Baaghi TV

Category: لاہور

  • بہنوئی کو قتل کرنے والاملزم چند گھنٹوں میں پولیس کے ہتھے چڑھ گیا

    بہنوئی کو قتل کرنے والاملزم چند گھنٹوں میں پولیس کے ہتھے چڑھ گیا

    سبزہ زار میں گھر میں گھس کر دوہرے قتل کا دلخراش واقعہ ،لاہور پولیس آپریشن ونگ نے چند گھنٹوں میں قاتل کا سراغ لگا لیا

    قتل کا معمہ حل، ملزم کا اقبال جرم، مقتول کا بہنوئی قاتل نکلا،ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے دلخراش واقعہ پر اظہار افسوس کیا،بروقت کاروائی پر ڈی آئی جی آپریشنز نے ٹیم کو شاباش دی،ایس پی اقبال ٹاؤن ڈاکٹر عمر نے تفتیش کی تمام وقت خود سربراہی کی،پولیس حکام کے مطابق ملزم نے گھر میں گھس کر ثمر اقبال اور کلثوم بی بی کو گولیوں کا نشانہ بنایا،ملزم نے اعتراف کیا کہ ملزم نے کچھ عرصہ قبل بیوی کا زیور بیچا جس پر سالہ طعن زنی کرتا تھا، ملزم مقتول کی دوکان پر ملازم تھا جہاں سالے کے رویے سے نالاں رہتا تھا،

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کا کہنا ہے کہ ملزم نے صبح گھر پر دھاوا بولا، مقتولین کو گولیوں کا نشانہ بنایا، ملزم نے واردات کے بعد آلہ قتل کھاڑک نالہ میں پھینکنے کا اعتراف کیا،آلہ قتل برآمد کرنے کے لیے کاروائی جاری ہے،واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل بھی برآمد کر لی گئی،پولیس کی بروقت کاروائی سے ملزم قانون کی گرفت میں آیا، ملزم کے خلاف مزید قانونی کاروائی کا عمل جاری ہے،

  • امیر بالاج قتل کیس،نامزد ملزم طیفی بٹ دبئی سے گرفتار

    امیر بالاج قتل کیس،نامزد ملزم طیفی بٹ دبئی سے گرفتار

    ٹیپو ٹرکاں والے کے بیٹے امیر بالاج ٹیپو قتل کیس میں نامزد مرکزی اشتہاری ملزم خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ کو دبئی سے گرفتار کرلیا گیا ہے، یہ گرفتاری انٹرپول کی مدد سے عمل میں آئی ،پنجاب پولیس نے انٹرپول کی مدد سےملزم کو گرفتار کیا اور قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد جلد پاکستان منتقل کیاجائے گا۔

    نجی ٹی وی دنیانیوز کے مطابق قتل کیس کے بعد طیفی بٹ ملک سے فرار ہو کر متحدہ عرب امارات (دبئی) میں روپوش ہوگیا تھا، جس کے بعد پنجاب پولیس نے انٹرپول کے ذریعے اس کی گرفتاری کیلئے ریڈ وارنٹ جاری کئے تھے۔ یاد رہے کہ امیر بالاج ٹیپو کو 18 فروری 2024 کو شادی کی تقریب میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔لاہور پولیس کے مطابق ٹیپو ٹرکاں والا کا بیٹا امیر بالاج ٹیپو ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں سابق ڈی ایس پی اکبر اقبال بلا کے بیٹے کی شادی کی تقریب میں شریک تھا۔شادی کی تقریب کے دوران وہاں موجود ایک حملہ آور نے فائرنگ کردی تھی، جس سے امیر بالاج ٹیپو سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے تھے، جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔پولیس کے مطابق امیر بالاج ٹیپو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا تھا، جب کہ مقتول امیر بالاج ٹیپوکے محافظوں کی فائرنگ سے حملہ آور بھی موقع پر مارا گیا تھا۔

