Baaghi TV

Category: لاہور

  • معروف شاعر اطہر نفیس کا یوم وفات

    معروف شاعر اطہر نفیس کا یوم وفات

    کنور اطہر علی خاں کی پیدائش علی گڑھ کے قصبہ پٹل کے ایک معزز خاندان میں22 فروری سنہ 1933کو ہوئی تھی ان کی ابتدائی تعلیم علی گڑھ میں ہی ہوئی۔علی گڑھ کے قصبہ پٹل سے ہجرت کر کے وہ سنہ 1949میں کراچی چلے گئے تھے او روہاں مشہور اخبار ” جنگ “ کے انتظامی شعبے سے وابستہ ہوئے او رترقی کر کے چیف اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر پہنچے۔

    اطہر نفیس نے ایک منفرد شاعر کی حیثیت سے ادب میں اپنا مقام بنایا۔ اطہر نفیس کو کم وقت ملا اور صرف 47برس کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی زندگی میں تو ان کا شعری مجموعہ شائع نہیں ہو سکا لیکن انتقال کے بعد احمد ندیم قاسمی نے اسے”کلام“ کے نام سے شائع کیا۔کم عرصے میں ہی انہوں نے اپنی منفرد آواز کے نقوش چھوڑے۔

    اطہر نفیس صرف شاعر نہیں بلکہ صحافی بھی تھے۔ انہوں نے پاکستان کے مشہور اخبار ”جنگ“ میں کالم اور حالاتِ حاضرہ پر مضامین بھی لکھے۔ لیکن اطہر نفیس پر اس اخبار میں انتظامی ذمہ داریاں بھی تھیں ا س لیے وہ لکھنے، پڑھنے پر بہت زیادہ وقت نہیں دے سکے۔ یہ حقیقت ہے کہ اطہر نفیس کے اندر ایک منفرد شاعر موجودتھا۔ جس کی فکر الگ تھی، محسوسات الگ تھے، سوچنے کا انداز الگ تھا اور ادائیگی بھی الگ تھی۔ وہ منفرد اسلوب کے مالک تھے۔ ان کے احساسات ہی نہیں، لفظیات بھی الگ تھیں اور انہوں نے اپنے احساسات کا اظہار بھی الگ انداز میں کیا ہے:

    اب میری غزل کا بھی تقاضا ہے یہ تجھ سے
    انداز و ادا کا کوئی اسلوب نیا ہو
    یا پھر اپنی انفرادیت کا احساس وہ کچھ یوں دلاتے ہیں:

    ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے ہم صورت گر کچھ خوابوں کے
    بے جذبہٴ شوق سنائیں کیا کوئی خواب نہ ہو تو بتائیں کیا

    اطہر نفیس جس دور میں شاعری کر رہے تھے اس زمانے میں کئی ایسے شعرا موجود تھے جو اپنے اسلوب کے لحاظ سے منفرد انداز رکھتے تھے۔ ان میں ا ن سے فیض احمد فیض، منیر نیازی، حبیب جالب وغیرہ تھے تو ہم عصروں میں ابن انشا،مصطفیٰ زیدی، شکیب جلالی، اقبال ساجد اور عزیز حامدمدنی وغیرہ تھے۔ لیکن اطہر نفیس نے ان کے درمیان سے ایک نئی راہ نکالی۔ ان کے یہاں بہت سادگی ہے، یہی وجہ ہے کہ تمام اہم گلوکاروں نے ان کی غزلوں کو اپنی آواز دی ہے۔ کیوں کہ یہ اشعار بہت آسانی سے سامعین کے ذہن میں اتر جاتے ہیں اور دل پر اثر کرتے ہیں۔ ا ن کی مشہور غزلوں میں:

    وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا
    کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں کوئی سچا شعر سنائیں کیا
    اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے تادیر اسے دہرائیں کیا
    وہ زہر جو دل میں اتار دیا پھر اس کے ناز اٹھائیں کیا
    پھر آنکھیں لہو سے خالی ہیں یہ شمعیں بجھنے والی ہیں
    ہم خود بھی کسی سے سوالی ہیں اس بات پہ ہم شرمائیں کیا

    اک آگ غم تنہائی کی جو سارے بدن میں پھیل گئی
    جب جسم ہی سارا جلتا ہو پھر دامن دل کو بچائیں کیا

    اطہر نفیس کی اس غزل میں جو کیفیت موجود ہے اس کی تفسیر بیان کرنا آسان نہیں ہے۔ ان کے غزلیات میں کوئی مشکل لفظ کم ہی آتا ہے۔ جو ترسیل میں دشواری پیدا کرے۔ اس لیے اطہر نفیس کا ہر شعر اپنی کیفیت خود بیان کر دیتا ہے۔

    در اصل اطہر نفیس صرف ایک حساس شاعر ہی نہیں، صحافی بھی تھے اور انہوں نے چیزوں کو ان کی جزئیات کے ساتھ دیکھا اور پرکھا ہے۔ اس لیے جب وہ انہیں اشعار میں بیان کرتے ہیں تو ان کی لفظیات تبدیل ضرور ہو جاتی ہیں لیکن ان کے پرکھنے کا انداز نہیں بدلتا:

    تو ملا تھا اور میرے حال پر رویا بھی تھا
    میرے سینے میں کبھی اک اضطراب ایسا بھی تھا
    زندگی تنہا نہ تھی اے عشق تیری راہ میں
    دھوپ تھی، صحرا تھا اور اک مہرباں سایہ بھی تھا
    عشق کے صحرا نشینوں سے ملاقاتیں بھی تھیں
    حسن کے شہر نگاراں میں بہت چرچا بھی تھا
    ہر فسردہ آنکھ سے مانوس تھی اپنی نظر
    دکھ بھرے سینے سے ہم رشتہ مرا سینہ بھی تھا
    تھک بھی جاتے تھے اگر صحرا نوردی سے تو کیا
    متصل صحرا کے اک وجد آفریں صحرا بھی تھا

