Baaghi TV

Category: لاہور

  • سیلابی پانی، ٹرین آپریشن کی بحالی میں مشکلات کا سامنا

    سیلابی پانی، ٹرین آپریشن کی بحالی میں مشکلات کا سامنا

    ریلوے حکام نے ٹریک اور پلوں پر سیلابی پانی ہونے کی وجہ سے مکمل طور پر100فیصد مسافر و فریٹ ٹرین آپریشن بحال ہونے میں مزید 12سے15روز تاخیر سے شروع ہونے کا عندیا دیدیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ریلوے انتظامیہ نے آج 11 ستمبر تک مسافروں کو تمام ٹرینوں کا ری فنڈ دیدیا ہے البتہ کل 12 ستمبر سے صرف روہڑی اسٹیشن تک رحمان بابا ٹرین کو پشاور سے براستہ فیصل آباد چلایا جائے گا،اپ اور ڈاؤن کی 30 سے زائد ٹرینیں بند ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ریلوے حکام کو سیلابی پانی کی وجہ سے ٹرین آپریشن شروع کرنے میں ٹیکینکل مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور اگر ٹرین آپریشن شروع کیا جاتا ہے تو ریلوے انفراسٹرکچر کو مزید ٹیکینکل نقصان پہنچنے کے خدشہ ہے۔

    چیف آپریٹنگ سپرنٹنڈنٹ آفیسر ریلوے وقار شاہد کے مطابق ٹریک پر سیلابی پانی کی صورتحال کا چوبیس گھنٹے جائزہ لیا جارہا ہے، ریلوے ٹریک اور پلوں پر سیلابی پانی کی وجہ سے ٹرین آپریشن کسی صورت شروع نہیں کیا جاسکتا ،100 فیصد مسافر اور فریٹ ٹرین آپریشن بحال ہونے میں مذید 12سے 15 روز لگ سکتے ہیں جیسے ہی صورتحال بہتر ہوگی سو فیصد ٹرین آپریشن شروع کردیا جائے گا۔

    ذرائع کےمطابق اپ اور ڈاؤن کی 30 سے زائد ٹرینیں مکمل طور پر بند ہیں جس کی وجہ سے ریلوے خسارہ بھی بڑھتا جارہا ہے۔

  • پنجاب حکومت کے پاس نئی گاڑیوں کیلئے پیسے ہیں سیلاب متاثرین کیلئے نہیں،خرم دستگیر

    پنجاب حکومت کے پاس نئی گاڑیوں کیلئے پیسے ہیں سیلاب متاثرین کیلئے نہیں،خرم دستگیر

    وفاقی وزیرتوانائی خرم دستگیرنے کہا کہ سیلاب سے بجلی کا نظام بھی متاثر ہوا،سیلاب سے بجلی سپلائی میں رکاوٹ آئی تھی،سیلاب سے متاثرہ بجلی کا نظام مکمل بحال کر دیا ہے،دن رات کی محنت کے بعد بجلی کا نظام بحال کیا گیا ہے.

    گوجرانوالہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرتوانائی خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ اب صرف معمول کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے ،دادو کا گریڈ اسٹیشن بلوچستان اور جنوبی سندھ کی سپلائی کیلئے بہت اہم ہے،دادو کے گریڈ اسٹیشن پر خطرہ ابھی بھی موجود ،پانی کا ریلا اس کی طرف بڑھ رہا ہے،ہم دادو گریڈ اسٹیشن کو بچانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں،دادو شہر چاروں طرف سے پانی میں گھیرا ہوا ہے.

    خرم دستگیرنے کہا کہ ملک میں خسارے والے فیڈرز میں معمول کی لوڈشیڈنگ جاری ہے،کچھ لوگ اس ملک میں فساد پھیلانے چاہتے ہیں، خیبر پختونخوا میں سیلاب سے بجلی کے کھمبے بھی پانی میں بہہ گئے تھے،یہ سیاست کا نہیں بلکہ سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کا وقت ہے،سیلاب متاثرین کی بحالی کی حکومت اپنا کام کر رہی ہے،کسی جتھے کے پاس جلسے کیلئے 10 کروڑ ہیں تو بہتر یہی تھا کہ وہ سیلاب متاثرین کیلئے استعمال ہوتے،سیلاب متاثرین کیلئے حکومت پنجاب کے پاس پیسے نہیں.

    انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کے پاس وزرا کیلئے نئی گاڑیاں خریدنے کیلئے30کروڑ روپے موجود ہیں،ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ایک دن بھی پیٹرول کی شارٹیج نہیں ہوئی،بجلی کے بلوں کا بہت دکھ تھا مگر وزیر اعظم نے فوری طور پر ریلیف دیا،بجلی کی قیمت نیچے آئیگی، تمام اسٹیشن چلا کر لوڈشیڈنگ کو کنٹرول رکھا، کل خبر آئی ان کے دور میں یوٹیلٹی اسٹور میں 6ارب روپے کا گھپلا ہوا،ان کے دور میں کویڈ فنڈز میں کم ازکم 140ارب روپے کا گھپلا ہوا ہے،300یونٹ والوں کو ریلیف فوری طور پر دیدیا ہے ،ہم نے متاثرین کو گھر بنا کر دینے ہیں، کروڑوں لوگوں کو کھانا فراہم کرنا ہے، تحریک انصاف کا فتنہ اور فساد جلد عوام کے سامنے بے نقاب ہوجائے گا.

  • نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نوازکی آج چوتھی برسی

    نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نوازکی آج چوتھی برسی

    سابق وزیراوعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کو دنیا سے بچھڑے 4 برس بیت گئے، مشرف دور میں پارٹی کو متحد رکھنے کیلئے مرحومہ کی جدوجہد آج بھی یاد ہیں، اپوزیشن جماعتوں کو آمریت کیخلاف متحد کرنے پر ’’مادر جمہوریت‘‘ کا خطاب بھی دیا گیا۔

    پاکستان کے تین مرتبہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ اور سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز کینسر کے عارضہ کے باعث 68 برس کی عمر میں 11 ستمبر 2018 میں لندن کے ہسپتال میں انتقال کر گئی تھیں۔

    بیگم کلثوم نواز تین مرتبہ پاکستان کی خاتون اول رہیں۔ لاہور کے کشمیری گھرانے میں پیدا ہونے والی کلثوم نواز رستم زماں گاما پہلوان کی پوتی تھیں، بیگم کلثوم نواز کو اگست 2017 میں لندن کے ہارلے کلینک لے جایا گیا جہاں انہیں کینسر تشخیص کیا گیا، جون 2018 میں دل کا دورہ پڑنے پر انہیں اسی طبی مرکز میں دوبارہ داخل کرایا گیا، جہاں وہ وفات تک زیر علاج رہیں۔

    مرحومہ تقریبا ایک سال 25 دن تک لندن میں زیر علاج رہیں اور بالآخر موت وحیات کے کشمکش کے بعد 11 ستمبر 2018 کو اس دنیا فانی سے کوچ کر گئیں۔ مرحومہ کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

  • راجن پور کی خاتون کو مقامی سرداروں کے خلاف آواز بلند کرنا مہنگا پڑگیا۔

    راجن پور کی خاتون کو مقامی سرداروں کے خلاف آواز بلند کرنا مہنگا پڑگیا۔

    راجن پور کی خاتون کو مقامی سرداروں کے خلاف آواز بلند کرنا مہنگا پڑگیا۔اطلاعات کے مطابق گزشتہ دنوں خاتون نے امداد نہ ملنے پر مقامی سرداروں کے خلاف بیان دیا تھا جس کی خبر جیو نیوز پر بھی نشر ہوئی تھی۔

    اب خاتون کو مقامی سرداروں کے خلاف آواز بلند کرنا مہنگا پڑگیا اور بااثر افراد کی جانب سے دھمکیاں ملنے لگیں۔سیلاب متاثرہ خاتون کی نئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ خاتون نے حکومت سے تحفظ کی اپیل کی ہے۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس کو دیکھنے اور سننے کے بعد بڑے سے بڑے پتھر دل بھی ریزہ ریزہ ہوگئے ہیں ،ایک ماں جوسیلاب میں گھرے ہوئے اپنے بچوں کے لیے ایک وقت کی روٹی کےلیے در در کی ٹھوکریں کھارہی ہے

     

     

     

    اس ویڈیو میں بے بس یہ ماں اللہ کے دربار میں ہاتھ اٹھائے ہوئے اپنی اوراس علاقے کے دیگرغریبوں کی بے بسی پرخون کے آنسو روتی ہےاوراللہ کے حضور درخواست کرتی ہے کہ اللہ بڑی بے بس ہوں‌ کل سے راجن پور،فاضل پور اوردیگرمقامات پرماری ماری پھر رہی ہوں‌ کوئی میرے بچوں کے لیے ایک وقت کی روٹی ہی نہیں‌ دے رہے ،