    اگست 2024 میں ٹیپو ٹرکاں والے کے بیٹے امیر بالاج ٹیپو کے قتل کیس کا مرکزی ملزم احسن شاہ مبینہ مقابلے میں ہلاک ہو گیا تھا۔ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم یونٹ نے بتایا تھا کہ ملزم احسن شاہ اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی ہوا تھا، جسے ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہیں ہو سکا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ احسن شاہ کو نشاندہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ اس کے بھائی نے نامعلوم ساتھیوں کے ہمراہ اسے چھڑوانے کے لیے حملہ کر دیا، اس دوران مبینہ مقابلے کے دوران احسن شاہ زخمی ہوا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔

    علاوہ ازیں ڈان نیوز کے مطابق ستمبر 2025 میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ گوگی بٹ نےامیربالاج ٹیپو کو قتل کروانے کے لیے منصوبہ بندی کی تھی۔جے آئی ٹی ذرائع کے مطابق خواجہ عقیل عرف گوگی بٹ امیربالاج قتل کیس کے مرکزی ملزم طیفی بٹ سے رابطے میں رہا تھا، گوگی بٹ ٹیپو خاندان کے تمام سابقہ قتل کیس میں بھی نامزد ملزم رہا ہے، طیفی بٹ کا کزن گوگی بٹ پہلے ہی عبوری ضمانت کروا کر منظرعام پر آچکا ہے۔ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی آئندہ پیشی پر گوگی بٹ کی ضمانت خارج کروانے کی استدعا کرے گی۔واضح رہے کہ امیر بالاج کے قتل کے بعد ملزم خواجہ عقیل عرف گوگی بٹ فرار ہو گیا تھا، بعد ازاں ملزم نے ضمانت حاصل کرلی تھی اور 15 ستمبر تک عبوری ضمانت پر ہے جبکہ ملزم طیفی بٹ تاحال اشتہاری ملزم تھا، جسے دبئی سے حراست میں لیکر پاکستان منتقل کرنے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت چار گھنٹے طویل اجلاس میں اہم فیصلے

    وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت چار گھنٹے طویل اجلاس میں اہم فیصلے

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی محکموں کا چار گھنٹے طویل اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں آٹھ بڑے محکموں نے اپنی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ پیش کی۔ وزیراعلیٰ نے اجلاس کے دوران عوامی فلاح، صحت، صاف پانی، ٹرانسپورٹ، ماحولیاتی تحفظ اور صنعتی ترقی سے متعلق اہم فیصلے کیے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے عوام کو دور دراز علاقوں سے پانی لانے کی مشقت سے نجات دلانے کے لیے گھر گھر بوتل بند پانی فراہم کرنے کے منصوبے کی منظوری دی۔انہوں نے کہا کہ ’’پینے کے صاف پانی تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔‘‘پنجاب بھر میں 5 ہزار سے زائد واٹر فلٹریشن پلانٹس پہلے ہی فعال ہو چکے ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ نے واٹر فلٹریشن پراجیکٹس کی ٹائم لائن طلب کرتے ہوئے وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین کو خود دورے کرنے کی ہدایت بھی کی۔سیلاب متاثرہ علاقوں میں محکمہ صحت کی کارکردگی پر وزیراعلیٰ نے شاباش دیتے ہوئے بتایا کہ سیلاب کے دوران ساڑھے 11 لاکھ افراد کا علاج معالجہ کیا گیا، جبکہ 174 افراد کو سانپوں کے کاٹنے کے واقعات میں بروقت ویکسین لگا کر تمام جانیں بچائی گئیں۔مریم نواز نے کہا کہ ’’یہ عوامی خدمت کا بہترین نمونہ ہے بروقت علاج نے قیمتی انسانی جانیں محفوظ بنائیں۔‘‘پنجاب نے سروائیکل کینسر ویکسی نیشن میں 65 لاکھ بچیوں کی ویکسینیشن مکمل کر کے ملک بھر میں سبقت حاصل کی۔ وزیراعلیٰ نے اس کامیابی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کیتھ لیب پراجیکٹ جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے سپیشل افراد کے گھروں تک پہنچنے اور مدد کا منظم نظام وضع کرنے کا حکم دیا۔انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ خصوصی افراد کا ڈیٹا مشترکہ طور پر مکمل کیا جائے اور سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو ان کی تعلیم کے ساتھ فلاح و بہبود کے منصوبے مرتب کرنے کا ٹاسک دیا۔مریم نواز شریف نے دسمبر 2025 تک پنجاب میں 1115 الیکٹرو بسیں فنکشنل کرنے کا حکم دیا۔انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کو الیکٹرو بس چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کی ہدایت کی اور بس اسٹاپس کے یونیفارم ڈیزائن کی منظوری بھی دی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’’الیکٹرو بس نے قلیل مدت میں عوامی مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔‘‘مزید برآں، انہوں نے ایس آر ٹی پراجیکٹ جلد از جلد شروع کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے مختلف اضلاع میں لانچنگ شیڈول کی منظوری دے دی۔

    پنجاب نے چند ماہ میں 19 شہروں میں واسا قائم کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا، جبکہ ڈیڑھ سال قبل یہ ادارہ صرف 5 شہروں میں کام کر رہا تھا۔اب 31 دسمبر 2025 تک 25 اضلاع میں واسا کے قیام کا ہدف مقرر کر دیا گیا ہے۔پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ 15 شہروں میں ترقیاتی کام مون سون سے پہلے مکمل کیے جائیں۔لاہور ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے 4624 گلیوں کی تعمیر و بحالی مکمل ہو چکی ہے۔نو تعمیر شدہ گلیوں میں توڑ پھوڑ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔مریم نواز شریف نے لاہور میں پی ایچ اے کی کارکردگی پر اطمینان ظاہر کیا اور ہدایت دی کہ بانس کے جنگل لگائے جائیں تاکہ ماحولیاتی آلودگی کم ہو۔پی ایچ اے لاہور نے چند ماہ میں گھروں تک جا کر 27 ہزار پودے لگائے، جبکہ "آن لائن گلدستہ” پراجیکٹ کے ذریعے شہری گھر بیٹھے پودے آرڈر کر سکتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ 472 دیہات میں مثالی گاؤں پراجیکٹ اکتوبر میں شروع کیا جا رہا ہے، جس میں جنوبی پنجاب کے سب سے زیادہ دیہات شامل ہوں گے۔پہلے فیز میں ملتان کے 62، بہاولپور کے 48 اور ڈی جی خان کے 38 دیہات شامل کیے گئے ہیں۔
    مثالی گاؤں میں پارکس، پکی گلیاں، کور ڈرین، قبرستان کی چار دیواری اور جوہڑوں کی صفائی جیسے منصوبے شامل ہوں گے۔وزیراعلیٰ نے پلیسر گولڈ پراجیکٹ سرکاری طور پر شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس سے حاصل منافع پنجاب کے عوام کا حق ہے۔‘‘میانوالی میں گولڈ چوری کے خلاف چھاپے مارے گئے اور دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔پنجاب میں 11 ہزار کان کنوں کو راشن کارڈ جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ 25 ہزار کارڈز کا ہدف اسی ماہ مکمل ہو گا۔مزید برآں، پنک سالٹ کے پرانے کنٹریکٹس منسوخ کر کے ریونیو میں 5 گنا اضافہ ہوا ہے۔اب امریکہ، یورپ اور متحدہ عرب امارات میں پنک سالٹ کی مارکیٹنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اسی طرح چنیوٹ آئرن اور تانبے کی ابتدائی اسٹڈی مکمل ہو گئی ہے، جس کے ٹیسٹ اگلے چار ماہ میں مکمل کر کے منصوبے کا آغاز کر دیا جائے گا۔

    مریم نواز شریف نے اجلاس کے اختتام پر کہا "دفاتر میں ہر چیز اچھی لگتی ہے، لیکن فیلڈ میں جا کر ہی حقائق کا اندازہ ہوتا ہے۔ عوامی خدمت کو عملی جامہ پہنانا ہمارا اصل مشن ہے۔”

  • پنجاب حکومت کا دفاتر میں فائل سسٹم ختم، ڈیجیٹل نظام نافذ

    پنجاب حکومت کا دفاتر میں فائل سسٹم ختم، ڈیجیٹل نظام نافذ

    پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں دفاتر سے روایتی فائل سسٹم ختم کر کے تمام کارروائیاں ڈیجیٹل کر دی ہیں، جس سے کروڑوں روپے کی بچت متوقع ہے۔

    ترجمان چیف سیکرٹری پنجاب آفس کے مطابق سول سیکرٹریٹ اور حکومت پنجاب کی تمام کاغذی کارروائیوں کو ای-فاس پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ تمام ہارڈ کاپی فائلیں جمع کر کے ختم کی جا رہی ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ روایتی فائل سسٹم کے خاتمے سے اسٹیشنری پر اٹھنے والے کروڑوں روپے بچیں گے اور 80 فیصد سے زائد بجٹ ختم ہو جائے گا۔ ساتھ ہی سرکاری کام کی رفتار تیز ہو گی، جبکہ کسی بھی دفتر میں فائل رکھنے کی صورت میں چیف سیکرٹری آفس کو الرٹ جاری ہو گا۔

    ترجمان نے مزید بتایا کہ ای-فاس پر تمام فائلیں ڈیجیٹل طور پر اپ لوڈ ہوں گی، جنہیں بآسانی ٹریک کیا جا سکے گا۔

    کراچی ایئر پورٹ،10 کروڑ 30 لاکھ مالیت کے لیپ ٹاپس،آئی پیڈز،آئی فونزو دیگر ضبط

  • پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا فلڈ سروے جاری

    پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا فلڈ سروے جاری

    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا فلڈ سروے جاری کر دیا گیا

    پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق سیلاب سے متاثرہ 27 اضلاع میں 1857 ٹیموں نے ڈیٹا اکٹھا کرنے میں حصہ لیا۔فلڈ سروے میں 81510متاثرین کی تفصیلات جمع کر لی گئی ہیں۔سروے ٹیموں نے مختلف اضلاع میں 56207 کسانوں سے فصلوں کے نقصانات بارے جانچ پڑتال کی۔اب تک سروے ٹیموں نے 53985 ایکڑ سیلاب متاثرہ اراضی کی نشاندہی کی ہے۔سروے ٹیموں نے سیلاب سے متاثرہ 24246 مکانات کا ڈیٹا جمع کر لیا ہے۔سیلاب کے باعث مویشیوں سے محروم ہونے والے 1057 افراد سے بھی تفصیلات لی گئیں۔مختلف اضلاع سے سروے کے مطابق 3945 ہلاک مویشیوں کی تفصیلات موصول ہوئی ہیں،اربن یونٹ ،ریونیو ،محکمہ زراعت، لائیو سٹاک اور پاک فوج کے نمائندے گھر گھر جا کر سروے کر رہے ہیں۔پی ڈی ایم اے پنجاب روزانہ کی بنیاد پر سروے میں پیش رفت کا جائزہ لے رہا ہے۔

    سیلاب متاثرہ بزرگ شہری کی وزیر اعلی پنجاب کے اقدامات کی تعریف، دعائیں دیں کہا کہ یقین ہے نواز شریف کی بیٹی متاثرین سیلاب کے نقصانات کا ازالہ کرے گی۔بزرگ شہری کے وزیر اعلٰی پنجاب اور میاں نواز شریف زندہ باد کے نعرے۔ سروے ٹیموں کا شکریہ ادا کیا۔

    سروے ٹیمیں کشتیوں کی مدد سے بھی متاثرہ دیہات کا وزٹ کر رہی ہیں،کھڑے سیلابی پانی میں سے گزر کر متاثرین کا ڈیٹا ہر صورت یقینی بنایا جا رہا ہے۔ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے شفافیت کے لئے دن رات محنت کر رہے ہیں ۔ پی ڈی ایم کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ وزیر اعلی پنجاب کے ویژن سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں ،ہر متاثرہ شخص کا ڈیٹا لیں۔

  • پنجاب کی تذلیل، نشانہ بنانے والوں کو جواب دوں گی،مریم نواز کا پھر وار

    پنجاب کی تذلیل، نشانہ بنانے والوں کو جواب دوں گی،مریم نواز کا پھر وار

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ میں پنجاب کی تذلیل اور نشانہ بنانے والوں کو جواب دوں گی، پنجاب کی بات وزیراعلیٰ نہیں کرے گی تو اور کون کرے گا۔

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے لوگوں کی عزت نفس کی بات کی، اس پر کبھی معافی نہیں مانگوں گی،سیلاب آگیا تو مانگنا شروع کردو، پنجاب کے پاس وسائل ہیں، باقی تمام صوبوں کے پاس بھی یکساں وسائل ہیں، وہ کہاں جاتے ہیں، اپنے وسائل سے لاکھوں سیلاب متاثرین کو گھروں میں آباد کریں گے، کبھی لوگوں کو کشکول پکڑنے کا نہیں کہوں گی، ہر چیز کا علاج بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نہیں ہوتا، این ایف سی کے پیسے سب کو یکساں ملتے ہیں، آپ اپنے پیسے کہاں لگاتے ہیں،پنجاب نہریں نکالنے کی بات کرے تو تکلیف ہو جاتی ہے، پانی چوری نہیں کرنا تھا، چولستان کی زمین کو آباد کرنا تھا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب میں سفارش اور دھاندلی کو فل اسٹاپ لگایا، آج صوبے کے تعلیمی اداروں میں نا پوزیشن بکتی ہے اور نا ہی میرٹ کی پامالی ہوتی ہے، جس ملک میں اتنے ٹاپر ہوں اسے کبھی زوال نہیں آ سکتا، بچوں نے پنجاب اور پاکستان کا نام روشن کیا، پرائیویٹ اور سرکاری اسکولوں کی پڑھائی میں بہت فرق آگیا ہے، میں نے عہد کیا کہ پرائیویٹ سرکاری اسکول کی تعلیم کا فرق ختم کروں گی، آج کل ٹیکنالوجی کا دور ہے، کتاب، پینسل سے گزارہ نہیں، پنجاب میں 80 ہزار بچے اسکالرشپ پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں،مجھے خوشی کے بچوں کے خواب چھوٹے نہیں آسمانوں تک پہنچے ہیں، خوشی ہے پنجاب کے بیٹوں سے بڑھ کر بیٹیوں نے پرفارم کیا ہے، ٹاپ کرنے والے مسلمان بچے کا استاد اقلیتی برادری سے تعلق رکھتا ہے، میں نے سفارش اور دھاندلی کو فل اسٹاپ لگایا، آج پوزیشن بکتی ہے نا ہی میرٹ کی پامالی ہوتی ہے، آج پنجاب میں ایگزامینشین سینٹر بکتے نہیں ہیں،کسی بھی سرکاری افسر کا تقرر کرنا ہوتو میں پینل کا انٹرویو خود کرتی ہوں، اگر پینل میں کوئی میرٹ پر نہیں اترتا تو پورا پینل واپس بھیجتی ہوں، آج تک میں نےکسی سفارشی اورمن پسند شخص کا تقرر نہیں کیا،ج میرٹ کی بنیاد رکھ کر جارہی ہوں تاکہ کل کوئی مشکل نہ ہو، اگر آپ کے اندر ٹیلنٹ ہے تو آپ کو کسی سفارش کی ضرورت نہیں، میرے پاس سفارش کے لیے کوئی نہیں آتا،میں اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہوں اور اس کے بعد پنجاب کے عوام کو جوابدہ ہوں، پہلے ہوتا تھا کہ یہ میرا دوست ہے اس کو ٹھیکا دے دو، وہ سارے ٹھیکے میں نے کینسل کردیے،میں آج میرٹ کا راستہ نہیں کھولوں گی تو آپ کو رکاوٹ آئے گی، سرکاری اسکول کو معیاری اسکول بنانا چاہتی ہوں، چاہتی ہوں سرکاری اسکول میں پرائیویٹ اسکول سے بہترین تعلیم ملے، میرا پرائم فوکس نوجوانوں پر ہے۔

  • صمود فلوٹیلا پر حملہ اور کارکنان کی گرفتاریاں کھلی دہشت گردی ہیں، خالد مسعود سندھو

    صمود فلوٹیلا پر حملہ اور کارکنان کی گرفتاریاں کھلی دہشت گردی ہیں، خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہاہےکہ اسرائیل کی جانب سے صمود فلوٹیلا پر حملہ اور کارکنان کی گرفتاریاں کھلی دہشت گردی ہیں، غزہ کے باسیوں کو امداد پہنچانا جرم نہیں،صمود فلوٹیلا کے شرکا کی رہائی کے لئے عالمی برادری کردار ادا کرے، اہل غزہ کو امدادی سامان پہنچایا جائے.

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کا غزہ کیلیے امدادی قافلے صمود فوٹیلاکے شرکا کو حراست میں لینا قابل مذمت،انتہائی شرمناک عمل ہے، ایک طرف امریکہ امن معاہدہ کی بات کر رہا تو وہیں دوسری جانب اہل غزہ تک امداد پہنچانے والے قافلے کو اسرائیل نے روک لیا، امریکی شہہ پر اسرائیل کھلی دہشت گردی کا ارتکاب کر رہا ہے،امدادی قافلے کے شرکا کو روکنا،حراست میں لینا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے،اسرائیلی اقدام پر عالمی دنیا آواز بلند کرے۔ اقوام متحدہ، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ فلوٹیلا کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ پاکستان مرکزی مسلم اہل غزہ کے ساتھ کھڑی ہے.

  • آپ ہماری بہن اور بیٹی ہیں، اپنا لہجہ درست کریں، قمر زمان کائرہ کا مریم نواز کو مشورہ

    آپ ہماری بہن اور بیٹی ہیں، اپنا لہجہ درست کریں، قمر زمان کائرہ کا مریم نواز کو مشورہ

    پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہےکہ وزیراعلیٰ پنجاب کی زبان، الفاظ اور لہجہ بالکل مناسب نہیں،س ب سے بڑا پنجابی میں ہوں ، میرے تو باپ دادا، پڑ دادا، سب پنجابی تھے ، آپ جو بات کرتی ہیں اس کا ویسا ہی جواب سندھ سے آ گیا تو کیا ہوگا ،

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ ن لیگ اور اپنے ساتھیوں سے گزارش ہے تنقید ضرور کریں لیکن وہ الفاظ استعمال نہ کریں جو ماضی میں کیے گئے، بلاول بھٹو نے بڑے تحمل سے چیزوں کو آگے لے جانے کی کوشش کی اور کررہے ہیں، ہم صورت حال کو نہ پہلے خراب کرنا چاہتے تھے نہ اب کرنا چاہتے ہیں، جہاں کہیں کوئی غلطی ہوگی ہم رائے دیں گے، رائے نہیں مانی گئی تو تنقید اور احتجاج کریں گے،کچھ دن پہلے جو مکالمہ شروع ہوا ہے اس کا کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، ہم نے نیک نیتی سے حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا، ہم نے وزارتیں لیے بغیر حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا،بد قسمتی سے حکومت کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی تمام شقوں پر عملدرآمد نہیں ہوا، ہم نے حکومت کو ہر مقام پر سپورٹ کیا، کوئی احسان نہیں کیا، اس کا مطلب کوئی بلینک چیک دینا نہیں تھا کہ حکومت جو چاہے کرتی رہے گی۔

    قمر زمان کائرہ کا مزید کہنا تھا کہ ہم حکومت سے پاور شیئرنگ نہیں کر رہے لیکن ان کو سپورٹ کررہے ہیں، وزارتیں لیے بغیر حکومت کی حمایت کی،ہم پہلے جس طرح حکومت سے الگ ہوئے تھے وہ یاد ہے بھولے نہیں، ہم خود بھی تو پنجاب سے ہیں، ہماری تنقید پر آپ سیخ پا ہوتے ہیں اور کہتے ہیں میں چھوڑوں گی نہیں، ہماری رائے پر سندھ حکومت کو ٹارگٹ کیا گیا، این ایف سی کے پیسے پر بات کی گئی، سیلاب میں پیپلز پارٹی ہر قدم پر آپ کے ساتھ کھڑی رہی، بلاول بھٹو کے قصور میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے میں انتظامیہ کا رویہ مناسب نہیں تھا، بلاول نے اس کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب کا نام لے کر ان کے کام کی تعریف کی،بی آئی ایس پی پروگرام کے ذریعے تو ابتدائی امداد دی جاتی ہے، آپ کو سیلاب متاثرین کو لاکھوں روپے دینا ہیں تو آپ دیں، بی آئی ایس پی پروگرام صرف پیپلز پارٹی کا نہیں ہے، دنیا بھر میں بی آئی ایس پی غربت کی روک تھام کے پروگرامز میں نمبر ون ہے، اگر ہم تجویز دیتے ہیں تو آپ کہتے ہیں پنجاب پر کوئی انگلی اٹھی تو توڑ دیں گے، ہم آپ کے طریقہ کار پر اعتراض کررہے ہیں آپ اس کو پنجاب پر حملہ کہہ رہے ہیں، جو اختلاف جتنا ہو اسے اتنا ہی رکھنا چاہیے، آپ ہماری بہن اور بیٹی ہیں آپ اپنے لہجے پر غور کریں، آپ صرف سی ایم پنجاب نہیں، نواز شریف کی بیٹی اور شہباز شریف کی بھتیجی ہیں، آپ کے منہ سے نکلے الفاظ ن لیگ کا موقف ہے، آپ کی زبان، آپ کے الفاظ اور آپ کا لہجہ بالکل مناسب نہیں، آپ کے مکالمے کے جواب میں سندھ سے بھی ایسا جواب آیا تو کیا ہوگا، کیا ہم زبانیں بند کرکے بیٹھ جائیں، آپ حکومت کریں لیکن باقی لوگوں کا حق نہ ختم کریں۔

  • سیلاب،مرکزی مسلم لیگ کا ریلیف آپریشن وسیع،لاہور سے بڑی امدادی کھیپ روانہ

    سیلاب،مرکزی مسلم لیگ کا ریلیف آپریشن وسیع،لاہور سے بڑی امدادی کھیپ روانہ

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی سیلاب متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،لاہور سے 5 ہزار خاندانوں کے لئے امدادی پیکج روانہ کر دیا گیا، کراچی سے امدادی سامان کی بڑی کھیپ سیلاب متاثرہ علاقے میں پہنچ گئی، خیمہ بستیوں‌میں تین وقت کا کھانا، راشن سمیت خواتین اور بچوں میں کپڑے،تحائف کی تقسیم کا عمل جاری ہے،جلال پور میں کشتیوں‌کے ذریعے دوردراز علاقوں میں کھانا پہنچایا جا رہا

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر سیلاب متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،
    مرکزی مسلم لیگ لاہور کی جانب سے جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرین کے لیے 5 ہزار خاندانوں تک امداد پہنچانے کے لیے 300 ٹن خوراک اور ضروری سامان روانہ کیا گیا۔ یہ تیسری بڑی امدادی کھیپ ہے جس میں خشک راشن، ملبوسات، چارپائیاں، ادویات، مچھر دانیاں، بچوں کے کپڑے اور گھریلو برتن شامل ہیں۔ تقریبِ روانگی کے موقع پر مرکزی مسلم لیگ شعبہ خدمت خلق پاکستان کے صدر چوہدری شفیق الرحمن وڑائچ، مرکزی مسلم لیگ پنجاب کے صدر چوہدری محمد سرور، وسطی پنجاب کے صدر چوہدری حمید الحسن گجر، جنرل سیکرٹری لاہور ڈاکٹر مزمل ہاشمی، سندھ کے صدر فیصل ندیم اور کراچی کے صدر ندیم اعوان نے خصوصی شرکت کی۔ مرکزی مسلم لیگ کراچی کی جانب سے امدادی سامان کی بڑی کھیپ لودھراں اور اس کے گردونواحی علاقوں میں پہنچائی گئی، جہاں متاثرین میں اشیائے خورونوش، کپڑے اور دیگر ضروری سامان تقسیم کیا گیا۔ شعبہ خدمت خلق گجرات کی جانب سے سیت پور کے دیہاتوں میں پکا پکایا کھانا تقسیم کیا جارہا ہے ،مرکزی مسلم لیگ بورے والا نے دوسری خیمہ بستی قائم کر دی ہے،خیمہ بستی میں کھانے کی تقسیم،راشن ،ادویات کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے. شعبہ خدمتِ خلق مرکزی مسلم لیگ اسلام آباد کی جانب سے علی پور کے سیلاب زدہ علاقے کندئی میں متاثرہ خاندانوں میں راشن پیک اور صاف پانی کی تقسیم کی گئی،مرکزی مسلم لیگ راولپنڈی کی جانب سے وہاڑی کے سیلاب متاثرین میں امدادی سامان کی تقسیم جاری ہے۔شعبہ خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ فیصل آباد کی ٹیمیں ٹریکٹر ٹرالیوں کے ذریعے خان بیلا پہنچیں اور سیلاب متاثرین تک امدادی سامان پہنچایا، مرکزی مسلم لیگ راولپنڈی کی جانب سے بہاولنگر کے سیلاب متاثرین میں امدادی سامان کی تقسیم جاری ہے۔شعبہ خدمت خلق فیصل آباد کی جانب سے جلالپور پیروالہ میں سیلاب متاثرین کے لیے قائم خیمہ بستیوں میں مچھر دانیاں تقسیم کی گئیں۔ شعبہ خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ گجرات کی جانب سے جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں راشن کی تقسیم کی گئی.

  • قاری قتل کیس، ملزم کو سزائے موت کا حکم

    قاری قتل کیس، ملزم کو سزائے موت کا حکم

    لاہور کی سیشن کورٹ میں مسجد کے قاری عثمان کو قتل کرنےکاکیس،ایڈیشنل سیشن جج نے تحریری فیصلہ جاری کردیا،مجرم غلام محمد کو سزائے موت کا حکم سنا دیا

    ایڈیشنل سیشن جج ریاض احمد نےمجرم کو سزا اوردس لاکھ روپےجرمانے کی سزا سنائی،مجرم کے خلاف ہڈیارہ پولیس نے 2020 میں قتل کا مقدمہ درج کیا،تحریری فیصلےکےمطابق مجرم کے خلاف سرکاری وکیل حبیب الرحمان بھٹی نے گواہوں کو پیش کیا،پراسکیوشن نے بتایا کہ قاری عثمان مغرب کی اذان کے لیےگھر سے نکلا تومجرم نے دروازے پرفائرنگ کرکے قتل کردیا،گواہ نے بتایا مجرم نے لین دین کےتنازع پرمقتول کوقتل کیا،پراسکیوشن اپنا کیس ثابت کرنے میں کامیاب رہی،ثبوتوں کی روشنی میں مجرم سزا کا حق دار ہے،عدالت نے لکھا مجرم نے اپنی صفائی میں فرضی سٹوری بیان کی جبکہ ٹھوس ثبوتوں کی روشنی میں مجرم کو سزائے موت اور جرمانے کا حکم دیا جاتا ہے۔