Baaghi TV

Category: لاہور

  • کرکٹرعثمان شنواری وفات پاگئے:مگرکون سےعثمان شنواری؟ہرکوئی تصدیق کرنے لگا

    کرکٹرعثمان شنواری وفات پاگئے:مگرکون سےعثمان شنواری؟ہرکوئی تصدیق کرنے لگا

    لاہور:کرکٹرعثمان شنواری وفات پاگئے:مگرکون سےعثمان شنواری؟ہرکوئی تصدیق کرنے لگا ہے ،کیونکہ عثمان شنواری جنہیں پاکستانی ایک قومی کرکٹر کے طورپرجانتے ہیں وہ خیریت سے ہیں اور زندہ ہیں جبکہ وفات پانے والے عثمان شنواری ایک مقامی کھلاڑی ہیں جوکو ان کے ساتھی عثمان شنواری کے نام سے بلاتے ہیں‌

    یہی وجہ ہے کہ لاہور کی مقامی کرکٹ لیگ میں کھلاڑی کےوفات کی خبر کے بعد قومی کرکٹر عثمان شنواری نے ٹوئٹ کرکے اپنی خیریت سے آگاہ کیا۔

     

     

    لاہور میں ایک لیگ کے میچ کےدوران حرکت قلب بند ہونے سے مقامی کرکٹر عثمان شنواری وفات پاگئے۔مقامی کھلاڑی کے انتقال کے بعد سوشل میڈیا پر قومی کرکٹر عثمان شنواری سے متعلق غلط خبر شیئر کی گئی۔

    یاد رہے کہ اتوار کو صبح سے پاکستانی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اور افواہ گردش کررہی ہے جس کے مطابق ایک کرکٹ میچ کے دوران کرکٹر عثمان شنواری زمین پر گرے جنہیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا اور وہ وہاں وفات پا گئے۔

     

    یہ ویڈیو اور خبر ٹویٹ کرنے والے نے یہ بات واضح نہیں کی کہ وفات پاجانے والے عثمان شنواری وہ عثمان شنواری نہیں جو پاکستانی ٹیم اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں کراچی کنگز کے لیے کھیلتے ہیں۔

    کرکٹ میچ کی یہ ویڈیو اور خبر سب سے پہلے ایک ٹوئٹر صارف طاہر جمیل خان کی جانب سے شیئر کی گئی تھی اور انہوں نے ساتھ لکھا تھا کہ برگر پینٹس اور فارائزلینڈ کے درمیان میچ کے دوران عثمان شنواری دل کے دورے کے باعث زمین پر گر گئے اور انہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکے۔

    کئی صارفین نے اس افواہ کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ کہا کہ جن کی وفات ہوئی ہے وہ ایک کلب کرکٹر عثمان شنواری ہیں جو کہ ایک ٹورنامنٹ کے درمیان چل بسے ہیں۔سپورٹس رپورٹر فیضان لاکھانی نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’یہ کوئی اور عثمان شنواری ہیں۔ وہ نہیں جنہیں آپ جانتے ہیں۔‘

    یہ معاملہ اتنا آگے بڑھا کہ عثمان شنواری کے گھر والوں کو کالیں آنا شروع ہوگئیں۔عثمان شنواری نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ’میں بالکل ٹھیک ہوں اللہ کا شکر ہے۔‘انہوں نے مزید لکھا کہ ’میری پوری فیملی کو لوگ کالیں کررہے ہیں۔ نہایت احترام کے ساتھ (کہنا چاہوں گا) کہ اتنی بڑی خبر چلانے سے پہلے تصدیق کرلیا کریں۔

  • ہیلپ لائن 15 پر لاکھوں جعلی کالز، پولیس کے لئے مشکلات کا باعث

    ہیلپ لائن 15 پر لاکھوں جعلی کالز، پولیس کے لئے مشکلات کا باعث

    لاہور:عوام کی بروقت مدد کیلئے قائم پولیس ہیلپ لائن جعلی شکایتی کالز کی وجہ سے خود پولیس کیلئے مشکلات کا باعث بن گئی۔پولیس ہیلپ لائن 15 کسی بھی مشکل میں عوام کا فوری سہارا ہوتا ہے لیکن یہ اہم سہارا جعلی شکایات کرنے والے ناسمجھ لوگوں کے ہاتھوں خود بے چارہ بن چکا ہے۔

     

     

    راولپنڈی پولیس کو رواں سال لے دوران ہیلپ لائن سروس یر اب تک 25 لاکھ شکایتی کالز موصول ہوئیں جن میں سے 18 لاکھ جعلی نکلی ہیں۔ جس کی وجہ سے پولیس کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جعلی کالز کے باعث اکثر حقیقی شکایات کرنے والے متاثر ہوتے ہیں۔

