Baaghi TV

Category: لاہور

  • جمہوریت اور سیاست کا مستقبل؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    جمہوریت اور سیاست کا مستقبل؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    افسوس صد افسوس موجودہ حکمرانوں پر عین ایسے وقت کرکٹ کے میچ کا انعقاد کروا رہے ہیں جب برادر اسلامی ممالک ترکیہ میں اور شام میں ایک حشر بپا ہے۔ دنیا بھر میں ہر خاص و عام کی آنکھیں وحشت ناک مناظر کو دیکھ کر اشک بار ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا تھوڑا صبر کر لیتے اپنے برادر ممالک کے دکھوں میں شامل ہو جاتے۔ دنیا اس تباہی سے لرز اٹھی ہے۔ ہنستے بستے شہر چند سیکنڈوں میں خاک و خون میں تبدیل ہو گئے ۔ بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہو گئیں۔ معصوم بچوں کی آہ و بکا اور ان کے چھلنی اجسام کو دیکھ کر پتھر دل بھی پگھل گئے۔ ایسے نازک وقت میں انسانیت کا تقاضا تھا کہ ہم اس طرح کے کھیل تماشے ڈھول کی تھاپ پر ناچ گانے تھوڑے وقت کے لئے روک لیتے ترکیہ اور شام کے گردش زدہ لوگوں کے دکھوں میں شامل ہوتے۔

    دوسری طرف بلاول بھٹو زرداری نے 1973ء کے آئین کے آئین کی گولڈن جوبلی جشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا انہوں نے کہا کہ اگر کوئی غیر جمہوری قدم اٹھایا گیا تو ہم خاموش نہیں رہیں گے اگر لگا کہ آئین کو خطرہ ہے تو اس کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیپلزپارٹی ہمیشہ غیر آئینی اقدامات کیخلاف رہی ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا درست ہے مگر آج کل پنجاب اور کے پی کے میں الیکشن کو لے کر آئین پارلیمنٹ ہائوس، صوبوں کے گورنرز، الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتوں کو پکار رہا ہے آئین کی چیخ و پکار بلاول بھٹو کو سنائی کیوں نہیں دیتی؟ آئین کو لے کر ہنگامہ طوالت اختیار کرتا جا رہا ہے اب تو معاملہ عدالتوں تک جا پہنچا ہے۔

    سچ تو یہ ہے کہ آج کی سیاست اور جمہوریت آئین کو دھکیل رہی ہے سیاست میں قربانی کا جذبہ نظریات سے حاصل ہوتا ہے سیاسی جماعتوں نے نظریات کو دفن کردیا ہے انسان فنا ہو سکتے ہیں نظریات فنا نہیں ہوتے آج بھی عوام کی اکثریت بھٹو اور ان کی باقی کی ٹیم جنہوں نے 1973ء کے آئین میں اپنا کردار ادا کیا اور جن سیاستدانوں نے آئین پر دستخط کئے تھے بھٹو سمیت آج بھی عوام کے دلوں پر راج کرتے ہیں اس دنیا میں نہیں پھر بھی ان کے نظریات زندہ ہیں وہ نظریاتی شخصیات تھیں اج سیاسی جماعتوں نے مفاداتی لوگوں کی اکثریت ہے نظریاتی کی کم نظر آتی ہے۔ ملک کی تازہ ترین صورتحال کو دیکھا جائے تو آئین کو لے کر پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو آئینی بحران اور جمہوریت سنگین بحران میں مبتلا نظر آتی ہے ان حالات میں جمہوریت اور سیاست کا مستقبل کیا ہوگا؟ جب آئین ہی بے یار و مددگار ہو رہا ہے یا کر دیا گیا ہے یا کیا جا رہا ہے۔