    یا پھر یہ غزل لے لیجئے، جس کے اندر ایک اضطراری اور اضطرابی کیفیت کروٹیں لے رہی ہے:

    پھر کوئی نیا زخم نیا درد عطا ہو
    اس دل کی خبر لے جو تجھے بھول چلا ہو
    اب دل میں سرِ شام چراغاں نہیں ہو تا
    شعلہ مرے دل کا کہیں بجھنے نہ لگا ہو
    کب عشق کیا کس سے کیا جھوٹ ہے یارو
    بس بھول بھی جاؤ جو کبھی ہم سے سنا ہو

    اطہر نفیس کے یہاں عصری مسائل تو موجود ہیں ہی جن کو انہوں نے اپنے احساسات میں تپا کر نیا اسلوب بخشا ہے، لیکن ساتھ ساتھ انہوں نے تصوف کے مسائل بھی بیان کیے ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا معرفت سے گہرا لگاؤ تھا۔ احمد حسین صدیقی ’دبستانوں کا دبستان کراچی‘ میں لکھتے ہیں کہ اطہر نفیس کو بابا ذہین شاہ تاجی سے بے حد عقیدت تھی۔ مذہب سے بھی ان کا گہرا لگاؤ تھا۔

    اطہر نفیس کا کلاسیکی شاعری سے بھی بہت لگاؤ تھا۔ حالانکہ وہ جدید اسلوب کے شاعر ہیں، مگر اس کے باوجود ان کے یہاں کلاسیکی روایات کا التزام ملتا ہے اور اس نے ان کی شاعری کو نفاست عطا کی ہے۔

    ڈاکٹر مناظر عاشق ہر گانوی لکھتے ہیں ”اطہر نفیس کی غزل میں ذائقہ اورنیا آہنگ ملتا ہے۔ ان کے لہجے میں گد اختگی ہے، زبان کی سادگی ان کی شاعری کا نمایاں وصف ہے ان کی عصری حسیات نے نئے شاعرانہ وجدان کی تشکیل کی ہے۔ احساس کی شکست و ریخت سے ان کو حظ ملتا ہے اور اس کی ادائیگی ان کی شاعری کو ایک منفرد آہنگ عطا کرتی ہے:

    سکوتِ شب سے اک نغمہ سنا ہے
    وہی کانوں میں اب تک گونجتا ہے
    غنیمت ہے کہ اپنے غم زدوں کو
    وہ حسنِ خود نگر پہچانتا ہے
    بہت چھوٹے ہیں مجھ سے میرے دشمن
    جو میرا دوست ہے مجھ سے بڑا ہے
    مجھے ہر آن کچھ بننا پڑے گا
    مری ہر سانس میری ابتدا ہے

    اطہر نفیس نئے پیکر تراشتے ہیں، نئی لفظیات کی تشکیل کر تے ہیں اور ادائیگی کا منفرد التزام کرتے ہیں:

    اطہر تم نے عشق کیا کچھ تم بھی کہو کیا حال ہوا
    کوئی نیا احساس ملا یا سب جیسا احوال ہوا
    راہ وفا میں جاں دینا بھی پیش روں کا شیو ہ تھا
    ہم نے جب سے جینا سیکھا جینا کا رِ مثال ہوا
    عشق افسانہ تھا جب تک اپنے بھی بہت افسانے تھے
    عشق صداقت ہو تے ہوتے کتنا کم احوال ہوا
    راہ وفا دشوار بہت تھی تم کیوں میرے ساتھ آئے
    پھول سا چہرا کمہلایا اور رنگِ حنا پامال ہوا

    اطہر نفیس بھیڑ میں بھی اکیلے نظر آتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کی آواز میں انفرادیت اور نیا پن ہے۔ وہ اپنے اظہا رکے لیے نئی زمینیں تلاش کر کے لاتے ہیں:

    دم بد م بڑھ رہی ہے یہ کیسی صدا شہر والو سنو
    جیسے آئے دبے پاؤں شہرِ بلا شہر والو سنو
    خاک اڑاتی نہ تھی اس طرح تو ہوا اس کو کیا ہوگیا
    دیکھو آواز دیتا ہے اک سانحہ شہر والو سنو
    عمر بھر کا سفر جس کا حاصل ہے اک لمحہٴ مختصر
    کس نے کیا کھو دیا کس نے کیا پا لیا شہر والو سنو
    اس کی بے خو ف آنکھوں میں جھانکوں کبھی اس کو سمجھوں کبھی
    اس کو بیدار رکھتا ہے کیا واقعہ شہر والو سنو

    21نومبر سنہ 1980کو صرف 47سال کی عمر میں اطہر نفیس کا کراچی میں انتقال ہو گیا اور وہیں سخی حسن قبرستان میں ان کی تدفین ہوئی۔ انہوں نے عشق میں ناکامی پر زندگی بھر شادی نہیں کی ۔ ان کی قبر کے کتبے پر ان کا اپنا شعر کندہ ہے-

    وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال سنائیں کیا
    کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچا شعر سنائیں کیا

    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • برصغیر کی معروف ادیبہ،شاعرہ اور دانشور فہمیدہ ریاض کا یوم وفات

