں، میں نے سرکاری کارڈ بھی دیکھایا اس کے باوجود مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گیا سابقہ وزیر اعظم کی ہائیکورٹ پیشی پر سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور تھا۔

  • شاعرہ ہاجرہ نور زریاب کا یوم پیدائش

    شاعرہ ہاجرہ نور زریاب کا یوم پیدائش

    انسانوں کی اس منڈی میں کب پیش نظر معیار رہا
    جب لاکے ترازو میں رکھا جو لوگ تھے بھاری جیت گئے

    21فروری 1978 میں پیدا ہونے والی شاعرہ ہاجرہ نور زریاب کا پورا نام ہاجرہ پروین ہے جبکہ ہاجرہ نور زریاب ان کا قلمی نام ہے ان کی تصنیفات میں ،چاند کے زینے پر، گم شدہ خیالوں کے عکس شامل ہیں-

    ایوارڈ
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1 )پروین شاکر ایوارڈ، صراط مستقیم کالج سلطان پور لکھنو
    ۔ (2) سرسید احمد خان ایوارڈ، جے پور

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    شاہوں کے مصاحب جیت گئے، طاقت کے حواری جیت گئے
    غربت کو شکست ِفاش ہوئی، دولت کے پجاری جیت گئے
    ایامِ اسیری بیت گئے، حالات کے بندی خانے میں
    سچائی یہاں مصلوب ہوئی ،جلسوں کے مداری جیت گئے
    اس جنگل کے قانون کی بھی بجھ پائی نہیں ہے پیاس کبھی
    معصوم پرندے ہار گئے، بے رحم شکاری جیت گئے
    دنیا کے تجارت خانے میں، ہر جنس گراں پامال ہوئی
    ارباب ِہنر ناکام رہے، زر کے بیوپاری جیت گئے
    انسانوں کی اس منڈی میں کب پیش نظر معیار رہا
    جب لاکے ترازو میں رکھا جو لوگ تھے بھاری جیت گئے
    جو راہ وفا میں ان کو ہوئی،ہیں اہل جنوں اس مات پہ خوش
    اور تم مغرور کہ یاروں سے، کرکے غداری جیت گئے
    وہ لوگ خس و خاشاک ہوئے، پھولوں میں جو رکھنے والے تھے
    زریاب مگر کچھ پتھر دل احساس سے عاری جیت گئے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    جب تیری توجہ کے طلبگار ہوئے ہیں
    اشعار میں الفاظ گرفتار ہوئے ہیں
    کھوئے ہوئے لمحات مری نیند میں آ کر
    خوابوں کے جھروکوں میں نمودار ہوئے ہیں
    تم جب بھی گئے یاد کی راہوں سے گزر کر
    ہم ایک نئے کرب سے دوچار ہوئے ہیں
    موجود ہے بس ذات کی خستہ سی عمارت
    دلکش تھے خدوخال جو مسمار ہوئے ہیں
    چھیڑا ہے دکھی ساز کے تاروں کو کسی نے
    سوے ہوئے نالے کہیں بیدار ہوئے ہیں
    تسکین تو دی ہے ترے آنے کی خبر نے
    لمحات مگر اور بھی دشوار ہوئے ہیں
    زریاب تھے جو آبرو ، کل صحن چمن کی
    نیلام وہی گل سر بازار ہوئے ہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دل مرا مضطر بہت پیہم رہا
    زندگی بھر زندگی کا غم رہا
    کچھ تو حاوی درد کا موسم بھی تھا
    کچھ مقدر بھی مرا برہم رہا
    معجزے ہیں سب تمھارے عشق کے
    وصل میں بھی ہجر کا عالم رہا
    منزلیں پھر سے مقدر ہو گئیں
    راہ بھر پھر یاد کا عالم رہا
    کس طرف لے آئی ہے یہ زندگی
    وقت ہم پر مہرباں کیوں کم رہا
    پھر کسی کے تلخ لہجے کے سبب
    ہر چراغ آرزو مدھم رہا
    قہقہوں کے ساتھ آنسو تھے رواں
    رات خوشیوں میں بپا ماتم رہا
    میں نے چھو کر دیکھا اُس کے ہاتھ کو
    میرے ہاتھوں میں بھی جامِ جم رہا
    جب بھی دیکھا آئنہ زریاب نے
    عکس دھندلا ہی سہی تاہم رہا

  • لاہور میں دفعہ 144 نافذ کردیا گیا

    لاہور میں دفعہ 144 نافذ کردیا گیا

    لاہور میں دفعہ 144 نافذ کردیا گیا

    محکمہ داخلہ پنجاب نے لاہور میں 7 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ کردیا ہے جبکہ نوٹیفکیشن کے مطابق احتجاج، ریلی، جلسہ اور دھرنوں پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کرنے والے کیخلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گا۔

    علاوہ محکمہ داخلہ پنجاب نے پاکستان سپر لیگ کے 8ویں ایڈیشن کے میچز کیلئے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے شہر بھر میں احتجاج، ریلیوں، جلسوں اور دھرنوں پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے اور اس کے نفاذ پر پولیس عمل درآمد کروائے۔

    ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم شکیل احمد کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کی کاپیاں تمام متعلقہ اداروں کو جاری کردی گئیں ہیں اور انہیں اس بارے میں مکمل آگاہ کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستان سپر لیگ 8 کے میچز لاہور میں میچز کا آغاز 26 فروری کو لاہور قلندرز اور پشاور زلمی کے مقابلے سے ہوگا۔ جبکہ دوسری جانب جہاں ایک لوگوں نے اس فیصلے کو سراہا کیونکہ ملک میں دہشتگردی و بدامنی پھیلی ہوئی ہے تو دوسری جانب کچھ ناقدین نے اس فیصلے پر تنقید بھی کی ہے اور کہا کہ اس نوٹیفکیشن کو واپس لیا جائے۔

  • عمران خان کی گرفتاری سے متعلق خبروں پرایف آئی اے کا بیان سامنے آ گیا

    عمران خان کی گرفتاری سے متعلق خبروں پرایف آئی اے کا بیان سامنے آ گیا

    لاہور:عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس میں گرفتاری سے متعلق ایف آئی اے نے بیان جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : ایف آئی اے نےعمران خان کی گرفتاری سے متعلق مختلف نیوز چینلز پر چلنے والی خبروں کی تردید کردی،ترجمان ایف آئی اے کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا،نیوز چینلز پر اس حوالے سے چلائی جانے والی خبریں بے بنیاد ہیں-

    پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ،وکلا کی مختلف تنظیموں سے بھی مشاورت مکمل

    واضح رہے کہ یہ خبریں زیر گردش تھیں کہ ایف آئی اے نے چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا ہے،خبریں تھیں کہ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کی ہدایت پر ایف آئی اے لاہور کی 4 رکنی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے،ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور سرفراز خان ورک کی قیادت میں ٹیم مقامی پولیس کی مدد سے عمران خان کو گرفتار کرے گی۔ عمران خان کو گرفتاری کے بعد اسلام آباد سے آئی ہوئی ٹیم کے حوالے کیا جائے گا۔

    عمران خان 4 بجے لاہورہائیکورٹ پہنچ جائیں گے،حماد اظہر

    ایف آئی اے ذرائع کے حوالے سے خبروں میں کہا گیا تھا کہ ایف آئی اے کی ٹیم نے پہلے عمران خان کو زمان پارک سےگرفتار کرنے کا پروگرام بنایا تھا مگر کارکنوں کے شدید رد عمل کو دیکھتے ہوئے اب ہائی کورٹ میں پیش ہونے کے بعد گرفتار کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے اور پولیس نے تیاری مکمل کر لی ہے،پولیس ایف آئی اے کی ہر ممکن مدد فراہم کرے گی ایف آئی اے اور پولیس کے اعلی حکام نے اس سلسلے میں وکلا کی مختلف تنظیموں سے بھی مشاورت مکمل کر لی ہے تاکہ وکلاء سے تصادم کی صورتحال پیدا نہ ہو۔