  • صدر مملکت سے اسحاق ڈارکی ملاقات،منی بجٹ  آرڈیننس پر تبادلہ خیال

    صدر مملکت سے اسحاق ڈارکی ملاقات،منی بجٹ آرڈیننس پر تبادلہ خیال

    اسلام آباد: صدر مملکت عارف علوی سے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملاقات کی اور منی بجٹ آرڈیننس کی صورت میں نافذ کرنے پرگفتگو کی۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق صدر مملکت عارف علوی سے ملاقات میں اسحاق ڈار نے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا،ذرائع کا کہنا ہےکہ ملاقات میں اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بارے میں صدر مملکت کو آگاہ کیا اور آئی ایم ایف کے مطالبات سے متعلق بھی گفتگو کی۔

    اسحاق ڈار نے صدر مملکت کو میثاق معیشت کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ میثاق معیشت ملک کی معیشت کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔ ذرائع نے وزیرخزانہ کی کچھ تعطل کے بعد صدرعلوی سے ملاقات کو غیر معمولی قراردیا۔

    بعدازاں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عمران خان سے رابطہ کیا اور ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر اہم گفتگو کی,انہوں نے عمران خان سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے حالیہ ملاقات اور ملک میں عام انتخابات کی ٹائم لائن سے متعلق بھی گفتگو کی

    ذرائع نے بتایا ہےکہ ملاقات میں حکومت کی طرف سے منی بجٹ آرڈیننس کی صورت میں نافذ کرنے پر بھی گفتگو ہوئی منی بجٹ تجاویز آج ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں منظورکیے جانےکا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی آج شام 6 بجے طلب کر رکھا ہے ذرائع کے مطابق کابینہ اجلا س میں کورونا بچاؤ انجکشن کی قیمت کا بھی فیصلہ کیا جائے گا-

  • ایڈوکیٹ جنرل سمیت 97 لا افسروں کی برطرفی درست قرار

    ایڈوکیٹ جنرل سمیت 97 لا افسروں کی برطرفی درست قرار

    لاہور ہائی کورٹ نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کی برطرفی درست قرار دے دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لارجر بینچ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس سمیت 97 لا افسروں کی برطرفی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی.

    عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس اور97 لا افسروں کی برطرفی کو درست قرار دے دیا۔ پانچ رکنی بینچ کے فاضل رکن جسٹس عاصم حفیظ نے چار ججوں کے فیصلے سے اختلاف کیا جبکہ چار ججز نے درخواستوں کو جزوی منظور کرلیا۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلےپاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) دور کے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس سمیت ایڈووکیٹ جنرل آفس کے 97 لاء افسران کو عہدوں سے فارغ کر دیا گیا تھا۔محکمہ قانون و پارلیمانی امور پنجاب کی جانب سے 55 وکلا کا بطور ایڈیشنل اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل تقرر کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیاتھا۔

    حکومت کا توانائی کی بچت اورتحفظ کےمنصوبےکیلئے عالمی بینک سے قرض لینے کا منصوبہ

    نوٹیفکیشن کے مطابق 32 ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور 65 اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کو عہدوں سے ہٹایا گیا،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل چوہدری جواد یعقوب کو ایڈووکیٹ جنرل کے امور دیکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ایڈووکیٹ جنرل آفس میں 20 نئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور 35 اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کا تقرر کیا گیا ہے۔

  • پنجاب الیکشن: لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی تشریح کیلئےعدالت سے رجوع کرنےکا فیصلہ

    پنجاب الیکشن: لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی تشریح کیلئےعدالت سے رجوع کرنےکا فیصلہ

    لاہور: پنجاب میں الیکشن سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی تشریح کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: گورنر پنجاب کی زیرصدارت گورنر ہاؤس میں اہم اجلاس ہوا جس میں آئی جی، چیف سیکرٹری، سیکرٹری الیکشن کمیشن، ڈی جی لا الیکشن کمیشن اور دیگر حکام بھی شریک ہیں جبکہ اجلاس میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا –

    گورنر پنجاب نےانتخابات کی تاریخ دینے کے حوالے سے آج اجلاس طلب کرلیا

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں شریک افراد نے اپنی اپنی آئینی اور قانونی تجاویز دیں جبکہ اجلاس کے شرکا نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پروضاحت طلب کرنے پر اتفاق کیا۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ اجلاس میں لاہورہائیکورٹ سے فیصلےکی تشریح کیلئے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ویڈیو لیک کیس:سندھ ہائی کورٹ نےدانیہ شاہ کی ضمانت منظور کرلی

    گورنر پنجاب لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے اور سنگل بنچ کے فیصلے کے قانونی دائرہ کار کو چیلنج کریں گے گورنر لاہور ہائی کورٹ سے فیصلے کی تشریح کی درخواست کرتے ہوئے پوچھیں گے کہ الیکشن تاریخ سے متعلق فیصلہ کیسے گورنر پنجاب پر لاگو ہوتاہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے اور گورنر سے مشاورت کے بعد نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

    دوسری جانب پنجاب میں الیکشن کی تاریخ نہ دینے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر کی گئی ہے،درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ صدر مملکت کو پنجاب الیکشن کی تاریخ دینے کا حکم دے، درخواست میں وفاقی حکومت، صدر ، گورنر پنجاب، نگران وزیر اعلیٰ کو فریق بنایا گیا-

    شہبازگل نےٹرائل کورٹ سے درخواست بریت مسترد ہونےکا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے 10 فروری کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کا حکم دیا،دوسری جانب عدالتی احکامات کے باوجود الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا-

  • عدلیہ کے گھوڑے پر سوار ہوکر عمران خان آنے کی کوشش کررہے ہیں:مریم نواز

    عدلیہ کے گھوڑے پر سوار ہوکر عمران خان آنے کی کوشش کررہے ہیں:مریم نواز

    لاہور:مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے بعد عمران خان اب عدلیہ کے گھوڑے پر سوار ہوکر آنے کی کوشش کررہے ہیں۔لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں سے خطاب کے دوران مریم نواز نے کہا کہ ن لیگ نے ای کامرس اور آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات کیے، سستا قرض اسکیم بھی ہمارے دور میں شروع ہوئے، عمران خان نے جیل بھرو تحریک کی بات کی ، انہوں نے کیا کبھی طلبا کو کوئی اسکیم دی؟

    عمران خان کو تنقد کا نشانہ بناتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ عمران خان نے جھوٹ کا نام بیانیہ رکھا ہے اور اس کے لئے انہوں نے سوشل میڈیا کی مدد لی، عمران خان کا بیانیہ تو بےبنیاد الزامات پر مبنی ہے، عمران خان لوگوں کے بچوں کو کہتے ہیں جیلیں بھرو، عمران خان جیبیں بھریں اور لوگوں کے بچے جیل جائیں، لوگوں کے بچے کیوں جیلیں بھریں؟۔

    رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس وقت بیانیے نہیں ترقی کی ضرورت ہے، عمران خان ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسہ دیکر فرار ہوگیا، عمران خان نےلوگوں کویوتھ کےنام پر بیوقوف بنایا، ذہنی مریضوں کی سیاست شروع کردی گئی ہے، عمران خان خود تو ذہنی مریض تھے قوم کو بھی بنارہے ہیں۔

    مریم نواز نے کہا کہ عمران خان نے پاکستان کے دوسرے ممالک سے تعلقات کو خراب کردیا،سائفر کے بیانیےکی تدفین زمان پارک میں ہوچکی ہے، آپ نے بیرون ممالک میں انٹرویو دیے کہ کوئی سازش نہیں ہوئی، ایبسلوٹلی ناٹ کے اسٹیکر کیوں لگوائے تھے؟

    عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ عمران خان آج کہتا ہے امریکا نے نہیں جنرل ریٹائرڈ قمر باجوہ نے سازش کی، آج قوم کو اردو میں بتاؤ کہ امریکا سے معافی مانگ لی، وہ حکومت میں تھا تو کہنا تھا کہ قمر باجوہ نےمیری حکومت کی سپورٹ کی، آپ اپنی حکومت جانے کے بعد بھی قمر باجوہ سے بات کررہے تھے۔

    مریم نواز نے کہا کہ عمران خان آج بھی صدر مملکت کو کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات کرادیں، اسٹیبلشمنٹ نے ہاتھ ہٹالیا تو عدلیہ کا سہارا لینےکی کوشش ہورہی ہے، انہیں کوئی نہ کوئی بیساکھیاں درکار ہوتی ہیں، اسٹیبلشمنٹ کے بعد اب عمران خان عدلیہ کے گھوڑے پر سوار ہوکر آنے کی کوشش کررہے ہیں۔

    چیف آرگنائزر ن لیگ نے کہا کہ ایک شخص کو صادق وامین قرار دینے کے لئے سب کو گندا کیاگیا،آج میں ثاقب نثارکوڈھونڈرہی ہو، ثاقب نثار نے عمران خان کو صادق و امین کا سرٹیفکیٹ دیا اور اسے فرشتہ بناکر پیش کیا، اس کے گھر کی 2 خواتین نےکئی ارب کی چوری کی۔

    مریم نواز نے کہا کہ ہم آئی ایم ایف سے معاہدہ نہ کریں تو پاکستان ڈیفالٹ کرجائے گا، یہ عمران خان کے دل کی آواز ہے کہ پاکستان سری لنکا بن جائے، اسحاق ڈار کو آئی ایم ایف سے معاہدہ نہیں کرناچاہیے ، عمران خان کو آئی ایم ایف کے سامنے لاکر بٹھانا چاہیے۔

  • اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی تعیناتی کیخلاف درخواست:پرویز اشرف نے عدالت میں جواب جمع کرادیا

    اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی تعیناتی کیخلاف درخواست:پرویز اشرف نے عدالت میں جواب جمع کرادیا

    لاہور: اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر پرویز اشرف نے عدالت میں جواب جمع کرادیا۔

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر راجہ ریاض کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو جواب داخل کرانے کیلئے مہلت دے دی۔

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے اپنا جواب جعمع کراتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کی کارروائی کو عدالت کے فورم پر چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔

    وفاقی حکومت اور دیگر فریقین نے جواب کیلئے وقت دینے کی استدعا کی عدالت نے حکومت کو آخری موقع دیتے ہیں کارروائی اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی تقرری کے خلاف کیس کی سماعت 28فروری تک ملتوی کر دی اور وفاقی حکومت سے 28 فروری کو دوبارہ جواب طلب کر لیا-

    آئی ایم ایف کا مستقل ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ

    درخواست میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر راجہ ریاض کی تعیناتی کو چیلنج کیا گیا ہے،درخواست گزار نے کہا کہ راجہ ریاض کی تقرری غیر آئینی ہے ، عدالت راجہ ریاض کی تقرری کالعدم قرار دے-

  • پی ایس ایل 8:لاہوراورراولپنڈی میں ہونیوالے میچز کی ٹکٹوں کی فروخت کا شیڈول جاری

    پی ایس ایل 8:لاہوراورراولپنڈی میں ہونیوالے میچز کی ٹکٹوں کی فروخت کا شیڈول جاری

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 8 میں لاہور اور راولپنڈی میں ہونے والے میچز کی ٹکٹوں کی فروخت کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: لاہور اور راولپنڈی میں ہونے والے ایچ بی ایل پی ایس ایل کے میچز کی ٹکٹوں کی آن لائن فروخت آج سے شروع ہوگی لاہور میں 19 مارچ کو ہونے والے فائنل کے وی آئی پی ٹکٹ کی قیمت 7 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔

    پی ایس ایل 8: سکیورٹی کے لیے فوج اور رینجرز تعینات کرنےکی منظوری


    اس کے علاوہ پریمیئم ٹکٹ 4 ہزار اور فرسٹ کلاس 2500، 1200 روپے کا ہوگا۔

    دوسری جانب ویمن کے نمائشی میچز سپر ویمن اور ایمیزونز کے درمیان کھیلے جائیں گے، ویمن میچز بھی پی ایس ایل کے میچز کی ٹکٹ پر ہی دیکھے جا سکیں گے۔

    خیال رہے کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل کا آٹھواں ایڈیشن کل سے ملتان میں شروع ہوچکا جس کے افتتاحی میچ میں لاہور نے ملتان کو ایک رن سے شکست دی۔

    دوسری جانب ملتان میں شاندار افتتاح کے بعد پی ایس ایل8 کا دوسرا میچ کراچی میں کھیلا جائے گا جس میں کنگز اور پشاور زلمی مدمقابل ہیں، اس مقابلے کی خاص بات قومی کپتان بابراعظم ہیں، وہ پہلے کراچی کنگز کے کپتان تھے مگر تازہ ایڈیشن میں اپنی ہی پرانی ٹیم کے خلاف پشاور زلمی کی قیادت کریں گے۔

    پی ایس ایل 8 کی تیاریاں مکمل، افتتاحی تقریب آج ملتان میں ہوگی

    جبکہ کراچی ٹریفک پولیس نے نیشنل اسٹیڈیم میں پاکستان سپر لیگ سیزن 8 کے میچز کے حوالے سے ٹریفک پلان کو حتمی شکل دیدی۔

    ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق نیشنل کوچنگ سینٹر چائنا گراؤنڈ پارکنگ کے حوالے سے کارساز سے آنے والے میڈیا حضرات حبیب ابراہیم رحمت اللہ روڈ، اسٹیڈیم فلائی اوور کے نیچے سے ہوتے ہوئے سر شاہ سلیمان روڈ پر نیشنل کوچنگ سینٹر چائنا گراؤنڈ میں اپنی گاڑی پارک کریں گے۔

    ملینیم مال سے آنے والے میڈیا حضرات اسٹیدیم روڈ (پیر صبغت اللہ شاہ راشدی روڈ) سے ہوتے ہوئے ، اسٹیڈیم فلائی اوور کے نیچے سے دائیں جانب سر شاہ سلیمان روڈ پر نیشنل کوچنگ سینٹر چائنا گراؤنڈ میں اپنی گاڑی پارک کریں گے اسی طرح سے نیو ٹاؤن سے آنے والے میڈیا حضرات اسٹیدیم روڈ (پیر صبغت اللہ شاہ راشدی روڈ) سے ہوتے ہوئے آغا خان اسپتال کے بعد بائیں جانب سر شاہ سلیمان روڈ پر نیشنل کوچنگ سینٹر چائنا گراؤنڈ میں اپنی گاڑیاں پارک کریں گے۔

    عوام کے لیے پارکنگ انتظامات کے حوالے سے ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں سے نیشنل اسٹیڈیم آنے والے شائقین جن کے پاس میچ کے ٹکٹ ہوںگے ان کے لیے ڈالمیا روڈ غریب نواز فٹبال گراؤنڈ میں پارکنگ کے انتظامات کیے گئے ہیں، پارکنگ کرنے کے لیے اصل شناختی کارڈ و میچ کا ٹکٹ دکھانا لازمی ہوگا جہاں پر شائقین اپنی گاڑی و موٹر سائیکل پارک کر سکیں گے اور جہاں سے بذریعہ شٹل سروس انھیں نیشنل اسٹیڈیم لیجایا جائیگا۔

    انگلش کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان این مورگن نے کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا

    ترجمان کے مطابق متبادل روٹ کے سلسلے میں دوران میچ لیاقت آباد 10 نمبر سے حسن اسکوائر پل جانب نیشنل اسٹیڈیم ٹریفک کو جانے کی اجازت نہیں دی جائیگی اسی طرح یونیورسٹی روڈ ایکسپو سینٹر ٹرننگ سے اسٹیڈیم کی جانب جانے والی سڑک ٹریفک کے لیے بند رہیگی جبکہ اسٹیڈیم روڈ سے جانب حسن اسکوائر ٹریفک چلتی رہیگی۔

    ترجمان کے مطابق ہیوی ٹریفک سہراب گوٹھ سے جانب نیپا ، لیاقت آباد نمبر 10 سے جانب حسن اسکوائر ، پی پی چورنگی سے جانب یونیورسٹی روڈ ، کارساز سے اسٹیڈیم ، ملینیم تا نیو ٹاؤن ، اسٹیڈیم سگنل تا حسن اسکوائر ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کا داخلہ ممنوع ہوگا۔

    ٹریفک پولیس نے عوام الناس سے گزارش کی ہے کہ وہ کسی بھی زحمت و پریشانی سے بچنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ٹریفک پولیس سے تعاون کریں جبکہ شہری اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو کسی سروس روڈ یا مین روڈ پر ہرگز پارک نہ کریں بلکہ دیے گئے پارکنگ مقامات پر ہی پارک کریں، شہری کسی بھی پریشانی کی صورت میں رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ٹریفک پولیس راہنما 1915 ملائیں۔

  • گورنر پنجاب نےانتخابات کی تاریخ دینے کے حوالے سے آج اجلاس طلب کرلیا

    گورنر پنجاب نےانتخابات کی تاریخ دینے کے حوالے سے آج اجلاس طلب کرلیا

    لاہور: گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے صوبائی اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ دینے کے حوالے سے آج اجلاس طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی: گورنر پنجاب نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے تناظر میں اجلاس طلب کیا ہے جس سلسلے میں گورنر ہاؤس کی جانب سے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو بھی مراسلہ جاری کرکے شرکت یقینی بنانےکی ہدایت کی گئی ہے۔

    پاک امریکا تعلقات میں کشیدگی کو کم کرنے کا مشن،امریکی وفد رواں ہفتے پاکستان کا دورہ کرے گا

    مراسلے کے مطابق اجلاس میں لاہورہائیکورٹ کے فیصلےکی روشنی میں الیکشن کی تاریخ کے حوالے سے مشاورت کی جائےگی۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان کا وفد پنجاب اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ دینے کے معاملے پر آج 12 بجے گورنر ہاؤس میں حکام سے ملاقات کرے گا۔

    ذرائع کے مطابق سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کی سربراہی میں وفد گورنر ہاؤس میں ملاقات کرے گا۔

    سندھ حکومت کا سکھرمیں پیپلز بس سروس شروع کرنے کا اعلان

    پنجاب میں الیکشن کی تاریخ نہ دینے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر کی گئی ہے،درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ صدر مملکت کو پنجاب الیکشن کی تاریخ دینے کا حکم دے، درخواست میں وفاقی حکومت، صدر ، گورنر پنجاب، نگران وزیر اعلیٰ کو فریق بنایا گیا-

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے 10 فروری کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کا حکم دیا،دوسری جانب عدالتی احکامات کے باوجود الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا-

    وزیراعظم شہباز شریف آج ایک روزہ دورے پر کراچی پہنچیں گے

  • معروف، ممتاز اور مقبول شاعر” کلیم عاجزؔ

    معروف، ممتاز اور مقبول شاعر” کلیم عاجزؔ

    دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
    تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

    کلیم عاجز

    پیدائش: 11اکتوبر 1924ء
    وفات: 14 فروری 2015ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کلاسیکی لب و لہجے کے لئے معروف، ممتاز اور مقبول شاعر” کلیم عاجزؔ صاحب “ کا یومِ ولادت…نام کلیم احمد اور تخلص عاجزؔ ہے۔ ١١ اکتوبر ۱۹۲٠ء میں قصبہ تلہاڑہ، ضلع پٹنہ میں پیدا ہوئے۔کلاس شروع ہوتے ہی والد کا انتقال ہوگیا،چنانچہ پڑھائی کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ ۱۹۴۶ء میں بہارمیں فساد کی آگ بھڑک اٹھی،گھر کے تمام افراد شہید کردیے گئے۔ ان جاں گسل حالات کا ذہن پر بہت برا اثر ہوا اور دنیا ومافیہا کی خبر نہ رہی۔لمبے وقفے کے بعد۱۹۵۶ء بی اے (آنرز)اور۱۹۵۸ء میں ایم اے کا امتحان دیا اور پوری یونیورسٹی میں اول آئے اور طلائی تمغہ حاصل کیا۔’’بہار میں اردو شاعری کے ارتقا‘‘ پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ۱۹۶۵ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔پٹنہ کالج، پٹنہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں ریڈر کے منصب پر فائز ہوئے۔ مسلم ہائی اسکول کے نویں جماعت میں جب زیر تعلیم تھے تو چند غزلیں لکھ کر اسکول کے ہیڈ مولوی ثمر آروی سے اصلاح لی۔پہلی او رآخری اصلاح یہی تھی۔ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’مجلسِ ادب‘، ’وہ جوشاعری کا سبب ہوا‘، ’جہاں خوش بو ہی خوش بو تھی‘، ’یہا ں سے کعبہ ، کعبے سے مدینہ‘، ’اک دیس ایک بدیسی‘۔بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:172

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آزمانا ہے تو آ بازو و دل کی قوت
    تو بھی شمشیر اٹھا ہم بھی غزل کہتے ہیں

    اپنا لہو بھر کر لوگوں کو بانٹ گئے پیمانے لوگ
    دنیا بھر کو یاد رہیں گے ہم جیسے دیوانے لوگ

    ہاں کچھ بھی تو دیرینہ محبت کا بھرم رکھ
    دل سے نہ آ دنیا کو دکھانے کے لئے آ

    دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
    تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

    مے میں کوئی خامی ہے نہ ساغر میں کوئی کھوٹ
    پینا نہیں آئے ہے تو چھلکائے چلو ہو

    مے کدے کی طرف چلا زاہد
    صبح کا بھولا شام گھر آیا

    اس قدر سوز کہاں اور کسی ساز میں
    کون یہ نغمہ سرا میر کے انداز میں ہے

    مری شاعری میں نہ رقص جام نہ مے کی رنگ فشانیاں
    وہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی کہانیاں

    تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں
    زندگی دردِ محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

    سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے
    اے حسن تیرے چاہنے والے کہاں گئے

    تو رئیس شہر ستم گراں میں گدائے کوچۂ عاشقاں
    تو امیر ہے تو بتا مجھے میں غریب ہوں تو برا ہے کیا

    یہ ستم کی محفل ناز ہے کلیمؔ اس کو اور سجائے جا
    وہ دکھائیں رقص ستم گری تو غزل کا ساز بجائے جا

    یہ طرز خاص ہے کوئی کہاں سے لائے گا
    جو ہم کہیں گے کسی سے کہا نہ جائے گا

    یہ وعظ وفاداری عاجزؔ نہ بدل دینا
    وہ زخم تجھے دیں گے تم ان کو غزل دینا

    ہم خاک نشیں تم سخن آرائے سر بام
    پاس آ کے ملو دور سے کیا بات کرو ہو

    یہ ستم کی محفل ناز ہے کلیمؔ اس کو اور سجائے جا
    وہ دکھائیں رقص ستم گری تو غزل کا ساز بجائے جا

    غم دل ہی کے ماروں کو غمِ ایام بھی دے دو
    غم اتنا لینے والے کیا اب اتنا غم نہیں لیں گے

    امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں
    عشق جب تک واقف آداب غم ہوتا نہیں

    حقیقتوں کا جلال دیں گے صداقتوں کا جمال دیں گے
    تجھے بھی ہم اے غم زمانہ غزل کے سانچے میں ڈھال دیں گے

    کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہے
    اب تو کچھ فیصلہ کر جانے کو جی چاہے ہے

    نظر کو آئنہ دل کو ترا شانہ بنا دیں گے
    تجھے ہم کیا سے کیا اے زُلفِ جانانہ بنا دیں گے

    شکایت ان سے کرنا گو مصیبت مول لینا ہے
    مگر عاجزؔ غزل ہم بے سنائے دم نہیں لیں گے

  • تحریک انصاف کی مقبولیت کے حقیقی ذمہ دار؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    تحریک انصاف کی مقبولیت کے حقیقی ذمہ دار؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    سابق آرمی چیف اور سابق وزیراعظم کی ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کی تکرار ان کے اپنے ہی جن عہدوں پر فائز رہے ہیں بے توقیری کا سبب بن رہے ہیں۔ سابق آرمی چیف اور سابق وزیراعظم کو ملکی سالمیت اور قومی وقار کو مد نظر رکھنا ہوگا۔ الزام تراشیوں میں مگن موجودہ حکمرانوں اور سابق حکمرانوں کو بھی اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیئے۔

    وقت آ پہنچا ہے کہ تمام اپنے گناہوں سے تائب ہر کر تعمیر وطن اور خدمت خلق کے جذبے سے کام کریں۔ ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس وطن عزیز کے وقار میں اضافہ قرضوں سے چھٹکارا ۔ ایک مستحکم پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ سیاست جس حد تک کھوکھلی اور عوام کی نظر میں بے نقاب ہو چکی ہے یا ہو رہی ہے اس کے اثرات ملک و قوم کے ساتھ ساتھ جمہوریت پر بھی پڑرہے ہیں۔ ملک میں جس طرح ایک جمہوری حکومت میں آئین کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے جو کبھی آمریت کے دور میں ہوتا تھا آج جمہوری دور میں آئین سے کھلواڑ سمجھ سے بالاتر ہے ۔

    نواز شریف اور مریم نواز جو بیانیہ پیش کررہے ہیں وہ ووٹ کو عزت ، انصاف اور عدل کی شفافیت انسانی حقوق کا بیانیہ ہے ۔ نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز جو بیانیہ عوام کے سامنے پیش کررہی ہیں اُن کی اپنی ہی جماعت میں ایسے اشخاص موجود ہیں جو اس بیانیے سے کوسوں دور ہیں جو مفاہمتی راستوں کی تلاش میں رہتے ہیں ۔

    بھٹو کو نہ صرف صوبہ سندھ بلکہ پورے پاکستان میں مقبولیت ملی تھی انہوں نے ووٹ کو عزت یعنی طاقت کا سرچشمہ عوام کا نعرہ لگایا تھا لیکن اس کو تاریخی المیہ ہی کہا جائے کہ بعد میں یعنی آج بھٹو کی جماعت چند ایک کو چھوڑ کر بیوپاری اس جماعت پر بُراجمان ہیں۔ بھٹو کی پیپلزپارٹی کا جو آج حال ہے وہ پاکستان تو کیا صرف صوبہ سندھ تک محدود ہو کررہی گئی ہے۔ کچھ اسی طرح کے راستوں پر نواز شریف کی جماعت چند ایک کو چھوڑ کر چل نکلی ہے ۔

    مریم نواز اپنے والد کی جماعت کی ساکھ بحال کرنے تو نکلی ہیں مگر آج (ن) لیگ میں بھی بیوپاری بُراجمان ہیں اس لئے آج عمران خان کی جماعت کا پنجاب میں طوطی بولتا ہے اگر عمران خان کی جماعت مقبول ہے تو اس کے ذمہ دار پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) دونوں ہیں ۔ سیاسی جماعتوں میں نظریات توپہلے ہی دفن ہو چکے ہیں جس کا خمیازہ سیاسی جماعتیں خود بھگت رہی ہیں۔

    (تجزیہ شہزاد قریشی)