    برصغیر کی معروف ادیبہ،شاعرہ اور دانشور فہمیدہ ریاض کا یوم وفات

    برصغیر کی معروف ادیبہ،شاعرہ اور دانشور فہمیدہ ریاض کو نیا سے رخصت ہوئے 4 سال بیت گئے-

    برصغیر کی معروف ادیبہ،شاعرہ اور دانشور فہمیدہ ریاض 28 جولائی 1945 کو ہندوستان کے شہر میرٹھ کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب کا نام ریاض الدین اور والدہ محترمہ کا نام حسنہ بیگم ہے۔

    تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان ہجرت کر کے حیدر آباد سندھ میں آباد ہوا۔ فہمیدہ نے ابتدائی تعلیم حیدر آباد سے اور ایم اے سندھ یونیورسٹی جام شورو سے کیا۔ دوران تعلیم وہ ڈی ایس ایف کے پلیٹ فارم سے ایوب خان کے خلاف تحریک میں سرگرم عمل رہیں۔1967 میں شادی کے بعد وہ لندن منتقل ہو گئیں۔ وہاں سے انہوں نے تیکنیکی تعلیم میں ڈپلومہ کیا۔ اس دوران بی بی سی ریڈیو کی اردو سروس میں بھی کام کیا۔

    1973 میں لندن سے وطن واپس آئیں۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے دور میں انہوں نے ایک اردو ادبی رسالہ” آواز” جاری کیا جس میں وہ حکومت کی غیر جمہوری پالیسیوں پر تنقیدی مضامین لکھتی رہیں جس پر ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کر لیے گئے اور ان کے رسالے کو بند کر دیا گیا تھا جس کی بناء پر وہ پاکستان سے جلاوطنی اختیار کر کے ہندوستان چلی گئیں ۔

    1981 سے 1987 تک ہندوستان میں قیام پذیر رہیں۔اس دوران وہ جامعہ ملیہ۔اسلامیہ دہلی سے وابستہ رہیں ۔ وہاں ان کا ایک شعری مجموعہ” کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے” شائع کیا گیا جبکہ اس سے قبل پاکستان میں ان کے دو شعری مجموعے ” بدن "دریدہ اور ایک دوسرا شعری مجموعہ شائع ہو چکا تھا ۔ جنرل ضیا کی وفات کے بعد وہ اپنی جلاوطنی ختم کر کے اپنے وطن واپس آ گئیں۔

    محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور میں انہیں نیشنل بک کونسل کی چیئر پرسن مقرر کیا گیا تھا ۔ فہمیدہ ریاض نے جمہوریت کی بحالی، انسانی حقوق کے تحفظ اور بلوچستان کی محرومی کے حوالے سے بھرپور جدوجہد کی۔ فہمیدہ ریاض کی نصف درجن سے زائد کتابیں شائع ہوئیں جن میں "حلقہ مری زنجیر کا” ہم رکاب، ادھورا آدمی، میں مورت ہوں ، اپنا جرم ثابت ہے، اور ” آدمی کی زندگی” شامل ہیں ۔

    فہمیدہ نے دو شادیاں کی تھیں پہلی شوہر سے ایک بیٹی اور دوسرے شوہر سے ایک بیٹی اور ایک بیٹا کبیر پیدا ہوا۔ کبیر 2007 میں امریکہ میں ایک حادثے میں فوت ہو گئے جس کا فہمیدہ کو شدید صدمہ ہوا ۔ 21 نومبر 2018 میں فہمیدہ ریاض کا انتقال ہوا۔

    فہمیدہ ریاض کی شاعری سے انتخاب

    اب سو جاؤ

    اور اپنے ہاتھوں کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
    تم چاند سے ماتھے والے ہو
    اور اچھی قسمت رکھتے ہو
    بچے کی سو بھولی صورت
    اب تک ضد کرنے کی عادت
    کچھ کھوئی کھوئی سی یادیں
    کچھ سینے میں چھبھتی یادیں
    اب انہیں بھلا دو سو جاؤ
    اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
    سو جاؤ تم شہزادے ہو
    اور کتنے ڈھیروں پیارے ہو
    اچھا تو کوئی اور بھی تھی
    اچھا پھر بات کہاں نکلی
    کچھ اور بھی یادیں بچپن کی
    کچھ اپنے گھر کے آنگن کی
    سب بتلا دو پھر سو جاؤ
    اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
    یہ ٹھنڈی سانس ہواؤں کی
    یہ جھلمل کرتی خاموشی
    یہ ڈھلتی رات ستاروں کی
    بیتے نہ کبھی تم سو جاؤ
    اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو

    اس گلی کے ہر موڑ پر

    اس گلی کے موڑ پر اک عزیز دوست نے
    میرے اشک پونچھ کر
    آج مجھ سے یہ کہا
    یوں نہ دل جلاؤ تم
    لوٹ مار کا ہے راج
    جل رہا ہے کل سماج
    یہ فضول راگنی
    مجھ کو مت سناؤ تم
    بورژوا سماج ہے
    لوٹ مار چوریاں اس کا وصف خاص ہے
    اس کو مت بھلاؤ تم
    انقلاب آۓ گا
    اس سے لو لگاؤ تم
    ہو سکے تو آج کل کچھ مال بناؤ تم
    کھائی سے نکلنے کی آرزو سے پیشتر
    دیکھ لو ذرا جو ہے دوسری طرف ہے گڑھا
    آج ہیں جو حکمراں ان سے بڑھ کے خوفناک ان کے سب رقیب ہیں
    دندنا رہے ہیں جو لے کے پاتھ میں چھرا
    شکر کا مقام ہے
    میری مسخ لاش آپ کو کہیں ملی نہیں
    اک گلی کے موڑ پر
    میں نے پوچھا واقعی
    سن کے مسکرا دیا کتنی دیر ہو گئی
    لیجیۓ میں اب چلا اس کے بعد اب کیا ہوا
    کھڑکھڑائیں ہڈیاں
    اس گلی کے موڑ سے وہ کہیں چلا گیا

    پچھتاوا

    خداۓ ہر دوجہاں نے جب آدمی کو پہلے پہل سزا دی
    بہشت سے جب اسے نکالا
    تو اس کو بخشا گیا یہ ساتھی
    یہ ایسا ساتھی ہے جو ہمیشہ ہی آدمی کے قریں رہا ہے
    تمام ادوار چھان ڈالو
    روایتوں میں حکایتوں میں
    ازل سے تاریخ کہہ رہی ہے
    کہ آدمی کی جبیں ہمیشہ ندامتوں سے عرق رہی ہے
    وہ وقت جب سے کہ آدمی نے
    خدا کی جنت میں شجر ممنوعہ چکھ لیا
    اور
    سرکشی کی
    تبھی سے اس پھل کا یہ کسیلا ذائقہ
    آدمی کے کام و دہن میں ہر پھر کے آ رہا ہے
    مگر ندامت کے تلخ سے ذائقے سے پہلے گناہ کی بے پناہ لذت

    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • انگلینڈ کے خلاف اسکواڈ میں پرفارم کرنے والے کھلاڑی ہی منتخب ہوئے. محمد وسیم

    انگلینڈ کے خلاف اسکواڈ میں پرفارم کرنے والے کھلاڑی ہی منتخب ہوئے. محمد وسیم

    انگلینڈ کے خلاف اسکواڈ میں پرفارم کرنے والے کھلاڑی ہی منتخب ہوئے، محمد وسیم

    قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر محمد وسیم نے کہا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لئے اسکواڈ میں نئے لڑکوں کی موجودہ فارم کی بنیاد پر فواد عالم جگہ نہیں بنا پائے۔ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران محمد وسیم نے کہا کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم جیسے کھیلی وہ داد کی مستحق ہے، میگا ایونٹ میں ہماری ٹیم نےکم بیک کیااور فائنل میں پہنچی۔

    چیف سلیکٹر نے کہا کہ ایک سال کے دوران ٹیم کی کارکردگی اچھی رہی ہے لیکن ہم بڑے ایونٹ جیتنا چاہتے ہیں۔ محمد وسیم نے کہا کہ کوشش کررہے ہیں کہ کرکٹ کے تینوں فارمیٹ میں سلیکشن کے لئے آپشنز بڑھائیں، اس لئے کوشش ہے قومی ٹیم کے ساتھ سفر کرنے والے نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے۔ فواد عالم کو ڈراپ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے چیف سلیکٹر نے کہا کہ انگلینڈ کے خلاف اسکواڈ میں پرفارم کرنے والے کھلاڑی ہی منتخب ہوئے ہیں، نئے لڑکوں کی موجودہ فارم کی بنیاد پر فواد عالم جگہ نہیں بنا پائے، عثمان صلاح الدین کی پرفارمنس اچھی ہے لیکن جگہ خالی نہیں۔
    یہ بھی پڑھیں؛
    فیفا کے وارے نیارے ہوگئے؛ اسپانسر شپ سے ایک بلین ڈالر اضافی کمالیے
    پروین رحمان قتل کیس؛ ملزمان کو دی گئی سزا کالعدم قرار
    انتظار ختم! تاریخ کا مہنگا ترین عالمی فٹبال میلہ قطر میں سج گیا:میزبان ملک قطرپہلے میچ میں ہی ہارگیا
    محمد وسیم نے کہا کہ شاہین آفریدی ٹی 20 ورلڈ کپ میں مکمل فٹ تھا، بریک کے بعد فاسٹ بولر کو تھوڑا ٹائم لگتا ہے، پانچ روزہ کرکٹ کے لئے ہمارے پاس فاسٹ بولرز زیادہ نہیں، حارث رؤف بہت زبردست بولر ہے۔

  • ہم دیکھیں گےلازم ہےکہ ہم بھی دیکھیں گے:فیض احمد فیض کی نظم اورجنرل ضیاء الحق

    ہم دیکھیں گےلازم ہےکہ ہم بھی دیکھیں گے:فیض احمد فیض کی نظم اورجنرل ضیاء الحق

    ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

    فیض نے اپنی مشہور نظم ’ہم دیکھیں گے‘ 1979 میں لکھی تھی۔ اس وقت انھوں نے یہ نظم پاکستان کے آمر جنرل ضیاء الحق کے خلاف لکھی تھی۔

    20 نومبر 1984 فیض اس دنیا کو الوداع کہہ گئے اور 1985 میں لاہور کے الحمرہ آرٹس کونسل کے آڈیٹوریم میں گلوکارہ اقبال بانو (2009-1935) نے اس نظم کو گا کر اسے امر کر دیا۔ اقبال بانو دلی میں پیدا ہوئی تھیں اور انھوں نے اپنا بچپن روہتک میں گذارا۔ 17 سال کی عمر میں وہ پاکستان منتقل ہو گئیں

    یہ 1985 کی بات ہے جنرل ضیاء الحق نے غیر اعلانیہ طور پہ ٹی وی اور ریڈیو پر فیض احمد فیض اور ان کے کام پر پابندی لگا رکھی تھی . جنرل ضیاء الحق کے پاکستان میں نہ صرف فیض احمد فیض بلکہ ساڑھی پہننے پر بھی پابندی تھی- ایسے میں الحمرا ہال لاہور میں 13 فروری 1985 کو فیض احمد فیض کی سالگرہ پر ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں اقبال بانو نے انتظامیہ کی ہدایت کے برخلاف سلک کی ساڑھی پہن رکھی تھی یہ گیت گایا تھا
    ” ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے”

    ہجوم تھا کہ ہال کے باہر تک جمع تھا . مجبوراً دروازے کھلے رکھنے پڑے . ہجوم کے اصرار پر لاؤوڈ سپیکر باہر بھی رکھنے پڑے جیسے ہی اقبال بانو نے گیت شروع کیا لوگوں نے اس کے ساتھ گانا شروع کر دیا لوگوں کا جوش و خروش دیکھ کر پولیس نے ہال کی بتیاں بجھا دی لیکن پورے لاہور نے یہ گیت گایا –

    اس گیت کی کوئی ویڈیو موجود نہیں ہے۔ آڈیو میں آپ کو لوگوں کا جوش اور ولولہ صاف سنائی دے گا -اس پروگرام کی ریکارڈنگ پاکستان سے سمگل کی گئی اور پھر دنیا تک یہ نظم پہنچی۔گیت کی آڈیو کا لنک پہلے کمنٹ میں موجود ہے

    ہم دیکھیں گے
    لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
    وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
    جو لوح ازل میں لکھا ہے
    جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
    روئی کی طرح اڑ جائیں گے
    ہم محکوموں کے پاؤں تلے
    جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
    اور اہل حکم کے سر اوپر
    جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
    جب ارض خدا کے کعبے سے
    سب بت اٹھوائے جائیں گے
    ہم اہل صفا مردود حرم
    مسند پہ بٹھائے جائیں گے
    سب تاج اچھالے جائیں گے
    سب تخت گرائے جائیں گے
    بس نام رہے گا اللہ کا
    جو غائب بھی ہے حاضر بھی
    جو منظر بھی ہے ناظر بھی
    اٹھے گا انا الحق کا نعرہ
    جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
    اور راج کرے گی خلق خدا
    جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

  • پی ٹی آئی کو 2013 کے بعد بھی فارن فنڈنگ

    پی ٹی آئی کو 2013 کے بعد بھی فارن فنڈنگ

    پاکستان تحریک انصاف کو 2013 کے بعد بھی فارن فنڈنگ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے جنگ کے مطابق الیکشن کمیشن کے اگست میں فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے 2008 سے 2013 تک ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی لیکن حاصل دستاویزات کے مطابق یہ فنڈنگ 2013 کے بعد بھی جاری رہی۔

    سوشل میڈیا پر بلیک میلنگ، ہیکنگ اور فراڈ کی شکایات میں اضافہ

    رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی نے اکتوبر 2014 سے مارچ 2015 تک امریکا میں غیر ملکی رجسٹرڈ اداروں سمیت مختلف اداروں سے 4 لاکھ ڈالرز سے زائد رقم اکٹھی کی-

    رپورٹ کے مطابق سابق وفاقی وزیر علی زیدی اور سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے اس عرصے میں امریکا کا دورہ کیا اور اکتوبر 2014 سے مارچ 2015 تک فنڈز جمع کرنے کی مہم چلائی جس میں چار لاکھ ڈالرز سے زائد رقم اکٹھی کی-

    رپورٹ کے مطابق رقم میں سے 3 لاکھ 5 ہزار ڈالرز پاکستان میں موجود پارٹی اکاؤنٹس میں پانچ اقساط میں منتقل کیے گئے، پی ٹی آئی کے بیرون ملک چیپٹر کے سیکرٹری عبداللہ ریار کے پاس ان فنڈز کے حوالے سے کوئی معلومات دستیاب نہیں۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کا دعویٰ رہا ہے کہ اُنہوں نے بیرون ممالک سے جتنے بھی فنڈز اکھٹے کیے ہیں وہ قانون کے مطابق ہیں۔

    واضح رہے کہ 2 اگست 2022 میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر ممنوعہ فنڈز لینا ثابت ہو گیا ہے۔

    گوجرہ : نام نہاد معزز سود خور صحافی بن گئے،صحافت کی آڑ میں غیرقانونی کام عروج…

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ’متفقہ‘ فیصلہ سنایا تھا فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے الیکشن کمیشن میں غلط ڈیکلیریشن جمع کرایا۔

    پی ٹی آئی کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ ​​کا مقدمہ پارٹی کے بانی ارکان میں سے ایک اکبر شیر بابر (المعروف اکبر ایس بابر) نے نومبر 2014 میں الیکشن کمیشن میں دائر کیا تھا۔

    انہوں نے پارٹی پر غیر اعلانیہ اکاؤنٹس کے ذریعے غیر ملکی کمپنیوں اور غیر ملکی شہریوں سے رقوم حاصل کرنے کا الزام لگایا تھا۔ تاہم الیکشن کمیشن کی تحقیقات کے دوران کئی باتیں سامنے آئیں۔

    اے این ایف کی ملک بھر میں کاروائیاں،کروڑوں روپے مالیت کی منشیات ضبط

    تحریک انصاف کی قیادت شروع سے ہی اس مقدمے کے ‘غیر قانونی’ ہونے کے باعث مخالفت كرتے رہے ہیں، جبکہ کئی موقعوں پر انہوں نے دوسری سیاسی جماعتوں خصوصاً ان کے سب سے بڑے سیاسی حریف پاکستان مسلم لیگ ن کے فنڈز کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔

    2014 کے بعد سے رواں برس 2 اگست تک کیس کی تقریباً 200 سماعتیں ہوئیں، جبکہ مقدمہ دائر ہونے کے وقت سے تحریک انصاف نے 30 مرتبہ سماعتوں میں التوا مانگا اوچھ مرتبہ مقدمےکےناقابل سماعت ہونے یا الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سےباہر ہونےکی درخوا ستیں دائر کیں جبکہ نو بار وکیل تبدیل کیے۔

    الیکشن کمیشن نے 21 بار تحریک انصاف کو دستاویزات اور مالی ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کیں۔

    پاکستان تحریک انصاف نے اس کیس کی وجہ سے الیکشن کمیشن اور الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر پی ٹی آئی مخالف جماعتوں کی طرف داری کا الزام لگایا اور ملک میں انتخابات کروانے کے ذمہ دار ادارے کے خلاف گاہے بگاہے احتجاج بھی کیا۔

  • ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش

    ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش

    ٹیپو سلطان شیرِ میسور، سلطان حیدر علی کے سب سے بڑے فرزند، ہندوستان کے اصلاح و حریت پسند حکمران، بین المذاہب ہم آہنگی کی زندۂ جاوید مثال، طغرق (فوجی راکٹ) کے موجد تھے

    ٹیپو سلطان 20 نومبر 1750ء (بمطابق جمعہ 20 ذوالحجہ، 1163 ہجری ) کو دیوانہالی میں پیدا ہوئے۔ موجودہ دور میں یہ بنگلور دیہی ضلع کا مقام ہے جو بنگلور شہر کے 33 کلومیٹر (21 میل) شمال میں واقع ہے۔ ٹیپو سلطان کا نام آرکاٹ کے بزرگ ٹیپو مستان اولیاء کے نام پر ہے۔ اسے اپنے دادا فتح محمد نام کی مناسبت سے فتح علی بھی کہا جاتا تھا۔

    حیدر علی نے ٹیپو سلطان کی تعلیم پر خاص توجہ دی اور فوج اور سیاسی امور میں اسے نوعمری میں ہی شامل کیا۔ 17 سال کی عمر میں ٹیپو سلطان کو اہم سفارتی اور فوجی امور پر آزادانہ اختیار دے دیا۔ اسے اپنے والد حیدر علی جو جنوبی بھارت کے سب سے طاقتور حکمران کے طور پر ابھر کر سامنے آئے کا دایاں ہاتھ سمجھا جاتا تھا

    ‘ٹیپو سلطان کا پورا نام فتح علی ٹیپو تھا۔ آپ بنگلور، ہندوستان میں 20 نومبر، 1750ء میں حیدر علی کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سلطان حیدر علی نے جنوبی ہند میں 50 سال تک انگریزوں کو بزورِ طاقت روکے رکھا اور کئی بار انگریز افواج کو شکست فاش بھی دی

    ٹیپو سلطان کا قول تھا :

    ”شیر کی ایک دن کی زندگی، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے“

    آپ نے برطانوی سا مراج کے خلاف ایک مضبوط مزاحمت فراہم کی اور برصغیر کے لوگوں کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کرانے کے لیے سنجیدہ و عملی اقدامات کیے۔ سلطان نے انتہائی دوررس اثرات کی حامل فوجی اصلاحات نافذ کیں، صنعت و تجارت کو فروغ دیا اور انتظامیہ کو ازسرنو منظم کیا۔ سلطان کو اس بات سے اتفاق تھا کہ برصغیر کے لوگوں کا پہلا مسئلہ برطانوی اخراج ہے۔ نظام اور مر ہٹوں نے ٹیپو کی طاقت کو اپنی بقاء کے لیے خطرہ سمجھا اور انگریزوں سے اتحاد کر لیا

    ٹیپو سلطان نے ترکی، ایران، افغانستان اور فرانس سے مدد حاصل کرنے کی کوششیں کیں مگر کامیاب نہ ہو سکے

    ٹیپو سلطان کی زندگی ایک سچے مسلمان کی زندگی تھی۔ وہ مذہبی تعصب سے پاک تھے۔ یہی وجہ تھی کہ غیر مسلم ان کی فوج اور ریاست میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ ٹیپو سلطان نے اپنی مملکت کو مملکت خداداد کا نام دیا۔ حکمران ہونے کے باوجود خود کو عام آدمی سمجھتے تھے۔ با وضو رہنا اور تلاوتِ قرآن آپ کے معمولات میں سے تھے۔ ظاہری نمود و نمائش سے اجتناب برتتے تھے۔ ہر شاہی فرمان کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کیا کرتے تھے۔ زمین پر کھدر بچھا کر سویا کرتے تھے

    ٹیپو سلطان ہفت زبان حکمران کہے جاتے ہیں۔ آپ کو عربی، فارسی، اردو، فرانسیسی، انگریزی سمیت کئی زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔ آپ مطالعے کے بہت شوقین تھے اور ذاتی کتب خانے کے مالک تھے جس میں کتابوں کی تعداد کم و بیش 2000 بیان کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آپ سائنسی علوم میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔ آپ کو برصغیر میں راکٹ سازی کا موجد کہا جاتا ہے

    ہر جنگ میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ رہنے والے ٹیپو سلطان اپنے زمانے کے تمام فنون سپہ گری سے واقف تھے۔ اپنی افواج کو پیادہ فوج کی بجائے سواروں اور توپ خانے کی شکل میں زیادہ منظّم کیا۔ اسلحہ سازی، فوجی نظم و نسق اور فوجی اصلاحات میں تاریخ ساز کام کیا

    میسور کی آخری جنگ کے دوران جب سرنگاپٹم کی شکست یقینی ہو چکی تھی، ٹیپو سلطان کی فوج کے دو غداروں میر صادق اور پورنیا نے اندورن خانہ انگریزوں سے ساز باز کرلی تھی۔ میر صادق نے انگریزوں کو سرنگاپٹم کے قلعے کا نقشہ فراہم کیا اور پورنیا اپنے دستوں کو تنخواہ دینے کے بہانے پیچھے لے گيا

    ٹیپو نے محاصرہ کرنے والے انگریزوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کی اور قلعے کو بند کروا دیا لیکن غدار ساتھیوں نے دشمن کے لیے قلعے کا دروازہ کھول دیا اور قلعے کے میدان میں زبردست جنگ چھڑ گئی۔ با رُود کے ذخیرے میں آگ لگ جانے کے باعث مزاحمت کمزور ہو گئی اس موقع پر فرانسیسی افسر نے ٹیپو کو چترادرگا بھاگ جانے اور اپنی جان بچانے کا مشورہ دیا مگر ٹیپو راضی نہ ہوئے اور 4 مئی، 1799ء کو میدان جنگ میں دشمنوں سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے

    شاعر مشرق علامہ اقبال کو ٹیپو سلطان شہید سے خصوصی محبت تھی۔ 1929ء میں آپ نے شہید سلطان کے مزار پر حاضری دی اور تین گھنٹے بعد باہر نکلے تو شدّت جذبات سے آنکھیں سرخ تھیں۔ انہوں نے فرمایا :

    ”ٹیپو کی عظمت کو تاریخ کبھی فراموش نہ کرسکے گی وہ مذہب ملّت اور آزادی کے لیے آخری دم تک لڑتا رہا یہاں تک کہ اس مقصد کی راہ میں شہید ہو گیا“

    علامہ اقبال نے ضرب کلیم میں سلطان ٹیپو کی وصیت کے عنوان سے مندرجہ ذیل نظم لکھی ہے

    تو رہ نوردِ شوق ہے، منزل نہ کر قبول
    لیلٰی بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول

    اے جوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تند و تیز
    ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول

    کھویا نہ جا صنم کدہ کائنات میں
    محفل گداز گرمی محفل نہ کر قبول

    صبح ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نے
    جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول

    باطل دوئی پسند ہے حق لا شریک ہے
    شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول

    سیماب اکبرآبادی نے مندرجہ ذیل نظم کے ذریعے خراج عقیدت پیش کیا ہے

    اے شہید مرد میدان وفا تجھ پر سلام
    تجھ پہ لاکھوں رحمتیں لا انتہا تجھ پر سلام

    ہند کی قسمت ہی میں رسوائی کا سامان تھا
    ورنہ تو ہی عہد آزادی کا ایک عنوان تھا

    اپنے ہاتھوں خود تجھے اہل وطن نے کھو دیا
    آہ کیسا باغباں شام چمن نے کھو دیا

    بت پرستوں پر کِیا ثابت یہ تو نے جنگ میں
    مسلم ہندی قیامت ہے حجازی رنگ میں

    عین بیداری ہے یہ خواب گراں تیرے لیے
    ہے شہادت اک حیات جاوداں تیرے لیے

    تو بدستور اب بھی زندہ ہے حجاب کور میں
    جذب ہو کر رہ گیا ہستی پر شور میں

    تلاش و ترسیل: آغا نیاز مگسی

  • سوشل میڈیا پر بلیک میلنگ، ہیکنگ اور فراڈ کی شکایات میں اضافہ

    سوشل میڈیا پر بلیک میلنگ، ہیکنگ اور فراڈ کی شکایات میں اضافہ

    لاہور: سوشل میڈیا کے ذریعے بلیک میلنگ، ہیکنگ اور فراڈ کی شکایات بڑھنے لگی ہیں۔

    باغی ٹی وی: فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے تحت رواں سال کے صرف ساڑھے چار ماہ کے دوران 40 ہزار 650 شکایا ت موصول ہوئی ہیں۔

    محبوبہ نے شادی سے انکار پر مخبری کردی، منشیات فروش مال سمیت گرفتار

    ایف آئی اے کے مطابق سب سے زیادہ الیکٹرانک فراڈ کی شکایات موصول ہوئیں جن کی تعداد 16 ہزار670 ہےجبکہ ایف آئی اے کو پورے ملک سے سوشل میڈیا کرائمز کی سات ہزار شکایات ملی ہیں۔

    ایف آئی اے کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے شہریوں کو بد نام کرنے کی پانچ ہزار182 شکایات ملیں جب کہ سوشل میڈیا ایپ کے ذریعے مرد و خواتین کو بلیک میل کرنے کی 501 شکایات موصول ہوئی ہیں۔

    ٹھٹھہ :کينجھر جھيل ،اداروں کی غفلت،مچھلی، سائبیرین اور مقامی پرندوں کی کھلے عام نسل کشی جاری

    اعداد و شمار کے تحت ایف آئی اے کی جانب سے انکوائریز کرنےکے بعد رواں سال 600 سے زائد مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

  • محبوبہ نے شادی سے انکار پر مخبری کردی، منشیات فروش مال سمیت گرفتار

    محبوبہ نے شادی سے انکار پر مخبری کردی، منشیات فروش مال سمیت گرفتار

    کبیر والہ: سرائے سدھو میں محبوبہ نے شادی سے انکار پر منشیات فروش کو مال اور ساتھی سمیت گرفتار کرادیا۔ ذرائع کے مطابق یہ واقعہ سرائے سدھو کے نواحی علاقے میں پیش آیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ علاقے کی ایک خاتون نے منشیات فروش ابرار سے متعلق پولیس کو مخبری کی کہ وہ منشیات سپلائی کررہا ہے اور اس کے ساتھ اس کا دوست بھی موجود ہے۔

