Baaghi TV

Category: لاہور

  • سوشل میڈیا پرطیارے سے پرندہ ٹکرانے کی خبرپر ترجمان سی اے اے کا وضاحتی بیان

    سوشل میڈیا پرطیارے سے پرندہ ٹکرانے کی خبرپر ترجمان سی اے اے کا وضاحتی بیان

    سوشل میڈیا پیج پر برڈ ہٹ خبر کو سنسنی پھیلانے کی غرض سے بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا معاملہ ،پی آئی اے انتظامیہ کا بیان سامنے آ گیا-

    باغی ٹی وی : ترجمان سیف اللہ خان کے مطابق مذکورہ وضاحت مینگوبازنامی فیس بک اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی جعلی خبر کے جواب میں ہے۔ جعلی پوسٹ میں الزام لگایا گیا کہ (پی آئی اے) کے دو طیارے کراچی کے (جے آئی اے پی) پر پرندوں سے ٹکرانے کے بعد خطرناک حادثات سے بچ گئے۔

    جی 77:پاکستانی مذاکرات کاروں نے کوپ27 میں اہم معاہدہ کیا،ڈائریکٹر امریکی تھنک ٹینک ولسن سینٹر

    ترجمان کے مطابق نومبر 18 کی شام کو پہلے، PK 350 نے کراچی سے پشاور کے لیے وقت 18:34 پر ٹیک آف کیا اور پائلٹ نے مشتبہ پرندہ ٹکرانے کی اطلاع دی، یعنی اسے یقین نہیں تھا کہ آیا یہ واقعی پرندہ ٹکرایا تھا۔ ایئر سائیڈ کے عملے نے فوری طور پر رن وے کا معائنہ کیا تاہم انہیں وہاں سے کچھ نہیں ملا یعنی پرندے کی باقیات وغیرہ۔

    لاہور سے انے والی پرواز PK305 نے وقت 18:43 پر کراچی میں لینڈ کیا اور پائلٹ نے طیارے کی ناک پر پرندہ ٹکرانے کی اطلاع دی۔ ہوائی جہاز کا معائنہ کیا گیا اور واقعی جہاز کی ناک پر خون کے چھوٹے دھبے پائے گئے لیکن کسی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی جیسا کہ نیچے دی گئی تصویروں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ مزید انسپکٹرز کو رن وے پر کسی بھی مردہ پرندے کی باقیات وغیرہ بھی نہیں ملیں –

    خون کے چھوٹے داغ اور مردہ پرندے کی باقیات کا نہ ملنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پرندہ چھوٹے سائز کا تھا۔ یہ بتانا اس لیے اہم ہے کیونکہ فیک نیوز میں تصویر اصل میں ایک فائل فوٹو ہے جو اور جگہ بھی استعمال ہوئی ہے، تصویر میں مبینہ طور پر ایک بڑا پرندہ دکھایا گیا ہے جس سے جہاز کا کافی نقصان ہوا –

    استنبول کانفرنس میں سینیٹرمشاہد حسین سید آئی سی اے پی پی کا شریک چیئرمین منتخب

    یہ امر بہت واضح ہے کہ علط تصویر اور حقائق کو مسخ کرکے سنسنی پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ یہ بھی بہت واضح ہے کہ ان واقعات کے دوران کسی بھی وقت طیارےکسی بھی قسم کے خطرے سے دوچار نہیں تھے۔ نیز جعلی پوسٹ میں موجود تصویر دن کے وقت کی ہے جبکہ دونوں برڈ ہٹس شام کے وقت ہوئے جن میں سے ایک مشتبہ برڈ ہٹ تھی جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا۔

    سول ایوی ایشن آپ سے درخواست کرتی ہے کہ معلومات کے مستند ذرائع پر ہی انحصار کریں اور کسی بھی خبر یا پوسٹ کو شئیر کرنے سےپہلے اطمینان سے فیکٹ چیک کرلیں غلط معلومات ہم میں پریشانی، خوف، ڈپریشن یا تناؤ پیدا کر کے صحت کو متاثر کر سکتی ہیں۔

    ترجمان سیف اللہ خان کے مطابق اس وضاحت کا مقصد معزز ایویشن رپورٹرز کو صرف صحیح صورتحال سے آگاہ کرنا ہے،آئیے متحد ہو کر جعلی خبروں کا مقابلہ کریں۔

    چینی قرضے ملک وقوم پر بوجھ بن گئے:سالانہ سود 36.3 ارب تک جاپہنچا

  • شاہین شاہ آفریدی کا اپینڈکس کا آپریشن،مداحوں سے دعاؤں کی درخواست

    شاہین شاہ آفریدی کا اپینڈکس کا آپریشن،مداحوں سے دعاؤں کی درخواست

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے فائنل میں انجری کا شکار ہونے والے قومی ٹیم کے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کا اپینڈکس کا آپریشن ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : شاہین شاہ آفریدی انجری کےباعث انگلینڈ کےخلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کےفائنل میچ میں کیچ لیتے ہوئے انجری کا شکار ہوئے تھے اور پھر اپنا 4 اوورز کا کوٹا بھی مکمل نہ کر سکے تھے۔

    تاریخ کے مہنگے ترین فیفا ورلڈکپ 2022 کا آغاز آج سے ہوگا

    شاہین شاہ آفریدی ان دنوں ری ہیب کے عمل سے گزر رہے ہیں اور پی سی بی کے مطابق شاہین شاہ آفریدی بہت جلد صحت مند ہو کر دوبارہ گراؤنڈ میں نظر آئیں گے۔

    تاہم اب شاہین شاہ آفریدی کی جانب سے اپنی ایک تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ہے جس میں انہیں اسپتال کے بستر پر لیٹے دیکھا جا سکتا ہے۔

    اب تک فٹبال ورلڈ کپ کی ٹرافی کس کس کے نام رہی؟


    قومی فاسٹ بولر نے تصویر کے ساتھ کیپشن میں لکھا کہ میرا آج اپینڈکس کا آپریشن ہوا ہے تاہم اللہ کا شکر ہے اب خود کو بہتر محسوس کر رہا ہوں۔

    شاہین شاہ آفریدی نے اپنے مداحوں سے دعاؤں کی درخواست بھی کی ہے۔

  • استنبول کانفرنس میں سینیٹرمشاہد حسین سید آئی سی اے پی پی کا شریک چیئرمین منتخب

    استنبول کانفرنس میں سینیٹرمشاہد حسین سید آئی سی اے پی پی کا شریک چیئرمین منتخب

    استنبول: ایشیا کی سب سے قدیم اور سیاسی جماعتوں کی سب سے بڑی تنظیم آئی سی اے پی پی نے استنبول کانفرنس میں سینیٹر مشاہد حسین سید کو آئی سی اے پی پی کا شریک چیئرمین منتخب کرلیا۔

    باغی ٹی وی :تنظیم کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق مشاہد حسین سید کا انتخاب ترکیہ کے شہر استنبول میں ہونے والی دو سالہ کانفرنس میں کیا گیا جس میں 200 نمائندوں اور 70 رہنماؤں نے شرکت کی۔ 33 ممالک کی سیاسی جماعتیں بھی شریک ہیں۔

    شریک چیئرمین کے لیے سینیٹر مشاہد کا نام تھائی لینڈ اور ایران نے تجویز کیا تھا اور ووٹنگ سے قبل چین، کمبوڈیا، روس، لبنان، ترکیہ اور انڈونیشیا نے اس کی حمایت کی تھی جنوبی کوریا کے سابق وزیر خارجہ چنگ یوئیونگ کو دوبارہ آئی کیپ کا چیئرمین منتخب کیا گیا ہے۔

    ہر دو سال میں ایک بار منعقد ہونے والی آئی کیپ کانفرنس نے ‘استنبول اعلامیہ’ بھی جاری کیا کانفرنس کے دوران پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور "کلائمیٹ فنانس اور کلائمٹ جسٹس کے ذریعے لوگوں کی مشکلات کو کم کرنے” پر زور دیا گیا۔

    سینیٹر مشاہد حسین نے اپنے انتخاب کو پاکستان کے لیے اعزاز قرار دیا۔ مشاہد حسین نے موجودہ دور کو ایشیاء کے لیے تاریخی تبدیلی کا حامل قرار دیا اور کہا کہ اقتصادی اور سیاسی طاقت کا توازن مغرب سےمشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے، علامہ اقبال نے 90 سال قبل ایشیا کے عروج کی پیش گوئی کی تھی۔

    مشاہد حسین نے کہا کہ آئی سی اے پی پی بنڈونگ اسپرٹ کا تسلسل ہےجس کا آغاز 1955ء میں انڈونیشیا کےشہربنڈونگ میں عظیم انڈونیشی رہنما ڈاکٹر سوکارنو کی میزبانی میں پہلی افریقی ایشیائی سربراہی کانفرنس سےہوا تھا، وقت آ گیا ہےکہ ایشیائی طاقتیں ایشیائی تقدیراور ایشیا کے مستقبل کو سنواریں۔

    قبل ازیں آئی سی اے پی پی کے رہنماؤں، چیئرمین چنگ یوئیونگ اور شریک چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین نے سابق وزیر داخلہ اور ترکی کی حکمراں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے نائب چیئرمین ایفکان الا کے ہمراہ استنبول کی استقلال اسٹریٹ میں اس جگہ کا دورہ کیا جہاں دہشت گردانہ بم دھماکے میں ہلاکتیں اور نقصانات ہوئے تھے۔

    ترک بچوں، خواتین و حضرات نے جائے وقوع پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور انسانیت کے خلاف اس گھناؤنے جرم پر متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ترک قوم کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔ مشاہد نے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی اگلی آئی سی اے پی پی کانفرنس 2024ء میں کمبوڈیا میں بلائی جائے گی۔

    عالمی بینک؛ کشن گنگا و ریٹلی ہائیڈرو منصوبوں پر پاکستانی اعتراض سماعت کیلیے منظور

  • عوام کےمسائل ہرصورت حل کئےجائیں:چوہدری پرویزالہی

    عوام کےمسائل ہرصورت حل کئےجائیں:چوہدری پرویزالہی

    لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ عوام کے مسائل ہر صورت حل کئے جائیں، لوگوں کو ریلیف دینا ہماری اولین ترجیح ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی سے وزیر اعلیٰ شکایت سیل کے چیئرمین زبیر احمد خان نے ملاقات کی، ملاقات کے دوران زبیر احمد خان نے رپورٹ پیش کی جس پر وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لئے ضروری اقدامات پر زور دیا۔

    اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ عوام کے مسائل ہر صورت حل کئے جائیں، راولپنڈی کے عوام کے مسائل حل کرنا اولین ترجیح ہے، راولپنڈی میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے،عوام کی خدمت کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

    وزیر اعلی چودھری پرویز الہٰی نے ملاقات کے دوران زبیر احمد خان کی بھابھی کے انتقال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے مرحومہ کے لئے فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی، وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الہٰی نے سوگوار خاندان سے اظہار ہمدردی و تعزیت بھی کی۔ملاقات کے دوران چیف سیکرٹری عبداللہ خان سنبل بھی موجود تھے۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • آج دنیا بھر میں ٹریفک حادثات سے متاثرہ افراد کی یادکا عالمی دن

    آج دنیا بھر میں ٹریفک حادثات سے متاثرہ افراد کی یادکا عالمی دن

    لاہور:آج دنیا بھر میں ٹریفک حادثات سے متاثرہ افراد کی یادکا دن عالمی طور پر منایا جارہا ہے،تفصیلات کے مطابق اس دن کا مقصد ٹریفک حادثات کی وجوہات اور غلطیوں سے سبق سیکھنا ہے جس کے لئے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں شہریوں کو ٹریفک قوانین سے آگاہی دی جارہی ہے‘

    تفصیلات کے مطابق آج دنیا بھر میں ٹریفک حادثات سے جاں بحق اور زخمی افراد کی یاد کا عالمی دن منایا جارہا ہے اس دن کو منانے کے لئےآج لاہور ٹریفک پولیس بھی تقریباًت کا انعقاد کر رہی ہے۔

    اس دن کا مقصد نہ صرف ٹریفک حادثات میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کرنا ہے بلکہ اس دن کا مقصد ٹریفک حادثات کی وجوہات اور غلطیوں سے سبق سیکھنا بھی ہے۔

    حادثات ٹریفک قوانین کی پاسداری نہ کرنے کا نتیجہ ہیں۔حادثات قسمت میں نہیں بلکہ ہماری غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کیوجہ سے رونماں ہوتے ہیں۔

    دہشت گردی سے زیادہ جانیں ٹریفک حادثات میں ضائع ہورہی ہیں اور70 سے 80 فیصد حادثات ڈرائیور کا ٹریفک قوانین کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ پانچ سے دس فیصد حادثات دیگر روڈ یوزرز کی غلطی کی وجہ سے رونماں ہوتے ہیں تاہم گاڑی میں مکینکل خرابی، ٹائروں کا درست حالت میں نہ ہونا بھی حادثات کا سبب بنتا ہے ۔

    صرف یہ ہی نہیں بلکہ نامناسب روڈ انفراسٹرکچر بھی حادثات کا باعث بنتا ہے۔ حادثات میں سب سے زیادہ 21 سے 30 سال کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد شامل ہے اس حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں شہریوں کو ٹریفک قوانین سے آگاہی دی جارہی ہےاور انہیں بتایا جارہا ہے کہ محفوظ سفر کےلئے قوانین کا احترام کتنا ضروری ہے۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • حسینہ معین:کردار اوراقدار میں حسینہ:اب بھی بہت یاد آتی ہیں

    حسینہ معین:کردار اوراقدار میں حسینہ:اب بھی بہت یاد آتی ہیں

    لاہور:پاکستانی ڈراما نگاری کی کہکشاں سے ایک روشن ستارہ تھیں،حسینہ معین کو سب حسینہ آپا بھی کہتے تھے کیونکہ وہ اس قدر شفقت اور محبت سے لبریز لہجے میں گفتگو کرتی تھیں کہ کوئی وجہ نہ ہوتی کہ ان سے ذاتی تعلق نہ بنا لیا جائے۔ وہ پورے پاکستان کی حسینہ آپا تھیں۔ ان کی ذاتی زندگی اور پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں تصور کیا جائے تو یہ 10، 20 برسوں کی بات نہیں بلکہ نصف صدی پر پھیلا ہوا سلسلہ ہے۔ انہیں دیکھنے کے بعد ہمیں سمجھ آتا ہے کہ کسی فن کے لیے اپنی زندگی کو تج دینا کیا ہوتا ہے اور کسی پیشے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردینے کی قربانی کیا ہوتی ہے۔

    حسینہ معین 20 نومبر 1941ء کو غیر منقسم ہندوستان کے شہر کانپور میں پیدا ہوئیں اور 26 مارچ 2021ء کو کراچی میں انتقال کیا۔ انہوں نے ابتدائی زندگی کے چند برس ہندوستان میں گزارے، پھر اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان ہجرت کرکے راولپنڈی میں سکونت اختیار کی۔ چند برسوں کے بعد 1950ء کی دہائی میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کراچی منتقل ہوگئیں۔ 1960ء میں گورنمنٹ کالج برائے خواتین سے گریجویشن کیا اور جامعہ کراچی سے 1963ء میں تاریخ کے موضوع پر ماسٹرز کی سند حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرتے ہی وہ تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئیں۔ طویل عرصہ خدمات انجام دیں اور پرنسپل کے عہدے تک پہنچیں۔

    ریڈیو پاکستان سے لکھنے کا پیشہ ورانہ آغاز کیا۔ ریڈیو پاکستان کے مشہور زمانہ پروگرام ’اسٹوڈیو نمبر 9‘ کے لیے صوتی کھیل لکھے۔ ڈراما نگاری کے حوالے سے ان کی زندگی میں ڈرامائی موڑ تب آیا جب 1969ء میں پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز سے انہیں ایک ڈراما لکھنے کی پیشکش کی گئی۔ معروف شاعر افتخار عارف اسکرپٹنگ کے شعبے کے سربراہ تھے، انہوں نے حسینہ آپا کو راغب کیا کہ وہ ڈراما نگاری کریں۔ انہوں نے اس وقت عید کے لیے ایک خصوصی کھیل ’عید کا جوڑا‘ لکھا جس کے مرکزی کرداروں میں نیلوفر علیم اور طلعت حسین تھے جبکہ معاون کرداروں میں عشرت ہاشمی اور خالد نظامی تھے۔ یہ ڈراما بہت پسند کیا گیا۔

    انہوں نے اسی دور میں کچھ ڈرامے تھیٹر کے لیے بھی لکھے جو اسٹیج بھی ہوئے، مگر بہت جلد ان کی پوری توجہ ٹیلی وژن کے لیے ڈراما نگاری کی طرف ہوگئی۔ 1970ء کی دہائی سے لے کر اگلے 40 برس تک وہ ٹیلی وژن کے لیے ڈراما نگاری کرتی رہیں اور بے پناہ شہرت سمیٹی۔ ان کی پہلی ڈراما سیریل ’شہزوری‘ تھی جس کو انہوں نے مرزا عظیم بیگ چغتائی کے ناول سے ماخوذ کیا تھا۔ اس ڈراما سیریل نے شہرت کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ اس کے بعد حسینہ معین پاکستان میں ایک مقبول ڈراما نگار بن چکی تھیں۔

    حسینہ معین کا شمار ایسے قلم کاروں میں ہوتا تھا، جن کی وجہ شہرت کتاب نہیں بلکہ ریڈیو اور ٹیلی وژن کا میڈیم رہا۔ انہوں نے پاکستان میں ادبی رجحان کی ایک نئی جہت کو متعارف کروایا۔ وہ جہت ٹیلی وژن کے لیے ’اصل اسکرپٹ‘ تخلیق کرنا تھا۔

    ماضی میں ریڈیو پاکستان کی حد تک تو اسکرپٹ کا عمل دخل تھا، مگر پاکستان ٹیلی وژن شروع ہوا تو ابتدائی طور پر جتنے ڈرامے بنائے گئے ان کی بنیاد پاکستانی ناول نگاروں کے لکھے ہوئے ناول ہوتے تھے۔ ان ناولوں سے کہانیاں ماخوذ کرکے انہیں ڈرامائی تشکیل دی جاتی تھی۔ پہلی مرتبہ حسینہ معین نے کسی کہانی کو ماخوذ کیے بنا، ٹی وی کی ضرورت کے مطابق، اسکرین کے پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اوریجنل اسکرپٹ لکھا اور اس پر کامیاب ڈراما بنا، اس ڈرامے کا نام ’کرن کہانی‘ تھا۔ پاکستانی ٹیلی وژن کے لیے یہ ان کا دوسرا ڈراما تھا۔

    اس کے بعد سے حسینہ معین نے بے شمار کہانیاں تخلیق کیں، اور وہ سب اسکرپٹس کی شکل میں تخلیق ہوئیں۔ کبھی ان اسکرپٹ کردہ کہانیوں کے ذریعے اسٹیج پر کھیل پیش کیے گئے، تو کبھی ان کو ریڈیو اور کبھی فلم کے پردے پر نشر کیا گیا۔ انہوں نے تھیٹر، ریڈیو اور پھر ٹیلی وژن کے لیے بے شمار ڈرامے لکھے، صرف یہی نہیں بلکہ ٹیلی وژن کے لیے ٹیلی فلمیں بھی لکھیں۔ مختلف مواقع پر خصوصی طور پر لکھے گئے ڈراموں کی روداد الگ ہے۔ 40، 50 سال پر محیط ان کی پیشہ ورانہ زندگی، ان کے لکھے گئے ڈراموں، طویل دورانیے کے کھیلوں، ٹیلی فلموں اور فیچر فلموں کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

    ڈراما سیریل کی فہرست
    حسینہ معین کے لکھے گئے ڈراموں میں ’شہزوری’، ’کرن کہانی’، ’انکل عرفی’، ’زیر زبر پیش’، ’پرچھائیاں’، ’ان کہی’، ’تنہائیاں’، ’دھوپ کنارے’، ’رومی’، ’بندش’، ’دُھند’، ’بالائے جان’، ’آہٹ’، ’پڑوسی’، ’کسک’، ’تان سین’، ’قہار’، ’جانے انجانے’، ’پل دو پل’، ’دیس پردیس’، ’آنسو’، ’دی کیسل’، ’ایک امید’، ’شاید کہ بہار آئے’، ’تیرے آجانے سے’، ’میرے درد کو جو زباں ملی’، ’تم سے مل کر’، ’اک نئے موڑ پر’، ’کیسا یہ جنون، آئینہ’، ’چھوٹی سی کہانی’، ’کشمکش’، ’تنہا’، ’سارے موسم اپنے ہیں’، ’تنہائیاں نئے سلسلے’، ’میری بہن مایا’، ’انجانے نگر’ اور ’محبت ہوگئی تم سے’ شامل ہیں۔

    حسینہ معین 26 مارچ 2021ء کو 79 سال کی عمر میں کراچی میں حرکت قلب بند ہونے سے وفات پاگئیں۔ حسینہ معین کو ان کی وفات سے پہلے، 22 مارچ 2021ء کو کورونا وائرس ویکسین کی پہلی خوراک دی گئی تھی۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • شہر قائد میں دھند کا راج ،سردی میں اضافہ ہونےلگا

    شہر قائد میں دھند کا راج ،سردی میں اضافہ ہونےلگا

    کراچی:شہر قائد کے میدانی و مضافاتی علاقوں میں گہری دھند چھائی ہوئی ہے اور شہر میں تھر کی جانب سے ہواؤں کا سلسلہ جاری ہے،تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ اس وقت شہر قائد میں دھند کا راج ہے جس کی وجہ سے حد نگاہ 5 کلو میٹرتک محدود رہے گی۔ کراچی کی راتیں خنک ہونا شروع ہوگئیں ہیں تاہم مطلع آج صاف رہے گا اور بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔

    محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق آج کم سے کم درجہ حرارت 5.20 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ 30 ڈگری سینٹی گریڈ رہے گا ۔ کراچی میں شمال مشرق کی جانب سے 18 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوامیں نمی کا تناسب 91 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    ایئر کوالٹی انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں لاہور اس وقت دوسرے جبکہ کراچی چھٹے نمبر پرآگیا ہے ۔

    حالیہ رپورٹ کے مطابق لاہوراورکراچی دونوں کی فضا شدید مضر صحت قرار دی جارہی ہے لاہور کی فضا میں آلودہ زرات کی مقدار 214 پرٹیکیولیٹ میٹر ریکارڈ کی گئی ہے تاہم کراچی کی فضا میں آلودگی کی مقدار 172 پرٹیکیولیٹ میٹر ریکارڈ ہوئی ہے

    ایئر کوالٹی انڈیکس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہلی شہر کا شمار اس وقت دنیا کے آلودہ ترین شہروں کہ فہرست میں سب سے اوپر آگیا ہے کیونکہ دہلی شہرکی فضا میں آلودہ زرات کی مقدار 266 پرٹیکیولیٹ میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔

     

    ائیر کوالٹی انڈیکس کے اعدادو شمار کے بطابق 151 سے200 درجے تک آلودگی مضر صحت ہوتی ہے،201 سے 300 درجے تک آلودگی انتہائی مضر صحت ہوتی ہےجبکہ301 سےزائد درجہ خطرناک ترین آلودگی کوظاہر کرتا ہے جو انتہائی حد تک مضر صحت ہے۔

    اس حوالے سےایئر کوالٹی انڈیکس کےماہرین صحت نے کی شہریوں سے احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری گھروں سے باہر نکلتے وقت ماسک ضرور پہنیں اور دمہ اور سانس کے مریض خصوصی طورپراحتیاط کریں

    تفصیلات کے مطابق موٹروے پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس وقت لاہورموٹروے ایم ٹوکو شیخوپور تک دھند کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے ، روڈ یوزرز آگے اور پیچھےدھند والی لائٹس کا استعمال کریں اورغیر ضروری سفر سے گریز کریں انہوں نے مزید کہا کی تیز رفتاری سے پرہیزکرتے ہوئے اگلی گاڑی سے مناسب فاصلہ رکھیں۔

    روڈ یوزرز معلومات اور مدد کے لیے ہیلپ لائن 130 سے رابطہ کر کےموٹروے پولیس کی ہمسفر ایپ سے بھی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

    محکمہ تحفظ ماحولیات کے ترجمان کے مطابق لاہورمیں گزشتہ 24 گھنٹوں میں ائیر کوالٹی کی رپورٹ کے مطابق ٹائون ہال، مال روڈ پر ائیر کوالٹی انڈیکس 115، ٹائون شپ میں 102 ائر کوالٹی انڈیکس ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ کرول گھاٹی میں اے کیو آئی 439 رہا۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • بلوچستان، تین ماہ کے تعطل کے بعد آج سے ٹرین سروس بحال

    بلوچستان، تین ماہ کے تعطل کے بعد آج سے ٹرین سروس بحال

    لاہور:بلوچستان میں مون سون بارشوں اور سیلاب کے باعث تین ماہ سے تعطل کا شکار ٹرین سروس آج سے بحال کر دی جائے گی۔ریلوے حکام کے مطابق بلوچستان سے تین ماہ بعد آج پہلی ترین پشاور کیلئے روانہ ہوگی جوکہ جعفر ایکسپریس مچھ اسٹیشن سے پشاور تک جائے گی۔

    ریلوے حکام نے بتایا کہ مسافروں کو کوئٹہ اسٹیشن سے مچھ اسٹیشن ٹرانسپورٹ کے ذریعے پہنچایا جارہا ہے، 10 بوگیوں پر مشتمل ٹرین آج 11 بجے مچھ سے روانہ ہوگی، کوئٹہ تا مچھ ریلوے کا رابطہ منقطع ہے۔

    ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ بولان کے علاقے میں سیلاب کے باعث ریلوے ٹریک پل سیلاب میں بہہ گیا تھا، پل کی تعمیر کا کام جنوری میں مکمل ہوگا۔

    خیال رہے کہ بارشوں کے باعث بولان ریلوے ٹریک پل بہہ جانے کی وجہ سے ریل سروس 3 ماہ سے معطل تھی۔ترجمان ریلوے نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ عوام ایکسپریس آج بحال نہیں ہو رہی، آج 20 نومبر کو اب صرف ایک ٹرین جعفر ایکسپریس بحال کی جائے گی۔

    ترجمان نے کہا کہ جعفر ایکسپریس پشاور سے مچھ کے درمیان چلے گی، مچھ سے کوئٹہ کے درمیان مسافروں کو بسوں کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ ریلوے نے پہلے بہاؤالدین زکریا ایکسپریس کو 20 نومبر کو بحال کرنے کا اعلان کیا تھا، اب بہاؤالدین زکریا ایکسپریس کے بجائے جعفرایکسپریس کو بحال کیا جائے گا۔

    چند روز قبل چیف ایگزیکٹو ریلوے اور فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلوے کی مختلف سیکشنز کی سالانہ انسپکشن کا نیا شیڈول جاری کر دیا تھا۔

    چیف ایگزیکٹو ریلوے سلمان صادق شیخ اور ایف جی آئی آر راولپنڈی، کراچی اور سکھر ڈویزن کی انسپکشن کریں گے، جس کا عمل تین مرحلوں میں 21 نومبر سے 21 دسمبر تک جاری رہے گا جبکہ پاکستان ریلوے انتظامیہ نے اس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق پہلے مرحلے میں 21 نومبر کو لالہ موسیٰ سے راولپنڈی 157 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن کی جائے گی جبکہ 22 نومبر کو کندیاں، خوشاب، سرگودھا 130 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن کی جائے گی۔

    اس کے علاوہ دوسرے مرحلے میں 5 دسمبر کو کھوکھرا پار سے میر پور خاص تک 126 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن کی جائے گی جبکہ 6 دسمبر کو کراچی اور 7 دسمبر کو کراچی کینٹ سے حیدر آباد 173 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن ہو گی۔نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ تیسرے مرحلے میں 20 دسمبر کو خانپور سے روہڑی تک 212 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن کی جائے گی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق 21 دسمبر کو سکھر سے جیکب آباد تک 80 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن ہوگی جبکہ معائنے کے دوران ٹریک، ریلوے اسٹیشنوں کی عمارات، پل سمیت دیگر تنصیبات کا جائزہ لیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ انسپکشن کے دوران مختلف ریلوے اسٹیشنوں کی آمدن اور وہاں مسافروں کو دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا جائے گا جبکہ ریلوے افسروں اور ملازمین کی ڈیوٹیوں اور ان کے کام کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • فضائی آلودگی بچوں کو مستقبل میں بلند فشار خون میں مبتلا کر سکتی ہے:ماہرین نے وارننگ جاری کردی

    فضائی آلودگی بچوں کو مستقبل میں بلند فشار خون میں مبتلا کر سکتی ہے:ماہرین نے وارننگ جاری کردی

    لندن: ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ فضائی آلودگی بچوں کو ان کی بعد کی زندگی میں بلند فشار خون میں مبتلا کر سکتی ہے بالخصوص یہ حملہ اس وقت بڑھ سکتا ہے جب ان کا وزن بڑھنے لگے۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بچوں کو اسکول سے گھر کم ٹریفک والے راستوں سے پیدل آنے جانے کی ترغیب دینی چاہیئے جبکہ اسکولوں میں موجود میدانوں میں درخت ہونے چاہیئں تاکہ وہ آلودگی کو جذب کرسکیں۔

    کنگز کالج لندن کے محققین کی رہنمائی میں کی جانے والی تحقیق میں 10 سے 19 سال کی عمر کے تقریباً 15 ہزار بچوں پر کیے گئے آٹھ مطالعوں کا جائزہ لیا گیا۔
    محققین کی توجہ کا مرکز بچوں پر آلودگی کا افشا ہونا تھا۔ اس آلودگی میں باریک پی ایم 2.5 ذرات جو گاڑی کے دھوئیں میں پائے جاتے ہیں اور پی ایم 10 ذرات جو کار کے پہیوں کے ٹکڑوں اور لکڑی کے چولہوں سے خارج ہوتے ہیں شامل تھے۔

    12 سال کی عمر میں بچوں پر پی ایم 2.5 اور پی ایم 10 طویل مدتی اعلیٰ سطحوں کے افشا ہونے سے بلڈ پریشر واضح طور پر بلند تھا۔ یہ ذرات سانس کے ذریعے سیدھا پھیپھڑوں میں جاتے ہیں۔

    اس طرح بڑی عمر میں بلند فشار خون کا سبب بن سکتا ہے اور دل کے دوروں اور فالج کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔

    محققین نے جب زیادہ وزن اور موٹاپے کے شکار بچوں کا معتدل وزن کے بچوں سے موازنہ کیا تو دیکھا کہ زیادہ وزنی اور فربہ بچے بڑھتے ہوئے بلڈ پریشر میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔

    اس سائنسی تجزیے کی رہنمائی کرنے والی پروفیسر سِیرومینی ہارڈنگ کا کہنا تھا کہ پچوں پر آلودگی زیادہ افشا ہوتی ہے کیوں کہ وہ کھیل کود سمیت دیگر سرگرمیوں کے لیے زیادہ وقت گھر سے باہر گزارتے ہیں۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • مقام فیض کوئی راہ میں جچاہی نہیں:جوکوئےیارسے  نکلےتوسوئےدارچلے:فیض احمد فیض ایک شاعر،ایک تاریخ

    مقام فیض کوئی راہ میں جچاہی نہیں:جوکوئےیارسے نکلےتوسوئےدارچلے:فیض احمد فیض ایک شاعر،ایک تاریخ

    فیض احمد فیض

    اردو کےایک عظیم انقلابی شاعرفیض احمد فیض 13 فروری 1911 کوکالا قادر،ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ میٹرک اورانٹرمیڈیٹ سیالکوٹ میں پاس کیا۔ بعد ازاں لاہور میں ایم اے (انگریزی) اور ایم اے (عربی)کےامتحانات پاس کیے۔ تعلیم سےفارغ ہونےکےبعد درس وتدریس سے وابستہ ہوگئے۔دوسری جنگ عظیم کےدوران فوج کےمحکمۂ نشرواشاعت سےمنسلک رہے۔جب لاہورسے’’پاکستان ٹائمز‘‘ اور’’امروز‘‘ جاری ہوئے تو آپ ا ن کےایڈیٹرمقرر ہوئے۔

    عبداللہ ہارون کالج، کراچی کے پرنسپل اور نیشنل کونسل آف آرٹس کے صدر بھی رہے۔ فیض راول پنڈی سازش کیس میں ۱۹۵۱ء میں پاکستان سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار ہوئے۔ وہ چار سال تک سرگودھا، منٹگمری، کراچی اور لاہور کی مختلف جیلوں میں قید رہے۔۱۹۵۵ء میں قید سے رہا ہوئے۔ دسمبر۱۹۵۸ء میں دوسری بار گرفتار ہوئے اور اپریل ۱۹۵۹ء میں قید سے رہائی ملی۔ فیض کو شعر وشاعری سے لگاؤ اوائل عمر سے تھا۔ کسی سے اصلاح نہیں لی۔ادب کے لینن پرائز سے آپ کو نوازا گیا۔ فیض نے اردو غزل کو ایک نیا لہجہ دے کر اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ وہ 20نومبر 1984 کو لاہور میں انتقال کرگئے۔
    ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:

    ’’نقشِ فریادی‘‘، ’’دستِ صبا‘‘، ’’زنداں نامہ‘‘، ’’دستِ تہہ سنگ‘‘، ’’شام شہرِ یاراں‘‘، ’’متاعِ لوح وقلم‘‘، ’’سروادئ سینا‘‘، ’’مرے دل ، مرے مسافر‘‘ ۔ ان کی کلیات ’’نسخہ ہائے وفا‘‘ کے نام سے چھپ گئی ہے۔ مضامین کا مجموعہ ’’میزان‘‘ کے نام سے بھی شائع ہوا ہے۔ ’’مہ وسال آشنائی‘‘ (یادوں کا مجموعہ) بھی ان کی تصنیف ہے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:21

    فیض احمد فیضؔ کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
    جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

    اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
    راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

    دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
    لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

    نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
    نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی

    دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
    وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے

    آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہربان
    بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے

    اک طرزِ تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک
    اک عرضِ تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

    گلوں میں رنگ بھرے بادِ نوبہار چلے
    چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

    مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
    جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
    ”آپ کی یاد آتی رہی رات بھر”
    چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر

    یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہم دم
    وصالِ یار فقط آرزو کی بات نہیں

    بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے
    تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے

    اٹھ کر تو آ گئے ہیں تری بزم سے مگر
    کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں

    یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
    وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

    آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
    اس کے بعد آئے جو عذاب آئے

    اب اپنا اختیار ہے چاہے جہاں چلیں
    رہبر سے اپنی راہ جدا کر چکے ہیں ہم

    جدا تھے ہم تو میسر تھیں قربتیں کتنی
    بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا

    غمِ جہاں ہو رُخِ یار ہو کہ دستِ عدو
    سلوک جس سے کیا ہم نے عاشقانہ کیا

    ان میں لہو جلا ہو ہمارا کہ جان و دل
    محفل میں کچھ چراغِ فروزاں ہوئے تو ہیں

    اگر شرر ہے تو بھڑکے جو پھول ہے تو کھلے
    طرح طرح کی طلب تیرے رنگ لب سے ہے

    سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں
    ہم لوگ سرخ رو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں

    یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ
    یوں فضا مہکی کہ بدلا مرے ہم راز کا رنگ

    مری چشمِ تن آساں کو بصیرت مل گئی جب سے
    بہت جانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی

    ہم اہلِ قفس تنہا بھی نہیں ہر روز نسیمِ صبحِ وطن
    یادوں سے معطر آتی ہے اشکوں سے منور جاتی ہے

    جو طلب پہ عہدِ وفا کیا تو وہ آبروئے وفا گئی
    سرِ عام جب ہوئے مدعی تو ثوابِ صدق و وفا گیا

    حدیثِ یار کے عنواں نکھرنے لگتے ہیں
    تو ہر حریم میں گیسو سنورنے لگتے ہیں

    متاعِ لوح و قلم چھین گئی تو کیا غم ہے
    کہ خون دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے

    رقصِ مے تیز کرو ساز کی لے تیز کرو
    سوئے مے خانہ سفیرانِ حرم آتے ہیں

    تیرےدستِ ستم کا عجز نہیں
    دل ہی کافر تھا جس نے آ ہ نہ کی

    دلِ عُشاق کی ۔۔۔۔۔۔خبر لینا
    پھول کھلتے ہیں ان مہینوں میں

    حرفِ حق دل میں کھٹکتا ہے جو کانٹے کی طرح
    آج اِقرار کریں اور خلش مِٹ جائے

    تجھ کو دیکھا تو سیرِ چشم ہوئے
    تجھ کو چاہا تو اور چاہ نہ کی

    درد سے درد کے مارے نہیں دیکھے جاتے
    ضُعف سے چاند سِتارے نہیں دیکھے جاتے