Baaghi TV

Category: لاہور

  • سیاست میں مذاکرات ہی امید کی کرن ہے:-تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاست میں مذاکرات ہی امید کی کرن ہے:-تجزیہ:شہزاد قریشی

    عوام کے ایشوز کیا ہیں؟ وہ کس کرب میں مبتلا ہیں؟ انہوں نے جینا ہے ،روزانہ روٹی کا انتظام کرنا ہے، علاج اور بچوں کو تعلیم دلوانی ہے ۔زندگی کی ضروریات کے حصول کے لئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ عوام کو نہ تو آئین اور نہ ہی قانون کی پیچیدگیوں سے دلچسپی ہے نہ سوشل میڈیا کی نورا کشتیوں ،کردار کشیوں سے کوئی غرض ہے ۔ان کے روزانہ کے بنیادی مسائل ہر روز ان کی چوکھٹ پر دستک دیتے ہیں سیاسی جماعتوں کی لڑائیاں اور الزام تراشیاں کتنی ہی بڑھتی چلی جائیں عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کیا کمال کا اتفاق ہوتا ہے۔

    آمدہ قومی انتخابات کے لئے سیاسی نورا کشتیاں جاری ہیں آج کی مہنگائی کا ملبہ کسی ایک سیاسی جماعت پر نہیں ڈالا جا سکتا اس کے ذمہ دار سابقہ حکومت سے ہٹا کر ایک دوسرے کی آڈیو ، ویڈیو پر تبصروں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا اور آج کی اس سیاست میں اداروں معزز ججز صاحبان کو بھی نہیں بخشا جا رہا ۔حیرت ہے ملک و قوم کو مسائل کے گرداب میں پہنچا کر آج ایک دوسرے پر گھٹیا اور غلیظ زبان سمیت آڈیو اور ویڈیو کے گندے کھیل شروع کر دیئے گئے ہیں۔ ان حرکات سے پاکستان بطور ریاست اور اس ریاست کے مستقبل نوجوانوں کا کیا ہوگا؟ اج کے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں جس گھوڑے پر سوار ہیں ان کی ان حرکتوں سے کسی بھی وقت گر سکتے ہیں۔

    فیصلہ ساز اداروں کو وطن عزیز اور عوام کی خاطرہ موجودہ شور شرابے معاشی اور ایک مقروض ملک کی خاطر نواز شریف، عمران خان، پیپلزپارٹی کے بلاول بھٹو اور دیگر سیاسی جماعتوں کو اس ملک و قوم کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکرات کروانے کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔ ضد، انا اور ہٹ دھرمی کو دفن کرنا ہوگا ملک کے بہتر مستقبل اور ملک کے وسائل پر بھرپور توجہ دینا ہوگی اس ملک و قوم کی نوازشریف ، عمران خان اور بلاول بھٹو سمیت دوسری جماعتوں کو تعمیر وطن میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نوازشریف کسی ولی یا فرشتے کا نام نہیں اور نہ ہی عمران خان کسی ولی یا فرشتے کا نام ہے اور نہ دیگر خداراہ اس ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لئے فیصلہ ساز ادارے اپنا کردار ادا کریں اور سیاسی جماعتیں بھی اس ملک پر رحم کریں سیاسی عدم استحکام، معاشی گراوٹ سماجی انتشار کیا اس ملک کا مقدر ہیں؟

  • پنجاب میں انتخابات کیلئے سپیکر سبطین خان کے صدر کو خط پرمشاورت شروع

    پنجاب میں انتخابات کیلئے سپیکر سبطین خان کے صدر کو خط پرمشاورت شروع

    لاہور:پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کے تعین کے لیے سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے صدر مملکت عارف علوی کو خط لکھ دیا جس کی نقول چیف الیکشن کمشنر اور گورنر پنجاب کو بھی بجھوائی گئی ہیں۔

    سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کی جانب سے صدر مملکت کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد میں نے گورنر پنجاب کو 90 روز کی آئینی مدت کے دوران انتخابات کے انعقاد کیلئے تاریخ کے تعین کی نشاندہی کی، الیکشن کمیشن نے بھی گورنر پنجاب سے انتخابات کی تاریخ کے تعین کا تقاضا کیا جس پر گورنر پنجاب نے جوابی خط میں موقف اختیار کیا کہ اسمبلی ان کے دستخطوں سے تحلیل نہیں ہوئی اس لیے آئینی طور وہ انتخابات کی تاریخ دینے کے پابند نہیں۔

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو گورنر سے مشاورت کے بعد انتخابات کی تاریخ کے تعین کے احکامات صادر کیے، لاہور ہائی کورٹ کے احکامات پر گورنر اور الیکشن کمیشن کے مابین ناقابل جواز تاخیر کا مظاہرہ کیا گیا، آئینی فرائض کی انجام دہی اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد میں ناکامی آئین سے صریح انحراف ہے، آئین سے انحراف کی راہ روکنے کیلئے سربراہِ ریاست کی فوری مداخلت ناگزیر ہے۔

    سپیکر نے اپنے خط میں کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کا آرٹیکل 57(1) آپ کو انتخابات کے انعقاد کے آئینی تقاضے کی انجام دہی کے اختیارات سونپتا ہے لہٰذا آپ آئین سے مزید انحراف کی راہ روکنے کیلئے فوری طور پر پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں۔

  • وزیراعظم کےدامادکی ضمانت میں توسیع،حمزہ شہبازکی حاضری معافی کی درخواست بھی منظور

    وزیراعظم کےدامادکی ضمانت میں توسیع،حمزہ شہبازکی حاضری معافی کی درخواست بھی منظور

    لاہور: احتساب عدالت نے وزیراعظم کے داماد کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی جب کہ حمزہ شہباز کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی گئی۔

    وزیراعظم شہباز شریف کے داماد ہارون یوسف کی عبوری ضمانت کی درخواست کی سماعت احتساب عدالت نمبر 9 کے جج قمر الزماں نے کی، جس میں عدالت نے عبوری ضمانت میں یکم مارچ تک توسیع کردی۔ عدالت نے شریک ملزم سید طاہر نقوی کی عبوری ضمانت میں بھی یکم مارچ تک توسیع کر دی۔

    نیب کی جانب سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ہارون یوسف اور سید طاہر نقوی کی گرفتاری مطلوب نہیں ہے، مگر ان کے پرانے وارنٹ گرفتاری ابھی منسوخ نہیں ہوئے۔کیس میں ان کے بطور بے نامی دار کردار کے حوالے سے جائزہ لے رہے ہیں۔ تفتیش کے لیے مہلت دی جائے۔ عدالت نے جائزہ رپورٹ جلد مرتب کرنے کا حکم دے دیا۔

    واضح رہے کہ ہارون یوسف اور سید طاہر نقوی نے احتساب عدالت میں عبوری ضمانت کی درخواست دائر کر رکھی ہے ۔

    دریں اثنا احتساب عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر ملزمان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں سماعت 7 مارچ تک ملتوی کردی۔ عدالت نے حمزہ شہباز کی حاضری معافی کی درخواست بھی منظور کر لی۔

  • آڈیو لیک:چیف جسٹس سے تحقیقات کا مطالبہ زورپکڑگیا

    آڈیو لیک:چیف جسٹس سے تحقیقات کا مطالبہ زورپکڑگیا

    اسلام آباد: آڈیو لیکس معاملات میں ایک بارپھرسریم کورٹ پر دباوبڑھ گیا ہے، اس حوالے سے عوام الناس کی طرف سے یہ مطالبہ زورپکڑرہا ہے کہ اتنے بڑے معاملے کوصرف سپریم کورٹ ہی حل کرسکتی ہے ، اس سے پہلے پاکستان بار کونسل نے مبینہ آڈیو لیک پر چیف جسٹس پاکستان سے تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔پاکستان بار کونسل نے اعلامیے میں کہا ہے چیف جسٹس پاکستان وائرل آڈیو کے حوالے سے جانچ پڑتال اور تحقیقات کرائیں، ایسا تاثر نہیں ہونا چاہیے کہ ججز کسی سیاسی جماعت کو فائدہ دے رہے ہیں یا ان کے ترجمان ہیں، ججز کو کسی سیاسی معاملے پر ریمارکس سے اجتناب برتنا چاہیے۔

     

     

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہےکہ اعلیٰ عدلیہ کے تشخص کے حوالے سے شدید تشویش ہے، اعلیٰ عدلیہ کے ججز کا کنڈکٹ غیر جانب دارانہ ہونا چاہے، ایسے تاثر سے عوام میں عدلیہ کے اعتماد کو ٹھیس پہنچنے کے ساتھ عدلیہ کے تشخص کو نقصان ہوگا۔

    آڈیولیکس کی تحقیقات کیلئے عمران خان کی درخواست پر اعتراضات عائد

    اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ ججز کو کسی آئینی عہدے کا تمسخر اڑانے والے ریمارکس سے اجتناب برتنا چاہیے، اگر یہ آڈیو جعلی ہے تو اس کو تیار اور وائرل کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے، اگر یہ آڈیو اصلی ہو تو آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جانی چاہیے۔

    آڈیولیکس میں ملوث افراد کون ہیں، اور وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں ،رانا ثنااللہ نے بتا…

    ادھر اس معاملے پر مبینہ آڈیو لیک پر سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی اور صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری کا بیان سامنے آیا ہے۔وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے چوہدری پرویز الٰہی اور عابد زبیری کی مبینہ آڈیو لیک جاری کرتے ہوئے ایف آئی اے کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

    اس حوالے سے چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ آڈیو میں کوئی غلط بات نہیں کی گئی، محمد خان بھٹی کیس پر وکیل سےگفتگو کو ٹیپ کر کے غلط رنگ دیا گیا، محمد خان بھٹی 10 دن سے لاپتا ہیں، ان کی اہلیہ نے سپریم کورٹ میں اپیل کی ہے۔

    چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا تھا ن لیگ کی قیادت عدلیہ کے ادارے کے خلاف منظم مہم چلا رہی ہے۔صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری نے پرویز الہٰی کے ساتھ لیک آڈیو سے متعلق بیان میں کہا کہ میرے حوالے سے آڈیو کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

  • سابق اٹارنی جنرل پاکستان جسٹس (ر) ملک قیوم انتقال کر گئے

    سابق اٹارنی جنرل پاکستان جسٹس (ر) ملک قیوم انتقال کر گئے

    لاہور:سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر جسٹس (ر) ملک محمد قیوم انتقال کر گئے۔

    جسٹس (ر) ملک قیوم کے انتقال کی تصدیق ان کے اہلخانہ کی جانب سے کی گئی ہے، اہلخانہ کے مطابق جسٹس (ر) ملک قیوم کی نماز جنازہ جوہر ٹاؤن لاہور میں ادا کی جائے گی۔

    جسٹس (ر) ملک محمد قیوم نگراں وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر جاوید اکرم کے بھائی تھے، وہ لاہور ہائیکورٹ کے سابق جسٹس اور سابق اٹارنی جنرل پاکستان رہ چکے تھے۔

    اس کے علاوہ وہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہ چکے تھے۔

  • کورونا کیسز میں اضافہ ہونے لگا،11 مریضوں کی حالت نازک

    کورونا کیسز میں اضافہ ہونے لگا،11 مریضوں کی حالت نازک

    اسلام آباد:قومی ادارہ صحت ( این آئی ایچ) نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 4 ہزار 978 کورونا ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔

    این آئی ایچ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 978 کورونا ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 37 افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

     

    اس طرح گزشتہ 24 گھنٹوں میں کئے گئے مثبت کورونا ٹیسٹ کی شرح 0.74 فیصد رہی ہے، مزید برآں اس دوران کورونا وائرس سے کوئی بھی مریض جاں بحق نہیں ہوا جبکہ 11 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    ادھر ملک میں موسم کیصورت حال بھی بہت خراب بتائی جارہی ہے ، پنجاب اورسندھ کے میدانی علاقوں میں دھند کے باعث حد نگاہ متاثر ہونے کے باعث مختلف مقامات پر موٹرویز کو بند کر دیا گیا۔موٹرویز پولیس کے مطابق لاہور، اسلام آباد موٹروے ایم 2 ٹھوکرنیازبیگ سے کوٹ مومن تک جبکہ پنڈی بھٹیاں، فیصل آباد موٹروےایم 3 فیض پورسے ننکانہ صاحب تک بند کردی گئی ہے۔

     

    سکھر، ملتان موٹروے ایم 5 اوچ شریف سے ظاہر پیر تک اورلاہور، سیالکوٹ موٹروے ایم 11 کالا شاہ کاکو سے سمبڑیال تک ٹریفک کیلئے بند کردی گئی۔موٹرویز پولیس کے مطابق دھند کے باعث قومی شاہراہوں پر بھی ٹریفک کی روانی متاثر ہوگئی ہے۔موٹروے پولیس نے شہریوں کو محتاط ڈرائیونگ کی ہدایت جاری کردی۔

  • ایک تہذیب تھا بدن اس کا اس پہ اک رکھ رکھائو آنکھیں تھیں:سیما غزل کی زندگی کا شاندارسفر

    ایک تہذیب تھا بدن اس کا اس پہ اک رکھ رکھائو آنکھیں تھیں:سیما غزل کی زندگی کا شاندارسفر

    ایک تہذیب تھا بدن اس کا
    اس پہ اک رکھ رکھائو آنکھیں تھیں

    سیما غزل

    پیدائش:17فروری 1964ء
    لاہور، پاکستان

    پیدائش لاہور میں جمیل الدین عالی(چچا) کے گھر ہوئی لیکن کراچی میں پروان چڑھی۔ وہیں تعلیم حاصل کی۔ ادبی گھرانے سے تعلق ہے۔ والد شاعر اور ریڈیو پر اسکرپٹ رائٹر تھے۔ ریڈیو سے ”آئو بچو کہانی سنو“ لکھنے سے شروعات کی۔ پھر 1989 میں پاکستان کے مشہور رسالہ ”دوشیزہ“ کی ایڈیٹر رہیں اور ساڑھے 12 سال ذمےداری نبھائی۔ پھر ٹی وی کے لیے ڈرامے لکھنے لگیں۔ کئی ڈرامے بے پناہ مشہور ہوئے جن میں مہندی، چاندنی راتیں، انا، ہم سے جدا نہ ہونا کو لگاتار ہر سال لکس ایوارڈ ملے۔ اب تک تقریبا” 400 سے زیادہ ٹی وی ڈرامے لکھ چکی ہیں جس میں سے 375 سے زیادہ آن ائر آچکے ہیں اب بھی 4 سے زیادہ ڈرامے آن ائر ہیں جن میں اے آر وائی پہ ”دل نہیں مانتا“، ہم ٹی وی پہ ”دے اجازت جو تو“ ہم 2 پہ ”شدت“۔ زی زندگی انڈین چینل پہ ”میرا سایہ“، پی ٹی وی پہ دو سیریئلز ”نا آشنا“ اور ”چاہت“ ہے۔ ایک شعری مجموعہ ”میں سائے خود بناتی ہوں“ 2013 میں چھپا ہے اور اس کو 2013 کا پروین شاکر ”خوشبو“ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 7 ناولز لکھے جو مارکیٹ اور نیٹ پر موجود ہیں جن میں ”چاند کے قیدی“، ”کمند“، ”زرد پتوں کا بھنور“ ۔ ”کوری آنکھیں کال بیل“ ، ”اندھی رات کا بیٹا“ اور ”آدھا وجود“ ہیں. نظموں کی کتاب چھپنے کے مراحل میں ہے۔ کراچی میں ایک ادبی تنظیم ” سائبان“ کی چئرپرسن ہیں ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اک قیامت کا گھاؤ آنکھیں تھیں
    عشق طوفاں میں ناؤ آنکھیں تھیں
    راستہ دل تلک تو جاتا تھا
    اس کا پہلا پڑاؤ آنکھیں تھیں
    ایک تہذیب تھا بدن اس کا
    اس پہ اک رکھ رکھاؤ آنکھیں تھیں
    جن کو اس نے چراغ سمجھا تھا
    اس کو یہ تو بتاؤ آنکھیں تھیں
    دل میں اترا وہ دیر سے لیکن
    میرا پہلا لگاؤ آنکھیں تھیں
    قطرہ قطرہ جو بہہ گئیں کل شب
    آؤ تم دیکھ جاؤ آنکھیں تھیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بارش تھی اور ابر تھا دریا تھا اور بس
    جاگی تو میرے سامنے صحرا تھا اور بس
    آیا ہی تھا خیال کہ پھر دھوپ ڈھل گئی
    بادل تمہاری یاد کا برسا تھا اور بس
    ایسا بھی انتظار نہیں تھا کہ مر گئے
    ہاں اک دیا دریچے میں رکھا تھا اور بس
    تم تھے نہ کوئی اور تھا آہٹ نہ کوئی چاپ
    میں تھی اداس دھوپ تھی رستہ تھا اور بس
    یوں تو پڑے رہے مرے پیروں میں ماہ و سال
    مٹھی میں میری ایک ہی لمحہ تھا اور بس

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    سانس کی مہلت کیا کر لے گی
    اب یہ سہولت کیا کر لے گی
    بے بس کر کے رکھ دے گی نا
    اور محبت کیا کر لے گی
    کیا کر لے گا چارہ گر بھی
    درد کی شدت کیا کر لے گی
    ایک جہنم کاٹ لیا ہے
    اب یہ قیامت کیا کر لے گی
    میں ہی اپنے ساتھ نہیں جب
    اس کی رفاقت کیا کر لے گی
    میرا آنگن صحرا جیسا
    دشت کی وحشت کیا کر لے گی

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    آواز میں نے سنی تھی ابھی کون بولا تھا یہ تو خبر ہی نہیں
    یہ تعلق ضروری ہے کس نے کہا وہ بھی خاموش تھا میں بھی خاموش تھی

    خود اپنے آپ سے ملنے کی خاطر
    ابھی کوسوں مجھے چلنا پڑے گا

    میں نے کہا تھا مجھ کو اندھیرے کا خوف ہے
    اس نے یہ سن کے آج مرا گھر جلا دیا

    مجھ کو اس کے نہیں خود میرے حوالے کرتے
    کم سے کم یہ تو مرے چاہنے والے کرتے

    ایسے کچھ حادثے بھی گزرے ہیں
    جن پہ میں آج تک نہیں روئی

    میں ایک روز اسے ڈھونڈ کر تو لے آؤں
    وہ اپنی ذات سے باہر کہیں ملے تو سہی

    سرد ہوتے ہوئے وجود میں بس
    کچھ نہیں تھا الاؤ آنکھیں تھیں

    بے قراری سے مرے پاس وہ آیا لیکن
    اس نے پوچھا بھی تو بس یہ کہ فلاں کیسا ہے

    جذبوں پر جب برف جمے تو جینا مشکل ہوتا ہے
    دل کے آتش دان میں تھوڑی آگ جلانی پڑتی ہے

  • عمران خان کو گرفتاری سے بچانے کیلئے کارکنان کو ہائی الرٹ کردیا گیا

    عمران خان کو گرفتاری سے بچانے کیلئے کارکنان کو ہائی الرٹ کردیا گیا

    لاہور:عمران خان کو گرفتاری سے بچانے کیلئے کارکنان کو ہائی الرٹ کردیا گیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چئیرمین عمران خان کی ایک حفاظتی ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد ان کی ممکنہ گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر قیادت نے تین راتوں کے لیے تمام پارٹی کارکنان کو ہائی الرٹ کر دیا۔ قریبی اضلاع اور لاہور کے ٹاؤنز سے تمام کارکنان کی ڈیوٹیز لگا دی گئی ہیںپی ٹی آئی قیادت نے ہدایت کی ہے کہ کارکنان تین راتوں کیلئے ہائی الرٹ پر رہیں۔ ورکرز مختلف شفٹوں میں زمان پارک کی حفاظت کریں گے۔

    یاد رہے کہ دوسری طرف ہائی کورٹ نے حفاظتی ضمانت کی دوسری درخواست پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو پیر کے روز طلب کرلیا اور آئی جی پنجاب کو سیکیورٹی معاملات فائنل کرنے کی ہدایت کردی۔عمران خان کی حفاظتی ضمانت پر جسٹس طارق سلیم شیخ کی عدالت میں دوبارہ سماعت ہوئی، عمران خان مقررہ وقت تک کمرہ عدالت میں پیش نہ ہوسکے جبکہ درخواست گزار کی جانب سے خواجہ طارق رحیم بطور وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔

    خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ عمران خان عدالتوں کی عزت کرتے ہیں، عدالت عمران خان کی سیکیورٹی کا بندوبست کرے تو وہ کل پیش ہو جائیں گے، عمران خان کے دستخط کے معاملے پر جو قصوروار ہو عدالت اس وکیل کو سزا دے سکتی ہے۔خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ سیکیورٹی اور حالات دیکھ کے عمران خان کی پیشی کا فیصلہ کرنا ہے ہم ہائیکورٹ کی سیکیورٹی کے ساتھ بیٹھ کے فائنل کر لیتے ہیں۔

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ ’آپ کب عمران خان کو پیش کر کر سکتے ہیں، ہم آپ کی آئی جی سے ملاقات کرا دیتے ہیں اور کیس کو پیر کے لیے رکھ لیتے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کو عمران خان کی لیگل ٹیم کے ساتھ بیٹھ کر سیکیورٹی معاملات فائنل کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ نے پیر کے روز دوپہر دو بجے عمران خان کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

  • حکومت مخالفین کوجیلوں میں ڈالناچاہتی ہے:چوہدری پرویز الٰہی کا مبینہ آڈیو لیک پرردعمل

    حکومت مخالفین کوجیلوں میں ڈالناچاہتی ہے:چوہدری پرویز الٰہی کا مبینہ آڈیو لیک پرردعمل

    لاہور:سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے وکیل کے ساتھ گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک پر اپنا ردعمل دیدیا۔ کہتے ہیں کہ محمد خان بھٹی کے کیس کیلئے ایک وکیل کے ساتھ گفتگو کو ٹیپ کرکے غلط رنگ دیا گیا، حکومت انتقام میں اندھی ہوچکی، مخالفین کو جیلوں میں ڈالنا چاہتی ہیں۔

    چوہدری پرویز الٰہی کی اپنے وکیل سے گفتگو کی ایک مبینہ آڈیو ٹیپ منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ کسی کیس سے متعلق گفتگو کررہے ہیں۔

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ دیدہ دلیری سے کیسز مینج کررہے ہیں، ایف آئی اے مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کرے۔

    سابق وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی نے مبینہ آڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آڈیو میں کوئی غلط بات نہیں کی گئی، محمد خان بھٹی کے کیس کیلئے ایک وکیل کے ساتھ گفتگو کو ٹیپ کرکے غلط رنگ دیا گیا، محمد خان بھٹی 10 دن سے لاپتہ ہے، ان کی اہلیہ نے سپریم کورٹ میں اپیل کی ہے آخر وہ کیس بھی سامنے آنا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی بندہ انصاف کیلئے اپنے وکلاء کے ذریعے عدالتوں سے رجوع کرتا ہے تو اسے یہ گناہ بنانا چاہ رہے ہیں، ن لیگ کی قیادت عدلیہ کے ادارے کے خلاف منظم مہم چلا رہی ہے، ہم نے ہمیشہ عدلیہ کا احترام کیا، عدلیہ اس وقت عوام کی امیدوں کا مرکز ہے۔

    چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ حکومت انتقام میں اندھی ہوچکی ہے، تمام مخالفین کو جھوٹے کیسز میں جیلوں میں بند کرنا چاہتی ہے، ماڈل ٹاؤن سانحہ کے سرغنہ رانا ثناء اللہ بوکھلائے ہوئے ہیں اور بولنا شروع کر دیا، یہ انشاء اللہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے کیس میں ہی کیفر کردار تک پہنچیں گے۔

    سابق وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ اس نااہل حکومت کی تمام غلط کاریوں کی چیزیں انشاء اللہ سامنے آکر رہیں گی، اللہ کی مدد سے رانا ثناء اللہ کے سارے کرتوت باری باری سامنے آرہے ہیں۔

  • پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا معاملہ:گورنر پنجاب نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا معاملہ:گورنر پنجاب نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    لاہور: گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے الیکشن کی تاریخ کے اعلان سے متعلق سنگل بینچ کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

    باغی ٹی وی : گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کی جانب سے ایڈوکیٹ شہزاد شوکت نے سنگل بینچ کے فیصلے کی تشریح کے لیے درخواست دائر کی۔

    درخواست گزار کے مطابق سنگل بینچ نے الیکشن کمیشن کو تاریخ سے متعلق گورنر سے مشاورت کا حکم دیا ہے لیکن گورنر کے پاس ایسا کوئی آئینی اختیار نہیں جبکہ گورنر نے اسمبلی تحلیل پر دستخط ہی نہیں کیے۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل گورنر پنجاب نے صوبے میں الیکشن کے حکم کی وضاحت کے لیے لاہور ہائیکورٹ جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

    لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے الیکشن کمیشن وفد نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمن سے گورنر ہاؤس پنجاب میں ملاقات بھی کی تھی اس موقع پر چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب بھی موجود تھے، جنہوں نے صوبے میں انتظامی اور امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی تھی۔

    اجلاس میں فیصلے کی تشریح اور وضاحت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ گورنر پنجاب لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے اور سنگل بنچ کے فیصلے کے قانونی دائرہ کار کو چیلنج کریں گے۔

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ گورنر لاہور ہائی کورٹ سے فیصلے کی تشریح کی درخواست کرتے ہوئے پوچھیں گے کہ الیکشن تاریخ سے متعلق فیصلہ کیسے گورنر پنجاب پر لاگو ہوتاہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے اور گورنر سے مشاورت کے بعد نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