    پولیس نے اطلاع ملنے پر کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش ابرار کو اس کے ساتھی عدیل موہانہ کے ہمراہ گرفتار کرلیا جن سے چرس اور ہیروئن برآمد ہوئی تاہم پولیس نے ہیروئن کی برآمدگی ظاہر نہیں کی اور صرف تین کلوگرام چرس برآمدگی کا مقدمہ درج کردیا۔

    دریں اثنا واقعے سے متعلق یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اطلاع دینے والی خاتون، منشیات فروش ابرار کی سابقہ محبوبہ ہے جس نے ابرار کی جانب سے شادی سے انکار کرنے پر اسے سبق دینے کے لیے پولیس کو یہ اطلاع دی۔

     

    ادھربروری پولیس نے گزشتہ روز ہزارہ ٹاؤن میں منشیات فروشوں اور عادی افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش محمد علی عرف ایرانی کوگرفتار کر کے ڈیڑھ کلو چرس قبضے میں لے لی جبکہ 15عادی افراد کو بحالی سینٹر منتقل کردیا۔

     

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • لاہور؛ ناراض بیوی کے گھر نہ لوٹنے پر پولیس اہلکار کی سسرال میں فائرنگ

    لاہور؛ ناراض بیوی کے گھر نہ لوٹنے پر پولیس اہلکار کی سسرال میں فائرنگ

    لاہور: نصیر آباد کے علاقہ میں ناراض بیوی کے واپس گھر نہ آنے پر پولیس اہلکار نے بیوی کے میکے جاکر سسرالیوں پر فائرنگ کردی۔

    پولیس حکام کے مطابق سسرالیوں پر فائرنگ کا واقعہ لاہور کے علاقے نصیرآباد میں چوکی فردوس مارکیٹ کی حدود مکہ کالونی میں پیش آیا جہاں پولیس اہلکار نے بیوی اور سالے وقاص کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

    بیوی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ چوکی فردوس مارکیٹ میں تعینات پولیس کانسٹیبل کاشف رضا اپنا چار ماہ کا بیٹا ماں سے چھین کر لے گیا جب کہ اہلیہ اور اس کے بھائی کو مار پیٹ کا نشانہ بھی بنایا۔

    کانسٹیبل کاشف رضا سول کپڑوں میں اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ آیا اور سسرال آکر فائرنگ کردی، تاہم فائرنگ سے کوئی زخمی نہیں ہوا۔
    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیش کرنے والے اہلکاروں نے وقوعہ سے گولیوں کے چار خول برآمد کیے ہیں۔

    سسرالیوں کا کہنا ہے کہ کانسٹیبل کاشف رضا والٹن روڈ کے قریب کوارٹر میں رہائش پزیر ہے، جس کی ایک سال قبل شادی ہوئی تھی، بیوی پر تشدد کرتا تھا، چند روز سے بیوی میکے آگئی تھی۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کانسٹیبل گھر کو تالا لگا کر ملزم فرار ہوگیا۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • آئینی و جمہوری جدوجہد کے ذریعے منزل حاصل کریں گے:عمران خان

    آئینی و جمہوری جدوجہد کے ذریعے منزل حاصل کریں گے:عمران خان

    لاہور:چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ آئینی و جمہوری جدوجہد کے ذریعے منزل حاصل کریں گے۔لاہور میں اپنی رہائش گاہ زمان پارک پر صحافیوں سے ملاقات عمران خان کی ملاقات ہوئی جس میں ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ بھی موجود تھیں۔

    ملاقات میں سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے انکی پلاننگ کا پتا ہے، میں آگے کی پلاننگ کر رہا ہوں، یہ اب دونوں طرف سے پھنس چکے ہیں، الیکشن کرواتے ہیں تو فارغ ہوجائیں گے، نہیں کرواتے تو ملک دیوالیہ ہونے کا خطرہ ہے، ہماری کوشش ہے جلد از جلد صاف شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہو، نئے انتخابات کے علاوہ ملکی مسائل کا کوئی حل نہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ صدرعارف علوی کے ذریعے مجھے پیغامات بھجوائے گئے ہیں، میرا ایک ہی مطالبہ ہے الیکشن کی تاریخ دیں، اسکے بعد ساری بات چیت ہوگی، عوام کی طاقت سے مقابلہ کروں گا، انکی کرپشن کی داستانوں سے پوری دنیا واقف ہے، میرے خلاف پوری ریاستی مشینری استعمال کرکے بھی گھڑی کے علاوہ کچھ نہ نکال سکے، گھڑی والے معاملے پر عدالت جا رہا ہوں۔

    عمران خان نے راولپنڈی میں 26 نومبر کے اجتماع کی قیادت خود کرنےکا اعلان کردیا جبکہ مرکزی، صوبائی اورمقامی ذمہ داروں کو ضروری ہدایات جاری کردی۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تحریک فیصلہ کن موڑ پر آن کھڑی ہے، تحریک کو جبرسے دبانے کی کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں، آئینی و جمہوری جدوجہد کے ذریعےمنزل حاصل کریں گے۔

    چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ 26 نومبر کو مستقبل کی پیش بندی اورفیصلہ سازی کا اعلان کریں گے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز روات میں پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان نے پارٹی کے کارکنوں کو 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دے دی۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا