Baaghi TV

Category: لاہور

  • حفاظتی ضمانت کیس: حلف نامے اور وکالت نامے پر عمران خان کےمختلف دستخط،معاملہ سنجیدہ ہے، نظر انداز نہیں کیا جاسکتا.لاہور ہائیکورٹ

    حفاظتی ضمانت کیس: حلف نامے اور وکالت نامے پر عمران خان کےمختلف دستخط،معاملہ سنجیدہ ہے، نظر انداز نہیں کیا جاسکتا.لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ نے حلف نامے اور وکالت نامے پر عمران خان کےمختلف دستخط کا نوٹس لے لیا۔

    باغی ٹی وی:اسلام آباد کی انسداد دہشتگری عدالت سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی عمران خان کی حفاظتی ضمانت کے لیے عمران خان کے وکلا جسٹس طارق سلیم شیخ کے روبرو پیش ہوئے، ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے عمران خان کی جانب سے اپنا وکالت نامہ جمع کرایا۔

    وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز سے میٹنگ چل رہی ہے، سکیورٹی پر پارٹی تحفظات ہیں،2 گھنٹے میں پوری کوشش ہےکہ عمران خان کسی طرح پہنچ سکیں۔

    عمران خان کے وکیل کی درخواست پر عدالت نے ساڑھے بارہ بجے تک وقفہ کردیا،عدالتی مہلت گزر گئی لیکن عمران خان لاہور ہائیکورٹ میں پیش نہ ہوئے، حفاظتی ضمانت کی درخواست پر دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایڈووکیٹ اظہر صدیق ہدایات لے کر آرہے ہیں، کچھ وقت دے دیں جس کے بعد عدالت نے سماعت میں دوسری مرتبہ وقفہ کردیا اور سماعت کے لیے 2 بجے کا وقت مقرر کردیا۔

    2 بجےعمران خان کی حفاظتی ضمانت کے لیے درخواست پر سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عمران خان کے وکیل اظہر صدیق اور معالج ڈاکٹر فیصل سلطان عدالت میں پیش ہوئے وکیل اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ ایک اور درخواست ضمانت دائر ہوئی ہے، ڈاکٹر سے میٹنگ ہوئی ہے، عدالت کے حکم پر عمل کے لیے تیار ہیں، ڈاکٹر طارق سلطان یہیں ہیں۔

    جسٹس طارق سلیم کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کونہیں سننا شرط ہے کہ عمران خان پہلے عدالت میں پیش ہوں وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ دوسری درخواست ضمانت کا انتظار کرلیں اس پر عدالت نےکہا کہ اس کے انتظار کی ضرورت نہیں، آپ موجودہ درخواست پر دلائل شروع کریں۔

    جسٹس طارق سلیم نے عمران خان کے وکیل اظہر صدیق سے مکالمہ کیا کہ ابھی ایک مسئلہ ہے، درخواست، حلف نامے اورآپ کے وکالت نامے پر عمران خان کے دستخط مختلف ہیں، دستخط کیسے مختلف ہوگئے۔

    عدالت کے استفسار پر وکیل نے کہا کہ مجھے وقت دیں، دیکھ لیتا ہوں، اس پر عدالت نے کہا کہ آپ ابھی دیکھ لیں،کسی نے یہ فراڈکی کوشش کی ہے، اس میں آپ کویا عمران خان کو توہین عدالت کا نوٹس دوں گا۔

    وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ میں موجودہ درخواست ضمانت واپس لینا چاہتا ہوں،عدالت نے عمران خان کے وکیل کی درخواست واپس لینے کی استدعا رد کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ درخواست واپس لینےکی اجازت نہیں دوں گاجب تک یہ معاملہ حل نہ ہوجائے۔

    عدالت کےریمارکس پر ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے دستخط مختلف ہونے پر جواب کے لیے وقت مانگ لیا جس پر عدالت نے کہا کہ معاملہ سنجیدہ ہے، نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اس درخواست کو التوا میں رکھ رہے ہیں۔

    عدالت نے سماعت 4 بجے تک ملتوی کردی۔

  • آمدن سے زائد اثاثہ جات :عثمان بزدار کی عبوری ضمانت منظور

    آمدن سے زائد اثاثہ جات :عثمان بزدار کی عبوری ضمانت منظور

    لاہور: احتساب عدالت لاہور نے آمدن سے زائد اثاثہ جات انکوائری میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی عبوری ضمانت منظور کرلی۔

    باغی ٹی وی: احتساب عدالت لاہور میں آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت ہوئی احتساب عدالت کی ایڈمن جج عظمیٰ اختر چغتائی نے درخواست پر سماعت کی۔

    سابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے گرفتاری کے خوف سے عبوری ضمانت آج صبح دائر کی تھی جس میں عثمان بزدار نے موقف اپنایا کہ پہلے نیب نے کہا تھا کہ عثمان بزدار کی گرفتاری مطلوب نہیں ہے اور اب نوٹس بھیج دیا ہے۔

    عثمان بزدار نے استدعا کی کہ نیب نے مجھے کال اَپ نوٹس بھیج دیا ہے جس پر گرفتاری کا ڈر ہے لہٰذا عبوری ضمانت منظور کی جائے۔

    سی سی پی او لاہور تبادلہ کیس: چیف الیکشن کمشنر کو عدالت نے طلب کر لیا

    عدالت نے نیب کو 27 فروری تک گرفتاری سے روکتے ہوئے عثمان بزادر کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا ہے جبکہ آئندہ سماعت پر نیب حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

    واضح رہے کہ نیب لاہور نے کرپشن سمیت دیگر الزامات میں عثمان بزدار کو آج پیش ہونے کا حکم دے رکھا تھا۔

    سی سی پی او لاہور تبادلہ کیس: چیف الیکشن کمشنر کو عدالت نے طلب کر لیا

  • عمران خان کی حفاظتی ضمانت،عدالت کا عمران خان کو ساڑھے بارہ بجے پیش ہونے کا حکم

    عمران خان کی حفاظتی ضمانت،عدالت کا عمران خان کو ساڑھے بارہ بجے پیش ہونے کا حکم

    لاہور: اسلام آباد کی انسداد دہشتگری عدالت (اے ٹی سی) سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ میں سماعت پر وقفہ کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: عمران خان کی حفاظتی ضمانت کے لیے عمران خان کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے جسٹس طارق سلیم شیخ نے سماعت کی، ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے عمران خان کی جانب سے اپنا وکالت نامہ جمع کرایا۔

    عمران خان چل نہیں سکتے تو ویل چیئر یا اسٹریچر پر عدالت آجائیں

    وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز سے میٹنگ چل رہی ہے، سکیورٹی پر پارٹی تحفظات ہیں،2 گھنٹے میں پوری کوشش ہےکہ عمران خان کسی طرح پہنچ سکیں۔

    عمران خان کے وکیل کی درخواست پر عدالت نے ساڑھے بارہ بجے تک وقفہ کردیا۔

    خیال رہےکہ گزشتہ روز انسداد دہشت گردی عدالت کے جج جواد عباس نے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج سے متعلق کیس میں عمران خان کی استثنیٰ کی درخواست خارج کردی تھی ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے عمران خان کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے گزشتہ رات 8بجے تک کا وقت دیا تھا تاہم عمران خان عدالت میں پیش نہ ہوئے ہیں۔

    رجیم چینج سے متعلق امریکا پر الزامات میں کوئی حقیقت نہیں،امریکا

    عدالت نے گزشتہ روز رات کو سوا آٹھ بجے دوبارہ کیس کی سماعت کی جس میں عمران خا ن کے وکیل نے ہائیکورٹ میں موقف اختیار کیا کہ عمران خان کو ڈاکٹر نے چلنے سے منع کیا ہے جس کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے ہیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو روز ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔ ہم نے عمران خان کو چلنے کے لیے نہیں کہا ہے۔ اگر عمران خان چل نہیں سکتے ہیں تو سٹریچر پر عدالت آجائیں۔ اور ایمبولینس تو انکی اپنی ہے۔ اس موقع پر وکیل کی جانب سے عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی بھی درخواست کی گئی جو کہ عدالت کی جانب سے مسترد کردی گئی تھی-

  • کوئٹہ سے پشاورجانے والی جعفر ایکسپریس میں دھماکا،ایک خاتون جاں بحق 4 مسافر زخمی

    کوئٹہ سے پشاورجانے والی جعفر ایکسپریس میں دھماکا،ایک خاتون جاں بحق 4 مسافر زخمی

    لاہور: چیچہ وطنی کے قریب کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس میں دھماکا ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: ریلوے ذرائع کے مطابق جعفر ایکسپریس میں دھماکے سے ایک خاتون جاں بحق اور 4 مسافر زخمی ہوگئے،دھماکا اکانومی کلاس کی بوگی نمبر 4 میں ہوا، دھماکےکی نوعیت معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

    پولیس کے مطابق ٹرین میں دھماکا میاں چنوں کی حدود میں ہوا جبکہ ٹرین ڈرائیور نے چیچہ وطنی ریلوے اسٹیشن کے قریب بریک لگائی۔ ٹرین میں 850 مسافر سفر کر رہے تھے۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق زخمیوں کو ٹی ایچ کیو چیچہ وطنی منتقل کر دیا دیا گیا جن میں ایک زخمی کی حالت تشویشناک ہے۔

    ریجنل پولیس آفیسر ساہیوال، ڈی پی او اور ضلعی افسران اطلاع ملتے ہیں دھماکے سے متاثرہ ٹرین میں پہنچ گئے۔

    پولیس کا کہنا ہےکہ سرچ آپریشن کے بعد ٹرین کی دیگر بوگیوں کو کلیئر قرار دے دیا گیا ہے ریلوے حکام کا کہنا ہےکہ جعفر ایکسپریس کو چیچہ وطنی ریلوے اسٹیشن پر روک لیا گیا ہے۔

    مسافر کا کہنا ہے کہ ٹرین میں دھماکے کے بعد ایمرجنسی چین کھینچتے رہے مگر عملے نے نظر انداز کیا۔

  • عمران خان چل نہیں سکتے تو ویل چیئر یا اسٹریچر پر عدالت آجائیں

    عمران خان چل نہیں سکتے تو ویل چیئر یا اسٹریچر پر عدالت آجائیں

    لاہور: ماہر قانون جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی نے کہا ہے کہ اگرعمران خان چل نہیں سکتے تو ویل چیئر یا اسٹریچر پر عدالت آسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ایک بیان میں جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی نے کہا کہ عمران خان کی عدالت میں حاضری لازمی ہے، ورنہ انہیں ضمانت نہیں مل سکتی قانون سب کیلئے برابر ہوتا ہے، عمران خان اپنے اصولوں کے خلاف جا رہے ہیں۔

    جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی کا کہنا تھا کہ اس کیس میں انہیں خود عدالت آنا چاہیے، اب عمران خان کیلئے کوئی بچت نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو پیشی کے بغیر حفاظتی ضمانت دینے سے انکار کردیا تھا۔

    عمران خان کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ عمران خان متعلقہ عدالت میں پیش ہونا چاہتےہیں، میڈیکل کے مطابق تین ہفتے تک عمران خان چل پھر نہیں سکتے لہٰذا میڈیکل گراؤنڈ پرحفاظتی ضمانت دےدیں۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ حفاظتی ضمانت کا قانون کیا ہے؟حفاظتی ضمانت میں ملزم کی پیشی ضروری ہے، زیادہ مسئلہ ہے تو ایمبولینس میں آ جائیں، قانون سب کیلئے برابر ہے، اصولی طورپر مجھے یہ درخواست خارج کردینی چاہیے لیکن رعایت دے رہا ہوں۔

    لاہور ہائیکورٹ نے عبوری ضمانت کے لیے عمران خان کو آج صبح 9 بجے تک عدالت میں پیش ہونے کی مہلت دے دی ہے۔ اس سے قبل ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے عمران خان کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے گزشتہ رات 8بجے تک کا وقت دیا تھا تاہم عمران خان عدالت میں پیش نہ ہوئے ہیں۔

    عدالت نے گزشتہ روز رات کو سوا آٹھ بجے دوبارہ کیس کی سماعت کی جس میں عمران خا ن کے وکیل نے ہائیکورٹ میں موقف اختیار کیا کہ عمران خان کو ڈاکٹر نے چلنے سے منع کیا ہے جس کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے ہیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو روز ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔ ہم نے عمران خان کو چلنے کے لیے نہیں کہا ہے۔ اگر عمران خان چل نہیں سکتے ہیں تو سٹریچر پر عدالت آجائیں۔ اور ایمبولینس تو انکی اپنی ہے۔ اس موقع پر وکیل کی جانب سے عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی بھی درخواست کی گئی جو کہ عدالت کی جانب سے مسترد کردی گئی۔

    عدالت میں عمران خان کے دیگر وکلا میں اظہر صدیق ایڈووکیٹ بھی پیش ہوئے اور بولنا چاہا تو ان کو جسٹس طارق سلیم شیخ نے روک دیا اور کہا کہ یہ ٹاک شو نہیں ہے اور عمران خان کی جانب سے پیش ہونے والے دیگر وکلا کو حکم دیا کہ آپ قانون پیش کریں۔

    جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ میری درخواست حفاظتی ضمانت کی ہے۔ ڈاکٹر نے عمران خان کو اجازت نہیں دی ہے، وہ زخمی بھی ہیں اور سکیورٹی ایشو بھی ہے۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ اگر آپ اس کو واپس لینا چاہتے ہیں تو لے لیں۔ عدالت نے کہا کہ سکیورٹی میں دلا دیتا ہوں۔

  • زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں

    زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں

    زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں
    پائوں پھیلائوں تو دیوار میں سر لگتا ہے

    بشیر بدر

    اصل نام سید محمد بشیر،ڈاکٹر 15فروری 1935ء ء کو کان پور میں پیدا ہوئے۔ اعلیٰ تعلیم علی گڑھ یونیورسٹی سے حاصل کی۔ ایم اے کے امتحان میں یونیورسٹی کے تمام شعبوں میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے پر ’’رادھا کرشن‘‘ ایوارڈ ملا۔’’آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ‘‘لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ پہلے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں تقرر ہوا۔ بعد میں میرٹھ یونیورسٹی سے وابستہ ہوگئے۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’اکائی‘، ’آسمان‘،’امیج‘، ’آہٹ‘، ’اللہ حافظ‘، ’آمد‘، ’بیسویں صدی میں اردو غزل‘، ’کلیات بشیر بدر‘ بھی شائع ہوگئی ہے۔ آپ کی غزلوں کا انتخاب ہندی میں ’’تمہارے لیے ‘‘ کے نام سے شائع ہوگیا ہے۔ اردواکیڈمی یوپی اور بہار اردو اکادمی نے ان کی کتابوں پر انعام دیا ہے ۔ میراکادمی نے ان کو ’’امتیاز میر‘‘ پیش کیا ہے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:170

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    وہ چہرا ساتھ ساتھ رہا جو ملا نہیں
    کس کو تلاش کرتے رہے کچھ پتہ نہیں
    شدت کی دھوپ، تیز ہواؤں کے با وجود
    میں شاخ سے گرا ہوں نظر سے گرا نہیں
    آخر غزل کا تاج محل بھی ہے مقبرہ
    ہم زندگی تھے ،ہم کو کسی نے جیا نہیں
    جس کی مخالفت ہوئی مشہور ہو گیا
    ان پتھروں سے کوئی پرندا گرا نہیں
    تاریکیوں میں اور چمکتی ہے دل کی دھوپ
    سورج تمام رات یہاں ڈوبتا نہیں
    کس نے جلائیں بستیاں،بازار کیوں لٹے
    میں چاند پر گیا تھا مجھے کچھ پتہ نہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    وہ چاندنی کا بدن خوشبوؤں کا سایہ ہے
    بہت عزیز ہمیں ہے مگر پرایا ہے

    اتر بھی آؤ کبھی آسماں کے زینے سے
    تمہیں خدا نے ہمارے لیے بنایا ہے

    کہاں سے آئی یہ خوشبو، یہ گھر کی خوشبو ہے
    اس اجنبی کے اندھیرے میں کون آیا ہے

    مہک رہی ہے زمیں چاندنی کے پھولوں سے
    خدا کسی کی محبت پہ مسکرایا ہے

    اسے کسی کی محبت کا اعتبار نہیں
    اسے زمانے نے شاید بہت ستایا ہے

    تمام عمر مرا دل اسی دھوئیں میں گھٹا
    وہ اک چراغ تھا میں نے اسے بجھایا ہے

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
    نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

    زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں
    پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے

    کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
    یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

    دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
    جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

    نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی
    بڑی آرزو تھی ملاقات کی

    ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں
    عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں

    یہاں لباس کی قیمت ہے آدمی کی نہیں
    مجھے گلاس بڑے دے شراب کم کر دے

    مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی
    کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی

    بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا
    جہاں دریا سمندر سے ملا دریا نہیں رہتا

    تم مجھے چھوڑ کے جاؤ گے تو مر جاؤں گا
    یوں کرو جانے سے پہلے مجھے پاگل کر دو

    محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا
    اگر گلے نہیں ملتا تو ہاتھ بھی نہ ملا

    کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
    یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو

    ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں
    دل ہمیشہ اداس رہتا ہے

    خدا کی اتنی بڑی کائنات میں میں نے
    بس ایک شخص کو مانگا مجھے وہی نہ ملا

    سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا
    اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا

    گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے
    بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا

    تم محبت کو کھیل کہتے ہو
    ہم نے برباد زندگی کر لی

    حسیں تو اور ہیں لیکن کوئی کہاں تجھ سا
    جو دل جلائے بہت پھر بھی دل ربا ہی لگے

    اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں
    پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے

    اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا
    مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا

    اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیری
    لوگ تجھ کو مرا محبوب سمجھتے ہوں گے

    گفتگو ان سے روز ہوتی ہے
    مدتوں سامنا نہیں ہوتا

    نہ تم ہوش میں ہو نہ ہم ہوش میں ہیں
    چلو مے کدہ میں وہیں بات ہوگی

    بھلا ہم ملے بھی تو کیا ملے وہی دوریاں وہی فاصلے
    نہ کبھی ہمارے قدم بڑھے نہ کبھی تمہاری جھجک گئی

    ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا
    تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو

    اسی شہر میں کئی سال سے مرے کچھ قریبی عزیز ہیں
    انہیں میری کوئی خبر نہیں مجھے ان کا کوئی پتہ نہیں

    شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے
    جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے

    عاشقی میں بہت ضروری ہے
    بے وفائی کبھی کبھی کرنا

    آنکھوں میں رہا، دل میں اتر کر نہیں دیکھا
    کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا

    پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا
    میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا

    لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
    تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

    بھول شاید بہت بڑی کر لی
    دل نے دنیا سے دوستی کر لی

    میں جب سو جاؤں ان آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دینا
    یقیں آ جائے گا پلکوں تلے بھی دل دھڑکتا ہے

    وہ چہرہ کتابی رہا سامنے
    بڑی خوب صورت پڑھائی ہوئی

    دشمنی کا سفر اک قدم دو قدم
    تم بھی تھک جاؤ گے ہم بھی تھک جائیں گے

    تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گا
    مگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا

    اسی لئے تو یہاں اب بھی اجنبی ہوں میں
    تمام لوگ فرشتے ہیں آدمی ہوں میں

    جی بہت چاہتا ہے سچ بولیں
    کیا کریں حوصلہ نہیں ہوتا

    پتھر کے جگر والو غم میں وہ روانی ہے
    خود راہ بنا لے گا بہتا ہوا پانی ہے

    محبت ایک خوشبو ہے ہمیشہ ساتھ چلتی ہے
    کوئی انسان تنہائی میں بھی تنہا نہیں رہتا

    اچھا تمہارے شہر کا دستور ہو گیا
    جس کو گلے لگا لیا وہ دور ہو گیا

    کبھی کبھی تو چھلک پڑتی ہیں یوں ہی آنکھیں
    اداس ہونے کا کوئی سبب نہیں ہوتا

    عجب چراغ ہوں دن رات جلتا رہتا ہوں
    میں تھک گیا ہوں ہوا سے کہو بجھائے مجھے

    سات صندوقوں میں بھر کر دفن کر دو نفرتیں
    آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت

    ایک عورت سے وفا کرنے کا یہ تحفہ ملا
    جانے کتنی عورتوں کی بد دعائیں ساتھ ہیں

    اگر فرصت ملے پانی کی تحریروں کو پڑھ لینا
    ہر اک دریا ہزاروں سال کا افسانہ لکھتا ہے

    بہت دنوں سے مرے ساتھ تھی مگر کل شام
    مجھے پتا چلا وہ کتنی خوب صورت ہے

    خدا ایسے احساس کا نام ہے
    رہے سامنے اور دکھائی نہ دے

    رونے والوں نے اٹھا رکھا تھا گھر سر پر مگر
    عمر بھر کا جاگنے والا پڑا سوتا رہا

    جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے
    آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا

    دل کی بستی پرانی دلی ہے
    جو بھی گزرا ہے اس نے لوٹا ہے

    تری آرزو تری جستجو میں بھٹک رہا تھا گلی گلی
    مری داستاں تری زلف ہے جو بکھر بکھر کے سنور گئی

    کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے
    تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے

  • اکبرالہ آبادی کا یوم وفات

    اکبرالہ آبادی کا یوم وفات

    رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جاجا کے تھانے میں
    کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں

    اکبر الہ آبادی

    اکبر کی شاعری اور ان کی شعری زبان آج بھی سیاسی ڈسکورس کا حصہ بنتی نظر آتی ہے ،تو ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ان کی شاعری میں طلوع ہونے والی آنکھ کتنی دور دیکھ رہی تھی ۔

    لسان العصراکبرالہ آبادی(سیداکبرحسین رضوی (1921-1846)الہ آباد کےقصبےبارہ میں پیدا ہوئےطنزیہ اورمزاحیہ شاعری کےلیے مشہور اکبرکی ملازمت عرضی نویسی سےشروع ہوکروکالت،پھرسیشن جج کےعہدےپرختم ہوتی ہے ۔ان کادورنوآبادیاتی دورہے،اورشاید یہ اس دور کا ہی اثر تھا، جس نےداغ اور امیر مینائی کے رنگ میں روایتی غزل کہنے والے اکبر کی شاعری کا اندازہی بدل دیا۔ ان کی شاعری اسی بدلے ہوئے رنگ کی شاعری ہے جس میں اکبر کا عہد سانس لیتا ہے-

    طفل میں بو آئے کیا ماں باپ کے اطوار کی
    دودھ تو ڈبے کا ہے تعلیم ہے سرکار کی
    کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیا
    جب کوئی تقریر کی جلسے میں لیڈر بن گیا

    شاعری سے قطع نظر اگر اکبر کی زندگی یا شخصیت کی بات کریں تو ایسے کئی سوال اٹھائے جا سکتے ہیں،جن پر مکالمہ قائم کیا جا سکتا ہے ۔ مثلاًاکبر نے دو شادیاں کیں، اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے ساتھ ان کا رویہ اچھا نہیں تھا۔ دوسرے 1898میں برطانیہ حکومت سے ’خان بہادر‘کا خطاب لیا،پھر 1903میں اپنی دوسری بیوی کے بیٹے سید عشرت حسین رضوی کو اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان بھیجا، جہاں ان کے بیٹے نے 3 سال کی پڑھائی کوختم کرنے میں 7سال لگا دیے اور واپس اس وقت آئے جب اکبر نے انھیں خرچ دینےسے منع کر دیا، خود اکبر نے اپنے ایک شعر میں اس کی طرف اشارہ کیاہے-

    عشرتی گھر کی محبت کا مزا بھول گئے
    کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے

    ان سوالات کی اہمیت اپنی جگہ،لیکن یہ بات شاید اس سے زیادہ اہم ہے کہ ان کی شاعری ہندوستان میں بہہ رہی لندنی ہوا سے پھیلنے والے امراض کی صرف نشاندہی نہیں کرتی بلکہ اس کے دیر پا اثرات سے بھی خبردار کرتی ہے-

    افسوس ہے گلشن کو خزاں لوٹ رہی ہے
    شاخ گل تر سوکھ کے اب ٹوٹ رہی ہے
    ہند سے آپ کو ہجرت ہو مبارک اکبر
    ہم تو گنگا ہی پہ مار کے آسن بیٹھے
    میں کہتا ہوں ہندو مسلمان سے کہ بھائی
    موجوں کی طرح لڑومگر ایک رہو

    اکبر کی شاعری اس انسان کے احساسات و جذبات کی ترجمانی ہےجو غیرمعمولی ذہن رکھتا ہے۔وہ پرانی قدروں سے محبت بھی کرتا ہے اور زمانے کے مزاج کو بھی دیکھ رہا ہے،لوگوں کے متغیر کردارکودیکھ رہا ہےاوروہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس میں اتنی قوت نہیں کہ وہ حکومت کا تختہ پلٹ دے ،لیکن وہ اس کو چپ چاپ قبول کر لینے کو تیار نہیں ہے۔ لہذا وہ انگریزی تہذیب پر ہنستا ہے ،طنز کرتا ہے ،اس کامذاق اڑاتا ہے ۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ قدیم وجدید کی اس لڑائی میں نقصان صرف ہندوستانیوں کا ہی ہے-

    قدیم و ضع پہ قائم ہوں میں اگر اکبر
    تو صاف کہتے ہیں سید یہ رنگ ہے میلا
    جدید طرز اگر اختیار کرتا ہوں
    تو اپنی قوم مچاتی ہے شور واویلا
    غرض دو گونہ عذاب است جان مجنوں را
    بلائے صحبت ِ لیلیٰ و فرقت لیلیٰ

    اکبر اپنے دور میں اتنے مقبول شاعر تھے کہ ان کے اشعار عوام میں ضرب المثل بن گئے تھے۔عموما ًانھیں رجعت پسند کہا جاتا ہے ، لیکن اکبر اپنی شاعری میں ایسےشخص نظر آتےہیں جوبدلتی ہوئی قدروں پر گہری نظررکھتاہے اوراسی وقت ان تبدیلیوں کی آہٹ کو بھی سن رہا ہے جو آنے والے وقتوں میں ہندوستان کی تصویر بدلنے والا تھا۔اکبرنوآبادیاتی سیاست اوراس کے مضر اثرات کو بھی سمجھ رہے تھے۔ اس کا اظہار ان کی شاعری میں کھل کر ہواہے۔ جب اکبر جوڈیشل سروس میں تھے اس وقت بھی ان کی شاعری میں حکومت کے خلاف شدیداحتجاجی بیانیہ اپنی راہ بنا رہا تھا۔یہ اور بات ہے کہ انھوں نے اس پر طنز و مزاح کا شوخ رنگ چڑھا دیا تھا-

    نیٹو نہیں ہو سکتے جو گورے تو ہے کیا غم
    گورے بھی تو بندے سے خدا ہو نہیں سکتے
    یا الہی یہ کیسے بندر ہیں
    ارتقا پر بھی آدمی نہ ہوئے

    ان کی شاعری کو پڑھ کر لگتا ہے کہ اپنےثقافتی اقدار کا ایسا مرثیہ کوئی ’رجعت پسند‘ہی پڑھ سکتا ہے،جو نوآبادیاتی نظام کے زیر اثر مر رہی تھی-
    اب کہاں ذہن میں باقی ہیں براق و رفرف
    ٹکٹی بندھ گئی ہے قوم کی انجن کی طرف
    اس قوم سے وہ عادت دیرینہ طاعت
    بالکل نہیں چھوٹی ہے مگر چھوٹ رہی ہے

    اکبرکی شاعری میں ریل، انجن،موٹر،ایروپلین ،کمپ (Camp)،پمپ،جیسی دوسری ‘جدید’اشیا کاعلامتی استعمال،ان کی پس نوآبادیاتی (Postcolonial) فکر کا علامیہ ہے۔انھوں نے اپنی شاعری میں ان تمام اشیاکو ایسی علامتوں کے طور پر استعمال کیا ہے جو ہندوستان کی ترقی کے نام پر نوآبادیاتی نظام کے استحکام سے عبارت تھیں۔

    آج ہم سب اس حقیقت سے واقف ہیں کہ انگریزوں نے اگر ہندوستان میں ریل چلائی تو اس کے پیچھے ان کا مقصد ہندوستان کی ترقی نہیں بلکہ ان اندرونی علاقوں تک رسائی حاصل کرنا تھی،جہاں خام مال کا ذخیرہ موجود تھا۔یہی خام مال برطانیہ میں آئے صنعتی انقلاب میں کیا اہمیت رکھتا ہے ، اس کوتاریخ کی کتابوں میں آسانی سے پڑھا جا سکتا ہے ،اس کے علاوہ اس عمل نے ہندوستان کی صنعتی ترقی پر کیا اثر ڈالا یہ بات بھی اب چھپی نہیں۔

    نوآبادیاتی دور میں یہ سمجھنا اتنا آسان نہیں تھا، جبکہ اس وقت ہر کوئی آسانی سے’ نوآبادیاتی چکر‘ کا شکار ہو رہا تھا۔ اس نقطہ نظر کو دھیان میں رکھ کر جب ہم اکبر کی شاعری سے معاملہ کرتے ہیں تو نوآبادیاتی ڈسکورس کے خلاف اکبر کا احتجاج اتنا سطحی نہیں لگتا جتنا باور کرایا جاتا ہے۔اکبر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ رجعت پسند تھے اورجدید تعلیم کے خلاف تھے۔حالاں کہ اکبر اس وقت بھی نوآبادیاتی نقاب کے پیچھے چھپی سچائی کو جانتے تھے ،جب سر سید حالی اور آزاد مغربی تعلیم حاصل کرنے کو زندگی کا اول و آخر مقصد تسلیم کر چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اکبر پس نوآبادیاتی مطالعات کی ایک اہم آواز ہیں اور ان کی شاعری پس نوآبادیاتی ردعمل کا شدید بیانیہ ہے ؛
    مرعوب ہو گئے ہیں ولایت سے شیخ جی
    اب صرف منع کرتے ہیں دیسی شراب کو

    اکبر جانتے تھے کہ انگریز ہندوستانی ذہن کو ناکارہ بنا رہا ہے۔جدید تعلیم اور تہذیب کے نام پر جو چیزیں ہمیں دکھا رہا ہے ، ان کا تعلق صرف اور صرف اس کا ذاتی مفاد ہےاور کچھ نہیں۔اکبر اوردوسرے لوگ اپنی جو پہچان مذہب میں تلاش رہے تھے وہ بھی نوآبادیات کے’محدودو تشخص’ کی ایک چال کہی جا سکتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اکبر نوآبادیاتی حکمت عملی کو بخوبی سمجھتے تھے۔نظم ‘برق کلیسا’ میں شامل ان کے ان ا شعار میں چھپے طنز کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے-

    مجھ پہ کچھ وجہ عتابا آپ کو اے جان نہیں
    نام ہی نام ہے ورنہ میں مسلمان نہیں
    میرے اسلام کو اک قصہ ماضی سمجھو
    ہنس کہ بولی کہ تو پھر مجھ کو بھی راضی سمجھو

    حسن عسکری نے اکبر کو اردو کا ’جدید ترین شاعر‘ کہا ہے تو شمس الرحمن فاروقی انھیں پہلے شخص کے طور پر یاد کرتے ہیں جنھوں نے نوآبادیات کی حقیقت کو بہت پہلے ہی سمجھ لیا تھا-

    اکبر پہلے شخص ہیں جن کو بدلتے ہوئے زمانے ،اس زمانے میں اپنی تہذیبی اقدار کے لئے خطرہ، اور انگریزی تعلیم و ترقی کو انگریزی سامراج کے قوت مند ہتھیارہونے کا احساس شدت سے تھا اور انہوں نے اس کے مضمرات کو بہت پہلے دیکھ لیا تھا ۔ اس معاملے میں مہاتما گاندھی اور اقبال بھی ان کے بعد ہیں۔

    مزید لکھتے ہیں؛’مغربی تہذیب کے لئے اکبر نے بعض الفاظ وضع کئے مثلاًبرگڈ(Brigade)،کمپ (Camp)،توپ ،انجن ،وغیرہ جو علامت کا حکم رکھتے ہیں اور جن کی کارفرمائی ہم آج بھی دیکھ سکتے ہیں ۔برگڈ سے ان کی مراد وہ ہندوستانی تھے جو انگریزوں کے وفادار تھے۔اور کیمپ سے ان کی مراد مغربی معاشرت تھی ۔

    توپ ،استعماری قوت کے اظہار اور انجن اس قوت کو پھیلانے والے ذرائع کا استعارہ ہیں ۔‘عسکری صاحب نے بہت درست کہا ہے کہ’اکبر اس زمانے میں واحد شخص تھے جنہوں نے انگریزوں کی لائی ہوئی چیزوں میں استعارے اور علامتیں دیکھیں اور اکبر کے سوا کوئی ایسا نہ ہوا جو ’نشان‘کو ’علامت ‘کا درجہ دینے میں کامیاب ہوا ہو۔‘علامت کی اپنی اہمیت ہے جو معنوی سیاق کو وسعت عطا کرتی ہے۔ لیکن ہم ان الفاظ کو علامت کے علاوہ یوں بھی دیکھیں تو اس کی معنوی اہمیت کم نہیں ہوتی-

    ازراہ تعلق کوئی جوڑا کرے رشتہ
    انگریز تو نیٹو کے چچا ہو نہیں سکتے
    ہم ہوں جو کلکٹر تو وہ ہو جائیں کمشنر
    ہم ان سے کبھی عہدہ براہو نہیں سکتے

    انگریزوں کا مقصد ظاہر ہے ہندوستان کی ترقی کسی صورت نہ تھا۔ ہاں اگر اس سے تھوڑا بہت فرق پڑبھی گیا ’ترقی‘کے خانے میں تو اسے ترقی قرار دینا نادانی ہے کہ یہ ترقی برسوں کے استحصال اور ہندوستان کی لوٹ پاٹ کے سامنے ’ترقی‘تو کسی بھی طور پر نہیں کہی جا سکتی۔ انگریزوں کی آمد اور ان کے دور حکومت میں ہندوستانیوں کا استحصال کسی بھی ’ترقی‘سے زیادہ بڑا اور افسوس ناک المیہ ہے۔ اکبر ان چیزوں سے باخبر تھے اور نئے ہندوستان میں ہندوستانیوں کی تصویر یوں اتار رہے تھے-

    میری نصیحتوں کو سن کر وہ شوخ بولا
    نیٹو کی کیا سند ہے صاحب کہیں تو مانوں

    ‘نیٹو’اور ‘صاحب’کے درمیان کادوجاپن(otherness)اور اس کی پوری نفسیات کو اس ایک شعر میں اکبر نے بہت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔یہاں Hybridاشخاص کی وہ ذہنیت بھی دیکھی جا سکتی ہے جس کے تحت ان میں حاکم کا ‘دوجا’ رویہ (otherness) بھی شامل ہو جاتا ہے۔ گویا اس کی نظر میں اپنے ہندوستانی بھائی بہن ہی ‘نیٹو ‘(کالے)بن جاتے ہیں۔ایک شعر اورملاحظہ کریں-

    مٹاتے ہیں جو وہ ہم کو تو اپنا کام کرتے ہیں
    مجھے حیرت تو ان پر ہے جو اس مٹنے پہ مٹتے ہیں

    اکبر نہ صرف حاکم کی سیاسی پالیسی، نوآبادیاتی بیانیہ اور اس کے پس پشت کام کر رہے عناصر سے واقف تھے بلکہ محکوم قوم کی نفسیاتی حالت کا بھی انھیں بخوبی اندازہ تھا۔یوں اکبر کا شعری بیانیہ پس نوآبادیات کی مستحکم آواز کہا جا سکتا ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ تعلیم یا ترقی کے مخالف نہیں تھے بلکہ نوآبادیاتی نظام اور اس کے متعلقات کے خلاف تھے۔ وہ طنز و مزاح کے بڑے اور غیر معمولی شاعر اسی لیے بھی ہیں کہ انہوں نے پس نوآبادیاتی بیانیہ کی شعری زبان دریافت کی اور اس میں ظلم وجبر کے علائم کو خلق کر دیا ۔یہ وہ شعری بیانیہ ہے جن میں تاریخی صداقتوں کی طرح تعصب نہیں ہے ،اپنوں کا درد ہے اور اس میں زندگی کر نے کا حوصلہ بھی-

    چیز وہ ہے بنے جو یورپ میں
    بات وہ ہے جو پانیر میں چھپے

    ہماری تہذیب و ثقافت کے سارے تذکرے اب صرف کتابوں کی زینت ہو کر رہ گئےہیں۔ ہم نے خود اپنے ہی ہاتھوں ان کا گلا گھونٹا۔ دیکھیے اکبر کیا کہتے ہیں-

    ہماری اصطلاحوں سے زباں نا آشنا ہوگی
    لغات مغربی بازار کی بھاشا سے ضم ہوں گے
    بدل جائے گا معیار شرافت چشم دنیا میں
    زیادہ تھے جو اپنے زعم میں وہ سب سے کم ہوں گے
    گزشتہ عظمتوں کے تذکرے بھی رہ نہ جائیں گے
    کتابوں میں ہی دفن افسانہ جاہ و حشم ہوں گے

    اکبر کایہ شعری بیانیہ ہمارے زمانے کی سچائی ہے اور کئی زمانوں کی ہمعصر تاریخ بھی اس میں گویا ہے۔ نوآبادیات نے ہندوستان کی ہندوستانیت کو بدل دیا ۔ تہذیب و ثقافت کو مسخ کیا اور’کلچر‘کو نئے معنی دیے۔صرف یورپی کلچر’کلچر‘قرار پایا۔ہم آج بھی اس سے نبردآزماہیں اور تاریخی سیاق بدل جانے کے بعد بھی ان کے شعر بامعنی ہیں-

    قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
    رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ

    اس طرح کی شاعری اور ان کی شعری زبان آج بھی سیاسی ڈسکورس کا حصہ بنتی نظر آتی ہے ،تو ہمیں غور کرنا چاہیے کہ اکبر کی شاعری میں طلوع ہونے والی آنکھ کتنی دور دیکھ رہی تھی۔

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام
    وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

    عشق نازک مزاج ہے بے حد
    عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا

    دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
    بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں

    حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
    حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا

    جو کہا میں نے کہ پیار آتا ہے مجھ کو تم پر
    ہنس کے کہنے لگا اور آپ کو آتا کیا ہے

    مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں
    فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

    پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا
    لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہو گئے

    آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت
    مجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی

    رہتا ہے عبادت میں ہمیں موت کا کھٹکا
    ہم یاد خدا کرتے ہیں کر لے نہ خدا یاد

    لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کو
    مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں

    اکبر دبے نہیں کسی سلطاں کی فوج سے
    لیکن شہید ہو گئے بیوی کی نوج سے

    ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
    ڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے

    الٰہی کیسی کیسی صورتیں تو نے بنائی ہیں
    کہ ہر صورت کلیجے سے لگا لینے کے قابل ہے

    میں بھی گریجویٹ ہوں تم بھی گریجویٹ
    علمی مباحثے ہوں ذرا پاس آ کے لیٹ

    بس جان گیا میں تری پہچان یہی ہے
    تو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا

    بی.اے. بھی پاس ہوں ملے بی بی بھی دل پسند
    محنت کی ہے وہ بات یہ قسمت کی بات ہے

    آہ جو دل سے نکالی جائے گی
    کیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی

    لپٹ بھی جا نہ رک اکبرؔ غضب کی بیوٹی ہے
    نہیں نہیں پہ نہ جا یہ حیا کی ڈیوٹی ہے

    ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں
    کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں

    غضب ہے وہ ضدی بڑے ہو گئے
    میں لیٹا تو اٹھ کے کھڑے ہو گئے

    خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہے اے اکبرؔ
    یہی وہ در ہے کہ ذلت نہیں سوال کے بعد

    کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
    جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو

    ہم کیا کہیں احباب کیا کار نمایاں کر گئے
    بی اے ہوئے نوکر ہوئے پنشن ملی پھر مر گئے

    عشق کے اظہار میں ہر چند رسوائی تو ہے
    پر کروں کیا اب طبیعت آپ پر آئی تو ہے

    جب میں کہتا ہوں کہ یا اللہ میرا حال دیکھ
    حکم ہوتا ہے کہ اپنا نامۂ اعمال دیکھ

    اس قدر تھا کھٹملوں کا چارپائی میں ہجوم
    وصل کا دل سے مرے ارمان رخصت ہو گیا

    دھمکا کے بوسے لوں گا رخ رشک ماہ کا
    چندا وصول ہوتا ہے صاحب دباؤ سے

    جو وقت ختنہ میں چیخا تو نائی نے کہا ہنس کر
    مسلمانی میں طاقت خون ہی بہنے سے آتی ہے

    طفل میں بو آئے کیا ماں باپ کے اطوار کی
    دودھ تو ڈبے کا ہے تعلیم ہے سرکار کی

    بتاؤں آپ کو مرنے کے بعد کیا ہوگا
    پلاؤ کھائیں گے احباب فاتحہ ہوگا

    مے بھی ہوٹل میں پیو چندہ بھی دو مسجد میں
    شیخ بھی خوش رہیں شیطان بھی بے زار نہ ہو

    محبت کا تم سے اثر کیا کہوں
    نظر مل گئی دل دھڑکنے لگا

    عشوہ بھی ہے شوخی بھی تبسم بھی حیا بھی
    ظالم میں اور اک بات ہے اس سب کے سوا بھی

    کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیا
    جب کوئی تقریر کی جلسے میں لیڈر بن گیا

    وصل ہو یا فراق ہو اکبرؔ
    جاگنا رات بھر مصیبت ہے

    رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
    کہ اکبرؔ نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں

    قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
    رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ

    لیڈروں کی دھوم ہے اور فالوور کوئی نہیں
    سب تو جنرل ہیں یہاں آخر سپاہی کون ہے

    بوڑھوں کے ساتھ لوگ کہاں تک وفا کریں
    بوڑھوں کو بھی جو موت نہ آئے تو کیا کریں

    سو جان سے ہو جاؤں گا راضی میں سزا پر
    پہلے وہ مجھے اپنا گنہ گار تو کر لے

    جب غم ہوا چڑھا لیں دو بوتلیں اکٹھی
    ملا کی دوڑ مسجد اکبرؔ کی دوڑ بھٹی

    ناز کیا اس پہ جو بدلا ہے زمانے نے تمہیں
    مرد ہیں وہ جو زمانے کو بدل دیتے ہیں

    دل وہ ہے کہ فریاد سے لبریز ہے ہر وقت
    ہم وہ ہیں کہ کچھ منہ سے نکلنے نہیں دیتے

    شیخ اپنی رگ کو کیا کریں ریشے کو کیا کریں
    مذہب کے جھگڑے چھوڑیں تو پیشے کو کیا کریں

  • کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ ، ہم کو جینے کی بھی امید نہیں

    کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ ، ہم کو جینے کی بھی امید نہیں

    ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالب کو نہ جانے
    شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے

    نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (27دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک ہیں۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کاا صل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے، اس میں انھوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔
    مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ خاں تھا۔ باپ کا نام عبداللہ بیگ تھا ۔ آپ 27 دسمبر 1797ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہوگئے۔ نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا۔ 1810ء میں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہٰی بخش خاں معروف کی بیٹی امراءبیگم سے ہو گئی شادی کے بعد انھوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔
    شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہوگئے۔ اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور 1850ء میں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50 روپے ماہور مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا۔
    غدر کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہو گئی ۔ چنانچہ انقلاب 1857ء کے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے لکھا انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادم حیات ملتا رہا۔ کثرتِ شراب نوشی کی بدولت ان کی صحت بالکل تباہ ہو گئی مرنے سے پہلے بے ہوشی طاری رہی اور اسی حالت میں 15 فروری 1869ء کو ان کی وفات ہوئی۔

    مرزا اسد اللہ خان غالب کی شاعری سے انتخاب

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
    دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

    عشق نے غالبؔ نکما کر دیا
    ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

    محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
    اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

    اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
    لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
    بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

    ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
    وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

    یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
    اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

    رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
    جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

    عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ
    کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

    عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
    درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

    وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
    کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

    نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
    ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

    بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ
    کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے

    ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
    جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

    رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
    مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

    آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
    ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

    ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ
    کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا

    ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
    کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور

    آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک
    کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک

    بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
    آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

    دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
    روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستاے کیوں

    عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
    درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا

    موت کا ایک دن معین ہے
    نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

    یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
    کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا

    ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
    خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک

    بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
    ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

    پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
    کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

    میری قسمت میں غم گر اتنا تھا
    دل بھی یارب کئی دیے ہوتے

    کعبہ کس منہ سے جاؤگے غالبؔ
    شرم تم کو مگر نہیں آتی

    آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
    اب کسی بات پر نہیں آتی

    کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے
    مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

    درد منت کش دوا نہ ہوا
    میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا

    کب وہ سنتا ہے کہانی میری
    اور پھر وہ بھی زبانی میری

    کرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہ
    کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے

    جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن
    بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

    مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
    موت آتی ہے پر نہیں آتی

    ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
    کچھ ہماری خبر نہیں آتی

    آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
    صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا

    ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
    تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے

    پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں
    پھر وہی زندگی ہماری ہے

    کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
    یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

    کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
    پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

    کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ
    ہم کو جینے کی بھی امید نہیں

    ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے
    شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے

    صادق ہوں اپنے قول کا غالبؔ خدا گواہ
    کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

    غالبؔ برا نہ مان جو واعظ برا کہے
    ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے

    کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
    ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

    قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
    رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

    کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
    گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا

  • ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

    ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالب کو نہ جانے
    شاعر تو وہ اچھا ہے پر بدنام بہت ہے

    مرزا غالب

    نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (27دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک ہیں۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کاا صل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے، اس میں انھوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔

    مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ خاں تھا۔ باپ کا نام عبداللہ بیگ تھا ۔ آپ 27 دسمبر 1797ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہوگئے۔ نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا۔ 1810ء میں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہٰی بخش خاں معروف کی بیٹی امراءبیگم سے ہو گئی شادی کے بعد انھوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔

    شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہوگئے۔ اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور 1850ء میں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50 روپے ماہور مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا۔

    غدر کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہو گئی ۔ چنانچہ انقلاب 1857ء کے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے لکھا انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادم حیات ملتا رہا۔ کثرتِ شراب نوشی کی بدولت ان کی صحت بالکل تباہ ہو گئی مرنے سے پہلے بے ہوشی طاری رہی اور اسی حالت میں 15 فروری 1869ء کو ان کی وفات ہوئی۔

    مرزا اسد اللہ خان غالب کی شاعری سے انتخاب

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
    دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

    عشق نے غالبؔ نکما کر دیا
    ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

    محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
    اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

    اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
    لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
    بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

    ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
    وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

    یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
    اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

    رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
    جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

    عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ
    کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

    عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
    درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

    وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
    کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

    نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
    ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

    بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ
    کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے

    ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
    جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

    رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
    مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

    آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
    ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

    ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ
    کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا

    ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
    کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور

    آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک
    کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک

    بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
    آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

    دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
    روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستاے کیوں

    عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
    درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا

    موت کا ایک دن معین ہے
    نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

    یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
    کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا

    ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
    خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک

    بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
    ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

    پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
    کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

    میری قسمت میں غم گر اتنا تھا
    دل بھی یارب کئی دیے ہوتے

    کعبہ کس منہ سے جاؤگے غالبؔ
    شرم تم کو مگر نہیں آتی

    آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
    اب کسی بات پر نہیں آتی

    کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے
    مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

    درد منت کش دوا نہ ہوا
    میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا

    کب وہ سنتا ہے کہانی میری
    اور پھر وہ بھی زبانی میری

    کرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہ
    کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے

    جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن
    بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

    مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
    موت آتی ہے پر نہیں آتی

    ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
    کچھ ہماری خبر نہیں آتی

    آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
    صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا

    ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
    تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے

    پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں
    پھر وہی زندگی ہماری ہے

    کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
    یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

    کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
    پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

    کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ
    ہم کو جینے کی بھی امید نہیں

    ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے
    شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے

    صادق ہوں اپنے قول کا غالبؔ خدا گواہ
    کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

    غالبؔ برا نہ مان جو واعظ برا کہے
    ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے

    کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
    ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

    قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
    رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

    کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
    گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا

  • پی ایس ایل کو دنیا کی دوسری بڑی لیگ سمجھتا ہوں، آکاش چوپڑا

    پی ایس ایل کو دنیا کی دوسری بڑی لیگ سمجھتا ہوں، آکاش چوپڑا

    لاہور:سابق بھارتی کرکٹر اور کمنٹیٹر آکاش چوپڑا نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی تعریف کردی۔سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر بھارتی کمنٹیٹر آکاش چوپڑا نے لکھا کہ انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کے بعد پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کو دنیا کی دوسری بڑی لیگ سمجھتا ہوں۔

    انہوں نے لکھا کہ جنوبی افریقہ کی پریمئیر لیگ بہت اچھی رہی، جہاں ہمیں دلچسپ مقابلے دیکھنے کو ملے تاہم آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ اور ویسٹ انڈیز کی کیریبین پریمئیر لیگ ابھی بہت پیچھے ہیں۔

    قبل ازیں آکاش چوپڑا نے پاکستان کا آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ کیلئے بھارت آنے کا دعویٰ کیا تھا۔دوسری جانب پی سی بی منجمنٹ کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ ایشیاکپ کیلئے اگر بھارتی ٹیم پاکستان نہیں آتی تو ہم ورلڈکپ کیلئے ہندوستان نہیں جائیں گے۔

    ادھرجیمز نیشم اور شکیب الحسن کی صورت میں پشاور زلمی کے لیے مزید کمک کراچی پہنچ گئی۔گزشتہ دنوں پا کستان سپرلیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز پشاور زلمی نے لیگ کے آٹھویں ایڈیشن کے لئیے بنگلا دیش کے آل راؤنڈرشکیب الحسن اورنیوزی لینڈ کے کھیلاڑی نیشم کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا کہ “پشاور زلمی نے شکیب الحسن کو سپلیمنٹری پک کے طور پر حاصل کیا ہے۔ وہ 26 فروری تک پاکستان میں رہیں گے۔بائیں ہاتھ کے بلے باز شکیب الحسن نے بی پی ایل 2023 میں 11 اننگز میں375 رنز بنائے۔ انہوں نے 13 میچوں میں 10 وکٹیں بھی حاصل کیں۔

    اسی طرتح جیمز نیشم ورلڈ کپ کے لیے نیوزی لینڈ کے اسکواڈ کا حصہ تھے، انہوں نے اب تک ٹی 20 انٹرنیشنل کیریئر کے دوران 60 میچز میں 159.6 کے اسٹرائیک ریٹ سے 688 رنز بنائے ہیں۔