    یہ خاتون اس علاقے کے وڈیروں کے ظلم وزیادتی پرحکمرانوں کی آنکھیں‌ کھول رہی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہم غریب بلوچ لوگ در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں مگر یہاں کے دریشک سردار جو کچھ حکومت اوردیگرتنظیموں سے ملتا ہے وہ لے کراپنے ہی لوگوں میں بانٹ رہے ہیں ان کو کسی کی پرواہ نہیں ہے ، ، یہ خاتون کہتی ہیں کہ ہم ان حالات میں کدھر جائیں گے ،

    یہ خاتون رو رو کراللہ کے حضور دعا کرتی ہےکہ ایسی بے بسی کی زندگی سے بہتر ہے کہ اے اللہ تو غریبوں کو ہی موت دے دے تاکہ یہ ان وڈیروں کے ہاتھوں بار بار رسوائی سے تو بچ جائیں ، کہ خاتون مزید کہتی ہیں کہ پتہ نہیں کہ ان ظالموں کو قبر بھی نصیب ہونی ہے یا کہ نہیں‌ یا کفن بھی ملنا ہے یا نہیں لیکن یہ یہاں غریبوں کا حق چھین کرلے جارہے ہیں ،یہ خاتون اپنے بچوں کی آہ وبکا کا ذکر کرتے ہوئے اللہ کے حضور روتے ہوئے دعا کررہی ہے کہ اس کے بچے بھوکے ہیں‌ ، سیلاب میں گھر ے ہوئے ہیں ، کوئی سائے کے لیے چیز نہیں ، پینے کے لیے پانی نہیں اورپیٹ کی آگ بجھانےکے لیے کھانا نہیں ، ہےکوئی جو اس دکھیا بیچاری ماں کے بھوکے بچوں کو ایک وقت کی روٹی دے سکے

  • جسٹس اطہر من اللہ جو بھی فیصلہ کریں گے قبول کروں گا:عمران خان

    جسٹس اطہر من اللہ جو بھی فیصلہ کریں گے قبول کروں گا:عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کہتے ہیں کہ جسٹس اطہر من اللہ جو بھی فیصلہ کریں گے وہ قبول کروں گا۔گوجرانوالہ میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران عمران خان نے کہا کہ میں کسی کی ڈکٹیشن لینے کے لیے تیار نہیں تھا ااس لئے مجھے ہٹایا گیا، بھارت روس سے 40 فیصد کم پر روس سے تیل خرید رہا ہے، ہم نے روس کے صدر سے بات بھی کی تھی، ہمیں 20 لاکھ ٹن گندم خریدنی تھی ، میں نے روسی صدر سے بات کی تو وہ سستی گندم دینے پر بھی مان گیا۔ بیرون ملک سازش کے ذریعے مسلط کئے گئے چوروں نے نا تو سستا تیل لیا نہ ہی گندم، اور دوسری طرف عوام پر مہنگائی کا عذاب نازل کیا۔

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جب تک کسی معاشرے میں قانون کی بالادستی نہیں ہوتی وہ ترقی نہیں کرسکتا، گائے بھینس چور ملک تباہ نہیں کرتے، وزیروں کی چوری سے ملک تباہ ہوتے ہیں۔ امپورٹڈ حکومت جب اقتدار میں آئی تو ان کی یہ کوشش تھی کہ یہ تحریک انصاف کو ختم کریں، انہوں نے اپنے بچے باریوں کے لئے استعمال کئے ہیں، یہ بچے بھی چوری کے پیسوں پر پلے ہوئے ہیں

    عمران خان نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت کی کوشش ہے کہ مجھے نااہل کیا جائے، ہر موقع ڈھونڈا جاتا ہے کہ مقدمات قائم کئے جائیں، میں جیل جانے کے لیے تیار تھا، جیل تو میرے لئے بڑی چھوٹی چیز ہے، میں ان چوروں کے خلاف اپنے ملک کو آزاد کرانے کے لیے جان کی قربانی کے لئے بھی تیار ہوں۔

    چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ جب شہباز گل کو ریمانڈ پر بھیجا گیا تو مین نے کہا تھا کہ اس پر قانونی کارروائی کریں گے، اس پر مجھ پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کرایا گیا۔ شہباز گل کوئی دہشتگرد نہیں بلکہ امریکی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہے۔ اگر اس نے مجھے جنسی تشدد کا پیغام بھیجا تو میں نے ردعمل دیا۔

    عمران خان نے کہا کہ اطہر من اللہ کا ہائی کورٹ نے بڑے زبردست فیصلے دیئے ہیں، میں نے کئی مرتبہ ان کی تعریف کی ہے، وہ جو بھی فیصلہ کریں گے میں قبول کروں گا۔ انہوں نے مجھے بات کرنے کی اجازت نہیں دی، اگر بولنے دیتے تو شائد بتاہی دیتا کہ کس ماحول میں نے کہا، بہرحال کیس ابھی چلے گا۔

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ‘‘میں ان لوگوں سے بات کرنا چاہتاہوں جن کے پاس طاقت ہے، اپنے ملک کی اسٹیبلشمنٹ سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ جس طرح ہمارا ملک یہ امپورٹڈ حکومت تیزی سے نیچے کی جانب لے جارہی ہے، جب سے یہ آئے ہیں ہمارا ملک مہنگائی کے عذاب میں ہے اور معیشت جس طرح نیچے جارہی ہے، مجھے پتہ ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ آپ نیوٹرل ہیں لیکن قوم آپ کو ذمہ دار ٹھہرائے گی اگر یہ ملک اسی طرح نیچے جاتا رہا، قوم آپ کو ذمہ دار ٹھہرائے گی اگر آپ روک سکتے تھے ملک کو دلدل میں پھنسنے سے لیکن آپ نے کچھ نہیں کیا’’۔

    چیئرمین تحریک انصاف مزید کہا کہ کہ یہ قوم آپ کو ذمہ دار ٹھہرائے گی، اگر ہماری معیشت نیچے گئی جو براہ راست ہماری قومی سلامتی پر اثر انداز ہوگی، کیونکہ جیسے جیسے معیشت نیچے جارہی ہے ہم بیرونی طاقت کے اور بھی مجبور ہوتے جائیں گے، کیونکہ جو بھی پیسے دے گا وہ ہم سے وہ چیز مانگیں گے جو ہماری قومی سلامتی پر اثر انداز ہوگی، کیونکہ اب بھی وقت ہے اس ملک کو نیچے جانے سے بچائیں، کوئی دوسرا ملک پاکستان کو اس دلدل سے نہیں بچائے گا، ہمارے بیرون ملک ایک کروڑ پاکستانی ہمیں اس دلدل سے نکالیں گے۔ ہم جس دن اس ملک میں ان کی سرمایہ کاری لے آئے ، ہمارے پاس اتنے ڈالر آجائیں گے کہ ہمیں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے نہیں پڑیں گے۔

    اس سے قبل گوجرانوالہ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کے دوران پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے کہا کہ مجھے پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد میں ملک کے وکیلوں کی ضرورت ہے، ہمارے ملک پر بڑے بڑے ڈاکوؤں کا قبضہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بڑے بڑے چور بیرونی سازش کے تحت ملک پر مسلط کئے گئے ہیں، جب تک ہم ان سے خود کو آزاد نہیں کریں گے، ہمارا مستقبل اندھیرے میں ہی رہے گا۔

    عمران خان نے کہا کہ وکیلوں کو میری ٹیم بننا ہے، میں آپ کا کپتان ہوں، اس وقت پاکستان میں قانون کے بجائے طاقت کی حکمرانی ہے، آپ کی ذمہ داری ہے کہ ہم اس ملک میں انصاف کی حکمرانی قائم کریں، میں انشاء اللہ بھرپور طریقے سے ان چوروں کا مقابلہ کرکے دکھاؤں گا۔سابق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قیام کیلئے وکیلوں نے ہی سب سے زیادہ کام کیا تھا، ہم وکلاء برادری کے ساتھ مل کر اس ملک کو حقیقی طور پر آزاد کریں گے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • لاہور:وزیراعلیٰ ہاؤس،کابینہ اراکین کیلئے40 نئی گاڑیوں کی خریداری کی منظوری

    لاہور:وزیراعلیٰ ہاؤس،کابینہ اراکین کیلئے40 نئی گاڑیوں کی خریداری کی منظوری

    پنجاب: وزیراعلیٰ ہاؤس، کابینہ اراکین کیلئے 40 نئی گاڑیوں کی خریداری کی منظوری،میڈیا ذرائع کےمطابق پنجاب کابینہ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ترقی نے وزیراعلیٰ کی منظوری کے بعد پیش کی گئی سمری کی منظوری دے دی جس کے مطابق صوبائی حکومت وزیراعلیٰ ہاؤس اور صوبائی کابینہ کے ارکان کے لیے 30 کروڑ روپے سے زائد لاگت سے 40 نئی گاڑیاں خریدے گی۔

    ذرائع کے مطابق سمری میں کہا گیا ہے کہ حکومت کابینہ کے ارکان کے لیے 4 ٹویوٹا فارچیونر کاریں، 3 ٹویوٹا ریوو ڈبل کیبن کاریں اور 33 ٹویوٹا کرولا آلٹیس (گرینڈ) کاریں خریدے گی۔نئی گاڑیوں کی خریداری کے لیے 30 کروڑ 5 لاکھ 70 ہزار روپے کے فنڈز رواں مالی سال 23-2022کے دوران پیشگی واپسی کی اجازت کے ساتھ ضمنی گرانٹ کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ آفس نے ابتدائی طور پر 10 اگست کو دفتر کے ٹرانسپورٹ پول کے لیے 26 گاڑیوں کی درخواست کی تھی تاکہ سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران کسی قسم کی تکلیف سے بچا جا سکے۔ان کے علاوہ دفتر نے 7 ستمبر کو ایس اینڈ جی اے ڈی کے ٹرانسپورٹ پول سے اضافی 14 گاڑیوں کا مطالبہ کیا، چنانچہ وزیراعلیٰ آفس کی درخواست کے مطابق 14 گاڑیاں تعینات کی گئیں۔ایس اینڈ جی اے ڈی کے ٹرانسپورٹ پول کو 14 گاڑیوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔لہذا دفتر وزیراعلیٰ کے لیے 26 گاڑیوں کی خریداری کے علاوہ کابینہ کے اراکین اور دیگر سرکاری فرائض کے ساتھ تعیناتی کے لیے ایس اینڈ جی اے ڈی کے ٹرانسپورٹ پول کے لیے 14 ٹویوٹا کرولا آلٹیس (گرینڈ) کاریں درکار تھیں۔

    نئی گاڑیوں کی خریداری پنجاب پروکیورمنٹ رولز 2014 کے رول-59(c)(vii) کے مطابق خریداری انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ یعنی ٹویوٹا گارڈن موٹرز پرائیویٹ لمیٹڈ کے مجاز ڈیلرز سے کی جائے گی۔ان 40 نئی گاڑیوں کی خریداری کے مالیاتی اثرات کا تخمینہ 30 کروڑ 5 لاکھ 70 ہزار روپے لگایا گیا ہے جن کی اسٹیڈنگ کمیٹی نے منظوری دے دی ہے۔اسی طرح وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کی زیر صدارت کمیٹی نے ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور بورڈ آف ریونیو کے ممبران کے لیے بھی گاڑیوں کی خریداری پر غور کیا اور منظوری دی۔

    اس حوالے سے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو زاہد اختر زمان نے ڈپٹی کمشنرز، اے ڈی سیز اور بورڈ آف ریونیو ممبران کے لیے گاڑیوں کی خریداری کے حوالے سے کالز اور واٹس ایپ پیغامات کا جواب نہیں دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنرز اور اے ڈی سیز کی گاڑیاں کافی پرانی ہیں اور انہیں جلد از جلد نئی گاڑیوں سے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ڈپٹی کمشنرز اور اے ڈی سیز فی الحال ضلعی چیئرمینوں کی ٹویوٹا فارچیونر گاڑیاں ایڈمنسٹریٹرز کی حیثیت سے استعمال کر رہے ہیں۔یہ گاڑیاں ڈی سیز اور اے ڈی سیز کے پاس ہی تھیں سوائے اس مختصر مدت کے جب سپریم کورٹ نے مقامی حکومتوں کو بحال کیا تھا۔

    البتہ دیگر ذرائع نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور بورڈ آف ریونیو ممبران کے لیے گاڑیوں کی خریداری کا ایجنڈا آئٹم مؤخر کر دیا گیا۔علاوہ ازیں اسٹینڈنگ کمیٹی نے نئے انتظامی ڈویژن گجرات کے لیے اسامیاں تخلیق کرنے کی بھی منظوری دی۔

    وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کی زیر صدارت اجلاس میں نابینا، گونگے اور دیگر معذور ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے مطابق معذور سرکاری ملازمین کا کنوینس الاؤنس 2000 روپے سے بڑھا کر 6000 روپے کرنے کی منظوری دی گئی۔

  • صرف دو ماہ میں فرح گوگی کو کلین چٹ کس کے کہنے پر دلوائی گئی؟

    صرف دو ماہ میں فرح گوگی کو کلین چٹ کس کے کہنے پر دلوائی گئی؟

    مسلم لیگ ن کے رہنما، وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی، پنجاب کے سابق وزیر داخلہ عطا تاڑڑ نے کہا ہے کہ قوم یہ سوال کر رہی ہے کہ صرف دو ماہ میں فرح گوگی کو کلین چٹ کس کے کہنے پر دلوائی گئی کیا وہ عمران خان کی بے نامی دار ہیں، موجودہ صورتحال میں سیاسی جلسے بند ہونے چاہئے

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن پنجاب کے نئے ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی صرف اس لئے کی گئی کہ فرح گوگی کو کلین چٹ دلانا مقصود تھیصرف دو ماہ کی مدت میں مقدمہ بند ہوگیا ایسا کہاں ہوتا ہے کیا آپ نے انہیں فرار نہیں کرایا تھا کیا فرح گوگی ہیروں کی تجارت اور گھڑیوں کی خرید وفروخت میں ملوث نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود عمران خان نے فرح گوگی کو اس لئے کلین چٹ دلوائی وہ ان کے بے نامی دار ہیں اور تمام پیسہ عمران خان اہلیہ کے ذریعے کمایا جا رہا تھا اس لئے آپ فرح گوگی اور اس کے شوہر کو دبئی سے نہیں بلواتے کہ کہیں وہ آپ کا نام نہ لے دیں تمام سیاسی جماعتیں سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے حکومت کا ساتھ دے رہی ہیں اور دوسری طرف تحریک انصاف سیلاب سے متاثرہ 2 صوبوں میں حکومت کے باوجود کہیں نظر نہیں آرہی اور سیاسی جلسے سجانے کیلئے سرکاری وسائل کو استعمال کیا جارہا ہے

    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ریاست مخالف بیانیے کو پروان چڑھایا جا رہا ہے اور عمران خان کو نہ ماضی میں عوام کی کوئی فکر تھی اور نہ سیلاب متاثرین کا کوئی درد ہے ملک کا ایک تہائی حصہ سیلاب سے متاثرہ ہے لیکن اس کے باوجود عدلیہ اور فوج بیانیے کو پروان چڑھانے کا ایک جماعت کی طرف سے سلسلہ بدستور جاری ہے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کیلئے 40 کروڑ روپے کی لاگت سے نئی گاڑیاں خریدنے کی منظوری دی جا رہی ہے اور ایک سیاسی جماعت کے جلسے پر قوم کے ٹیکسوں کا پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے جبکہ اس وقت اس پیسے کی سیلاب متاثرین کو ضرورت ہے

    عمران خان نے 258 کنال اپنی اہلیہ بشری بی بی کے نام کروائی جبکہ 240 کنال اپنی اہلیہ کی دوست فرح گوگی کے نام کروائی

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • فیول پرائس ایڈ جسٹمنٹ وصول کرنے کے طریقہ کارکیخلاف عدالت میں درخواست دائر

    فیول پرائس ایڈ جسٹمنٹ وصول کرنے کے طریقہ کارکیخلاف عدالت میں درخواست دائر

    بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈ جسٹمنٹ وصول کرنے کے طریقہ کار کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر

    لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور لاہور ٹاؤن شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن نے بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈ جسٹمنٹ وصول کرنے کے طریقہ کار کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

    لاہور ہائی کورٹ میں بیرسٹر عمر ریاض کی نمائندگی کرنے والی پنجاب کی سب سے بڑی تجارتی تنظیموں نے ایف پی اے میکانزم، اس کے حساب کتاب، اس کی بلنگ اور ریکوری میکانزم کو موجودہ نیپرا قوانین کے تحت چیلنج کیا۔ چیئرمین ٹاؤن شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن چوہدری ظہیر بھٹہ نے کہا کہ یہ ایک قسم کی پہلی مثال ہے جس کے ذریعے لاہور چیمبرز آف کامرس و انڈسٹری، لاہور ٹاؤن شپ انڈسٹریز ایسوسی این کے ساتھ پنجاب کے مینوفیکچررز اینڈ ٹریڈرز کی نمائندگی کرنے والی باڈی ہے جو قائد اعظم انڈسٹریل اسٹیٹ میں واقع 450 صنعتوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم ہے،

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    دوسری شادی کرنے کیلئے بیوی کو قتل کرنیوالا ملزم گرفتار

    خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    لاہور ہائی کورٹ میں پیش کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایف پی اے قانون میں معین کی گئی مدت ختم ہونے کے ایک ماہ پانچ دن بعد بلوں میں شامل کیا گیا ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔ مزید یہ کہ بجلی کے بلوں میں ایف سی سرچارج بھی قانون میں بتائے طریقے سے ہٹ کر غیر قانونی طور پر وصول کیا جا رہا ہے۔ درخواست گزاروں نے اپنی درخواست میں حکام (نیپرا) اور (لیسکو) سے مطالبہ کیا کہ وہ ایف پی اے اور ایف سی سرچارج صارفین کی مشاورت سے چارج کرنے کے لئے ایک ایسا نظام وضع کریں جو ان کے کاروبار پر برا اثر نہ ڈالے۔ متعلقہ اداروں نے حکام سے صارفین سے کوارٹر ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے نام پر انتظامی لائن نقصانات جمع کرنے سے روکنے کا مطالبہ بھی کیا۔ عدالت نے درخواست پر نیپرا اور لیسکو کو 12 ستمبر کے لیے نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔ عدالت درخواست کی سماعت 12 ستمبر 2022 کو کرے گی۔

  • فیصل کریم کنڈی اور علی امین گنڈا پور نے امدادی سامان متاثرین کے بجائے اپنے احباب میں بانٹ دیا

    فیصل کریم کنڈی اور علی امین گنڈا پور نے امدادی سامان متاثرین کے بجائے اپنے احباب میں بانٹ دیا

    پیپلزپارٹی کے فیصل کریم کنڈی نے امدادی سامان سیلاب متاثرین کے بجائے اپنے احباب میں بانٹ دیا۔

    باغی ٹی وی: ملک میں حالیہ بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا رکھی ہے لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں اور کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر ہیں جب کہ ہزراوں اموات ہوئی ہیں لاکھوں ایکڑ فصلیں تباہ  ہو گئی ہیں ہزاروں  افراد زخمی اور لاکھوں مویشی جاں بحق ہو ئے  ہیں جہاں پاکستانی عوام  سمیت دنیا بھر سے امداد کا سلسلہ جاری ہے وہیں ملکی سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کی حوالے سے حیران کن  اور انکشافات چونکا دینے والے سامنے آ رہے ہیں –

    سیلاب سے متاثرہ حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے ایک ارب روپے مختص

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے مصیبت کی اس گھڑی میں بھی دکھی لوگوں کے ساتھ بدسلوکی اور ان تک پہنچنے والی امداد کو ہڑپ کرنے کی اطلاعات سامنے آ ئی ہیں-

    اس حوالے سے صحافی ملک رمضان اسراء نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی نے سیلاب متاثرین کے لئے پیپلز پارٹی کی جانب سے  پہنچائی جانے والی امداد متاثرین کو دینے کی بجائے اپنے قریبی لوگوں،دوستوں اور کارکنوں میں تقسیم کر دی ہے-

    سوشل میڈیا پر جاری خبروں کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کی عوام کی طرف سے فیصل کریم کنڈی کیخلاف الزام عائد کیا جارہا یے کہ پیپلزپارٹی کی طرف سے متاثرین کیلئے ملنے والا امدادی سامان انہوں نے متاثرین کے بجائے اپنے قریبی لوگوں میں تقسیم کردیا ہے۔

    حیدر آباد :سیلاب متاثرین کے لیے قائم ریلیف کیمپ میں شادی کے شادیانے

    زرائع کا کہنا ہے کہ یہ شکایات بہت سے علاقوں کی طرف سے سننے میں آ رہی ہیں اور متاثرین کا کہنا ہے کہ فیصل کریم کنڈی اور ان کے بھائی متاثرہ علاقوں میں آئے تھے صرف فوٹو شوٹ کرایا خالی وعدے کئے اور چلے گئے کوئی امداد وغیرہ نہیں دی اور نہ ہی متاثرین سے ملے بس فوٹو سیشن کیا اور واپس چلے گئے-

    ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ فیصل کریم کنڈی اور ان کے ساتھوں نے سوشل میڈیا پر کمپین چلا رکھی ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ملنے والے 25000 جو ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیلوں جیسے ٹانک، پروآ وغیرہ میں دئے جارہے یہ  ان کے توسط سے دی جا رہی ہے جبکہ یہ امداد انہیں بینظیر انیکم سپورٹ کی طرف سے دی جا رہی ہے جس میں یہ لوگ پہلے سے رجسٹرڈ ہیں اور پی پی پی رہمناؤں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہے کہ یہ امداد  متاثرین کو وہ خود دہے رہے ہیں-

    ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سےجاں بحق افراد کی تعداد 1ہزار 396 ہو گئی

    ڈیرہ اسماعیل خان کی عوام کی طرف سے فیصل کریم کنڈی کیخلاف الزام عائد کیا جارہا یے کہ پیپلزپارٹی کی طرف سے متاثرین کیلئے ملنے والا امدادی سامان انہوں نے متاثرین کے بجائے اپنے قریبی لوگوں میں تقسیم کردیا ہے۔

    ذرائع کا حکمران اتحادی جماعت جے یو آئی کے حوالے سے کہنا تھا کہ جے یو آئی کے کارکن لکی مروت گئے وہاں مقامی مساجد میں امداد کے لئے اعلان کرایا کہ وہاں کے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر امداد دی جے یو آئی رہنما  یہ بھاری مقدار میں امداد متاثرہ علاقے میں مولانا فضل الرحمان کے اہم ساتھی کو بلانا چاہ رہے تھی تاکہ یہ سیلاب متاثرین میں تقسیم کرتے وقت یہ تاثر دیں کہ یہ جے یو آئی کی جانب سے امداد دی جا رہی ہے لیکن وہاں پر جے یو آئی کا کوئی اعلی سطح کا رہنما موجود نہیں تھا-

    تاہم جے یو آئی رہنماؤں نے امدادی سامان مولانا فضل الرحمان کے ایک مدرسے میں رکھ کر گاڑیوں کو واپس بھیج دیا جب گاؤں والوں کو پتہ چلا تو انہوں نے مسئلہ کھڑا کر دیا کہ ہم نے یہ امدادی سامان جے یو ءی کے لئے نہیں سیلاب متاثرین کے لئے دیا تھا –

    علی امین گنڈا پور کی جانب سے بھی الزامات آ رہے ہیں کہ ڈپٹی کمشنر کو گورنمنٹ کی جانب سے آنے والے فنڈ کے ٹرک بجائے متاثرین میں تقسیم کرنے کے علی امین گنڈا پور کے گھر بھجوا دیئے انہوں نے بھی یہ امدادی سامان اپنے قریبی لوگوں اور دوستوں اور کارکنوں میں تقسیم کیا-

    سرورفاؤنڈیشن اور پی ڈی این کی جانب سے سوا ارب کے راشن پیکٹ سیلاب متاثرین تک پہنچا…

  • شہباز شریف آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوں ، تحریری حکمنامہ

    شہباز شریف آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوں ، تحریری حکمنامہ

    وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر کے خلاف ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی

    اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہور نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ،اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہورنے تحریری حکم نامہ میں کہا کہ شہباز شریف آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوں ،شہباز کے وکیل کی جانب سے انکی حاضری سےاستثنیٰ کی درخواست جمع کرائی گئی درخواست کے مطابق شہباز شریف متعدد اہم امور میں مصروف عمل ہیں،ایف آئی اے نے شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت نہیں کی، عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ سلمان شہباز کے اکاوئٹنس منجمد ہونے سے ملازمین کو تنخواہیں نہیں دی جا سکیں،آئندہ سماعت پر ایف آئی اے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواستوں پر دلائل دیں

    واضح رہے کہ شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس ایف آئی اے سپیشل کورٹ میں زیر سماعت ہے، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ حمزہ شہباز خود عدالت میں پیش ہو چکے ہیں، یہ کیس سابق وزیراعظم کے سابق مشیر شہزاد اکبر کی جانب سے بنایا گیا ہے

    نواز شریف کو سرنڈر کرنا ہو گا، اگر ایسا نہ کیا تو پھر…عدالت کے اہم ریمارکس

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کو فرار کروانے والے پروفیسر محمود ایاز کے نئے کارنامے،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    واضح رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز، ان کے بیٹے حمزہ شہباز اور دیگر کے خلاف 16 ارب منی لانڈرنگ کا چالان بینکنگ جرائم کورٹ میں جمع کرایا تھا جس میں ایف آئی اے نےمرکزی ملزم نامزد کیاتھا ایف آئی اے کی جانب سےجمع کرائےگئے 7 والیمز کا چالان 4 ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے جس میں 100 گواہوں کی لسٹ بھی جمع کرا دی۔

    تحقیقاتی ادارے نے چالان میں کہا تھا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف 100 گواہ عدالت میں گواہی دیں گے چالان میں کہا گیا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم نے 28 بے نامی بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا جو 2008 سے 2018 تک شہباز شریف فیملی کےچپڑاسیوں/ کلرکوں کےناموں پرلاہور اور چنیوٹ کے مختلف بینکوں میں چلائے گے 28بے نامی اکاؤنٹس میں 16 ارب روپے، 17 ہزار سےزیادہ کریڈٹ ٹرانزیکشنز کی منی ٹریل کا تجزیہ کیا ان اکاؤنٹس میں بھاری رقم چھپائی گئی جو شوگر کے کاروبار سے مکمل طور پر غیر متعلق ہیں اور اس میں وہ رقم شامل ہے جو ذاتی حیثیت میں شہباز شریف کو نذرانہ کی گئی۔