     

     

    سی پی او راولپنڈی شہزاد بخاری کا کہنا ہے کہ رواں برس اب تک ون فائیو (15) پر 25 لاکھ کے لگ بھگ کالز موصول ہوئیں جن میں سے 18 لاکھ کالز جعلی تھیں، ہم ہر کال پر رسپانس کرتے ہیں۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پولیس کی خاص چیز پر کسی اہم کام یا واقعے کی طرف ہوتی ہے لیکن فیک کال کی بنا پر ساری توجہ دوسری جانب منذول ہوجاتی ہے۔

     

     

    شہزاد بخاری نے مزید کہا کہ جعلی شکایات کرنے والوں کے خلاف مقدمات کا اندراج شروع کردیا گیا ہے۔ اب تک 12 لوگوں پر مقدمات قائم کئے ہیں۔ جعلی کالز بہت زیادہ ہیں اگر سب پر مقدمات درج کریں گے تو بڑی آبادی پر مقدمات ہوجائیں گے راولپنڈی پولیس نے اپیل کی ہے کہ ہیلپ لائن کے غیر ضروری استعمال سے گریز کیا جائے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اور ادارے کی مؤثر کارکردگی یقینی بنائی جاسکے۔

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • آڈیو لیکس ۔خطرے کی گھنٹی:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    آڈیو لیکس ۔خطرے کی گھنٹی:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو لیکس کی جنگ اور ایک دوسرے کی جاسوسی پر اترانے والے سیاستدانوں او رنجی ٹی وی چینلز پر تبصرہ کرنے والوں کو معاملے کی حساسیت پر غور وفکر کرنا چاہیئے ۔ کہ کہیں وطن عزیز کی سیکورٹی اور سالمیت تو داؤ پر نہیں لگ چکی ؟ پاکستان ایک عظیم ایٹمی قوت کا حامل ملک ہے اور اس کی ہمسائیگی میں ازلی دشمن تاک لگائے بیٹھے ہیں۔ ملک کی آئی ایس آئی ایک مایہ ناز ملکی سلامتی کا ادارہ ہے۔ جس کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی اقوام عالم معترف ہے جبکہ آئے دن سابقہ و وموجودہ وزیراعظموں ،وزراء اور سیاسی لیڈروں کی پارٹی میٹنگ پالیسی ایشیو پر گفتگو حتی کہ خواتین راہنمائوں کے بیڈ روم تک بکنگ اور فون ریکارڈنگ کے لیک ہونے کے الزامات اور مبینہ واقعات ملک کی سیکورٹی کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے ۔

    ایک دوسرے کے آڈیو ویڈیو لیکس اور بغلیں بجانے والے سیاسی مخالفین کو نہ صرف شادیانے بجانے سے اجتناب کرنا چاہیئے بلکہ فکر کرنی چاہیئے کہ کوئی بھی محفوظ نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے ایوان صدر وزیراعظم ہائوس و آفس سے لے کر تمام وزارتوں اور حساس تنصیبات پر موجود اہلکاروں کی سخت ترین سکریننگ ہونی چاہئے اور ا س کے ساتھ ساتھ موبائل فون و ٹیلی فون کمپنیوں کو بھی تطہیر کے عمل سے گزارا جائے کیوں کہ اگر وزیراعظم ہاؤس و آفس اور اعلی سیاسی قیادت بھی محفوظ نہیں تو وطن عزیز کی سیکورٹی پر تبصرہ کرنے سے قلم اجازت نہیں دیتا

     

     

    حکومتی عہدیداروں اور سیاسی شخصیات کو بھی چاہیئے کہ وہ اپنی ذات سے بالاتر ہو کر ملک وقوم کی خدمت کا شیوہ اپنائیں کیونکہ کھوکھلے نعروں اور دوغلی پالیسی کے جھانسے میں عوام نہیں آئیںگے پاک فوج اور قومی سلامتی کے ادارے جہاں تک سرحدوں کی حفاظت پر ماموس ہیں انہیں اس حساس معاملے پر قومی سلامتی کے فول پروف اقدامات کرنا چاہیئے ۔

  • بابوسر ٹاپ اور اطراف میں موسم خزاں کی پہلی برف باری

    بابوسر ٹاپ اور اطراف میں موسم خزاں کی پہلی برف باری

    ملک میں موسم سرما کی آمد کے آثار شروع ، بالائی علاقوں میں کہیں بارش تو کہیں برف باری کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ملک کے بالائی علاقوں میں درجہ حرارت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، چلاس اور استور میں تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے جبکہ بابو سر ٹاپ پر وقفے وقفے سے موسم خزاں کی پہلی برف باری ہو رہی ہے اور رات سے اب تک 2 انچ تک برف پڑ چکی ہے۔

    ملک بھر میں ڈینگی کے وار جاری،اسلام آباد میں 6 اموار ت ریکارڈ

    اس کے علاوہ غذر کے پہاڑوں پر ہلکی برفباری ریکارڈ کی گئی بالائی علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر ہلکی برف باری کے موسم سرد ہو گیا۔ اہل علاقہ نے گرم ملبوسات کا استعمال شروع کر دیا اور میدانی علاقوں میں وقفے وقفے سےبارش بھی جاری ہے-

    آزاد کشمیر میں نکیال اور سماہنی سمیت مختلف شہروں میں بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا ہے جبکہ پنجاب میں شکر گڑھ، ظفروال اور گردونواح میں بھی بادل جم کر برسے ہیں۔

    عالمی رہنماؤں نے یقین دلایا کہ پورے اخلاص کے ساتھ پاکستان کی مدد کی جائے…

    بابوسر ٹاپ اور اطراف میں برف باری ہوئی، بابوسر چلاس روڈ عارضی طور پر ٹریفک کے لئے بند کردیا گیا۔بابوسر ٹاپ میں برفباری کے باعث جھلکڈ چلاس روڈ پر ٹریفک کی روانی معطل ہے۔

    انتظامیہ نے ہدایت کی ہے کہ خراب موسم کے دوران مسافر غیر ضروری سفر سے گریزکریں۔

    اسلام آباد سمیت شمالی علاقہ جات میں بارش متوقع

  • کہیں بھی حکومت سیلاب متاثرین کی مدد کرتےہوئے نظرنہیں آرہی،سیلاب متاثرین  کو تنہا نہیں چھوڑیں گے:سراج الحق

    کہیں بھی حکومت سیلاب متاثرین کی مدد کرتےہوئے نظرنہیں آرہی،سیلاب متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے:سراج الحق

    لاہور:امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ سیلابی علاقوں میں ریلیف کے حکومتی اقدامات ناکافی، لوگ شکایتیں کر رہے ہیں۔ ڈھائی ماہ کے دوران مختلف علاقوں میں گیا، کوئی وزیر مشیر متاثرین کے درمیان نظر نہیں آیا۔ حکمران بیرونی امداد کے منتظر ہیں کہ کب پیسہ آئے اور وصول کریں۔ سرکاری امداد کی تقسیم میں کرپشن کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ سیلاب کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی لڑائیاں ختم نہیں ہوئیں، پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کی مفادات کے لیے جنگ عروج پر ہے، دونوں اطراف کی سیاست جھوٹ کی بنیاد پر چلتی ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین سیاست کے لیے پشاور چلے گئے، سیلاب متاثرین کا حال لینے اپنے آبائی علاقے میانوالی نہیں گئے۔ سیلاب سے ساڑھے تین کروڑ افراد متاثر، لوگوں کے گھر بار، مال مویشی پانی میں بہہ گئے، حکمرانوں کو پروا نہیں۔ حیرت ہے کہ حکومت کے پاس تاحال متاثرین کا ڈیٹا تک موجود نہیں۔ مختلف سرکاری محکموں کے دوران کوآرڈی نیشن نظر نہیں آ رہی۔ فلڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں کو ہر سال اربوں روپے کے فنڈز ملتے ہیں، جب کوئی آفت آتی ہے تو یہ بری طرح ایکسپوز ہو جاتے ہیں۔ ملک کے تمام شعبوں میں ریفارمز کی ضرورت ہے، آزمائے ہوئے لوگوں سے بہتری کی توقع نہیں، اہل اور ایمان دار لوگ آگے آئیں گے تو ملک ترقی کرے گا۔

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ متاثرین کی مدد کے لیے قوم کا جذبہ سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا، عطیات دینے میں لوگوں نے جس طرح جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن پر اعتماد کیا ہم ان کے شکرگزار ہیں، بحالی تک خدمات جاری رکھیں گے۔ ہمارا مقصد قوم کی خدمت اور ملک کو اسلامی فلاحی مملکت بنانا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے راولپنڈی میں سیلاب متاثرین کے لیے ڈونرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔ امیر جماعت گلگت بلتستان کے سیلابی علاقوں کا دورہ کر کے بدھ کی رات اسلام آباد پہنچے تھے۔ قبل ازیں انھوں نے گلگت میں ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام اتحاد امت کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔ دیگر مقررین میں امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر و گلگت بلتستان ڈاکٹر خالد محمود، شیخ مرزا علی صدر ملی یکجہتی کونسل گلگت بلتستان شیخ مرزا علی، صدر مجلس وحدت مسلمین علامہ نیئر عباس اور اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی امجد حسین ایڈووکیٹ بھی شامل تھے۔

    سراج الحق نے کہا کہ معیشت کی تباہی کی ذمہ دار موجودہ اور سابقہ حکومتیں ہیں۔ پاکستان وسائل سے مالا مال ملک ہے، لیکن حکمرانوں کی کرپشن اور بیڈ گورننس کی وجہ سے آج ملک کا تمام دارومدار بیرونی قرضوں پر رہ گیا ہے۔ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے بھی وفاقی اور صوبائی حکومتیں بیرونی ممالک کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہماری حتی الامکان کوشش ہے کہ مصیبت میں اپنے بہن بھائیوں کی مدد کے لیے مقامی سطح پر ہی فنڈز اکٹھے کریں۔ انھوں نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کو بیرون ملک پاکستانیوں نے بھی دل کھول کر عطیات دیے ہیں جس کے لیے ہم سب کے شکرگزار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے دورہ کے دوران انھوں نے دیکھا کہ حکومت متاثرین کی بروقت امداد میں ناکام ہوئی، ایک گھر کے آٹھ افراد سیلاب میں بہہ گئے، ایک دوسال کی بچی کو دوکلومیٹر پانی کی لہروں میں بہنے کے بعد نکالا گیا، اس کی والدہ اور بڑا بھائی شہید ہوگئے۔ ریاست کا فرض ہے کہ تمام متاثرین کی کفالت کو یقینی بنائے۔ وفاقی وصوبائی حکومتیں سنجیدگی دکھائیں، سرکاری امداد کی تقسیم میں شفافیت ہو اور لوگوں کو گھروں کی تعمیر کے لیے فی الفور رقم دی جائے۔

    گلگت میں اتحاد امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ تمام مکتبہ فکر کے علما کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ امت مسلمہ کے تصور کومدِ نظر رکھتے ہوئے آپسی بھائی چارہ اور اتحاد و اتفاق کو فروغ دیں۔ دشمن ملک کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کی داستانیں رقم کررہا ہے۔ مقبوضہ وادی میں ہماری بہنوں بیٹیوں کی عزتیں محفوظ نہیں، منبرو محراب پر حملے ہورہے ہیں۔ ہمارے حکمران خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں اور ان سے سوائے بزدلی اور خاموشی کے اور کوئی توقع بھی نہیں ہے۔ ان حالات میں علمااور اکابرین امت کی ذمہ داری ہے کہ مظلوم مسلمانوں کے حق میں ہرسطح پر آواز بلند کریں۔ انھوں نے کہا کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یہودی فلسطین پر قابض، برما اور بھارت میں مسلمان دربدر، یورپ و امریکہ میں اسلاموفوبیا عام ہے۔ ہمیں متحد ہوکر ان چیلنجز اور مشکلات سے نبرد آزما ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت ہمیں اسی وقت نصیب ہوگی جب ہم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر دین کی سربلندی کے لیے اور ظلم و جبر کے خلاف کھڑے ہوں گے۔

  • پاکستان کی تاریخ کا سب سےبڑا اسکینڈل،وزیراعظم آفس کی 100 گھنٹے سے زائد گفتگو ڈارک ویب پر برائے فروخت،ریکارڈنگ ہوئی کیسے؟ ذمہ دار کون؟

    پاکستان کی تاریخ کا سب سےبڑا اسکینڈل،وزیراعظم آفس کی 100 گھنٹے سے زائد گفتگو ڈارک ویب پر برائے فروخت،ریکارڈنگ ہوئی کیسے؟ ذمہ دار کون؟

    پاکستان کے سیاسی میدان میں ایک اور تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے-

    باغی ٹی وی : پاکستان کی تاریخ کا سب سےبڑا اسکئینڈل سامنے آیا ہے وزیر اعظم ہاؤس کی 8 جی بی ڈیٹا کی آدیو ریکارڈنگ ڈارک ویب پر فروخت ہو رہی ہے ،100 فائلز ڈارک ویب پر ہے 100 گھنٹے کی ریکارڈنگ اور وہ بھی عالمی مارکیٹ بولی لگ رہی ہے-

    شہباز شریف کی مبینہ طور پر مریم کے داماد کے لیے سرکاری افسروں پر دباو کی مبینہ…

    پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے ٹوئٹر اکاؤنٹس پر شیئر کیے گئے دو منٹ سے زیادہ طویل آڈیو کلپ میں وزیر اعظم شہباز شریف اور پی ایم ایل این کی نائب صدر مریم نواز شریف کے درمیان پی ایم ایل این کے نائب صدر کو مبینہ طور پر احسان کرنے پر گفتگو سنی جا سکتی ہے-

    جس میں مریم نوز کا داماد بھارت سے پاور پلانٹ کے لیے مشینری درآمد کرے گا پی ٹی آئی نے آئی بی پر تنقید کی۔

    پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم آفس (پی ایم او) کی 100 گھنٹے سے زائد گفتگو اگست سے ستمبر تک ویب سائٹ پر فروخت کے لیے دستیاب ہے۔


    انہوں نے وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ایجنسیز کو سیاسی ٹاسک سےفرصت ملتی تو وہ حساس معاملات پر نظر ڈالتے، سوال یہ ہے اتنے بڑے واقعہ پر حکومت کو سانپ کیوں سونگھ گیا ہے؟ فون ہر گیمز کھیلنے سے فرصت مل جائے تو مؤقف بھی دے دیں-

    عالمی بینک کا پاکستان کو 2 ارب ڈالرز فنڈز فراہم کرنے پر غور


    مبصرین کی جانب سے سوال اٹھائےجا رہے ہیں کہ اصل سوال تو یہ ہے کہ 100 گھنٹوں سے اوپر کی ریکارڈنگ ہوئی کیسے؟ کیا وزیراعظم ہاؤس کو Bug کیا گیا ہوا ہے؟ وزیراعظم ہاؤس میں خارجہ پالیسی سمیت تمام تر حساس موضوعات پر بھی بات چیت ہوتی تو کیا یہ سب ڈیٹا اب ہیکرز کے ہاتھ ہے؟ یہ سیاسی ایشو نہیں، پاکستان پر سائیبر حملہ ہے-

    تبصرہ نگاروں کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن نے ابھی تک کوئی پریس کانفرنس نہیں کی کیونکہ ترین آئی ایم ایف آڈیو لیک پر ن لیگ نے کافی کام کیا تھا جس میں شوکت ترین کو اب ایف بی آئی انکوائری کا سامنا ہے۔


    مبشر زیدی نے کہا کہ وزیر اعظم اور مریم نواز کو ان آڈیو لیکس پر اپنا رد عمل دینا چاہئے۔ کسی دوسرے ملک میں ایسی لیکس آتیں تو ابھی تک انٹیلیجنس اداروں کے سربراہان مستعفی ہو چکے ہوتے-

    لاہور قلندرز نے فلڈ ریلیف فنڈ جمع کرنے کیلئے پی ایس ایل 7 کی ٹرافی پبلک کردی


    پولیٹیکل اینالسٹ راحیق عباسی نے کہا کہ آڈیو لیک کاافسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ فائلزویب پر اگست سے فار سیل ہیں اور 3 ستمبر کو منتخب آڈیوز کو ٹویٹر پر پبلکی شیئر کر دیا گیا۔ لیکن کیا ہماری سیکورٹی ایجنسیز کو اس کی خبر تک نہیں ہوئی ؟؟ کیا ایجنسیوں کی ساری توجہ عمران خان، ان کی حامی صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکتوست پر ہی ہے؟؟-


    پولیٹیکل اینالسٹ نے کہا کہ وزیر اعظم ہاوس کی 8GB آڈیو ریکارڈنگ 100 فائلز ۔ ہر فائل تقریبا ایک گھنٹے کی یعنی کم و بیش 100 گھنٹے کی ریکارڈنگ کی عالمی مارکیٹ میں بولی لگ رہی ہے۔اتنی بڑی security breach پر کس کس کو مستعفی ہو جانا چاھئیے ؟؟؟-


    لیک آدیوز پر ردعمل دیتے ہوئے PITB کے سابق چیئرمین عمر سیف نے کہا کہ پاکستان کی سائبر اسپیس محفوظ نہیں ہے۔ ہمارے پاس اس جگہ کی ترقی کو برقرار رکھنے کی صلاحیت نہیں ہے یہ ایک اہم قومی اہمیت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو سیاسی سنسنی خیزی سے بالاتر ہو کر یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیا خطرہ ہے-

    عالمی رہنماؤں نے یقین دلایا کہ پورے اخلاص کے ساتھ پاکستان کی مدد کی جائے…

    آڈیو لیکس میں کیا ہے؟

    تین ستمبر کو ایک غیر معروف ٹویٹر اکاونٹ پر ٹویٹ ہونے والی آڈیو آج وائرل ہو گئیں۔ تمام آڈیوز وزیراعظم ہاوس کی ہیں۔ ان آڈیوز میں وزیراعظم شہباز شریف ۔ ن لیگی نائب صدر مریم نواز کی گفتگو شامل ہے تو وہیں ایک آڈیو میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کہ گفتگو بھی شامل ہے۔ آڈیو میں ہونے والی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کال ریکارڈ نہیں کی گئی بلکہ مختلف محفلوں اجلاسوں میں ہونے والی گفتگو ہے

    ایک آڈیو میں وزیراعظم شہباز شریف کسی شخص سے مریم کے داماد کی ڈیمانڈ کی بات کرتے ہیں جس پر وہ شخص منع کر دیتا ہے کہ نہیں اس سے بہت بڑا مسئلہ ہو جائے گا جس پر شہباز شریف کہتے ہیں کہ میں مریم کو بلا کر سمجھا دوں گا-

    آڈیو کلپ میں وزیر اعظم شہباز کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ مریم نواز نے ان سے اپنے داماد راحیل کو بھارت سے پاور پلانٹ کے لیے مشینری کی درآمد میں سہولت فراہم کرنے کا کہا تھا۔

    ایک آڈیو میں پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کے استعفوں کی منظوری بارے مشاورت ہو رہی ہے۔ اس آڈیو میں رانا ثناء اللہ ۔ خواجہ آصف کی آواز واضح ہے جبکہ دیگر بھی کچھ شخصیات کی آواز ہے-

    وقت آ گیا ہے کہ کسی نتیجے پر پہنچا جائے،عارف علوی

    ایک آڈیو میں مریم نواز غالباً وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے بارے میں بات کر رہی ہیں اس میں وزیراعظم شہباز شریف کی بھی آواز ہے مریم نواز کہتی ہیں کہ وہ جس طرح کے کام کر رہا ہے اس سے ہمیں نقصان ہو رہا ہے بہت لوگ شکایتیں کر رہے۔ کچھ بھی نہیں پتہ اسے کہ اس کام کا ردعمل کیا ہونا اور اثر کیا ہو گا

    وزیراعظم ہاوس کی تین ستمبر کو لیکڈ ہونے والی آڈیو یکدم کیسے وائرل ہو گئیں؟ مبینہ طور پر عمران خان کی آئی ٹی ٹیم نے عمران خان کے وزیراعظم ہاوس سے جانے سے قبل مختلف مقامات پر خفیہ ڈیوائسز لگا دی تھیں اور اب ان ڈیوائسز میں ہونے والی تمام ریکارڈنگ کو پبلک کیا جا رہا ہے-

    وزیراعظم ہاوس کی آڈیو لیک ہونے پر تحریک انصاف کے رہنماؤں نے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تو دوسری جانب حکومتی کیمپ میں اس حوالہ سے مکمل خاموشی ہے کسی قسم کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آڈیو تین ستمبر کو ٹویٹ کی گئی تھیں۔ ایک ایسے موقع پر جب پاکستان قدرتی آفت سیلاب کا شکار ہو چکا ۔ پاکستانی مشکلات میں ہیں۔ دنیا پاکستان کی مدد کرنے کو تیار ہے وزیراعظم شہباز شریف پاکستانی قوم کے لیے دنیا کے سامنے ہاتھ پھیلا رہے ہیں ان آڈیوز کا لیک ہونا وزیراعظم کے کامیاب دورہ امریکہ کو متاثر کرنے کے لیے ہے

    ہمیں تعمیر نو اور بحالی کے لیے بہت زیادہ فنڈز کی ضرورت ہے،بلاول بھٹو

    یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان آڈیوز کا لیک ہونا شریف خاندان کی اندرونی چپقلش ہے۔ مریم نواز کے داماد کا کام نہ ہونے کی وجہ سے آڈیوز لیک کروائی گئیں۔ مفتاح اسماعیل سے مریم خوش نہیں تھیں پٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھانے پر مریم نواز ٹویٹر پر اپنے جذبات کا اظہار کر چکی ہیں اب آڈیو میں بھی مریم نواز کی مفتاح اسماعیل بارے گفتگو سے تصدیق ہو چکی ہے-

    مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کھلے عام کہا ہے کہ وہ پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے سے متفق نہیں، ان کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی حکومت میں تھی یا نہیں، اس طرح کے فیصلے ان کے پاس نہیں۔

  • قومی ہاکی ٹیم کے دو کھلاڑی فوری طور پر مستعفیٰ

    قومی ہاکی ٹیم کے دو کھلاڑی فوری طور پر مستعفیٰ

    لاہور: قومی ہاکی ٹیم کے دو کھلاڑیوں نے ٹیم سے فوری طور پر الگ ہونے کے لیے اپنے استعفے ہاکی فیڈریشن کو بھجوا دیئے۔

    پاکستان ہاکی ٹیم کے نائب کپتان عماد شکیل بٹ اور پنالٹی کارنر اسپیشلسٹ مبشر علی نے اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کے تربیتی کیمپ میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے ہاکی فیڈریشن کو اپنے استعفٰے بھجوا دیئے-

    پاکستانی ریسلراسد علی کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آگیا؛معطل بھی کردیا گیا

    عماد شکیل بٹ اور مبشر علی نے فیڈریشن کے صدر اور سیکرٹری کے نام بجھوائے گئے استعفی میں قومی ہاکی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

    مستعفی ہونے والے تجربہ کار فل بیک عماد شکیل بٹ اور مبشر علی نے معاشی مسائل کو جواز بناتے ہوئے ملک کی انٹرنیشنل سطح پر مزید نمائندگی سے معذرت کی ہے۔

    عماد شکیل بٹ نے اپنے استعفے میں لکھا کہ 2013 سے قومی ہاکی ٹیم کا حصہ رہا اور 10 سال میں 145 میچز میں پاکستان نمائندگی کی جو میرے لیے ایک اعزاز ہے، اپنے سینئرز اور کوچز سے بہت کچھ سیکھا، موقع دینے پر سب کا شکر گزار ہوں میری بدقسمتی ہےکہ میں نے فوری طور پر پاکستان ہاکی ٹیم سے استعفی دیا ہے،-

    عماد شکیل بٹ نے استعفے میں لکھا کہ یہ آسان فیصلہ نہیں لیکن فیملی صورتحال کی وجہ سے یہ قدم اٹھانا پڑا، اب اپنی فیملی کی سپورٹ کے لیے مواقع تلاش کروں گا کھلاڑیوں کو کچھ عرصے سے مالی مشکلات کا سامنا رہا ہے، میں نے بین الاقوامی کمٹمنٹس کی ہیں اب میں انہیں پورا کروں گا۔

    قومی ہاکی ٹیم کے مشبر علی نے اپنے استعفے میں لکھا کہ 2017 سے قومی ٹیم کی طرف سے کھیلنا اعزاز ہے، بیرون ملک سے کئی آفرز ملتی رہیں لیکن ملک کو ترجیح دی معاشی سکیورٹی چاہیے جو موجودہ حالات میں ممکن نہیں ہے اس لیے فوری طور پر پاکستان ٹیم سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔

    ذرائع کے مطابق مخلتف ممالک میں لیگ کھیلنے میں مصروف دوسرے کھلاڑیوں کی بھی کیمپ میں فوری طور پر شرکت کا بہت کم امکان ہے پی ایچ ایف نے کھلاڑیوں کو لیگز سے واپس بلانے کے لیے ان کے محکموں کو خطوط لکھنے کے ساتھ کیمپ جوائن نہ کرنے پر سخت کارروائی کا سامنا کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔

    کھلاڑیوں کا موقف ہے کہ پی، ایچ، ایف نے خود لیگز کھیلنے کا این او، سی دیا اب معاہدے ہونے کے بعد کس طرح ان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فوری واپس آسکتے ہیں۔

    واضح رہے کے لیگز کھیلنے والے کھلاڑیوں کا فی میچ تین سو پاونڈ معاوضہ طے پایا ہے، ہفتے میں دو میچز کھیلنے کے ساتھ کھانا پینا اور رہائش بھی مفت ملی ہوئی ہے۔

    اچھا کریں یا برا باتیں ہمیشہ ہوتی ہیں،پاک انگلینڈ سیریز میں فارم واپس لانے کی کوشش…

  • لاہور قلندرز نے فلڈ ریلیف فنڈ جمع کرنے کیلئے پی ایس ایل 7 کی ٹرافی پبلک کردی

    لاہور قلندرز نے فلڈ ریلیف فنڈ جمع کرنے کیلئے پی ایس ایل 7 کی ٹرافی پبلک کردی

    لاہور قلندرز نے فلڈ ریلیف فنڈ جمع کرنے کیلئے پی ایس ایل 7 کی ٹرافی پبلک کردی-

    باغی ٹی وی : لاہور قلندرز کی جانب سے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے قائم اخوت فاؤنڈیشن کے فلڈ ریلیف کیمپ میں پی ایس ایل 7 کی ٹرافی کی رونمائی، ٹرافی کے ساتھ جو شہری تصویر لے گا وہ سو یا سو سے زائد روپے سیلاب ریلیف فنڈ میں جمع کروائے گا۔

    لاہور کے لبرٹی چوک پر اخوت فاؤنڈیشن کی جانب سے سیلاب متاثرین کیلئے لگائے گئے امدادی کیمپ پر فنڈ ریزنگ کیلئے لاہور قلندر کے سی ای او رانا عاطف نے پی ایس ایل سیون کی ٹرافی کو پبلک کیا-


    رانا عاطف کا شہریوں سے کہنا تھا کہ وعدے کے مطابق آپ کی ٹرافی جیت کے بعد آپ کے پاس پڑی ہے آپ آئیں اور بھر پور انداز سے شرکت کریں شہری آئیں ٹرافی کے ساتھ سیلفی یا تصویر بنائیں اور سو یا سو سے زائد کی امداد دے کر سیلاب متاثرین کی مدد کریں۔


    اخوت فاؤنڈیشن کے چیئرمین امجد ثاقب کا کہنا تھا کہ ہم سب کو مل کر اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔


    اس موقع پر شہریوں کی بڑی تعداد نے پی ایس ایل سیون کی ٹرافی کے ساتھ تصویریں بنوا کر سیلاب متاثرین کیلئے اپنے عطیات جمع کروائے۔

  • ملک بھر میں کورونا کے مزید 47 کیسز رپورٹ

    ملک بھر میں کورونا کے مزید 47 کیسز رپورٹ

    قومی ادارہ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کےدوران پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس کے مزید 47 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں-

    باغی ٹی وی : قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے مطابق گزشتہ گزشتہ 24 گھنٹے میں 12ہزار 369 کورونا ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 47 افراد کے نتائج مثبت ریکارڈ ہوئے۔

    کورونا وبا اپنے اختتام کے قریب ہے، ڈبلیو ایچ او

    این ایچ آئی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 0.38 فیصد رہی، جبکہ ملک بھر میں کورونا کے 73 مریضو ں کی حالت تشویش ناک ہے، جب کہ گزشتہ24 گھنٹے میں کورونا کے باعث کوئی موت رپورٹ نہیں ہوئی-

    واضح رہے کہ حال ہی میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈہانوم گیبریاسیس نے ورچوئل کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ دنیا سے کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے اس سے بہتر حالات پہلے نہیں تھے ہم ابھی تو وہاں نہیں پہنچے ہیں۔ لیکن اس کا خاتمہ نظر آرہا ہے۔ ہم اس وبائی مرض کو ختم کرنے کی اس سے بہتر پوزیشن میں اس سے پہلے کبھی نہیں تھے۔

    ہائپرٹینشن کورونا کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل نے متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ قبل اس کے کہ اس وبائی مرض کی شدت میں ایک بار پھر اضافہ ہو جائے، دنیا کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اگر ہم ابھی اس موقع کو ضائع کر دیتے ہیں، تو پھر ہم کورونا کی مزید اقسام کےخطرات کومول لیں گے، جس سے زیادہ اموات، زیادہ خلل اور زیادہ غیر یقینی صورتحال کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

    کورونا وائرس چین سے نہیں بلکہ امریکی لیبارٹری سے لیک ہوا،امریکی پروفیسر کا انکشاف

  • لانگ مارچ کے دوران تحریک انصاف کی لاہور ریلی میں قیادت کی عدم دلچسپی

    لانگ مارچ کے دوران تحریک انصاف کی لاہور ریلی میں قیادت کی عدم دلچسپی

    لاہور :25 مئی کے دن لانگ مارچ کے سلسلے میں لاہور سے ریلی میں تحریک انصاف کے 8 میں سے صرف تین ارکان اسمبلی نے شرکت کی۔انہیں وجوہات نے پارٹی کے اندرتقسیم کے کچھ اشارے دیئے تھے ، جس پر عمران خان نے رپورٹ طلب کی تھی

    تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی تیاریاں ابتدا میں ہی فلاپ ثابت ہوئی ہیں، اب یہ پارٹی اختلافات ہیں یا کچھ اور، لیکن لاہور کی ریلی میں پی ٹی آئی قیادت کی عدم دلچسپی نے قیادت کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔

    تحریک انصاف کی جانب سے لاہور میں منعقدہ موٹرسائیکل ریلی میں صرف 3 اراکین اسمبلی یاسمین راشد، ندیم بارا اورکرامت کھوکھر نے شرکت کی، جب کہ لاہور میں تحریک انصاف کے 8 اراکین اسمبلی ہیں۔

    ریلی کے حوالے سے محمود الرشید، اسلم اقبال، مراد راس، شبیر گجر، ظہیرعباس کھوکھر اور سینئر رہنما حماد اظہر کی جانب سے کوئیدلچپسی نہیں دکھائی گئی، اور انہوں نے ریلی میں شرکت بھی نہیں کی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے لاہور میں ہونے والے پروگرامات میں اراکین اسمبلی شامل ہی نہیں ہوتے، اور قیادت کی عدم دلچسپی پر رپورٹ پی ٹی آئی چیئرمین کو بھجوا دی گئی ہے۔

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس